اُردو انجمن

 


تازہ تحریریں

صفحات: 1 [2] 3 4 ... 10
11
موجِ غزل / جواب: وفا اب کے کرے گا وہ نہ بدلی جس نے خو برسوں
« آخری تحریر منجانب سرور عالم راز بروز فروری 19, 2018, 12:19:17 شام »

عزیزہ ریحانہ صاحبہ: سلام مسنون !
میں عام طورپر لکھنے میں پہل نہیں کرتا ہوں کیونکہ میرے تجربے میں احباب اس کے بعد لکھتے ہوئے قلم روکے رہتے ہیں۔ میں بھی ہر ایک کی طرح ادب وشعر کا ایک طالب علم ہوں اس لئے میرا تبصرہ اسی نقطہء نظر سے دیکھا جانا چاہئے۔ امید ہے کہ جو چند باتیں لکھ رہا ہوں وہ بار خاطر نہیں ہوں گی۔ غزل خاصی طویل ہے اس لئے مفصل اور بھرپورتبصرہ کرنا مشکل ہے۔ بہر حال موٹی موٹی باتیں جو میری سمجھ میں آئیں لکھتا ہوں۔
-------------
وفا اب کے کرے گا وہ؟ نہ بدلی جس نے خو برسوں
دلِ جاناںؔ کی اُس سے یہ رہی ہے گفتگو برسوں
میرا خیال ہے کہ پہلے مصرع میں "کے" کو "کیا" سے بدل دیجئے تو شعر کا رنگ بدل جائے گا۔ دوسرے یہ کہ اگر آپ کے دل نے اس سے باتیں کی ہیں تو یہ گفتگو اس تک پہنچے گی کیسے اور آپ کی اس دلی خواہش پر وہ عمل کیسے کرے گا۔ ایک بار مزید سوچ لینے میں ہرج نہیں ہے۔
ہمیں عادت ہے کچھ کچھ سانس لینے کی سو زندہ ہیں
’’نہیں سہتا کوئی انساں شکستِ آرزو برسوں‘‘
یہ "کچھ کچھ سانس لینا" کیا ہوتا ہے سمجھ نہیں سکا۔ پہلا مصرع دوسرے کے مقابلہ میں کافی کمزورمحسوس ہورہا ہے۔ ایسا میرا خیال ہے۔
تمنا خواب کی مانند نجانے کب کہاں ٹوٹے
لیئے پھرتی رہی ہم کو تمھاری جستجو برسوں
اول تو "مانند نجانے" ادائیگی میں ناقص ہے۔ نجانے کو صرف جانے کردیں تو وزن کا مسئلہ دور ہوجاتا ہے۔ خواب کا ٹوٹنا یعنی کیا؟ پہلا مصرع نگاہ ثانی کا طلبگار ہے۔ کچھ اور غور کر لیجئے تو بہتر ہوگا۔
کوئی محسن کوئی انساں کوئی تو مہرباں ملتا
صدا دیتے رہے ہر دم چمن میں چار سُو برسوں
محسن اور مہربان کے ساتھ انسان مطابقت نہیں رکھتا ہے۔ کوئی اور لفظ لائیے۔ دوسرے یہ کہ چمن میں آپ پر ایسی کیا مصیبت آگئی جو محسن اور مہربان کی تلاش ہے؟ ایسا تو دشت وبیاناں میں ہوا کرتا ہے! کیا خیال ہے آپ کا؟ اس کے علاوہ "ہردم" اور "برسوں" ساتھ ساتھ کیسے استعمال ہوسکتے ہیں؟ یا ہردم لکھئے یا برسوں۔
نہیں دھڑکن کبھی رُکتی ،کبھی تو سُن تو اے ظالم
صدائیں تم کو دل دیتا رہا ہے کو بکو برسوں
پہلی بات تو یہ کہ شعر شتر گربہ کا شکار ہے۔ پہلے مصرع میں "تو" اور دوسرے میں اسی مخاطب کو "تم" کہنا غلط ہے۔ دوسری بات ییہ کہ پہلا مصرع بہت سست اور ڈھیلا ڈھالا ہے۔ یہ بات آپ کی غزل میں بہت نمایاں ہے۔ اگر شعر کہہ کر رکھ لیں اور دو دن بعد اسے "دشمن کی نگاہ" سے نثر بنا کر دیکھیں تو امید ہے کہ آپ بہت سی باتیں خود ہی درست کر لیں گی۔
