اُردو انجمن

 


تازہ تحریریں

صفحات: [1] 2 3 ... 10
1
موجِ غزل / جواب: جو کوئی بھی مصور نہ کر سکا مصور
« آخری تحریر منجانب REHANA AHMAD بروز گزشتہ روز بوقت 11:41:23 شام »


  چودھری شاکر صاحب
 تسلیمات
   اس گفتگو  پر توجہ فرمانے کا بہت شکریہ۔ اب آپ نے ایک سے زائد مثالیں دے کر اور خاص طور پرمکمل غزل اور وہ بھی دیوان غالب سے دے کر مزید کسی بحث کی گنجائش کم ازکم میری جیسی کم علم کے لیے تو نہیں چھوڑی آگے کچھ کہنے کے لیے محترم سرور صاحب  سے ہی درخواست کی جا سکتی ہے، یا ہوسکتا ہے مہر افروز صاحبہ کچھ ارشاد فرنائیں ۔ بہرحال ایک بار پھر شکریہ ادا کرتی ہوں آپ کا ۔
2
موجِ غزل / جواب: جو کوئی بھی مصور نہ کر سکا مصور
« آخری تحریر منجانب chshakir بروز گزشتہ روز بوقت 02:56:22 شام »
یہاں تو بہت دقیق گفتگو چل رہی ہے۔
خیر کچھ گزارشات میری طرف سے  :048:

۱۔ غزل کے تمام قوافی میں حرف روی کا اتحاد قوافی کی درستی کے لیے کافی ہے۔ حرف روی لفظ کے آخری اصلی حرف کو کہتے ہیں۔

۲۔ اس غزل کے قوافی میں حرف روی ”ر“ ہے ، جو کہ غزل کے تمام قوافی میں پایا جارہا ہے، لہذا اس غزل کے تمام قوافی درست ہیں۔

3۔ مطلع میں قافیہ اور ردیف متعین کیے جاتے ہیں ، نہ کہ حرف روی سے پہلے کے حروف کے اشتراک کا لزوم۔

4۔ استشہاد کے طور پر غالب کی غزل ملاحظہ فرمائیں جس میں مطلع میں پاسبانی اور بے زبانی قوافی ہیں اور ان میں ”بانی“ مشترک ہے ، مگر باقی غزل میں جوانی ، کہانی اور زندگانی قوافی ہیں جن میں ”ب“ نہیں ہے ، حالانکہ مطلع میں اس کی پابندی ہے۔

جو نہ نقدِ داغِ دل کی کرے شعلہ پاسبانی
تو فسردگی نہاں ہے بہ کمینِ بے زبانی
مجھے اس سے کیا توقّع بہ زمانۂ جوانی
کبھی کودکی میں جس نے نہ سنی مری کہانی
یوں ہی دکھ کسی کو دینا نہیں خوب ورنہ کہتا
کہ مرے عدو کو یا رب ملے میری زندگانی

مزید تسلی کے لیے غالب کی اس غزل میں بھی غور فرمائیے۔

حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچّھا ہے
اس سے میرا مہِ خورشید جمال اچّھا ہے
بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ
جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچّھا ہے
اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا
ساغرِ جم سے مرا جامِ سفال اچّھا ہے
بے طلب دیں تو مزہ اس میں سوا ملتا ہے
وہ گدا جس کو نہ ہو خوۓ سوال اچّھا ہے
ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچّھا ہے
دیکھیے پاتے ہیں عشّاق بتوں سے کیا فیض
اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچّھا ہے
ہم سخن تیشے نے فرہاد کو شیریں سے کیا
جس طرح کا کہ* کسی میں ہو کمال اچّھا ہے
قطرہ دریا میں جو مل جائے تو دریا ہو جائے
کام اچّھا ہے وہ، جس کا کہ مآل اچّھا ہے
خضر سلطاں کو رکھے خالقِ اکبر سر سبز
شاہ کے باغ میں یہ تازہ نہال اچّھا ہے
ہم کو معلوم ہے جنّت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچّھا ہے
3
موجِ غزل / جواب: نہ کر سکا مصوِرجس کو کبھی مصوَر
« آخری تحریر منجانب Afroz Mehr بروز جنوری 19, 2018, 06:13:52 شام »
محترمہ مہر افروز

