اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: واہ مولوی صاحب واہ  (پڑھا گیا 142 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر dr maqsood hasni

  • Adab Dost
  • ***
  • تحریریں: 804
واہ مولوی صاحب واہ
« بروز: مئی 18, 2017, 10:05:11 صبح »
واہ مولوی صاحب واہ
شغلانہ

وہ سیدھا سادا مزدور آدمی تھا۔ بامشکل گھر کا خرچہ چلا پا رہا تھا۔ غربت و عسرت کے سبب گھر میں ہر وقت کل کل چلتی رہتی۔ وہ اپنی حد تک تو مشقت اٹھا رہا تھا۔ یہ ہی اس کے بس میں تھا۔ وافر کہاں سے لاتا۔ باپ بھی مشقتی تھا۔ اس نے بھی اسی طرح محنت مشقت سے انہیں پالا پوسا تھا۔ بھوک اور ہمہ وقت کی تو تکرار نے اس کے ذہن کو تقریبا معطل سا کر دیا تھا۔ اس کی ہر سوچ کی تان روٹی پانی پر ہی ٹوٹتی تھی۔
یہ اس نے کوئی پہلی بار مسجد میں قدم نہ رکھا تھا۔ اس سے پہلے بھی وہ کئی بار مسجد میں عید نماز پڑھنے آ چکا تھا۔ ہر بار اسے نصیحتوں سے پالا پڑا تھا۔ مولوی صاحب نے کبھی بھوک سے نجات کا کبھی کوئی طریقہ یا رستہ بیان نہ کیا تھا۔ مولوی صاحب کو کھلا اچھا اور ون سوونا کھانے کو مل جاتا تھا۔ نئی پرانی علاقے کی حوریں دم اور تعویز دھاگے کے لیے آتی تھیں۔ پرہیزی سہی‘ ٹھرک جھاڑنے کا موقع مل جاتا۔ عادت سے مجبور اپنے اور دوسرے گھروں کے اندر کے بھید سنا جاتیں اس لیے اسے کسی قسم کی بھوک پیاس ہی نہ تھی۔ بھوک یا کاروباری قسم کی باتیں اس کے مطلب کی نہ تھیں۔
یہ پہلی بار تھی جو مولوی صاحب کو کوئی کاروباری بات کرنے کی توفیق ہوئی۔ مولوی صاحب نے جنت کی حوروں کا بڑے ہی رومانی اور دلکش انداز میں تذکرہ کیا۔ مولوی صاحب نے کہا کہ وہ انڈے کی طرح سفید ہوں گی اور ہر جنتی کو تعداد میں ستر ملیں گی۔ مولوی صاحب نے تو ان کی رنگت بیان کی لیکن اس کی سمجھ میں یہ آیا کہ حوریں انڈے دیں گی۔ مولوی صاحب جانے اور کیا کچھ کہتے رہے لیکن بھوک نے اس کے سوچ کو انڈوں کے گرداب سے باہر نہ آنے دیا۔
اس نے سوچا سب لوگ تو جنت میں نہیں جائیں گے۔ اچھا کرنے والے ہی جنت میں جا سکیں گے۔ وہ ستر انڈے ابال کر بےحوری علاقہ میں ہر روز بیچا کرے گا۔ ایک انڈا اگر دس روپے میں فروخت ہوا تو سات سو روپیے سیدھے ہو جائیں گے۔ سات سو روپیے منہ سے ہی کہنا ہے ہاتھ آنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ سوچ ذرا پھیلی تو مایوسی کا دوبارہ سے دروازہ کھل گیا۔ سات سو میں ستر وہ اور ایک یہ گویا اکہتر کا ناشتہ پانی ہی نہیں ہو سکے گا۔ باقی کا خرچہ کہاں سے آئے گا۔ یہاں ایک کے لیے سارا دن مشقت اٹھاتا ہے پھر بھی پوری نہیں پڑتی اور رات گئے تک ہاجاں کے کوسنے سنتا ہے۔ وہاں ستر کے طعنے مینے کیسے سن سکے گا۔
اسے مولوی صاحب کے اس ڈنڈی مار رویے پر سخت افسوس ہوا۔ خود پیٹ بھر کھاتا ہے اور اوروں کے لیے پیٹ بھر کھانے کا رستہ تنگ اور مشکل بنا رہا ہے۔ پھر اس کے منہ سے نکل گیا واہ مولوی صاحب واہ کیا کہنے آپ کے خود پیٹ بھر کھاتے ہو اور گریبوں کے لیے جنت میں بھی مشقت اور وہ ہی زمینی فاقہ۔







غیرحاضر Asadullah Khan

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 119
جواب: واہ مولوی صاحب واہ
« Reply #1 بروز: مئی 18, 2017, 12:25:19 شام »

