اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: پاک و ہند میں موسیقی کے آلات کے اُردو، ہندی نام  (پڑھا گیا 199 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر vb jee

  • Adab Fehm
  • ****
  • تحریریں: 1232
  • جنس: مرد

محترم اراکین انجمن ! السلام علیکم

ہم نے کوشش کی ہے کہ پاک و ہند میں استعمال ہونے والے روایتی موسیقی کے آلات کے فہرست بنانے کی کوشش کریں۔ جہاں تک ہو سکا ہم سے ادھر ادھر سے جمع کر لئیے ہیں اور پیش کر رہے ہیں۔ معلوم نہیں کسی کام کے ہیں بھی کہ نہیں، لیکن یونہی خیال آیا کہ کہیں ایک جگہ جمع کر لیں۔ کیا معلوم کوئی ان بیکار آلات میں بھی دلچسپی رکھتا ہو۔

اگر احباب میں سے کسی کو اور آلات کے نام بھی آتے ہوں تو مہربانی فرما کر عنایت فرما دیں۔ کوئی غلطی ہو تو بھی تصحیح فرمائیں۔ عنایت ہو گی۔

دُعا گو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اِک تارا (یک تارا): ستار نما بجانے کا آلہ جس میں صرف ایک تار ہوتا ہے۔

اَلْغوزَہ: منہ میں لے کر بجایا جانے والا بانسری نما ساز جس میں دو چھوٹی بڑی بانسریاں ہوتی ہیں (چھوٹی بانسری سر نکالنے کے لیے اور بڑی آس کے لیے)۔

بانْسْری: پتلی قسم کے بانس کی پور یا چوبی نلی سے بنا ہوا نفیری کی قسم کا ایک ساز جس کے سرے پر پپیا لگا ہوتا ہے جو پھونک کی مدد سے آواز دیتا ہے اور سروں کے سوراخ آواز کا اتار چڑھائے بناتے ہیں۔

بِگُل: منہ سے بجانے کا ایک باجا جو کسی اعلان کے موقع پر (زیادہ تر) پولیس اور فوج میں استعمال ہوتا ہے، قرنا، ترم۔

بین: یہ ساز اکثر سپیرے استعمال کرتے ہیں۔ پھونک سے بجایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بین کی سُریلی آواز سے سانپ بے اختیار ہوکر جھومنے لگتا ہے اور سپیرا اس موقع کا فائدہ اُٹھا کر اُس کو پکڑ لیتا ہے۔

پَکھاوَج: تال کا قدیم ساز، جسے مردنگ کی ترقی یافتہ شکل کہا جاتا ہے مردنگ مٹی کی اور پکھاوج لکڑی کی ہوتی ہے یہ انگلیوں سے کم ہتھیلیوں سے زیادہ بجائی جاتی ہے پکھاوج بیچ میں کسی قدر اونچی اور سروں کی طرف گاودم ہوتی چلی جاتی ہے وضع قطع میں ڈھول سے مشابہ۔

پَون پکھاوج: چھوٹے حجم کی پکھاوج

پُونگی: بانسری، نے۔

تاشہ۔ طاشہ: تغاری یا تشلہ کی شکل کا کھال منڈھا ہوا چھوٹا باجا جو گلے میں ڈال کر دو پتلی لکڑیوں سے بجایا جاتا ہے اس کی آواز ڈھول سے زیادہ تیز مگر کم گونجدار ہوتی ہے۔

تُرَم: نفیری کی قسم کا بغیر سروں کا باجا جو فوج میں کسی اعلان کے لیے بجایا جاتا ہے، بگل، ترئی۔

تُری: ایک قسم کا بگل، نرم، دھوتو۔

تَنْبُورا (طَنبُورا): ستار کی طرح کا ایک ساز جس میں تین یا چار تار لگے ہوتے ہیں چونکہ تونبے میں لکڑی لگا کر اس میں یہ تار باندھ دیتے ہیں اس وجہ سے یہ نام رکھا۔

جھانْجَر: پیروں میں پہننے کا خول دار کڑے کی وضع کا زیور جس کے اندر لوہے یا سیسے کے دانے ڈال دیئے جاتے ہیں جو حرکت کرتے وقت جھنکار پیدا کرتے ہیں۔

چَنگ: ستار کی قسم کا ایک باجا جس کا بالائی رخ خمیدہ ہوتا ہے۔

دائرہ: دف کی شکل کے ایک ساز کا نام جو ایک طرف سے کھلا ہوا ہوتا ہے، چنگ۔

دَف: کم و بیش ایک فٹ قطر کا چوبی حلقہ نما ایک ساز، طبلہ سے مشابہ لیکن بڑا جس میں ایک طرف کھال منڈھی ہوتی ہے، دفلا، دائرہ، ڈھیڑھی، چوپٹی۔

دو تارا: ستار نما بجانے کا آلہ جس میں دو تار ہوتے ہیں۔

دُہُل: معمول سے بہت بڑی ناند یا گملے کی شکل کا کھال منڈھا ہوا باجا جس کی آواز گرج دار اور بہت بڑی ہوتی ہے فوج میں یا دور پرے آواز پہنچانے کے لیے کسی زمانے میں استعمال کیا جاتا تھا، دھونسا، دمامہ، دھاک، ڈنکا، کوس، سرمنڈل۔

دھوُتو: بگل، نرسنگھا، تُری وغیرہ، منہ سے بجایا جانے والا باجا۔

دھونسہ: ڈگڈگی

ڈفلی: ڈفلا، چھوٹی دَف۔

ڈگڈگی: بازی گروں کا جڑواں پیالے کی شکل کا چھوٹا سا ساز جس کے دونوں طرف کھال منڈھی ہوتی ہے، اس کے بیچ میں دو ڈوریاں بندھی ہوتی ہیں جن کے سروں پر مضبوط گانٹھ لگی ہوئی ہوتی ہے جن کی ضرب سے یہ باجا بجایا جاتا ہے یہ باجا ایک ہاتھ میں پکڑ کر ہلانے سے بجتا ہے، ڈرو، ڈمرو۔

ڈُگّی: ڈھنڈورا، ڈگڈگی۔

ڈَنْکا: ڈھول کی ایک قسم جسے آدمی آسانی سے گلے میں لٹکا کر بجا سکتے ہیں؛ نقارہ جو امرا و سلاطین کی سواری کے آگے رہتا تھا۔

ڈونْڈی:  دھونسے کی قسم کا باجا جو نسبتاً بہت چھوٹا اور ہلکا ہوتا ہے جسے آدمی آسانی سے گلے میں لٹکا کر بجا سکتا ہے، ڈگڈگی، ڈنکا۔

ڈھَنْڈورا: دھونسے کی قسم کا باجا لیکن اس کی نسبت بہت چھوٹا اور ہلکا ہوتا ہے جسے آدمی آسانی سے گلے میں ڈال کر بجا سکے۔

ڈھول: بیلن کی وضع کا دونوں سروں پر کھال منڈھا ہوا ساز جسکا پیٹ ذرا ابھرا ہوا اور سرے کسی قدر دبے ہوئے ہوتے ہیں۔

رُباب: سارنگی کی طرح کا ایک تار دار چوبی باجا، تنبور جس کے نچلے حصے پر کھال منڈھی ہوتی ہے لکڑی کی مضراب سے بجایا جاتا ہے کہا جاتا ہے اسے گورو نانک نے ایجاد کیا لیکن یہ دراصل صوبۂ سرحد کا باجا ہے۔

ستار: کلاسیکی موسیقی کا ایک نامور اور مشہورطرین ساز ہے، جو آج بھی بھارت اور پاکستان میں دلچسپی سے سنا اور بجایا جاتا ہے۔ ستار امیر خسرو کی ایجاد ہے، آپ نے وینا سے ایک تونبہ الگ کر کرے وینا کی تشکیل کی۔ ستار کے کدو کو تونبہ کہتے ہیں اور لمبی کھوکھلی لکڑی کو ڈانڈ کہا جاتا ہے۔ تونبے کی چھت پر ہڈی کے دو پل سے ہوتے ہیں جو جواریاں کہلاتے ہیں، ان پر سے تاریں گزرتی ہیں۔ ڈانڈ پر لوہے یا پیتل کے قوس سے بنے ہوتے ہیں جنھیں پردے یا سندریاں کہا جاتا ہے۔ تاروں کا ایک سرا تونبے کے پیچھے ایک کیل سے بندھا ہوتا ہے اور دوسرا ڈانڈ میں لگی ہوئی کھونٹیوں سے آجکل سدار کے تاروں کی تعداد متعیّن نہیں تاہم عمومآ جارتاریں، دوچکاریاں اور تیرہ طربیں رکھی جاتی ہیں۔ پہلی فولاد کی تار باج کہلاتی ہے، دوسری پیتل کی جوڑی، تیسری فولاد کی پنچم اور جوتھی پیتل کی گندھی ہوئی دوہری تار گرام کہلاتی ہے۔ بعض لوگ گت میں شوخی پیدا کرنے کے لیے جوڑے میں ایک تار کی بجاۓ دو تاریں رکھتے ہیں۔

سارنگی: چھاتی سے لگا کر بجایا جانے والا ساز جس میں لکڑی کے خول پر چار تانت کی تانیں اور عموماً یرہ طربیں ہوتی ہیں، تاروں پر کمانچہ پھیر کر بجایا جاتا ہے غچکا، غچکی۔

سَورَنْگی: استاد بندوخان نے سارنگی میں زبردست تبدیلی پیدا کر کے اسے سورنگی کا نام دیا، سورنگی سے انسان کے مزاج کے ہر موڈ اور کیفیت کا پتا چلنے لگا۔

شَہنائی: پھونک سے بجنے والا ایک ساز جو نوبت یا بارات کے ساتھ بجایا جاتا ہے، سرنائی۔شبابہ، سرنائی، صُور، کرنائی،

