اُردو انجمن

 


تازہ تحریریں

صفحات: [1] 2 3 ... 10
1
موجِ غزل / جواب: بتائیں ہم نے محبت میں کیا خوشی پائی؟
« آخری تحریر منجانب Afroz Mehr بروز گزشتہ روز بوقت 07:13:46 شام »

یاران اردو انجمن: سلام مسنون
گاہے گاہے انجمن چلتے چلتے رک کر پا بہ گل ہوجاتی ہے جیسے کوئی تھکا ہارا مسافر راہ میں بیٹھ جائے اور منزل کی جانب حسرت کی نگاہ سے تکنے لگے۔ ایسے میں دور دور تک کوئی ہمسفریا ہمدرد نظر نہیں آتا ہے۔ لیکن یہ تو زندگی ہے اور اس کا سفر۔ آج بھی انجمن کو دھکا دینے کی ضرورت پیش آئی تو ایک غزل کے ساتھ حاضر ہوگیا ہوں۔ دیکھئے کیسی ہے۔ اپنے خیالات اور تنقید سے ضرور آگاہ کیجئے۔ عنایت ہوگی۔ شکریہ۔ شاید یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ غزل تقریبا چالیس سال پرانی ہے جب زندگی پر جذبات کا غلبہ تھا اور شاعری بھی جذبات نگاری کا آئینہ تھی۔

سرور عالم راز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بتائیں ہم نے محبت میں کیا خوشی پائی؟
مقام کیف  ملا،  بزم  بے  خودی پائی

تمام زخم جنوں اشک غم نے کھول دئے
"گلوں نے اور بھی شبنم سے تازگی پائی"

ہم اہل درد زمانے سے خوب واقف ہیں
کسی میں ہم نے ذرا سی نہ عاجزی پائی

شراب زیست کی افسوں طرازیاں توبہ !
ہر ایک جام میں کچھ اور تشنگی پائی

انا گزیدہ بھٹکتے رہے سراابوں میں
جب اپنے آپ سے گزرے تو آگہی پائی

نہ دوستی، نہ عنایت،  پیام  ہے  نہ سلام
یہ کس سے تم نے رہ ورسم کافری پائی؟

معاملات شب وروز یونہی ٹلتے رہے
مقام زیست میں کس نے کوئی خوشی پائی

ادا میں ایک اشارہ، نظر میں ایک پیام
ہر ایک بات میں ظالم کی شاعری پائی

تری تلاش میں ہم آشنا ہوئے خود سے
ہمیں تھی جستجو جس چیز کی وہی پائی

ہمیں زمانے سے  سرور بڑی  شکایت   تھی
جو دیکھا غور سے تو خود میں ہی کمی پائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سرور عالم راز سرور



مکرمی و محترمی سرورعالم راز صاحب: سلام علیکم
اتنی تاخیر سے حاضری پر معذرت خواہ ہوں۔ وجہ سے آپ واقف ہیں چنانچہ دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اردو انجمن کی موجودہ صورت افسوسناک ہے لیکن اردو کی اہل اردو ہی کے ہاتھوں جو حالت ہے اس کے پیش نظر اور امید بھی کیا ہوسکتی ہے۔ آپ کی اردو دوستی اور محنت اور لگن قابل ستائش ہیں کہ برابر اپنے کام سے لگے ہوئے ہیں۔ دعا ہے کہ آپ کا سایہ ہم سب پر اور انجمن پر تادیر قایم رہے۔آمین۔
زیر نظر غزل آپ کی پرانی غزل سہی لیکں یہ بھی آپ کے کلاسیکی انداز تغزل کی عکاس ہے۔ مضامین جانے پہچانے ہیں اورہونے بھی چاہئیں کیونکہ غزل میں اب نیا مضمون کون سا رہ گیا ہے؟ لیکن انداز بیان آپ کا اپنا ہے۔جیسا کہ دوستوں کو علم ہے آپ کی غزل کی ایک خصوصیت اشعار کی برجستگی ہے اور ساتھ ہی الفاظ و تراکیب کا ماہرانہ انتخاب اور بندش۔ ہم لوگ اگر یہی سیکھ لیں تو غزل کی عمر میں کچھ اضافہ ہو سکتا ہے۔ مجھ کو غزل بہت پسند آئی۔ جناب مشیر شمسی ساحب نے اچھا تبصرہ کیا ہے۔ آپ کا تبصرہ ہمیشہ ہی توجہ طلب اور دلچسپ ہوتا ہے۔ اس کے مدنظر تفصیل سے لکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی ہوں۔ میری ناچیزداد قبول کیجئے اور دعائوں میں یاد رکھیں۔ ممنون رہوں گی۔ شکریہ
آپ کے دو اشعار کا مشیر شمسی ساحب نے ذکر کیا ہے :
انا گزیدہ بھٹکتے رہے سراابوں میں
جب اپنے آپ سے گزرے تو آگہی پائی

