اُردو انجمن

 


تازہ تحریریں

صفحات: 1 [2] 3 4 ... 10
11
Test Board / آزادی
« آخری تحریر منجانب Ismaa'eel Aijaaz بروز اگست 10, 2018, 12:21:06 شام »

آزادی



ﺗﻘﺮﯾﺐ ﻧﮑﺎﺡ ﺟﺎﺭﯼ ﺗﮭﯽ۔ ﻧﮑﺎﺡ ﺧﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﺩﻟﮩﺎ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﭘﻮﭼﮫ ﮐﺮ ﻟﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﺳﮑﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﭘﻮﭼﮭﺎ۔ ﺩﻟﮩﺎ ﺍﺱ ﺳﻮﺍﻝ ﺳﮯ ﮔﮭﺒﺮﺍ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﮑﺎﺡ ﺧﻮﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ :
"ﮨﻢ ﺩﻭ ﻣﺎﮞ ﺑﯿﭩﺎ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮩٰﺬﺍ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮫ ﮐﺮ ﺁﺗﺎ ﮨﻮﮞ ... "

ﯾﮧ ﮐﮩﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﭼﻼ‌ ﮔﯿﺎ۔ ﻣﺤﻔﻞ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ۔ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﭘﻮﭼﮭﺎ۔ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﺑﮭﯽ ﮔﮭﺒﺮﺍ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﮔﻢ ﺳﻢ ﺧﺎﻣﻮﺵ۔ ﺩﻟﮩﺎ ﻧﮯ ﮐﺌﯽ ﺑﺎﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮ ﮐﺎﺭ ﺷﺪﯾﺪ ﻃﯿﺶ ﻣﯿﮟ ﺁ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﻝ ﻓﻮﻝ ﺑﮑﺘﺎ ﺭﮨﺎ۔ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﻣﺎﮞ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﺎ ﻣﮑﺎﻟﻤﮧ ﺳﻨﺘﯽ ﺭﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺗﮭﯿﮟ ﮐﮧ، ﺁﺝ ﺗﮏ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﮨﻤﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ۔ ﺟﺒﮑﮧ ﻣﺎﮞ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﺳﯽ ﻣﺤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺭﯼ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﻣﮑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ اﺳﮑﻮﻝ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﻟﯿﮯ ﺩﺍﺧﻞ ﻧﮩﮟ ﮐﺮﻭﺍﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺗﻮ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ :
" ﺍﮔﺮ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺘﺎ ﺳﮑﺘﯽ، ﺗﻮ ﺍﺱ ﺷﺮﻣﻨﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﺸﯽ ﮐﺮ ﻟﻮﮞ ... "

ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﯾﮧ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺳﻨﮯ، ﺗﻮ ﺗﮍﭖ ﺍﭨﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﮒ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﺭﻭﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ :
   " #ﻣﯿﺮﯼ_ﺑﺎﺕ_ﺳﻦ_ﻟﻮ_ﭘﮭﺮ_ﺟﻮ_ﺟﯽ_ﻣﯿﮟ_ﺁﮰ_ﮐﺮ_ﻟﯿﻨﺎ "

