اُردو انجمن

 


تازہ تحریریں

صفحات: [1] 2 3 ... 10
1
موجِ غزل / جواب: کیسے نہ اپنی جاں کو لٹاتا خوشی سے میں
« آخری تحریر منجانب BANDA E NACHEEZ بروز جون 22, 2017, 06:32:15 صبح »

قارئین کرام آداب عرض ہیں یہ تازہ کلام آپ کی نذر
عرض کیا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

غم زندگی کے سارے بھلاتا خوشی سے میں
دل سے تمہیں نکال جو پاتا خوشی سے میں

اپنی خوشی سے آیا نہیں اس جہاں اگر
دنیا سے کیسے لوٹ کے جاتا خوشی سے میں

یوں چالباز لوگ کہاں جیتتے کبھی
بازی لگا کے مات نہ کھاتا خوشی سے میں

گر ایک بار تم نے کیا ہوتا اعتبار
تاعمر زندگی کو لبھاتا خوشی سے میں

تم نے ہی التفاتِ نظر کی نہ آج تک
ورنہ ہر ایک عہد نبھاتا خوشی سے میں

تھوڑا سا پاس رکھتے اگر تم وفاؤں کا
پلکوں پہ اپنی تم کو بٹھاتا خوشی سے میں

جھانسا جو دے کے تم نے مجھے کر لیا ہے قید
تم کو یقیں نہیں تھا کہ آتا خوشی سے میں

ہر ایک نے خلوص سے لوٹا مجھے خیالؔ
کیسے نہ اپنی جاں کو لٹاتا خوشی سے میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی توجہ کا طلبگار

اسماعیل اعجاز خیالؔ

محترم و مکرم خیال صاحب۔سلام مسنون
ماشاءاللہ ! بہت عمدہ مضامین اور دلکش اسلوب ہے کلام کا۔ ڈھیروں داد
سلامت باشد
2
موجِ غزل / جانیے مت حقیر تنکے کو
« آخری تحریر منجانب BANDA E NACHEEZ بروز جون 22, 2017, 06:26:35 صبح »
ارباب۔ذوق کی خدمت میں السلام علیکم!

ایک غزل کے ساتھ حاضر ہوں ۔احباب کی رائے کا انتظار رہے گا

دیکھا ہے زیست کے تماشے کو
لوگ ملتے ہیں بس بچھڑنے کو

اس قدر حبس کہ ترستی ہے
سانس تازہ ہوا کے جھونکے کو

آنکھ میں پڑ گیا چبھے گا بہت
جانیے مت حقیر تنکے کو

صرف بینائی والی دو آنکھیں
اور کیا چاہیے اک اندھے کو

جس نے سونپا ہے کرب برسوں کا
کوستا ہوں اس ایک لمحے کو

کل کو یہ بدتمیز نکلے گا
اس قدڈانٹیے نہ بچے کو

چل بسا باپ بیچ کھایا پھر
بیٹوں نے باپ کے اثاثے کو

جس کو سمجھاؤ آج کل شاکر
دوڑتا ہے وہ مار کھانے کو

محمد یوسف شاکر


3
موجِ غزل / جواب: کیسے نہ اپنی جاں کو لٹاتا خوشی سے میں
« آخری تحریر منجانب Afroz Mehr بروز جون 21, 2017, 09:16:01 شام »

