اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: جب سامنے گئے ہم ہم نے اسے دعا دی  (پڑھا گیا 213 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3180
جب سامنے گئے ہم ہم نے اسے دعا دی
« بروز: مئی 20, 2017, 05:16:25 صبح »

جب سامنے گئے ہم ہم نے اسے دعا دی
شکل ان نے دیکھتے ہی غصہ کیا زباں کی


 قارئین کرام اور اساتذہ کرام  آداب عرض ہیں 
میر تقی میر کا یہ شعر بہت دوسرے مصرعے میں اپنے اسلوب میں بہت پیچیدگیاں لیے ہے مجھے ایسا لگ رہا ہے کہیں شترگربہ بھی ہے اسے اور ان نے کے مابین یا پھر میری کم مائیگی آڑے ہے آپ احباب سے گزارش ہے اس پر روشنی ڈالیے کہ میر نے کیا فرمایا ہے دوسرے مصرعے میں
اللہ آپ سبھی کو سدا سلامت رکھے
آپ کو دعاؤں اور توجہ کا طلبگار


محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • ******
  • تحریریں: 6220
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar
جواب: جب سامنے گئے ہم ہم نے اسے دعا دی
« Reply #1 بروز: مئی 21, 2017, 02:33:58 شام »

جب سامنے گئے ہم ہم نے اسے دعا دی
شکل ان نے دیکھتے ہی غصہ کیا زباں کی


 قارئین کرام اور اساتذہ کرام  آداب عرض ہیں 
میر تقی میر کا یہ شعر بہت دوسرے مصرعے میں اپنے اسلوب میں بہت پیچیدگیاں لیے ہے مجھے ایسا لگ رہا ہے کہیں شترگربہ بھی ہے اسے اور ان نے کے مابین یا پھر میری کم مائیگی آڑے ہے آپ احباب سے گزارش ہے اس پر روشنی ڈالیے کہ میر نے کیا فرمایا ہے دوسرے مصرعے میں
اللہ آپ سبھی کو سدا سلامت رکھے
آپ کو دعاؤں اور توجہ کا طلبگار


عزیز مکرم خیال صاحب:سلام مسنون
افسوس کہ میرے پاس دیوان میر نہیں ہے۔ آپ کے پاس شاید ہوگا۔ کیایہ واقعی میر تقی میر کا ہی شعر ہے؟ تصدیق ہوجائے تو اس پر خیال آرائی ہوسکتی ہے۔ میر کے وقت میں ہی نہیں بلکہ مرزا غالب کے زمانے تک "تم، آپ" ،"اس، ان"، تو، تم" کو ایک ہی شخص سے تخاطب میں استعمال کیا جاتا تھا۔ غالب کے خطوط دیکھیں تو اس میں ایسا بہت نظر آتا ہے۔ مومن خاں مومن کی مشہور غزل "تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو" میں بھی آپ یہ صورت دیکھیں گے۔ گویا جسے ہم اور آپ آج شترگربہ سمجھتے ہیں وہ اس وقت قابل قبول تھا بلکہ روزمرہ کا ایک حصہ تھا۔ سو اس میں تردد یا فکر کی ضرورت نہیں ہے۔ اب شعر کو لیجئے:
جب سامنے گئے ہم ہم نے اسے دعا دی
شکل ان نے دیکھتے ہی غصہ کیا زباں کی
"زبان کرنا" بمعنی "برابھلا کہنا، زبان درازی کرنا" کبھی محاورہ کی طرح نہ سنا نہ پڑھا۔ ہو سکتا ہو کہ میر کے وقت میں یہ مستعمل ہو لیکن ان کے کلام میں آج سے قبل نہیں دیکھا۔ کسی دوست نے دیکھا ہو تو ضرور بتائیں۔ مہربانی ہوگی۔ اس کے علاوہ تو اور کچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟ باقی راوی سب چین بولتا ہے۔

سرورعالم راز
ا




غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3180
جواب: جب سامنے گئے ہم ہم نے اسے دعا دی
« Reply #2 بروز: مئی 22, 2017, 12:19:05 صبح »

جب سامنے گئے ہم ہم نے اسے دعا دی
شکل ان نے دیکھتے ہی غصہ کیا زباں کی


 قارئین کرام اور اساتذہ کرام  آداب عرض ہیں 
میر تقی میر کا یہ شعر بہت دوسرے مصرعے میں اپنے اسلوب میں بہت پیچیدگیاں لیے ہے مجھے ایسا لگ رہا ہے کہیں شترگربہ بھی ہے اسے اور ان نے کے مابین یا پھر میری کم مائیگی آڑے ہے آپ احباب سے گزارش ہے اس پر روشنی ڈالیے کہ میر نے کیا فرمایا ہے دوسرے مصرعے میں
اللہ آپ سبھی کو سدا سلامت رکھے
آپ کو دعاؤں اور توجہ کا طلبگار