صور: وہ سینگ جسے بگل کی پھونک سے بجاتے ہیں، نرسنگھا، ترہی، قرنا، بگل۔

طَبلہ: موسیقی کا یہ آلہ دو ہاتھ سے بجائے جانے والے چھوٹے ڈھولوں پر مشتمل ہوتا ہے، جو مختلف جسامتوں میں لکڑی کی کئی قسموں سے تیار کیے جاتے ہیں۔ لفظ طبلہ، عربی زبان سے مستعار لفظ ہے، جس کا لفظی مطلب ڈھول کے ہیں۔ گملے کی شکل یا پیالہ نما، منہ کھال سے منڈھا ہوا جوڑی دار ہوتا ہے اور اصطلاحاً دایاں طبلہ، بایاں طبلہ کہلاتا ہے، جن میں بائیں کا منہ دائیں نسبتاً چوڑا ہوتا ہے، یہ باجا انگلیوں کی ضرب اور ہتھیلی کی تھاپ سے بجایا جاتا ہے، گنتھالم۔

قانُون: سرود کی وضع کا تیئیس فولادی تاروں کا ساز جس کے کل تارتہ تالے میں بٹے ہوتے ہیں اور چوبی مہرک سے جس کو اصطلاحاً جو اور سُر گھوٹا بھی کہتے ہیں، بجایا جاتا ہے۔ یہ ابو نصر فارابی کی ایجاد ہےنیز پیانو، باجہ۔

قَرْنا: سینگ کا بگل، نرسنگا، ترہی، سنکھ نیز نفیری۔

کُوس: نقارہ، دھونسا، طبل۔

گَجَر تَرَنْگ: ایک طرح کا ساز جس کی آواز گجر کی یعنی گھنٹی کی آواز کی طرح ہوتی ہے۔

گھَنْٹا: کسی دھات کا توا وغیرہ جسے موگری سے بجاتے ہیں۔

گھُنْگْرُو: مٹر کے برابر یا اس سے کچھ بڑا دھات کا بنا ہوا گول دانہ (خول والا) جو ہلنے سے بجتا ہے نیز اسی قسم کے دانوں سے بنا ہوا ایک زیور جو اکثر ناچنے والیاں | والے ناچتے وقت پہنتے ہیں، زنگلہ۔ جھانْجھَر، پائِل، خَول،

مَرْچَنْگ: منہ میں پکڑ کر بجانے کا ایک چھوٹا باجا جس سے جھینگر کی آواز سے مشابہ آواز نکلتی ہے اور اسے انگلیوں سے بجاتے ہیں۔

مِرْدَنْگ: مٹی کی بنی ہوئی لمبوتری طرح کی ڈھولک جو دونوں طرف سے بجتی ہے۔

ناقُوس: وہ سنکھ جو ہندو یا دوسرے غیر مسلم یا مشرک پوجا کے وقت بجاتے ہیں، ایک قسم کی بہت بڑی کوڑی، گھونگا، گھنٹا۔

نَرْسِنْگا: پونگی کی وضع کا بہت طبی اور اونچی آواز کا ساز، ایک قسم کا باجا، ایک قسم کا بجانے کا سینگ، قرنا، دھوتو، بگل، ترئی، صور، ترم، ناقوس، نرسنگھا، سینگ کا طرح کا بنایا ہوا بگل۔

نَفِیری: بانسری کی قسم کا ایک ساز، شہنائی، بانسری، الغوزہ، ترئی، قرنا، نفیر۔

نَقَّارَہ (دھونسہ): دھونسا، طبل، کوس، نوبت، ٹمک، روئیں خم۔

نَوبَت:  نقارہ، دھونسا، باجہ، کوس، طبل، ڈنکا۔

ونجھلی: بانسری اور بین کی درمیانی شکل کا ایک بجانے کا آلہ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



گنگناتی رهے گی انھیں تو سدا
اتنے نغمے تِرے نام کر جائیں گے

غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 6168
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar

محترم اراکین انجمن ! السلام علیکم

ہم نے کوشش کی ہے کہ پاک و ہند میں استعمال ہونے والے روایتی موسیقی کے آلات کے فہرست بنانے کی کوشش کریں۔ جہاں تک ہو سکا ہم سے ادھر ادھر سے جمع کر لئیے ہیں اور پیش کر رہے ہیں۔ معلوم نہیں کسی کام کے ہیں بھی کہ نہیں، لیکن یونہی خیال آیا کہ کہیں ایک جگہ جمع کر لیں۔ کیا معلوم کوئی ان بیکار آلات میں بھی دلچسپی رکھتا ہو۔

اگر احباب میں سے کسی کو اور آلات کے نام بھی آتے ہوں تو مہربانی فرما کر عنایت فرما دیں۔ کوئی غلطی ہو تو بھی تصحیح فرمائیں۔ عنایت ہو گی۔

دُعا گو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اِک تارا (یک تارا): ستار نما بجانے کا آلہ جس میں صرف ایک تار ہوتا ہے۔

اَلْغوزَہ: منہ میں لے کر بجایا جانے والا بانسری نما ساز جس میں دو چھوٹی بڑی بانسریاں ہوتی ہیں (چھوٹی بانسری سر نکالنے کے لیے اور بڑی آس کے لیے)۔

بانْسْری: پتلی قسم کے بانس کی پور یا چوبی نلی سے بنا ہوا نفیری کی قسم کا ایک ساز جس کے سرے پر پپیا لگا ہوتا ہے جو پھونک کی مدد سے آواز دیتا ہے اور سروں کے سوراخ آواز کا اتار چڑھائے بناتے ہیں۔

بِگُل: منہ سے بجانے کا ایک باجا جو کسی اعلان کے موقع پر (زیادہ تر) پولیس اور فوج میں استعمال ہوتا ہے، قرنا، ترم۔

بین: یہ ساز اکثر سپیرے استعمال کرتے ہیں۔ پھونک سے بجایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بین کی سُریلی آواز سے سانپ بے اختیار ہوکر جھومنے لگتا ہے اور سپیرا اس موقع کا فائدہ اُٹھا کر اُس کو پکڑ لیتا ہے۔

پَکھاوَج: تال کا قدیم ساز، جسے مردنگ کی ترقی یافتہ شکل کہا جاتا ہے مردنگ مٹی کی اور پکھاوج لکڑی کی ہوتی ہے یہ انگلیوں سے کم ہتھیلیوں سے زیادہ بجائی جاتی ہے پکھاوج بیچ میں کسی قدر اونچی اور سروں کی طرف گاودم ہوتی چلی جاتی ہے وضع قطع میں ڈھول سے مشابہ۔

پَون پکھاوج: چھوٹے حجم کی پکھاوج

پُونگی: بانسری، نے۔

تاشہ۔ طاشہ: تغاری یا تشلہ کی شکل کا کھال منڈھا ہوا چھوٹا باجا جو گلے میں ڈال کر دو پتلی لکڑیوں سے بجایا جاتا ہے اس کی آواز ڈھول سے زیادہ تیز مگر کم گونجدار ہوتی ہے۔

تُرَم: نفیری کی قسم کا بغیر سروں کا باجا جو فوج میں کسی اعلان کے لیے بجایا جاتا ہے، بگل، ترئی۔

تُری: ایک قسم کا بگل، نرم، دھوتو۔

تَنْبُورا (طَنبُورا): ستار کی طرح کا ایک ساز جس میں تین یا چار تار لگے ہوتے ہیں چونکہ تونبے میں لکڑی لگا کر اس میں یہ تار باندھ دیتے ہیں اس وجہ سے یہ نام رکھا۔

جھانْجَر: پیروں میں پہننے کا خول دار کڑے کی وضع کا زیور جس کے اندر لوہے یا سیسے کے دانے ڈال دیئے جاتے ہیں جو حرکت کرتے وقت جھنکار پیدا کرتے ہیں۔

چَنگ: ستار کی قسم کا ایک باجا جس کا بالائی رخ خمیدہ ہوتا ہے۔

دائرہ: دف کی شکل کے ایک ساز کا نام جو ایک طرف سے کھلا ہوا ہوتا ہے، چنگ۔

دَف: کم و بیش ایک فٹ قطر کا چوبی حلقہ نما ایک ساز، طبلہ سے مشابہ لیکن بڑا جس میں ایک طرف کھال منڈھی ہوتی ہے، دفلا، دائرہ، ڈھیڑھی، چوپٹی۔

دو تارا: ستار نما بجانے کا آلہ جس میں دو تار ہوتے ہیں۔

دُہُل: معمول سے بہت بڑی ناند یا گملے کی شکل کا کھال منڈھا ہوا باجا جس کی آواز گرج دار اور بہت بڑی ہوتی ہے فوج میں یا دور پرے آواز پہنچانے کے لیے کسی زمانے میں استعمال کیا جاتا تھا، دھونسا، دمامہ، دھاک، ڈنکا، کوس، سرمنڈل۔

دھوُتو: بگل، نرسنگھا، تُری وغیرہ، منہ سے بجایا جانے والا باجا۔

دھونسہ: ڈگڈگی

ڈفلی: ڈفلا، چھوٹی دَف۔

ڈگڈگی: بازی گروں کا جڑواں پیالے کی شکل کا چھوٹا سا ساز جس کے دونوں طرف کھال منڈھی ہوتی ہے، اس کے بیچ میں دو ڈوریاں بندھی ہوتی ہیں جن کے سروں پر مضبوط گانٹھ لگی ہوئی ہوتی ہے جن کی ضرب سے یہ باجا بجایا جاتا ہے یہ باجا ایک ہاتھ میں پکڑ کر ہلانے سے بجتا ہے، ڈرو، ڈمرو۔

ڈُگّی: ڈھنڈورا، ڈگڈگی۔

ڈَنْکا: ڈھول کی ایک قسم جسے آدمی آسانی سے گلے میں لٹکا کر بجا سکتے ہیں؛ نقارہ جو امرا و سلاطین کی سواری کے آگے رہتا تھا۔

ڈونْڈی:  دھونسے کی قسم کا باجا جو نسبتاً بہت چھوٹا اور ہلکا ہوتا ہے جسے آدمی آسانی سے گلے میں لٹکا کر بجا سکتا ہے، ڈگڈگی، ڈنکا۔

