اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: غزل ۔۔۔ جناب اطہر نفیس  (پڑھا گیا 918 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3180
جواب: غزل ۔۔۔ جناب اطہر نفیس
« Reply #30 بروز: مئی 27, 2017, 01:40:12 صبح »


السلام علیکم وی بی جی اور اسماعیل صاحب۔ میں باقاعدگی سے آپ حضرات کے جوابات دیکھ رہا ہوں۔ رمضان کے پہلے عشرے تک مصروفیت بہت زیادہ ہے۔ یہ بحث اب بحث نہیں رہی بلکہ عروضی اسباق کی شکل اختیار کر چکی ہے اور بہت کچھ سیکھنے کو   مل رہا ہے۔ اسماعیل صاحب کی اس میں خاص طور بہت محنت شامل ہے۔ سات آٹھ سال پہلے سوچا تھا کہ فارغ ہوکر ضحافات کو بغور پڑھوں گا اور ہر ہر ضحاف کے بنیادی اصول از بر کروں گا کہ اس سے بحروں کا علم رہتا ہے کہ آیا یہ بحر عروضی طور پر "جائز" ہے بھی کہ نہیں۔ مثلاً متقارب میں اگر فعلن (ع پر زیر کے ساتھ) آ رہا ہو تو بحر "ناجائز" ہو جائے گی۔ لیکن سات آٹھ برس گزر گئے فرصت ہے کہ ملنے کا نام نہیں لے رہی۔ اب موقع ملا ہے کہ اسماعیل صاحب کے توسط سے بنیادی چیزیں سیکھنے کو مل جائیں گی۔

وی بی جی، آپ سے ضرور مخاطب ہوؤں گا، بس ایک پرچے کی تیاری ہے۔ رمضان کے پہلے عشرے تک درگزر سے کام لیجیے۔ موقع ملا تو انجمن میں کچھ نہ کچھ لکھوں گا، لیکن ادھر اس لڑی میں دماغ بہت خرچ ہو رہا ہے، اور میں دفتر کے بعد بچا کچھا دماغ اپنے آنے والے امتحان کے لیے بچانا چاہ رہا ہوں۔

سردست سوال اسماعیل صاحب سے ہے، سوال کیا ایک درخواست ہے کہ ضحافات کے بنیادی اصول بھی درج کر دیے جائیں۔ اس مقصد کے لیے نئی لڑی شروع کرنا موزوں سمجھیں تو بھی ٹھیک ہے، ادھر لکھنا چاہیں تو بھی ٹھیک ہے۔ بنیادی اصول سے مراد یہ کہ مثال کے طور پر "حذف" ضحاف (جو کہ واحد ضحاف ہے جس کا اصول مجھے یاد ہے) کا اصول ہے کہ کسی رکن کے اختتامی سبب خفیف کو گرا دیا جائے۔ پس فاعلاتن کا "تن" گرا اور فاعلن بچ رہا۔ اب ظاہر ہے جو جو ارکان سبب خفیف پر ختم ہوں گے انھیں پر اس ضحاف کا اطلاق ہو سکے گا۔ باقیوں پر نہیں۔ تو بہتر رہتا کہ جناب بنیادی اصول بھی بیان کر دیتے۔ اگر اصول از بر ہو جائیں تو خود ہی پتہ چل جائے گا کہ کس کس رکن پر اطلاق ہو سکتا ہے اور کیا کیا شکلیں بن سکتی ہیں۔

دوسرا سوال یہ کہ میری سمجھ میں متصل اور منفصل کا فرق نہیں آیا، مولوی صاحب (صاحب بحرالفصاحت) اس کو سمجھانے میں ناکام رہے، اغلب ہے کہ میں ہی سمجھنے میں ناکام رہا ہوؤں گا۔ اس پر روشنی ڈال دیں یا انجمن کی کوئی لڑی اس موضوع پر ہو تو اس کا پتہ بتا دیں تو ممنون ہوؤں گا۔


