اُردو انجمن

 


تازہ تحریریں

صفحات: [1] 2 3 ... 10
1
موجِ غزل / جواب: جس پہ راضی یہ خلقِ خدا ہو گئی
« آخری تحریر منجانب Mushir Shamsi بروز اکتوبر 21, 2017, 01:58:48 شام »

محترمی افضل صاحب: السلام علیکم
آپ ایک مدت کے بعد اس بزم میں آئے ہیں۔ غزل کا شکریہ۔ آپ کو معلوم ہے کہ میں شاعر نہیں ہوں۔ اپنی سمجھ سے لکھ رہا ہوں۔ امید ہے کہ قبول کریں گے۔ کیا عجب کہ میں اپنے خیالات کی رو میں کوئی کام کی بات کہہ جائوں۔ شکریہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس پہ راضی یہ خلقِ خدا ہو گئی
اُس کو رحمت خدا کی عطا ہوگئی
یہ شعر اپنے معنی میں عجیب لگا۔ کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ سب لوگ کسی برائی پر یکجا ہوجائیں؟ ایسا تو اکثر ہوتا ہے تو پھر ان پر اللہ کی رحمت کیا معنی؟ شاید آپ نے کہیں یہ مصرع دیکھ لیا ہے اور اسے شعر کی صورت میں باندھ دیا ہے : زبان خلق کو نقارہءخدا سمجھو۔ گزارش ہے کہ شعر پر ایک نظر اور ڈال لیں۔ اور حسب ضرورت اصلاح کریں۔
کیوں نہ اب کے رہوں چاند پر جا کے میں
جبکہ سانسوں کی دشمن ہوا ہو گئی
یہ شعر بھی سمجھ میں نہیں آیا۔ ہوا کے سانسوں کا دشمن ہو جانا یعنی کیا؟ کیا ہوا کی قلت ہوگئی ہے ؟ تو چاند پر تو ہوا ہے ہی نہیں! از راہ کرم وضاحت کریں
اُس سے پوچھا ہی کیوں تھا کہ ناراض ہو
مجھ سے دنیا ہی ساری خفا ہو گئی
پہلا مصرع اپنی بناوٹ میں غلط ہے۔ اس کی نثر یہ ہے "اس سے یہ پوچھا ہی کیوں تھا کہ مجھ سے ناراض ہوجا" جب کہ آپ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ اس سے یہ پوچھا کہ مجھ سے کیوں ناراض ہو؟ اس شعر کی اصلاح بھی ضروری ہے۔
جس کو چھوتے رہے ایک تتلی کے پر
وہ کلی جانے پھر کیا سے کیا ہو گئی
شعر ٹھیک ہے لیکن ایک طرح سے بے معنی ہے کیونکہ کلی کو تتلی کے پر چھوئیں یا نہ چھوئیں وہ بہر حال پھول بنے گی۔ کیا خیال ہے آپ کا؟
میں نے اک شاخ پر ہی تھے تنکے رکھے
مجھ سے ہر شاخ ہی کیوں خفا ہو گئی
سمجھ میں نہ آیا کہ ہر شاخ کا آپ سے خفا ہوجانا کیا معنی رکھتا ہے؟ ازراہ کرم شعر کا مطلب واضح کر دیں۔
خضر لائے ہو آبِ بقا کس لیئے
جب یہ جاں جسم سے ہی جدا ہوگئی
خضر تو لوگوں کو راستا دکھاتے ہیں۔ آپ بقا کا ان سے کیا تعلق ہے؟ اگر آب بقا کے چشمہ تک رہنمائی مطلوب ہے تو شعر بدنے کی ضرورت ہے۔ گستاخی معاف!
کس نے کاٹے ہیں افضلؔ ترے بال و پر
ساری نغموں سے عاری فضا ہوگئی
یہ شعر بہت مبہم ہے افضل صاحب۔ ایک بار اور دیکھ لیجئے۔

خادم : مشیر شمسی
2
موجِ غزل / جواب: میں رودادِ دل مضطر سنا دوں پھر چلے جانا
« آخری تحریر منجانب Mushir Shamsi بروز اکتوبر 21, 2017, 01:24:24 شام »
میں رودادِ دل مضطر سنا دوں پھر چلے جانا