محبت کا شجر پھوٹے تو چھاؤں میں سبھی بیٹھیں
چمن میں ہم یہی کرتے رہے ہیں آرزو برسوں
شجر کے پھوٹنے یعنی تازہ دم نکلنے سے تو کام نہیں چلے گا کیونکہ پودے کو شجر بنتے بنتے کئی سال گزر جائیں گے۔ اس میں الفاظ کی ہیرا پھیری کی ضرورت ہے۔ معنی اچھے ہیں۔
جو تو ہے ساتھ اپنے اس کا منظر اور ہی کچھ ہے
بِنا ترے بھی دیکھا تھا جہانِ رنگ و بُو برسوں
شعر ٹھیک ہے البتہ گستاخی نہ سمجھیں تو پھر یہی کہوں گا کہ شعر پر مزید فکر کی ضرورت ہے تاکہ اس میں چستی اور اثر کی فراوانی ہو۔ سپاٹ شعر میں وہ لطف نہیں ہوتا ہے جو الفاظ کے صحیح انتخاب سے پیدا ہوتا ہے۔ اس کو میر انیس کے اس مصرع سے واضح کرتا ہوں:
کھا کھا کے اوس اور بھی سبزہ ہرا ہوا
اس میں "اوس" کی جگہ "شبنم" رکھ کر دیکھئے کہ وزن ایک ہے معنی ایک ہیں لیکن جو شعریت اور اثر اوس میں ہے وہ شبنم میں نہیں ہے۔ جب الفاظ صحیح ہوں گے تو اپنی جگہ نگینوں کی طرح جڑے نظر ائیں گے۔ انشااللہ۔ مزید یہ کہ ترے کے بجائے تیرے کی ضرورت ہے۔
شکستِ خواب کا منظر، غرورِ حسن کا انجام
حسیں آنکھوں سے بہتا ہم نے دیکھا ہے لہو برسوں
مجھ کو علم ہے کہ آپ بھرتی کی قائل نہیں ہیں لیکن میں اس شعر کو بھرتی کا کہوں گا۔ غزل کی زمین آپ کو زرخیز محسوس ہوئی ہے اور آپ نے معمول سے کچھ زیادہ اشعار کہے ہیں۔ ایسی صورت میں بھرتی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ میں نے اپنے استاد سے (جو میرے والد محترم پہلے تھے، استاد بعد میں!) یہ گر سیکھا کہ اشعار کی تعداد آٹھ دس تک محدود رکھوں اور ہر شعر پر بار بار محنت کروں یہاں تک کہ وہ بندش میں چست اور معنی آفرینی میں واضح اور بھرپور ہوجائے۔ ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ میری استعداد کی حد تک ہوگا اور استعداد محنت اور مطالعہ سے بڑھتی رہے گی۔ سوچا کہ آپ سے ذکر کردوں۔
مرا وجدان کہتا ہے دلِ جاناںؔ ہے گھر اس کا
جبھی پلتی رہی اس میں ہے اُس کی آرزو برسوں
"اس میں ہے اس کی" کھٹک رہا ہے۔ اگر کچھ اور فکر وتدبر کریں تو شعر بہتر ہوجائے گا۔ اور آپ یقینا اس کی قدرت رکھتی ہیں۔
میں نے بہت سی باتیں لکھ دی ہیں اور ممکن ہے کہ ایک آدھ بات آپ کو غیر ضروری اور گراں گزرے سو  معذرت خواہ ہوں۔ نیت صرف یہ ہے کہ جو محسوس کروں اس کو مختصر طور پر آپ تک پہنچا دوں۔ امید ہے خیال نہیں کریں گی۔
باقی راوی سب چین بولتا ہے۔