مُحترم جناب ڈاکٹر مقصود حسنی صاحب۔ السلام علیکم۔ آپ سے شاید پہلی دفعہ مُخاطب ہو رہا ہوں۔ اور دیکھا یہی ہے کہ جناب اپنے مضامین پر تبصروں کا کم کم ہی جواب دیتے ہیں۔ لیکن آج مجھے لکھنا پڑا۔ جناب نے میرے دل کی بات کی۔ مولوی صاحبان جس طرح حوروں کے قصے سناتے ہیں تعجب ہوتا ہے کہ جنت کی ساری نعمتوں کو چھوڑ کر اس ’نعمت‘ ہی کی تفصیل کیوں اتنی محنت سے کرتے ہیں۔ ہمارے جاوید احمد غامدی صاحب کے مطابق تو یہ سب بس قصے کہانیاں ہیں۔ حوریں تو دنیا ہی کی خواتین کو کہا گیا ہے۔ خیر، جو بھی ہے، مجھ جیسا انسان تو جنت میں جا کر شاید اس طرف توجہ ہی نہ کر سکے۔ شاید کسی آبشار کے برابر چٹان پر بیٹھ کر غور و فکر میں محو رہے۔ غور و فکر نہ بھی کرے تو چُپ چاپ خالی دماغ کے ساتھ دور افق کو گھورتا رہے۔ یہ بھی کسی نعمت سے کم نہیں۔ آبشار کا شور ہو، فرصت ہو، اور دماغ میں کوئی خیال نہ رہے۔ مارک گنگر کے مطابق، جو شادیوں کے نباہ کے طریقوں پر درس دیتے ہیں، یہ نعمت (کہ دماغ میں کچھ سوچنے کی سرگرمی نہ چل رہی ہو) خواتین کو میسر نہیں۔ اور نہ ہی مرد ایسی کیفیت کے دوران خواتین کی مداخلت برداشت کرتے ہیں۔ اپنی بیویوں کی بھی نہیں، کُجا ستر ستر حوریں؟

یا شاید میرے جیسا آدمی جنت میں جا کر ان تمام سوالوں کے جوابات مانگے جو ہمارے لیے معمہ ہی بنے رہے ہیں۔ مثلاً کائینات کی ابتدا کیسے ہوئی؟ انسان کی تخلیق کیسے ہوئی؟ انسان کا ابتدائی دور کیسا رہا؟ کائینات کی وسعتیں کتنی ہیں؟ ہمارے مرنے کے بعد دُنیا میں کیا کیا ہوا؟ قران میں ہر خواہش پوری کرنے کا وعدہ ہے امید ہے یہ جوابات بھی ملیں گے۔ اور اگر رسائی پیغمبروں کے حصے تک ہو سکی تو ان سے ان کے قصے سن سن کر کتنا مزہ آئے گا؟ اس سب کے لیے وقت ہی کہاں ملے گا؟ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ قُران نے تین چار مقامات پر اور نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے حوروں کا بھی چلتے چلتے ذکر کر دیا لیکن مسلمانوں کی تمام دلچسپیوں کا مرکز یہ حوریں ہی کیوں ہیں؟ یہ دیکھیے اس وڈیو میں ایک مولوی صاحب کیسے للچائے ہوئے انداز میں حوروں کا ذکر فرما رہے ہیں، اور حوروں کے شوق میں ایسے بہکے کہ دنیاوی خواتین کو میلی کُچیلی، سڑی گلی اور نجانے کیا کیا کہ رہے ہیں:

https://www.youtube.com/watch?v=WyeLaf1BCH0

اور کس انداز میں جنتیوں کے حوروں کے ساتھ تعلقات کا ذکر فرما رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ہمارے نبی ﷺ نے ایسا کچھ نہیں کہا ہوگا۔ اور اگر کوئی حدیثوں کا حوالہ دے گا تو میں بغیر تحقیق راویوں کو تو جھوٹا مان لوں گا لیکن یہ بازاری باتیں اپنے نبی سے منسوب نہیں کرنے دوں گا۔ پتہ نہیں یہ وڈیو مجھے یہاں دکھانی چاہیے بھی تھی کہ نہیں، شرم محسوس ہوتی ہے۔

یہاں آنے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ چند اصطلاحات جو آپ نے استعمال کی ہیں ان پر مجھے ذرا شک ہے۔ اور میں تمام احباب سے جو یہ پڑھ رہے ہوں رائے دینے کی درخواست کروں گا۔

۱۔ ’سیدھا سادا‘۔ میرے خیال میں (اور جو میں نے پڑھا ہے) یہ لفظ ’سیدھا سادھا‘ ہونا چاہیے۔ سادھا مہمل ہے سیدھا کا۔ کچھ لوگ سیدھا سادہ بھی لکھتے ہیں، لیکن سادہ تو فارسی کا لفظ ہے اور اس کا مونث اور جمع بھی سادہ ہی ہونا چاہیے(سادہ روٹی، سادہ کپڑے)۔ اس طرح سیدھا سادہ سے سیدھی سادی اور سیدھے سادے غلط ہوگا۔