ﭼﻨﺪ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻮﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻗﺪﺍﻡ ﺳﮯ ﺭﻭﮎ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﺳﻨﻮ۔ ﭘﻮﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﻃﺎﺭﯼ ﺗﮭﯽ ﺳﺒﮭﯽ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﻟﺐ ﮨﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮔﻮﯾﺎ ﮨﻮﺋﯽ :
" ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻭﺍﻟﺪ، ﭼﭽﺎ، ﺑﮭﺎﺋﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺮﺩ ﻭ ﻋﻮﺭﺕ ﮨﺠﺮﺕ ﮐﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻋﺎﺯﻡ ﺳﻔﺮ ﮨﻮﺋﮯ،  ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺟﮕﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻗﺎﻓﻠﮯ ﭘﺮ ﮨﻨﺪﻭ ﺑﻠﻮﺍﺋﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﻤﻠﮧ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﺮﺩ ﺟﺎﻥ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﻟﮍﮮ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻧﮑﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻠﺤﮧ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ۔ ﻟﮍﺍﺋﯽ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺍﻟﺪ ﻧﮯ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﮐﺎ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﮨﻢ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﮑﺎﻟﻨﺎ ﭼﺎﮨﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﮮ ﻋﻼ‌ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﮯ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﻗﯽ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﺣﺎﻝ ﮨﻮﺍ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﯽ۔ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺯﻧﺪﮦ ﺑﭽﺎ ﺑﮭﯽ، ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﭽﮫ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺎﮔﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺧﻮﻓﺰﺩﮦ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﻥ ﺗﻮ ﭼﮭﭗ ﮐﺮ ﮔﺰﺍﺭ ﺩﯾﺘﯽ، ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺍﺱ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﭘﺮ ﭼﻞ ﭘﮍﺗﯽ۔ ﺟﻮ ﺭﻭﺍﻧﮕﯽ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﺮﺩ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﺟﮕﮧ ﭘﮧ ﺍﯾﮏ ﺑﭽﮯ ﮐﮯ ﺭﻭﻧﮯ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﻨﯽ۔ ﺁﮔﮯ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﮐﺌﯽ ﻻ‌ﺷﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺍﯾﮏ ﺷﯿﺮ ﺧﻮﺍﺭ ﺑﭽﮧ ﭘﮍﺍ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﭨﮭﺎ ﻟﯿﺎ، ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺳﻔﺮ ﮐﺮﺗﯽ ﺁﺧﺮ ﮐﺎﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﯽ۔ ﻣﮩﺎﺟﺮ ﮐﯿﻤﭙﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺟﮕﮧ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﺩ ﻧﻈﺮ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﯾﻮﮞ ﻣﯿﺮﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﺻﺮﻑ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺑﭽﮯ ﺗﮏ ﻣﺤﺪﻭﺩ ﺭﮦ ﮔﺌﯽ۔ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﻤﺮ ﮐﻢ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﻗﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺑﭽﮯ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﺗﻨﮩﺎ ﮨﯽ ﮔﺰﺍﺭ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺁﺝ ﻭﮦ بچہ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﮯ۔ ﺍﺏ ﺑﺘﺎﺅ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻻ‌ﺷﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﺎﺋﮯ ﮔﺌﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻮﻥ ﺑﺘﺎﺗﺎ ... ؟ "

ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﻣﮑﻤﻞ ﮨﻮﻧﮯ ﺗﮏ ﮨﺮ ﺁﻧﮑﮫ ﺍﺷﮑﺒﺎﺭ ﺗﮭﯽ، ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﯿﭩﺎ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﺟﻠﯽ ﮐﭩﯽ ﺳﻨﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ، ﺣﯿﺮﺕ ﺍﻭﺭ ﻣﻤﻨﻮﻧﯿﺖ ﮐﺎ ﭘﮩﺎﮌ ﺑﻨﺎ ﮐﮭﮍﺍ ﺗﮭﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﺷﺮﻣﻨﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺍﺣﺴﺎﻧﺎﺕ ﮐﺎ ﺑﻮﺟﮫ ﺍﭨﮭﺎﺋﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﺮ ﮔﯿﺎ ...

میرے نہایت ہی محترم و قابل قدر قارئیں کرام جن صاحب ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮧ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺳﻨﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﻥ ﮐﺎ ﺩﻋﻮٰﯼ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﯿﻨﯽ ﺷﺎﮨﺪ ﮨﯿﮟ۔ ﺁﺝ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ اپنی ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﺴﻞ ﮐﻮ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﯽ ﺣﯿﺮﺕ ﺍﻧﮕﯿﺰ ﺧﻮﺷﯿﺎﮞ ﻣﻨﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﮦ ﻣﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺟﯿﺴﯽ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻻ‌ﮐﮭﻮﮞ ﺟﺎﻧﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﺁ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺤﻨﺖ ﮐﯽ ﮐﻤﺎﺋﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯿﮟ ...

