اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: لوکانہ سنیئر سیٹیزنز‘ مہر افروز کا اظہار خیال اور میری معروضات  (پڑھا گیا 164 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر dr maqsood hasni

  • Adab Dost
  • ***
  • تحریریں: 791
لوکانہ سنیئر سیٹیزنز‘ مہر افروز کا اظہار خیال اور میری معروضات

اظہار خیال

مکرمی ڈاکٹر حسنی صاحب: سلام علیکم
آپ کے انشائیے پڑھتی رہتی ہوں۔ دلچسپ بھی ہوتے ہیں اور سبق آموز بھی۔ شکریہ۔ چھوٹی چھوٹی باتوں میں آپ بہت سی نصیحتیں کرتے ہیں اور بعض اوقات زندگی کے پہلوئوں پر سے پردہ اٹھاتے ہیں۔ یہ ہنر آسان نہیں ہے۔ بہت بہت شکریہ ۔ آپ نہایت اہم خدمت انجام دے رہے ہیں۔
میں دو باتیں عرض کرنے کی اجازت چاہتی ہوں۔ ایک تو یہ کہ آپ اردو میں انگریزی کے الفاظ بلا ضرورت لکھتے ہیں۔ اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اردو پر آپ کو کما حقہ قدرت حاصل ہے اور آردو میں ہی آپ انشائیے لکھ رہے ہیں تو انگریزی کے الفاظ کی بھرتی کیوں کی جائے؟ گزارش ہے کہ اپنی نگارشات کو اردو تک ہی محدود رکھیں۔ عنایت ہوگی اور پڑھتے ہوئے جو طبیعت میں تھوڑا سا انقباض ہوتا ہے وہ بھی نہ ہوگا۔ امید ہے کہ میری بات کا برا نہیں مانیں گے۔ دوسری بات یہ ہے کہ آپ اکثر اپنے انشائیوں میں پنجابی زبان کے الفاظ اور محاورے استعمال کرتے ہیں اور کچھ اصطلاحات بھی لکھتے ہیں جو آپ کے معاشرہ میں مستعمل ہوں گی لیکن عام اردو میں غیر معروف ہیں۔ بہت سے ایسے الفاظ سیاق وسباق سے واضح ہوجاتے ہیں اور جو نہیں ہوتے ان کے بغیر بھی انشائیہ سمجھ میں آجاتا ہے بلکہ اس کی دلکشی بڑھ جاتی ہے۔ مشکل یا غیر معروف پنجابی الفاظ و محاوروں کا اگر آپ اردو ترجمہ لکھ دیا کریں تو بہت اچھا ہوگا۔ کچھ دن قبل مکرمی جناب سرور راز صاحب نے آپ سے درخواست کی تھی کہ دوسروں کی نگارشات پر لکھیں۔ ابھی تک شاید آپ کو وقت نہیں مل سکا ہے۔ اس جانب متوجہ ہونے کی گزارش ہے۔ شکریہ۔
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=10515.0


