اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: تم نے موسموں جیسا سلسلہ سدا رکّھا  (پڑھا گیا 482 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3227
تم نے موسموں جیسا سلسلہ سدا رکّھا
« بروز: جولائی 15, 2017, 11:40:28 شام »

قارئین کرام آداب عرض ہیں تازہ ذوقافیتین غزل احباب کی نذر
عرض کیا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوستوں نے جانے کیوں فاصلہ ذرا رکّھا
ہم نے دور رہ کر بھی رابطہ جُڑا رکّھا

موسموں کی عادت ہے وقت پر بدل جانا
تم نے موسموں جیسا سلسلہ سدا رکّھا

زندگی کے دھوکے سے وہ سنبھل نہیں پایا
جس نے کھایا دھوکا تو حوصلہ گنوا رکّھا

اب تو دیکھ لو اپنے اس حسین چہرے کو
کس لیے یہ تم نے ہے آئینہ اٹھا رکّھا

تم رہے بڑھانے میں ہم سے دوریاں پل پل
ہم نے بھی منانے کا مرحلہ کھلا رکّھا

دل کے توڑنے والے بے وفا زمانے نے
دل کے ٹوٹنے کو ہے سانحہ بتا رکّھا

تم خیالؔ بن جاؤ آدمی تو بہتر ہے
رب نے آدمی کا ہے مرتبہ بڑا رکّھا
ؔ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی توجہ کا طلبگار

اسماعیل اعجاز خیالؔ


محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

غیرحاضر nawaz

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 408
جواب: تم نے موسموں جیسا سلسلہ سدا رکّھا
« Reply #1 بروز: جولائی 17, 2017, 03:46:12 صبح »
محترم اسماعیل اعجاز صاحب سلامِ مسنون
 بہت خوب یہ عمدہ کلام پڑھ کر انتہائی خوشی ہوئی
غزل کا  تاثر بہت اچھا ہے جس کےلئے دادحاضر
ہے اور آئندہ بھی ایسےہی اشعار سے نوازتے رہئے



اگر آپ اجازت دیں تو اس شعرپر کچھ اپنا تاثر بیاں
کروں،
تم رہے بڑھانے میں ہم سے دوریاں پل پل
ہم نے بھی منانے کامرحلہ کھلا رکھا

یہ شعر بنت خیال بندش الفاظ کا چناؤ کے لحاظ سے
آپ کے شعری معیار سے کچھ پستی پر محسوس ہوا
لفظ پل پل نے مزا اور کرکرا کردیا اس میں بلندی پیدا
کریں تو لطف آجائے۔۔ یہ صرف رائے ہے
سدا خوش رہئے  دعا گو     نواز

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3227
جواب: تم نے موسموں جیسا سلسلہ سدا رکّھا
« Reply #2 بروز: جولائی 20, 2017, 03:29:49 صبح »
محترم اسماعیل اعجاز صاحب سلامِ مسنون
 بہت خوب یہ عمدہ کلام پڑھ کر انتہائی خوشی ہوئی
غزل کا  تاثر بہت اچھا ہے جس کےلئے دادحاضر
ہے اور آئندہ بھی ایسےہی اشعار سے نوازتے رہئے



اگر آپ اجازت دیں تو اس شعرپر کچھ اپنا تاثر بیاں
کروں،
تم رہے بڑھانے میں ہم سے دوریاں پل پل
ہم نے بھی منانے کامرحلہ کھلا رکھا

یہ شعر بنت خیال بندش الفاظ کا چناؤ کے لحاظ سے
آپ کے شعری معیار سے کچھ پستی پر محسوس ہوا
لفظ پل پل نے مزا اور کرکرا کردیا اس میں بلندی پیدا
کریں تو لطف آجائے۔۔ یہ صرف رائے ہے
سدا خوش رہئے  دعا گو     نواز