محترمی جناب خیال صاحب: السلام علیکم
رمضان آئے اوراب دو ایک دن میں داغ مفارقت دے جائیں گے۔ اچھی بات یہ ہے کہ یہ مفارقت عارضی ہوگی اور اگر زندگی رہی تو اگلے سال یہ مبارک دن پھر رونما ہوں گے۔ آپ کو اور انجمن کے دوسرے سب احباب کو عید الفطر کی مبارکباد پیش ہے۔ دعائے خیر میں یاد رکھئے۔ جزاکم اللہ خیرا۔
یہاں کافی عرصے کے بعد آئی ہوں۔ معذرت کی ضرورت نہیں کیونکہ آپ سب جانتے ہی ہیں کہ رمضان میں گھر کا کام کاج کتنا بڑھ جاتا ہے۔ دیکھئے آگے کیا ہوتا ہے۔ آپ کی غزل کی ردیف بہت دلچسپ اور منفرد ہے اور آپ نے کئی شعر بہت اچھے نکالے ہیں۔ آپ کافی مدت سے مشق سخن کر رہے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ کلام مرتب کر کے، نظر ثانی کے بعد، اسے شائع کروادیا جائے۔ امید ہے کہ اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔ شکریہ۔
غزل کی عام داد تو اوپر دے چکی ہوں۔ دو تین اشعار پر اگر ذارا سی تفصیل سے لکھوں تو ایسا کچھ برا تو نہ ہوگا! سو لکھتی ہوں۔
غم زندگی کے سارے بھلاتا خوشی سے میں
دل سے تمہیں نکال جو پاتا خوشی سے میں
شعر اچھا ہے۔ داد قبول کیجئے۔ ویسے آپ نے محبوبہ کو دل سے نکالنے کی اور وہ بھی خوشی خوشی خوب کہی!ایسے عاشق کا کیا کرے کوئی  :)
اپنی خوشی سے آیا نہیں اس جہاں اگر
دنیا سے کیسے لوٹ کے جاتا خوشی سے میں
میں نواز صاحب سے متفق ہوں کہ اس شعر سے ذوق یاد آتے ہیں۔ کچھ لوگ اس شعر کو ذوق کے شعر کا چربہ کہیں تو حیرت نہ ہوگی۔ میری ناچیز رائےمیں اس شعر کو غزل سے حذف کردیجئے اور کسی کو یہ الزام لگانے کا موقع ہی نہ دیجئے۔ یوں کلام آپ کا ہے اور آپ اس کے مالک ہیں۔
یوں چالباز لوگ کہاں جیتتے کبھی
بازی لگا کے مات نہ کھاتا خوشی سے میں
گستاخی معاف، شعر معمولی ہے۔ اگر پھر سے دیکھ کر اس پر محنت کی جائے تو کیسا رہے گا خیال صاحب؟
گر ایک بار تم نے کیا ہوتا اعتبار
تاعمر زندگی کو لبھاتا خوشی سے میں
دوسرے مصرع میں آپ نے جس طرح "عمر" اور "زندگی" کا فرق نمایاں کیا ہے وہ انداز بہت ہی خوب ہے۔ بہت داد حاضر ہے۔
تم نے ہی التفاتِ نظر کی نہ آج تک
ورنہ ہر ایک عہد نبھاتا خوشی سے میں
پہلا مصرع صحیح نہیں ہے۔ التفات مذکر ہے چنانچہ "التفات نظر" کیا جائے گا، کی جائے لکھنا غلط ہے۔ البتہ "نظر ملتفت" ہو سکتی ہے۔ یعنی شعر میں کچھ تبدیلی ہو جائے تو کیا ہرج ہے۔
تھوڑا سا پاس رکھتے اگر تم وفاؤں کا
پلکوں پہ اپنی تم کو بٹھاتا خوشی سے میں
شعر ٹھیک ہے۔ مضمون اور بیان دونوں سادہ اور سامنے کے ہیں۔ داد حاضر ہے۔
جھانسا جو دے کے تم نے مجھے کر لیا ہے قید
تم کو یقیں نہیں تھا کہ آتا خوشی سے میں
خیال صاحب، "جھانسا"؟؟ محنوبہ سے ایسی توقع رکھنا کس طرح مناسب ہے؟ زبان کے لحاظ سے بھی شعر اصلاح کا خواہاں ہے۔
ہر ایک نے خلوص سے لوٹا مجھے خیالؔ
کیسے نہ اپنی جاں کو لٹاتا خوشی سے میں
"جاں کو" کے بجائے صرف "جان" کہیں تو بہتر نہیں رہے گا؟ ایسا میرا خیال ہے۔ شکریہ

مہر افروز


4
Test Board / ﯾﮧ ﺩُﻧﯿﺎ ﻣﮑﺎﻓﺎﺕ ﻋﻤﻞ ﮨﮯ
« آخری تحریر منجانب Ismaa'eel Aijaaz بروز جون 21, 2017, 02:42:53 صبح »
ﯾﮧ ﺩُﻧﯿﺎ ﻣﮑﺎﻓﺎﺕ ﻋﻤﻞ ﮨﮯ

