اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: بِنا جل کے کسی بِسمل کی بھی کیا جانکنی ہو گی  (پڑھا گیا 63 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3214
بِنا جل کے کسی بِسمل کی بھی کیا جانکنی ہو گی
« بروز: ستمبر 10, 2017, 10:18:04 شام »

قارئین کرام آداب عرض ہیں ، تازہ کلام آپ سبھی چاہنے والوں کی نذر . اپنی آرا سے نوازیے شکریہ
عرض کیا ہے
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بِنا جل کے کسی بِسمل کی بھی کیا جانکنی ہو گی
نہیں جس زندگی میں بندگی شرمندگی ہو گی

بغاوت کرنے والو تم کو آخر کیوں نہیں معلوم
انہی کی ہو گی سر کوبی کہ جن میں سر کَشی ہو گی

جو تم مجھ کو نظر انداز کر کے یوں گزرتے ہو
تمہی بتلاؤ ایسے کس طرح مجھ کو خوشی ہو گی

طمع کی دوڑ میں احساس کی حد سے گزر جانا
خرد مندو ! کوئی کیا اس سے بڑھ کر خودکشی ہو گی

اجالا چاہیے تجھ کو اندھیروں سے نکل باہر
تو جتنا دور ہو گا روشنی سے تیرگی ہو گی

مرے ہی دشمنوں سے تُو مراسم جوڑے رکھتا ہے
بتا ایسے میں تیری اور میری دوستی ہو گی ؟

کبھی سورج کی لو سے تُو اندھیروں کا مداوا کر
چراغوں سے خیال آخر کہاں تک روشنی ہو گی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی توجہ کا طلبگار
اسماعیل اعجاز خیالؔ


محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

 

Copyright © اُردو انجمن