اُردو انجمن

 


تازہ تحریریں

صفحات: 1 [2] 3 4 ... 10
11
اصلاحِ سُخن / جواب: ..Dil teri mohabbat ka talabgaar hai miya..
« آخری تحریر منجانب Afroz Mehr بروز مئی 22, 2018, 10:25:00 شام »
Dil teri mohabbat ka talabgaar hai miya
Banda tere firaaq me beemaar hai miya

Qurbaan jaoN mai teri karagiri perr
Mehboob.e.haq (s.a.w) do alam ka shehkaar hai miya

Gar maut pe hai tujhse mulaqaat ka wa'ada
Phir maut tere pyaar ka izhaar hai miya

Is hausle se a'enge deewaane tere paas
Himmat nahi hai, tujhse magar pyaar hai miya

Mehfil lagegi aashiqoN ke hosh udenge
Jannat me tere husn ka deedaar hai miya


بہن صاحبہ گل صاحبہ: سلام
آپ کو اردو انجمن میں دیکھ کر بہت مسرت ہوئی۔ یہاں خواتین کی ہمیشہ کمی رہی ہے۔ پہلے راجی صاحبہ اور ریحانہ جاناں صاحبہ نظر آجاتی تھیں لیکن ادھر وہ بھی دکھائی نہیں دے رہی ہیں۔ ہر شخص مصروف ہے یا کہیں اور لگا ہوا ہے۔ اردو انجمن اپنے طور کی اکیلی ہی محفل ہے یعنی یہاں رسمی داد کسی کو نہیں دی جاتی ہے بلکہ بے لوث تنقید کی جاتی ہے جو بعض اوقات سخت ہوسکتی ہے لیکن اس کے پیچھے نیت ہمیشہ نیک رہتی ہے۔ گویا کسی کی دل آزاری کے مقصد سے تنقید کبھی نہیں کی جاتی ہے۔ آپ کو جلد ہی اس کا تجربہ ہوجائے گا۔ ہمت نہ ہارئے گا بلکہ دوسروں سےسیکھ کر اپنی محنت پر قایم رہئے گا۔ انشااللہ بہت جلد اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جائیں گی۔ جناب سرورراز صاحب نے آپ کی غزل اردو میں لکھ دی ہے اور میں اسی کو یہاں استعمال کروں گی۔ آپ اردو سے یقینا واقف ہیں ہر چند کہ شاید یہاں اردو لکھنے سے جھجک رہی ہیں یا کچھ مشکل ہے۔ اگر آپ چاہیں گی تو ہم لوگ اپنے خیالات رومن اردو میں بھی لکھ سکتے ہیں۔ آپ کی غزل نیچے نقل کر رہی ہوں۔
دل تیری محبت کا طلبگار ہے میاں
بندہ ترے فراق میں بیمار ہے میاں

