اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: لگے کسی کو کسی کی نہ قیل و قال اچھی  (پڑھا گیا 184 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3180
لگے کسی کو کسی کی نہ قیل و قال اچھی
« بروز: جون 06, 2017, 09:52:36 شام »

قارئین کرام آداب عرض ہیں ،  فی البدیہہ کلام آپ کی نذر ، اپنی آراء سے نوازیے شکریہ
عرض کیا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لگے کسی کو کسی کی نہ قیل و قال اچھی
کہ بات بات میں کھنچتی رہے ہے کھال اچھی

مٹانا ظلم کو تو چاہتا ہے ظلمت سے
بڑھا کہ ظلم کو کیا تو نے دی مثال اچھی

کوئی نہ روکے مرے اس جنون کو یارو !
میں وجد میں ہوں مجھے کرنے دو دھمال اچھی

حدود جو بھی ہیں توڑوں گا کر کے منمانی
کہ سر اٹھانے کی سیکھی ہے میں نے چال اچھی

تُو جانتا ہے مگر بات مانتا کب ہے
نفاق میں ہے رچی تیری چال ڈھال اچھی

میں جانتا ہوں قیام و سجود کے احکام
کہ پیروِی میں بغاوت نہیں خیالؔ اچھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی توجہ کا طلبگار
اسماعیل اعجاز خیالؔ


محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

غیرحاضر nawaz

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 364
جواب: لگے کسی کو کسی کی نہ قیل و قال اچھی
« Reply #1 بروز: جون 07, 2017, 12:57:54 صبح »
محترم اسماعیل اعجاز صاحب سلامِ مسنون

واہ بھئی کمال اچھا، غزل اچھی، اس قدر عمدہ
کلام  پڑھ کر داد دینے کو دل چاہا سو داد حاضر
ہے
ذہن اس شعر کی جانب گیا تو سکر ووجد کی کیفیت
طاری ہوگئی کیا  خوب کہاہے
کوئی نہ روکے مرے اس جنوں کویارو
میں وجد میں ہوں مجھے کرنے دو دھمال اچھی

ویسے لفظ دھمال کو آپ آجکل بڑی خوبصورتی سے
پیش کررہے ہیں، مثلاً ایک جگہ کہتے ہیں،

لگا وہ گھاؤ روح کو تڑپ اُٹھا ہر آدمی
نا آشنا جو درد تھا دھمال کر دیا گیا

اسی طرح انجمن کو آباد رکھئے،  سدا خوش رہئے

دعا گو نواز

غیرحاضر kafilahmed

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 384
جواب: لگے کسی کو کسی کی نہ قیل و قال اچھی
« Reply #2 بروز: جون 07, 2017, 09:14:54 صبح »
 محترم خیال صاحب السلام علیکم

 حسبِ معمول ایک اچھی اور سماجی حوالہ سے مربوط عمدہ کلام پیش کیا ہے جس کے لئے ڈھیروں داد۔ قلم تمہارا رہے  بن کے  ترجماں سب کا۔

 ایک شعر پہ نظر رُکی تو سوچا تبادلئہ خیال کرلوں مگر اس پسِ پشت خیال کے ساتھ کہیں مرتکبِ گستاخی نہ ہوجاوؑں سو پیشگی معذرت اور وضاحت کی درخواست۔

تُو جانتا ہے مگر بات مانتا کب ہے
نفاق میں ہے رچی تیری چال ڈھال اچھی

 یقیناً آپ کی سوچ ایسی نہیں ہے اور نہ ہوگی اور میں بھی کسی حد تک آپ سے متفق بھی ہوں لیکن نہ جانے کیوں تُو سے مخاطب کی جانے والی ذات کا اشارہ ذاتِ کبریا ہوتی ہے اس لئے ذہن مرا کشمکش کا شکار ہے ۔۔۔ سب صحیح مگر پھر بھی بس درخواست ہے کہ تُو کا نعم البدل لے آئیں۔

