اُردو انجمن

 


تازہ تحریریں

صفحات: [1] 2 3 ... 10
1
موجِ غزل / جواب: تمہیں آئینہ دکھا کر کہو لاجواب کر دوں
« آخری تحریر منجانب سرور عالم راز بروز گزشتہ روز بوقت 09:37:49 صبح »

محترمی جناب خیال صاحب: سلام مسنون
غزل پر آپ کی اور مہر افروز صاحبہ کی دلچسپ گفتگو سے مستفید ہوا۔ آپ دونوں کا شکریہ۔
آپ نے کئی جگہ لکھا ہے کہ غزل میں آپ کا خطاب محبوبہ سے نہیں بلکہ ملک کے سیاسی "رہنما" سے ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب تک غزل میں کسی طرح اس کی نشاندہی آپ نہیں کرتے ہیں قاری کو کیسے معلوم ہوگا کہ آپ کا کیا مدعا ہے؟ یعنی غزل بغیر آپ کے وضاحتی نوٹ کے شدید ابہام کا شکار ہے۔ کیا خیال ہے آپ کا اس مسئلہ پر؟ راوی باقی سب چین بولتا ہے۔

سرورعالم راز

 جناب محترم سرور عالم راز سرور صاحب
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

جنابِ عالی میں سراپاء سپاس گزار ہوں کہ آپ نے محبت و عنایت سے نوازا ، آپ نے فرمایا ہے کہ میری غزل ابہام کا شکار ہے جی بجا فرما جیسا کہ غزل کی روایت ہے غزل کا مقصد ہے غزل کے معنی و مفہوم سے متعلق ہے تو آپ کی بات بجا ہے کہ بجائے محبوبہ کے کسی اور سے مخاطب ہوا جائے ، اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ جس کی محبوبہ نہیں ہے اسے غزل کہنے کا کوئی حق نہیں ہے گویا اس قدغن کا اطلاق ہر اس شخص پر ہوتا ہے جو بلامبالغہ بلا محبوبہ ہے گویا محبوبہ کے علاوہ محبوبہ پیمائی کرنا سراسر ناجائز ہے بدعتِ سخنوریہءغزلیہ ہے :) ، اب آپ ہی بتائیے
جائیں تو جائیں کہاں
سمجھے گا کون یہاں
درد بھرے
دل کی زباں
جائیں تو جائیں کہاں

ایک بات تو بتائیے مور کے پنکھ کی قلم بنا کر اسے روشنائی سے کسی چمڑے پر مراسلہ لکھنے والوں نے آہستہ آہستہ سرکنڈوں سے بنایا ہوا خوشخط قلم ایجاد کیا محبت نامہ چمڑے اور پتوں پر رقم ہونے کے بجائے کاغذ پر خوشنما بیل بوٹوں اور ہوش ربا محبت بھری تحریروں میں بدل گیا پھر ایک سے بڑھ کر ایک قلم وجود میں آیا کہنے والوں نے کہنے کا انداز بدل دیا سننے والوں نے سننے کا انداز بدل دیا گاؤ تکیوں سے ٹیک لگائے منہ میں پان کی گلوری رکھے واہ واہ سے رطب اللسان شائیقین اور گھنگرو کی چھنکار تبلے کی تھاپ پر کمر لچکا لچکا کر ٹھمکے لگا لگا کر ہوش اڑا اڑا کر غزل سنانے والی حسیناؤں کی جگہ مشاعرے منعقد کیے جانے لگے اسٹیج سجائے جانے لگے اور پھر مشاعرے مظاہرے ہوتے چلے گئے جو جتنا بڑا فنکار بنا اسے اتنا بڑا مظاہرہ اپنی فنکاری کا کرنا پڑا سبھی کا مرکزی نقطہ عورت رہی گویا آدم کا بیٹا عورت کے گرد گھومتا رہا ، لیکن پھر آہستہ آہستہ غزل کا رنگ تبدیل ہونے لگا عورت سے دھیان ہٹنے لگا بلکہ یوں کہیے بٹنے لگا کیوں غمِ جاناں کو غمِ دوراں نے پچھاڑنا شروع کر دیا آدمی اپنے حالات سے الجھنے لگا غزل میں سے عورت نکل گئی ضرورت گھس گئی ضرورت کے پیش نظر جو جو ضرورت کی مد میں آیا غزل میں شامل ہوتا چلا گیا بڑے بڑے شعرا عورت کے ہیر پھیر سے نکل کر حالاتِ حاضرہ سے راز و نیاز کی باتیں کرنے لگے گویا قدریں بدل گئیں زمانہ بدل گیا اظہارِ خیال بدل گیا انداز بدل گویا غزل غزل نہ رہی غزل بدل گئی مطلب غزل غزل نہیں غزل کا بدل ہے آج کل غزل کا زمانہ کم بدل کا زمانہ زیادہ ہے ایسے میں مجھ جیسا شخص جو ابھی سیکھنے کے مراحل سے گزر رہا ہے اور جس کا ارادہ کچھ بننے کا نہیں ہے صرف سیکھتے رہنے کا ہے وہ ابہام کا شکار ہے تو کیوں ہے

بہر حال آپ کی محبت و عنایت سر آنکھوں پر اللہ آپ کو سدا سلامت رکھے اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے اپنا بہت خیال رکھیے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے
دعاگو   


برادرم خیال صاحب: سلام مسنون
میں نے تو ایک سادا سا سوال پوچھا تھا۔ آپ نے بہت سی باتیں بتائیں لیکن سوال کا جواب نہیں ملا۔ کہنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ جب ایسے مضامیں غزل میں باندضے جاتے ہیں جیسے آپ نے درج کئے ہیں تو ان کا مخاطب محبوب یا محبوبہ ہوتے ہیں۔ اگر آپ کسی اور سے خطاب کرنا چاہیں تو غزل اس کی پوری اجازت دیتی ہے۔ صرف اس قدر وہ چاہتی ہے کہ اپنے مخاطب کا تعارف قاری سے کسی حیلے کر دیں تاکہ پڑھنے کے بعد شعر سمجھ میں آسکے۔ آپ نے شاید اپنا مخاطب نواز شریف کو فرض کیا ہے لیکن مجھ کو اور دوسرے پڑھنے والوں کو اس کا علم کیسے ہو؟ ہاں اگر آپ یہ صحیح سمجھتے ہیں کہ ہر شخص اپنے اپنے طور پر مخاطب فرض کر لے تو اور بات ہے لیکن پھر اس کے بعد آپ بحیثیت شاعر کہاں رہ جاتے ہیں؟ اس سوال کا اگر جواب یہی ابہام ہے تو کوئی مثال دیجئے جس میں ایسی صورت اختیار کی گئی ہو۔ میرا یقین ہے کہ آپ ایسا نہیں کر سکیں گے۔ ایک مثال دیکھئے۔ جب اقبال کہتے ہیں :
کبھی اے  حقیقت  منتظر! نظر آ  لباس  مجاز   میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں
تو ہرچند کہ علامہ نے اپنے مخاطب کا نام نہیں لیا ہے لیکن "لباس مجاز" اور "حقیقت منتظر" اور "سجدے" صاف اشارہ کرر ہے ہیں کہ مخاطب اللہ ہے۔ آپ ایسی ہی مثالیں اگر مختلف شاعروں کے یہاں سے لائیں گے تو وہاں بھی مخاطب کی جانب اشارہ غیر مبہم ہوگا۔ یہی آپ کو بھی کرنے کی ضرورت ہے۔
امید ہے کہ میں اپنا مطلب واضح کر سکا ہوں گا۔