قربان جائوں میں تری کاریگری پر
محبوب حق(صلعم) دو عالم کا شہکار ہے میاں

گر موت پہ ہے تجھ سے ملاقات کا وعدہ
پھر موت ترے پیار کا اظہار ہے میاں

اس حوصلے سے آئیں گے دیوانے ترے پاس
ہمت نہیں ہے تجھ سے مگر پیار ہے میاں

محفل لگے گی عاشقوں کے ہوش اڑیں گے
جنت میں ترے حسن کا دیدار ہے میاں
 اوپر کے اشعار سے ظاپر ہے کہ آپ شاعری کے بنیادی اصول جانتی ہیں لیکن ان پر پورا عبور نہیں ہے۔ شاعری کے اصول اور قاعدے سیکھنے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ کسی استاد شاعر سے مدد لی جائے لیکن آج کل استاد شاعر تقریبا نا پید ہیں اور استادی شاگردی کا سلسلہ بہت کم باقی رہ گیا ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ علم عروض کی کوئی آسان کتاب لے لی جائے اور اس کی مدد سے شعر گوئی سیکھی جائے۔ محترمی جناب سرورعالم راز کی کتاب "آسان عروض اور نکات شاعری" پاکستان اور ہندوستان دونوں جگہ ملتی ہے اور بہت آسان ہے۔ آپ اس کو خرید لیجئے۔ آسانی سے نہ ملے تو یہاں پوچھ لیں، ملنے کا پتہ بتادیا جائے گا۔ یہ اس لئے کہہ رہی ہوں کہ آپ کی غزل میں ایک بنیادی کمزوری یہ ہے کہ اس کے مختلف مصرعے الگ الگ وزنوں میں ہیں جبکہ غزل کے ہر مصرع کا ایک ہی وزن میں ہونا ضروری ہے۔ آپ اگر چاہیں گی تو ذرا سی محنت سے خود ہی غزل وزن میں کر لیں گی۔ میں اس قابل نہیں ہوں کہ اصلاح دوں۔ ممکن ہے کہ کوئی تجربہ کار شاعر یہ کام کردے۔ امید پر دنیا قایم ہے! گزارش ہے کہ یہاں برابر آتی رہیں اور لکھتی پڑھتی رہیں۔

مہر افروز
12
موجِ غزل / جواب: چاندنی
« آخری تحریر منجانب Mushir Shamsi بروز مئی 22, 2018, 07:06:15 شام »

مکرمی جناب کفیل صاحب: سلام علیکم
کافی عرصے کے بعد آپ سے ملاقات ہو رہی ہے۔ ہر شخص مصروف ہے۔ شعروشاعری کا وقت لوگوں کو کم ہی ملتا ہے۔ آپ نے یہ غزل کسی مشاعرہ کے لئے کہی ہے۔ اچھی کوشش ہے۔ میری ناچیز داد حاضر خدمت ہے۔ قبول کیجئے۔ شکریہ۔اگر اجازت ہو تودو ایک باتیں عرض کروں۔ یہ تنقید نہیں ہے بلکہ صرف اپنے تاثرات کا اظپار ہے۔امید ہے کہ گوارا کر لیں گے۔
--------------------
ہر پل ملن کی آس جگاتی ہے چاندنی
 دیکھو مجھے بھی کیسے ستاتی ہے چاندنی
اچھا شعر ہے۔ داد حاضر ہے۔ "دیکھو" کا استعمال بہت خوب ہے۔
 صورت تری نکھارے ترے گال کا یہ تل
 رخسار کے بھی آگے لجاتی ہے چاندنی
یہ شعر معمولی بھی ہے اور عامیانہ بھی۔ اس میں کوئی شعریت یا تغزل نظر نہیں آتا۔ مضمون میں بھی کوئی خوبی نہیں نظر آئی۔
دریا کنارے بیٹھ کے یہ دیکھتا ہوں میں
 پانی سے گلے مل کے نہاتی ہے چاندنی
یہ شعر بھی بہت معمولی ہے اور بظاہر نظم کا  معلوم ہوتا ہے۔ علامہ اقبال کی ایک نظم "ایک آرزو" کا ایک شعر یاد آ گیا۔ آپ بھی سن لیجئے۔ دیکھئے کیا خوب صورتگری کی ہے علامہ نے۔
پانی کو چھو رہی ہو جھک جھک کے گل کی ٹہنی
جیسے حسین کوئی آئینا دیکھتا ہو !
منزل اگر ہے دور تو گھبرانا کیا صنم
 جگنو کے ساتھ راہ دکھاتی ہے چاندنی
اس شعر پر نواز صاحب کے حاشیہ سے میں متفق ہوں۔ چاندنی میں جگنو واقعی اپنی روشنی کھو بیٹھتا ہے۔
آنا غضب ہوا ہے نہا کے یوں بام پر
 اٹھلاتی بیقرار لجاتی ہے چاندنی
یہ شعر نہ صرف عامیانہ ہے بلکہ اس کا مفہوم بھی "دربطن شاعر" رہ گیا ہے۔ دونوں مصرعوں کا آپس میں کیا تعلق ہے؟
بوسیدہ چھت کا دیکھئے کیا فائدہ ہوا
 چھن چھن کے آ تی اور سلاتی ہے چاندنی
شعر موزوں ہے۔ ایک ناچیز رائے ہے کہ غزل کو اگر آپ بلند کرنے کی کوشش کریں تو بہت اچھا ہوگا۔آپ کی مشق سخن کافی پرانی ہے۔ اس لئے یہ کام آپ کے لئے مشکل نہیں ہے۔
اب حسن سے کفیل کو رغبت نہیں رہی
 اب صرف اس کے دل کو لبھاتی ہے چاندنی
اس شعر میں بھی دونوں مصرعوں کا باہمی ربط و تعلق مجھ پر واضح نہیں ہوسکا۔ از راہ کرم وضاحت کر دیجئے۔ شکریہ۔
کوئی بات ناگوار خاطر گزری ہو تو معافی چاہتا ہوں۔

