اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: کچھ کہا کیجے ہم سے کچھ سنا کیجے  (پڑھا گیا 79 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3180
کچھ کہا کیجے ہم سے کچھ سنا کیجے
« بروز: ستمبر 15, 2017, 10:44:18 شام »


قارئین کرام اساتذہ کرام السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

آپج مجھے بشریٰ خان یاد آگئیں اللہ ان کی مغفرت فرمائے انہیں انہیں کروٹ کروٹ جنت عطا فرمائے

بشریٰ خان کا ایک شعر جس پر ہمارے معزز احباب نے بے حد علمی و ادبی گفتگو کی جس سے ہم سبھی نے استفادہ کیا

http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?PHPSESSID=9curnl1dnifvv7td9me12kutf7&topic=9268.0


سوال یہ ہے آپ احباب سے کہ

فاعلاتن ؛ فَعِلاتن ؛ فَعِلاتن ؛ مفعولن بحر رمل کی مزاحف شکلیں ہیں تو آخرِ بیت میں مفعولن زحاف کیوں نہیں درست ہے ؟

جناب محترم وی بی جی نے اس سلسلے میں جو اقتباس پیش کیا اپنی قیمتی آرا کو لے کر ملاحظہ فرمائیے



محترم احباب و اساتذہ کرام! سلام

اس قدر علمی گفتگو دیکھ کر دل خوش ہو گیا۔ ہم ایک بار پھر حاضر ہوئے ہیں، لیکن اس بار کُچھ کتابوں سے بھی پوچھ گچھ کی ہے۔ اگرچہ ہمارا کُچھ کہنے کا مقام نہیں ہے، لیکن طالب علموں کو فائدہ ایسی کوششوں سے ہی ہوتا ہے۔

محترم سرور عالم راز سرورؔ صاحب نے جب کتاب کا حوالہ دیا تو ہمیں بھی یاد آیا کہ چند کُتب تو ہمارے پاس بھی موجود ہیں۔ ڈاکٹر جمال الدین جمال صاحب کی کتاب کے حوالے سے بیان کچھ یوں ہے۔

لفافہِ اول:
یہ چار بحور ایک جگہ یکجا ہو سکتی ہیں۔

1.  فاعلاتن، فعِلاتن، فعِلاتن، فعلن
2.  فاعلاتن، فعِلاتن، فعِلاتن، فعِلن
3.  فاعلاتن، فعِلاتن، فعِلاتن، فعلان
4.  فاعلاتن، فعِلاتن، فعِلاتن، فعِلان

علاوہ ازیں، پہلے رکن (بحوالہ محترم خاک زنبیلی صاحب :صدر:) کو :فعِلاتن: باندھا جا سکتا ہے۔ یعنی یہ آٹھ بحور یکجا ہو سکتی ہیں۔

ڈاکٹر جمال الدین جمال صاحب اس بیان کے بعد فرماتے ہیں۔

لفافہِ دوئم:
یہ چار بحور ایک جگہ یکجا ہو سکتی ہیں۔

1.  فاعلاتن، فعِلاتن، فعِلاتن، فعِلاتن
2.  فاعلاتن، فعِلاتن، فعِلاتن، فعِلیان  (یہاں فعِلیان کی ی پر شد ہے جو ذہن کو پُر تشدد محسوس ہوتی ہے)
3.  فاعلاتن، فعِلاتن، فعِلاتن، مفعولن
4.  فاعلاتن، فعِلاتن، فعِلاتن، مفعولان

علاوہ ازیں، پہلا رکن :فعِلاتن بھی ہو سکتا ہے، یعنی یہ آٹھ بحور ایک جگہ یکجا یا نظم کی جا سکتی ہیں۔

اب بات آتی ہے، محترم یاسر شاہ صاحب کی، جنہوں نے :حشوین: میں سے کسی ایک فعِلاتن کو مفعولن کرنے کی اجازت پر وضاحت طلب کی ہے، تو عرض ہے کہ اس کے لیئے ہم نے :بحرالفصاحت، از نجم الغنی صاحب: کا حوالہ دیں گے، جہاں انہوں نے کسی صاحب پر طنز کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ایک صاحب نے اس کے بارے غلط کہا ہے کہ :مفعولن: نہیں ہو سکتا، اور حوالے کے لیئے ایک فارسی شعر ہمارے دیرینہ دوست شیخ سعدی مرحوم  کا پیش کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ :اُن: صاحب کو چاہیئے کہ اسے بھی غلط ثابت کریں۔ کُچھ شعر اور بھی ہیں۔ اگر ضرورت محسوس کی گئی تو ہم کتاب سے ہو بہو نقل کر کے یا تصویر کی صورت یہاں پیش کر دیں گے۔

