اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: ایسا نہیں کوئی عجب، راکھے اسے سمجھائے کر​  (پڑھا گیا 161 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3180
ایسا نہیں کوئی عجب، راکھے اسے سمجھائے کر​
« بروز: اگست 10, 2017, 03:59:43 صبح »
(امیر خسرو)​

جب یار دیکھا نین پھر دل کی گئی چنتا اتر​
ایسا نہیں کوئی عجب، راکھے اسے سمجھائے کر​

جب آنکھ سے اوجھل بھیا، تڑپن لگا میرا جِیا​
حقّا الہٰی کیا کیا، آنسو چلے بھر لائے کر​

توں تو ہمارا یار ہے ، تجھ پر ہمارا پیار ہے​
تجھ دوستی بسیار ہے ، اِک شب ملو تم آئے کر​

جاناں طلب تیری کروں ، دیگر طلب کس کی کروں​
تیری جو چنتا دل دھروں ، اک دن ملو تم آئے کر​

میرا جو من تم نے لیا ، تم نے اُٹھا غم کو دیا​
غم نے مجھے ایسا کیا جیسا پتنگا آگ پر​

خسرو کہے باتاں غضب ، دل میں نہ لاوے کچھ عجب​
قدرت خدا کی یہ عجب ، جب جب دیا گل لائے کر​




محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 6220
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar
جواب: ایسا نہیں کوئی عجب، راکھے اسے سمجھائے کر​
« Reply #1 بروز: اگست 11, 2017, 12:01:04 شام »
(امیر خسرو)​

جب یار دیکھا نین پھر دل کی گئی چنتا اتر​
ایسا نہیں کوئی عجب، راکھے اسے سمجھائے کر​

جب آنکھ سے اوجھل بھیا، تڑپن لگا میرا جِیا​
حقّا الہٰی کیا کیا، آنسو چلے بھر لائے کر​

توں تو ہمارا یار ہے ، تجھ پر ہمارا پیار ہے​
تجھ دوستی بسیار ہے ، اِک شب ملو تم آئے کر​

جاناں طلب تیری کروں ، دیگر طلب کس کی کروں​
تیری جو چنتا دل دھروں ، اک دن ملو تم آئے کر​

میرا جو من تم نے لیا ، تم نے اُٹھا غم کو دیا​
غم نے مجھے ایسا کیا جیسا پتنگا آگ پر​

خسرو کہے باتاں غضب ، دل میں نہ لاوے کچھ عجب​
قدرت خدا کی یہ عجب ، جب جب دیا گل لائے کر​




عزیز مکرم خیال صاحب: سلام مسنون
معلوم نہیں آپ کہاں سے یہ نوادرات نکال کر لاتے ہیں۔ کیا کوئی کتاب آپ کے پاس ہے یا انٹرنیٹ پر کوئی ایسی چوپال ہے جہاں یہ دستیاب ہیں؟ از راہ کرم بتائیں تاکہ شائقین خود بھی اس سے استفادہ کر سکیں۔
امیر خسرو ایک نابغہءروزگار ہستی تھے۔ افسوس کہ وہ ایسے ملک میں پیدا ہوئے جہاں مرنے کے بعد کچھ قدر ہوتی ہے اور کچھ دن بعد وہ بھی نہیں ہوتی۔ اگر یہی خسرو ایران میں پیدا ہوئے ہوتے تو ایرانی قوم ان پر اسی طرح ناز کرتی جیسے سعدی اور حافظ اور فردوسی پر کرتی ہے اور ان کی یاد ہمیشہ تازہ رہتی۔
امیر خسرو نے شاعری میں بہت سے اجتہاد کئے اور کمال کر کے دکھایا۔ نہ ان کی کوئی کتاب ملتی ہے اور نہ ہی کلام کسی جگہ محفوظ ہے اور قبر کا تو ذکر ہی چھوڑ دیجئے۔ نئی نسل یوں بھی ان سے کیا غالب اور اقبال تک سے نا واقف ہے۔ ایک لطیفہ سن لیجئے جس کو پڑھ کر ہنسی کے بجائے رونا آتا ہے۔
میرے ایک دوست کراچی یونیورسٹی کے کسی امتحان کے سلسلے میں نوجوانوں کے انٹرویو لے رہے تھے۔ انھوں نے متعدد لڑکوں سے پوچھا کہ ان کا پسندیدہ شاعر کون ہے۔ ہر ایک کا جواب تھا "اقبال!"۔ جب ان سے اقبال کا کوئی شعر سنانے کو کہا گیا تو پوری جماعت میں درج ذیل شعر کے علاوہ اورکچھ کسی کو یاد نہیں تھا:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدابندے سے خود پوچھے بتا تیر رضا کیا ہے
اگر خسرو کے بارے میں کچھ پوچھا ہوتا تو خدا جانے کیا ہوتا۔
مجھ کو پرانی اردو میں عجیب سا لطف ملتا ہے۔ پڑھتا ہوں اور مزے لیتا ہوں۔ اب وہ مزا انہیں لوگوں کے ساتھ اٹھ گیا۔ خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را۔
 
سرورعالم راز




غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3180
جواب: ایسا نہیں کوئی عجب، راکھے اسے سمجھائے کر​
« Reply #2 بروز: اگست 13, 2017, 01:17:38 صبح »
(امیر خسرو)​

جب یار دیکھا نین پھر دل کی گئی چنتا اتر​
ایسا نہیں کوئی عجب، راکھے اسے سمجھائے کر​

جب آنکھ سے اوجھل بھیا، تڑپن لگا میرا جِیا​
حقّا الہٰی کیا کیا، آنسو چلے بھر لائے کر​