جناب محترم نواز صاحب
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

جنابِ عالی محبت ہے عنایت ہے آپ کی ممنون ہوں میں تہہ دل سے بہت شکریہ آپ کا

آپ نے فرمایا ہے



اقتباس
اگر آپ اجازت دیں تو اس شعرپر کچھ اپنا تاثر بیاں
کروں،
تم رہے بڑھانے میں ہم سے دوریاں پل پل
ہم نے بھی منانے کامرحلہ کھلا رکھا

یہ شعر بنت خیال بندش الفاظ کا چناؤ کے لحاظ سے
آپ کے شعری معیار سے کچھ پستی پر محسوس ہوا
لفظ پل پل نے مزا اور کرکرا کردیا اس میں بلندی پیدا
کریں تو لطف آجائے۔۔ یہ صرف رائے ہے
سدا خوش رہئے  دعا گو     نواز

جی بلا اجازت بسم اللہ ضرور ضرور
اصل میں میں یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ تم ہر لمحہ دوریاں بڑھانے میں ہی لگے رہے اور میں نے تمہیں ہر لمحہ مناتے رہنے کا جان توڑ عمل کہ جس میں بڑی منت سماجت کرنی پڑتی ہے جان جوکھوں میں رہتی ہے ہمت نہیں ہاری اسے جاری رکھا
خیر صاحب آپ کی عنایت ہے کہ آپ نے اس جانب توجہ دلائی میں ان شااللہ کوشش کروں گا کہ بہتر سے بہتر بات کو سامنے رکھوں
اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے دونوں جہانوں کی عزّتیں عطا فرمائے
اپنا بہت خیال رکھیے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے
دعاگو
محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

غیرحاضر سہیل ملک

  • Naazim
  • Adab Fehm
  • *****
  • تحریریں: 1209
  • جنس: مرد
    • Medicine Pakistan
جواب: تم نے موسموں جیسا سلسلہ سدا رکّھا
« Reply #3 بروز: دسمبر 03, 2017, 03:00:45 شام »
اسمٰعیل بھائی سلام


موسموں کی عادت ہے وقت پر بدل جانا
تم نے موسموں جیسا سلسلہ سدا رکّھا

وقت پر بدل جانے کا یوں استعمال کمال کی بات ہے۔

بہت خوب جناب داد قبول کیجیئے

ڈاکٹر سہیل ملک

http://www.medpk.com

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3227
جواب: تم نے موسموں جیسا سلسلہ سدا رکّھا
« Reply #4 بروز: مئی 16, 2018, 01:42:54 صبح »
جناب محترم ڈاکٹر سہیل ملک صاحب
اللہ آپ کو سدا سلامت رکھے
بہت شکریہ آپ کا
محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

غیرحاضر Mushir Shamsi

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 291
جواب: تم نے موسموں جیسا سلسلہ سدا رکّھا
« Reply #5 بروز: مئی 17, 2018, 06:58:18 شام »

