اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: نکاح آسان کیجیے  (پڑھا گیا 90 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3180
نکاح آسان کیجیے
« بروز: جولائی 29, 2017, 11:53:14 شام »

صحابہ کرام ؓ کا ازدواجی معاشرہ
یہ جملہ جو اس تحریر کا عنوان ہے حقیقت میں ہمارے معاشرے کی دکھتی رگ ہے. آپ اس جملے کو بنیاد بنا کر آج کل پھیلتی بے راہ روی کا تجزیہ کرلیں، آپ اس فحاشی کی جڑ تک پہنچ جائینگے. ایک عجیب ہی دنیا آپ کے سامنے آئیگی، میں آپ کے سامنے اس حوالے سے دور صحابہ کی چند خصوصیات رکھتا ہوں, آپ انہیں پڑھ کر ذرا غور کریں کہ اگر ان امور پر کوئی شخص ہمارے معاشرے میں عمل کرنا شروع کریں تو لوگ اسے کس نظر سے دیکھتے ہیں
١. بیٹی کے والد خود اپنی بیٹی کا رشتہ پیش کر دیتے تھے اور اس میں کوئی عیب نہیں سمجھا جاتا تھا.
٢. عورت طلاق یافتہ بھی ہوجاتی تو اگلا نکاح اس کے لئے آسان تھا.
٣. عورت بیوہ بھی ہوجاتی بلکہ ایک سے زائد مرتبہ بھی بیوہ ہوجاتی تو عدت سے فراغت پر نکاح کے پیغامات مل جاتے بلکہ ایسے واقعات بھی ہیں کہ ایک وقت میں تین پیغامات جمع ہو گئے اور کسے اختیار کیا جائے اس کے لئے مشورہ کرنا پڑا.
٤. انکے بوڑھے بھی اگر نیا نکاح کر لیتے تو عیب نہیں سمجھا جاتا تھا.
٥. بڑی عمر کے مرد چھوٹی عمر کی عورت اسی طرح بڑی عمر کی عورت چھوٹی عمر کا مرد آپس میں نکاح کرلیتے تو عیب نہیں سمجھا جاتا تھا.
٦. پیغام نکاح رد ہوجاتے تو گھروں میں لڑائیاں پیدا نہیں ہوجاتی تھیں
یہ چند باتیں تمثیلاً ذکر کردیں وگرنہ باتیں تو اور بھی بہت ہیں. اب ان امور کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہمارے معاشرے کا جائزہ لیں. باپ اگر اپنی بیٹی کا رشتہ خود پیش کردے تو کیا کیا القابات اس کے والد کو مل جائیں کیا کیا مفروضے قائم ہو جائیں یہ آپ سب جانتے ہیں نتیجہ یہ کہ بھول کر بھی والد کی زبان نہیں ہلتی چاہے بیٹی کی عمر ڈھل جائے اور وہ یہ خوشی سے نہیں معاشرے کے ڈر سے نہیں کرتا.
طلاق یافتہ اور بیوہ کے نکاح کی بات تو رہنے ہی دیں اب تو لڑکی کی منگنی بھی ٹوٹ جائے تو ماں باپ کی نیندیں اڑ جاتی ہیں کہ خدا جانے اب کیا ہوگا, کیا کیا قصور میری بیٹی کا نکالا جائے گا کیا کیا الزام اس پر ڈالے جائنگے چاہے وہ بے قصور ہی کیوں نہ ہو.
عمر کے تفاوت کی اہمیت تو اس قدر بڑھ گئی کہ بعض خاندانوں میں بڑی عمر کی لڑکی سے شادی گویا حرام سمجھی جاتی ہے.
میری عرض یہ ہے کہ رسومات کی کھچڑی تو ایک طرف رہنے دیں یہ اسباب بھی معاشرے کو بے راہ روی کی طرف دھکیلنے کے لئے کم نہیں ہے کیونکہ بات سیدھی سی ہے یہ موازنہ صحابہ کے زمانے اور ہمارے زمانے کا ہے ہم جتنے بھی جدید تھذیب یافتہ ہوجائیں معاشرہ تو انکا ہی بہتر تھا خیر تو اب بھی اسی جیسے ماحول بنانے میں ہے. جس معاشرے کا آخری نکتہ یہ تھا کہ نکاح آسان کردیے جائیں تو بدکاری خود ہی منہ چھپا لیگی.

منقول


محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

 

Copyright © اُردو انجمن