تری تلاش میں ہم آشنا ہوئے خود سے
ہمیں تھی جستجو جس چیز کی وہی پائی
میرا خیال ہے کہ دونوں اشعار ایک ہی تصویر کے دو پہلوہیں۔ خود شناسی کی راہ ایسی آسان نہیں ہے۔ انسان خدا جانے کتنے مراحل سے گزرتا ہے تب وہ خودکو پہچان پاتا ہے۔ دونوں اشعار بہت خوب ہیں۔ میری داد حاضر ہے۔ گر قبول افتد زہے عزو شرف۔

مہر افروز





عزیزہ مہر افروز: سلام اور دعائیں
آپ کا خط باعث مسرت و طمانیت ہوا۔ غزل آپ کو پسند آئی تو گویا "میرے پیسے وصول ہوگئے"۔ اردو انجمن کی یہ آخری سانسیں ہیں۔ میں نے سب کچھ کر کے دیکھ لیا لیکن اب مریض جاں بلب ہے۔ غالب کے الفاظ میں:
دم واپسیں  بر سر راہ  ہے
بس اب یارو اللہ ہی اللہ ہے
سب سے پہلے آپ کی داد کا شکریہ قبول کیجئے۔
بعد ازاں ایک خبر بھی سن لیں۔ دو چار دن میں انجمن میں اس کا اعلان کردوں گا۔ انٹرنیٹ پر سالانہ فیس دی جاتی ہے۔ اس سال کی فیس میں اپنی تاریخ پیدائش یعنی سولہ مارچ ۲۰۱۸ کو دے چکا ہوں۔ چنانچہ اردو انجمن لشتم پشتم ہی سہی اگلی تاریخ پیدائش تک یعنی سولہ مارچ ۲۰۱۹ تک ایسی ہی چلے گی اور پھر اس کو ملک عدم کی راہ پر روانہ کر دوں گا۔ امید ہے کہ میرے سارے دوست ہمیشہ خوش رہیں گے۔ ان کے حق میں دعائے خیر کا طالب ہوں۔

سرور عالم راز



مکرمی و معظمی سرور راز صاحب: سلام علیکم
آپ کا مایوسی بھرا خط پڑھ کر بہت رنج ہوا۔ تقریبا پندرہ سال سے آپ اردو انجمن کی آبیاری کا سامان کرتے رہے ہیں اور مختلف مشکلوں سے دوچار رہنے کے باوجود پامردی سے اپنے کام سے لگے رہے ہیں۔ صرف اردو انجمن ہی کے لئے نہیں بلکہ ہم سب کے لئے اور اردو ادب وشعر کے لئے آپ کی ذات بہت غنیمت ہے اور رہے گی۔ یہ جان کر دل پر چوٹ لگی کہ اگر یہی حال رہا تو آپ سال آئندہ اس کو سمیٹ کر خیر باد کہہ دیں گے۔ اللہ بہتر کرے ویسے حالات تو سازگار نظر نہیں آتے ہیں۔ ابھی بہت وقت ہے۔ کیا عجب کہ کوئی صورت نکل آئے۔ میں آپ سے دعائے خیر کی طالب ہوں۔ جزاک اللہ خیرا۔

مہر افروز


2
اصلاحِ سُخن / غزل بہ غرض اصلاح: ہے بینا چشم تو دیکھو زمین و آسماں کیا ہے
« آخری تحریر منجانب Ejaz Ahmad بروز گزشتہ روز بوقت 01:14:17 شام »
ہے بِینا چشم تو دیکھو ! ، زمین و آسماں کیا ہے
تُمھیں اِدراک ہوگا پھر، یقیں کیا ہے گُماں کیا ہے