ﺍﻟﻠﮧ تبارک و تعالٰی ﮨﻤﯿﮟ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﻥ ﻻ‌ﮐﮭﻮﮞ ﻗﺮﺑﺎﻧﯿﻮﮞ، ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﮯ ﺛﻤﺮ "ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ " ﮐﯽ ﻗﺪﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ، ﺁﻣﯿﻦ ثمہ آمیـــــــــــــــــن یارب العالمین ..
طالبِ دعا
12
موجِ غزل / جواب: جانتا ہوں کس لیئے سارا جہاں خاموش ہے
« آخری تحریر منجانب nawaz بروز اگست 10, 2018, 11:59:24 صبح »
محترم افضل صاحب سلامِ مسنون

آپ کی غزل پڑھنے کے بعد ذہن پر عمدہ تاثر قائم ہوا کیونکہ
اشعار کی روانی اور تخیل خوب ہے سو داد قبول ہو۰ 

ایک نکتہ کی وضاحت چاہوں گا،
شعر ہر طرف پنچھی ہیں لیکن آشیاں کوئ نہیں
      پھول ہیں بکھرے ہوئے اور باغباں خاموش ہے
     اس شعر کے مصرع ثانی میں باغباں کی خاموشی
     کا راز کیا ہے ؟ کیونکہ مصرع اولی سے کوئ ربط
     نہیں نظر آرہا  ہو سکتا ہے میری کم علمی آڑے آ رہی ہو
     کچھ وضاحت کر دیں تو مشکل دور ہو

     سدا شاد و آباد رہئے         دعا گو             نواز
13
موجِ غزل / جانتا ہوں کس لیئے سارا جہاں خاموش ہے
« آخری تحریر منجانب faypal بروز اگست 09, 2018, 06:38:29 صبح »
 جانتا ہوں کس لیئےسارا جہاں خاموش ہے

 یہ زمیں خاموش ہے اور آسماں خاموش ہے

کون دے جاتا ہے راتوں کو یہ تاروں کا لباس

پوچھتا ہوں کہکشاں سے کہکشاں خاموش ہے

آ گیا ہوں اس لیئے میں تنگ کنارے چھوڑ کے

شور تھا دریا میں بحرِبیکراں خاموش ہے

 روز آتی ہے درختوں سے پرندوں کی صدا

 میری بستی کا تو ہر اک نو جواں خاموش ہے

 کیا کہوں لوگوں سے میری کوئی بھی سنتا نہیں

 میری محرومی کا ہر اک ہی نشاں خاموش ہے

 ہر طرف پنچھی ہیں لیکن آشیاں کوئی نہیں

 پھول ہیں بکھرے ہوئے اور باغباں خاموش ہے

 سوچ کر یہ بات افضلؔ وہ اچانک رو پڑا

 بولنا تھا جس جگہ پر وہ وہاں خاموش ہے

 
14
موجِ غزل / جواب: کیا کیا خیالِ یار میں پایا ہے دفعتاً
« آخری تحریر منجانب faypal بروز اگست 09, 2018, 05:34:20 صبح »
کیا کیا خیالِ یار میں پایا ہے دفعتاً
اب پھول کوئی توڑ کے لایا ہے دفعتاً
دیوارو در پہ ناچتی دیکھی ہے چاندنی
 یہ کون میرے صحن میں آیا ہے دفعتاً
میں جانتا ہوں کس لیئے فصلِ خزاں میں بھی
 اے شاخ تو نے پھول اگایا ہے دفعتاً
اے بحرِ بیکراں تری لہروں کو چیر کر
 طوفاں تو میں نے خود ہی اٹھایا ہے دفعتاً
اس اجنبی سے شہر میں یوں مجھ کو دیکھ کر
 یہ کس نے اپنا ہاتھ ہلایا ہے دفعتاً
اے رات کس کو دیکھ کے ساحل پہ تو نے یوں
 اک چاند پانیوں میں بنایا ہے دفعتاً
افضلؔ ذرا یہ سوچ اندھیرے میں بیٹھ کر
 کس نے ترا چراغ بجھایا ہے دفعتاً