سرورعالم راز
12
موجِ غزل / جواب: غزل"رنگ تقدیر مری لائی تو یوں لائی ہے
« آخری تحریر منجانب vb jee بروز فروری 19, 2018, 10:32:57 صبح »

یاران اردو انجمن: تسلیمات
ایک غزل پیش خدمت ہے۔ تنقید، تبصرہ، اصلاح اور تجاویز سے نوازئے،ممنون ہوں گی۔
==================
رنگ تقدیر مری لائی تو  یوں   لائی ہے
رنج و آلام ہیں، میں ہوں، شب تنہائی ہے

دل پریشاں ہے، طبیعت مری گھبرائی ہے
تہمت عشق سراسر مرے  سر  آئی  ہے

سرٖخ رو ہو تو کوئی مجھ سا زمانہ بھر میں
ساری دنیا مجھے کہتی  ترا  سودائی ہے !

دیکھ لیتی ہوں اسے ایک نظر حسرت سے
زندگی سے مری بس  اتنی  شناسائی  ہے

بات بے بات قیامت کھڑی کر دیتے ہیں
واہ   کیا  آپ  کا  انداز  پذیرائی  ہے

وقت نے اس قدر مجبور کیا ہے مجھ کو
ہمت  دید ، نہ  ہی  طاقت گویائی ہے !

یاد  ایام  خدا  جانے   د کھائے  کیا  کیا
صبح کی بھولی ہوئی شام کو گھر آئی ہے

زندگی نے تجھے کس پھیر میں ڈالا افروز
خود تماشہ ہے تو اور خود ہی تماشائی ہے
=============
مہر افروز





محترمہ افروز مہر صاحبہ! السلام علیکم

واہ ۔۔ بُہت ہی شاندار غزل ہے۔ پہلے شاید ہی آپ کا کبھی کلام پڑھا ہو۔ اگر آپ مرد ہوتیں تو ہم آپ کو اُس رستم سے تشبیح دیتے جو چھُپا ہؤا ہوتا ہے :)

آپ کا کلام شاذ ہی پڑھنے کو ملتا ہے۔ پڑھ کر لطف آیا۔ اور بُہت پختگی نظر آئی۔ بھرپور داد قبول کیجے۔

اصلاح تو خیر ہمارے بس کا روگ نہیں، لیکن اب آپ نے خود تنقید، تبصرہ اور تجاویز کا حُکم فرمایا ہے تو کُچھ باتیں عرض ہیں۔ امید ہے کہ ایک شاگرد کی باتوں پر خفا نہ ہونگی۔ ہمارا مقصد فقط سیکھنا ہی ہوتا ہے۔ سو کُچھ باتیں جو ذہن میں آتی گئیں سو عرض کر رہے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رنگ تقدیر مری لائی تو  یوں   لائی ہے
رنج و آلام ہیں، میں ہوں، شب تنہائی ہے

بُہت خوبصورت مطلع ہے۔ بھرپور داد قبول کیجے۔ ویسے اگر یہ شعر ہم کہہ رہے ہوتے (وائے ناکامیءِ قسمت کہ ہمارے بس کا روگ نہیں) تو پہلا مصرعہ میں :یوں: کی جگہ :کیا: لکھتے۔

۔۔۔۔۔۔
دل پریشاں ہے، طبیعت مری گھبرائی ہے
تہمت عشق سراسر مرے  سر  آئی  ہے

شعر اچھا ہے، لیکن سچ پوچھیں تو ہمیں مزا کم دے رہا ہے۔ جس کی وجہ شاید کُچھ یوں ہے کہ :تہمتِ عشق کا سراسر، سر آ جانا: پہلے شعر کی نسبت بُہت کم نازک احساس رکھتا ہے۔

۔۔۔۔۔
سرٖخ رو ہو تو کوئی مجھ سا زمانہ بھر میں
ساری دنیا مجھے کہتی  ترا  سودائی ہے !

ہمیں محسوس ہو رہا ہے، جیسے دوسرا مصرعہ کُچھ ابہام پیدا کر رہا ہو۔ آپ نے آخر میں :!: لگایا ہے۔ مصرعہ سے یوں بھی لگتا ہے جیسے ساری دُنیا کہتی ہے کہ :وہ: آپ کا سودائی ہے۔۔۔۔۔ اور یوں بھی لگتا ہے جیسے ساری دُنیا کہتی ہے کہ آپ (مذکر) اُس کے سودائی ہیں۔ ہمارا نہیں خیال کہ غزل میں کبھی شاعر خود مذکر اور کبھی خود کو مؤنث باندھے تو کوئی غلط بات ہے، لیکن اتنا یقین ہے کہ اس سے پڑھنے والے پر اچھا اثر نہیں پڑتا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ اسے اس طرح لکھنے میں کوئی حرج نہیں :ساری دُنیا مجھے کہتی، "تِرا سودائی ہے!": ۔۔ باقی آپ بہتر سمجھتی ہیں۔