 تسلیمات

  دیکھئے گھر آتے ہی حسبِ وعدہ حاضر ہو گئی ہوں    :)

     آپ کے تبصرے سے میں قطعاََ متفق نہیں خیر مجھے آپ کے خیالات پر کوئی اعتراض بھی نہیں کسی شعر سے اپنی پسند کا کوئی بھی معنی نکال لینا ہر ایک کا حق ہے ۔


آپ تحریر فرماتی ہیں۔
آپ کا ایک شعر ہے جس پر پچھلی بار میں نے دانستہ اظہار خیال نہیں کیا تھا:
سورج میں نور تیرا بن تیرے چندا پتھر
برنائی ہی سے تیری ہر شے ہوا منور
یہ شعر اصل میں اللہ کے لئے ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ آپ کہہ رہی ہیں کہ :بن تیرے چندا پتھر: گویا اللہ کا وجود نا پید بھی ہو سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ بات بے سود اورغلط ہے۔ دوسری بات یہ کہ آپ اللہ کی "برنائی" کا ذکر کر رہی ہیں۔ برنائی کے معنی جوانی ہیں تو کیا اللہ سے جوانی اور بڑھاپا اور بچپن منسوب ہو سکتا ہے؟ ظاہر ہے کہ یہ ایک (معاف کیجئے گا) لغو اور مہمل خیال ہے۔ اس لئے یہ شعر بھی لغو ٹھہرتا ہے۔

میرا ہرگز ایسا کوئی مطلب نہیں جو آپ اخذ کر رہی ہیں مصرے پر غور کیجئے اور لفظوں کو سرسری نہ پکڑیئے گہرائی  میں جایئے خیال کی، آپ آدھا مصرع کیوں دیکھ رہی ہیں؟ جب میں کہہ چکی ہوں کہ سورج میں تیرا ہی نور ہے اور کون نہیں جانتا کہ چاند میں سورج کی روشنی منعکس ہو رہی ہے ،اگر مجازی محبوب کا عکس رخسار چاند کی آب و تاب میں اضافہ کر سکتا  تو خالقِ حقیقی کا نور کیوں نہیں؟( عکسِ رخسار نے کس کے ہے تجھے چمکایا؟  )

 جب اللہ کے بندے جنت میں جوان ہو کر جائیں گے تو اللہ کے جوان ہونے میں کسی کو کیا شبہ ہو سکتا ہے ہاں بچہ یا بڑھا اللہ تعالیٰ کو سمجھنا نامناسب ہو سکتا ہے اور جوانی میں ایک خاص چمک ہوتی ہے ہوتی ہے ناں؟ امید ہے کہ بات آپ کی سمجھ میں بھی آ گئی ہوگی


ایک اور شعر ہے:
نہ کر سکا مصور جس کو کبھی مصور
تو ایسا ہے تصور تو ایسا ہے تصور
تو عرض ہے کہ اللہ کا تصور تو مصوروں اور بت تراشوں نے ہمیشہ اپنی تصاویر اور مجسموں میں ڈھالا ہے۔ اپ کیسے کہہ سکتی ہیں کہ یہ شعر صحیح ہے؟ در اصل اس قسم کے شعر کہتے وقت بہت غوروفکر اور دانشمندی کی ضرورت ہوتی ہے اور جب تک سوچ ایسی گہری نہ ہو جو سب احوال کا احاطہ کر سکے اس وادی میں قدم نہیں رکھنا چاہئے۔ ایسا میرا خیال ہے۔ آپ کی غزل پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن شاید پھر کسی اور وقت پر ایسا ممکن ہو۔