ڈھَنْڈورا: دھونسے کی قسم کا باجا لیکن اس کی نسبت بہت چھوٹا اور ہلکا ہوتا ہے جسے آدمی آسانی سے گلے میں ڈال کر بجا سکے۔

ڈھول: بیلن کی وضع کا دونوں سروں پر کھال منڈھا ہوا ساز جسکا پیٹ ذرا ابھرا ہوا اور سرے کسی قدر دبے ہوئے ہوتے ہیں۔

رُباب: سارنگی کی طرح کا ایک تار دار چوبی باجا، تنبور جس کے نچلے حصے پر کھال منڈھی ہوتی ہے لکڑی کی مضراب سے بجایا جاتا ہے کہا جاتا ہے اسے گورو نانک نے ایجاد کیا لیکن یہ دراصل صوبۂ سرحد کا باجا ہے۔

ستار: کلاسیکی موسیقی کا ایک نامور اور مشہورطرین ساز ہے، جو آج بھی بھارت اور پاکستان میں دلچسپی سے سنا اور بجایا جاتا ہے۔ ستار امیر خسرو کی ایجاد ہے، آپ نے وینا سے ایک تونبہ الگ کر کرے وینا کی تشکیل کی۔ ستار کے کدو کو تونبہ کہتے ہیں اور لمبی کھوکھلی لکڑی کو ڈانڈ کہا جاتا ہے۔ تونبے کی چھت پر ہڈی کے دو پل سے ہوتے ہیں جو جواریاں کہلاتے ہیں، ان پر سے تاریں گزرتی ہیں۔ ڈانڈ پر لوہے یا پیتل کے قوس سے بنے ہوتے ہیں جنھیں پردے یا سندریاں کہا جاتا ہے۔ تاروں کا ایک سرا تونبے کے پیچھے ایک کیل سے بندھا ہوتا ہے اور دوسرا ڈانڈ میں لگی ہوئی کھونٹیوں سے آجکل سدار کے تاروں کی تعداد متعیّن نہیں تاہم عمومآ جارتاریں، دوچکاریاں اور تیرہ طربیں رکھی جاتی ہیں۔ پہلی فولاد کی تار باج کہلاتی ہے، دوسری پیتل کی جوڑی، تیسری فولاد کی پنچم اور جوتھی پیتل کی گندھی ہوئی دوہری تار گرام کہلاتی ہے۔ بعض لوگ گت میں شوخی پیدا کرنے کے لیے جوڑے میں ایک تار کی بجاۓ دو تاریں رکھتے ہیں۔

سارنگی: چھاتی سے لگا کر بجایا جانے والا ساز جس میں لکڑی کے خول پر چار تانت کی تانیں اور عموماً یرہ طربیں ہوتی ہیں، تاروں پر کمانچہ پھیر کر بجایا جاتا ہے غچکا، غچکی۔

سَورَنْگی: استاد بندوخان نے سارنگی میں زبردست تبدیلی پیدا کر کے اسے سورنگی کا نام دیا، سورنگی سے انسان کے مزاج کے ہر موڈ اور کیفیت کا پتا چلنے لگا۔

شَہنائی: پھونک سے بجنے والا ایک ساز جو نوبت یا بارات کے ساتھ بجایا جاتا ہے، سرنائی۔شبابہ، سرنائی، صُور، کرنائی،

صور: وہ سینگ جسے بگل کی پھونک سے بجاتے ہیں، نرسنگھا، ترہی، قرنا، بگل۔

طَبلہ: موسیقی کا یہ آلہ دو ہاتھ سے بجائے جانے والے چھوٹے ڈھولوں پر مشتمل ہوتا ہے، جو مختلف جسامتوں میں لکڑی کی کئی قسموں سے تیار کیے جاتے ہیں۔ لفظ طبلہ، عربی زبان سے مستعار لفظ ہے، جس کا لفظی مطلب ڈھول کے ہیں۔ گملے کی شکل یا پیالہ نما، منہ کھال سے منڈھا ہوا جوڑی دار ہوتا ہے اور اصطلاحاً دایاں طبلہ، بایاں طبلہ کہلاتا ہے، جن میں بائیں کا منہ دائیں نسبتاً چوڑا ہوتا ہے، یہ باجا انگلیوں کی ضرب اور ہتھیلی کی تھاپ سے بجایا جاتا ہے، گنتھالم۔

قانُون: سرود کی وضع کا تیئیس فولادی تاروں کا ساز جس کے کل تارتہ تالے میں بٹے ہوتے ہیں اور چوبی مہرک سے جس کو اصطلاحاً جو اور سُر گھوٹا بھی کہتے ہیں، بجایا جاتا ہے۔ یہ ابو نصر فارابی کی ایجاد ہےنیز پیانو، باجہ۔

قَرْنا: سینگ کا بگل، نرسنگا، ترہی، سنکھ نیز نفیری۔

کُوس: نقارہ، دھونسا، طبل۔

گَجَر تَرَنْگ: ایک طرح کا ساز جس کی آواز گجر کی یعنی گھنٹی کی آواز کی طرح ہوتی ہے۔

گھَنْٹا: کسی دھات کا توا وغیرہ جسے موگری سے بجاتے ہیں۔

گھُنْگْرُو: مٹر کے برابر یا اس سے کچھ بڑا دھات کا بنا ہوا گول دانہ (خول والا) جو ہلنے سے بجتا ہے نیز اسی قسم کے دانوں سے بنا ہوا ایک زیور جو اکثر ناچنے والیاں | والے ناچتے وقت پہنتے ہیں، زنگلہ۔ جھانْجھَر، پائِل، خَول،

مَرْچَنْگ: منہ میں پکڑ کر بجانے کا ایک چھوٹا باجا جس سے جھینگر کی آواز سے مشابہ آواز نکلتی ہے اور اسے انگلیوں سے بجاتے ہیں۔

مِرْدَنْگ: مٹی کی بنی ہوئی لمبوتری طرح کی ڈھولک جو دونوں طرف سے بجتی ہے۔

ناقُوس: وہ سنکھ جو ہندو یا دوسرے غیر مسلم یا مشرک پوجا کے وقت بجاتے ہیں، ایک قسم کی بہت بڑی کوڑی، گھونگا، گھنٹا۔

نَرْسِنْگا: پونگی کی وضع کا بہت طبی اور اونچی آواز کا ساز، ایک قسم کا باجا، ایک قسم کا بجانے کا سینگ، قرنا، دھوتو، بگل، ترئی، صور، ترم، ناقوس، نرسنگھا، سینگ کا طرح کا بنایا ہوا بگل۔

نَفِیری: بانسری کی قسم کا ایک ساز، شہنائی، بانسری، الغوزہ، ترئی، قرنا، نفیر۔

نَقَّارَہ (دھونسہ): دھونسا، طبل، کوس، نوبت، ٹمک، روئیں خم۔

نَوبَت:  نقارہ، دھونسا، باجہ، کوس، طبل، ڈنکا۔

ونجھلی: بانسری اور بین کی درمیانی شکل کا ایک بجانے کا آلہ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



عزیز مکرم : سلام علیکم
واللہ کیا ہی اچھا اور ضروری کام آپ نےانجام دیا ہے۔ دل خوش ہوگیا۔ آپ نے خدامعلوم کیوں اس فہرست کو "بیکار" لکھا ہے۔ بھلا علم کبھی بیکار ہوتا ہے؟ میں خود بھی موسیقی کا رسیا ہوں۔اکثر خیال آیا کہ سازوں کی فہرست ہونی چاہئے۔ آپ نے یہ ضرورت پوری کردی۔ اگر ذرا سی مزید وسعت آپ اپنے خیال اور قلم کو دیتے اور ان اصطلاحات پر لکھتے جو متن میں درج ہیں تو لطف دوبالا ہوجاتا۔ امید ہے کہ اول فرصت میں اس جانب توجہ دیں گے۔ آج راوی آپ سے بہت خوش ہے اور بغلیں بجاتا، ناچتا پھر رہا ہے۔ بانچھیں کھلی ہوئی ہیں اور آنکھیں چڑھی ہوئی ہیں۔ خدا خیر کرے۔
ایک بری خبر یہ ہے کہ کل اسپتال جانا پڑا۔ آج واپس آیا تو آپ کا کتاب والا ای میل کمپیوٹر نے کہیں خرد برد کردیا تھا۔ بہت شرمندہ ہوں۔ ایک بار اوردونوں پتوں پر بھیج دیں۔ اب کے بار ڈائون لوڈ کر کے محفوظ کر لوں گا۔ انشا اللہ۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔
اور ہاں: ہارمونیم، سرود، سنتور، گھڑا، جل ترنگ اورجھانجھ (دف کے ارد گرد چھنکنے والے دھات کے چھلے ڈال کر اسے یہاں جھانجھ کہتے ہیں) کے بارے میں کیا خیال ہے؟ انھیں بھی شامل کر لیں؟

سرورعا؛، راز






غیرحاضر vb jee

  • Adab Fehm
  • ****
  • تحریریں: 1232
  • جنس: مرد
جواب: پاک و ہند میں موسیقی کے آلات کے اُردو، ہندی نام
« Reply #2 بروز: اپریل 03, 2017, 10:03:44 صبح »

محترم اراکین انجمن ! السلام علیکم

ہم نے کوشش کی ہے کہ پاک و ہند میں استعمال ہونے والے روایتی موسیقی کے آلات کے فہرست بنانے کی کوشش کریں۔ جہاں تک ہو سکا ہم سے ادھر ادھر سے جمع کر لئیے ہیں اور پیش کر رہے ہیں۔ معلوم نہیں کسی کام کے ہیں بھی کہ نہیں، لیکن یونہی خیال آیا کہ کہیں ایک جگہ جمع کر لیں۔ کیا معلوم کوئی ان بیکار آلات میں بھی دلچسپی رکھتا ہو۔

اگر احباب میں سے کسی کو اور آلات کے نام بھی آتے ہوں تو مہربانی فرما کر عنایت فرما دیں۔ کوئی غلطی ہو تو بھی تصحیح فرمائیں۔ عنایت ہو گی۔

دُعا گو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اِک تارا (یک تارا): ستار نما بجانے کا آلہ جس میں صرف ایک تار ہوتا ہے۔