خادم: مشیر شمسی
13
اصلاحِ سُخن / جواب: ..Dil teri mohabbat ka talabgaar hai miya..
« آخری تحریر منجانب سرور عالم راز بروز مئی 22, 2018, 05:31:43 شام »

عزیزہ صاحبہ گل: سلام علیکم
میں آپ کی غزل کو نیچے اردو میں لکھ رہا ہوں تاکہ احباب کو آسانی ہو۔ آپ سے گزارش ہے کہ اپ کوشش کر کے اردو میں لکھیں۔ یہاں رومن میں لکھنے کی سہولت بھی ہے لیکن یہ ان لوگوں کے لئے مناسب ہے جو کسی وجہ سے اردو میں نہیں لکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ چاہیں گی تو رومن میں آپ بھی لکھ سکتی ہیں۔ کسی کو اس پر کوئی اعتراض مطلق نہیں ہوگا، انشااللہ۔
---------------------------------------
دل تیری محبت کا طلبگار ہے میاں
بندہ ترے فراق میں بیمار ہے میاں

قربان جائوں میں تری کاریگری پر
محبوب حق(صلعم) دو عالم کا شہکار ہے میاں

گر موت پہ ہے تجھ سے ملاقات کا وعدہ
پھر موت ترے پیار کا اظہار ہے میاں

اس حوصلے سے آئیں گے دیوانے ترے پاس
ہمت نہیں ہے تجھ سے مگر پیار ہے میاں

محفل لگے گی عاشقوں کے ہوش اڑیں گے
جنت میں ترے حسن کا دیدار ہے میاں
=========
سرور عالم راز
14

