اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: سُنا ہے دِن کو اُسے روشنی ستاتی ہے  (پڑھا گیا 104 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر chshakir

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 59
سُنا ہے دِن کو اُسے روشنی ستاتی ہے
« بروز: ستمبر 10, 2017, 10:37:04 صبح »
السلام علیکم احباب گرامی!
بہت دیر کے بعد ایک "غزلِ مسلسل" کے ساتھ حاضر ہوا ہوں۔


"کڑی تنقید برائے نقد اصلاح 🙂🙂 "

سُنَا ہے دِن کو اُسے رُوشْنی سَتَاتی ہے
سُنَا ہے رَاتْ چَرَاغوں سے گھرْ سَجَاتی ہے

سُنَا ہے زُلف وہ لہرائے، شمْس ڈَھْل جائے
سُنَا ہے چَانْد کو بھی رَات بھر جلاتی ہے

سُنَا ہے جِھیل ہیں اُس کی شَرَاب سی آنْکھیں
نَشِیلے نین کو کاجَل سے یُوں سَجَاتی ہے

سُنَا ہے پَلْکیں اُٹھائیں تو دِن نِکل آئے
سُنَا ہے زُلْفیں بِچَھائیں تو رات آتی ہے

سُنَا ہے فصْلِ خَزاں میں بَہار آ جائے
چَٹَک مَٹَک کے وہ جب جب چَمَن میں آتی ہے

سُنَا ہے پَرْیاں بھی جُھک کر سَلَام عَرْض کریں
اَدَائیں مورنی سی ہُوبْہُو دکھاتی ہے

سُنَا ہے نَرْگسی آنکھیں ہیں اُس کی مسْت بَھری
نَشَہ شَرَاب کا نینوں سے وہ چَڑَھاتی ہے

سُنَا ہے وہ ہَنْسے تو گُل چَٹَک کے شَرْمائیں
سُنَا ہے بَاغِ اِرَم میں وہ آتی جَاتی ہے

سُنَا ہے مَخْملی پَاؤں جُو نہْر میں رَکْھ دے
تو آبْجُو میں سُنَہْری جَھلَک سی آتی ہے

سُنَا ہے آئِنَہ بھی تَابْ اُس کی لَا نَہ سَکے
سُنَا ہے آئِنے کو آئِنَہ دِکَھاتی ہے

فَلَکْ سے چَانْد زَمیں پَرْ اُتَرْ کے دِیکَھتا ہے
یہ کُون ہے جُو مُجھے حُسْن سے جَلَاتی ہے

خُدا کرے کِہ اُسے میری عُمْر لگ جائے
کِہ اُس کو دیکھنے سے عُمْر بَڑْھتی جَاتی ہے

حَسِین پَرْیَاں بھی تَعْریفْ کرتیں تَھکْتی نَہیں 
وُہ سُرْخ ہُونْٹوں سے جب گِیْت گُنْگناتی ہے

خَیال ڈُھونْڈ کے لَاتَا نَہیں ہُوں اُس کے لیے
وُہ خُودبْخُود ہی تُخیّل میں بَھْاگ آتی ہے

قَسَم خُدا کی عَجَب سا نَشَہ ہے چَھایا ہُوا
کِہ پَڑْھتے پَڑْھتے غَزَل جَاں مَچَل سی جَاتی ہے

قَسَم خُدا کی کَہیں مَر نہ جَاؤں میں شَاکِر
کَبَھی کَبَھی وہ مَحَبَّت سے یُوں بُلَاتی ہے

کلام :- شاکر علی شاکر


آیا  ہے  شاکرؔ آپ کی محفل میں  آج  پھر
چھوٹے بڑوں سبھی  کو ہی پیشِ سلام ہے
(شاکر علی شاکرؔ)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
Aya Hay SHAKIR Aap Ki Mehfil Main Aaj Phir
Choty  Baro Sabi Ko Hi Paish-E-Salaam  Hay
(SHAKIR ALI SHAKIR)

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3214
جواب: سُنا ہے دِن کو اُسے روشنی ستاتی ہے
« Reply #1 بروز: ستمبر 10, 2017, 10:07:26 شام »
السلام علیکم احباب گرامی!
بہت دیر کے بعد ایک "غزلِ مسلسل" کے ساتھ حاضر ہوا ہوں۔


"کڑی تنقید برائے نقد اصلاح 🙂🙂 "


وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

ماشااللہ شاکر بھائی آج آپ کی آمد احمد فراز کی مقبول و معروف غزل

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں

کی یاد تازہ کر گئی ، آپ نے بہت حد تک اپنے کلام کو دلکشی بخشی میں نے آپ کے اس دلکش کلام سے بھر پور استفاہ کیا چند ایک مقامات پر الفاظ کی نشست و برخاست میں اگر مزید ردوبدل آپ کر لیں تو آپ کے کلام میں چار چاند لگ جائیں ، جو آپ کہنا چاہتے ہیں اسے ایک شعر میں بیان کرنے کے لیے مہارت کے ساتھ ساتھ الفاظ کا چناؤ الفاظ کا انتخاب جتنا آپس میں مطابقت رکھے گا اتنا پیغام سمجھنا سمجھانا آسان ہو گا اور ایک قاری کے لیے دلچسپی کا سامان ہوگا ، جن اشعار میں تردد ہے میں انہیں اپنی معروضات سمیت پیش کر رہا ہوں آپ چاہیں تو انہیں دوبارہ دیکھیے اور مزید  بہتری لائیے ، ایسا میں سمجھتا ہوں اور اگر آپ کو لگتا ہے کے ایسی کوئی بات نہیں تو از راہ کرم ان کی وضاحت فرمائیے کہ ان مصرعوں میں لفظوں کی نشت و برخاست معنی و مفہوم میں درست ہے تا کہ میں اپنی اصلاح کر سکوں اور مجھے سمجھنے میں آسانی ہو


اقتباس
سُنَا ہے دِن کو اُسے رُوشْنی سَتَاتی ہے
سُنَا ہے رَاتْ چَرَاغوں سے گھرْ سَجَاتی ہے

 اچھا ہے شعر  داد آپ کی نذر


اقتباس
سُنَا ہے زُلف وہ لہرائے، شمْس ڈَھْل جائے
سُنَا ہے چَانْد کو بھی رَات بھر جلاتی ہے

بہت خوب

اقتباس
سُنَا ہے جِھیل ہیں اُس کی شَرَاب سی آنْکھیں ****
نَشِیلے نین کو کاجَل سے یُوں سَجَاتی ہے

یہاں جھیل سی آنکھیں تو درست ہے شراب سی آنکھیں نہیں سنا شرابی آنکھیں ضرور سنا ہے

اقتباس
سُنَا ہے پَلْکیں اُٹھائیں تو دِن نِکل آئے ****
سُنَا ہے زُلْفیں بِچَھائیں تو رات آتی ہے

یہان پلکیں اٹھائیں زلفیں بچھائیں کہنا بھلا نہیں لگ رہا پلکیں اٹھائے زلفیں بچھائے کا محل ہے

اقتباس
سُنَا ہے فصْلِ خَزاں میں بَہار آ جائے ****
چَٹَک مَٹَک کے وہ جب جب چَمَن میں آتی ہے

خزاں کی فصل کیسی ہوتی ہے یا کیسے ہوتی ہے ؟ سوال آپ سے 
دوسرا مصرع مزےدار ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ داد :)

اقتباس
سُنَا ہے پَرْیاں بھی جُھک کر سَلَام عَرْض کریں
اَدَائیں مورنی سی ہُوبْہُو دکھاتی ہے ****


مورنی کا رقص ، ہرنی کی چال ، معصوم چہرہ  قاتل ادائیں سب مل کے ہم کو دیوانہ بنائیں سا نی دھا پا ما گا رے سا

یہاں مورنی سی ادائیں کچھ نیا کہنے کی کوشش ہے


اقتباس
سُنَا ہے نَرْگسی آنکھیں ہیں اُس کی مسْت بَھری ****
نَشَہ شَرَاب کا نینوں سے وہ چَڑَھاتی ہے


مست بھری کے بجائے اگر کہیں (مستی بھری) یا کہیے (مستی ہے)
نشہ چڑھانا شعریت پر برا اثر چھوڑتا ہے اگر چڑھاتی کے بجائے بڑھاتی کہیں تو نفاست نزاکت لطافت شرافت سبھی سمٹ کر آجائیں مزا دوبالا ہو جائے

اقتباس

سُنَا ہے وہ ہَنْسے تو گُل چَٹَک کے شَرْمائیں
سُنَا ہے بَاغِ اِرَم میں وہ آتی جَاتی ہے ****

پہلا مصرع دلکش و دلچسپ ہے
باغِ ارم والا معاملہ ذرا وقت سے پیشتر ہے کم از کم اس کے لیے دنیا چھوڑنی ہو گی :)