محترمی جناب اعجاز خیال صاحب: سلام علیکم
آپ کی یہ عمدہ غزل نظرنواز ہوئی۔ پسند آئی، ویسے میں شاعرنہیں ہوں چنانچہ میں کیا اور میری پسند ونا پسند کیا۔ عروض سیکھ رہا ہوں تاکہ آپ جیسے شاعروں کا کلام بہتر طور پرسمجھ سکوں۔ دعاکیجئے کہ میری یہ محنت کارآمد ثابت ہو۔ انشا اللہ۔ سوچتا ہوں کہ شاعری کے اصول بہتر طور پر سمجھ جائوں گا تو اس سے بہتر طور پر لطف اندوز بھی ہو سکوں گا۔ امید پر دنیا قائم ہے !
آپ کی غزل کی ردہف بہت مشکل معلوم ہوئی۔ "رکھا" کو مختلف قافیوں کے ساتھ ملائیں تو بعض اوقات معنی بھی متعدد پیدا ہوتے ہیں۔ مثال کے طورپر "اٹھا رکھا"کے معنی "کسی اگلے وقت تک ملتوی کردیا" بھی ہو سکتے ہیں۔ ایسی نزاکتوں کو ذہن میں رکھ کر شعر کہنا آپ جیسے شاعروں کا ہی کام ہے۔ ہم ایسے اشعار سمجھ لیں تو یہ بھی بہت ہے۔ غزل کا شکریہ اور داد حاضر خدمت ہیں۔ اگر اجازت ہو تو دو ایک باتیں دریافت کر لوں۔
آپ کی اس غزل میں ایک آدھ مقام پر چند غیرضروری الفاظ نظر آئے۔ ہو سکتا ہے کہ ان کی ضرورت اور معنویت سے میں واقف نہ ہوں۔ اس لئے وضاحت کی درخواست ہے۔ شکریہ۔ مثال کے طور پر مطلع دیکھئے۔ 
دوستوں نے جانے کیوں فاصلہ ذرا رکّھا
ہم نے دور رہ کر بھی رابطہ جُڑا رکّھا
پہلے مصرع میں "ذرا" اور دوسرے میں "جڑا" مجھ کو فاضل معلوم ہوئے۔ ان کے بغیر بھی شعر اپنے معنی ادا کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ صرف الفاظ کی کچھ ہیرا پھیری کرنا ہوگی۔ جیسے اگر یوں کہیں کہ:
دوستوں نے جانے کیوں ہم سے فاصلہ رکھا
ہم نے دور رہ کر بھی جب کہ رابطہ رکھا
میرا مقصد خدا نخواستہ آپ کی اصلاح ہرگز نہیں ہے بلکہ اپنا مطلب آپ پر واضح کرنا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے، کیا میں صحیح سوچ رہا ہوں؟
موسموں کی عادت ہے وقت پر بدل جانا
تم نے موسموں جیسا سلسلہ سدا رکّھا
یہ شعر بہت اچھا لگا۔ میری رائے میں یہ حاصل غزل ہے۔ داد قبول فرمائیے
زندگی کے دھوکے سے وہ سنبھل نہیں پایا
جس نے کھایا دھوکا تو حوصلہ گنوا رکّھا
"حوصلہ گنوا رکھا" عجیب سا لگ رہا ہے۔ اگر اس شعرکو کسی اور طرح کہہ سکیں تو بہتر ہوگا ۔ کم سے کم میرا یہی تاثر ہے۔
اب تو دیکھ لو اپنے اس حسین چہرے کو
کس لیے یہ تم نے ہے آئینہ اٹھا رکّھا
یہ شعر نہایت معمولی ہے اور معنی میں ازحد کمزور اورعامیانہ محسوس ہورہا ہے۔ میری ناقص سمجھ میں اس میں شعریت نہیں ہے۔ آپ یوں بہترجانتے ہیں۔
تم رہے بڑھانے میں ہم سے دوریاں پل پل
ہم نے بھی منانے کا مرحلہ کھلا رکّھا
اگر گستاخی معاف کریں تو عرض کروں گا کہ اس غزل میں قافیہ پیمائی پر بہت زور ہے۔ اسی شعر کو دیکھئے۔ کوئی جذبہ، اثر، تغزل، شعریت کہاں ہے۔ ایک بیان ہے جو محبوب کے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔ "مرحلہ کھلا رکھنا" بھی متاثر کرنے والا محاورہ نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ یہ میری کم فہمی ہو جس کے لئے معذرت خواہ ہوں۔
دل کے توڑنے والے بے وفا زمانے نے
دل کے ٹوٹنے کو ہے سانحہ بتا رکّھا
یہ شعر اپنے معنی مجھ پر نہ کھول سکا۔ "سانحہ بتا رکھا" سے آپ کی کیا مراد ہے؟ مجھ کو اس شعر میں بھی تغزل دکھائی نہیں دیا۔ یقینا ان اشعار میں کوئی گہری معنویت ہے جہاں تک میں پہنچ نہیں سکا ہوں۔
تم خیالؔ بن جاؤ آدمی تو بہتر ہے
رب نے آدمی کا ہے مرتبہ بڑا رکّھا
بہت اچھا خیال ہے۔ اور اس شعر کا رنگ غزل کا رنگ بھی ہے اور دعا کا بھی۔ ماشااللہ۔ داد حاضر ہے، قبول کیجئے۔
ایک اچھی غزل عطا کرنے کے لئے دلی شکریہ۔