عزیزم اعجاز صاحب: سلام مسنون
جواب میں تاخیر ہوئی۔ اب یہاں اتنے کم لوگ رہ گئے ہیں کہ دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے۔ اگر احباب ایک دوسرے کی تخلیق پر لکھ دیا کریں تو کچھ کام بن سکتا ہے لیکن کیا کیجئے کہ لوگ لکھنے سے گریز کرتے ہیں۔ آپ کی غزل دیکھی۔ ایک رائے یہ ہے کہ اول اول غزل میں صرف آٹھ، نو اشعار کہا کیجئے اور انہیں پر محنت کر کے بہتر بنانے کی کوشش کیجئے۔ جب مشق پختہ ہوجائے گی تو زیادہ اشعار کہنے میں ہرج نہیں ہے۔
بے زَر کے پاس آتی ہے ثَروَت کَبھی کَبھی
"مِلتی ہے زِندگی میں محبّت کَبھی کَبھی"
شعر یوں تو ٹھیک ہے لیکن دونوں مصرعوں کا باہمی تعلق بہت کمزور ہے۔ آپ نے ثروت اور محبت کولازم وملزوم لکھ رکھا ہے جو درست نہیں ہے۔ پہلا مصرع پھر سے کہنے کی ضرورت ہے اس طرح کہ دوسرے مصرع کا ساتھی معلوم ہو۔ ایک کوشش اور کر دیکھئے۔ 
اپنے نصیب میں نہیں : جو چاہتے ہیں ہم
خفتہ سی لگتی ہمیں قسمت کَبھی کَبھی
دوسرے مصرع میں "لگتی ہے" ہونا چاہئے۔ یہ کتابت کی غلطی ہے۔ اس کے بعد شعر ٹھیک ہوجاتا ہے۔
دل ایک ہے کہ جِس میں بَسِیں خواہشیں ہزار
اس دل پہ ہم کو ہوتی ہے حَیرت کَبھی کَبھی
ٹھیک شعر ہے۔ کوشش کیجئے کہ مطالعہ اور فکر سے شعر کا مضمون کچھ بلند کر سکیں۔ مشق، مطالعہ اور محنت سے یہ آہستہ آہستہ ہو جائے گا۔
دن زیست کے گزر رہے ہیں کچھ قرار میں
فرقت مگر یہ چھینے ہے راحت کبھی کبھی
یہ شعر اپنی بندش اور بیان میں الجھ کر رہ گیا ہے اور اس کو پڑھ کر اس کا مفہوم آسانی سے سمجھ میں نہیں آتا ہے۔ شعر میں اثریا جذبہ کا ہونا ضروری ہے۔ اس کی اس شعرمیں کمی ہے۔
اس طرزِ زندگی سے تو مختل ہوئے ہیں ہم
فرقت ہو مدتوں کی تو قربت کبھی کبھی
"مختل" نے شعر کو بے لطف کردیا ہے۔ دوسرا مصرع اچھا ہے۔ پہلا پھر ایک بار کہئے اور دوسرے پر نظر رکھ کر کہئے۔
عزلت نشین رہ جو ہے جلوے کا منتظر
خلوت کے بعد ہوتی ہے جلوت کبھی کبھی
شعر موزوں ہے لیکن شعر کی موزونیت ہی شاعری نہیں ہے۔ اس میں کوئی خیال، جذبہ، فکر ایسی ضروری ہے جو دل پر اثر کرے۔ آپ کی غزل میں اس کی کمی ہے چنانچہ غزل پڑھ کر لطف محسوس نہیں ہوتا ہے۔ برا نہ مانیں۔ میں اپنی سوچ کے مطابق آپ کو لکھ رہا ہوں۔
دو گام چَل بھی نہ سَکے میرے جنازے تک
دُشمن بھی اِتنی کرتے ہیں زَحمت کبھی کبھی
یہ شعر غزل سے نکال دیجئے کیونکہ یہ قمر جلالوی کے شعر کی نقل ہے:
جاتی ہوئی میت دیکھ کے بھی اللہ تم اٹھ کر آ نہ سکے
دو چار قدم تو دشمن بھی تکلیف گوارا کرتے ہیں
مِٹّی سے سب بنے ہیں غرور و غماز کیا
بندوں کے ساتھ مِٹتی تُربت کبھی کبھی
یہ شعر میری سمجھ میں نہیں آیا۔ اس کو یا تو دوبارہ کہئے یا نکال دیجئے یا سمجھا دیجئے۔ دوسرے مصرع کا وزن درست کر لیجئے۔
مَن میں جو سوز و ساز کا انبار ہو لگا
ڈھلتی ہے شعروں میں یہی صُورت کَبھی کَبھی
پہلے مصرع کی بہتر صورت یوں ہو سکتی ہے:
دل میں ہو سوز وساز کا ابنار جب لگا
ویسے میری رائے میں اس مصرع کو کسی اور طرح کہنے کی ضرورت ہے تاکہ دوسرے مصرع سے مل کر یہ اچھے معنی پیدا کرے۔
ہر اِک کے سامنے مجھے یہ شعر گُوئی کی
اِعجؔاز یُوں ہی ہوتی ہے جُرات کبھی کبھی
مقطع ٹھیک ہے۔ اس پر بھی ویسی ہی محنت چاہئے جیسی پوری غزل پر کرنے کی ضرورت ہے۔
میں نے اشعار میں اصلاح سے گریز کیا ہے کیونکہ بیشتر اشعار اصلاح طلب ہیں۔ اگر میں یہ کرتا تو تقریبا ہر شعر دوبارہ کہنا ہوتا جو مناسب نہیں ہے۔ میری خواہش یہ ہے کہ آپ خود محنت اور کوشش سے غزل بہتر بنائیں۔ اگر ایک کوشش کے بعد بہتری کی صورت نظر نہیں آئی تو اور بات ہے۔ ویسے مجھ کو یقین ہے کہ آپ یہ کام بخوبی کر سکتے ہیں۔ شعر کی بنیادی باتوں سے آپ کی واقفیت اچھی ہے۔ صرف مطالعہ، فکر اور محنت کی ضرورت ہے۔