۔۔۔۔۔
دیکھ لیتی ہوں اسے ایک نظر حسرت سے
زندگی سے مری بس  اتنی  شناسائی  ہے

یہ شعر تو واقعی کمال ہے۔ ہمیں بھی بُہت پسند آیا۔ بھرپور داد۔ کیا ہی بات ہے۔

۔۔۔۔۔۔
بات بے بات قیامت کھڑی کر دیتے ہیں
واہ   کیا  آپ  کا  انداز  پذیرائی  ہے

ہمیں محسوس ہؤا کہ یہ شعر اپنے معنی ٹھیک سے بیان نہیں کر پایا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے :بات بے بات قیامت کھڑی کر دینے: کو :اندازِ پذیرائی: ہی کیوں لیا؟: ۔۔ یا پھر ہم ہی نہیں سمجھ پا رہے۔

۔۔۔۔۔۔
وقت نے اس قدر مجبور کیا ہے مجھ کو
ہمت  دید ، نہ  ہی  طاقت گویائی ہے !

یہاں ہمیں کُچھ جھٹکا سا محسوس ہؤا۔ ہمیں شعر کا پہلا مصرعہ وزن میں کیوں نہیں لگ رہا۔ :قدر: کی :ر: کا مسلئہ محسوس ہو رہا ہے۔ البتہ خیال اور دوسرا مصرعہ بُہت خوب ہیں۔ شعر کو جانے نہیں دیجے گا۔

۔۔۔۔۔۔
یاد  ایام  خدا  جانے   د کھائے  کیا  کیا
صبح کی بھولی ہوئی شام کو گھر آئی ہے

شعر تو اچھا ہے۔ البتہ ایک سوال یہاں پیدا ہوتا ہے۔ کہ کیا ضربُ المثال میں صیغہ بدلنا درست ہے یا نہیں؟ ممکن ہے ہمیں اپنے مرد ہونے کی مجبوری کے تحت پڑھ کر کُچھ عجیب محسوس ہو رہا ہو۔ معلوم نہیں، اگر کُچھ اور ضروب الامثال کے ساتھ ایسا کیا جائے تو کیا کیا صورتیں سامنے آئیں۔ ہے تو کُچھ عجیب لیکن اگر ہم آپ سے کہیں کہ :آپ چھپا رستم نکلیں: تو درست ہو گا یا :آپ چھُپی رستم نکلیں: درست ہو گا؟ نکلنا بہر صورت آپ کو :رستم: ہی پڑے گا۔ :)
باقی اچھی بات یہ ہے کہ آپ نے ہر مصرعہ کو بُہت چست باندھا ہے۔ جیسے اس میں پہلے مصرعہ میں :کیا کیا: میں لطف ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔
زندگی نے تجھے کس پھیر میں ڈالا افروز
خود تماشہ ہے تو اور خود ہی تماشائی ہے

شعر بُہت خوبصورت ہے۔ البتہ جانے کیوں ہمیں لفظ :پھیر: کُچھ کم لطف دے رہا ہے۔ یا پھر ہمارے کانوں نے اسے زیادہ نہیں سُن رکھا۔ اسے ہماری طرف سے بلا وجہ کی تنقید سمجھ لیں تو بھی حرج نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امید ہے کہ ہماری باتوں کی ایک شاگرد کی باتیں ہی سمجھیں گی۔ ہماری کوئی بھی کہی ہوئی بات، ہمارا دعویٰ نہیں ہے کہ اس لائق نہیں ہیں ہم۔ مقصد صرف اپنے خیالات آپ تک پہنچانا ہے۔

ایک بار پھر بھرپور داد کے ساتھ

دُعا گو

13
موجِ غزل / جواب: کُچھ ٹوٹ گیا ہے وی بی ؔ جی، کُچھ ٹوٹ گیا ہے سینے میں (وی بی جی)
« آخری تحریر منجانب vb jee بروز فروری 19, 2018, 09:43:12 صبح »
محترم وی بی جی صاحب،

السلام علیکم،

آپ کی غزل مجھے بیحد پسند آئی، خاص طور پر مطلع بہت عمدہ ہے۔ آپ سے تعرف نہیں ہے لیکن آپ کی غزل پڑھ کر مجھے یقین ہے کہ آپ نہ صرف اچھے شاعر ہیں، بلکہ یقیناً اساتذہ میں شامل ہیں۔

غزل کے تیسرے مصرعے میں کونپلِ جاں کی ترکیب پر احباب نے انگلی اٹھائی ہے، مجھے یقین ہے آپ اس کا حل با آسانی نکال لیں گے، مگر مجھے اس کے باوجود یہ شعر بہت اچھا لگا۔ اس کی لطافت کا جواب نہیں ہے جناب۔

میں تو بار بار مطلع پڑھتا ہوں اور سر دھنتا ہوں۔ واہ!