اَلْغوزَہ: منہ میں لے کر بجایا جانے والا بانسری نما ساز جس میں دو چھوٹی بڑی بانسریاں ہوتی ہیں (چھوٹی بانسری سر نکالنے کے لیے اور بڑی آس کے لیے)۔

بانْسْری: پتلی قسم کے بانس کی پور یا چوبی نلی سے بنا ہوا نفیری کی قسم کا ایک ساز جس کے سرے پر پپیا لگا ہوتا ہے جو پھونک کی مدد سے آواز دیتا ہے اور سروں کے سوراخ آواز کا اتار چڑھائے بناتے ہیں۔

بِگُل: منہ سے بجانے کا ایک باجا جو کسی اعلان کے موقع پر (زیادہ تر) پولیس اور فوج میں استعمال ہوتا ہے، قرنا، ترم۔

بین: یہ ساز اکثر سپیرے استعمال کرتے ہیں۔ پھونک سے بجایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بین کی سُریلی آواز سے سانپ بے اختیار ہوکر جھومنے لگتا ہے اور سپیرا اس موقع کا فائدہ اُٹھا کر اُس کو پکڑ لیتا ہے۔

پَکھاوَج: تال کا قدیم ساز، جسے مردنگ کی ترقی یافتہ شکل کہا جاتا ہے مردنگ مٹی کی اور پکھاوج لکڑی کی ہوتی ہے یہ انگلیوں سے کم ہتھیلیوں سے زیادہ بجائی جاتی ہے پکھاوج بیچ میں کسی قدر اونچی اور سروں کی طرف گاودم ہوتی چلی جاتی ہے وضع قطع میں ڈھول سے مشابہ۔

پَون پکھاوج: چھوٹے حجم کی پکھاوج

پُونگی: بانسری، نے۔

تاشہ۔ طاشہ: تغاری یا تشلہ کی شکل کا کھال منڈھا ہوا چھوٹا باجا جو گلے میں ڈال کر دو پتلی لکڑیوں سے بجایا جاتا ہے اس کی آواز ڈھول سے زیادہ تیز مگر کم گونجدار ہوتی ہے۔

تُرَم: نفیری کی قسم کا بغیر سروں کا باجا جو فوج میں کسی اعلان کے لیے بجایا جاتا ہے، بگل، ترئی۔

تُری: ایک قسم کا بگل، نرم، دھوتو۔

تَنْبُورا (طَنبُورا): ستار کی طرح کا ایک ساز جس میں تین یا چار تار لگے ہوتے ہیں چونکہ تونبے میں لکڑی لگا کر اس میں یہ تار باندھ دیتے ہیں اس وجہ سے یہ نام رکھا۔

جھانْجَر: پیروں میں پہننے کا خول دار کڑے کی وضع کا زیور جس کے اندر لوہے یا سیسے کے دانے ڈال دیئے جاتے ہیں جو حرکت کرتے وقت جھنکار پیدا کرتے ہیں۔

چَنگ: ستار کی قسم کا ایک باجا جس کا بالائی رخ خمیدہ ہوتا ہے۔

دائرہ: دف کی شکل کے ایک ساز کا نام جو ایک طرف سے کھلا ہوا ہوتا ہے، چنگ۔

دَف: کم و بیش ایک فٹ قطر کا چوبی حلقہ نما ایک ساز، طبلہ سے مشابہ لیکن بڑا جس میں ایک طرف کھال منڈھی ہوتی ہے، دفلا، دائرہ، ڈھیڑھی، چوپٹی۔

دو تارا: ستار نما بجانے کا آلہ جس میں دو تار ہوتے ہیں۔

دُہُل: معمول سے بہت بڑی ناند یا گملے کی شکل کا کھال منڈھا ہوا باجا جس کی آواز گرج دار اور بہت بڑی ہوتی ہے فوج میں یا دور پرے آواز پہنچانے کے لیے کسی زمانے میں استعمال کیا جاتا تھا، دھونسا، دمامہ، دھاک، ڈنکا، کوس، سرمنڈل۔

دھوُتو: بگل، نرسنگھا، تُری وغیرہ، منہ سے بجایا جانے والا باجا۔

دھونسہ: ڈگڈگی

ڈفلی: ڈفلا، چھوٹی دَف۔

ڈگڈگی: بازی گروں کا جڑواں پیالے کی شکل کا چھوٹا سا ساز جس کے دونوں طرف کھال منڈھی ہوتی ہے، اس کے بیچ میں دو ڈوریاں بندھی ہوتی ہیں جن کے سروں پر مضبوط گانٹھ لگی ہوئی ہوتی ہے جن کی ضرب سے یہ باجا بجایا جاتا ہے یہ باجا ایک ہاتھ میں پکڑ کر ہلانے سے بجتا ہے، ڈرو، ڈمرو۔

ڈُگّی: ڈھنڈورا، ڈگڈگی۔

ڈَنْکا: ڈھول کی ایک قسم جسے آدمی آسانی سے گلے میں لٹکا کر بجا سکتے ہیں؛ نقارہ جو امرا و سلاطین کی سواری کے آگے رہتا تھا۔

ڈونْڈی:  دھونسے کی قسم کا باجا جو نسبتاً بہت چھوٹا اور ہلکا ہوتا ہے جسے آدمی آسانی سے گلے میں لٹکا کر بجا سکتا ہے، ڈگڈگی، ڈنکا۔

ڈھَنْڈورا: دھونسے کی قسم کا باجا لیکن اس کی نسبت بہت چھوٹا اور ہلکا ہوتا ہے جسے آدمی آسانی سے گلے میں ڈال کر بجا سکے۔

ڈھول: بیلن کی وضع کا دونوں سروں پر کھال منڈھا ہوا ساز جسکا پیٹ ذرا ابھرا ہوا اور سرے کسی قدر دبے ہوئے ہوتے ہیں۔

رُباب: سارنگی کی طرح کا ایک تار دار چوبی باجا، تنبور جس کے نچلے حصے پر کھال منڈھی ہوتی ہے لکڑی کی مضراب سے بجایا جاتا ہے کہا جاتا ہے اسے گورو نانک نے ایجاد کیا لیکن یہ دراصل صوبۂ سرحد کا باجا ہے۔

ستار: کلاسیکی موسیقی کا ایک نامور اور مشہورطرین ساز ہے، جو آج بھی بھارت اور پاکستان میں دلچسپی سے سنا اور بجایا جاتا ہے۔ ستار امیر خسرو کی ایجاد ہے، آپ نے وینا سے ایک تونبہ الگ کر کرے وینا کی تشکیل کی۔ ستار کے کدو کو تونبہ کہتے ہیں اور لمبی کھوکھلی لکڑی کو ڈانڈ کہا جاتا ہے۔ تونبے کی چھت پر ہڈی کے دو پل سے ہوتے ہیں جو جواریاں کہلاتے ہیں، ان پر سے تاریں گزرتی ہیں۔ ڈانڈ پر لوہے یا پیتل کے قوس سے بنے ہوتے ہیں جنھیں پردے یا سندریاں کہا جاتا ہے۔ تاروں کا ایک سرا تونبے کے پیچھے ایک کیل سے بندھا ہوتا ہے اور دوسرا ڈانڈ میں لگی ہوئی کھونٹیوں سے آجکل سدار کے تاروں کی تعداد متعیّن نہیں تاہم عمومآ جارتاریں، دوچکاریاں اور تیرہ طربیں رکھی جاتی ہیں۔ پہلی فولاد کی تار باج کہلاتی ہے، دوسری پیتل کی جوڑی، تیسری فولاد کی پنچم اور جوتھی پیتل کی گندھی ہوئی دوہری تار گرام کہلاتی ہے۔ بعض لوگ گت میں شوخی پیدا کرنے کے لیے جوڑے میں ایک تار کی بجاۓ دو تاریں رکھتے ہیں۔

سارنگی: چھاتی سے لگا کر بجایا جانے والا ساز جس میں لکڑی کے خول پر چار تانت کی تانیں اور عموماً یرہ طربیں ہوتی ہیں، تاروں پر کمانچہ پھیر کر بجایا جاتا ہے غچکا، غچکی۔

سَورَنْگی: استاد بندوخان نے سارنگی میں زبردست تبدیلی پیدا کر کے اسے سورنگی کا نام دیا، سورنگی سے انسان کے مزاج کے ہر موڈ اور کیفیت کا پتا چلنے لگا۔

شَہنائی: پھونک سے بجنے والا ایک ساز جو نوبت یا بارات کے ساتھ بجایا جاتا ہے، سرنائی۔شبابہ، سرنائی، صُور، کرنائی،

صور: وہ سینگ جسے بگل کی پھونک سے بجاتے ہیں، نرسنگھا، ترہی، قرنا، بگل۔

طَبلہ: موسیقی کا یہ آلہ دو ہاتھ سے بجائے جانے والے چھوٹے ڈھولوں پر مشتمل ہوتا ہے، جو مختلف جسامتوں میں لکڑی کی کئی قسموں سے تیار کیے جاتے ہیں۔ لفظ طبلہ، عربی زبان سے مستعار لفظ ہے، جس کا لفظی مطلب ڈھول کے ہیں۔ گملے کی شکل یا پیالہ نما، منہ کھال سے منڈھا ہوا جوڑی دار ہوتا ہے اور اصطلاحاً دایاں طبلہ، بایاں طبلہ کہلاتا ہے، جن میں بائیں کا منہ دائیں نسبتاً چوڑا ہوتا ہے، یہ باجا انگلیوں کی ضرب اور ہتھیلی کی تھاپ سے بجایا جاتا ہے، گنتھالم۔

قانُون: سرود کی وضع کا تیئیس فولادی تاروں کا ساز جس کے کل تارتہ تالے میں بٹے ہوتے ہیں اور چوبی مہرک سے جس کو اصطلاحاً جو اور سُر گھوٹا بھی کہتے ہیں، بجایا جاتا ہے۔ یہ ابو نصر فارابی کی ایجاد ہےنیز پیانو، باجہ۔