ﺟﯿﻞ ﮐﯽ ﺳﺰﺍﺋﮯ ﻣﻮﺕ ﮐﯽ ﮐﺎﻝ ﮐﻮﭨﮭﺮﯼ ﺗﻬﯽ -
ﺧﻮﻓﻨﺎﮎ ﺳﻨﺎﭨﺎ ﺗﻬﺎ - ﺯﯾﺮﻭ ﻭﻭﻟﭧ ﮐﺎ ﺑﻠﺐ ﮔﻬﭗ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﮐﻮ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﺭﻭﺷﻦ ﺑﻨﺎ ﺭﻫﺎ ﺗﻬﺎ -
ﭘﺎﻧﭻ ﺑﺎﺋﯽ ﭘﺎﻧﭻ ﻓﭧ ﮐﺎ ﭼﻬﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﺧﺎﻧﮧ ﺍﺳﮑﻮ،ﻗﺒﺮ ﺳﮯ ﺑﻬﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﻨﮓ ﻟﮓ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ -
ﺑﺎﮨﺮ ﺷﺎﯾﺪ ﺑﺎﺭﺵ ﮨﻮﺭﮨﯽ ﮨﮯ -
ﺍﺳﮑﮯ ﭘﺘﮭﺮﺍﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﻣﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﺧﯿﺎﻝ ﮔﺰﺭﺍ -
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺑﺎﺩﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﮨﻠﮑﯽ ﮨﻠﮑﯽ ﮔﺮﺝ ﺧﻮﻓﻨﺎﮎ ﺳﻨﺎﭨﮯ ﮐﻮ ﭼﯿﺮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ -
ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻧﮑﯽ ﭼﻤﮏ ، ﺑﺎﺭﺵ ﮐﯽ ﮨﻠﮑﯽ ﭘﮭﻮﮨﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﭨﮭﻨﮉﯼ ﮨﻮﺍ ﮐﮯ ﺗﺎﺯﮦ ﺗﺮﯾﻦ ﺟﮭﻮﻧﮑﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﺗﻬﺎ -
ﺁﺝ ﺍﺳﮯ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺑﺎﺭﺵ ﮐﺘﻨﯽ ﺑﮍﯼ ﻧﻌﻤﺖ ﮨﮯ -
ﮐﺎﻝ ﮐﻮﭨﮭﺮﯼ ﮐﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺑﻬﯽ ﺗﻮ ﺁﺝ ﺭﺍﺕ ﻧﮧ ﺁﺳﮑﺎ -
" ﮐﻬﺎﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ ﺁﺝ ! ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ؟ ﺷﺎﯾﺪ ﺑﺎﺭﺵ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮔﺎﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﮔﯽ "-
ﺟﯿﻞ ﮐﮯ ﺳﻨﺘﺮﯼ ﻧﮯ ﻓﻮﻻﺩﯼ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﻟﮕﯽ ﭼﻬﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﮐﻬﻮﻝ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﺩﯼ -
ﺍﺳﮑﻮ ﮐﻬﺎﻧﺎ ﻧﺎ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻏﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻬﺎ - ﻟﯿﮑﻦ ﭘﺎﻧﭻ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺟﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﺗﻬﯽ، ﺍﺳﮑﮯ ﺳﻨﻨﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﺗﻬﯽ - ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻭﺍﺭﮈﻥ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﭽﮫ ﮐﮩﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺁﮨﻨﯽ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺳﮯ ﺳﺮﮐﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﻬﺎ -
" ﺑﻬﺎﺋﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﺳﻨﻮ "- ﻭﮦ ﺗﮍﭖ ﮐﺮ ﺍﭨﮭﺎ - ﻣجھ ﺳﮯ ﺩﻭ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﺮﻟﻮ -
ﻟﯿﮑﻦ ﮐﺎﻝ ﮐﻮﭨﮭﺮﯼ ﮐﺎ ﻭﺍﺭﮈﻥ ﮐﺐ ﮐﺎ ﺟﺎ ﭼﮑﺎ ﺗﻬﺎ -
ﭘﻬﺮ ﺳﮯ ﺑﺲ ﺍﯾﮏ ﻭﮦ ﺗﻬﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮐﺎﻟﯽ ﻗﺒﺮ ﺗﻬﯽ -
ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﮐﯽ ﻟﮍﯼ ﻧﺠﺎﻧﮯ ﮐﺐ ﺳﮯ ﺑﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ - ﺍﻭﺭ ﺭﮐﻨﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻧﮧ ﻟﯿﺘﯽ ﺗﻬﯽ -
" ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ! ﻣﯿﮟ ﺳﺰﺍﺋﮯ ﻣﻮﺕ ﮐﺎ ﻣﺠﺮﻡ ﮐﯿﺴﮯ؟ " ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﺳﮯ ﺍﺳﮑﺎ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺳﻮﺍﻝ ﺗﻬﺎ -
" ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﭘﺮ ﮐﺒﻬﯽ ﻇﻠﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺗﻬﺎ -
ﭼﻮﻧﺴﭩﮫ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﮐﺎ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﯿﺴﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺲ ﮐﺎ ﻗﺎﺗﻞ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ؟ ﺍﮮ ﺭﺏ ﺫﻭﺍﻟﺠﻼﻝ ﺗﻮ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﻮﮞ "-
ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﺳﮯ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﻧﺠﺎﻧﮯ ﮐﺐ ﻧﯿﻨﺪ ﮐﯽ ﻭﺍﺩﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻬﻮ ﮔﯿﺎ -
ﺧﻮﺍﺏ ﺑﻬﯽ ﺗﻮ ﺍﺳﮑﻮ ﮈﺭﺍﻭﻧﮯ ﺁﺭﮨﮯ ﺗﻬﮯ -
ﮐﺒﻬﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺗﺨﺘﮧ ﺩﺍﺭ ﭘﺮ ﺟﮭﻮﻟﺘﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﻬﯽ ﺟﻼﺩ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﮈﮬﺎﻧﭙﺘﮯ ﺩﯾﮑﻬﺘﺎ -
ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﻬﺎ ﮐﮧ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ -
ﮨﻨﺪﻭﺅﮞ ﮐﮯ ﻗﺎﻓﻠﮯ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ -
ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺁﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ -
ﮐﺸﺖ ﻭ ﺧﻮﻥ ﮐﯽ ﻟﮍﺍﺋﯽ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﮯ - ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺳﮑﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺮﻭﺍﮦ ﻧﮩﯿﮟ -
ﮐﮍﯾﻞ ﺟﻮﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺟﺴﻢ ﮐﺎ ﻣﺎﻟﮏ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﮔﻬﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ - ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮑﻬﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻨﺪﻭﺅﮞ ﮐﯽ ﭼﻬﻮﮌﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﺍﭼﮏ ﻟﮯ - ﺍﯾﮏ ﺁﻭﺍﺯ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ
" ﯾﮧ ﺗﯿﺮﯼ ﮐﻤﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺗﻬﮯ - ﺗُﻮﭼﻮﺭ ﺟﻮ ﭨﮭﮩﺮﺍ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﺎ "-
ﻭﮦ ﮨﮍﺑﮍﺍ ﮐﺮ ﺍﭨﮫ ﺑﯿﭩﮭﺎ - ﯾﻮﮞ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺭﻫﺎ ﺗﻬﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﺑﮩﺖ ﻗﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﺁﺋﯽ ﮨﮯ -
ﻭﮦ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺍﯾﮏ ﭼﻮﺭ ﺗﻬﺎ - ﻟﯿﮑﻦ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﭼﻮﺭﯼ ﺳﮯ ﺗﺎﺋﺐ ﮨﻮﮐﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺎﻡ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ -
ﺍﺳﮑﻮ ﯾﺎﺩ ﺁﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﮨﻨﺪﻭ ﻗﺎﻓﻠﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﻬﯿﻨﺲ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺧﺖ ﺳﮯ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﺮ ﭼﮭﻮﮌ ﮔﯿﺎ ﺗﻬﺎ -
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺑﻬﯿﻨﺲ ﺩﺭﺩ ﺯﮦ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ، ﺑﮩﺖ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﭼﻞ ﺭﮨﯽ ﺗﻬﯽ – ﺍﻭﺭ ﻗﺎﻓﻠﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﺎﻥ ﮐﺎ ﺧﻄﺮﮦ ﺗﮭﺎ - ﺍﺳﻠﺌﯿﮯ ﺑﮭﯿﻨﺲ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮔﺌﮯ -
ﺟﺐ ﯾﮧ ﺍﺱ ﺩﺭﺧﺖ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺗﻮ ﺑﻬﯿﻨﺲ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ ﮨﻮﭼﮑﺎ ﺗﻬﺎ - ﺍﻭﺭ ﭼﻨﺪ ﮔﮭﻨﭩﻮﮞ ﮐﺎ ﺗﻬﺎ -
ﺍﺳﻨﮯ ﺑﻬﯿﻨﺲ ﮐﯽ ﺩﺭﺧﺖ ﺳﮯ ﺭﺳﯽ ﮐﮭﻮﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﭼﻠﺘﺎ ﺑﻨﺎ -
ﺑﭽﮧ ﺑﻬﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﮯﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻮﻟﯿﺎ -
ﺍﺳﻨﮯ ﺩﯾﮑﻬﺎ ﮐﮧ ﺑﻬﯿﻨﺲ ﺑﭽﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﭼﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ - ﺍﻭﺭ ﻣﮍ ﻣﮍ ﮐﺮ ﺍﺳﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ -
ﭼﻮﺭ ﮐﻮ ﺑﻬﯿﻨﺲ ﺑﯿﭽﻨﮯ ﮐﯽ ﺟﻠﺪﯼ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﭽﮧ ﺍﺳﻤﯿﮟ ﺭﮐﺎﻭﭦ ﺗﻬﺎ - ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﻨﺪﻭﻕ ﻧﮑﺎﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﻬﯿﻨﺲ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﭘﺮ ﻓﺎﺋﺮ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ - ﺑﭽﮭﮍﺍ ﺗﮍﭖ ﺗﮍﭖ ﮐﺮ ﻣﺮﮔﯿﺎ -
ﺑﻬﯿﻨﺲ ﻧﮯ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﻬﺮ ﺟﻬﮑﺎ ﺩﯾﺎ - ﭼﻮﺭ ﻧﮯ ﻣﻨﮉﯼ ﻟﮯ ﺟﺎﮐﺮ ﺑﻬﯿﻨﺲ ﮐﻮ ﺑﯿﭻ ﺩﯾﺎ - ﺍﻭﺭ ﺳﺴﺘﯽ ﺳﯽ ﺯﺭﻋﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﻟﮯ ﻟﯽ -
ﮐﻬﯿﺘﯽ ﺑﺎﮌﯼ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻥ ﭘﻬﺮ ﮔﺌﮯ –
ﺷﺎﺩﯼ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﺑﭽﮯ ﮨﻮﮔﺌﮯ - ﻭﻗﺖ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﻬﺎ ﮔﺰﺭ ﺭﻫﺎ ﺗﻬﺎ ﮐﮧ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﮔﺎﺀﻭﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺍﺛﺮ ﺁﺩﻣﯽ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺁﮔﯿﺎ -
ﮐﺎﻝ ﮐﻮﭨﮭﮍﯼ ﮐﺎ ﻓﻮﻻﺩﯼ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺩﻟﺨﺮﺍﺵ ﭼﺮﭼﺮﺍﮨﭧ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﻬﻼ -
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﻮﭼﻮﮞ ﮐﺎ ﺗﺴﻠﺴﻞ ﯾﮑﺎﯾﮏ ﭨﻮﭦ ﮔﯿﺎ -
ﺟﯿﻞ ﺳﭙﺮﻧﭩﻨﮉﻧﭧ ﺍﺳﮑﯽ ﮐﯽ ﮐﻮﭨﮭﮍﯼ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ -
" ﻣﯿﺎﮞ ﺗﺎﺝ ﺩﯾﻦ ﻭﻟﺪ ﻣﯿﺎﮞ ﺭﺣﻤﺖ ﺩﯾﻦ ! ﮐﻞ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻓﺠﺮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﻮﺭﺝ ﻃﻠﻮﻉ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ، ﭘﮭﺎﻧﺴﯽ ﺩﮮ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ - ﺍﭘﻨﯽ ﺁﺧﺮﯼ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﺑﺘﺎ ﺩﻭ - ﺁﺧﺮﯼ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﻭﮦ ﺑﻬﯽ ﺑﺘﺎ ﺩﻭ - ﮐﻞ ﺗﮩﺠﺪ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﻭﺍﺭﮈﻥ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮔﺮﻡ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺑﺎﻟﭩﯽ ﺩﮮ ﮔﺎ -
ﺁﺧﺮﯼ ﻏﺴﻞ ﮐﺮﻟﯿﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﺭﮈﻥ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﺭﺛﻮﮞ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﻟﮑﻬﻮﺍ ﺩﻭ ﺟﻦ ﺳﮯ ﺗﻢ ﺁﺧﺮﯼ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ "-
ﺗﺎﺝ ﺩﯾﻦ ﮨﮑﺎ ﺑﮑﺎ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ -
ﻗﺪﺭﺕ ﮐﮯ ﺍﻧﺘﻘﺎﻡ ﮐﯽ ﮔﻬﮍﯼ ﺁﻥ ﭘﮩﻨﭽﯽ ﺗﻬﯽ -
ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﻮ ﺍﺳﮑﮯ ﺷﮑﻮﮮ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺑﻬﯽ ﻣﻞ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ -
ﮐﮧ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﺑﮯ ﮐﺲ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﮐﯽ ﺟﺎﻥ ﻟﯽ ﺗﻬﯽ - ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﯽ ﺩﮐﻬﯽ ﻣﻈﻠﻮﻡ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﺁﮦ ﺁﺝ ﺍﺳﮯ ﺗﺨﺘﮧ ﺩﺍﺭ ﭘﺮ ﻟﭩﮑﺎ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ -
ﭘﻬﺮ ﻭﮨﯽ ﺧﻮﻓﻨﺎﮎ ﺳﻨﺎﭨﺎ ﺗﮭﺎ -
ﺯﯾﺮﻭ ﻭﻭﻟﭧ ﮐﺎ ﺑﻠﺐ ﮔﻬﭗ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﮐﻮ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﺭﻭﺷﻦ ﺑﻨﺎ ﺭﻫﺎ ﺗﻬﺎ -
ﭘﺎﻧﭻ ﺑﺎﺋﯽ ﭘﺎﻧﭻ ﻓﭧ ﮐﺎ ﭼﻬﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﺧﺎﻧﮧ ﺍﺳﮑﻮ،ﻗﺒﺮ ﺳﮯ ﺑﻬﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﻨﮓ ﻟﮓ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ -
ﻗﺪﺭﺕ ﺍﭘﻨﺎ ﺣﺴﺎﺏ ﭘﻮﺭﺍ ﺿﺮﻭﺭ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ - ﺍﺱ ﮐﮯ ﻫﺎﮞ ﺩﯾﺮ ﮨﮯ - ﺍﻧﺪﮬﯿﺮ ﻧﮩﯿﮟ -
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺩُﻧﯿﺎ ﻣﮑﺎﻓﺎﺕ ﻋﻤﻞ ﮨﮯ
5
موجِ غزل / جواب: Fughan aur Ghazal
« آخری تحریر منجانب nawaz بروز جون 21, 2017, 12:44:55 صبح »
محترم اسماعیل اعجاز  سلامِ مسنون