خُودی تک دسترس ہے جِس کو،وہ جانے؛ جہاں کیا ہے
”زمین و آسماں کیا ہے؟ مَکان و لا مکاں کیا ہے؟“

اُسی کا شکوہ ہے جس نے سکوں چِھینا، کِیا مضطر
دلِ پژمردہ کی اِس کے سِوا آہ و فُغاں کیا ہے

کہا: ”محشر میں ہوگا وصل اور اس کے لیے ہو ضبط“
میں اُس سے پوچھتا ہوں یہ:”یہاں کیا ہے، وہاں کیا ہے؟“

ذرا بھی اِلتفات اُس نے کِیا نا میرے نالوں پر
اُسے یہ بھی پتا نا تھا صدائے نغمہ خواں کیا ہے

ذرا آنکھیں پسارو، راز بستہ کھول کر دیکھو
وہ بالائے فلک کیا ہے؟ یہ زیرِ آسماں کیا ہے؟

ڈبویا جستجوئے شوقِ اُلفت نے مجھے گہرا
گیا تھا دیکھنے جب میں، یہ بحرِ بے کراں کیا ہے

میں ایسی راہِ منزل پر رَواں ہوں خامُشی کے ساتھ
کوئی اب تک نہ جانا یہ کہ میرا کارواں کیا ہے

تِری صُحبت سے ہی میں زاغ سے شاہیں ہُوا، سرورؔ
وگرنہ اس قدر  احمؔد مِری تاب و تواں کیا ہے

 اعجاز احمؔد
(پنجاب، پاکستان)

1۔ سرور عالم راز سرورؔ
3
موجِ غزل / طرح غزل " مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں"
« آخری تحریر منجانب tahir chishti بروز گزشتہ روز بوقت 11:12:42 صبح »
السلام علیکم احبابِ انجمن !
بوجہ امتحانات میں یہاں سے کافی عرصہ غیر حاضر رہا اور اب فرصت پا کر ایک غزل کی اصلاح کی ٰغرض سے حاضر ہوا ہوں ۔ اصلاح اور آراء سے نوازیں۔

عجب کھیل اب کھیلنا چاہتا ہوں
لہو میں جو بوئے حنا چاہتا ہوں

میں اک بے وفا سے وفا چاہتا ہوں
"مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں"

گنہ گار ہوں میں پہ بندہ ترا ہوں
سو تیرا کرم بے بہا چاہتا ہوں

بطہِ مے سے مجھ کو نہیں کوئی نسبت
کہ عشقِ صنم کا نشہ چاہتا ہوں

ہے شہرِ خموشاں میں محشر کا عالم
کہ اس قید سے میں رہا چاہتا ہوں

نمک میرے زخموں پہ تو چھڑکیں ناصح
میں شوزِ جگر کا مزہ چاہتا ہوں

تری یاد میرے رہے ساتھ ہر دم
میں کیا اور اس سے سوا چاہتا ہوں

بناتا دلوں کو ہے جو عرش اپنا
میں اُس لامکاں کا پتا چاہتا ہوں

نہیں مجھ کو طاہر کوئی اور حسرت
میں بس نورِ ذاتِ خدا چاہتا ہوں
4
اندازِ غزل / جواب: miri zindagi talaatum...tiri zindagi kinaaraa
« آخری تحریر منجانب Mushir Shamsi بروز اپریل 25, 2018, 11:28:21 صبح »
miri zindagi hai zaalim, tire Gham se aashkaaraa
tira Gham hai dar-Haqeeqat mujhe zindagi se pyaraa

woh agar buraa nah maaneN to jahaan-e-rang-o-buu meN
maiN sukuun-e-dil ki Khaatir ko’ii DhuuND luuN sahaaraa

mujhe tujh se Khaas nisbat maiN raheen-e-mauj-e-tufaaN
jinheN zindagi thii pyarii unheN mil gayaa kinaaraa

mujhe aa gayaa yaqeeN saa kih yehii hai meri manzil
sar-e-raah jab kisii ne mujhe daf‘atan pukaaraa

yeh Khunak Khunak hawaa’eN, yeh jhukii jhukii ghaTaa’eN
woh nazar bhi kyaa nazar hai jo samajh nah lay ishaarah!