----افضلؔ چودھری----

 واہ صاحب واہ جناب محترم افضل چودھری صاحب آپ ٗے بہار آئی ماشااللہ ڈھیروں داد آپ کی نذر

آپ کی نذر

اس انجمن میں کون یہ آیا ہے دفعتاً
پھول آ کے چاہتوں کا کھلایا ہے دفعتاً

دیوار و در پہ ناچنے لگی ہے چاندنی
کون انجمن کے صحن میں آیا ہے دفعتاً

فصلِ خزاں میں ہو کا جو عالم ہے ہر طرف
موج غزل کو کس نے سجایا ہے دفعتاً

اس اجنبی سے شہر میں ہم سب ہیں اجنبی
یوں کس نے ہم سے ہاتھ ملایا ہے دفعتاً

اے رات کس کو دیکھ کے اس انجمن میں یوں
اک چاند شاعری لیے آیا ہے دفعتاً

افضل ہمیں پتہ ہے بڑی مدتوں کے بعد
تم نے چراغ بزم جلایا ہے دفعتاً

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آتے جاتے رہا کیجیے صاحب اللہ آپ کو سدا سلامت رکھے ، اپنا بہت خیال رکھیے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے

دعاگو

محترم اسماعیل اعجاز صاحب آداب و تسلیمات! مجھے وہ الفاظ نہیں ملتے جن سے آپ کا شکریہ ادا کروں
اس اجنبی سے شہر میں ہم سب ہیں اجنبی
یوں کس نے ہم سے ہاتھ ملایا ہے دفعتاً
آپ نے ہمیشہ انجمن میں اپنی محبتوں اور محنتوں سے سب کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی فرمائی۔ میں ناچیز کے لیئے تو وہ کچھ کر دیا کہ ہزارہا بار شکریہ بھی ادا کروں تو کم ہو گا۔ اللہ پاک آپ کی عمر دراز کرے اور ہمیشہ شاداں رکھے
15
موجِ غزل / جواب: کیا کیا خیالِ یار میں پایا ہے دفعتاً
« آخری تحریر منجانب faypal بروز اگست 09, 2018, 05:11:16 صبح »
محترم افضل صاحب سلامِ مسنون

یہ آنکھیں منتظر تھیں کہ کوئ کلام، غزل  کسی صاحب سخن کی
جانب سے پیش ہو،سو ٹھرے پانی میں آپ نے پتھر پھینکا کچھ ارتعاش
نظر آیا کافی عرصے کے بعد آپ حاضر ہوئے خوشی ہوئ
آپ کی غزل دیکھی اچھی کاوش ہے
غزل پڑھنے کے دوران کچھ نکات ذہن میں آئے  یعنی
۱ کیا کیا خیال یار میں پایا ہے دفعتاََ
   اب پھول کوئ توڑ کے لایا ہے دفعتاََ
 کیا کیا خیال بہت سارے خیالات  جمع ہو جانا پھر اچانک
 ایک پھول پر بات ختم، تخیل اور الفاظ ایک دوسرے کا
ساتھ نہیں دے رہے گستاخی معاف

۳ میں جانتا ہوں کس لئے فصل خزاں میں بھی
   اے شاخ تونے پھول اُگایا ہے دفعتاََ
 شعر میں دو متضاد باتیں فصل خزاں میں دفعتاََ پھول اُگنا
  تخیل کے زمرے میں کیا آسکتاہے ذرا وضاحت طلب ہے

ایک اچھی غزل پر داد حاضر ہے۰ 
سدا خوش رہئے اُمید ہے آئندہ بھی آپ کا خوبصورت کلام
پڑھنے کو ملتا رہے گا             دعا گو       نواز