      جی بہن میری توبہ کہ میں اس وادی پر خار میں  پھر کبھی قدم رکھوں  :)
    اللہ کے تصور کو بیشک لاکھوں مجسموں اور تصاویر میں ڈھالا جا چکا ہے اب تک ،مگر دل پر ہاتھ رکھ کر فرمایئے گا کہ کسی ایک کو بھی دیکھ کر آپ کا دل یہ کہہ اٹھتا ہے کہ یہ واقعی اللہ تعالیٰ کی نعوذ باللہ تصویر ہو سکتی ہے؟ میرا تو بقول فیض ساحب کے یہی خیال ہے  کہ
 وہ نظر بہم نہ پہنچی کہ محیط حسن کرتے
تیری دید کے وسیلے خد و خال تک نہ پہنچے
     تقریبا اسی طرح کے خیال کو میں بھی برسوں پہلے قلمبند کر چکی ہوں
      اک بیاں ہو نہ سکا کیف نگاہوں کا تیری
یوں تیرے حسن کی لکھی کئی تفسیریں ہیں
     باقی مہر خیال اپنا اپنا ہے  ،انشاللہ آئندہ بھی ملاقات رہے گی ۔ فی الحال اجازت

 مصرع درست کر دیا ہے ہو سکتا ہے کہ اب آپ مطمن ہو جائیں گی۔ :) ویسے وہ نہ نا کے فرق کے ساتھ بھی درست ہی تھا

جو    کوئی    بھی    مصور    نہ    کر    سکا    مصور
تو ایسا ہے تصور تو ایسا ہے تصور



محترمہ ریحانہ صاحبہ:سلام علیکم
اردو انجمن کی انفرادیت اور دلچسپی ایسی ہی گفتگو پر مبنی ہے کہ مختلف الخیال لوگ اپنی اپنی بات کہہ سکتےہیں اور دوسروں پر سنجیدہ اور شائستہ تنقید بھی کر سکتے ہیں۔ آپ کے خیالات سن کر مستفید ہوئی ہرچند کہ آپ کے دلائل میرے موقف کو متزلزل نہیں کر سکے۔ دراصل اس ساری گفتگو کو آپ کے خط کے ایک مختصر اقتباس کے تناظر میں بہتر سمجھا جا سکتا ہے۔ آپ نے لکھا ہے کہ :
" اللہ کے تصور کو بیشک لاکھوں مجسموں اور تصاویر میں ڈھالا جا چکا ہے اب تک ،مگر دل پر ہاتھ رکھ کر فرمایئے گا کہ کسی ایک کو بھی دیکھ کر آپ کا دل یہ کہہ اٹھتا ہے کہ یہ واقعی اللہ تعالیٰ کی نعوذ باللہ تصویر ہو سکتی ہے؟ "
یہ تو بالکل درست ہے کہ ان مجسموں کودیکھ کر میں قبول نہیں کرتی کہ یہ اللہ کی تصویر ہے لیکن جو ان تصاویر اور مجسموں کے خالق ہیں ان کے نزدیک تو یہ سب اللہ کی ہی شبیہیں ہیں! یعنی لیلی را با چشم مجنوں باید دید!
آپ سے بات کرکے بہت مسرت ہوئی۔ شاد آباد رہئے۔

مہرافروز
4
بیت بازی / جواب: تصویری بیت بازی
« آخری تحریر منجانب REHANA AHMAD بروز جنوری 19, 2018, 09:56:52 صبح »


      اسوہ ختم الرسل لایا مجھے ساحل تلک
جب کبھی گرداب میں میرا سفینہ آ گیا
     
                          ریحانہ احمد جاناں
5
موجِ غزل / جواب: نہ کر سکا مصوِرجس کو کبھی مصوَر
« آخری تحریر منجانب REHANA AHMAD بروز جنوری 19, 2018, 04:03:59 صبح »
محترمہ مہر افروز

 تسلیمات

  دیکھئے گھر آتے ہی حسبِ وعدہ حاضر ہو گئی ہوں    :)

     آپ کے تبصرے سے میں قطعاََ متفق نہیں خیر مجھے آپ کے خیالات پر کوئی اعتراض بھی نہیں کسی شعر سے اپنی پسند کا کوئی بھی معنی نکال لینا ہر ایک کا حق ہے ۔