یعنی ان کے مطابق یہ درست ہے کہ حشوین :فعِلاتن: میں سے کسی ایک کو :مفعولن: باندھا جا سکتا ہے۔

اب محترمہ بشریٰ خان صاحبہ کی مرضی پر ہے کہ وہ باقی کی غزل کو لفافہِ اول کی بحور کے دائرے میں رکھتی ہیں، یا لفافہِ دوئم کی بحور کے دائرے میں۔ ہماری اپنی ناقص رائے میں انہیں چاہیئے کہ :مفعولن: کے وزن پر رکھیں۔ ایک تو ہماری بدذوقی کو :جائیں: کا سب کُچھ گِرا دینا بھلا معلوم نہیں ہو رہا، دوسری بات کہ اُن کو اپنے قلم کا امتحان لینے میں بھی مزا آئے گا۔

آپ سب صاحبانِ علم کا شُکریہ کہ اس قدر مفصل گفتگو کی، اس سے ہمیں بُہت کُچھ سیکھنے کو ملا۔ ہم آپ سب کے شکر گزار ہیں۔ ہمارے پاس اس وقت کُتب ہاتھ میں نہیں ہیں۔ گھر جا کر دیکھیں گے کہ کہیں کوئی غلطی نہ رہ گئی ہو کہ معاملہ پیچیدہ ہے اور دماغ بقدرِ بادام ۔۔ :)

حافظ شیرازی سے معذرت کے ساتھ

:عروض آساں نمود اول، ولے اُفتاد مشکل ہا:

دُعا گو





اس اقتباس میں لفافہ دوئم میں

اقتباس
ڈاکٹر جمال الدین جمال صاحب اس بیان کے بعد فرماتے ہیں۔

لفافہِ دوئم:
یہ چار بحور ایک جگہ یکجا ہو سکتی ہیں۔

1.  فاعلاتن، فعِلاتن، فعِلاتن، فعِلاتن
2.  فاعلاتن، فعِلاتن، فعِلاتن، فعِلیان  (یہاں فعِلیان کی ی پر شد ہے جو ذہن کو پُر تشدد محسوس ہوتی ہے)
3.  فاعلاتن، فعِلاتن، فعِلاتن، مفعولن
4.  فاعلاتن، فعِلاتن، فعِلاتن، مفعولان





گویا


ﭼﻨﺪ ﺻﯿﺎﺩ ﺍﮔﺮ ﺍﺏ ﮐﮯ ﭨﮭﮑﺎﻧﮯ ﻟﮓ ﺟﺎﺋﯿﮟ
 ﮨﻢ ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﮔﺎﻧﮯ ﻟﮓ ﺟﺎﺋﯿﮟ !

جس کی تقطیع

چن د صی یا ۔۔۔۔۔ د ا گر اب ۔۔۔۔ کِ ٹِ کا نے ۔۔۔۔۔۔ لگ جا ئی
فاعلاتن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فَعِلاتن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  فَعِلاتن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مفعولن

ہم پَ رن دو ۔۔۔۔ کِ طَ رح با ۔۔۔۔۔۔۔۔ غُ مِ گا نے ۔۔۔۔۔۔ لگ جا ئی
فاعلاتن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فَعِلاتن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  فَعِلاتن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مفعولن

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جناب وی بی جی کی پیش کردہ تحریر کے مطابق ہے

3.  فاعلاتن، فعِلاتن، فعِلاتن، مفعولن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں نے مرزا یاس عظیم آبادی کی عروض سے متعلق کتاب ’’ چراغِ سخن ‘‘ میں فاعلاتن کو مفعولن سے بدلنے کے عمل کو تشعیث دیکھا

فرماتے ہیں

تشعیث فقط فاعلاتن سے مخصوص ہے ، یعنی فاعلاتن کو جب مفعولن بنا لیتے ہیں تو اسے تشعیث کہتے ہیں ۔ تشعیث کے متعلق مختلف اقوال بیان کیے گئے ہیں ۔ کوئی کہتا ہے کہ اس میں خرم واقع ہوا ہے ۔ یعنی وتد ’’ علا‘‘ کا عین گر گیا ہے ۔ اس صورت میں