محترمی جناب برقی صاھب: سلام علیکم
مجھ کو یاد آتا ہے کہ آپ یہاں کافی دن پہلے آیا کرتے تھے۔ دوبارہ آپ کو اردو انجمن میں دیکھ کر بہت اچھا لگا۔ ساتھ ہی آپ کی خوبصورت غزل بھی دیکھی۔ شاید  اسی کو کہتے ہیں کہ "آم کے آم، گٹھلیوں کے دام"۔ آپ کے آنے سے یہاں کی رونق میں اضافہ ہو گیا۔ شکریہ۔
آپ کی غزل فنی لحاظ سے ہمیشہ کی طرح اچھی ہے یعنی سب اشعار موزوں ہیں، زبان و بیان اچھے ہیں اور غزل رواں دواں ہے۔ آپ فطری طور پر یہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ اشعار کہہ سکیں۔ یہ اللہ کا عطیہ ہے جو ہر ایک کو نہہیں ملتا ہے۔ دیکھئے میں نہ شاعر ہوں اور نہ ادیب۔ ہاں ادب کا شوقین ضرور ہوں۔ اس لئے میرا تبصرہ ایک غیر شاعر کا ہی تبصرہ ہے۔ آپ کی غزل کی صورت غزل مسلسل کی ہے یعنی ایک ہی مضمون پوری غزل میں باندھا گیا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ اس مضمون میں شعر در شعر یکسانیت ہے، کسی طرح کا تنوع یا ندرت خیال نہیں ہے۔ میری ناقص نائے میں مضامین سپاٹ ہیں اور ان میں کوئی درد، دلی کیفیت یا یاس کی صورت نظر نہیں آتی ہے۔ غزل میں اگر تاثر، تغزل اور شعریت کی کمی ہو تو پھر وہ قاری کا دل اپنی جانب نہیں کھینچ سکتی ہے۔ ایسا میرا خیال ہے۔ اگر میری کوئی بات گراں گزری ہے تو معذرت خواہ ہوں۔ جیسا میں نے محسوس کیا ویسا ہی لکھ دیا ہے۔ ممکن ہے کہ غلط ہو۔

خادم :  مشیر شمسی
3
اصلاحِ سُخن / غزل بغرض اصلاح
« آخری تحریر منجانب سرفرازاحمدسحر بروز اکتوبر 21, 2017, 02:08:55 صبح »
احباب انجمن السلام علیکم ورحمتہ اللہ

کچھ اشعار آپ احباب کی نذر
اصلاح کی درخواست ہے۔

دشمن تو مرے ہیں سرِبازار مخالف
احباب ہیں لیکن پسِ دیوار مخالف

لگتا ہے کہ قد کاٹھ نکل آیا ہے میرا
اب میرے بھی ہیں شہر میں دوچار مخالف

حق اُس کو امیری کا نہیں شہر کی ہرگز
جس شخص کے ہوں بے کس و لاچار مخالف

اُس پار ہیں جتنے بھی نشانے پہ مرے ہیں
میں اُن کے نشانے پہ جواِس پار مخالف

مظلوم کا ساتھی ہوں، میں مجبور کا ہمسر
سردار مخالف ہو کہ سالار مخالف
4
موجِ غزل / جس پہ راضی یہ خلقِ خدا ہو گئی
« آخری تحریر منجانب faypal بروز اکتوبر 20, 2017, 07:08:47 صبح »


جس پہ راضی یہ خلقِ خدا ہو گئی
اُس کو رحمت خدا کی عطا ہوگئی

کیوں نہ اب کے رہوں چاند پر جا کے میں
جبکہ سانسوں کی دشمن ہوا ہو گئی

اُس سے پوچھا ہی کیوں تھا کہ ناراض ہو
مجھ سے دنیا ہی ساری خفا ہو گئی

جس کو چھوتے رہے ایک تتلی کے پر
وہ کلی جانے پھر کیا سے کیا ہو گئی

میں نے اک شاخ پر ہی تھے تنکے رکھے
مجھ سے ہر شاخ ہی کیوں خفا ہو گئی

خضر لائے ہو آبِ بقا کس لیئے
جب یہ جاں جسم سے ہی جدا ہوگئی

کس نے کاٹے ہیں افضلؔ ترے بال و پر
ساری نغموں سے عاری فضا ہوگئی
5
موجِ غزل / میں رودادِ دل مضطر سنا دوں پھر چلے جانا
« آخری تحریر منجانب Barqi Aazmi بروز اکتوبر 19, 2017, 07:32:42 شام »
میں رودادِ دل مضطر سنا دوں پھر چلے جانا
6
موجِ غزل / ہو گئی
« آخری تحریر منجانب kafilahmed بروز اکتوبر 18, 2017, 10:54:15 شام »
 تمام محبان انجمن کو سلام

آپ کے تبصروں کی متمنی اک طرحی غزل حاضر ہے جو ایک طرحی مشاعری کے لئے لکھی گئی تھی۔

مجھ کو حاصل جب اس کی رضا ہوگئی
ساری دنیا گویا عطا ہو گئی
رہنما ہی کریں رہزنی صبح و شام
"ظلم کی آج کل انتہا ہوگئی"
یوں ہی آنا عیادت کو ان کا مرے
زندگی کے لئے اک دوا ہوگئی
ہر طرف کیوں ہیں نفرت کی چنگاریاں
کیا محبت بھی ہم سے خفا ہوگئی؟
گر بچھڑنے کا تجھ سے جو سوچوں بھی میں
یوں لگے جیسے دنیا فنا ہوگئی
شاخ سے پتوں کو ٹوٹتا دیکھ کر
پھر سے مغموم میری وفا ہو گئی
آج کے دورِ انسانیت میں کفیل
جینا بھی  یوں  سمجھئے   سزا ہو گئی
[/font]
7
موجِ غزل / جواب: کچھ دوست مہربان ہیں الفت کی راہ میں
« آخری تحریر منجانب nawaz بروز اکتوبر 18, 2017, 03:12:39 صبح »
محترم اسماعیل اعجاز صاحب سلامِ مسنون