سرورعالم راز

 جناب محترم سرور عالم راز صاحب

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

جنابِ عالی میں انتہائی معذرت خواہ ہوں میرا مقصد آپ کی دلآزاری ہر گز نہیں ہے میں نے اس غزل کو پیش کرتے وقت اس وضاحتی سرخی کو نہیں لگایا جس کی جانب آپ نے اشارہ فرمایا اصل میں میں نے ایسا قصداً کیا اس کی دو وجوہات ہیں پہلی تو یہی ہے کہ میں اکثر حالاتِ حاضرہ پر ہی لکھتا ہوں دوسرے یہیں اردو انجمن میں ایک معزز صاحب نے تادیباً ناگواری کا اظہارِ خیال فرمایا کہ مجھے اپنی تحریر پیش کرتے وقت وضاحتی سرخیاں لگانے کی قطعی ضرورت نہیں ہے کہ ایسا کرنا تحریر کی دلکشی میں مانع ہے ، بس اسی ڈر سے میں احتیاط کرتا ہوں کہ کوئی بات ایسی نہ لکھوں آپ اگر ایف بی پر میرے تخلیقات کا تواتر دیکھیں تو آپ ضرور مشاہدہ فرمائیں گے کہ تقریباً ہر شعر کی تخلیق کا سبب میں بیان کرتا ہوں اور اس شعر کو اس سے متعلق لوگوں کی نذر کرتا ہوں

میری کسی بات سے آپ کی دلآزاری مقصود نہیں میں نے تو غزل کے تغیرات کو حالات و واقعات سے جوڑا ہے ، میں جو کچھ بھی لکھتا ہوں اس میں زیادہ تر میرے ارد گرد کے حالات و واقعات کار فرما ہوتے ہیں
میں آپ سے مودبانہ معذرت خواہ ہوں کہ میں نے اگر پ کو سراسیمہ کیا
مجھے معاف فرمائیے
اللہ آپ کو دونوں جہانوں کی عزّتیں عطا فرمائے
اپنا بہت خیال رکھیے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے

دعاگو


عزیز مکرم خیال صاحبٖ :مسنون
آپ مطلق تردد نہ فرمائیں۔ نہ تو میری دلآزاری ہوئی ہے اور نہ ہی میں نے کسی بات کا برا مانا ہے۔ غزل میں شعر پر وضاحتی نوٹ لگانے کا دستور نہیں ہے۔ اگر ایسا ہو تو اول تو اس کا اثر ہی زائل ہوجائے اور دوئم حاشیوں کی ضخامت اشعار سے زیادہ ہوجائے گی! غزل کا تقاضا ہی یہ ہے کہ ہر شعر اپنے معنی خود ہی قاری کو بتادے۔ دوسری صورت میں (خاص طور سےجہاں سیاسی اشعار لکھے جائیں) نظم میں اظہار خیال بہتر ہے۔ خیر، جہاں تک فیس بک کا تعلق ہے وہ دنیا ہی دوسری ہے، اس کا ادبی دنیا سے بہت کم تعلق ہے۔ میں وہاں ویسے بھی خال خال ہی جاتا ہوں۔ کبھی جانا ہوا تو آپ کے کلام سے استفادہ کی کوشش کروں گا۔

سرورعالم راز
2
رنگِ سُخن / سب جانتے ہیں
« آخری تحریر منجانب dr maqsood hasni بروز گزشتہ روز بوقت 09:19:40 صبح »
سب جانتے ہیں

یہ بتانے کی ضرورت نہیں
ہم کیوں زندہ ہیں
ہر چھوٹے کو
بڑے کے لیے
زندہ رہنا پڑتا ہے
اس کی بھینس
بھوک سے نہ مر جائے
ناشتے کے میز پر
گرد نہ جم جائے
اس کا بچہ
گھڑ سواری کا شوق رکھتا ہے
اور یہ بھی کہ
سرد راتوں میں
اس کے بستر پر
کون سوئے گا
اب تو
 چپ کی گرہ
تنگ ہو چلی ہے
پھر بھی
چپ کو
چپ سی لگ گئی ہے
مرے خیال میں
اس کی درندگی کا
کوئی درندہ
متحمل نہیں ہو سکتا
سب جانتے ہیں
بتانے کی ضرورت نہیں
ہم کیوں زندہ ہیں
اوٹ سے ١٩٩٣ ص١٩
3
رنگِ سُخن / تقاضا
« آخری تحریر منجانب dr maqsood hasni بروز گزشتہ روز بوقت 04:23:08 صبح »

تقاضا


کم زور جیون
سانپ سے ڈرتا ہے
 سب سانپ
زہریلے نہیں ہوتے
زہریلے سانپ
شاہ ہو کہ شاہ والے
اپنی آستینوں میں پالتے ہیں
بےضرر سانپوں کا سر
اس لیے کچلتے ہیں
کہ سانپ کا ہوا باقی رہے
زہریلے سانپوں کو
ناز پلی بھینسوں کا
دودھ پلاتے ہیں
کہ کم زور جیون
کونے میں دبکا رہے
اور وہ اس کی محنت سے
عشرت کے تاج محل
تعمیر کرتے رہیں
خیر قصور ان کا بھی نہیں
عشرت کا تقاضا یہ ہی ہے
4
رنگِ سُخن / جواب: زیادہ تر
« آخری تحریر منجانب dr maqsood hasni بروز گزشتہ روز بوقت 04:21:16 صبح »
tovajo ke liay dil o jan sy ehsan'mand hoon
Allah aap ko khush rakhe
5
موجِ غزل / جواب: تمہیں آئینہ دکھا کر کہو لاجواب کر دوں
« آخری تحریر منجانب Ismaa'eel Aijaaz بروز اگست 21, 2017, 11:43:01 شام »