آپ دونوں حضرات کو خدا سلامت رکھے

اسد



وعلیکم السلام جناب محترم اسد اللہ خان صاحب اور تمام معزز قارئین کرام رمضان کی مبارکباد قبول فرمائیے آج ہمارے ہاں پہلا روزہ ہے

جناب محترم اسد اللہ خان صاحب آپ نے فرمایا ہے کہ


اقتباس
’’ سردست سوال اسماعیل صاحب سے ہے، سوال کیا ایک درخواست ہے کہ ضحافات کے بنیادی اصول بھی درج کر دیے جائیں۔ اس مقصد کے لیے نئی لڑی شروع کرنا موزوں سمجھیں تو بھی ٹھیک ہے، ادھر لکھنا چاہیں تو بھی ٹھیک ہے۔ بنیادی اصول سے مراد یہ کہ مثال کے طور پر "حذف" ضحاف (جو کہ واحد ضحاف ہے جس کا اصول مجھے یاد ہے) کا اصول ہے کہ کسی رکن کے اختتامی سبب خفیف کو گرا دیا جائے۔ پس فاعلاتن کا "تن" گرا اور فاعلن بچ رہا۔ اب ظاہر ہے جو جو ارکان سبب خفیف پر ختم ہوں گے انھیں پر اس ضحاف کا اطلاق ہو سکے گا۔ باقیوں پر نہیں۔ تو بہتر رہتا کہ جناب بنیادی اصول بھی بیان کر دیتے۔ اگر اصول از بر ہو جائیں تو خود ہی پتہ چل جائے گا کہ کس کس رکن پر اطلاق ہو سکتا ہے اور کیا کیا شکلیں بن سکتی ہیں۔ ‘‘

جناب عالی میں تو خود انگلی پکڑ کر چلنے والوں میں سے ہوں کہ جس کی جیسے ہی انگلی جسے اس نے پکڑ رکھا ہے چھوٹ جائے تو لڑکھڑا کر گر جائے آپ نے  مجھے عزت بخشی اللہ آپ کو دنیا و آخرت کی عزّتیں عطا فرمائے بہر حال آپ کی فرمائش کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے زحافات کے بارے میں ایک قسم جو مزاحف شکلیں تخلیق کرتی ہے اوپر پیش کر چکا ہوں جسے میں نے مرزا یاس عظیم آبادی صاحب کی کتاب ’’ چراغِ سخن ‘‘ سے نقل کیا ہے امید ہے آپ نے اس سے استفادہ کیا ہوگا آئیے اگلے حصے کی جانب چلتے ہیں
مرزا یاس عظیم آبادی صاحب اپنی کتاب ’’ چراغِ سخن ‘‘ میں فرماتے ہیں
قسم دوم:
جو زحافات صدر و ابتدا سے نخصوص ہیں وہ پانچ ہین : خرم ' ثلم ' خرب ' شتر '  ثرم

فرماتے ہیں کہ
’’مفاعیلن‘‘ کی میم گرا دینے کو خرم کہتے ہیں اور ’’فعولن‘‘ کی ف گرانے کو ثلم ۔ اور ’’ مفاعیلن‘‘ میں خرم و کف کے اجتماع کو خرب اور خرم و قبض کے اجتماع کو شتر کہتے ہیں اور ’’ فعولن‘‘ میں ثلم و قبض کے اجتماع کو ثرم کہتے ہیں ۔
اصل یہ ہے کہ جس رکن کے سرے پر وتد مجموع ہو اس کے پہلے حرف کو گرا دینے کا نام خرم ہے ۔ چوںکہ یہ زحاف تین رکنوں میں آتا ہے اس لیے ہر جگہ اس کا نیا نام ہے چنانچہ مفاعیلن میں خرم اور فعولن میں ثلم اور مفاعلتن میں عضب کہتے ہیں ۔ عضب مخصوصاتِ عرب میں سے ہے ۔ جن ارکان میں یہ زحاف واقع ہوں گے ان کو اخرم ' اثلم '  اخرب '  اشتر '  اثرم وغیرہ کہیں گے