maiN bataa’uuN farq naaseH, jo hai mujh meN or tujh meN
miri zindagi talaatum, tiri zindagi kinaaraa

mujhe faKhr hai isii par yeh karam bhi hai mujhii par
tirii kam-nigaahiyaaN bhii mujhe kyuuN nah hoN  gawaaraa

mujhe guftguu se baRh kar Gham-e-izn-e-guftguu hai
wohi baat puuChhte haiN jo nah keh sakuuN dubaarah

ko’ii ay “Shakeel” puChhe, yeh junuuN nahiiN to kyaa hai
kih  usii ke ho gaye ham jo nah ho sakaa hamaaraa!

~Shakeel Badayuni

===========================================





mukarramee janaab BGM saaheb: salaam alekum
College ke zamaane meN Shakeel Badaaune kee yeh Ghazal baarhaa sunee thee lekin yaad agar rahaa to yeh ek sher
maiN bataa’uuN farq naaseH, jo hai mujh meN or tujh meN
miri zindagi talaatum, tiri zindagi kinaaraa
aam taur se ham dostoN meN yehee sher behad maqbool thaa. ab yaad naheeN keh aisaa kyoN thaa. Shakeel us zamaane meN nau-jawaanoN meN bohat maqbool the. yaad paRtaa hai keh Aligarh ke ek mushaa,ire meN woh aaye bhee the aur maiN ne un ko sunaa thaa. aap ne pooree Ghazal yahaaN lagaayee to ham par bohat ehsaan kiyaa. pooree Ghazal bohat muddat kebad dekhne ko milee hai. aap kaa bohat shurkiyah. aise hee yahaaN aate jaate rahiye.

Khadim: Mushir Shamsi
5
موجِ غزل / جواب: بتائیں ہم نے محبت میں کیا خوشی پائی؟
« آخری تحریر منجانب سرور عالم راز بروز اپریل 24, 2018, 03:40:30 شام »

یاران اردو انجمن: سلام مسنون
گاہے گاہے انجمن چلتے چلتے رک کر پا بہ گل ہوجاتی ہے جیسے کوئی تھکا ہارا مسافر راہ میں بیٹھ جائے اور منزل کی جانب حسرت کی نگاہ سے تکنے لگے۔ ایسے میں دور دور تک کوئی ہمسفریا ہمدرد نظر نہیں آتا ہے۔ لیکن یہ تو زندگی ہے اور اس کا سفر۔ آج بھی انجمن کو دھکا دینے کی ضرورت پیش آئی تو ایک غزل کے ساتھ حاضر ہوگیا ہوں۔ دیکھئے کیسی ہے۔ اپنے خیالات اور تنقید سے ضرور آگاہ کیجئے۔ عنایت ہوگی۔ شکریہ۔ شاید یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ غزل تقریبا چالیس سال پرانی ہے جب زندگی پر جذبات کا غلبہ تھا اور شاعری بھی جذبات نگاری کا آئینہ تھی۔

سرور عالم راز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بتائیں ہم نے محبت میں کیا خوشی پائی؟
مقام کیف  ملا،  بزم  بے  خودی پائی

تمام زخم جنوں اشک غم نے کھول دئے
"گلوں نے اور بھی شبنم سے تازگی پائی"

ہم اہل درد زمانے سے خوب واقف ہیں
کسی میں ہم نے ذرا سی نہ عاجزی پائی

شراب زیست کی افسوں طرازیاں توبہ !
ہر ایک جام میں کچھ اور تشنگی پائی

انا گزیدہ بھٹکتے رہے سراابوں میں
جب اپنے آپ سے گزرے تو آگہی پائی

نہ دوستی، نہ عنایت،  پیام  ہے  نہ سلام
یہ کس سے تم نے رہ ورسم کافری پائی؟

معاملات شب وروز یونہی ٹلتے رہے
مقام زیست میں کس نے کوئی خوشی پائی

ادا میں ایک اشارہ، نظر میں ایک پیام
ہر ایک بات میں ظالم کی شاعری پائی

تری تلاش میں ہم آشنا ہوئے خود سے
ہمیں تھی جستجو جس چیز کی وہی پائی

ہمیں زمانے سے  سرور بڑی  شکایت   تھی
جو دیکھا غور سے تو خود میں ہی کمی پائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سرور عالم راز سرور