محترمی جناب خیال صاحب: سلام مسنون
غزل پر آپ کی اور مہر افروز صاحبہ کی دلچسپ گفتگو سے مستفید ہوا۔ آپ دونوں کا شکریہ۔
آپ نے کئی جگہ لکھا ہے کہ غزل میں آپ کا خطاب محبوبہ سے نہیں بلکہ ملک کے سیاسی "رہنما" سے ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب تک غزل میں کسی طرح اس کی نشاندہی آپ نہیں کرتے ہیں قاری کو کیسے معلوم ہوگا کہ آپ کا کیا مدعا ہے؟ یعنی غزل بغیر آپ کے وضاحتی نوٹ کے شدید ابہام کا شکار ہے۔ کیا خیال ہے آپ کا اس مسئلہ پر؟ راوی باقی سب چین بولتا ہے۔

سرورعالم راز

 جناب محترم سرور عالم راز سرور صاحب
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

جنابِ عالی میں سراپاء سپاس گزار ہوں کہ آپ نے محبت و عنایت سے نوازا ، آپ نے فرمایا ہے کہ میری غزل ابہام کا شکار ہے جی بجا فرما جیسا کہ غزل کی روایت ہے غزل کا مقصد ہے غزل کے معنی و مفہوم سے متعلق ہے تو آپ کی بات بجا ہے کہ بجائے محبوبہ کے کسی اور سے مخاطب ہوا جائے ، اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ جس کی محبوبہ نہیں ہے اسے غزل کہنے کا کوئی حق نہیں ہے گویا اس قدغن کا اطلاق ہر اس شخص پر ہوتا ہے جو بلامبالغہ بلا محبوبہ ہے گویا محبوبہ کے علاوہ محبوبہ پیمائی کرنا سراسر ناجائز ہے بدعتِ سخنوریہءغزلیہ ہے :) ، اب آپ ہی بتائیے
جائیں تو جائیں کہاں
سمجھے گا کون یہاں
درد بھرے
دل کی زباں
جائیں تو جائیں کہاں

ایک بات تو بتائیے مور کے پنکھ کی قلم بنا کر اسے روشنائی سے کسی چمڑے پر مراسلہ لکھنے والوں نے آہستہ آہستہ سرکنڈوں سے بنایا ہوا خوشخط قلم ایجاد کیا محبت نامہ چمڑے اور پتوں پر رقم ہونے کے بجائے کاغذ پر خوشنما بیل بوٹوں اور ہوش ربا محبت بھری تحریروں میں بدل گیا پھر ایک سے بڑھ کر ایک قلم وجود میں آیا کہنے والوں نے کہنے کا انداز بدل دیا سننے والوں نے سننے کا انداز بدل دیا گاؤ تکیوں سے ٹیک لگائے منہ میں پان کی گلوری رکھے واہ واہ سے رطب اللسان شائیقین اور گھنگرو کی چھنکار تبلے کی تھاپ پر کمر لچکا لچکا کر ٹھمکے لگا لگا کر ہوش اڑا اڑا کر غزل سنانے والی حسیناؤں کی جگہ مشاعرے منعقد کیے جانے لگے اسٹیج سجائے جانے لگے اور پھر مشاعرے مظاہرے ہوتے چلے گئے جو جتنا بڑا فنکار بنا اسے اتنا بڑا مظاہرہ اپنی فنکاری کا کرنا پڑا سبھی کا مرکزی نقطہ عورت رہی گویا آدم کا بیٹا عورت کے گرد گھومتا رہا ، لیکن پھر آہستہ آہستہ غزل کا رنگ تبدیل ہونے لگا عورت سے دھیان ہٹنے لگا بلکہ یوں کہیے بٹنے لگا کیوں غمِ جاناں کو غمِ دوراں نے پچھاڑنا شروع کر دیا آدمی اپنے حالات سے الجھنے لگا غزل میں سے عورت نکل گئی ضرورت گھس گئی ضرورت کے پیش نظر جو جو ضرورت کی مد میں آیا غزل میں شامل ہوتا چلا گیا بڑے بڑے شعرا عورت کے ہیر پھیر سے نکل کر حالاتِ حاضرہ سے راز و نیاز کی باتیں کرنے لگے گویا قدریں بدل گئیں زمانہ بدل گیا اظہارِ خیال بدل گیا انداز بدل گویا غزل غزل نہ رہی غزل بدل گئی مطلب غزل غزل نہیں غزل کا بدل ہے آج کل غزل کا زمانہ کم بدل کا زمانہ زیادہ ہے ایسے میں مجھ جیسا شخص جو ابھی سیکھنے کے مراحل سے گزر رہا ہے اور جس کا ارادہ کچھ بننے کا نہیں ہے صرف سیکھتے رہنے کا ہے وہ ابہام کا شکار ہے تو کیوں ہے

بہر حال آپ کی محبت و عنایت سر آنکھوں پر اللہ آپ کو سدا سلامت رکھے اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے اپنا بہت خیال رکھیے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے
دعاگو   


برادرم خیال صاحب: سلام مسنون
میں نے تو ایک سادا سا سوال پوچھا تھا۔ آپ نے بہت سی باتیں بتائیں لیکن سوال کا جواب نہیں ملا۔ کہنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ جب ایسے مضامیں غزل میں باندضے جاتے ہیں جیسے آپ نے درج کئے ہیں تو ان کا مخاطب محبوب یا محبوبہ ہوتے ہیں۔ اگر آپ کسی اور سے خطاب کرنا چاہیں تو غزل اس کی پوری اجازت دیتی ہے۔ صرف اس قدر وہ چاہتی ہے کہ اپنے مخاطب کا تعارف قاری سے کسی حیلے کر دیں تاکہ پڑھنے کے بعد شعر سمجھ میں آسکے۔ آپ نے شاید اپنا مخاطب نواز شریف کو فرض کیا ہے لیکن مجھ کو اور دوسرے پڑھنے والوں کو اس کا علم کیسے ہو؟ ہاں اگر آپ یہ صحیح سمجھتے ہیں کہ ہر شخص اپنے اپنے طور پر مخاطب فرض کر لے تو اور بات ہے لیکن پھر اس کے بعد آپ بحیثیت شاعر کہاں رہ جاتے ہیں؟ اس سوال کا اگر جواب یہی ابہام ہے تو کوئی مثال دیجئے جس میں ایسی صورت اختیار کی گئی ہو۔ میرا یقین ہے کہ آپ ایسا نہیں کر سکیں گے۔ ایک مثال دیکھئے۔ جب اقبال کہتے ہیں :
کبھی اے  حقیقت  منتظر! نظر آ  لباس  مجاز   میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں
تو ہرچند کہ علامہ نے اپنے مخاطب کا نام نہیں لیا ہے لیکن "لباس مجاز" اور "حقیقت منتظر" اور "سجدے" صاف اشارہ کرر ہے ہیں کہ مخاطب اللہ ہے۔ آپ ایسی ہی مثالیں اگر مختلف شاعروں کے یہاں سے لائیں گے تو وہاں بھی مخاطب کی جانب اشارہ غیر مبہم ہوگا۔ یہی آپ کو بھی کرنے کی ضرورت ہے۔
امید ہے کہ میں اپنا مطلب واضح کر سکا ہوں گا۔