غزل پر داد کا تحفہ وصول پایا آپ نے ہمیشہ کی
طرح اپنی مفید آرا سےنوازا جس کے لئے ممنون
اور شکرگزار ہوں۔
۱ غزل کا عنوان بدل کرفغاں اور کردیا ہے  جیسا
کہ آپ نے نشاندہی کی ہے،

۲ وہ لوگ کہاں سنتے جو آوازِ طرب بھی
کہتا ہے یہ مجھ سے کوئی آوازِ فغاں اور

 جناب زمانہ تھا کہ ہر طرف خوشیوں کے گیت تھے
مشاعروں کی محفلیں تھیں اور لوگ اُس کو سننے کو
تیار تھے، اور آج بدنظمی،دہشت وحشت آہ و فغاں
تُو صاحب اب کان میں ہر طرف سے آہ وفغاں کی
آوازیں آتی ہیں۔

 آپ کی دی گئی اصلاح کے تحت شعر میں ترمیم کر
لو گا۔۔۔ بہت شکریہ،    سدا خوش رہئے     نواز
6
موجِ غزل / جواب: کیسے نہ اپنی جاں کو لٹاتا خوشی سے میں
« آخری تحریر منجانب Ismaa'eel Aijaaz بروز جون 20, 2017, 10:35:09 شام »
محترم اسماعیل اعجاز سلامِ مسنون