مکرمی و محترمی سرورعالم راز صاحب: سلام علیکم
اتنی تاخیر سے حاضری پر معذرت خواہ ہوں۔ وجہ سے آپ واقف ہیں چنانچہ دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اردو انجمن کی موجودہ صورت افسوسناک ہے لیکن اردو کی اہل اردو ہی کے ہاتھوں جو حالت ہے اس کے پیش نظر اور امید بھی کیا ہوسکتی ہے۔ آپ کی اردو دوستی اور محنت اور لگن قابل ستائش ہیں کہ برابر اپنے کام سے لگے ہوئے ہیں۔ دعا ہے کہ آپ کا سایہ ہم سب پر اور انجمن پر تادیر قایم رہے۔آمین۔
زیر نظر غزل آپ کی پرانی غزل سہی لیکں یہ بھی آپ کے کلاسیکی انداز تغزل کی عکاس ہے۔ مضامین جانے پہچانے ہیں اورہونے بھی چاہئیں کیونکہ غزل میں اب نیا مضمون کون سا رہ گیا ہے؟ لیکن انداز بیان آپ کا اپنا ہے۔جیسا کہ دوستوں کو علم ہے آپ کی غزل کی ایک خصوصیت اشعار کی برجستگی ہے اور ساتھ ہی الفاظ و تراکیب کا ماہرانہ انتخاب اور بندش۔ ہم لوگ اگر یہی سیکھ لیں تو غزل کی عمر میں کچھ اضافہ ہو سکتا ہے۔ مجھ کو غزل بہت پسند آئی۔ جناب مشیر شمسی ساحب نے اچھا تبصرہ کیا ہے۔ آپ کا تبصرہ ہمیشہ ہی توجہ طلب اور دلچسپ ہوتا ہے۔ اس کے مدنظر تفصیل سے لکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی ہوں۔ میری ناچیزداد قبول کیجئے اور دعائوں میں یاد رکھیں۔ ممنون رہوں گی۔ شکریہ
آپ کے دو اشعار کا مشیر شمسی ساحب نے ذکر کیا ہے :
انا گزیدہ بھٹکتے رہے سراابوں میں
جب اپنے آپ سے گزرے تو آگہی پائی

تری تلاش میں ہم آشنا ہوئے خود سے
ہمیں تھی جستجو جس چیز کی وہی پائی
میرا خیال ہے کہ دونوں اشعار ایک ہی تصویر کے دو پہلوہیں۔ خود شناسی کی راہ ایسی آسان نہیں ہے۔ انسان خدا جانے کتنے مراحل سے گزرتا ہے تب وہ خودکو پہچان پاتا ہے۔ دونوں اشعار بہت خوب ہیں۔ میری داد حاضر ہے۔ گر قبول افتد زہے عزو شرف۔

مہر افروز





عزیزہ مہر افروز: سلام اور دعائیں
آپ کا خط باعث مسرت و طمانیت ہوا۔ غزل آپ کو پسند آئی تو گویا "میرے پیسے وصول ہوگئے"۔ اردو انجمن کی یہ آخری سانسیں ہیں۔ میں نے سب کچھ کر کے دیکھ لیا لیکن اب مریض جاں بلب ہے۔ غالب کے الفاظ میں:
دم واپسیں  بر سر راہ  ہے
بس اب یارو اللہ ہی اللہ ہے
سب سے پہلے آپ کی داد کا شکریہ قبول کیجئے۔
بعد ازاں ایک خبر بھی سن لیں۔ دو چار دن میں انجمن میں اس کا اعلان کردوں گا۔ انٹرنیٹ پر سالانہ فیس دی جاتی ہے۔ اس سال کی فیس میں اپنی تاریخ پیدائش یعنی سولہ مارچ ۲۰۱۸ کو دے چکا ہوں۔ چنانچہ اردو انجمن لشتم پشتم ہی سہی اگلی تاریخ پیدائش تک یعنی سولہ مارچ ۲۰۱۹ تک ایسی ہی چلے گی اور پھر اس کو ملک عدم کی راہ پر روانہ کر دوں گا۔ امید ہے کہ میرے سارے دوست ہمیشہ خوش رہیں گے۔ ان کے حق میں دعائے خیر کا طالب ہوں۔