سرورعالم راز

 جناب محترم سرور عالم راز صاحب

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

جنابِ عالی میں انتہائی معذرت خواہ ہوں میرا مقصد آپ کی دلآزاری ہر گز نہیں ہے میں نے اس غزل کو پیش کرتے وقت اس وضاحتی سرخی کو نہیں لگایا جس کی جانب آپ نے اشارہ فرمایا اصل میں میں نے ایسا قصداً کیا اس کی دو وجوہات ہیں پہلی تو یہی ہے کہ میں اکثر حالاتِ حاضرہ پر ہی لکھتا ہوں دوسرے یہیں اردو انجمن میں ایک معزز صاحب نے تادیباً ناگواری کا اظہارِ خیال فرمایا کہ مجھے اپنی تحریر پیش کرتے وقت وضاحتی سرخیاں لگانے کی قطعی ضرورت نہیں ہے کہ ایسا کرنا تحریر کی دلکشی میں مانع ہے ، بس اسی ڈر سے میں احتیاط کرتا ہوں کہ کوئی بات ایسی نہ لکھوں آپ اگر ایف بی پر میرے تخلیقات کا تواتر دیکھیں تو آپ ضرور مشاہدہ فرمائیں گے کہ تقریباً ہر شعر کی تخلیق کا سبب میں بیان کرتا ہوں اور اس شعر کو اس سے متعلق لوگوں کی نذر کرتا ہوں

میری کسی بات سے آپ کی دلآزاری مقصود نہیں میں نے تو غزل کے تغیرات کو حالات و واقعات سے جوڑا ہے ، میں جو کچھ بھی لکھتا ہوں اس میں زیادہ تر میرے ارد گرد کے حالات و واقعات کار فرما ہوتے ہیں
میں آپ سے مودبانہ معذرت خواہ ہوں کہ میں نے اگر پ کو سراسیمہ کیا
مجھے معاف فرمائیے
اللہ آپ کو دونوں جہانوں کی عزّتیں عطا فرمائے
اپنا بہت خیال رکھیے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے

دعاگو
6
موجِ غزل / جواب: تمہیں آئینہ دکھا کر کہو لاجواب کر دوں
« آخری تحریر منجانب سرور عالم راز بروز اگست 21, 2017, 10:51:39 شام »

محترمی جناب خیال صاحب: سلام مسنون
غزل پر آپ کی اور مہر افروز صاحبہ کی دلچسپ گفتگو سے مستفید ہوا۔ آپ دونوں کا شکریہ۔
آپ نے کئی جگہ لکھا ہے کہ غزل میں آپ کا خطاب محبوبہ سے نہیں بلکہ ملک کے سیاسی "رہنما" سے ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب تک غزل میں کسی طرح اس کی نشاندہی آپ نہیں کرتے ہیں قاری کو کیسے معلوم ہوگا کہ آپ کا کیا مدعا ہے؟ یعنی غزل بغیر آپ کے وضاحتی نوٹ کے شدید ابہام کا شکار ہے۔ کیا خیال ہے آپ کا اس مسئلہ پر؟ راوی باقی سب چین بولتا ہے۔

سرورعالم راز

 جناب محترم سرور عالم راز سرور صاحب
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

جنابِ عالی میں سراپاء سپاس گزار ہوں کہ آپ نے محبت و عنایت سے نوازا ، آپ نے فرمایا ہے کہ میری غزل ابہام کا شکار ہے جی بجا فرما جیسا کہ غزل کی روایت ہے غزل کا مقصد ہے غزل کے معنی و مفہوم سے متعلق ہے تو آپ کی بات بجا ہے کہ بجائے محبوبہ کے کسی اور سے مخاطب ہوا جائے ، اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ جس کی محبوبہ نہیں ہے اسے غزل کہنے کا کوئی حق نہیں ہے گویا اس قدغن کا اطلاق ہر اس شخص پر ہوتا ہے جو بلامبالغہ بلا محبوبہ ہے گویا محبوبہ کے علاوہ محبوبہ پیمائی کرنا سراسر ناجائز ہے بدعتِ سخنوریہءغزلیہ ہے :) ، اب آپ ہی بتائیے
جائیں تو جائیں کہاں
سمجھے گا کون یہاں
درد بھرے
دل کی زباں
جائیں تو جائیں کہاں