محترم نواز صاحب آداب و تسلیمات! حوصلہ افزائی کے  لیئے دعا گو ہوں۔ محترم میں خاکسار صاحب سخن کہاں۔ پچھلے دنوں ایک آن لائن مشاعرے میں یہ غزل لکھنے کا ارادہ ہوا اور سوچا آپ دوستوں کی خدمت اقدس سے بھی مستفید ہو لوں۔ آپ نے جو نقطہ  مطلع میں اٹھایا ہے میرے خیال میں تو ایسا کوئی تضاد نہیں۔ کسی بھی زبان میں جب کسی لفظ یا بات پر زور دینا مطلوب ہو تو اس کو فقرے کے شروع میں لکھا جاتا ہے  مثلاً میں نے شیر کو مارا۔۔۔۔اس میں زور لفظ میں پر دیا جا رہا ہے۔ اسی بات کو اگر یوں کہا جا ئے کہ شیر کو میں نے مارا تو اس میں زور لفظ شیر پر دیا جا رہا ہے۔ پہلے مصرعے میں کیا کیا کا استعمال کیا گیا ہے اور دوسرے مصرع کے شروع میں "اب" کا استعمال صاف ظاہر کر رہا ہے کہ خیال صرف پھول پر ہی موقوف نہیں ہے۔
شعر میں دو متضاد باتیں فصل خزاں میں دفعتاََ پھول اُگنا
 ماہرِ نبات سے پوچو تو وہ کہیں گے کہ پودوں کی زندگی میں تغیرات کا انحصار ضیائی دورانیے پر ہوتا ہے آپ خزاں میں بھی ہر قسم کی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ مگر یہاں بات شاعرانہ تخیل کی ہو رہی ہے۔ شاعرالفاظ کا بادشاہ ہوتا ہے وہ ایک پل میں ممکن کو ناممکن اور ناممکن کو ممکن دکھا سکتا ہے۔ وہ کبھی اپنے الفاظ سے  تحیر پیدا کرتا ہے تو کبھی خیالات کو الفاظ میں ملفوف کرکے تجسس۔ اگر قاری تھوڑا سا شاعر کے پیچھے چلے تو وہ اس کی منطق کو بھانپ لیتا ہے اور تمام مناظر دیکھ سکتا ہے جو شاعر کے تخیل میں ہوتے ہیں۔
کچھ دیر مجھے ریت کے ٹیلے پہ بٹھا کر
دریا کو سمندر میں اترتے ہوئے دیکھو
اس شعر میں بظاہر رونے کا کوئی ذکر نہیں ہے لیکن شاعرکہتا ہے کہ میں نے دنیا میں وہ جوروستم دیکھے ہیں کہ اگر مجھے ریت کے ٹیلے پر بٹھا دیا جائے تو میں اتنے آنسو بہاؤں کہ صحرا میں بھی دریا بن جائے اور سمندرمیں جا گرے۔ اسی طرح
چیونٹی کو دیکھ کر کوئی رویا ہے اس قدر
کچھ دیر میں ہی صحن کی دیوار گر گئی
بظاہر قاری اس شعر کو بھی در گزر ہی کرنا چاہے گا۔ اسے کیا پتہ کہ ایک گھر میں ستر ہزار چیونٹیاں کتنے پیار سے رہ رہی ہیں اور دو بھائیوں نے ایک ہی باپ کے گھر میں دیوار کھڑی کر رکھی ہے۔  شاعر کا کام اشارہ کرنا ہے تفصیل کی طرف جائے تو شعر حسن کھو بیٹھا ہے۔
اب آتے ہیں جو آپ نے سوال اٹھایا۔ شاعر کہتا ہے کہ اے شاخ مجھے پتہ ہے کہ تو نے موسم خزاں میں اچانک یہ پھول کیوں اگایا ہے۔ یہ دکھانے کے لیئے کہ میرا محبوب اس پھول کی طرح ہے جسے اندیشہ خزاں نہیں۔
امید ہے خیال واضع ہو گیا ہو گا۔ آباد رہیں۔
16
موجِ غزل / جواب: لپیٹ دے گا جب آسمانوں کی رب بساط
« آخری تحریر منجانب nawaz بروز اگست 08, 2018, 10:07:00 صبح »
محترم اسماعیل اعجاز صاحب سلام مسنون