اللہ سبحانہ تعالیٰ آپ کو سلامتی دے، رمضان کی برکتیں دے، صحت و سلامتی اور ایمان پر تا حیات قائم رہنے کی توفیق بھی دے آمین۔

 والسلام اور طالبِ دعا

  کفیل احمد

 
مرے دوستوں نے مجھ کو آخر ہے کیا دیا
 محبت، خلوص، پیار،  باقی  ہے  کیا  بچا

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3180
جواب: لگے کسی کو کسی کی نہ قیل و قال اچھی
« Reply #3 بروز: جون 16, 2017, 09:09:19 شام »
محترم اسماعیل اعجاز صاحب سلامِ مسنون

واہ بھئی کمال اچھا، غزل اچھی، اس قدر عمدہ
کلام  پڑھ کر داد دینے کو دل چاہا سو داد حاضر
ہے
ذہن اس شعر کی جانب گیا تو سکر ووجد کی کیفیت
طاری ہوگئی کیا  خوب کہاہے
کوئی نہ روکے مرے اس جنوں کویارو
میں وجد میں ہوں مجھے کرنے دو دھمال اچھی

ویسے لفظ دھمال کو آپ آجکل بڑی خوبصورتی سے
پیش کررہے ہیں، مثلاً ایک جگہ کہتے ہیں،

لگا وہ گھاؤ روح کو تڑپ اُٹھا ہر آدمی
نا آشنا جو درد تھا دھمال کر دیا گیا

اسی طرح انجمن کو آباد رکھئے،  سدا خوش رہئے

دعا گو نواز


 جناب محترم نواز صاحب
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبراکاتہ

جنابِ عالی آپ نے اپنی محبتوں و عنایتوں سے نوازا عزت افزائی فرمائی ، اللہ آپ کو دونوں جہانوں کی عزتیں عطا فرمائے
تاخیر ہوئی حاضرِ خدمت ہونے میں معذرت خواہ ہوں یقیاً آپ کو انتظار کی زحمت اٹھانی پڑی وقت بڑا ظالم ہے کسی نہ کسی مسئلے میں الجھائے رکھتا ہے آدمی محوِ دھمال رہتا ہے صاحب کبھی غمِ دوراں کے لیے کبھی غمِ جاناں کے لیے اور اسی چکّر میں اپنی آنے والی آخرت کی دھمال بھول جاتا ہے

ایک حسینہ اپنے اسٹیٹس کو برقرار رکھنے کے لیے ٹوئیٹ کرتی ہیں کہ
میں بارش کے لیے( یعنی بارش کی طلب میں ) کالے کپڑے پہن کر دھمال ڈالوں گی
صاحب قدریں ہی بدل گئیں اور اس پہ دل پھینک عاشق شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ لیے واہ واہ کیا بات ہے کیا بات ہے کی تکرار کسی مست بیل کی بے مہار چال اور اس پر بے تکی ڈکار کا سماں قائم کرتی ہے جو کسی دوشیزہ گائے کی طرح پائل چھنکاتی ٹمھکے لگاتی دائیں بائیں سر کو ہلاتی گھنٹیاں بجاتی لہراتی سر پھری ندی کی طرح بل کھاتی کسی منہ زور آبشار کی طرح اپنے ساتھ اپنے چاہنے والوں کو بھی کسی عمیق دریا کی طغیانیوں کی نذر اپنی عزت و ناموس کو لٹا کر مکتی پا جاتی ہے
سبحان اللہ سبحان للہ دھمال بھی کیا چیز ہےبقول شخصے :۔ تو چیز بڑی ہے مست مست تو چیز بڑی ہے مست

ایک شعر فی البدیہہ آپ کی نذر

اپنی خودی جو کھوئی ، گئی آبرو خیالؔ
غرقاب یوں ندی ہوئی دریا کی چاہ میں



خیر صاحب ذرّہ نوازی کے لیے صمیمِ قلب سے سراپاء سپاس گزار ہوں ، اللہ آپ کو دنیا و آخرت کی عزّتیں اور خوشیاں عطا فرمائے