سرور عالم راز

6
موجِ غزل / جواب: بتائیں ہم نے محبت میں کیا خوشی پائی؟
« آخری تحریر منجانب Afroz Mehr بروز اپریل 22, 2018, 07:06:53 شام »

یاران اردو انجمن: سلام مسنون
گاہے گاہے انجمن چلتے چلتے رک کر پا بہ گل ہوجاتی ہے جیسے کوئی تھکا ہارا مسافر راہ میں بیٹھ جائے اور منزل کی جانب حسرت کی نگاہ سے تکنے لگے۔ ایسے میں دور دور تک کوئی ہمسفریا ہمدرد نظر نہیں آتا ہے۔ لیکن یہ تو زندگی ہے اور اس کا سفر۔ آج بھی انجمن کو دھکا دینے کی ضرورت پیش آئی تو ایک غزل کے ساتھ حاضر ہوگیا ہوں۔ دیکھئے کیسی ہے۔ اپنے خیالات اور تنقید سے ضرور آگاہ کیجئے۔ عنایت ہوگی۔ شکریہ۔ شاید یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ غزل تقریبا چالیس سال پرانی ہے جب زندگی پر جذبات کا غلبہ تھا اور شاعری بھی جذبات نگاری کا آئینہ تھی۔

سرور عالم راز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بتائیں ہم نے محبت میں کیا خوشی پائی؟
مقام کیف  ملا،  بزم  بے  خودی پائی

تمام زخم جنوں اشک غم نے کھول دئے
"گلوں نے اور بھی شبنم سے تازگی پائی"

ہم اہل درد زمانے سے خوب واقف ہیں
کسی میں ہم نے ذرا سی نہ عاجزی پائی

شراب زیست کی افسوں طرازیاں توبہ !
ہر ایک جام میں کچھ اور تشنگی پائی

انا گزیدہ بھٹکتے رہے سراابوں میں
جب اپنے آپ سے گزرے تو آگہی پائی

نہ دوستی، نہ عنایت،  پیام  ہے  نہ سلام
یہ کس سے تم نے رہ ورسم کافری پائی؟

معاملات شب وروز یونہی ٹلتے رہے
مقام زیست میں کس نے کوئی خوشی پائی

ادا میں ایک اشارہ، نظر میں ایک پیام
ہر ایک بات میں ظالم کی شاعری پائی

تری تلاش میں ہم آشنا ہوئے خود سے
ہمیں تھی جستجو جس چیز کی وہی پائی

ہمیں زمانے سے  سرور بڑی  شکایت   تھی
جو دیکھا غور سے تو خود میں ہی کمی پائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سرور عالم راز سرور