ایک غیر مردّف غزل پڑھنے کو ملی گو کہ تاخیر سے خیر دیر آئے
درست آئے،اب کی مرتبہ غزل کا ایک نیا رنگ نظر آیا یعنی فلسفہ
 اور تصوف آپ کے جزبات اور احساسات الفاظ کےنگینوں میں پروئے
 ہوئے ہیں اس عمدہ تخلیق پر داد پیش کرتا ہوں۰ 

لپیٹ دے گا جب آسمانوں کی رب بساط
تو ٹوٹ جائیں گے سب روابط خوش اختلاط
بہت خوب خوش اختلاط کا استعمال  اچھی صحبت، اچھی دوستی
کا نام و نشاں نہ رہے گا یعنی انسان عدم سے آیا ایک معین وقت
کے بعد عدم میں واپس جناب تصوف کا رنگ جھلک رہا ہے خوب

مقطع۰  خیال اپنی تُو موت سے قبل ہی سنبھل جا
          کہ پھر کسی سے نہ کر سکے گا تو ارتباط

         آج تو آپ جزب کی حالت میں کیا خوب اشارہ دیا
         مُوتُوا قبلَ اَن تمُوتُوا    ََمرنے سے پہلے مر جاوء بھئ
       شعر میں کس عمدگی سے ڈھالا ہے   داد حاضر؛؛؛
       خدا کرے کہ ہو زورِ قلم اور زیادہ،  نیک تمناوءں کے ساتھ
                               دعا گو     نواز
17
موجِ غزل / لپیٹ دے گا جب آسمانوں کی رب بساط
« آخری تحریر منجانب Ismaa'eel Aijaaz بروز اگست 08, 2018, 04:23:27 صبح »

قارئین کرام آداب عرض ہیں ۔ ایک فی البدیہہ غیر مردّف کلام پیشِ خدمت ہے جو 29 جولائی 2018 کو لکھا ، امید ہے پسند آئے گا اپنی آرا سے نوازیے

عرض کیا ہے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لپیٹ دے گا جب آسمانوں کی رب بساط
تو ٹوٹ جائیں گے سب روابط خوش اختلاط

ہر ایک ذی روح کانپ اٹھے گی دُہائی دے گی
کہ ختم ہو جائے گی جہاں سے سب انبساط

ندامتوں سے جھکے ہوئے سر نہ اٹھ سکیں گے
تو ہاتھ اپنا چبائے گا ہر بد احتیاط

کہیں پہ کوئی نہ رستہ ہو گا جو واپسی کا
تو رنج و غم بڑھ کے چھین لیں گے ہر اک نشاط

تُو عمر بھر کی کمائی دے کر نہ بچ سکے گا
کسی بھی صورت نہ ختم ہو گا پھر انحطاط

خیالؔ اپنی تو موت سے قبل ہی سنبھل جا
کہ پھر کسی سے نہ کر سکے گا تو ارتباط

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

توجہ کا طلبگار

اسماعیل اعجاز خیالؔ
18
موجِ غزل / جواب: ہمارے ذہن میں کتنے سوال آتے رہے
« آخری تحریر منجانب Ismaa'eel Aijaaz بروز اگست 08, 2018, 04:17:46 صبح »
“milee tumheN nah kabhii nafratoN hi se fursat
muHabbatoN ki sadaa roz ham lagaate rahe”


waa..h!