سرور عالم راز
15
اصلاحِ سُخن / ..Dil teri mohabbat ka talabgaar hai miya..
« آخری تحریر منجانب sahiba gul بروز مئی 22, 2018, 03:59:26 شام »
Dil teri mohabbat ka talabgaar hai miya
Banda tere firaaq me beemaar hai miya

Qurbaan jaoN mai teri karagiri perr
Mehboob.e.haq (s.a.w) do alam ka shehkaar hai miya

Gar maut pe hai tujhse mulaqaat ka wa'ada
Phir maut tere pyaar ka izhaar hai miya

Is hausle se a'enge deewaane tere paas
Himmat nahi hai, tujhse magar pyaar hai miya

Mehfil lagegi aashiqoN ke hosh udenge
Jannat me tere husn ka deedaar hai miya
16
موجِ غزل / Suna Gaey Ghazal
« آخری تحریر منجانب nawaz بروز مئی 22, 2018, 04:25:19 صبح »
احباب و اراکین انجمن السلامُ علیکم
ایک تازہ غزل کے ساتھ حاضر ہوں اور تبصرہ و تنقید
کا منتظر،،، اپنی قیمتی آرا سے نوازئے شکریہ،،،

وہ آج تلخ بات مجھے پھر سُنا گئے
تھے درد جو بھی میرے پُرانے جگا گئے

احسان مجھ پہ وہ کریں کچھ اس طرح سے ہیں
ہرگز نہ کوئی اب کہے وہ تو جتا گئے

حق گوئی کی مجھے سزا ملتی رہی سَدا
پل پل میں لوگ مجھ کو عداوت دکھا گئے

غم خوار پھر مرا نہ کوئی زندگی میں ہو
بھر جب بھی جائے زخم وہ نیا بنا گئے

ہلچل مَچی ہے دل میں یوں اب  اُن کے جانے سے
پانی تھا ٹھراجھیل کا پتھر گرا گئے

اب یہ نواز دور فریاد کا نہیں
اور فیصلہ تمھارا غلط وہ سُنا گئے
17
موجِ غزل / جواب: چاندنی
« آخری تحریر منجانب nawaz بروز مئی 21, 2018, 11:46:26 شام »
جناب کفیل احمد صاحب سلامِ مسنون

چاندنی کے عنوان پرغزل جو دراصل مسلسل غزل کے زمرہ
میں آسکتی ہے بہت خوبصورت انداز میں پیش کی ہے تمام
اشعار  اچھی عکس بندی کر رہے ہیں۔۔