توں تو ہمارا یار ہے ، تجھ پر ہمارا پیار ہے​
تجھ دوستی بسیار ہے ، اِک شب ملو تم آئے کر​

جاناں طلب تیری کروں ، دیگر طلب کس کی کروں​
تیری جو چنتا دل دھروں ، اک دن ملو تم آئے کر​

میرا جو من تم نے لیا ، تم نے اُٹھا غم کو دیا​
غم نے مجھے ایسا کیا جیسا پتنگا آگ پر​

خسرو کہے باتاں غضب ، دل میں نہ لاوے کچھ عجب​
قدرت خدا کی یہ عجب ، جب جب دیا گل لائے کر​




عزیز مکرم خیال صاحب: سلام مسنون
معلوم نہیں آپ کہاں سے یہ نوادرات نکال کر لاتے ہیں۔ کیا کوئی کتاب آپ کے پاس ہے یا انٹرنیٹ پر کوئی ایسی چوپال ہے جہاں یہ دستیاب ہیں؟ از راہ کرم بتائیں تاکہ شائقین خود بھی اس سے استفادہ کر سکیں۔
امیر خسرو ایک نابغہءروزگار ہستی تھے۔ افسوس کہ وہ ایسے ملک میں پیدا ہوئے جہاں مرنے کے بعد کچھ قدر ہوتی ہے اور کچھ دن بعد وہ بھی نہیں ہوتی۔ اگر یہی خسرو ایران میں پیدا ہوئے ہوتے تو ایرانی قوم ان پر اسی طرح ناز کرتی جیسے سعدی اور حافظ اور فردوسی پر کرتی ہے اور ان کی یاد ہمیشہ تازہ رہتی۔
امیر خسرو نے شاعری میں بہت سے اجتہاد کئے اور کمال کر کے دکھایا۔ نہ ان کی کوئی کتاب ملتی ہے اور نہ ہی کلام کسی جگہ محفوظ ہے اور قبر کا تو ذکر ہی چھوڑ دیجئے۔ نئی نسل یوں بھی ان سے کیا غالب اور اقبال تک سے نا واقف ہے۔ ایک لطیفہ سن لیجئے جس کو پڑھ کر ہنسی کے بجائے رونا آتا ہے۔
میرے ایک دوست کراچی یونیورسٹی کے کسی امتحان کے سلسلے میں نوجوانوں کے انٹرویو لے رہے تھے۔ انھوں نے متعدد لڑکوں سے پوچھا کہ ان کا پسندیدہ شاعر کون ہے۔ ہر ایک کا جواب تھا "اقبال!"۔ جب ان سے اقبال کا کوئی شعر سنانے کو کہا گیا تو پوری جماعت میں درج ذیل شعر کے علاوہ اورکچھ کسی کو یاد نہیں تھا:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدابندے سے خود پوچھے بتا تیر رضا کیا ہے
اگر خسرو کے بارے میں کچھ پوچھا ہوتا تو خدا جانے کیا ہوتا۔
مجھ کو پرانی اردو میں عجیب سا لطف ملتا ہے۔ پڑھتا ہوں اور مزے لیتا ہوں۔ اب وہ مزا انہیں لوگوں کے ساتھ اٹھ گیا۔ خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را۔
 
سرورعالم راز



جناب محترم سرور عالم راز سرور صاحب
وعلیک السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

جنابِ عالیِ  یہ نوادرات انٹر نیٹ کی مہربانی سے مل جاتیں ہیں یہ کرم نوازی تو ان قدردانوں کے دم سے ہے جو ان قیمتی نگارشات کو ڈھونڈ کر مخزنِ انٹرنیٹ میں اضافہ کرتے چلے جارہے ہیں علم کی سہولت و فراوانی نے ایک کلک ایک اشارے پر لوگوں کی عمر بھر کی کمائی ریاضت و محنت کو لمحوں کی سبک رفتاری سے ہم سبھی کے لیے مہیا کر رکھا ہے ، میں بھی مستفید ہوتا ہوں ساتھ ساتھ احباب تک بھی پہنچانے کی کوشش کرتا ہوں

اس کلام میں اسلوب بہت پرانا ہے جو آج کے دور میں غیر معروف و متروک ہے جیسے کہ

راکھے اسے سمجھائے کر​
آنسو چلے بھر لائے کر
اِک شب ملو تم آئے کر
اک دن ملو تم آئے کر
جب جب دیا گل لائے کر

یہ اسلوب کہیں نظر نہیں آتا دوسرے اس کلام کے دو اشعار شترگربہ کے سقم کے حامل ہیں


توں تو ہمارا یار ہے ، تجھ پر ہمارا پیار ہے​
تجھ دوستی بسیار ہے ، اِک شب ملو تم آئے کر​

جاناں طلب تیری کروں ، دیگر طلب کس کی کروں​
تیری جو چنتا دل دھروں ، اک دن ملو تم آئے کر

دونوں اشعار میں ’’ تو ‘‘ ، ’’ تجھ‘‘  ، ’’ تیری‘‘  کے ساتھ ’’تم‘‘ کا صیغہ باندھا گیا ہے

خیر مجھے یہ ایک منفرد انداز میں کلام نظر آیا سوچا کہ اسے احباب تک پہنچایا جائے ، آپ نے لطیفہ بہت مزے دار سنایا مزا آیا ، بہت شکریہ آپ کی محبتوں اور عنایتوں کا

اپنا بہت خیال رکھیے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے

اللہ پاک آپ کو دونوں جہانوں کی عزّتین مرحمت فرمائے

دعاگو
محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

 

Copyright © اُردو انجمن