قَرْنا: سینگ کا بگل، نرسنگا، ترہی، سنکھ نیز نفیری۔

کُوس: نقارہ، دھونسا، طبل۔

گَجَر تَرَنْگ: ایک طرح کا ساز جس کی آواز گجر کی یعنی گھنٹی کی آواز کی طرح ہوتی ہے۔

گھَنْٹا: کسی دھات کا توا وغیرہ جسے موگری سے بجاتے ہیں۔

گھُنْگْرُو: مٹر کے برابر یا اس سے کچھ بڑا دھات کا بنا ہوا گول دانہ (خول والا) جو ہلنے سے بجتا ہے نیز اسی قسم کے دانوں سے بنا ہوا ایک زیور جو اکثر ناچنے والیاں | والے ناچتے وقت پہنتے ہیں، زنگلہ۔ جھانْجھَر، پائِل، خَول،

مَرْچَنْگ: منہ میں پکڑ کر بجانے کا ایک چھوٹا باجا جس سے جھینگر کی آواز سے مشابہ آواز نکلتی ہے اور اسے انگلیوں سے بجاتے ہیں۔

مِرْدَنْگ: مٹی کی بنی ہوئی لمبوتری طرح کی ڈھولک جو دونوں طرف سے بجتی ہے۔

ناقُوس: وہ سنکھ جو ہندو یا دوسرے غیر مسلم یا مشرک پوجا کے وقت بجاتے ہیں، ایک قسم کی بہت بڑی کوڑی، گھونگا، گھنٹا۔

نَرْسِنْگا: پونگی کی وضع کا بہت طبی اور اونچی آواز کا ساز، ایک قسم کا باجا، ایک قسم کا بجانے کا سینگ، قرنا، دھوتو، بگل، ترئی، صور، ترم، ناقوس، نرسنگھا، سینگ کا طرح کا بنایا ہوا بگل۔

نَفِیری: بانسری کی قسم کا ایک ساز، شہنائی، بانسری، الغوزہ، ترئی، قرنا، نفیر۔

نَقَّارَہ (دھونسہ): دھونسا، طبل، کوس، نوبت، ٹمک، روئیں خم۔

نَوبَت:  نقارہ، دھونسا، باجہ، کوس، طبل، ڈنکا۔

ونجھلی: بانسری اور بین کی درمیانی شکل کا ایک بجانے کا آلہ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



عزیز مکرم : سلام علیکم
واللہ کیا ہی اچھا اور ضروری کام آپ نےانجام دیا ہے۔ دل خوش ہوگیا۔ آپ نے خدامعلوم کیوں اس فہرست کو "بیکار" لکھا ہے۔ بھلا علم کبھی بیکار ہوتا ہے؟ میں خود بھی موسیقی کا رسیا ہوں۔اکثر خیال آیا کہ سازوں کی فہرست ہونی چاہئے۔ آپ نے یہ ضرورت پوری کردی۔ اگر ذرا سی مزید وسعت آپ اپنے خیال اور قلم کو دیتے اور ان اصطلاحات پر لکھتے جو متن میں درج ہیں تو لطف دوبالا ہوجاتا۔ امید ہے کہ اول فرصت میں اس جانب توجہ دیں گے۔ آج راوی آپ سے بہت خوش ہے اور بغلیں بجاتا، ناچتا پھر رہا ہے۔ بانچھیں کھلی ہوئی ہیں اور آنکھیں چڑھی ہوئی ہیں۔ خدا خیر کرے۔
ایک بری خبر یہ ہے کہ کل اسپتال جانا پڑا۔ آج واپس آیا تو آپ کا کتاب والا ای میل کمپیوٹر نے کہیں خرد برد کردیا تھا۔ بہت شرمندہ ہوں۔ ایک بار اوردونوں پتوں پر بھیج دیں۔ اب کے بار ڈائون لوڈ کر کے محفوظ کر لوں گا۔ انشا اللہ۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔
اور ہاں: ہارمونیم، سرود، سنتور، گھڑا، جل ترنگ اورجھانجھ (دف کے ارد گرد چھنکنے والے دھات کے چھلے ڈال کر اسے یہاں جھانجھ کہتے ہیں) کے بارے میں کیا خیال ہے؟ انھیں بھی شامل کر لیں؟

سرورعا؛، راز






محترم جناب سرور عالم راز سرورؔ صاحب ! السلام علیکم

صاحب یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ جتنی بار حکم کریں گے ہم ای میل بھیج دیا کریں گے۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں۔ سو آپ اس کی فکر دل سے نکال دیں کہ کتاب ادھر اُدھر ہو جائے گی۔ بس جب بھی وقت اور طبعیت اجازت دے، دیکھ لیا کیجے گا۔ ادھر ادھر ہو جائے تو حکم کر دیا کیجے گا۔ سو اس میں سرے سے کوئی شرمندگی والی بات نہیں ہے۔ اب پھر سے بھی بھیج رہے ہیں۔

ہم نے کوشش تو کی کہ آلاتِ موسیقی کی فہرست ہی بنا لیں۔ لیکن واقعی بہت سے ساز تو رہ ہی گئے ہیں۔ ہماری کوشش یہ بھی تھی کہ ہم اپنی طرف سے نہ لکھیں کُچھ، سو جو کسی لغت سے ملا وہ سامنے نقل کر دیا ہے۔ کُچھ آلات کے ناموں اور وضاحت میں خدشات بھی ہیں، کہ درست نہیں۔ لیکن ہمارا اپنا علم بھی کافی کمی کا شکار ہے۔ لیکن آپ کا حُکم ہے تو اس پر مذید کرتے ہیں کُچھ کام۔ ایک بار ہم نے یہاں اردو زبان میں رنگوں کے نام بھی کہیں جمع کئیے تھے۔ جانے کتنے ہی خوبصورت الفاظ تھے جن سے رنگوں کی پہچان تھی۔ جو اب نہ صرف ناپید ہو گئے ہیں، بلکہ رنگ کا نام سُن کر بھی پہچان نہیں ہوتی۔

واہ صاحب، کُچھ نام تو آپ نے بھی بتا دئیے۔ یہ ہارمونیم ، نام سے تو انگریزوں کی کارستانی لگتا ہے، لیکن ہماری کلاسیکی موسیقی کے لئیے ہے بہت عمدہ چیز۔ تانپورا بھی رہ گیا ہے ہم سے۔ مزید کرتے ہیں کُچھ۔ اور ہاں صاحب، یہ ہسپتال کا سن کر دل سے یہی دُعا نکلتی ہے، کہ اللہ پاک آپ کو اس سے بچائے رکھیں۔

دُعا گو



گنگناتی رهے گی انھیں تو سدا
اتنے نغمے تِرے نام کر جائیں گے

غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 6168
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar
جواب: پاک و ہند میں موسیقی کے آلات کے اُردو، ہندی نام
« Reply #3 بروز: اپریل 03, 2017, 10:22:44 شام »

محترم اراکین انجمن ! السلام علیکم

ہم نے کوشش کی ہے کہ پاک و ہند میں استعمال ہونے والے روایتی موسیقی کے آلات کے فہرست بنانے کی کوشش کریں۔ جہاں تک ہو سکا ہم سے ادھر ادھر سے جمع کر لئیے ہیں اور پیش کر رہے ہیں۔ معلوم نہیں کسی کام کے ہیں بھی کہ نہیں، لیکن یونہی خیال آیا کہ کہیں ایک جگہ جمع کر لیں۔ کیا معلوم کوئی ان بیکار آلات میں بھی دلچسپی رکھتا ہو۔

اگر احباب میں سے کسی کو اور آلات کے نام بھی آتے ہوں تو مہربانی فرما کر عنایت فرما دیں۔ کوئی غلطی ہو تو بھی تصحیح فرمائیں۔ عنایت ہو گی۔

دُعا گو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اِک تارا (یک تارا): ستار نما بجانے کا آلہ جس میں صرف ایک تار ہوتا ہے۔

اَلْغوزَہ: منہ میں لے کر بجایا جانے والا بانسری نما ساز جس میں دو چھوٹی بڑی بانسریاں ہوتی ہیں (چھوٹی بانسری سر نکالنے کے لیے اور بڑی آس کے لیے)۔

بانْسْری: پتلی قسم کے بانس کی پور یا چوبی نلی سے بنا ہوا نفیری کی قسم کا ایک ساز جس کے سرے پر پپیا لگا ہوتا ہے جو پھونک کی مدد سے آواز دیتا ہے اور سروں کے سوراخ آواز کا اتار چڑھائے بناتے ہیں۔

بِگُل: منہ سے بجانے کا ایک باجا جو کسی اعلان کے موقع پر (زیادہ تر) پولیس اور فوج میں استعمال ہوتا ہے، قرنا، ترم۔

بین: یہ ساز اکثر سپیرے استعمال کرتے ہیں۔ پھونک سے بجایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بین کی سُریلی آواز سے سانپ بے اختیار ہوکر جھومنے لگتا ہے اور سپیرا اس موقع کا فائدہ اُٹھا کر اُس کو پکڑ لیتا ہے۔

پَکھاوَج: تال کا قدیم ساز، جسے مردنگ کی ترقی یافتہ شکل کہا جاتا ہے مردنگ مٹی کی اور پکھاوج لکڑی کی ہوتی ہے یہ انگلیوں سے کم ہتھیلیوں سے زیادہ بجائی جاتی ہے پکھاوج بیچ میں کسی قدر اونچی اور سروں کی طرف گاودم ہوتی چلی جاتی ہے وضع قطع میں ڈھول سے مشابہ۔

پَون پکھاوج: چھوٹے حجم کی پکھاوج

پُونگی: بانسری، نے۔

تاشہ۔ طاشہ: تغاری یا تشلہ کی شکل کا کھال منڈھا ہوا چھوٹا باجا جو گلے میں ڈال کر دو پتلی لکڑیوں سے بجایا جاتا ہے اس کی آواز ڈھول سے زیادہ تیز مگر کم گونجدار ہوتی ہے۔

تُرَم: نفیری کی قسم کا بغیر سروں کا باجا جو فوج میں کسی اعلان کے لیے بجایا جاتا ہے، بگل، ترئی۔