مثالیں مع بدل :
مفاعیلن اخرم ہو کر مفعولن سے اور اخرب ہو کر مفعول سے بدلا جائے گا اور اشتر ہو کر فاعلن باقی رہے گا بدلا نہیں جائے گا

فعولن اثلم ہو کر فعلن (عین ساکن) سے اور اثرم ہو کر فعلُ ( عین ساکن اور لام مضموم) سے بدلا جائے گا ۔ عرب میں یہ پانچوں زحاف صدر و ابتدا سے مخصوص ہیں مگر اہلِ فارس نے ان کو کسی مقام سے مخصوص نہیں کیا ہے بلکہ کبھی کبھی خرم و ثلم کو عروض و ضرب میں استعمال کرتے ہیں ۔ لیکن حشو میں خرم کرتے ہیں تو اس وقت اس کا نام خرم نہیں رہتا بلکہ تحنیق کہتے ہیں اور اس رکن کو محنوق ۔
خرم فقط بحر ہزج میں آتا ہے ۔ خرب بحر ہزج اور مضارع میں آتا ہے ۔ شتر ہزج اور مضارع میں واقع ہوتا ہے ۔ ثلم و ثرم بحر طویل و متقارب میں آتے ہیں

اب تک اتنا ہی اگلا حصہ اگلی نشست میں ان شاء اللہ تعالیٰ 

اللہ پاک آپ سبھی کرم فرماؤں کو دونوں جہانوں کی سُخروئی عطا فرمائے

دعاگو
محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3180
جواب: غزل ۔۔۔ جناب اطہر نفیس
« Reply #31 بروز: جون 18, 2017, 12:17:30 صبح »

احباب کی خدمت میں سلام عرض ہے یقیناً آپ احباب کو زحافات کے تیسرے حصے کا انتظار ہو گا مجھے حاضرِ خدمت ہونے میں ذرا تاخیر
ہو گئی معافی کا طلبگار ہوں
تو قارئین کرام ہم اپنے سفر کی جانب چلتے جس میں زحافات پر جناب محترم مرزا یاس عظیم آبادی کیا فرماتے ہیں آئیے دیکھتے ہیں

قِسم سوم :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فرماتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو زحافات عروض و ضرب سے مختص ہیں وہ تیرہ ہیں: قطع  ' حذذ ' اذالہ ' ترفیل ' خلع ' وقف ' کسف ' صلم ' قصر ' حذف ' تسبیغ ' بتر ' تشعیث
ان میں سے پانچ زحاف (قطع  ' حذذ ' اذالہ ' ترفیل ' خلع ) ان ارکان سے مخصوس ہیں جن کے آخر وتد مجموع ہے جیسے فاعلن  ' مستفعلن متصل اور متفاعلن ۔

قطع :
وتد مجموع کے تیسرے حرف کو گرا دینے اور دوسرے حرف کو ساکن کر دینے کو کہتے ہیں ۔

حذذ :
سارا وتد گرا دینے کو کہتے ہیں

اذالہ :
وتد کے دوسرے حرف کے بعد الف بڑھا دینے کو کہتے ہیں ۔

ترفیل :
وتد کے بعد ایک سبب خفیف کو بڑھا دینے کو کہتے ہیں ۔

خلع :
اجماعِ خبن و قطع کو کہتے ہیں ( چونکہ متفاعلن میں  خبن نہیں ہو سکتا اس لیے اس میں خلع بھی ممکن نہیں )۔
مزید فرماتے ہیں
جن ارکان میں یہ زحافات واقع ہوں گے ان کو مقطوع  ' اخذ  ' مذال  ' مرفل  ' محلع کہیں گے ۔ خلع بحر بسیط اور رجز میں آتا ہے ۔

قطع بحر رجز و کامل و رمل و متدارک و بسیط و ندید و سریع و مقتضب میں آتا ہے اور خفیف و مضتث میں صرف فاعلاتن میں آتا ہے ۔
حذذ بحر کامل و رجز وبسیط و متدارک میں اکثر آتا ہے باقی بحور میں جن میں مستفعلن متصل واقع ہو شاذ واقع ہوتا ہے ۔