۲۔ ’توُ تکرار‘ نہیں سُنا، ہاں یہاں پنجاب میں ’تُو تکار‘ عام ہے۔ لیکن شاید اردو میں ’تو تڑاق‘ کی ترکیب مستعمل ہے۔

۳۔ کیا ’ٹھرک‘ اردو کا لفظ ہے؟ کوئی یوپی کے بزرگ ہوں تو بتا دیں۔

آخر میں پھر ڈاکٹر صاحب کا اپنی تحریر سے نوازنے کا شکریہ۔ ہمیں بھی دل کے پھپھولے پھوڑنے کا موقع مل گیا :)۔

اسد
« آخری ترمیم: مئی 18, 2017, 01:03:38 شام منجانب Asadullah Khan »

غیرحاضر dr maqsood hasni

  • Adab Dost
  • ***
  • تحریریں: 804
جواب: واہ مولوی صاحب واہ
« Reply #2 بروز: مئی 21, 2017, 05:28:52 صبح »
شکریہ جناب
بیمار توخیر عرصہ سے ہوں پھر بھی کچھ ناکچھ لکھتا رہا ہوں۔ پچھلے ماہ رات ایک بجے بےہوشی کے عالم میں ہسپتال لے جایا گیا۔ مجھے مردہ کہہ کر گھر لے جانے کا حکم صادر ہوا۔ واپسی کا بندوبست ہو ہی رہا تھا کہ ٹھیک اٹھائیس منٹ بعد ایک لمبا سانس آیا۔ میں ڈٰیڈ باڈی سے دوبارہ مقصود حسنی کہلایا گیا۔ انہوں نے لاہور ریفر کر دیا۔ آگے لمبی چوڑی کہانی ہے۔ مٰیں ابھی تک بہتر نہیں ہوا۔ جو جب بھی پیش کیا کروں آدھے زندہ شخص کی تحریر سمجھتے ہوئے قبول فرما لیا کریں۔
شکریہ
آدھا زندہ شخص
مقصود حسنی

غیرحاضر kafilahmed

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 378
جواب: واہ مولوی صاحب واہ
« Reply #3 بروز: مئی 21, 2017, 09:49:57 صبح »
شکریہ جناب
بیمار توخیر عرصہ سے ہوں پھر بھی کچھ ناکچھ لکھتا رہا ہوں۔ پچھلے ماہ رات ایک بجے بےہوشی کے عالم میں ہسپتال لے جایا گیا۔ مجھے مردہ کہہ کر گھر لے جانے کا حکم صادر ہوا۔ واپسی کا بندوبست ہو ہی رہا تھا کہ ٹھیک اٹھائیس منٹ بعد ایک لمبا سانس آیا۔ میں ڈٰیڈ باڈی سے دوبارہ مقصود حسنی کہلایا گیا۔ انہوں نے لاہور ریفر کر دیا۔ آگے لمبی چوڑی کہانی ہے۔ مٰیں ابھی تک بہتر نہیں ہوا۔ جو جب بھی پیش کیا کروں آدھے زندہ شخص کی تحریر سمجھتے ہوئے قبول فرما لیا کریں۔
شکریہ
آدھا زندہ شخص
مقصود حسنی


محترم ڈاکٹر مقصود حسنی صاحب السلام علیکم

آپ کی ناسازئی طبع کا پڑھ کر دل بہت رنجور ہوا اور بیساختہ دل کی اتھاہ گہرائی اور اس کے ہر کونے اور گوشے سے آپ کی مکمل صحتیابی کے لئے دل سے دعا نکلی۔ پم تمام محبانِ انجمن آپ کو آدھا نہیں بلکہ پورا زندہ دیکھنا چاہتے ہیں اور تندرست و توانا بھی۔ آپ یقیناً اس محفل کی رونق نہیں بلکہ دل و جان ہیں۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ آپ کو جلد از جلد صحتِ کلی عطا فرمائے ۔ آمین۔

آپ نے خرابئی صحت کے باوجود اپنی تحریر سے ہمیں مستفید کیا جس کے لئے ممنون و مشکور ہیں مگر کچھ آرام کرلیں تو بہتر ہے۔


اللہ آپ کو صحت کے ساتھ ساتھ عمرِ خضر بھی عطا کرے۔ آمین۔

طالبِ دعا

کفیل آحمد
مرے دوستوں نے مجھ کو آخر ہے کیا دیا
 محبت، خلوص، پیار،  باقی  ہے  کیا  بچا

غیرحاضر dr maqsood hasni

  • Adab Dost
  • ***
  • تحریریں: 804
جواب: واہ مولوی صاحب واہ
« Reply #4 بروز: مئی 22, 2017, 04:20:38 صبح »
bar bari bari bari meharbani
Allah aap sab ko apni ataoon main rakhe

 

Copyright © اُردو انجمن