عزیز مکرم خیال صاحب:سلام مسنون
افسوس کہ میرے پاس دیوان میر نہیں ہے۔ آپ کے پاس شاید ہوگا۔ کیایہ واقعی میر تقی میر کا ہی شعر ہے؟ تصدیق ہوجائے تو اس پر خیال آرائی ہوسکتی ہے۔ میر کے وقت میں ہی نہیں بلکہ مرزا غالب کے زمانے تک "تم، آپ" ،"اس، ان"، تو، تم" کو ایک ہی شخص سے تخاطب میں استعمال کیا جاتا تھا۔ غالب کے خطوط دیکھیں تو اس میں ایسا بہت نظر آتا ہے۔ مومن خاں مومن کی مشہور غزل "تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو" میں بھی آپ یہ صورت دیکھیں گے۔ گویا جسے ہم اور آپ آج شترگربہ سمجھتے ہیں وہ اس وقت قابل قبول تھا بلکہ روزمرہ کا ایک حصہ تھا۔ سو اس میں تردد یا فکر کی ضرورت نہیں ہے۔ اب شعر کو لیجئے:
جب سامنے گئے ہم ہم نے اسے دعا دی
شکل ان نے دیکھتے ہی غصہ کیا زباں کی
"زبان کرنا" بمعنی "برابھلا کہنا، زبان درازی کرنا" کبھی محاورہ کی طرح نہ سنا نہ پڑھا۔ ہو سکتا ہو کہ میر کے وقت میں یہ مستعمل ہو لیکن ان کے کلام میں آج سے قبل نہیں دیکھا۔ کسی دوست نے دیکھا ہو تو ضرور بتائیں۔ مہربانی ہوگی۔ اس کے علاوہ تو اور کچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟ باقی راوی سب چین بولتا ہے۔

سرورعالم راز
ا



جناب محترم سرور عالم راز سرور صاحب
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

جنابِ عالی آپ کی گرانقدر تبصرہ نگاری ہماری علمی و ادبی صلاحیتوں کے لیے اکیسر ہے اس کی آبیاری میں جلا و دوام بخشنے کے مترادف ہے ، چوں کہ اس کلام میں اسلوب غیر معروف لگا تو اسے آپ اور دیگر اساتذہ کے سامنے رکھ دیا کہ کچھ معلومات میں اضافہ ہو آپ نے نظرِ کرم فرما کر قلبی تقویت واطمینان کے ساتھ ساتھ عزت بھی بخشی اللہ آپ کو دنیا و آخرت کی عزّتیں عطا فرمائے
آپ نے فرمایا کہ میرے پاس میر تقی میر کا دیوان ہو شاید ، نہیں ایسا نہیں ہے میرے پاس صرف شاعری کی کتاب آسان عروض جسے آپ نے مرتب فرمایا ہے وہ بھی اللہ جزائے خیر عطا فرمائے جناب محترم محمد صدیق عرفان صاحب نے غالباً 2010 یا 2011 میں مجھے تحفتاً امریکہ سے بذریعہ پارسل بھیجوائی جسے ایک سال تک ہاتھ نہیں لگایا پھر ایک عاصم ملک نامی صاحب نے محمد خاور صاحب کی اردو انجمن میں ہوا کرتے تھے بڑی کلاس لی کوئی پانچ چھ اردو شاعری کے گروپس میں میری عزت کی دھجیاں بکھیریں اور آپ کے لیے بھی مغلظات و دشنام طرازی سے توہین آمیز رویہ اختیار کیا تو بڑی شرم آئی کہ میں تو ہوں ہی نالائق مگر آپ کو اپنی نالائقی کے سبب کیوں اپنے توسط سے توہین کا مرتکب ٹھہرواؤں آپ کی اس کتاب سے سیکھنا شروع کیا اس کے علاوہ میرے پاس نہ تو کوئی شاعری کی کتاب ہے نہ ہی میں کسی مشاعرے میں جاتا ہوں یا شاعروں میں اٹھتا بیٹھا ہوں میں تو بس گوگل کر کے اردو کے خدمت گاروں سے استفادہ کرتا رہا ہوں اللہ اردو کے تمام چاہنے والوں اور اس پر محنت کرنے والوں کو سدا سلامت رکھے انہیں جزائیے خیر عطا فرمائے