آپ تحریر فرماتی ہیں۔
آپ کا ایک شعر ہے جس پر پچھلی بار میں نے دانستہ اظہار خیال نہیں کیا تھا:
سورج میں نور تیرا بن تیرے چندا پتھر
برنائی ہی سے تیری ہر شے ہوا منور
یہ شعر اصل میں اللہ کے لئے ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ آپ کہہ رہی ہیں کہ :بن تیرے چندا پتھر: گویا اللہ کا وجود نا پید بھی ہو سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ بات بے سود اورغلط ہے۔ دوسری بات یہ کہ آپ اللہ کی "برنائی" کا ذکر کر رہی ہیں۔ برنائی کے معنی جوانی ہیں تو کیا اللہ سے جوانی اور بڑھاپا اور بچپن منسوب ہو سکتا ہے؟ ظاہر ہے کہ یہ ایک (معاف کیجئے گا) لغو اور مہمل خیال ہے۔ اس لئے یہ شعر بھی لغو ٹھہرتا ہے۔

میرا ہرگز ایسا کوئی مطلب نہیں جو آپ اخذ کر رہی ہیں مصرے پر غور کیجئے اور لفظوں کو سرسری نہ پکڑیئے گہرائی  میں جایئے خیال کی، آپ آدھا مصرع کیوں دیکھ رہی ہیں؟ جب میں کہہ چکی ہوں کہ سورج میں تیرا ہی نور ہے اور کون نہیں جانتا کہ چاند میں سورج کی روشنی منعکس ہو رہی ہے ،اگر مجازی محبوب کا عکس رخسار چاند کی آب و تاب میں اضافہ کر سکتا  تو خالقِ حقیقی کا نور کیوں نہیں؟( عکسِ رخسار نے کس کے ہے تجھے چمکایا؟  )

 جب اللہ کے بندے جنت میں جوان ہو کر جائیں گے تو اللہ کے جوان ہونے میں کسی کو کیا شبہ ہو سکتا ہے ہاں بچہ یا بڑھا اللہ تعالیٰ کو سمجھنا نامناسب ہو سکتا ہے اور جوانی میں ایک خاص چمک ہوتی ہے ہوتی ہے ناں؟ امید ہے کہ بات آپ کی سمجھ میں بھی آ گئی ہوگی


ایک اور شعر ہے:
نہ کر سکا مصور جس کو کبھی مصور
تو ایسا ہے تصور تو ایسا ہے تصور
تو عرض ہے کہ اللہ کا تصور تو مصوروں اور بت تراشوں نے ہمیشہ اپنی تصاویر اور مجسموں میں ڈھالا ہے۔ اپ کیسے کہہ سکتی ہیں کہ یہ شعر صحیح ہے؟ در اصل اس قسم کے شعر کہتے وقت بہت غوروفکر اور دانشمندی کی ضرورت ہوتی ہے اور جب تک سوچ ایسی گہری نہ ہو جو سب احوال کا احاطہ کر سکے اس وادی میں قدم نہیں رکھنا چاہئے۔ ایسا میرا خیال ہے۔ آپ کی غزل پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن شاید پھر کسی اور وقت پر ایسا ممکن ہو۔

      جی بہن میری توبہ کہ میں اس وادی پر خار میں  پھر کبھی قدم رکھوں  :)
    اللہ کے تصور کو بیشک لاکھوں مجسموں اور تصاویر میں ڈھالا جا چکا ہے اب تک ،مگر دل پر ہاتھ رکھ کر فرمایئے گا کہ کسی ایک کو بھی دیکھ کر آپ کا دل یہ کہہ اٹھتا ہے کہ یہ واقعی اللہ تعالیٰ کی نعوذ باللہ تصویر ہو سکتی ہے؟ میرا تو بقول فیض ساحب کے یہی خیال ہے  کہ
 وہ نظر بہم نہ پہنچی کہ محیط حسن کرتے
تیری دید کے وسیلے خد و خال تک نہ پہنچے
     تقریبا اسی طرح کے خیال کو میں بھی برسوں پہلے قلمبند کر چکی ہوں
      اک بیاں ہو نہ سکا کیف نگاہوں کا تیری
یوں تیرے حسن کی لکھی کئی تفسیریں ہیں
     باقی مہر خیال اپنا اپنا ہے  ،انشاللہ آئندہ بھی ملاقات رہے گی ۔ فی الحال اجازت