دعاگو
محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3180
جواب: لگے کسی کو کسی کی نہ قیل و قال اچھی
« Reply #4 بروز: جون 17, 2017, 10:40:42 شام »
محترم خیال صاحب السلام علیکم

 حسبِ معمول ایک اچھی اور سماجی حوالہ سے مربوط عمدہ کلام پیش کیا ہے جس کے لئے ڈھیروں داد۔ قلم تمہارا رہے  بن کے  ترجماں سب کا۔

 ایک شعر پہ نظر رُکی تو سوچا تبادلئہ خیال کرلوں مگر اس پسِ پشت خیال کے ساتھ کہیں مرتکبِ گستاخی نہ ہوجاوؑں سو پیشگی معذرت اور وضاحت کی درخواست۔

تُو جانتا ہے مگر بات مانتا کب ہے
نفاق میں ہے رچی تیری چال ڈھال اچھی

 یقیناً آپ کی سوچ ایسی نہیں ہے اور نہ ہوگی اور میں بھی کسی حد تک آپ سے متفق بھی ہوں لیکن نہ جانے کیوں تُو سے مخاطب کی جانے والی ذات کا اشارہ ذاتِ کبریا ہوتی ہے اس لئے ذہن مرا کشمکش کا شکار ہے ۔۔۔ سب صحیح مگر پھر بھی بس درخواست ہے کہ تُو کا نعم البدل لے آئیں۔

اللہ سبحانہ تعالیٰ آپ کو سلامتی دے، رمضان کی برکتیں دے، صحت و سلامتی اور ایمان پر تا حیات قائم رہنے کی توفیق بھی دے آمین۔

 والسلام اور طالبِ دعا

  کفیل احمد


 جناب محترم کفیل احمد صاحب
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

جنابِ عالی آپ کی محبتوں و عنایتوں کا بے حد شکریہ اللہ آپ کو دونوں جہانوں کی عزّتیں مرحمت فرمائے ، صاحب آپ نےجس شعر کے متعلق اپنا اظہارِ خیال فرمایا وہ میں نے انسان کے لیے منظوم کیا ہے کیوں کہ انسان ہی منافقت کا لبادہ اوڑھے مؤمن کی صف میں بیٹھا صدیوں سے اپنے ساتھ دھوکا کر رہا ہے وہ سمجھتا ہے کہ اس کا حال لوگوں سے پوشیدہ ہے مگر اللہ منافق کو اہلِ ایمان پر عیاں کر دیتا ہے میں نے اسی جانب اشارہ کیا ہے
آپ کو میرا یہ اسلوب پسند نہیں آیا کہ ’’ تُو ‘‘ کا صیغہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات عالی کے لیے مخصوص ہے ، شاید ایسا نہیں ہے اللہ کی ذات کے لیے ’’ تم ‘‘ کا صیغہ مناسب نہیں ہے جبکہ کے بندوں کے ساتھ ’’ تُو ، تم ۔ آپ ‘‘ سبھی روا ہیں مگر اپنے اپنے اسلوب کے ساتھ ایسا میں سمجھتا ہون
اگر میں غلطی پر ہوں تو اہلِ علم میری اصلاح فرمائیں شکریہ
بہر حال صاحب میں آپ کا ایک بار پھر صمیمِ قلب سے سراپاء سپاس گزر ہوں کہ آپ نے مجھے اپنی محبتوں سے نوازا میری اس ادنٰی سے کاوش کو پسند فرمایا
اللہ آپ کو دونوں جہانوں کی عزّتیں عطا فرمائے
تاخیر سے حاضرِ خدمت ہونے پر معذرت خواہ ہوں امید ہے آپ مجھے معاف فرمائیں گے :)
دعاگو
 
محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

 

Copyright © اُردو انجمن