محترم جناب شہریار احمد صاحب! وعلیکم السلام

جناب ہمارا تو مکمل تعارف آپ سے ہے، کیونکہ ہمارا تعارف اس ایک عجیب سے قلمی نام سے بڑھ کر ہے ہی کُچھ نہیں :) ۔۔ آپ نے ہمیں :وی بی جی صاحب: کہہ کر پُکارا۔ تکریم کا شکریہ لیکن ہمارے نام میں :جی: دراصل اس :صاحب: کی جگہ پہلے سے دستیاب ہے جو ہم نے اپنی عزت آپ کے تحت لگایا ہؤا ہے۔ چنانچہ ان میں سے ایک لکھ لینا کافی سے زیادہ ہے۔

آپ نے ہماری کاوش کو سراہا اور ایک شعر کو اپنے پسندیدہ اشعار میں بھی شامل کیا جس پر سراپا سپاس ہیں۔ عرض ہے کہ ہم اچھے شاعر یا اساتذہ وغیرہ نہیں ہیں۔ معمولی سے شخص ہیں اور بس شوقیہ کبھی قلم بھی اُٹھا لیتے ہیں۔ اچھا شاعر ہونا اور اساتذہ میں سے ہونا ہم ایسوں کے بس کی بات نہیں ہے۔ بلکہ اس سے اچھے شعراء اور اساتذہ کی تحقیر سی محسوس ہونے لگتی ہے۔ سو اس ناچیز کو ایک عام آدمی ہی سمجھئیے۔ شکرگزار ہوں گے۔

ایک بار پھر شکریہ کہ حوصلہ افزائی فرمائی۔

ناچیز

14
موجِ غزل / جواب: کُچھ ٹوٹ گیا ہے وی بی ؔ جی، کُچھ ٹوٹ گیا ہے سینے میں (وی بی جی)
« آخری تحریر منجانب vb jee بروز فروری 19, 2018, 09:35:37 صبح »



السلام علیکم وی بی جی۔ آپ کی غزل پڑھی اور یادیں تازہ ہو گئیں کہ اسی بحر پر ہم میں کافی بحثیں ہوئیں اور کس طرح آپ ہمارے اشکالات دور کرنے میں جُٹے رہتے تھے۔

آپ کی غزل پڑھ کر مزہ آیا مگر ایک بات کہنا چاہوں گا۔۔۔جی ہاں وہی بات جس کے آپ بھی منتظر ہوں گے۔۔۔اور وہ یہ کہ کونپل کو اضافت سے جوڑنا شاید ٹھیک نہیں ہے۔ کیونکہ لفظ کونپل سنسکرت سے ہے۔

باقی غزل بہت پسند آئی۔۔خاص طور پر:

لہروں سے کہو غصہ نہ کریں،  ٹھہریں تو سہی، ہم آتے ہیں
باقی تو سبھی معصوم ہوئے، اک ہم ہی بُرے ہیں سفینے میں

مخلص

اسد

محترم جناب اسد اللہ خان صاحب! وعلیکم السلام

جی جناب یاد ہے ہمیں کہ اس بحر پر ہم دونوں نے ہی ایک دوسرے سے علم کا تبادلہ کیا تھا۔ سوچنے کی راہیں کھُلتی گئیں اور بات ہوتی چلی گئی۔

پہلے تو شکریہ جناب کہ ہماری کاوش پر اپنی رائے بیان فرمائی اور حوصلہ افزائی کی۔

آپ نے بجا فرمایا ہے کہ :کونپلِ جاں: اصول کے لحاظ سے درست نہیں ہے۔ اب ہم سوچ میں ہیں کہ کیا کریں۔ آپ سے اور تمام احباب سے مدد کی درخواست ہے۔ ویسے تو اسے :جاں کی کلی: یا :غنچئہِ جاں: کر سکتے ہیں۔ بعدالذکر کی صورت میں  صیغہ مذکر استعمال کرنا پڑے گا۔ پھر بھی آپ کے ذہن میں کوئی تجویز ہو تو مہربانی کیجے گا۔