ایک بات تو بتائیے مور کے پنکھ کی قلم بنا کر اسے روشنائی سے کسی چمڑے پر مراسلہ لکھنے والوں نے آہستہ آہستہ سرکنڈوں سے بنایا ہوا خوشخط قلم ایجاد کیا محبت نامہ چمڑے اور پتوں پر رقم ہونے کے بجائے کاغذ پر خوشنما بیل بوٹوں اور ہوش ربا محبت بھری تحریروں میں بدل گیا پھر ایک سے بڑھ کر ایک قلم وجود میں آیا کہنے والوں نے کہنے کا انداز بدل دیا سننے والوں نے سننے کا انداز بدل دیا گاؤ تکیوں سے ٹیک لگائے منہ میں پان کی گلوری رکھے واہ واہ سے رطب اللسان شائیقین اور گھنگرو کی چھنکار تبلے کی تھاپ پر کمر لچکا لچکا کر ٹھمکے لگا لگا کر ہوش اڑا اڑا کر غزل سنانے والی حسیناؤں کی جگہ مشاعرے منعقد کیے جانے لگے اسٹیج سجائے جانے لگے اور پھر مشاعرے مظاہرے ہوتے چلے گئے جو جتنا بڑا فنکار بنا اسے اتنا بڑا مظاہرہ اپنی فنکاری کا کرنا پڑا سبھی کا مرکزی نقطہ عورت رہی گویا آدم کا بیٹا عورت کے گرد گھومتا رہا ، لیکن پھر آہستہ آہستہ غزل کا رنگ تبدیل ہونے لگا عورت سے دھیان ہٹنے لگا بلکہ یوں کہیے بٹنے لگا کیوں غمِ جاناں کو غمِ دوراں نے پچھاڑنا شروع کر دیا آدمی اپنے حالات سے الجھنے لگا غزل میں سے عورت نکل گئی ضرورت گھس گئی ضرورت کے پیش نظر جو جو ضرورت کی مد میں آیا غزل میں شامل ہوتا چلا گیا بڑے بڑے شعرا عورت کے ہیر پھیر سے نکل کر حالاتِ حاضرہ سے راز و نیاز کی باتیں کرنے لگے گویا قدریں بدل گئیں زمانہ بدل گیا اظہارِ خیال بدل گیا انداز بدل گویا غزل غزل نہ رہی غزل بدل گئی مطلب غزل غزل نہیں غزل کا بدل ہے آج کل غزل کا زمانہ کم بدل کا زمانہ زیادہ ہے ایسے میں مجھ جیسا شخص جو ابھی سیکھنے کے مراحل سے گزر رہا ہے اور جس کا ارادہ کچھ بننے کا نہیں ہے صرف سیکھتے رہنے کا ہے وہ ابہام کا شکار ہے تو کیوں ہے

بہر حال آپ کی محبت و عنایت سر آنکھوں پر اللہ آپ کو سدا سلامت رکھے اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے اپنا بہت خیال رکھیے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے
دعاگو   


برادرم خیال صاحب: سلام مسنون
میں نے تو ایک سادا سا سوال پوچھا تھا۔ آپ نے بہت سی باتیں بتائیں لیکن سوال کا جواب نہیں ملا۔ کہنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ جب ایسے مضامیں غزل میں باندضے جاتے ہیں جیسے آپ نے درج کئے ہیں تو ان کا مخاطب محبوب یا محبوبہ ہوتے ہیں۔ اگر آپ کسی اور سے خطاب کرنا چاہیں تو غزل اس کی پوری اجازت دیتی ہے۔ صرف اس قدر وہ چاہتی ہے کہ اپنے مخاطب کا تعارف قاری سے کسی حیلے کر دیں تاکہ پڑھنے کے بعد شعر سمجھ میں آسکے۔ آپ نے شاید اپنا مخاطب نواز شریف کو فرض کیا ہے لیکن مجھ کو اور دوسرے پڑھنے والوں کو اس کا علم کیسے ہو؟ ہاں اگر آپ یہ صحیح سمجھتے ہیں کہ ہر شخص اپنے اپنے طور پر مخاطب فرض کر لے تو اور بات ہے لیکن پھر اس کے بعد آپ بحیثیت شاعر کہاں رہ جاتے ہیں؟ اس سوال کا اگر جواب یہی ابہام ہے تو کوئی مثال دیجئے جس میں ایسی صورت اختیار کی گئی ہو۔ میرا یقین ہے کہ آپ ایسا نہیں کر سکیں گے۔ ایک مثال دیکھئے۔ جب اقبال کہتے ہیں :
کبھی اے  حقیقت  منتظر! نظر آ  لباس  مجاز   میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں
تو ہرچند کہ علامہ نے اپنے مخاطب کا نام نہیں لیا ہے لیکن "لباس مجاز" اور "حقیقت منتظر" اور "سجدے" صاف اشارہ کرر ہے ہیں کہ مخاطب اللہ ہے۔ آپ ایسی ہی مثالیں اگر مختلف شاعروں کے یہاں سے لائیں گے تو وہاں بھی مخاطب کی جانب اشارہ غیر مبہم ہوگا۔ یہی آپ کو بھی کرنے کی ضرورت ہے۔
امید ہے کہ میں اپنا مطلب واضح کر سکا ہوں گا۔

سرورعالم راز
7
Test Board / " ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺯﻧﺪﮔﯽ " ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ؟"
« آخری تحریر منجانب Ismaa'eel Aijaaz بروز اگست 21, 2017, 10:26:37 شام »

ﺍﯾﮏ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﺑﺎﭖ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ " .. بابا ! ﯾﮧ " ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺯﻧﺪﮔﯽ " ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ؟"
باپ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﭘﺘﻨﮓ ﺍﮌﺍﻧﮯ ﻟﮯ ﮔیا .. ﺑﯿﭩﺎ ﺑﺎﭖ ﮐﻮ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﭘﺘﻨﮓ ﺍﮌﺍﺗﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ تھا .. ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺑﯿﭩﺎ ﺑﻮﻻ .. "بابا ! ﯾﮧ ﺩﮬﺎﮔﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﭘﺘﻨﮓ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎ ﭘﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ .. ﮐﯿﺎ ﮨﻢ ﺍﺳﮯ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﮟ ..؟ ﯾﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ "..باپ ﻧﮯ ﺩﮬﺎﮔﮧ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﺎ.. ﭘﺘﻨﮓ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻟﮩﺮﺍ ﮐﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺍﻧﺠﺎﻥ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮔﺮ ﮔﺌﯽ .. ﺗﺐ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﻓﻠﺴﻔﮧ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ .. " ﺑﯿﭩﺎ ! ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﺟﺲ ﺍﻭﻧﭽﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﮨﯿﮟ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺟﻦ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺑﻨﺪﮬﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ'ﻭﮦ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺭﻭﮎ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﯿﺴﮯ ﮔﮭﺮ , ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ , ﻧﻈﻢ ﻭ ﺿﺒﻂ , ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ..
ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﯽ ﻭﮦ ﺩﮬﺎﮔﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﺱ ﺍﻭﻧﭽﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﺑﻨﺎ ﮐﮯ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ .. ﺍﻥ ﺩﮬﺎﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮨﻢ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺗﻮ ﺍﻭﭘﺮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻭﮨﯽ ﺣﺸﺮ ﮨﻮﮔﺎ ﺟﻮ بغیر ﺩﮬﺎﮔﮯ ﮐﯽ ﭘﺘﻨﮓ ﮐﺎ ﮨﻮﺍ ..ﻟﮩﺬﺍ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺑﻠﻨﺪﯾﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﻨﮯ ﺭﮨﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﺩﮬﺎﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺭﺷﺘﮧ ﻣﺖ ﺗﻮﮌﻧﺎ ..ﺩﮬﺎﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﺘﻨﮓ ﺟﯿﺴﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﮐﮯ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺗﻮﺍﺯﻥ ﺳﮯ ﻣﻠﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﻧﭽﺎﺋﯽ ﮐﻮ ﮨﯽ "ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺯﻧﺪﮔﯽ " ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﯿﭩﺎ..