تُری: ایک قسم کا بگل، نرم، دھوتو۔

تَنْبُورا (طَنبُورا): ستار کی طرح کا ایک ساز جس میں تین یا چار تار لگے ہوتے ہیں چونکہ تونبے میں لکڑی لگا کر اس میں یہ تار باندھ دیتے ہیں اس وجہ سے یہ نام رکھا۔

جھانْجَر: پیروں میں پہننے کا خول دار کڑے کی وضع کا زیور جس کے اندر لوہے یا سیسے کے دانے ڈال دیئے جاتے ہیں جو حرکت کرتے وقت جھنکار پیدا کرتے ہیں۔

چَنگ: ستار کی قسم کا ایک باجا جس کا بالائی رخ خمیدہ ہوتا ہے۔

دائرہ: دف کی شکل کے ایک ساز کا نام جو ایک طرف سے کھلا ہوا ہوتا ہے، چنگ۔

دَف: کم و بیش ایک فٹ قطر کا چوبی حلقہ نما ایک ساز، طبلہ سے مشابہ لیکن بڑا جس میں ایک طرف کھال منڈھی ہوتی ہے، دفلا، دائرہ، ڈھیڑھی، چوپٹی۔

دو تارا: ستار نما بجانے کا آلہ جس میں دو تار ہوتے ہیں۔

دُہُل: معمول سے بہت بڑی ناند یا گملے کی شکل کا کھال منڈھا ہوا باجا جس کی آواز گرج دار اور بہت بڑی ہوتی ہے فوج میں یا دور پرے آواز پہنچانے کے لیے کسی زمانے میں استعمال کیا جاتا تھا، دھونسا، دمامہ، دھاک، ڈنکا، کوس، سرمنڈل۔

دھوُتو: بگل، نرسنگھا، تُری وغیرہ، منہ سے بجایا جانے والا باجا۔

دھونسہ: ڈگڈگی

ڈفلی: ڈفلا، چھوٹی دَف۔

ڈگڈگی: بازی گروں کا جڑواں پیالے کی شکل کا چھوٹا سا ساز جس کے دونوں طرف کھال منڈھی ہوتی ہے، اس کے بیچ میں دو ڈوریاں بندھی ہوتی ہیں جن کے سروں پر مضبوط گانٹھ لگی ہوئی ہوتی ہے جن کی ضرب سے یہ باجا بجایا جاتا ہے یہ باجا ایک ہاتھ میں پکڑ کر ہلانے سے بجتا ہے، ڈرو، ڈمرو۔

ڈُگّی: ڈھنڈورا، ڈگڈگی۔

ڈَنْکا: ڈھول کی ایک قسم جسے آدمی آسانی سے گلے میں لٹکا کر بجا سکتے ہیں؛ نقارہ جو امرا و سلاطین کی سواری کے آگے رہتا تھا۔

ڈونْڈی:  دھونسے کی قسم کا باجا جو نسبتاً بہت چھوٹا اور ہلکا ہوتا ہے جسے آدمی آسانی سے گلے میں لٹکا کر بجا سکتا ہے، ڈگڈگی، ڈنکا۔

ڈھَنْڈورا: دھونسے کی قسم کا باجا لیکن اس کی نسبت بہت چھوٹا اور ہلکا ہوتا ہے جسے آدمی آسانی سے گلے میں ڈال کر بجا سکے۔

ڈھول: بیلن کی وضع کا دونوں سروں پر کھال منڈھا ہوا ساز جسکا پیٹ ذرا ابھرا ہوا اور سرے کسی قدر دبے ہوئے ہوتے ہیں۔

رُباب: سارنگی کی طرح کا ایک تار دار چوبی باجا، تنبور جس کے نچلے حصے پر کھال منڈھی ہوتی ہے لکڑی کی مضراب سے بجایا جاتا ہے کہا جاتا ہے اسے گورو نانک نے ایجاد کیا لیکن یہ دراصل صوبۂ سرحد کا باجا ہے۔

ستار: کلاسیکی موسیقی کا ایک نامور اور مشہورطرین ساز ہے، جو آج بھی بھارت اور پاکستان میں دلچسپی سے سنا اور بجایا جاتا ہے۔ ستار امیر خسرو کی ایجاد ہے، آپ نے وینا سے ایک تونبہ الگ کر کرے وینا کی تشکیل کی۔ ستار کے کدو کو تونبہ کہتے ہیں اور لمبی کھوکھلی لکڑی کو ڈانڈ کہا جاتا ہے۔ تونبے کی چھت پر ہڈی کے دو پل سے ہوتے ہیں جو جواریاں کہلاتے ہیں، ان پر سے تاریں گزرتی ہیں۔ ڈانڈ پر لوہے یا پیتل کے قوس سے بنے ہوتے ہیں جنھیں پردے یا سندریاں کہا جاتا ہے۔ تاروں کا ایک سرا تونبے کے پیچھے ایک کیل سے بندھا ہوتا ہے اور دوسرا ڈانڈ میں لگی ہوئی کھونٹیوں سے آجکل سدار کے تاروں کی تعداد متعیّن نہیں تاہم عمومآ جارتاریں، دوچکاریاں اور تیرہ طربیں رکھی جاتی ہیں۔ پہلی فولاد کی تار باج کہلاتی ہے، دوسری پیتل کی جوڑی، تیسری فولاد کی پنچم اور جوتھی پیتل کی گندھی ہوئی دوہری تار گرام کہلاتی ہے۔ بعض لوگ گت میں شوخی پیدا کرنے کے لیے جوڑے میں ایک تار کی بجاۓ دو تاریں رکھتے ہیں۔

سارنگی: چھاتی سے لگا کر بجایا جانے والا ساز جس میں لکڑی کے خول پر چار تانت کی تانیں اور عموماً یرہ طربیں ہوتی ہیں، تاروں پر کمانچہ پھیر کر بجایا جاتا ہے غچکا، غچکی۔

سَورَنْگی: استاد بندوخان نے سارنگی میں زبردست تبدیلی پیدا کر کے اسے سورنگی کا نام دیا، سورنگی سے انسان کے مزاج کے ہر موڈ اور کیفیت کا پتا چلنے لگا۔

شَہنائی: پھونک سے بجنے والا ایک ساز جو نوبت یا بارات کے ساتھ بجایا جاتا ہے، سرنائی۔شبابہ، سرنائی، صُور، کرنائی،

صور: وہ سینگ جسے بگل کی پھونک سے بجاتے ہیں، نرسنگھا، ترہی، قرنا، بگل۔

طَبلہ: موسیقی کا یہ آلہ دو ہاتھ سے بجائے جانے والے چھوٹے ڈھولوں پر مشتمل ہوتا ہے، جو مختلف جسامتوں میں لکڑی کی کئی قسموں سے تیار کیے جاتے ہیں۔ لفظ طبلہ، عربی زبان سے مستعار لفظ ہے، جس کا لفظی مطلب ڈھول کے ہیں۔ گملے کی شکل یا پیالہ نما، منہ کھال سے منڈھا ہوا جوڑی دار ہوتا ہے اور اصطلاحاً دایاں طبلہ، بایاں طبلہ کہلاتا ہے، جن میں بائیں کا منہ دائیں نسبتاً چوڑا ہوتا ہے، یہ باجا انگلیوں کی ضرب اور ہتھیلی کی تھاپ سے بجایا جاتا ہے، گنتھالم۔

قانُون: سرود کی وضع کا تیئیس فولادی تاروں کا ساز جس کے کل تارتہ تالے میں بٹے ہوتے ہیں اور چوبی مہرک سے جس کو اصطلاحاً جو اور سُر گھوٹا بھی کہتے ہیں، بجایا جاتا ہے۔ یہ ابو نصر فارابی کی ایجاد ہےنیز پیانو، باجہ۔

قَرْنا: سینگ کا بگل، نرسنگا، ترہی، سنکھ نیز نفیری۔

کُوس: نقارہ، دھونسا، طبل۔

گَجَر تَرَنْگ: ایک طرح کا ساز جس کی آواز گجر کی یعنی گھنٹی کی آواز کی طرح ہوتی ہے۔

گھَنْٹا: کسی دھات کا توا وغیرہ جسے موگری سے بجاتے ہیں۔

گھُنْگْرُو: مٹر کے برابر یا اس سے کچھ بڑا دھات کا بنا ہوا گول دانہ (خول والا) جو ہلنے سے بجتا ہے نیز اسی قسم کے دانوں سے بنا ہوا ایک زیور جو اکثر ناچنے والیاں | والے ناچتے وقت پہنتے ہیں، زنگلہ۔ جھانْجھَر، پائِل، خَول،

مَرْچَنْگ: منہ میں پکڑ کر بجانے کا ایک چھوٹا باجا جس سے جھینگر کی آواز سے مشابہ آواز نکلتی ہے اور اسے انگلیوں سے بجاتے ہیں۔

مِرْدَنْگ: مٹی کی بنی ہوئی لمبوتری طرح کی ڈھولک جو دونوں طرف سے بجتی ہے۔

ناقُوس: وہ سنکھ جو ہندو یا دوسرے غیر مسلم یا مشرک پوجا کے وقت بجاتے ہیں، ایک قسم کی بہت بڑی کوڑی، گھونگا، گھنٹا۔

نَرْسِنْگا: پونگی کی وضع کا بہت طبی اور اونچی آواز کا ساز، ایک قسم کا باجا، ایک قسم کا بجانے کا سینگ، قرنا، دھوتو، بگل، ترئی، صور، ترم، ناقوس، نرسنگھا، سینگ کا طرح کا بنایا ہوا بگل۔

نَفِیری: بانسری کی قسم کا ایک ساز، شہنائی، بانسری، الغوزہ، ترئی، قرنا، نفیر۔

نَقَّارَہ (دھونسہ): دھونسا، طبل، کوس، نوبت، ٹمک، روئیں خم۔

نَوبَت:  نقارہ، دھونسا، باجہ، کوس، طبل، ڈنکا۔

ونجھلی: بانسری اور بین کی درمیانی شکل کا ایک بجانے کا آلہ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