فاعلاتن - ع = فالاتن = مفعولن
مبدل بہ مفعولن فاعلاتن کا تشعیث زحاف ہے
کوئی کہتا ہے کہ یہاں قطع وارد ہوا ہے یعنی وتد  ’’ علا‘‘ کا الف گرا کر لام ساکن کر دیا گیا ہے

فاعلاتن = علا - ا = فاعل تن = مفعولن

اس حالت میں فا عل تن مبدل بہ مفعولن ہوتا ہے ، اور کوئی یہ کہتا ہے کہ وتد ’’ علا‘‘ کا دوسرا حرفِ متحرک لام گر گیا اس لیے

فاعلاتن = علا - ل = فاعا تن = مفعولن

اس حالت میں فاعاتن مبدل بہ مفعولن ہوتا ہے ۔ اور کوئی یہ کہتا ہے کہ مخبون مسکن ہے یعنی پہلے خبن کر کے فاعلاتن کو فَعِلاتن بنایا اور عین پر تسکینِ اوسط کا زحاف لگایا لہٰذا فعلاتن ( بہ سکون عین) باقی رہا اور مبدل بہ مفعولن ہو گیا ، بہر صورت چاروں طریقوں سے نتیجہ ایک ہی نکلا یعنی فاعلاتن مفعولن ہو جاتا ہے ، محقق علیہ رحمہ نے اس آخری قول کی تائید کی ہے

چراغ سخن سے اس شعر کے وزن جسے جناب وی بی جی نے ڈاکٹر جمال الدین جمال صاحب کے مرتب کردہ وزن

3.  فاعلاتن، فعِلاتن، فعِلاتن، مفعولن

پر پورا اترتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب آئیے ڈاکٹر کندن اراولی صاحب کی کتاب احتساب العروض میں اس زحاف کے بارے میں کیا لکھا ہے جانتے ہیں

ڈاکٹر کندن اراولی صاحب وتد مفروق کے زحاف بنانے کے باب میں فرماتے ہیں کہ
۱۸ ۔ کشف :۔ (تعریف نو) بیت کے آخر میں وتد مفروق کے دوسرے حرفِ متحرک کو ساقط کرنا ۔ مزاحف نام مکشوف ہے

اس کی فہرست میں

ا : مف عو لُ - لّ =   مف عو =  فعلن کا مکشوف رکن  ہے
ب : فاعِ لن - عِ =   فا لُن =  فعلن کا مکشوف رکن  ہے

ج : فاعِ لالن - عِ =   فا لا تن =  مفعولن کا مکشوف رکن  ہے
د : مس تفعِ لن - عِ =   مس تف لُن =  مفعولن کا مکشوف رکن  ہے
ہ : مف عولاتُ - تُ =   مف عو لا =  مفعولن کا مکشوف رکن فعلن ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 اس طرح جدید علم العروض میں پروفیسر عبدالمجید صاحب صفحہ ۲۸ میں مفرد زحافات کے اصول مرتب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
۱۴ : تشعیث ۔ فاعلاتن کو مفعولن بنانا ۔ (مشعف) زحاف کہلاتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قارئین کرام یہاں ہم نے دیکھا کہ کس طرح مفعولن کا زحاف عمل پذیر ہوا اب آئیے اس سوال کی جانب جو میں نے آپ کے سامنے رکھا ہے یہ بتائیے کہ
بشریٰ خان مرحومہ (اللہ مغفرت فرمائے) کے شعر میں مفعولن بیت کے آخر میں آخری رکن عروض یا ضرب میں کیوں نہیں درست یا غلط کیوں ہے جب کہ شعر کا وزن
3.  فاعلاتن، فعِلاتن، فعِلاتن، مفعولن
ہے

ماہرینِ عروض اس پر اپنی علمی و ادبی روشنی ڈالیں

شکریہ

اللہ پاک آپ سبھی کو سدا سلامت رکھے دونوں جہانوں کی عزّتیں مرحمت فرمائے

دعاگو

« آخری ترمیم: ستمبر 15, 2017, 10:53:02 شام منجانب Ismaa'eel Aijaaz »


محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

 

Copyright © اُردو انجمن