خادم: مشیر شمسی

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3227
جواب: تم نے موسموں جیسا سلسلہ سدا رکّھا
« Reply #6 بروز: مئی 18, 2018, 01:30:28 صبح »

محترمی جناب اعجاز خیال صاحب: سلام علیکم
آپ کی یہ عمدہ غزل نظرنواز ہوئی۔ پسند آئی، ویسے میں شاعرنہیں ہوں چنانچہ میں کیا اور میری پسند ونا پسند کیا۔ عروض سیکھ رہا ہوں تاکہ آپ جیسے شاعروں کا کلام بہتر طور پرسمجھ سکوں۔ دعاکیجئے کہ میری یہ محنت کارآمد ثابت ہو۔ انشا اللہ۔ سوچتا ہوں کہ شاعری کے اصول بہتر طور پر سمجھ جائوں گا تو اس سے بہتر طور پر لطف اندوز بھی ہو سکوں گا۔ امید پر دنیا قائم ہے !
آپ کی غزل کی ردہف بہت مشکل معلوم ہوئی۔ "رکھا" کو مختلف قافیوں کے ساتھ ملائیں تو بعض اوقات معنی بھی متعدد پیدا ہوتے ہیں۔ مثال کے طورپر "اٹھا رکھا"کے معنی "کسی اگلے وقت تک ملتوی کردیا" بھی ہو سکتے ہیں۔ ایسی نزاکتوں کو ذہن میں رکھ کر شعر کہنا آپ جیسے شاعروں کا ہی کام ہے۔ ہم ایسے اشعار سمجھ لیں تو یہ بھی بہت ہے۔ غزل کا شکریہ اور داد حاضر خدمت ہیں۔ اگر اجازت ہو تو دو ایک باتیں دریافت کر لوں۔
آپ کی اس غزل میں ایک آدھ مقام پر چند غیرضروری الفاظ نظر آئے۔ ہو سکتا ہے کہ ان کی ضرورت اور معنویت سے میں واقف نہ ہوں۔ اس لئے وضاحت کی درخواست ہے۔ شکریہ۔ مثال کے طور پر مطلع دیکھئے۔ 
دوستوں نے جانے کیوں فاصلہ ذرا رکّھا
ہم نے دور رہ کر بھی رابطہ جُڑا رکّھا
پہلے مصرع میں "ذرا" اور دوسرے میں "جڑا" مجھ کو فاضل معلوم ہوئے۔ ان کے بغیر بھی شعر اپنے معنی ادا کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ صرف الفاظ کی کچھ ہیرا پھیری کرنا ہوگی۔ جیسے اگر یوں کہیں کہ:
دوستوں نے جانے کیوں ہم سے فاصلہ رکھا
ہم نے دور رہ کر بھی جب کہ رابطہ رکھا
میرا مقصد خدا نخواستہ آپ کی اصلاح ہرگز نہیں ہے بلکہ اپنا مطلب آپ پر واضح کرنا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے، کیا میں صحیح سوچ رہا ہوں؟
موسموں کی عادت ہے وقت پر بدل جانا
تم نے موسموں جیسا سلسلہ سدا رکّھا
یہ شعر بہت اچھا لگا۔ میری رائے میں یہ حاصل غزل ہے۔ داد قبول فرمائیے
زندگی کے دھوکے سے وہ سنبھل نہیں پایا
جس نے کھایا دھوکا تو حوصلہ گنوا رکّھا
"حوصلہ گنوا رکھا" عجیب سا لگ رہا ہے۔ اگر اس شعرکو کسی اور طرح کہہ سکیں تو بہتر ہوگا ۔ کم سے کم میرا یہی تاثر ہے۔
اب تو دیکھ لو اپنے اس حسین چہرے کو
کس لیے یہ تم نے ہے آئینہ اٹھا رکّھا
یہ شعر نہایت معمولی ہے اور معنی میں ازحد کمزور اورعامیانہ محسوس ہورہا ہے۔ میری ناقص سمجھ میں اس میں شعریت نہیں ہے۔ آپ یوں بہترجانتے ہیں۔
تم رہے بڑھانے میں ہم سے دوریاں پل پل
ہم نے بھی منانے کا مرحلہ کھلا رکّھا
اگر گستاخی معاف کریں تو عرض کروں گا کہ اس غزل میں قافیہ پیمائی پر بہت زور ہے۔ اسی شعر کو دیکھئے۔ کوئی جذبہ، اثر، تغزل، شعریت کہاں ہے۔ ایک بیان ہے جو محبوب کے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔ "مرحلہ کھلا رکھنا" بھی متاثر کرنے والا محاورہ نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ یہ میری کم فہمی ہو جس کے لئے معذرت خواہ ہوں۔
دل کے توڑنے والے بے وفا زمانے نے
دل کے ٹوٹنے کو ہے سانحہ بتا رکّھا
یہ شعر اپنے معنی مجھ پر نہ کھول سکا۔ "سانحہ بتا رکھا" سے آپ کی کیا مراد ہے؟ مجھ کو اس شعر میں بھی تغزل دکھائی نہیں دیا۔ یقینا ان اشعار میں کوئی گہری معنویت ہے جہاں تک میں پہنچ نہیں سکا ہوں۔
تم خیالؔ بن جاؤ آدمی تو بہتر ہے
رب نے آدمی کا ہے مرتبہ بڑا رکّھا
بہت اچھا خیال ہے۔ اور اس شعر کا رنگ غزل کا رنگ بھی ہے اور دعا کا بھی۔ ماشااللہ۔ داد حاضر ہے، قبول کیجئے۔
ایک اچھی غزل عطا کرنے کے لئے دلی شکریہ۔