میری معروضات

آپ نے توجہ فرمائی‘ احسان مند اللہ آپ کو خوش رکھے۔
میں دانستہ طور پر پنجابی انگریزی یا کسی اور زبان کے الفاظ اپنی تحریروں خصوصا افسانوی لکھتوں میں شامل کرتا ہوں۔ اگر آپ میری پنجابی یا انگریزی نثر یا شاعری کو دیکھیں گی وہاں بھی یہ ہی صورت ملے گی۔ اردو بھی مختلف علاقوں کی کہیں پڑھنے کو ملے گی۔
اردو میں یہ رویہ خاص طور پر نمایاں ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ اس میں باطور حصہ یا جز کے شامل ہیں۔
سوال اٹھتا ہے کہ کیوں
یہاں ہی آپ کو مجموعی اور الگ سے کم از کم چودہ زبانوں کے لسانیاتی اشتراک کے حوالہ سے میرا ناچیز تجزیہ ملے گا۔ کیوں
منشی پریم چند‘ قرتہ العین حیدر‘ نسیم حجازی عبداللہ حسین کی تحریروں میں بھی خصوصا اس نوعیت کی صورت حال پڑھنے کو ملے گی جو میرے نزدیک نادانستہ سہی زبان کی بہت بڑی خدمت کے مترادف ہے۔
اردو میں بہت سارے دیسی اور بدیسی زبانوں کے الفاظ اپنی اصلی حالت میں موجود ہیں۔ بہت سے الفاظ کی تفہیم بدل گئی ہے۔ کئی ایک الفاظ کی ہیت بھی تبدیل ہوئی ہے۔ اس کی بہت ساری صورتیں موجود ہیں۔
ناسخ اور اس کے بعد بھی آج تک اردو کو خالص کرنے کا رویہ موجود ہے میرے نزدیک یہ درست نہیں۔
جس زبان کا ذخیرہءالفاظ اور لچک پذری زیادہ ہو گی اس زبان کا دائرہء اظہار و ابلاغ زیادہ ہو گا۔ جتنا ذریعہ ابلاغ بڑھے گا زبان اتنی ہی ترقی کرے گی اسی حساب سے اسے بڑی زبان کہا جائے گا۔
پڑھتے ہوئے کسی دوسری زبان کے داخل شدہ الفاظ کے مفاہیم واضح ہوجاتے ہیں تو ٹھیک ہے۔ آتے کل کو یا کسی کے ہاں مہارت آنے کی صورت میں یہ اردو کے ذخیرہءالفاظ میں داخل ہو جائیں گے۔ مفاہیم درج کرنے کی صورت میں اس لفظ کے مفہوم کے لیے حدود کی دیوار کھڑی کر دی جائے گی۔ راشی کورشوت لینے والا خصم کو وارث مالک خاوند وغیرہ کے مفہاہیم میں نہیں لیا جا سکے گا۔ اشکالی تبدیلیاں نہ آ سکیں گی۔
رہ گئی قاری کی بات اگر کہانی مٰیں دس فی صد بھی دل چسپی ہو گی یا کہانی کو اپنے مزاج اور طور کا قاری مل گیا تو وہ اس کہانی کو ضرور پڑھے گا۔ اس کہانی کو پڑھنا اس کی فطری مجبوری ہو گی۔ مزاج اور فطری طور سے لگا نہ رکھتی کہانی کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو گی تو وہ پڑھنے میں نہ آ سکے گی۔
محقق اور نقاد سے ہٹ کر بھی تحریر کو قاری میسر آتے ہیں۔ لکھنے والا پڑھنے والے کے لیے لکھتا ہے۔ پڑھنے والا عام شخص جس کا تعلق گلی اور بازار سے ہوتا ہے۔ لکھنے والے کے سامنے یہ قاری بھی ہوتے ہیں بل کہ وہ ان کی بات ان کے لیے ہی لکھتا ہے۔ اس طرح اس پر اپنے عمل کی تفہیم کھلتی ہے۔ وہ اس پر غلط یا صحیح کا فتوی صادر کر سکتا ہے۔ نقاد اور محقق کے پڑھنے کے طور و مقاصد الگ سے ہوتے ہیں۔ دوسرا ان کی تعداد انگلیوں پر ہوتی ہے۔ عام قاری بھی نقاد ہوتا ہے اور وہ زندگی کے حوالہ سے اس پر تنقید کرتا ہے یا اس کا رویہ اور طور ترکیب پاتا ہے۔
وفادار فرماں بردار تابع دار وغیرہ مرکب الفاظ اردو میں مستعمل ہیں ہر کوئی تابع دار پر ہی انگلی رکھتا ہے حالاں کہ تینوں ایک قماش کے ہیں۔ اس لفظ کو تحریر سے تو نکال دو گے بول چال سے کیسے خارج کیا جا سکے گا۔
فیض آباد سے سفر کرتا ہوا لفظ قفلی پنجاب میں آیا تو قلفی بن گیا۔ اب یہاں قفلی غلط ہے۔