آپ کے دوسرے مراسلہ پر کُچھ بات ہم محترمہ افروز مہر صاحبہ کے جواب میں کریں گے۔ البتہ آپ نے ایک جگہ ’فِعلَن (بسکونِ لام)‘ لکھا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ آپ بسکونِ ع لکھنا چاہتے تھے تبھی آپ نے لام پر زبر بھی ڈالی ہو گی۔ اگر ایسا نہیں ہے تو بھی آگاہ کیجے گا۔ البتہ فَ عِ لُ پر تسکین اوسط سے :فعلن (بسکون ع): حاصل ہوتا ہے اور اس طرح آپ کی بات ہمارے علم کے مطابق درست ہے۔

ایک بار پھر شکریہ کے ساتھ

دُعا گو





مُحترم جناب وی بی جی۔ السلام علیکم۔ جی بالکل ٹھیک کہا آپ نے میں بسکونِ عین ہی کہنا چاہ رہا تھا۔ ایک الجھن آپ کے جواب سے بڑھ گئی ہے۔ آپ نے کہا کہ فعلُ پر تسکین اوسط سے فِعلَن حاصل ہوتا ہے لیکن یہ تو جب ہوگا نا کہ فعلُ کے بعد فعولن ہو۔ میں پوچھ رہا تھا کہ چونکہ یہ بحر متدارک کی ہے اور ادھر فعِلن اور فعلَن کی کوئی ترتیب نہیں ہے اس لیے کیا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اصل میں یہ ’فعِلَن‘ کی ہی تکرار ہے اور جدھر شاعر چاہے فعِلَن پر تسکین کا اصول لگا کر عین کو مسکن کردے اور فِعلَن حاصل کرلے؟؟


محترم جناب اسداللہ خان صاحب! وعلیکم السلام

جناب دراصل آپ اور ہم ایک ہی بات کہہ رہے ہیں۔ ہم معافی چاہتے ہیں کہ ہمارے الفاظ نے غلط فہمی سی پیدا کر دی۔ تسکین اوسط چونکہ تین مسلسل متحرک حروف پر عمل کرتی ہے، چنانچہ ہم نے اسے فَعِلُ نہیں بلکہ :فَ عِ لُ: لکھا۔ شاید ہمیں جملہ میں اس سے پہلے :فَعِلُن کے: لکھنا چاہئیے تھا، تاکہ بات صاف رہتی۔ آپ کا شکریہ کہ اس جانب توجہ دلائی۔

ایک بار پھر معزرت کے ساتھ

دُعا گو


15



سرور عالم راز صاحب سے پوری طرح اتفاق ہے۔ میں بھی تو شروع شروع میں یہی کہتا تھا کہ عروض کو اُردو لب و لہجے پر ڈھالنا چاہیے۔ لیکن یہ اصول عروض کا نہیں ہے، میرے خیال میں تو عام بول چال کی زبان کا بھی اصول ہے۔ اور جو جو الفاظ مروج ہو گئے ہیں ان کو تو مان ہی لینا چاہیے۔ مثال کے طور پر ’چیخ و پُکار‘ لیکن اس کو بھی اساتذہ غلط کہتے ہیں اور اس کا متبادل ’چیخ پکار‘ دیتے ہیں۔ ایسے ہی ’سطحِ سمندر‘ ہے۔

ایک بات اور بھی ہے اور وہ یہ کہ کیا اگر ایک ترکیب کسی ایک کے ذوقِ سلیم کو بھاتی ہے تو کیا دوسرے کے ذوقِ سلیم کو بھی بھانا لازم ہے؟ ایک مثال یہ ہے کہ جیسے سرور عالم راز صاحب نے ’لبِ سڑک‘ سے کراہت کا اظہار کیا ایسے ہی یہاں لاہور میں ایک نہر بہتی ہے اور اس کے کنارے ایک گھر پر پتہ لکھا تھا جس میں ’لبِ جُو‘ لکھا گیا تھا۔۔۔یعنی نہر کا کنارا۔ مجھے یہ نہ تب اچھا لگا نہ اب، اس سے بہتر تو ’لبِ سڑک‘ ہی لگتا ہے۔

ایک بات اور سوجھ رہی ہے اور وہ یہ کہ اگر عین سے الف جیسا سلوک کریں تو وصل کا اصول تو ٹھیک لگتا ہے لیکن کچھ الفاظ کا وزن بدل جائے گا۔ جیسے شمع۔ اور مجھے تو یہ بھی لگتا ہے کہ کچھ جگہ پر ہ کو ایسے ہی وزن میں شمار کر لیا جاتا ہے جب کے ہم تو بولتے ہی نہیں۔ مثلاً لفظ اللہ کی ہ اگر ساکن ہو تو شاید ہی کوئی بولتا ہو اور ہ پر بھی وصل کی اجازت ہونی چاہیے۔ آپ سب کیا کہتے ہیں؟
16