مکرمی و محترمی سرورعالم راز صاحب: سلام علیکم
اتنی تاخیر سے حاضری پر معذرت خواہ ہوں۔ وجہ سے آپ واقف ہیں چنانچہ دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اردو انجمن کی موجودہ صورت افسوسناک ہے لیکن اردو کی اہل اردو ہی کے ہاتھوں جو حالت ہے اس کے پیش نظر اور امید بھی کیا ہوسکتی ہے۔ آپ کی اردو دوستی اور محنت اور لگن قابل ستائش ہیں کہ برابر اپنے کام سے لگے ہوئے ہیں۔ دعا ہے کہ آپ کا سایہ ہم سب پر اور انجمن پر تادیر قایم رہے۔آمین۔
زیر نظر غزل آپ کی پرانی غزل سہی لیکں یہ بھی آپ کے کلاسیکی انداز تغزل کی عکاس ہے۔ مضامین جانے پہچانے ہیں اورہونے بھی چاہئیں کیونکہ غزل میں اب نیا مضمون کون سا رہ گیا ہے؟ لیکن انداز بیان آپ کا اپنا ہے۔جیسا کہ دوستوں کو علم ہے آپ کی غزل کی ایک خصوصیت اشعار کی برجستگی ہے اور ساتھ ہی الفاظ و تراکیب کا ماہرانہ انتخاب اور بندش۔ ہم لوگ اگر یہی سیکھ لیں تو غزل کی عمر میں کچھ اضافہ ہو سکتا ہے۔ مجھ کو غزل بہت پسند آئی۔ جناب مشیر شمسی ساحب نے اچھا تبصرہ کیا ہے۔ آپ کا تبصرہ ہمیشہ ہی توجہ طلب اور دلچسپ ہوتا ہے۔ اس کے مدنظر تفصیل سے لکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی ہوں۔ میری ناچیزداد قبول کیجئے اور دعائوں میں یاد رکھیں۔ ممنون رہوں گی۔ شکریہ
آپ کے دو اشعار کا مشیر شمسی ساحب نے ذکر کیا ہے :
انا گزیدہ بھٹکتے رہے سراابوں میں
جب اپنے آپ سے گزرے تو آگہی پائی

تری تلاش میں ہم آشنا ہوئے خود سے
ہمیں تھی جستجو جس چیز کی وہی پائی
میرا خیال ہے کہ دونوں اشعار ایک ہی تصویر کے دو پہلوہیں۔ خود شناسی کی راہ ایسی آسان نہیں ہے۔ انسان خدا جانے کتنے مراحل سے گزرتا ہے تب وہ خودکو پہچان پاتا ہے۔ دونوں اشعار بہت خوب ہیں۔ میری داد حاضر ہے۔ گر قبول افتد زہے عزو شرف۔

مہر افروز



7
اندازِ غزل / miri zindagi talaatum...tiri zindagi kinaaraa
« آخری تحریر منجانب B.G.M. بروز اپریل 21, 2018, 03:56:35 شام »
miri zindagi hai zaalim, tire Gham se aashkaaraa
tira Gham hai dar-Haqeeqat mujhe zindagi se pyaraa

woh agar buraa nah maaneN to jahaan-e-rang-o-buu meN
maiN sukuun-e-dil ki Khaatir ko’ii DhuuND luuN sahaaraa

mujhe tujh se Khaas nisbat maiN raheen-e-mauj-e-tufaaN
jinheN zindagi thii pyarii unheN mil gayaa kinaaraa

mujhe aa gayaa yaqeeN saa kih yehii hai meri manzil
sar-e-raah jab kisii ne mujhe daf‘atan pukaaraa

yeh Khunak Khunak hawaa’eN, yeh jhukii jhukii ghaTaa’eN
woh nazar bhi kyaa nazar hai jo samajh nah lay ishaarah!

maiN bataa’uuN farq naaseH, jo hai mujh meN or tujh meN
miri zindagi talaatum, tiri zindagi kinaaraa

mujhe faKhr hai isii par yeh karam bhi hai mujhii par
tirii kam-nigaahiyaaN bhii mujhe kyuuN nah hoN  gawaaraa

mujhe guftguu se baRh kar Gham-e-izn-e-guftguu hai
wohi baat puuChhte haiN jo nah keh sakuuN dubaarah

ko’ii ay “Shakeel” puChhe, yeh junuuN nahiiN to kyaa hai
kih  usii ke ho gaye ham jo nah ho sakaa hamaaraa!

~Shakeel Badayuni

===========================================



8
آپ کی پسند / منتقل کر دیا گیا: ہم جو تم سے ملتے ھيں اتفاق تھوڑي ہے
« آخری تحریر منجانب سرور عالم راز بروز اپریل 21, 2018, 01:05:13 شام »
یہ موضوع منتقل کیا گیا ہے خزانہ.

http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=10893.0
9
اندازِ سُخن / يہ جفائے غم کا چارہ
« آخری تحریر منجانب akbar بروز اپریل 20, 2018, 01:55:24 شام »
 'd'


10
آپ کی پسند / * احساس *
« آخری تحریر منجانب akbar بروز اپریل 20, 2018, 01:28:26 شام »
 'd'

صفحات: [1] 2 3 ... 10
Copyright © اُردو انجمن