خوبصورت اور سادہ قافیہ اورردیف میں خوبصورت
غزل پڑھ کر بہت لطف آیا، معنی  آفرینی  ہر شعر میں
نمایاں ہے داد حاضر ہے۔

اپنی خوشی سے آیا نہیں اس جہاں تُو
دنیا سے کیسے لوٹ کےجاتا خوشی سےمیں

اس شعر پرمجھے شیخ ابراہیم ذوق یاد آگئے،

لائی حیات آئی قضا لے چلی چلے
اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے

  سدا خوش رہئے        نواز


جناب محترم نوازصاحب

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

جنابِ عالی اس ذرّہ نوازی کے لیے شکر گزار ہوں میں ، غزل آپ کو پسند آئی بہت مہربانی ہے صاحب ، جو شعر آپ کو پسند آیا اس میں لفظ ’’تو‘‘ مضموم نہیں ہے مطلب یہ بغیر پیش کی علامت کے ہے لیکن ایک قاری کی حیثیت سے واقعی اس میں ابہام ہے اس لیے میں نے اسے بدل کر مصرعے میں کچھ اس طرح سے دوبارہ  شعر مکمل کیا ہے

یہ شعر کل قادر خان صاحب فلمی ستارے جن کا آبائی وطن بلوچستان پشین یا چمن ہے لیکن وہ ہندوستانی شہری ہیں ان کے انتقال کی خبر جو بعد میں پتہ چلا کہ افوا ہے ، اس خبر کو دیکھ کو منظوم کیا تھا ، اللہ پاک جناب قادر خان صاحب کو سدا سلامت رکھے

اپنی خوشی سے آیا نہیں اس جہاں اگر
دنیا سے کیسے لوٹ کے جاتا خوشی سے میں

بہرحال صاحب آپ کی محبتیں عناتیں سر آنکھوں پر

اللہ پاک آپ کو دنیا و آخرت کی عزّتیں مرحمت فرمائے
 
دعاگو
7
اندازِ غزل / چراغ ہاتھ اٹھا کر دعائیں کرنے لگے
« آخری تحریر منجانب Ismaa'eel Aijaaz بروز جون 20, 2017, 10:18:02 شام »
راحتؔ اندوری

اندھیرے چاروں طرف سائیں سائیں کرنے لگے
چراغ ہاتھ اٹھا کر دعائیں کرنے لگے

ترقی کر گئے بیماریوں کے سوداگر
یہ سب مریض ہیں جو اب دوائیں کرنے لگے

لہو لہان پڑا تھا زمیں پر اک سورج
پرندے اپنے پروں سے ہوائیں کرنے لگے

زمیں پر آ گئے آنکھوں سے ٹوٹ کر آنسو
بری خبر ہے فرشتے خطائیں کرنے لگے

جھلس رہے ہیں یہاں چھاؤں بانٹنے والے
وہ دھوپ ہے کہ شجر التجائیں کرنے لگے

عجیب رنگ تھا مجلس کا خوب محفل تھی
سفید پوش اٹھے کائیں کائیں کرنے لگے
8
موجِ غزل / جواب: Zamanay ka Ghazal
« آخری تحریر منجانب Ismaa'eel Aijaaz بروز جون 20, 2017, 09:45:41 شام »
تمام احباب کو سلامِ مسنون

اپنی قیمتی آرا سے نوازئے غزل آپ کی خدمت میں

رک جا کہ خطرناک ہے رستہ بھی یہاں اور
مشکل ہے ترا ایک قدم بھی مری جاں اور

تو بات کرے یوں کہ کلیجہ مرانکلے
چلتی ہے نہیں کیوں تری نفرت کی زباں اور

وہ لوگ کہاں سنتے جو آواز طرب بھی
کہتا ہےیہ مجھ سےکوئی آواز فغاں اور

اب انساں کا مرنا ہوا مشکل یہاں کتنا
قیمت بھی یہاں قبر کفن کی ہے گراں اور

خلقت بھی پریشاں ہے زمانے کے چلن سے
مخلوقِ خدا آج ہے نوحہ کناں اور

مشکل ہے بہت اُن کو سمجھنا بھی نوازاب
کچھ اور ہے زباں پہ مگر آنکھوں سے عیاں اور


 جناب محترم نواز صاحب
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

جنابِ عالی بہت خوب غزل سے نوازا ہے آپ نے میری جانب سے ڈھیروں داد آپ کی خدمت میں پیش ہے دوسرے آپ کی ذرا سی توجہ بھی چاہوں گا آپ نے
Zamanay ka Ghazal
جو لکھا ہے کا کو کی کر دیجیے
بلکہ اس سے بہتر ہے کسی مصرعے کو عنوان دیجیے
مزید برآں یہ کہ ایک شعر سمجھ نہیں سکا میں اس کی بُنَت کچھ پیچیدا ہے یا میری کم مائیگی آڑے آرہی ہے از راہِ کرم اس پر روشنی ڈالیے