منقول
8
موجِ غزل / جواب: تمہیں آئینہ دکھا کر کہو لاجواب کر دوں
« آخری تحریر منجانب Ismaa'eel Aijaaz بروز اگست 21, 2017, 09:52:40 شام »

محترمی جناب خیال صاحب: سلام مسنون
غزل پر آپ کی اور مہر افروز صاحبہ کی دلچسپ گفتگو سے مستفید ہوا۔ آپ دونوں کا شکریہ۔
آپ نے کئی جگہ لکھا ہے کہ غزل میں آپ کا خطاب محبوبہ سے نہیں بلکہ ملک کے سیاسی "رہنما" سے ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب تک غزل میں کسی طرح اس کی نشاندہی آپ نہیں کرتے ہیں قاری کو کیسے معلوم ہوگا کہ آپ کا کیا مدعا ہے؟ یعنی غزل بغیر آپ کے وضاحتی نوٹ کے شدید ابہام کا شکار ہے۔ کیا خیال ہے آپ کا اس مسئلہ پر؟ راوی باقی سب چین بولتا ہے۔

سرورعالم راز

 جناب محترم سرور عالم راز سرور صاحب
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

جنابِ عالی میں سراپاء سپاس گزار ہوں کہ آپ نے محبت و عنایت سے نوازا ، آپ نے فرمایا ہے کہ میری غزل ابہام کا شکار ہے جی بجا فرمایا جیسا کہ غزل کی روایت ہے غزل کا مقصد ہے غزل کے معنی و مفہوم سے متعلق ہے تو آپ کی بات بجا ہے کہ بجائے محبوبہ کے کسی اور سے مخاطب ہوا جائے ، اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ جس کی محبوبہ نہیں ہے اسے غزل کہنے کا کوئی حق نہیں ہے گویا اس قدغن کا اطلاق ہر اس شخص پر ہوتا ہے جو بلامبالغہ بلا محبوبہ ہے گویا محبوبہ کے علاوہ محبوبہ پیمائی کرنا سراسر ناجائز ہے بدعتِ سخنوریہءغزلیہ ہے :) ، اب آپ ہی بتائیے
جائیں تو جائیں کہاں
سمجھے گا کون یہاں
درد بھرے
دل کی زباں
جائیں تو جائیں کہاں

ایک بات تو بتائیے مور کے پنکھ کی قلم بنا کر اسے روشنائی سے کسی چمڑے پر مراسلہ لکھنے والوں نے آہستہ آہستہ سرکنڈوں سے بنایا ہوا خوشخط قلم ایجاد کیا محبت نامہ چمڑے اور پتوں پر رقم ہونے کے بجائے کاغذ پر خوشنما بیل بوٹوں اور ہوش ربا محبت بھری تحریروں میں بدل گیا پھر ایک سے بڑھ کر ایک قلم وجود میں آیا کہنے والوں نے کہنے کا انداز بدل دیا سننے والوں نے سننے کا انداز بدل دیا گاؤ تکیوں سے ٹیک لگائے منہ میں پان کی گلوری رکھے واہ واہ سے رطب اللسان شائیقین اور گھنگرو کی چھنکار طبلے کی تھاپ پر کمر لچکا لچکا کر ٹھمکے لگا لگا کر ہوش اڑا اڑا کر غزل سنانے والی حسیناؤں کی جگہ مشاعرے منعقد کیے جانے لگے اسٹیج سجائے جانے لگے اور پھر مشاعرے مظاہرے ہوتے چلے گئے جو جتنا بڑا فنکار بنا اسے اتنا بڑا مظاہرہ اپنی فنکاری کا کرنا پڑا سبھی کا مرکزی نقطہ عورت رہی گویا آدم کا بیٹا عورت کے گرد گھومتا رہا  جب کہ آج کل تو معاملہ ہی حیرتوں کا ہے قدم قدم پر نت نیا انداز جسے کمپیوٹر اور سیل فون نے ساری کائنات کو مٹھی میں بند کر دیا صدیوں کے قصے لمحوں کی رسائی محبوبہ شرماتی بل کھاتی دل کو گدگداتی رجھاتی لبھاتی مسکاتی اٹھلاتی حیا کی چادر اتار کر باہر نکل آئی اور جو جتنی بے حیا ہوئی اسے اتنی پذیرائی ملی جس نے محبوب کے بجائے محبوب کے دوستوں کو رجھایا لبھایا اسے معاشرے میں اتنا سراہا گیا اس نے محفلوں کو گرمایا عورت تجارتی ہو گئی محبت سودےبازی ہو گئی عشق کا سودا ہو گیا عورت کی قیمت لگنے لگی عورت کے تقاضے پورے کرنے والا نام نہاد عاشق جو ایک آواز پر چاند سے ستارے توڑ لانے کا دعویدار تھا حالات کی چکی میں پسنے لگا جینا مشکل ہو گیا محبت آسائش و آرام کی بھینٹ چڑھ گئی ، ایسے میں آہستہ آہستہ غزل کا رنگ تبدیل ہونے لگا عورت سے دھیان ہٹنے لگا بلکہ یوں کہیے بٹنے لگا کیوں غمِ جاناں کو غمِ دوراں نے پچھاڑنا شروع کر دیا آدمی اپنے حالات سے الجھنے لگا غزل میں سے عورت نکل گئی ضرورت گھس گئی ضرورت کے پیش نظر جو جو ضرورت کی مد میں آیا غزل میں شامل ہوتا چلا گیا بڑے بڑے شعرا عورت کے ہیر پھیر سے نکل کر حالاتِ حاضرہ سے راز و نیاز کی باتیں کرنے لگے گویا قدریں بدل گئیں زمانہ بدل گیا اظہارِ خیال بدل گیا انداز بدل گیا غزل غزل نہ رہی غزل بدل گئی مطلب غزل غزل نہیں ہے غزل کا بدل ہے آج کل غزل کا زمانہ کم بدل کا زمانہ زیادہ ہے ایسے میں مجھ جیسا شخص جو ابھی سیکھنے کے مراحل سے گزر رہا ہے اور جس کا ارادہ کچھ بننے کا نہیں ہے صرف سیکھتے رہنے کا ہے وہ ابہام کا شکار ہے تو کیوں ہے