گریب کو عربی کے زیر اثر غریب بنا دیا گیا۔ غریب کے معنی کہیں پردیسی نہیں لیے جاتے۔
منٹ مار‘ لیڈیاں وٹران سپوٹران اسی طرٰح اہلیان‘ ممکنلٹی‘ ٹربلات‘ بوبئی سے بوبو ایسے سیکڑوں الفاظ سننے کو مل جائیں گے۔
سلام کہنا سلام بولنا وضو کرنا وضو سجانا ہی ہے۔
لکھے مو سا پڑھے خود ا لکھے موسی پڑھے خدا بن چکا ہے۔ مزے کی بات یہ کہ مہارت میں ہے۔
اردو میں ن اور ں کا حشوی استعمال عام سی بات ہے۔ اسی طرح آوازیں گرانا یا بڑھانا کوئی نئی بات نہیں۔
غور کریں یہ دخول الفاظ کے ساتھ زیادہ تر ہوا ہے۔
مقامی و غیر مقامی صفتی یا ہم مرتنہ الفاظ کے باہمی ملاپ سے نئے الفاظ تشکیل پائے ہیں۔
میرے لکھے گئے لفظ مہارت میں آتے ہیں یا نہیں کچھ کہہ نہیں سکتا ہاں غیرمانوس نہیں رہ پائیں گے۔ آپ نے انہیں پڑھا کس تلفظ میں پڑھا اور کن مفاہیم میں لیا یا قریب کے مفاہیم میں لیا یہ ہی میرٰی خواہش تھی۔ ممکن ہے کبھی کسی موقعے پر بدلی شکل کے ساتھ بولیں‘ اظہار و ابلاغ کا ذریعہ تو بنے۔ پڑھنے سننے والا کوئی دوسری شکل اور مفاہیم ضرور دے گا۔ اس طرح یہ اردو کے ذخیرہ الفاظ میں داخل ہو جائیں گے۔ الفاظ کے دخول استعمالی‘ اشکالی  اور تفہیمی تبدیلی پر بابندی عائد کرنا زبان کی خدمت نہیں۔ کوئی ایسا کرنے پر قدرت بھی نہیں رکھتا۔
کروٹ لینا سے زیادہ کروٹ بدلنا مستعمل ہوا ہے
وہ حال لکھ چلا ہوں کروٹ بدل بدل کے
زندگی کرنا رواج میں بہت کم ہو گیا ہے زندگی گزارنا ہی زیادہ تر پڑھنے سننے میں آتا ہے۔
انگریزی میں دال کی آواز کے ہوتے دال کو ڈال پڑھا جائے گا۔ یہ ہی زبان کا رویہ ہے۔
دخول لفظ آج رواج میں نہ آئے ناسہی اردو زبان کے ریکارڈ مٰیں تو آ گئے۔ لفظ ریکارڈ غیرمانوس نہیں۔ لکھ گیا ہوں۔ تفہیم بھی آپ پر واضح ہو گئی ہو گی۔
دس از ایگ
تفہیم دیتا ہے۔ یہ انڈا ہے‘ انڈے نہیں۔ ای کے حساب سے واوال وغیرہ کی ضرورت نہیں۔
انگریزی کے علاقے ائی لینڈ کے علاوہ بھی دنیا جہان میں انگریزی بولی جاتی ہے۔ تمام علاقوں بل کہ تمام استعمال میں لانے والوں کی انگریزی ایک سی نہیں۔
اردو تمام علاقوں اور تمام استعمال میں لانے والوں  کی ایک سی نہیں۔
مصری بغدادی اور حجازی علاقوں کی عربی الگ سے ہے۔ یہ ہی نہیں ہنداستھتان یا ہند سنتان مستعمل ہندوستان کے سواحل میں آج بھی عربی بولی جاتی ہے جو ان سب سے الگ تر ہے۔
باور رہنا چاہیے ہر لکھنے‘ پڑھنے‘ بولنے اور سمجھنے والے کی زبان ایک سی نہیں۔
میرا موقف یہ ہے کہ الفاظ کی آمد یا درامد استعمال تلفظ یا تفہیم پر روک نہیں لگائی جانی چاہیے۔ یہ زبان کی خدمت نہیں ہو گی بل کہ اس کے ساتھ زیادتی ہو گی۔
مجھے اپنی کم علمی کا پوری طرح احساس ہے اس لیے نہیں جانتا میں کہاں تک اپنا موقف واضح کر سکا ہوں۔ خیر میں نے کوشش تو کی ہے۔ ادھوری ناتمام یا غلط کوشش تو کی ہے۔
افسانوی یا مزاحیہ تحریروں میں یہ میرا اسلوبی چلن میری فطرت میں داخل ہو گیا ہے شاید کوشش کے باوجود اس سے باز نہ آ سکوں۔
میرے خیال میں میں اردو کو الگ سے لفظ دے رہا ہوں جو پڑھنے میں آ رہے ہیں۔ سو میں سے ایک تو ان کو استعمال میں لائے گا۔ اگر ایسا ہو گیا تو سمجھوں گا مجھے سفلتا میسر آ گئی ہے۔
ادھر کوئی نثر لکھتا ہی نہیں اظہار کیا کروں اس کے باوجود آئندہ سے شعری حصہ سے متعلق ہو کر اپنی سی کوشش ضرور کروں گا۔



 

Copyright © اُردو انجمن