السلام علیکم وی بی جی۔ آپ کی غزل پڑھی اور یادیں تازہ ہو گئیں کہ اسی بحر پر ہم میں کافی بحثیں ہوئیں اور کس طرح آپ ہمارے اشکالات دور کرنے میں جُٹے رہتے تھے۔

آپ کی غزل پڑھ کر مزہ آیا مگر ایک بات کہنا چاہوں گا۔۔۔جی ہاں وہی بات جس کے آپ بھی منتظر ہوں گے۔۔۔اور وہ یہ کہ کونپل کو اضافت سے جوڑنا شاید ٹھیک نہیں ہے۔ کیونکہ لفظ کونپل سنسکرت سے ہے۔

باقی غزل بہت پسند آئی۔۔خاص طور پر:

لہروں سے کہو غصہ نہ کریں،  ٹھہریں تو سہی، ہم آتے ہیں
باقی تو سبھی معصوم ہوئے، اک ہم ہی بُرے ہیں سفینے میں

مخلص

اسد


محترم جناب اسد اللہ خان صاحب! وعلیکم السلام

جی جناب یاد ہے ہمیں کہ اس بحر پر ہم دونوں نے ہی ایک دوسرے سے علم کا تبادلہ کیا تھا۔ سوچنے کی راہیں کھُلتی گئیں اور بات ہوتی چلی گئی۔

پہلے تو شکریہ جناب کہ ہماری کاوش پر اپنی رائے بیان فرمائی اور حوصلہ افزائی کی۔

آپ نے بجا فرمایا ہے کہ :کونپلِ جاں: اصول کے لحاظ سے درست نہیں ہے۔ اب ہم سوچ میں ہیں کہ کیا کریں۔ آپ سے اور تمام احباب سے مدد کی درخواست ہے۔ ویسے تو اسے :جاں کی کلی: یا :غنچئہِ جاں: کر سکتے ہیں۔ بعدالذکر کی صورت میں  صیغہ مذکر استعمال کرنا پڑے گا۔ پھر بھی آپ کے ذہن میں کوئی تجویز ہو تو مہربانی کیجے گا۔

آپ کے دوسرے مراسلہ پر کُچھ بات ہم محترمہ افروز مہر صاحبہ کے جواب میں کریں گے۔ البتہ آپ نے ایک جگہ ’فِعلَن (بسکونِ لام)‘ لکھا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ آپ بسکونِ ع لکھنا چاہتے تھے تبھی آپ نے لام پر زبر بھی ڈالی ہو گی۔ اگر ایسا نہیں ہے تو بھی آگاہ کیجے گا۔ البتہ فَ عِ لُ پر تسکین اوسط سے :فعلن (بسکون ع): حاصل ہوتا ہے اور اس طرح آپ کی بات ہمارے علم کے مطابق درست ہے۔