اقتباس
سُنَا ہے مَخْملی پَاؤں جُو نہْر میں رَکْھ دے
تو آبْجُو میں سُنَہْری جَھلَک سی آتی ہے

بہت خوب

اقتباس
سُنَا ہے آئِنَہ بھی تَابْ اُس کی لَا نَہ سَکے
سُنَا ہے آئِنے کو آئِنَہ دِکَھاتی ہے

 آئینے کو آئینہ دکھانا اچھا ہے

اقتباس
فَلَکْ سے چَانْد زَمیں پَرْ اُتَرْ کے دِیکَھتا ہے ****
یہ کُون ہے جُو مُجھے حُسْن سے جَلَاتی ہے

تقابلِ ردیفین کا سقم ہے
چاند کا زمین پر اترنا قیاس تخیل کی حد تک ہے

اقتباس
خُدا کرے کِہ اُسے میری عُمْر لگ جائے
کِہ اُس کو دیکھنے سے عُمْر بَڑْھتی جَاتی ہے

بہت خوب

اقتباس
حَسِین پَرْیَاں بھی تَعْریفْ کرتیں تَھکْتی نَہیں 
وُہ سُرْخ ہُونْٹوں سے جب گِیْت گُنْگناتی ہے

 واہ کیا بات ہے

اقتباس
خَیال ڈُھونْڈ کے لَاتَا نَہیں ہُوں اُس کے لیے
وُہ خُودبْخُود ہی تُخیّل میں بَھْاگ آتی ہے ****

اگر تخیل میں میرے آتی ہے کہا جائے تو زیادہ بہتر ہے جدت نوازنا چاہتے ہیں تو تخیل میں کوند آتی ہے کہیے

اقتباس
قَسَم خُدا کی عَجَب سا نَشَہ ہے چَھایا ہُوا
کِہ پَڑْھتے پَڑْھتے غَزَل جَاں مَچَل سی جَاتی ہے ****

جاں مچل سی جاتی ہے کو جان مچلی جاتی ہے کہنا مناسب ہو گا

اقتباس
قَسَم خُدا کی کَہیں مَر نہ جَاؤں میں شَاکِر
کَبَھی کَبَھی وہ مَحَبَّت سے یُوں بُلَاتی ہے

کلام :- شاکر علی شاکر

واہ واہ کیا بات کیا بات ہے ، شاکر بھائی ماشا اللہ ایک طویل محبت میں مستغرق کلام جسے آپ نے بہت عمدہ نبھانے کی کوشش کی میری جانب سے ڈھیروں داد قبول فرمائیے مزید توجہ دیں گے تو مزید نکھار آئے گا ، میری کوئی بات ناگوار گزری ہو تو میری کم فہمی کو سامنے رکھتے ہوئے درگزر فرمائیے جزاکم اللہ خیرا
آپ نے اردو انجمن کو آباد کیا اللہ آپ کو شاد و آباد رکھے یونہی تشریف لاتے رہیے اور اپنی قیمتی نگارشات سے اردو انجمن کو رقنق بخشیے ، اللہ آپ کو دونوں جہانوں کی عزتیں عطا فرمائے
اپنا بہت خیال رکھیے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے
دعاگو
محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

غیرحاضر chshakir

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 59
جواب: سُنا ہے دِن کو اُسے روشنی ستاتی ہے
« Reply #2 بروز: ستمبر 11, 2017, 02:10:41 شام »
وعلیکم السلام اسماعیل بھائی
بہت بہت شکریہ کہ آپ نے قیمتی وقت نکال کر اس غزل کو پڑھا اور مفید مشوروں سے نوازا جس سے یقیناً غزل کی نوک پلک سنور گئی ہے۔
انتظار میں ہوں کہ کوئی اور صاحب بھی اپنی گفتگو فرمائے تا کہ مجھے اپنی غلطئوں کا بخوبی پتا چل سکے۔
سلامت رہیں۔

میں اسے دوبارہ دیکھوں گا۔
آیا  ہے  شاکرؔ آپ کی محفل میں  آج  پھر
چھوٹے بڑوں سبھی  کو ہی پیشِ سلام ہے
(شاکر علی شاکرؔ)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
Aya Hay SHAKIR Aap Ki Mehfil Main Aaj Phir
Choty  Baro Sabi Ko Hi Paish-E-Salaam  Hay
(SHAKIR ALI SHAKIR)

 

Copyright © اُردو انجمن