عزیز مکرم : سلام علیکم
واللہ کیا ہی اچھا اور ضروری کام آپ نےانجام دیا ہے۔ دل خوش ہوگیا۔ آپ نے خدامعلوم کیوں اس فہرست کو "بیکار" لکھا ہے۔ بھلا علم کبھی بیکار ہوتا ہے؟ میں خود بھی موسیقی کا رسیا ہوں۔اکثر خیال آیا کہ سازوں کی فہرست ہونی چاہئے۔ آپ نے یہ ضرورت پوری کردی۔ اگر ذرا سی مزید وسعت آپ اپنے خیال اور قلم کو دیتے اور ان اصطلاحات پر لکھتے جو متن میں درج ہیں تو لطف دوبالا ہوجاتا۔ امید ہے کہ اول فرصت میں اس جانب توجہ دیں گے۔ آج راوی آپ سے بہت خوش ہے اور بغلیں بجاتا، ناچتا پھر رہا ہے۔ بانچھیں کھلی ہوئی ہیں اور آنکھیں چڑھی ہوئی ہیں۔ خدا خیر کرے۔
ایک بری خبر یہ ہے کہ کل اسپتال جانا پڑا۔ آج واپس آیا تو آپ کا کتاب والا ای میل کمپیوٹر نے کہیں خرد برد کردیا تھا۔ بہت شرمندہ ہوں۔ ایک بار اوردونوں پتوں پر بھیج دیں۔ اب کے بار ڈائون لوڈ کر کے محفوظ کر لوں گا۔ انشا اللہ۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔
اور ہاں: ہارمونیم، سرود، سنتور، گھڑا، جل ترنگ اورجھانجھ (دف کے ارد گرد چھنکنے والے دھات کے چھلے ڈال کر اسے یہاں جھانجھ کہتے ہیں) کے بارے میں کیا خیال ہے؟ انھیں بھی شامل کر لیں؟

سرورعا؛، راز






محترم جناب سرور عالم راز سرورؔ صاحب ! السلام علیکم

صاحب یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ جتنی بار حکم کریں گے ہم ای میل بھیج دیا کریں گے۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں۔ سو آپ اس کی فکر دل سے نکال دیں کہ کتاب ادھر اُدھر ہو جائے گی۔ بس جب بھی وقت اور طبعیت اجازت دے، دیکھ لیا کیجے گا۔ ادھر ادھر ہو جائے تو حکم کر دیا کیجے گا۔ سو اس میں سرے سے کوئی شرمندگی والی بات نہیں ہے۔ اب پھر سے بھی بھیج رہے ہیں۔

ہم نے کوشش تو کی کہ آلاتِ موسیقی کی فہرست ہی بنا لیں۔ لیکن واقعی بہت سے ساز تو رہ ہی گئے ہیں۔ ہماری کوشش یہ بھی تھی کہ ہم اپنی طرف سے نہ لکھیں کُچھ، سو جو کسی لغت سے ملا وہ سامنے نقل کر دیا ہے۔ کُچھ آلات کے ناموں اور وضاحت میں خدشات بھی ہیں، کہ درست نہیں۔ لیکن ہمارا اپنا علم بھی کافی کمی کا شکار ہے۔ لیکن آپ کا حُکم ہے تو اس پر مذید کرتے ہیں کُچھ کام۔ ایک بار ہم نے یہاں اردو زبان میں رنگوں کے نام بھی کہیں جمع کئیے تھے۔ جانے کتنے ہی خوبصورت الفاظ تھے جن سے رنگوں کی پہچان تھی۔ جو اب نہ صرف ناپید ہو گئے ہیں، بلکہ رنگ کا نام سُن کر بھی پہچان نہیں ہوتی۔

واہ صاحب، کُچھ نام تو آپ نے بھی بتا دئیے۔ یہ ہارمونیم ، نام سے تو انگریزوں کی کارستانی لگتا ہے، لیکن ہماری کلاسیکی موسیقی کے لئیے ہے بہت عمدہ چیز۔ تانپورا بھی رہ گیا ہے ہم سے۔ مزید کرتے ہیں کُچھ۔ اور ہاں صاحب، یہ ہسپتال کا سن کر دل سے یہی دُعا نکلتی ہے، کہ اللہ پاک آپ کو اس سے بچائے رکھیں۔

دُعا گو




عزیز مکرم وی بی جی :سلام مسنون

اللہ کے فضل وکرم سے ٹھیک ہوں۔ نرم گرم تو اس عمر میں چلتا ہی رہے گا۔ آپ بس دعائوں میں یاد رکھئے۔
جی ہاں آپ نے رنگوں کے ہندوستانی نام یہاں لکھے تھے۔ مشتاق احمد یوسفی صاحب نے اپنی کسی کتاب میں (غالبا" زرگزشت میں) ایک لمبی فہرست دی ہے۔ ہم لوگ کیسی بدقسمت قوم کے ہیں کہ اپنے کسی ورثہ کا خیال ہی نہیں ہے۔ اس پر ایک حوصلہ شکن لطیفہ کل ہی پڑھنے کو ملا۔ کسی صاحب نے پاکستان کے کسی صدر (جنرل کا نام نہیں لکھا) کے حوالے سے لکھا ہے کہ وہ کراچی یونی ورسٹی کے شعبہء اردو میں گئے تو صدر شعبہ سے بہت حیرت سے پوچھا "کیا آپ لوگ اردو شعروادب اب تک اردو میں ہی پڑھا رہے ہیں؟" تس پر صدر شعبہ نے جو مصلحت اور سیاست دونوں میں طاق تھے جواب دیا کہ "جی ہم آج کل medium of instruction تبدیل کرنے میں مصروف ہیں"۔ جب سوال ایسا ہوگا تو جواب بھی ویسا ہی ملے گا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون

راوی بغل میں سر دئے رو رہا ہے۔ جائوں میں بھی اس کا شریک حال ہو جائوں

سرورعالم راز



غیرحاضر kafilahmed

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 368
جواب: پاک و ہند میں موسیقی کے آلات کے اُردو، ہندی نام
« Reply #4 بروز: اپریل 04, 2017, 03:29:59 شام »
وی بی جی سلام

سُر تال کو اکٹھا کر کے آپ نے موسیقی سے لگاوؑ رکھنے والوں کے لئے لغتِ صغیر کا اہتمام کیا ہے۔ کیا خوب۔

بین: یہ ساز اکثر سپیرے استعمال کرتے ہیں۔ پھونک سے بجایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بین کی سُریلی آواز سے سانپ بے اختیار ہوکر جھومنے لگتا ہے اور سپیرا اس موقع کا فائدہ اُٹھا کر اُس کو پکڑ لیتا ہے۔

جنگل میں سانپ اس کی سُریلی آواز سن کر جھومتا ہے اور گرفتار ہوجاتا ہے بلکل اسی طرح جس طرح شوہرِ نامدار بیگم کی سُریلی آواز سن کر گرفتارِ بلا ہو جاتے ہیں ( کسی شوہر کی تردید قابلِ اعتبار نہیں سمجھی جائیگی )

ڈگڈگی۔۔۔۔  اس پر منحصر ہے کہ کس کے ہاتھ میں ہے اور کون ۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟
ڈھَنْڈوراــــــ  ہم تو اب تک اس کا پیٹنا ہی سنتے آئے تھے۔
شَہنائی ـــــــ  ایک ہی دفعہ ہمت کی تھی سننے کی وہ بھی دوستوں کی فرمائش پر اور اس کے بعد وہ دوست بچ گئے کیونکہ میں دیارِ غیر کو چلا گیا۔
قانون ــــــ پاکستان میں تو نہیں پایا جاتا ہے۔
صور ـــــــ یہ تو ایک ہی دفعہ سنیں گے۔
نوبت ــــ   کہاں تک پہنچی۔

بہت اچھی کاوش ہے آپ کی۔

دعا گو


مرے دوستوں نے مجھ کو آخر ہے کیا دیا
 محبت، خلوص، پیار،  باقی  ہے  کیا  بچا

غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 6168
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar
جواب: پاک و ہند میں موسیقی کے آلات کے اُردو، ہندی نام
« Reply #5 بروز: اپریل 04, 2017, 06:12:43 شام »
وی بی جی سلام

سُر تال کو اکٹھا کر کے آپ نے موسیقی سے لگاوؑ رکھنے والوں کے لئے لغتِ صغیر کا اہتمام کیا ہے۔ کیا خوب۔

بین: یہ ساز اکثر سپیرے استعمال کرتے ہیں۔ پھونک سے بجایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بین کی سُریلی آواز سے سانپ بے اختیار ہوکر جھومنے لگتا ہے اور سپیرا اس موقع کا فائدہ اُٹھا کر اُس کو پکڑ لیتا ہے۔

جنگل میں سانپ اس کی سُریلی آواز سن کر جھومتا ہے اور گرفتار ہوجاتا ہے بلکل اسی طرح جس طرح شوہرِ نامدار بیگم کی سُریلی آواز سن کر گرفتارِ بلا ہو جاتے ہیں ( کسی شوہر کی تردید قابلِ اعتبار نہیں سمجھی جائیگی )

ڈگڈگی۔۔۔۔  اس پر منحصر ہے کہ کس کے ہاتھ میں ہے اور کون ۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟
ڈھَنْڈوراــــــ  ہم تو اب تک اس کا پیٹنا ہی سنتے آئے تھے۔
شَہنائی ـــــــ  ایک ہی دفعہ ہمت کی تھی سننے کی وہ بھی دوستوں کی فرمائش پر اور اس کے بعد وہ دوست بچ گئے کیونکہ میں دیارِ غیر کو چلا گیا۔
قانون ــــــ پاکستان میں تو نہیں پایا جاتا ہے۔
صور ـــــــ یہ تو ایک ہی دفعہ سنیں گے۔
نوبت ــــ   کہاں تک پہنچی۔