 مصرع درست کر دیا ہے ہو سکتا ہے کہ اب آپ مطمن ہو جائیں گی۔ :) ویسے وہ نہ نا کے فرق کے ساتھ بھی درست ہی تھا

جو    کوئی    بھی    مصور    نہ    کر    سکا    مصور
تو ایسا ہے تصور تو ایسا ہے تصور

6
موجِ غزل / جواب: تمہارے غم میں نڈھال ہوں میں
« آخری تحریر منجانب سرور عالم راز بروز جنوری 18, 2018, 07:50:53 شام »

محترم سرور راز صاحب
آپ نے غزل پڑھی ، اس پر داد دی اور ساتھ ہی اظہار خیال فرمایا، اس
کے لیے آپ کا شکریہ۔
آپ نے نہ ڈھونڈو مجھ کو تم آئینوں میں
  کہ آپ اپنی مثال ہوں میں کے بارے میں کچھ سوال اٹھائے ہیں۔
  یہ ایک انتہائی لطیف صورت حال کا شعر ہے۔
صورت حال یہ ہے کہ معشوق آئنے کے سامنے کھڑا ہے اور عاشق اس کے آئنے میں عکس کو انتہائی  محویت سے
دیکھ رہا ہے۔
معشوق عاشق کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ آئینے میں میرے عکس میں
وہ حسن نہیں جو مجھ میں ہے۔ چناچہ آئینے میں میرا عکس دیکھنے کی بجاے
مجھے دیکھو کہ میں اپنی مثال آپ ہوں۔  آئینے میں میرا عکس بھی میر ی مثال نہیں ہے۔
توقع ہے بات واضح ہو گئی ہوگی ۔
اس صورت حال کا شاید ہی کوئی اور شعر آپ کو اردو شاعری میں ملے۔
غالب کا ایک انتہائی خوبصورت شعر ہے لیکن صورت حال قدرے مختلف ہے۔
تماشا کر اے محوِ آئین داری
تجھے کس تمنا سے ہم دیکھتے ہیں۔
غالب ہی کا ایک اور شعر ہے۔
آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے
ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے
نیازمند و خاکسار
کے اشرف

برادرم اشرف ساحب:سلام مسنون
جواب خط کے لئے ممنون ہوں۔ اس سے آپ کا موقف معلوم ہوا لیکن بھائی (گستاخی معاف) جان کی امان پائوں تو عرض کروں کہ یہ آپ کے شعر کا عاشق اپنے وقت کا اناڑی معلوم ہوتا ہے کہ محبوبہ سامنے اپنی ساری قیامت آفرینی کے ساتھ کھڑی ہے اور آپ اس کو دیکھنے کے بجائے آئینے میں اس کا عکس دیکھ رہے ہیں۔ اس کو کسی ماہر نفسیات کے پاس جانے کی سخت ضروت ہے۔ آپ نے غالب کا شعر لکھا ہے کہ :
تماشا  کہ   اے  محو  آئینہ  داری
تجھے کس تمنا سے ہم دیکھتے ہیں
تو کم سے کم عاشق اس میں اپنی محبوبہ کو تمنا سے دیکھ تو رہا ہے! اناڑیوں کی طرح ادھر ادھرٹامک ٹوئیاں نہیں مار رہا ہے۔ خیر یہ تو مذاق تھا۔ اس قسم کے تبادلہءخیال سے سوچ کی راہیں کھلتی ہیں اور بعض اوقات عبرت بھی حاصل ہوتی ہے! :)
یہ عبرت والی بات راوی نے دبے الفاظ میں کہی ہے۔ دروغ بر گردن راوی!

سرورعالم راز

7
موجِ غزل / جواب: تمہارے غم میں نڈھال ہوں میں
« آخری تحریر منجانب K. Ashraf بروز جنوری 18, 2018, 08:52:32 صبح »