میرتقی میرکی غزل ملاحظہ فرمائیے

گلبرگ سی زباں سے بلبل نے کیا فغاں کی
سب جیسے اڑ گئی ہے رنگینی گلستاں کی
مطلوب گم کیا ہے تب اور بھی پھرے ہے
بے وجہ کچھ نہیں ہے گردش یہ آسماں کی
مائل ستم کے ہونا جور و جفا بھی کرنا
انصاف سے یہ کہنا یہ رسم ہے کہاں کی
ہے سبزۂ لب جو اس لطف سے چمن میں
جوں بھیگتی مسیں ہوں کوئی سرو نوجواں کی
میں گھر جہاں میں اپنے لڑکوں کے سے بنائے
جب چاہا تب مٹایا بنیاد کیا جہاں کی
صوم و صلوٰۃ یکسو میخانے میں جو تھے ہم
آواز بھی نہ آئی کانوں میں یاں اذاں کی
جب سامنے گئے ہم ہم نے اسے دعا دی
شکل ان نے دیکھتے ہی غصہ کیا زباں کی
دیکھیں تو میرؔ کیونکر ہجراں میں ہم جیے ہیں
ہے اضطراب دل کا بے طاقتی ہے جاں کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کلام کو دیکھ کر آپ کی بات سے مکمل اتفاق ہے کہ اس زمانے میں زبان و بیان کچھ ایسا ہی تھا جسے میر نے اپنے اس کلام میں سجایا ہے

بہت شکریہ جناب محترم سرور عالم راز سرور عالم صاحب ، اللہ آکو سدا سلامت رکھے دونوں جہانوں کی عزّتیں عطا فرمائے
آپ کی دعاؤں اور محبتوں کا طلبگار

دعاگو 
محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

غیرحاضر Asadullah Khan

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 126
جواب: جب سامنے گئے ہم ہم نے اسے دعا دی
« Reply #3 بروز: مئی 22, 2017, 01:17:27 صبح »


السلام علیکم۔ آپ حضرات کی گفتگو دیکھی۔ سرور عالم راز صاحب نے فرمایا کہ ’’زبان کرنا‘‘ بمعنی زبان درازی کبھی نہیں سنا اس لیے میں نے فوراً لغات کھکھوڑیں کیونکہ مجھے ذاتی طور پر یہ محاورہ پسند آیا تھا۔ تو میری تلاش کے نتائج کچھ یوں ہیں:

 

پلاٹس صاحب جن کی اردو انگریزی کی لغت اٹھارہ سو چوراسی میں چھپی تھی لکھتے ہیں:

 

zabān karnā, To speak foolishly or inconsiderately

لنک:

http://dsalsrv02.uchicago.edu/cgi-bin/philologic/getobject.pl?c.4:1:4590.platts

 

اور شیکسپیر صاحب کی لغت جواٹھارہ سو چونتیس میں چھپی:

 

زبان کرني zabān karnī, To speak foolishly or inconsiderately.

 

http://dsalsrv02.uchicago.edu/cgi-bin/philologic/getobject.pl?c.1:1:5419.shakespear

 

حیرت ہے کہ فیلن صاحب کی لغت  (جو اٹھارہ سو اُناسی میں چھپی) میں ایسا کچھ نہیں ملا حالآنکہ ان کی لغت میں باقیوں کی نسبت زیادہ محاورے درج ہیں۔


غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3180
جواب: جب سامنے گئے ہم ہم نے اسے دعا دی
« Reply #4 بروز: مئی 22, 2017, 01:37:47 صبح »


السلام علیکم۔ آپ حضرات کی گفتگو دیکھی۔ سرور عالم راز صاحب نے فرمایا کہ ’’زبان کرنا‘‘ بمعنی زبان درازی کبھی نہیں سنا اس لیے میں نے فوراً لغات کھکھوڑیں کیونکہ مجھے ذاتی طور پر یہ محاورہ پسند آیا تھا۔ تو میری تلاش کے نتائج کچھ یوں ہیں:

 

پلاٹس صاحب جن کی اردو انگریزی کی لغت اٹھارہ سو چوراسی میں چھپی تھی لکھتے ہیں:

 

zabān karnā, To speak foolishly or inconsiderately

لنک:

http://dsalsrv02.uchicago.edu/cgi-bin/philologic/getobject.pl?c.4:1:4590.platts

 

اور شیکسپیر صاحب کی لغت جواٹھارہ سو چونتیس میں چھپی:

 

زبان کرني zabān karnī, To speak foolishly or inconsiderately.