بہت اچھی کاوش ہے آپ کی۔

دعا گو

مکرم بندہ کفیل صاحب: سلام مسنون
آپ کے حاشئے پر لطف ہیں۔ پڑھ کر مزا آیا لیکن جب شہنائی پر پہنچا تو حیرت کا شکار ہوا۔ معلوم ہوتا ہے آپ نے وہ شہنائی سنی ہے جو بعض اوقات  ہمارے یہاں شادیوں میں بجائی جاتی ہے اور اگر اسے  شہنائی کی تہمت کہیں تو برا نہیں! شہنائی بقول استاد بسم اللہ خاں "گرا پڑا" ساز ہے جو کسی ماہر فن کے ہاتھ اور منھ میں ہی اچھا لگتا ہے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ شہنائی کا صحیح لطف اسی وقت مل سکتا ہے جب قاری راگوں کا شوق بھی رکھتا ہو۔ اپ بسم اللہ خاں صاحب کی شہنائی سنیں اور خاص طور سے ان کی استاد  ولایت خاں ستار نواز کے ساتھ جگل بندی (دوگانہ) سنئے۔ بہت ممکن ہے کہ رائے بدل جائے۔ شکریہ

سرورعالم راز



غیرحاضر vb jee

  • Adab Fehm
  • ****
  • تحریریں: 1232
  • جنس: مرد
جواب: پاک و ہند میں موسیقی کے آلات کے اُردو، ہندی نام
« Reply #6 بروز: اپریل 10, 2017, 06:49:30 صبح »
وی بی جی سلام

سُر تال کو اکٹھا کر کے آپ نے موسیقی سے لگاوؑ رکھنے والوں کے لئے لغتِ صغیر کا اہتمام کیا ہے۔ کیا خوب۔

بین: یہ ساز اکثر سپیرے استعمال کرتے ہیں۔ پھونک سے بجایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بین کی سُریلی آواز سے سانپ بے اختیار ہوکر جھومنے لگتا ہے اور سپیرا اس موقع کا فائدہ اُٹھا کر اُس کو پکڑ لیتا ہے۔

جنگل میں سانپ اس کی سُریلی آواز سن کر جھومتا ہے اور گرفتار ہوجاتا ہے بلکل اسی طرح جس طرح شوہرِ نامدار بیگم کی سُریلی آواز سن کر گرفتارِ بلا ہو جاتے ہیں ( کسی شوہر کی تردید قابلِ اعتبار نہیں سمجھی جائیگی )

ڈگڈگی۔۔۔۔  اس پر منحصر ہے کہ کس کے ہاتھ میں ہے اور کون ۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟
ڈھَنْڈوراــــــ  ہم تو اب تک اس کا پیٹنا ہی سنتے آئے تھے۔
شَہنائی ـــــــ  ایک ہی دفعہ ہمت کی تھی سننے کی وہ بھی دوستوں کی فرمائش پر اور اس کے بعد وہ دوست بچ گئے کیونکہ میں دیارِ غیر کو چلا گیا۔
قانون ــــــ پاکستان میں تو نہیں پایا جاتا ہے۔
صور ـــــــ یہ تو ایک ہی دفعہ سنیں گے۔
نوبت ــــ   کہاں تک پہنچی۔

بہت اچھی کاوش ہے آپ کی۔

دعا گو


محترم جناب کفیل احمد صاحب! السلام علیکم

واہ جناب۔ آپ کے ٹوٹکے پڑھ کر مزا لیا، لیکن شہنائی پر آ کر ہمیں بھی یہی خیال آیا کہ محترم سرور عالم راز سرورؔ صاحب کی بات بالکل بجا ہے۔ شادیوں پر جو شہنائی بجتی ہے، اس کا تو واقعی آج کل کوئی حال نہیں۔ ہمارا اپنا تجربہ ہے کہ جب ہمارا وقت آن پہنچا اور رخصتی کا وقت تھا تو شہنائی بجی۔ اس کی آواز سنتے ہی ہماری بیاہتہ نے کوشش شروع کر دی کہ کسی طرح روئیں۔ لیکن شہنائی میں زرا دم نہ تھا۔ آخر ہم نے اُن کی مشکل کو بھانپبے ہوئے اپنا منہ اُن کی طرف کیا اور اپنا سہرا ہٹا کر اپنی شکل دکھائی۔ بس پھر بُہت پھوٹ پھوٹ کر روئیں۔ :)

پزیرائی کا شکریہ

دُعا گو


دُعا گو


گنگناتی رهے گی انھیں تو سدا
اتنے نغمے تِرے نام کر جائیں گے

غیرحاضر vb jee

  • Adab Fehm
  • ****
  • تحریریں: 1232
  • جنس: مرد
جواب: پاک و ہند میں موسیقی کے آلات کے اُردو، ہندی نام
« Reply #7 بروز: اپریل 10, 2017, 07:40:23 صبح »
وی بی جی سلام

سُر تال کو اکٹھا کر کے آپ نے موسیقی سے لگاوؑ رکھنے والوں کے لئے لغتِ صغیر کا اہتمام کیا ہے۔ کیا خوب۔

بین: یہ ساز اکثر سپیرے استعمال کرتے ہیں۔ پھونک سے بجایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بین کی سُریلی آواز سے سانپ بے اختیار ہوکر جھومنے لگتا ہے اور سپیرا اس موقع کا فائدہ اُٹھا کر اُس کو پکڑ لیتا ہے۔

جنگل میں سانپ اس کی سُریلی آواز سن کر جھومتا ہے اور گرفتار ہوجاتا ہے بلکل اسی طرح جس طرح شوہرِ نامدار بیگم کی سُریلی آواز سن کر گرفتارِ بلا ہو جاتے ہیں ( کسی شوہر کی تردید قابلِ اعتبار نہیں سمجھی جائیگی )

ڈگڈگی۔۔۔۔  اس پر منحصر ہے کہ کس کے ہاتھ میں ہے اور کون ۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟
ڈھَنْڈوراــــــ  ہم تو اب تک اس کا پیٹنا ہی سنتے آئے تھے۔
شَہنائی ـــــــ  ایک ہی دفعہ ہمت کی تھی سننے کی وہ بھی دوستوں کی فرمائش پر اور اس کے بعد وہ دوست بچ گئے کیونکہ میں دیارِ غیر کو چلا گیا۔
قانون ــــــ پاکستان میں تو نہیں پایا جاتا ہے۔
صور ـــــــ یہ تو ایک ہی دفعہ سنیں گے۔
نوبت ــــ   کہاں تک پہنچی۔

بہت اچھی کاوش ہے آپ کی۔

دعا گو

مکرم بندہ کفیل صاحب: سلام مسنون
آپ کے حاشئے پر لطف ہیں۔ پڑھ کر مزا آیا لیکن جب شہنائی پر پہنچا تو حیرت کا شکار ہوا۔ معلوم ہوتا ہے آپ نے وہ شہنائی سنی ہے جو بعض اوقات  ہمارے یہاں شادیوں میں بجائی جاتی ہے اور اگر اسے  شہنائی کی تہمت کہیں تو برا نہیں! شہنائی بقول استاد بسم اللہ خاں "گرا پڑا" ساز ہے جو کسی ماہر فن کے ہاتھ اور منھ میں ہی اچھا لگتا ہے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ شہنائی کا صحیح لطف اسی وقت مل سکتا ہے جب قاری راگوں کا شوق بھی رکھتا ہو۔ اپ بسم اللہ خاں صاحب کی شہنائی سنیں اور خاص طور سے ان کی استاد  ولایت خاں ستار نواز کے ساتھ جگل بندی (دوگانہ) سنئے۔ بہت ممکن ہے کہ رائے بدل جائے۔ شکریہ

سرورعالم راز

محترم جناب سرور عالم راز سرور صاحب! السلام علیکم

ہائے صاحب! کیا یاد دلا دیا۔

اگر تھوڑی دیر کے لئیے استاد بسم اللہ خان صاحب کو بھول جائیے تو یقین جانئیے کہ شہنائی کو ایسا ساز ہی تصور نہیں کیا جا سکتا کہ اسے ستار جیسے ساز کے ساتھ جگل بندی یا سوال جواب کے لئیے لایا جا سکے۔ نا ممکن دکھائی دیتا ہے۔ ستار، سر پر اس قدر قادر ہے کہ کسی بھی دوسرے ساز کو اس کے مقابلے پر لانا دشوار۔ یہ سہرا انہیں استاد بسم اللہ خان صاحب کے ہی سر ہے کہ شہنائی کو یہاں تک لے آئے ہیں۔

اور صاحب اب راگوں کی بھی کیا بات کریں۔ کیا کیجے کہ اب کسی کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہے۔ احساس کی دُنیا بُہت بڑی ہے سو وقت تو مانگتی ہے۔ کُچھ گیان مانگتی ہے۔ یہ معاملہ صرف موسیقی تک ہی نہیں، ناچیز جیسے شاعر بھی اس سے متاثر ہیں۔ کسی زمانہ میں کسی گیانی نے گُل اور بلبل پر غور کیا۔ باد صبا اور نسیم کو محسوس کیا، صیاد کی کاروائیاں محسوس کیں گویا پورا چمن کا کاروبار محسوس کیا۔ ہم ایسے شاعر اب بھی بلبل کا رونا تو روتے ہیں لیکن کوئی پوچھے کہ صاحب بلبل کبھی دیکھی، تو جواب معلوم۔ کوئل کی آواز میں برہا پُکار بھی کوئی گیانی من ہی جانے۔ سو ایسے ہی راگ پہاڑی کے بَین کے ساتھ کوئی کوئی دل ہی سسکیاں لے سکتا ہے۔ راگ جانپوری کی الاپ کسی کسی چہرے پر ہی سُرخی مائل سورج بن کر اُبھرتی ہے۔ ملہار سے کوئی دل ہی سیراب ہوتا ہے اور دیپک بھی کوئی من ہی سُلگاتا ہے۔ خیر صاحب، ہم تو اس رو میں خود کو بہہ جانے سے روکتے رہتے ہیں۔ وگرنہ ڈر ہے کہ تن پر راکھ بھبھوت مل کر ہم بھی گورکھ ناتھ کے چیلے ہی نہ بن جائیں :)


دُعا گو


گنگناتی رهے گی انھیں تو سدا
اتنے نغمے تِرے نام کر جائیں گے

 

Copyright © اُردو انجمن