آپ کے عمدہ کلام سے محظوظ ہوا اور
غزل پڑھتے ہوئے  اس شعر پر رک گیا
کہ یہ کس سے التیجا ہو رہی
تم جاتے جاتے دل بھی ہمارا ہو لے گئے
بے دل ہم انتظار میں بیٹھے ہیں راہ میں
اچھا شعرہے داد حاضر  ہے
اسی طرح انجمن کی رونق بحال رکھیں
 یہاں کچھ متفرق اشعار پیش ہیں بغرض مطالعہ

جس پر کسی کا طنز نہ تضحیک ہو گراں
ایسی شکن سے پاک جبیں چاہئے مجھے

زندگی کی راہیں اب پُر خطر ہیں اس درجہ
ٓٓٓآپ چل نہیں سکتے دو قدم یہاں تنہاں

یارانِ سخنداں کو دعا و سلام

8
موجِ غزل / جواب: کچھ دوست مہربان ہیں الفت کی راہ میں
« آخری تحریر منجانب Dr. Ahmad Nadeem Rafi بروز اکتوبر 14, 2017, 01:07:34 شام »
محترم اسماعیل اعجاز صاحب

آپ کی غزل پڑھ کی خوشی ہوئی۔ اس غزل کا معیار آپ کی تجرباتی غزلوں سے بہت بہتر ہے۔

اللہ دل رہے مرا تیری پناہ میں
کچھ دوست مہربان ہیں الفت کی راہ میں

مطلع بہت خوب ہے۔ دونوں مصرعے آپس میں مربوط ہیں۔ تغزل بھی ہے ۔ خیال بھی اچھا ہے-

کر کے خلوص و مہر و وفا جان و دل فدا
ہم معتبر نہ ہو سکے پھر بھی نگاہ میں

یہ شعر حاصل غزل ہے۔ خیال آرائی بھی ہے اور حسن بیان بھی- الفاظ کی درست نشست و برخاست نے ہر لفظ کو نگینے کی طرح اپنی اپنی جگہ پر جڑ دیا ہے۔ محنت کرنے سے ہر شعر کو نکھارا جا سکتا ہے۔

انسان آج کرتا ہے جو بھی بھلا بُرا
اعمال کل کو ہوں گے خود اپنے گواہ میں

اعمال عمل کی جمع ہے۔ لہذا اعمال آپ کے گواہوں میں تو ہو سکتے ہیں ‘ آپ کا گواہ نہیں ۔ شعر آپ کی مزید توجہ چاہتا ہے۔

خود اپنے آپ سے بھی ہو آزاد آدمی
اک کشمکش سی جاری ہے خود کی پناہ میں

خود کی پناہ کھٹک رہا ہے۔ شعر کو مزید بہتر بنایا جا سکتا  ہے۔

انسانیت کا قتل وہی کر رہے ہیں آج
انسانیت عظیم تھی جن کی نگاہ میں

خیال سے قطع نظر  شعر اپنی بنت میں مکمل ہے۔ کوئی لفظ فالتو یا بھرتی کا نہیں ۔ دونوں مصرعے مربوط ہیں۔

تم جاتے جاتے دل بھی ہمارا ہو لے گئے
بے دل ہم انتظار میں بیٹھے ہیں راہ میں

تعقید لفظی جتنی کم ہو، بہتر ہے۔ “ہمارا ہو لے گئے” سماعت پر گراں گزر رہا ہے۔ شعر میں بہتری کی گنجائش ہے۔ دوسرے مصرع میں “میں” کی تکرار بھی کھٹک رہی ہے۔


اپنی خودی جو کھوئی ، گئی آبرو خیالؔ
غرقاب یوں ندی ہوئی دریا کی چاہ میں

دوسرا مصرع بہت عمدہ ہے لیکن پہلا مصرع اس کے
مقابلے میں بہت کمزور ہے۔  آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں ، کم سے کم میری سمجھ سے بالا تر ہے۔

مخلص
احمد ندیم رفیع
9
موجِ غزل / جواب: ہمت بھی کہاں ہے کہ سہیں اور جفا اب
« آخری تحریر منجانب Zeeshan_Haider بروز اکتوبر 14, 2017, 02:04:28 صبح »
10
موجِ غزل / جواب: ہمت بھی کہاں ہے کہ سہیں اور جفا اب
« آخری تحریر منجانب Asadullah Khan بروز اکتوبر 14, 2017, 01:42:32 صبح »
بہت خوب۔
صفحات: [1] 2 3 ... 10
Copyright © اُردو انجمن