بہر حال آپ کی محبت و عنایت سر آنکھوں پر اللہ آپ کو سدا سلامت رکھے اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے اپنا بہت خیال رکھیے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے
دعاگو   
9
موجِ غزل / جواب: تمہیں آئینہ دکھا کر کہو لاجواب کر دوں
« آخری تحریر منجانب سرور عالم راز بروز اگست 21, 2017, 02:32:21 شام »

محترمی جناب خیال صاحب: سلام مسنون
غزل پر آپ کی اور مہر افروز صاحبہ کی دلچسپ گفتگو سے مستفید ہوا۔ آپ دونوں کا شکریہ۔
آپ نے کئی جگہ لکھا ہے کہ غزل میں آپ کا خطاب محبوبہ سے نہیں بلکہ ملک کے سیاسی "رہنما" سے ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب تک غزل میں کسی طرح اس کی نشاندہی آپ نہیں کرتے ہیں قاری کو کیسے معلوم ہوگا کہ آپ کا کیا مدعا ہے؟ یعنی غزل بغیر آپ کے وضاحتی نوٹ کے شدید ابہام کا شکار ہے۔ کیا خیال ہے آپ کا اس مسئلہ پر؟ راوی باقی سب چین بولتا ہے۔

سرورعالم راز
10
موجِ غزل / جواب: تمہیں آئینہ دکھا کر کہو لاجواب کر دوں
« آخری تحریر منجانب Ismaa'eel Aijaaz بروز اگست 21, 2017, 03:50:17 صبح »

محترمی خیال صاحب: سلام علیکم
آپ کے کلام کا انتظار رہا کرتا ہے۔ پچھلی غزل پر گفتگو ہوئی تھی لیکن خدا جانے کیوں کھل کر تبادلہءخیال نہیں ہوا۔ یہ نئی غزل واقعی نئی ہے۔ پڑھ کر آپ کی محنت اور قادرالکلامی کا احساس دوچند ہوگیا۔ انجمن کی رونق آپ سے ہی قائم ہے۔ دوسرے احباب اتنی پابندی سے نہیں آتے ہیں لیکن آپ پامردی سے یہاں اپنا سکہ جمائے ہوئے ہیں۔ ماشااللہ! دعا ہے کہ آپ کی یہ استقامت اسی طرح ہمارے لئے چراغ راہ بنی رہے۔ آمین۔
زیر نظر غزل کی زمین بہت منفرد ہے۔ "کردوں" ردیف نے شاعر کے لئے جہاں میدان فکرکھولا ہے وہیں اس پر کئی راہیں مسدود بھی کردی ہیں اوراس زمین سے نمٹنا ایک مہم بن گیا ہے۔ آپ کی ہمت اور ایک کامیاب غزل پر داد پیش کرتی ہوں۔ ساتھ ہی دو چار باتیں عرض کرنے کی اجازت بھی چاہتی ہوں۔ شکریہ۔

محترمہ مہر افروز صاحبہ
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
میرے لیے انتہائی خوشی کا مقام ہے کہ آپ کو میری ادنیٰ کاوشات کا انتظار رہتا ہے اور آپ انہیں نہ صرف شوق سے پڑھتی ہیں بلکہ اپنی قیمتی بے باک بے لوث آرا سے بھی نوازتی ہیں جن سے مجھے بڑا فائدہ ہوتا ہے مجھے اپنے بارے میں خوش فہمیاں غلط فہمیاں یا جو بھی رائے میں خود سے اپنے بارے میں قائم کرتا ہوں ان کی تصحیح ہو جاتی ہے اصل تصویر واضح ہوتی ہے آپ مجھ سے میری ملاقات کروا دیتیں ہیں اور یہ بڑا نیکی کا کام ہے ، اللہ جانے اپنی تلاش میں کہاں کہاں بھٹکنا پڑتا اللہ آپ کا بھلا کرے جلد ہی مجھے مجھ سے ملوا دیتی ہیں ، اللہ آپ کو سدا ہنستا مسکراتا رکھے بہت عنایت ہے آپ کی ذرّہ نوازی ہے آپ کی

آپ نے میری تحریر پر اپنی قیمتی آرا کے اظہار خیال کے لیے اجازت طلب فرمائی ہے ، کیوں نہیں ضرور بالضرور

بسم اللہ کیجیے

اقتباس
ترے سامنے جو دل کی یہ کھلی کتاب کر دوں
کہیں دل کے توڑنے کا نہ میں ارتکاب کر دوں
شعر اپنے معنی میں بالکل صاف اور بیان نہایت ستھرا ہوا ہے۔ "ارتکاب" قافیہ نے دوسرا مصرع میری رائے میں مجروح کردیا ہے۔ دل توڑنے کا ارتکاب کرنا اس قدر ثقیل اور بوجھل بنت ہے کہ پورا شعر اس سے متاثر ہورہا ہے۔ معلوم نہیں کہ آپ میرے خیال سے کتنا متفق ہیں۔ کچھ روشنی ڈالیں تو مہربانی ہوگی۔

آپ کا کہنا بجا ہے کہ ردیف ’’کر دوں‘‘ نے زمین دشوار کر دی ہے ، میں اصل میں بیٹھے بٹھائے دماغ میں کچھ آجائے تو بغیر منصوبہ بندی اور انجام کو سوچے جو ذہن میں آتا ہے لکھ دیتا ہوں بعد میں اس کی  روکاوٹیں اور دشواریاں حائل ہو کر منہ چڑھاتی ہیں مگر میں بھی ڈھیٹ بن جاتا ہوں اور اس بات کا خیال نہیں رکھتا ہوں کہ میں تو سمجھ رہا ہوں کہ کیا گل کھلائے اور کیوں گل کھلائے مگر قارئین کو تو سمجھنا ہو گا اور سمجھانا بھی ہوگا جیسے اب آپ نے سوال اٹھایا ،اصل میں ہم بہت محتاط لوگ ہیں دل کے معاملے میں دل کا حال کسی پر ظاہر نہیں ہونے دیتے یا ظاہر نہیں ہونے دینا چاہتے اس لیے بناوٹ کا سہارا لیتے ہیں اکتائے ہوئے رہنے کے باوجود ہونٹوں پر مسکراہٹ سجانے کی کوشش کرتے ہیں کوئی شخص ہمیں پسند نہیں ہوتا مگر ہم بادلِ ناخواسطہ خود پر بناوٹ کا خول چڑھا کر اسے ایسا محسوس کرواتے ہیں کہ جیسے ہمیں اس سے مل کر بہت خوشی ہوئی مگر ہوتا اس کے برعکس ہے ، اور جسے ہم تصنع کا لبادہ اوڑھے بتانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں وہ حقیقت جانتے ہوئے بھی کہ ہم سچ کو فروغ نہیں دے رہے ہمارے اس جھوٹ کو قبول کر لیتا ہے اور ہمارے تعلقات استوار رہتے ہیں مگر یہی بات اگر ہم منہ پر کہہ دیں کہ ہمیں آپ سے مل کر کوئی خوشی نہیں ہوئی جو کہ بناوٹ نہیں ہے بالکل سچ ہے تو ہمارے تعلقات ختم ہو جاتے ہیں ہمارے بیچ میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں میں وہی عرض کر رہا ہوں کہ اگر میں دل کا حال آپ پر کھول دوں تو آپ مجھ سے ناراض ہو جائیں گے
اسلوب تو مجروح کر ہی رہا ہے لیکن پیغام بھی مجروح کر رہا ہے کہ تم سچ کا سامنا نہیں کر پاؤ گے اگر میں نے اپنے دل کا حال تم پر عیاں کر دیا