خادم: مشیر شمسی
جناب محترم مشیر شمسی صاحب
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
جنابِ عالی آپ کے محبتوں عنایتوں سے بھر پور ماہرانہ تبصرہ نگاری سے ڈھیروں استفادہ کرتے ہوئے اپنی معروضات و توضیحات لیے حاضر خدمت ہوں
سب سے پہلے تو انتہائی شکرگزار ہوں میں آپ کا کہ آپ تشریف لائے اور نہایت عمیق نگاہی سے میری اس ادنیٰ سی کاوش پر اپنی پر خلوص توجہ اور علمی آرا سے نوازا اللہ آپ کو اس کا اجر عظیم عطا فرمائے
آپ نے مطلع کی بہت خوبصورت تجویز پیش کی جس میں قوافی فاصلہ پہلے مصرعے میں اور دوسرے میں رابطہ باندھے بہت خوبصورت شعر ہو گیا ہے لیکن ایک مشکل ہو گئی ہے وزن وہی رہا یعنی
فاعلن مفاعیلن فاعلن مفاعیلن
لیکن اگر آپ غورفرمائیں تو میری اس کاوش میں ہر مصرعے میں دو قافیے ہیں
فاصلہ ذرا ، رابطہ جڑا
یہ غزل ذوقافیتین ہے یعنی ہر مصرعے میں دو قافیے ہیں شاید یہی ترکیب اضافت یا فاضل ہونے کا سبب لگ رہی ہو آپ کو
باقی آپ کی آرا سے مجھے پوری طرح اتفاق ہے کہ میری اس غزل میں کچھ اشعار محض بیانیہ صورت لیے ہیں یا ان میں شعریت کی کمی ہے اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے

کبھی کبھی ذہن میں خیال آتا ہے کہ شاعری کا کوئی عالمی معیار قائم ہو جس میں شعریت معنویت تخیل تغزّل الفاظ کا چناؤ اور فکری جائزہ اور اس کی جانچ پڑتال کا پیمانہ مقرر ہو جس کی پرکھ کے بعد کسی بھی شخص کے کلام کو مستند مقام و مرتبہ سے نوازا جائے
جیسے انجینئرنگ میڈیکل سائنس ٹیکنالوجی جرنلزم اور دیگر شعبوں میں سند یافتہ ماہرین کہ جنہیں معاشرے میں ان کے علم و فن کے اعتبار سے تسلیم کیا جاتا ہے
یقیناً اس طرح مجھ جیسے لوگ جو کسی ادارے کی سرپرستی کے بغیر اپنے احساسات کو اپنے الفاظ میں قلمبند کرنے کی کوشش کرتے ہیں جن میں کمی کجی تہ جاتی ہے اس میں سدھار آ جائے مگر ایسا شاید ممکن نہیں کہ سبھی سخنور ایسی سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں
میں بھی اپنے تئیں ایک کوشش کرتا ہوں جس میں میری علمی سطح بروئے کار رہتی ہے جسے آپ جیسے صاحب علم احباب اپنی محبتوں عنایتوں کے بقدر نہ صرف نظر کرم فرماتے ہیں بلکہ جہاں کمی کوتاہی دکھائی دیتی ہے تو اپنی قیمتی آرا سے بھی نوازتے ہیں جو میرے لیے انتہائی مسرت و اعزاز کا سبب ہیں
اللہ پاک آپ سبھی کو دونوں جہانوں میں شاد و آباد رکھے سدا سلامت رکھے
آپ سے گزارش ہے کہ مجھ میں جہاں آپ کو کسی بھی قسم کی کمی نظر آئے ضرور میری اصلاح فرمائیں
شکریہ
آپ کی دعاؤں کا طلبگار
محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • ******
  • تحریریں: 6339
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar
جواب: تم نے موسموں جیسا سلسلہ سدا رکّھا
« Reply #7 بروز: مئی 18, 2018, 12:12:23 شام »

عزیز مکرم خیال صاحب: سلام مسنون
آپ نے مشیر شمسی صاحب کے جواب میں خیال ظاہر کیا ہے کہ جس طرح انجینئرنگ، میڈیسن، ٹیکنا لوجی وغیرہ میں مسلمہ اور مستند معیار کسی کام کی پرکھ کے لئے دستیاب ہیں اگر شاعری میں بھی ہوں تو نقد وتبصرہ میں آسانی ہو جائے گی۔آپ کا خیال بالکل درست ہے لیکن ساتھ ہی نا قابل عمل بھی ہے۔ جن علوم کا تعلق جذبات سے ہے مثلا مصوری، موسیقی، شاعری، بت تراشی وغیرہ ان کے لئے ایسے پیمانے بنانا ممکن نہیں ہے۔ جذبات ایک انسان سے دوسرے انسان تک اتنے مختلف ہوتے ہیں کہ ایک ہی محرک دس مختلف اشخاص میں دس الگ الگ تاثرات پیدا کر سکتا ہے۔چنانچہ ریاضی کی طرح کا کوئی سکہ بند پیمانہ یا معیار ایسے موضوعات پر نافذ نہیں ہو سکتا ہے۔ شاعری میں عروض کوہی دیکھ لیں کہ لوگ ایسے اصولوں سے گھبراتے ہیں اور اس کی تعلیم سے نہ صرف گریزکرتے ہیں بلکہ اس کو ختم کردینے کے لئے بھی کہتے ہیں حالانکہ عروض کوئی سکہ بند اور مستقل پیمانہ نہیں ہے۔ صوتی قافیہ بھی اسی طرح کی پیداوار ہے جو اصول سے گریز کی وجہ سے سامنے آئی ہے۔ اس طرح کے اعتراضات شاعری ہو یا مصوری جذبات کی عکاس کوششوں پر کئے جاتے رہیں گے۔ عالمی پیمانہ کبھی نہیں بن سکے گا۔ اگر ایسا ممکن ہوتا تو یقینا اب تک کسی نے کوشش کی ہوتی۔
باقی راوی سب چین بولتا ہے

سرور عالم راز





 

Copyright © اُردو انجمن