=========================================

janaab moHtaram B.G.M SaaHeb
sadaa salaamat rehye SaaHeb, Zarrah nawaazi ke liye Ehsaan mand hooN miN aap kaa Allah aap kaa bhalaa karey bahut nawaazish bahut shukriyah

apnaa bahut Khayaal rakhye apnee duAaa'oN meN yaad rakhye
duAaa go
19
موجِ غزل / جواب: ہمارے ذہن میں کتنے سوال آتے رہے
« آخری تحریر منجانب Ismaa'eel Aijaaz بروز اگست 08, 2018, 04:14:17 صبح »
محترم اسماعیل اعجاز صاحب سلامِ مسنون

آپ کی غزل رواں اشعار اور محسوسات کا خوبصورت انداز
میں احاطہ  کئے ہوئے ہے ،بلاغت اس لئے مشکل ہے کہ
کم الفاظ وسیع معنی دیں بہت خوب دل کہتا ہے داد پیش کروں
سو داد حاضر ہے

شعر خلوص پیار محبت کتابی باتیں ہیں
      غرض ہی لے کے ہمیں آپ ملنے آتے رہے

اس شعر کے مصرع ثانی مصرع اولی کا ساتھ نہیں دے رہا
معنی کے لئے الفاظ کی بندش بلیغ نہں معلوم ہورہی معذرت
 کے ساتھ غزل کا مجموعی تاثر بہت خوب

اجازت دیجئے  اللہ آپ کا حامی و ناصر    دعا گو       نواز


جناب محترم نواز صاحب
وعلیکم السلام
جنابِ عالی ذرّہ نوازی کا بے حد شکریہ اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے ، مجھے خوشی ہے کہ آپ نے اپنی گرانقدر آرا سے نوازا گو کہ میرا کلام اتنا اچھا نہیں تھا ، آپ کی مہربانی ہے صاحب
اللہ آپ کو شاد و آباد رکھے اپنا بہت خیال رکھیے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے

دعاگو
20
موجِ غزل / جواب: کیا کیا خیالِ یار میں پایا ہے دفعتاً
« آخری تحریر منجانب Ismaa'eel Aijaaz بروز اگست 08, 2018, 04:08:20 صبح »
کیا کیا خیالِ یار میں پایا ہے دفعتاً
اب پھول کوئی توڑ کے لایا ہے دفعتاً
دیوارو در پہ ناچتی دیکھی ہے چاندنی
 یہ کون میرے صحن میں آیا ہے دفعتاً
میں جانتا ہوں کس لیئے فصلِ خزاں میں بھی
 اے شاخ تو نے پھول اگایا ہے دفعتاً
اے بحرِ بیکراں تری لہروں کو چیر کر
 طوفاں تو میں نے خود ہی اٹھایا ہے دفعتاً
اس اجنبی سے شہر میں یوں مجھ کو دیکھ کر
 یہ کس نے اپنا ہاتھ ہلایا ہے دفعتاً
اے رات کس کو دیکھ کے ساحل پہ تو نے یوں
 اک چاند پانیوں میں بنایا ہے دفعتاً
افضلؔ ذرا یہ سوچ اندھیرے میں بیٹھ کر
 کس نے ترا چراغ بجھایا ہے دفعتاً

----افضلؔ چودھری----

 واہ صاحب واہ جناب محترم افضل چودھری صاحب آپ ٗے بہار آئی ماشااللہ ڈھیروں داد آپ کی نذر

آپ کی نذر

اس انجمن میں کون یہ آیا ہے دفعتاً
پھول آ کے چاہتوں کا کھلایا ہے دفعتاً

دیوار و در پہ ناچنے لگی ہے چاندنی
کون انجمن کے صحن میں آیا ہے دفعتاً

فصلِ خزاں میں ہو کا جو عالم ہے ہر طرف
موج غزل کو کس نے سجایا ہے دفعتاً

اس اجنبی سے شہر میں ہم سب ہیں اجنبی
یوں کس نے ہم سے ہاتھ ملایا ہے دفعتاً

اے رات کس کو دیکھ کے اس انجمن میں یوں
اک چاند شاعری لیے آیا ہے دفعتاً

افضل ہمیں پتہ ہے بڑی مدتوں کے بعد
تم نے چراغ بزم جلایا ہے دفعتاً

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آتے جاتے رہا کیجیے صاحب اللہ آپ کو سدا سلامت رکھے ، اپنا بہت خیال رکھیے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے

دعاگو
صفحات: 1 [2] 3 4 ... 10
Copyright © اُردو انجمن