واللہ اعلم میں نے کہاں تک درست کہا مگر مجھے اسی طرح کہنا ہے اپنے پیغام میں کہ ہم جھوٹ پر راضی ہیں اور سچ سے خفا
 

اقتباس
مرے آس پاس جو بھی ہیں حسین لوگ سارے
کروں مسترد انہیں جو ترا انتخاب کر دوں
یہ شعر بہت دلچسپ ہے، اول تو یہاں "انتخاب کرلوں" ہونا چاہئے نہ کہ "انتخاب کردوں"، دوئم یہ کہ آپ کا عشق زمانہ سے منفرد ہے کیونکہ جہاں لوگ ایک ہی محبوب/محبوبہ پر اکتفا کرتے ہیں وہاں ماشااللہ آپ کو کئی میں سے انتخاب کا موقع ملتا ہے! مضمون اس طرح منفرد ہے ۔ اور کیا عرض کروں۔


المیہ یہ ہے کہ محبوبہ سے مخاطب نہیں ہوں سیاست دانوں سے مخاطب ہوں میں ہمارے وزیراعظم صاحب زیرِ عتاب ہیں اپنی حرکتوں کے سبب میں انہی سے مخاطب ہوں کہ میرے آس پاس ایسے لوگ بھی موجود ہیں جن پر کسی قسم کا الزام یا فردِ جرم عائد نہیں تمہیں منتخب کرنے کا مطلب انہیں مسترد کرنا ہے

اقتباس
 
مرے خواب ہیں ادھورے جنہیں روز دیکھتا ہوں
ترا ساتھ مل تو جائے سبھی پورے خواب کر دوں

شعر اچھا ہے ویسے یہاں بھی "کرلوں" زیادہ مناسب ہوتا۔ داد حاضر ہے۔


شعر پسند فرمانے کا شکریہ ، ردیف کی مجبوری حائل ہے

اقتباس
کہاں تک چلوں میں تنہا کہ سفر طویل تر ہے
ترے نام زندگانی کو میں انتساب کر دوں
آپ زندگی "کا" انتساب کر سکتے ہیں۔ اس "کو" انتساب نہیں بلکہ منسوب کرسکتے ہیں۔ ایک مرتبہ پھر دیکھ لیجئے۔ شکریہ۔

جی بہت عنایت آپ کی اصلاح فرمانے کا شکریہ میں اس ’’کو‘‘ کو ’’کا ‘‘ میں بدل دیتا ہوں

اقتباس
ہے صِفَت فرشتوں جیسی کہ خطا سے ماورا ہوں
کیوں ثبوت دے کے خود کو لبِ احتساب کر دوں
"لب احتساب" کرنا محاورہ کبھی دیکھا نہیں۔ مزید یہ کہ آپ خطا سے پاک ہیں؟ گویا یا تو فرشتہ ہیں یو پھر کچھ اور!شعر پر نظر ثانی کر لیجئے تو کیا برا ہے۔

اس شعر کا تعلق بھی ہمارے وزیراعظم صاحب سے جڑا ہے ، میں تو خطا کا پتلا ہوں وزیراعظم صاحب کی بات ہو رہی ہے وہ خطا سے پاک ہیں انہیں کے احتساب کی باتیں چل رہی ہیں

اقتباس
تمہیں زعم ہے یہ خود پر کہ ہو تم حسین پیکر
تمہیں آئینہ دکھا کر کہو لاجواب کر دوں
کیا ثابت کریں گے کہ آپ کی محبوبہ ایسی حسین نہیں ہے؟ یہ تو نہایت عجیب بات ہے! یہ غزل معنی آفرینی کے حساب سے بھی منفرد ہے۔

یہ بھی محبوبہ کے لیے نہیں ہے اور نہ اس عمر میں میری کوئی محبوبہ بننے کے لیے تیار ہے یہ تو میں اپنے وزیر اعظم صاحب سے مخاطب ہوں

اقتباس
ترے دوستوں میں شامل ہے کہیں پہ تیرا دشمن
مجھے دے جو تُو اجازت اسے بے نقاب کر دوں
یہ شعر تو (گستاخی معاف) صرف "نقاب" کی قافیہ پیمائی کے لئے کہا گیا ہے۔

اسے بھی ملک کی سیاست کی نظر سے دیکھیے

اقتباس
میں خیال منتشر ہوں جسے زندگی سمجھ کر
اسے میں بھی کیوں نہ پل پل رُخِ اضطراب کر دوں
یہ شعر بالکل سمجھ میں نہیں آیا۔ آپ کس کو زندگی سمجھ رہے ہیں جو خود منتشر ہوگئے ہیں اور پھر اسے آپ کس طرح "رخ اضطراب" کریں گے۔ یہ "رخ اضطراب" کیا چیز ہے اور کیسے کی جاتی ہے؟ از راہ کرم وضاحت فرمادیں۔

مہر افروز

[/font]

یہ بھی اس دشمن کے لیے کہا ہے جو دوست بن کر پریشانیاں بڑھا رہا ہے اور اپنی دوستی کی یقین دھانی کروا رہا ہے

خیر میں آپ کا بے حد شکر گزار ہوں کہ آپ نے اپنی قیمتی آرا سے نوازا اور میری اس ادنیٰ سی کاوش پر نظر کرم فرمائی ۔ اللہ پاک آپ کو دونوں جہانوں کی عزتیں مرحمت فرمائے
اپنا بہت خیال رکھیے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے
دعاگو
صفحات: [1] 2 3 ... 10
Copyright © اُردو انجمن