اذالہ بحر رجز و متدارک و بسیط و کامل و سریع و منسرح و مقتضب میں آتا ہے اور عروض و ضرب میں اکثر واقع ہوتا ہے ۔ اور حشو میں آتا ہے اور صدر و ابتدا میں ممنوع ہے۔

تسبیغ بحر ہزج و رمل و مضارع و متقارب و مدید و طویل و مجتث میں ممکن الوقع ہے اور اکثر آخر مصرع میں آتا ہے۔

ترفیل فارسی اردو میں نادر الوقوع ہے اور عبی میں بحر کامل سے مخصوص ہے اور رجز میں آتا ہے ۔

مثالیں مع بدل:
فاعلن مقطوع ہو کر فعلن ( عین ساکن) سے اخذ ہو کر فع سے اور مرفل ہو کر فاعلاتن سے بدلا جائے گا  ' اور مذال ہو کر فاعلان اور محلع ہو کر فعَل ( عین متحرّک و لام ساکن) ہو جائے گا
مستفعلن (متصل) مقطوع ہو کر مفعولن اور اخذ ہو کر فعلن ( عین ساکن) اور مرفل ہو کر مستفعلاتن اور مخلع ہو کر فعولن سے بدلا جائے گا اور مذال ہو کر مستفعلان ہو جائے گا ۔
متفاعلن مقطوع ہو کر فعِلاتن ( عین متحرک) اور اخذ ہو کر فعِلن (عین متحرک) اور مرفل ہو کر متفاعلاتن سے بدلا جائے گا ۔ اور مذال ہو کر متفاعلان ہو جائے گا۔ اور مخلع نہیں ہو سکتا کیوںکہ خبن غیر ممکن ہے۔ اذالہ عروض و ضرب کے سوا حشو میں بھی آتا ہے ، اور فاعلاتن متصل میں قطع اس طرح ہوتا ہے کہ سبب خفیف آخر کو دور کریں اور ساکن وتد کو بھی دور کرکے ماقبل کو ساکن کریں۔ پس فاعل منقول بہ فعِلن رہتا ہے

اسی طرح تین زحاف وقف  ' کسف  ' صلم اس رکن سے مخصوص ہیں جس کے آخر وتد مفروق ہے (یعنی مفعولات) ۔ پس اگر اس میں وتد مفروق کے تیسرے حرف کو ساکن کر دیں تو وقف ہے اور اگر گرا دیں تو کسف ہے اور اگر سارا وتد گرا دیں تو صلم ہے ۔ ان ارکان کو ان حالتوں میں موقوف  ' مکسوف  ' اور اصلم کہیں گے۔ مفعولات موقوف ہو کر مفعولان سے مکسوف ہو کر مفعولن سے اصلم ہوکر فعلن ( عین ساکن) سے بدلا جائے گا۔
 صلم و وقف و کسف تینوں بحر سریع و منسرح و مقتضب میں آتے ہیں ۔
علی ہذالقیاس تین زحاف قصر  ' حذف  ' تسبیغ ان ارکان سے مخصوص ہیں جن کے آخر میں سبب خفیف ہے  ' جیسے فعولن  ' مفاعیلن  ' فاعلاتن (متصل و منفصل) ۔ پس اگر ارکان میں سببِ خفیف کا ساکن گر جائے اور متحرک ساکن ہو جائے تو اس کو قصر کہیں گے۔ اور اگر سارا سبب گرا دیا جائے تو اس کو حذف کہیں گے اور اگر سبب خفیف کے وسط میں ایک الف بڑھا دیا جائے تو اسے تسبیغ کہیں گے۔