اقتباس
وہ لوگ کہاں سنتے جو آواز طرب بھی
کہتا ہےیہ مجھ سےکوئی آواز فغاں اور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور دو اشعار میں ہلکی سے ردوبدل کیجیے تاکہ بہتری آئے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقتباس
خلقت بھی پریشاں ہے زمانے کے چلن سے
مخلوقِ خدا آج ہے نوحہ کناں اور


اس شعر میں دوسرے مصرعے میں لفظ ’’پھر‘‘ کا اضافہ کیجیے تاکہ روانی قائم ہو
اسے اس طرح کہیے


خلقت بھی پریشاں ہے زمانے کے چلن سے
مخلوقِ خدا آج ہے پھر نوحہ کناں اور


اور اگر میں غلطی کر رہا ہوں تو میری اصلاح فرمائیے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقتباس
مشکل ہے بہت اُن کو سمجھنا بھی نوازاب
کچھ اور ہے زباں پہ مگر آنکھوں سے عیاں اور


اس شعر کے دوسرے مصرعے میں لفظ ’’ پہ‘‘ کو ’’ پر ‘‘ باندھیے تا کہ دلکشی بڑھ جائے ویسے بھی ماہرین کا خیال ہے کہ ’’پہ‘‘ یکحرفی
 باندھا جاتا ہے یا باندھا جانا چاہیے
وللہ اعلم ابالصواب


مشکل ہے بہت اُن کو سمجھنا بھی نوازاب
کچھ اور ہے زباں پر مگر آنکھوں سے عیاں اور


بہر حال میری جاب سے ایک بار پھر ڈھیروں داد آپ کی نذر اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ
اپنا بہت خیال رکھیے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے

دعاگو
9
موجِ غزل / جواب: کیسے نہ اپنی جاں کو لٹاتا خوشی سے میں
« آخری تحریر منجانب nawaz بروز جون 20, 2017, 06:32:08 صبح »
محترم اسماعیل اعجاز سلامِ مسنون

خوبصورت اور سادہ قافیہ اورردیف میں خوبصورت
غزل پڑھ کر بہت لطف آیا، معنی  آفرینی  ہر شعر میں
نمایاں ہے داد حاضر ہے۔

اپنی خوشی سے آیا نہیں اس جہاں تُو
دنیا سے کیسے لوٹ کےجاتا خوشی سےمیں

اس شعر پرمجھے شیخ ابراہیم ذوق یاد آگئے،

لائی حیات آئی قضا لے چلی چلے
اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے

  سدا خوش رہئے        نواز
10
موجِ غزل / Fughan aur Ghazal
« آخری تحریر منجانب nawaz بروز جون 20, 2017, 06:05:56 صبح »
تمام احباب کو سلامِ مسنون

اپنی قیمتی آرا سے نوازئے غزل آپ کی خدمت میں

رک جا کہ خطرناک ہے رستہ بھی یہاں اور
مشکل ہے ترا ایک قدم بھی مری جاں اور

تو بات کرے یوں کہ کلیجہ مرانکلے
چلتی ہے نہیں کیوں تری نفرت کی زباں اور

وہ لوگ کہاں سنتے جو آواز طرب بھی
کہتا ہےیہ مجھ سےکوئی آواز فغاں اور

اب انساں کا مرنا ہوا مشکل یہاں کتنا
قیمت بھی یہاں قبر کفن کی ہے گراں اور

خلقت بھی پریشاں ہے زمانے کے چلن سے
مخلوقِ خدا آج ہے نوحہ کناں اور

مشکل ہے بہت اُن کو سمجھنا بھی نوازاب
کچھ اور ہے زباں پہ مگر آنکھوں سے عیاں اور
صفحات: [1] 2 3 ... 10
Copyright © اُردو انجمن