محترم سرور راز صاحب
آپ نے غزل پڑھی ، اس پر داد دی اور ساتھ ہی اظہار خیال فرمایا، اس
کے لیے آپ کا شکریہ۔
آپ نے نہ ڈھونڈو مجھ کو تم آئینوں میں
  کہ آپ اپنی مثال ہوں میں کے بارے میں کچھ سوال اٹھائے ہیں۔
  یہ ایک انتہائی لطیف صورت حال کا شعر ہے۔
صورت حال یہ ہے کہ معشوق آئنے کے سامنے کھڑا ہے اور عاشق اس کے آئنے میں عکس کو انتہائی  محویت سے
دیکھ رہا ہے۔
معشوق عاشق کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ آئینے میں میرے عکس میں
وہ حسن نہیں جو مجھ میں ہے۔ چناچہ آئینے میں میرا عکس دیکھنے کی بجاے
مجھے دیکھو کہ میں اپنی مثال آپ ہوں۔  آئینے میں میرا عکس بھی میر ی مثال نہیں ہے۔
توقع ہے بات واضح ہو گئی ہوگی ۔
اس صورت حال کا شاید ہی کوئی اور شعر آپ کو اردو شاعری میں ملے۔
غالب کا ایک انتہائی خوبصورت شعر ہے لیکن صورت حال قدرے مختلف ہے۔
تماشا کر اے محوِ آئین داری
تجھے کس تمنا سے ہم دیکھتے ہیں۔
غالب ہی کا ایک اور شعر ہے۔
آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے
ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے
نیازمند و خاکسار
کے اشرف
8
موجِ غزل / جواب: Dar Lagta Hai Ghazal
« آخری تحریر منجانب nawaz بروز جنوری 18, 2018, 12:48:20 صبح »
محترم مشیر شمسی صاحب سلامِ مسنون

میں آپ کا ممنون ہوں کہ غزل پڑھی اور میری حوصلہ افزائی
فرمائی۔
میں نے مطلع  کے پہلے مصرع میں شاعری کو شعر سے بدل
کر بھیً  بھرتی کا  ہٹادیا ہے نئی صورت کچھ یوں ہے

شعر اک کھیل نہیں یہ تو ہنر لگتا ہے

دیکھئے کیا صورت بنتی ہے آپکی رائے میرے لئے بہت اہم ہے
سدا خوش رہئے     دعا گو نواز
9
موجِ غزل / جواب: Dar Lagta Hai Ghazal
« آخری تحریر منجانب Mushir Shamsi بروز جنوری 17, 2018, 09:24:26 شام »
معزّز اِحباب و اَراکین انجمن السلامُ علیکم

کلام پیش کررہا ہوں آپ اپنی مخلصانہ اور ماہرانہ آرا
سے ضرور نوازئے  بہت شکریہ

شاعری کھیل نہیں یہ بھی ہنر لگتا ہے
ایک اک شعر میں بھی خونِ جِگرلگتا ہے

لوگ وحشت زدہ پھر مجھ کو نظر آتے ہیں
پھر قیامت ہی اُٹھانے کو ہے سرلگتا ہے

آرزو پھول کی دامن میں تھی مجھ کو لیکن
آج دَامن کو مِلے صرف شرر لگتاہے

مجھ کولاچار کیا اُس نے مِگر دنیا کو
اُف غضب ہےکہ وہی نیک بشر لگتا ہے

اُس کی تعریف پہ راضی نہ ہوا دل میرا
جو نہیں کام کا مجھ کو بے ہنر لگتا ہے

کاش تم وقت کے بے مِثل شناور ہوتے
ہاں نواز آج تو دریا سے بھی ڈرلگتا ہے


محترمی نواز صاحب: سلام عرض ہے!
آپ کی غزل کی زمین اور بحر دونوں اچھی اور نواں ہیں اور آپ نے شاعرانہ کوشش میں کوئی کسر بھی نہیں چھوڑی ہے۔ ایک دلکش غزل کی داد دینا میرا خوشگوار فرض ہے۔ قبول فرما کر شکریہ کا موقع عنایت کیجئے۔ امید ہے کہ آپ کا کلام اسی طرح پڑھنے کو ملتا رہے گا۔ انشااللہ۔
جہاں تک تنقید یا تبصرے کا سوال ہے وہ امید ہے کہ مجھ سے کہیں زیادہ با علم اور قابل دوست کریں گے۔ میں شاعر تو کیا تک بند بھی نہیں ہوں اس لئے صرف داد دینا کافی ہے۔ ایک بات کہنے کی ضرور اجازت چاہتا ہوں یعنی آپ کی غزل میں بھرتی کے الفاظ بہت کثرت سے نظر آرہے ہیں۔ مثال کے طور پر مطلع میں "بھی" دونوں مصرعوں میں باندھا گیا ہے اور کم سے کم ایک میں غیر ضروری ہے۔ دوسرے یہ کہ جب آپ کہتے ہیں کہ :
شاعری کھیل نہیں یہ بھی ہنر لگتا ہے
تو "یہ" شاعری کے لئے کہا گیا ہے اس لئے "لگتا ہے" کی جگہ "لگتی ہے" ہونا چاہئے۔ اگر میں درست ہوں تو آپ کا مطلع غلط ہے اور اس کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟

خادم : مشیر شمسی
10
موجِ غزل / جواب: تمہارے غم میں نڈھال ہوں میں
« آخری تحریر منجانب سرور عالم راز بروز جنوری 17, 2018, 09:11:57 شام »

غزل
کے اشرف

تمہارے غم میں نڈھال ہوں میں
خود اپنی جاں کا وبال ہوں میں
 
چھپا لو مجھ کو تم اپنے دل میں
کہ اک اچھوتا خیال ہوں میں
 
زمانہ گردش میں رات دن ہے
کہ ایک مشکل سوال ہوں میں

نہ ڈھونڈو مجھ کو تم آئینوں میں
کہ آپ اپنی مثال ہوں میں

نہ سمجھو مجھ کو حریفِ جاں تم
کہ خود تمہارا خیال ہوں میں
 
کبھی اگر تم پلٹ کے دیکھو
تمہاری شامِ وصال ہوں میں

نہیں ہے کافی کیا خواجہؔ جی یہ
کسی کا حرفِ کمال ہوں میں

********

عزیز مکرم خواجہ صاحب: سلام مسنون
تاخیر جواب کے لئے معذرت خواہ ہوں۔ سوچا کہ شاید دوسرے احباب بھی گفتگو میں شرکت کریں لیکن اب احباب رہ ہی کتنے گئے ہیں جو شریک ہوں! بہر کیف ایں ہم غنیمت است کہہ کر آگے بڑھنے میں ہی بہتری ہے۔ آپ کی غزل کی بحر چھوٹی ہے لیکن دلکش اور رواں دواں ہے۔ مہر افروز صاحبہ نے "کہ" کی تکرار کا ذکر کیا ہے اور صحیح کیا ہے لیکن ایسی غزلوں میں بعض اوقات اس قسم کی تکرار  نا گزیر ہوجاتی ہے خصوصا اگر مضامین میں بوجوہ یکسانیت پیدا کی جائے۔ اس "کہ" کو بدلنے میں خاصی دماغ سوزی کرنی ہوگی جو شاید ضروری نہیں ہے۔ غزل کی داد حاضر ہے۔
تمہارے غم میں نڈھال ہوں میں
خود اپنی جاں کا وبال ہوں میں
میرا خیال ہے کہ اگر "کا" کو "پر" سے بدل دیں تو شعر بہتر ہو جائے گا۔ لیکن یہ صرف میری خام خیالی بھی ہو سکتی ہے! :)
نہ مجھ کو ڈھونڈو تم آئینوں میں
کہ آپ اپنی مثال ہوں میں
یہ شعر یوں تو الفاظ کا اچھا مجموعہ ہے لیکن اپنے معنی واضح نہیں کر رہا ہے۔ کون سے آئینوں کا ذکر ہے اور کوئی ان میں آپ کو کیوں ڈھونڈے گا جب آپ خود ہی ان کے سامنے کحڑے ہوں گے؟ اگر آپ اپنی مثال ہیں تو آپ کا عکس بھی تو آپ کی ہی مثال ہے۔ یوں آپ بہتر سمجھتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
ایک اچھی غزل پر داد حاضر ہے۔ باقی رہ گیا راوی تو اس کو ایک طرف کیجئے اور چین کی بنسی بجائیے! میں بھی آپ کے ساتھ ہوں اس بدعت میں۔ :D

سرورعالم راز 


صفحات: [1] 2 3 ... 10
Copyright © اُردو انجمن