 

http://dsalsrv02.uchicago.edu/cgi-bin/philologic/getobject.pl?c.1:1:5419.shakespear

 

حیرت ہے کہ فیلن صاحب کی لغت  (جو اٹھارہ سو اُناسی میں چھپی) میں ایسا کچھ نہیں ملا حالآنکہ ان کی لغت میں باقیوں کی نسبت زیادہ محاورے درج ہیں۔




واہ واہ واہ واہ

کیا بات ہے کیا بات ہے ماشاءاللہ جناب اسداللہ خان صاحب بہت ہی عمدہ حوالہ عنایت فرمایا ہے آپ نے ایسے لگا کہ اب تک یقین مانیں اس محاورے سے واسطہ نہیں پڑا تھا مگر خوب صاحب بہت خوب
ہمارے ہاں بات چیت میں یہ تو عام فہم ہے کہ ’’ زبان دی ‘‘ ، ’’زبان دے دینا ‘‘ مطلب عہد کرنا وعدہ کرنا مگر زبان کرنا :) کچھ کچھ یاد پڑتا ہے کہ کہیں آگے پیچھے سننے کو کبھی کبھار مل جاتا ہے زبان کرنا جو زبان دینے کی مد و اصطلاح میں لیا جاتا ہے

اللہ سدا سلامت رکھے صاحب دونوں جہانوں میں شاد و آباد رکھے بہت عنایت ہے آپ کی ، آپ جیسے کرم فرماؤں سے دنیا روشن ہے

جزاکم اللہ خیر

محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

غیرحاضر Asadullah Khan

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 126
جواب: جب سامنے گئے ہم ہم نے اسے دعا دی
« Reply #5 بروز: مئی 22, 2017, 02:17:08 صبح »


یہ لیجیے دو اور لغات میں محاورہ مل گیا۔

 

آکسفورڈ کی لغت میں یوں درج ہے:

 

talk abusively

promise, give one's word of honour

 

https://ur.oxforddictionaries.com/%D8%AA%D8%B1%D8%AC%D9%85%DB%81_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88-%D8%A7%D9%86%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%B2%DB%8C/%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7

 

یعنی کہ اسماعیل صاحب کو باکل ٹھیک یاد پڑتا ہے۔

 

ایک اور حوالہ درج زیل ہے:

 

زبان کرنا

 

زبان کرنا کے معنی

بدزبانی کرنابدکلامی سے پیش آنابرا بھلا کہنازبان درازی کرناسخت کلامی یا بد زبانی کرنا

زبان کرنا سے متعلق کہاوت، محاورے اور ضرب المثل

 

زبان کرنا

گندی زبان کرنا

 

http://www.urduinc.com/english-dictionary/%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7-meaning-in-urdu


غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • ******
  • تحریریں: 6220
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar
جواب: جب سامنے گئے ہم ہم نے اسے دعا دی
« Reply #6 بروز: مئی 22, 2017, 10:05:22 صبح »


السلام علیکم۔ آپ حضرات کی گفتگو دیکھی۔ سرور عالم راز صاحب نے فرمایا کہ ’’زبان کرنا‘‘ بمعنی زبان درازی کبھی نہیں سنا اس لیے میں نے فوراً لغات کھکھوڑیں کیونکہ مجھے ذاتی طور پر یہ محاورہ پسند آیا تھا۔ تو میری تلاش کے نتائج کچھ یوں ہیں:

 

پلاٹس صاحب جن کی اردو انگریزی کی لغت اٹھارہ سو چوراسی میں چھپی تھی لکھتے ہیں:

 

zabān karnā, To speak foolishly or inconsiderately

لنک:

http://dsalsrv02.uchicago.edu/cgi-bin/philologic/getobject.pl?c.4:1:4590.platts

 

اور شیکسپیر صاحب کی لغت جواٹھارہ سو چونتیس میں چھپی:

 

زبان کرني zabān karnī, To speak foolishly or inconsiderately.

 

http://dsalsrv02.uchicago.edu/cgi-bin/philologic/getobject.pl?c.1:1:5419.shakespear

 

حیرت ہے کہ فیلن صاحب کی لغت  (جو اٹھارہ سو اُناسی میں چھپی) میں ایسا کچھ نہیں ملا حالآنکہ ان کی لغت میں باقیوں کی نسبت زیادہ محاورے درج ہیں۔




مکرم بندہ اسد صاحب: سلام مسنون
آپ کا جواب دیکھ کر دلی مسرت ہوئی اور علم میں اضافہ ہوا۔ ہم میں سے کسی نے بھی "زبان کرنا" محاورہ نہیں دیکھا تھا۔ آپ نے تحقیق کی اور ہم سب کو ممنون احسان کیا۔ جزاک اللہ۔ علم ایسی ہی دولت ہے جو لٹانے سے مزید بڑھتی ہے۔ انشااللہ انجمن کی یہ روایت آپ احباب کی بدولت قائم رہے گی۔ راوی بھی بہت خوش ہے اور گڑگڑی کے ہر کش سے دعائے خیر نکلتی معلوم ہوتی ہے!

سرورعالم راز



 

Copyright © اُردو انجمن