داد حاضر ہے۔۔۔۔۔۔۔ ایک شعر کی وضاحت چاہوں گا

ع،   منزل اگر ہے دورتو گھبرانا کیا صنم
جگنو کے ساتھ راہ دکھاتی ہے چاندنی

جگنو روشن ہوتا ہے تاریکی میں جو قدرتی بات ہے، لیکن جب
چاندنی کھلی ہے تو جگنو بچارہ کیا روشنی دے گا،، سائنس اور
ادب کا یہ  سنگم نہ سمجھ سکا کچھ وضاحت؟
سدا شاد و آباد رہیں دعا گو                نواز
18
موجِ غزل / جواب: محبت کے سفر کا راستہ کتنا حسیں ہوتا
« آخری تحریر منجانب kafilahmed بروز مئی 20, 2018, 10:14:46 شام »
محترم خیال صاحب السلام علیکم
رمضان کی بہت مبارکباد۔ اللہ پاک آپ اور آپ کے اہلِ خانہ اور تمام مسلمانوں کو اس ماہ کی تمام فیوض و برکات اور رحمتوں سے نوازے۔ آپ سب کو صحت و تندرستی عطا فرمائے بالخصوص جناب سرور صاحب کو بھی جو بلا شک و شبہ ہماری نالائقیوں پر پشیمان ہیں۔

آپ کی پوری غزل ماضی کا حال بتا رہی ہے لیکن ان میں جائے بغیر مقطع کو سب کچھ مان کر آگے بڑھتے ہیں کہ یہی تقاضائے رمضان بھی ہے۔

خیالؔ آؤ کریں اک دوسرے کو درگزر اب ہم
کہ ایسا کرنے کا موقع نہیں زیرِ زمیں ہوتا

سبحان اللہ ۔

طالبِ دعا 
کفیل احمد
19
موجِ غزل / چاندنی
« آخری تحریر منجانب kafilahmed بروز مئی 20, 2018, 09:58:28 شام »
تمام محبانِ انجمن کو سلامِ عقیدت
ایک طرحی مشاعرے کے لئے لکھی گئی غزل آپ کی بصارتوں کی نذر

ہر پل ملن کی آس جگاتی ہے چاندنی
 دیکھو مجھے بھی کیسے ستاتی ہے چاندنی

 صورت تری نکھارے ترے گال کا یہ تل
 رخسار کے بھی آگے لجاتی ہے چاندنی

دریا کنارے بیٹھ کے یہ دیکھتا ہوں میں
 پانی سے گلے مل کے نہاتی ہے چاندنی

منزل اگر ہے دور تو گھبرانا کیا صنم
 جگنو کے ساتھ راہ دکھاتی ہے چاندنی

آنا غضب ہوا ہے نہا کے یوں بام پر
 اٹھلاتی بیقرار لجاتی ہے چاندنی

بوسیدہ چھت کا دیکھئے کیا فائدہ ہوا
 چھن چھن کے آ تی اور سلاتی ہے چاندنی

اب حسن سے کفیل کو رغبت نہیں رہی
 اب صرف اس کے دل کو لبھاتی ہے چاندنی


طالبِ دعا
کفیل احمد
[/size]
20
موجِ غزل / جواب: محبت کے سفر کا راستہ کتنا حسیں ہوتا
« آخری تحریر منجانب Mushir Shamsi بروز مئی 20, 2018, 09:26:02 شام »
قارئین کرام آداب عرض ہیں ، ایک کلام کے ساتھ حاضر خدمت ہوں امید ہے پسند آئے گا اپنی آرا سے نوازیے شکریہ

عرض کیا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرے دل میں تُو رہتا میں ترے دل میں مکیں ہوتا
محبت کے سفر کا راستہ کتنا حسیں ہوتا

کسی کی بات کو سُن کر تعلّق ختم کرتے ہو
کبھی ایسا نہ تم کرتے اگر خود پر یقیں ہوتا

چلو اچھا ہوا تم کھل کے مجھ پر ہو گئے ظاہر
بڑی مشکل مجھے ہوتی اگر ایسا نہیں ہوتا

تمہاری ہوشیاری کے سبب قائم ہوئی دوری
قرابت تم اگر رکھتے تو بندھن دل نشیں ہوتا

تمھاری بدمزاجی سے ہمارا دل رہے گھائل
ادب پرور تمہیں احساس تو بالکل نہیں ہوتا

توازن ہو محبت میں تو رشتہ بھی رہے قائم
نظر انداز کر کے کون ہے دل کے قریں ہوتا

ہے کھلتی آنکھ باطن کی جب آنکھیں بند ہو جائیں
دِکھائی وہ بھی دیتا ہے جو ظاہر میں نہیں ہوتا