مثالیں مع بدل:
فعولن مقصور ہو کر فعول( لام ساکن) اور مسبغ ہو کر فعولان ہو جائے گا اور مخذوف ہو کر فعَل (عین مفتوح ) سے بدلا جائے گا ۔   
مفاعیلن مقصور ہو کر مفاعیل ۰لام ساکن) اور مخذوف ہو کر فعولن سے بدلا جائے گا اور مسبغ ہو کر مفاعیلان ہو جائے گا ۔
فاعلاتن ( متصل و منفصل) مقصور ہو کر فاعلات(ت ساکن) اور مخذوف ہو کر فاعلن اور مسبغ ہو کر فاعلان سے بدلا جائے گا۔

قصر بحر طویل و مدید ۔ ہزج و رمل ۔ متقارب و مضارع ۔ خفیف و مجتث میں آتا ہے۔

حذف بحر طویل و رمل ۔ متقارب و مضارع ۔ مجتث و مدید ۔ ہزج و خفیف  میں واقع ہوتا ہے۔

تسبیغ بحر ہزج و رمل ۔ مدید و طویل ۔ مضارع و مجتث ۔ خفیف و متاقرب میں واقع ہوتا ہے۔

تسبیغ و اذالہ عروض و ضرب کے سوا حشو میں بھی آتا ہے۔
باقی دو زحاف (بتر و تشعیث) میں سے بتر فعولن اور فاعلاتن سے مخصوص ہے۔ بتر اجماع حذف و قطع کا نام ہے۔ فعولن ابتر ہو کر فع رہ جائے گا اور فاعلاتن ابتر ہو کر فعلن (عین ساکن) سے بدلا جائے گا۔
تشعیث فقط فاعلاتن سے مخصوص ہے  ' یعنی فاعلاتن کو جب مفعولن بنا لیتے ہیں تو اسے تشعیث کہتے ہیں۔ تشعیث کے متعلق مختلف اقوال بیان کیے گئے ہیں ۔ کوئی تو یہ کہتا ہے کہ اس میں خرم واقع ہوا ہے یعنی وتد ’’ علا‘‘ کا عین گر گیا ہے ۔ اس صورت میں فالاتن مبدل مفعولن ہو جاتا ہے ۔ اور کوئی یہ کہتا ہے کہ یہاں قطع ہوا ہے یعنی وتد علا کے الف کو گرا کر لام ساکن کر دیا گیا ہے۔ اس حالت میں فاعل تن مبدل مفعولن ہو جاتا ہے ۔ کوئی کہتا ہے کہ وتد علا کا دوسرا حرفِ ساکن لام متحرک گر گیا ہے ۔ اس حالت میں فاعاتن مبدل مفعولن ہوتا ہے ۔ اور کوئی یہ کہتا ہے کہ مخبون مسکن ہے یعنی پہلے خبن کر کے فعلاتن بنایا اور عین پر تسکین اوسط کا زحاف لگایا لہٰذا فعلاتن ( بہ سکونِ عین) باقی رہا یعنی فاعلاتن مفعولن ہو جاتا ہے۔ محقق علیہ الزحمہ نے اس آخری قول کی تائید کی ہے۔
بتر بحر تقارب و طویل و ہزج و رمل و مضارع و مجتث و خفیف میں آتا ہے۔
تشعیث بحر مدید و خفیف و رمل و مجتث میں آتا ہے اور مضارع میں نہیں آتا ہے کیونکہ اس میں وہ وتد مجموع نہیں ہے  ' وتد مفروق ہے۔
یہ چوبیس زحافات جو بیان کیے گئے  ' عربی  ' فارسی  ' اردو میں مشرک ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صاحبان کیسا لگا آپ کو یہ سب پڑھ کر اپنی تو کھوپڑی گھوم گئی اور آپ کی ؟   :)

آخر میں التماس ہے کہ از راہِ کرم میری کتابت کی غلطیوں کا مواخذہ نہ کیا جائے کہ میں تو ہوں ہی غلطیوں کا پیکر
یہ سب منقول ہےجناب مرزا یاس عظیم آبادی صاحب کی کتاب ’’ چراغِ سخن ‘‘ سے
« آخری ترمیم: جون 18, 2017, 12:56:50 صبح منجانب Ismaa'eel Aijaaz »
محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

 

Copyright © اُردو انجمن