ایک بار پھر شکریہ کے ساتھ

دُعا گو



محبی وی بی جی : سلام مسنون
آپ کی غزل پر احباب اتنا کچھ لکھ رہے ہیں کہ میرے انگلی کٹوانے سے کسی کا بھی بھلا نہیں ہوگا! سو میں "کونپل جاں" پر خیال آرائی کے لئے حاضر ہوگیا۔ اگر مروجہ علم عروض کے اصولوں پر عمل کریں تو یہ ترکیب غلط مانی جائے گی کیونکہ جیسا کہ احباب نے لکھا ہے "کونپل" ہندوستانی لفظ ہے اور "جان" فارسی اور دونوں کا ملاپ ممنوع۔ سچ پوچھئے تو یہ اصول ہی غلط معلوم ہوتا ہے۔ عروض ہمارے یہاں فارسی سے آیا اور جس زمانہ میں آیا اس وقت ہندوستان میں فارسی کا بول بالا تھا یعنی حکومت اور تعلیم یافتہ طبقہ (جو تعداد میں آبادی کا انتہائی چھوٹا حصہ تھا) فارسی کو اوڑھنا بچھونا بنائے ہوئے تھا۔ چنانچہ فارسی کے سارے اصول جوں کے توں ہمارے یہاں اپنا لئے گئے۔ یہ بہت بڑی ستم ظریفی تھی کہ اردو زبان تو متعدد زبانوں سے مل کر بنی تھی اور اپنی اصل میں "دیسی" تھی اور اب بھی ہے لیکن شاعری کے لئے اس کو فارسی کا پابند کردیا گیا۔ اس کی متعدد مثالیں عروض میں ملتی ہیں۔ایک تو یہی ترکیب بنانے والا قاعدہ ہے، دوسرا یہ کہ ہم ع کی آواز حلق سے الف کی طرح نکالنے پر ہی قادر ہیں لیکن اس پر عروضی قانوں ع والے الفاظ کی طرح لگائے جاتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عروض کو اردو سے قریب تر کیا جائے۔ شاید یہی احساس تھا جس نے اساتذہ کو بھی بارہا اس راہ پر چلنے پر مجبور کیا۔ چنانچہ سودا کے یہاں ع کے ساتھ الف کا سا سلوک ملتا ہے اور امیر مینائی "اخلاص وپیار" ترکیب باندھتے ہیں۔
میں تو آپ کی اس ترکیب کی تائید کرنے کے ساتھ آپ سے گزارش کروں گا کہ آپ شعر کو بالکل نہ چھیڑیں۔ "کونپل جاں" اتنی دلنشیں اور نازک ترکیب ہےکہ اس کو کسی اور ترکیب سے بدلنا تقریبا نا ممکن ہے۔ میں جانتا ہوں کہ اس طرح کی تراکیب میں "لب سڑک" قسم کی نا معقول تراکیب کا امکان بھی ہے۔ لیکن شاعروں کو اس سلسلہ میں بہت اھتیاط برتنا ضروری ہوگا تاکہ جو تراکیب فارسی اور ہندوستانی الفاظ کے اشتراک سے بنائی جائیں وہ مناسب، خوبصورت ہوں اور ذوق سلیم کو گوارا بھی۔ دیکھئے اور احباب کیا لکھتے ہیں۔

سرورعالم راز



17
موجِ غزل / Rafaqat nahin Ghazal
« آخری تحریر منجانب nawaz بروز فروری 18, 2018, 04:02:13 صبح »
محترم اراکین و احبابِ انجمن السلام ُ علیکم

آپ حضرات سے غزل پر بھر پور تبصرہ اورتنقید کا
متمنّی ہوں۔۔۔ محترمہ مہر افروز صاحبہ  جو بہت لگن سے
عروض کی شب ظُلمات میں بادیہٗ پیمایٗ کررہی ہیں سے بھی اس
غزل کے عروضی نکات کی خامیوں کی نشاندہی کی  درخواست ہے

دُکھا کے مِرا دل ندامت نہیں ہے
ذرا تجھ میں اب آدمیت نہیں ہے

اگر جمع دَھن وہ کرے زندگی بھر
جہاں میں بشر کو قناعت نہیں ہے

پریشاں اگر اک ذرا بات میں ہو
فراست بصیرت میں وسعت نہیں ہے

چَلا تیر اب جس قدر تو چَلائے
کہ زخموں کے گننے کی فرصت نہیں ہے

کبھی غیر کی چال چلنا یہ اپنے
تمدن کی کوئی حفاظت نہیں ہے

نواز آج جلوہ نمائی کو وہ آئے
کہ تیری تو جن سے رفاقت نہیں ہے
18
بیت بازی / جواب: حرف قاف سے شروع ہونے والے اشعار
« آخری تحریر منجانب REHANA AHMAD بروز فروری 17, 2018, 10:09:00 شام »

قریہء جاں پہ کوئی جب سے مسافر اُترا
قلزمِ دل میں بھی اُٹھنے لگے طوفاں جاناںؔ


       ریحانہ احمد جاناںؔ
19
بیت بازی / جواب: حرف قاف سے شروع ہونے والے اشعار
« آخری تحریر منجانب sheharyar ahmad بروز فروری 17, 2018, 06:53:24 شام »
قضا کے ہاتھ کوئی آ رہا ہے پروانہ
نہ جانے آج کی فہرست میں رقم کیا ہے
20
بیت بازی / جواب: ::- takraar-e-lafzee se muzayyan asha'aar -::
« آخری تحریر منجانب sheharyar ahmad بروز فروری 17, 2018, 06:49:19 شام »
دل اٹھ سا گیا ہے دنیا سے، اب جی نہیں لگتا جینے میں
کچھ ٹوٹ گیا ہے وی بی جی، کچھ ٹوٹ گیا ہے سینے میں
صفحات: 1 [2] 3 4 ... 10
Copyright © اُردو انجمن