خیالؔ آؤ کریں اک دوسرے کو درگزر اب ہم
کہ ایسا کرنے کا موقع نہیں زیرِ زمیں ہوتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طالبِ نظر

اسماعیل اعجاز خیالؔ

محترمی اعجاز خیال صاحب: سلام علیکم
آپ کی غزل سے مستفید ہوا۔ ایک معمولی سی بات عرض ہے۔ اس سے قبل ایسا کہیں نہیں دیکھا لہذاہ دریافت کر رہا ہوں۔ آپ نے لکھا ہے کہ "ایک کلام کے ساتھ حاضر خدمت ہوں" ۔میں نے "ایک کلام" ان معنوں میں کہیں نہیں پڑھا ہے۔ ایک غزل، ایک نظم، ایک تخلیق، ایک تحریر وغیرہ تو عام ہیں لیکن "ایک کلام" کم سے کم میرے علم کی حد تک غیر معروف اور غیر مانوس ہے۔ ہو سکتا ہے کہ صحیح ہو۔ اگر آپ نے یہ محاورہ کہیں دیکھا ہے تو ضرور بتائیں۔ ممنون ہوں گا۔
آپ کی یہ غزل مجھ کو ایک شکایت نامہ معلوم ہوئی جیسے آپ کسی کی شکایت نظم کی صورت میں کر رہے ہوں۔ گویا یہ علامہ اقبال کے "شکوہ" کی طرح کا کلام ہے، ان کا شکوہ اللہ سے ہے اور آپ کا کسی دوست سے۔ ہو سکتا ہے کہ  میرا خیال غلط ہو لیکن جیسا میں نے محسوس کیا لکھ دیا۔ اس تاثر کے پیش نظر یہ غزل نما نظم اچھی ہے۔ اس میں مضامین کی یکسانیت اور بیان کی سادگی اتنی ہے کہ چند اشعار کے بعد قاری اوب کر کسی اور رنگ یا مضمون کی تلاش کرنے لگتا ہے جو اس کو نہیں ملتا ہے۔ ایسی غزل مسلسل کی اردو شاعری میں بے شمار مثالیں مل جائیں گی چنانچہ یہ ایک جانی پہچانی اور معتبر صنف سخن ہے۔ البتہ ایسی غزل مسلسل عام طور پر کچھ نہ کچھ انفرادیت ضرور رکھتی ہے جس کے باعث وہ  یاد رہ سکتی ہے۔ مولانا حسرت موہانی کی "چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے" بے ساختہ ذہن میں آ رہی ہے۔ اس کی شعریت، جذبات کی سادگی اور شدت، حزن وملال اور وارفتگی ایسی خوبیاں ہیں جن سے یہ غزل لا جواب ہو گئی ہے۔ آپ کی غزل کا ایک شعر پڑھ کر مجھ کو کچھ اور یاد آگیا۔ شعریہ ہے:
ہے کھلتی آنکھ باطن کی جب آنکھیں بند ہو جائیں
دِکھائی وہ بھی دیتا ہے جو ظاہر میں نہیں ہوتا
اور جو شعر یاد آیا اب یاد نہیں کہ کس استاد کا ہے۔  ممکن ہے کہ کوئی دوست یا آپ خود بتا سکیں۔ شعر یہ ہے:
ہو شوق دیکھنے کا تو آنکھوں کو بند کر
ہے دیکھنا یہی کہ نہ دیکھا کرے کوئی !
امید ہے کیہ میری بے سروپیر کی باتیں آپ کو ناگوار نہیں گزری ہوں گی۔ اگر کوئی گستاخی ہو گئی ہے تو معافی کا خواستگار ہوں۔

خادم: مشیر شمسی
صفحات: 1 [2] 3 4 ... 10
Copyright © اُردو انجمن