اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: نظر انداز کر دیا تُو نے  (پڑھا گیا 178 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3214
نظر انداز کر دیا تُو نے
« بروز: ستمبر 16, 2017, 12:38:46 صبح »

قارئین کرام آداب عرض ہیں تازہ کلام آپ احباب کی نذر اپنی قیمتی آرا سے نوازیے  ۔۔ شکریہ
عرض کیا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کبھی ہمراز کر دیا تُو نے
کبھی ناساز کر دیا تُو نے

مرے جب بھی قریب سے گزرا
نظر انداز کر دیا تُو نے

میں کہانی کا خاتمہ کر دوں
جس کا آغاز کر دیا تُو نے

کسی انجان راستے پر کیوں
محوِ پرواز کر دیا تُو نے

تجھ سے ناتا میں کس طرح جوڑوں
مجھے آزاد کر دیا تُو نے

میں تھا شاہین کوہساروں کا
کرگس و باز کر دیا تُو نے

پھولؔ جیسی عنایتیں کر کے
عطا اعزاز کر دیا تُو نے

کر کے اپنا خیالؔ آج مجھے
نگہِ ناز کر دیا تُو نے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
توجہ کا طلبگار
اسماعیل اعجاز خیالؔ


محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

غیرحاضر nawaz

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 368
جواب: نظر انداز کر دیا تُو نے
« Reply #1 بروز: ستمبر 17, 2017, 07:28:45 صبح »
محترم اسماعیل اعجاز سلامِ مسنون

آپ کی غزل زیر مطالعہ آئی، یوں تو اشعار
معنویت کے لحاظ سے کچھ بہتر  ہیں۔ لیکن
بھائی غزل کا اُٹھان آپ کے پچھلے کلام سے
دبتا ہوا معلوم ہوا۔ خوبصورت محاورات اور
روزمرہ کا استعمال جوآپ کی شاعرانہ بلندی
کا خاصہ ہے یہاں اس کی کمی محسوس ہوئی
(اسکو میری رائے تک محصور سمجھیں)

مطلع میں مصرعِ ثانی کو،

کبھی ناساز کردیا تونے

کو اگر
مجھے ممتاز کردیا تو نے
کہا جائے
تو کیا خیال ہے جناب

سدا خوش رہئے  دعا گو    نواز

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3214
جواب: نظر انداز کر دیا تُو نے
« Reply #2 بروز: ستمبر 18, 2017, 09:17:12 شام »
محترم اسماعیل اعجاز سلامِ مسنون

آپ کی غزل زیر مطالعہ آئی، یوں تو اشعار
معنویت کے لحاظ سے کچھ بہتر  ہیں۔ لیکن
بھائی غزل کا اُٹھان آپ کے پچھلے کلام سے
دبتا ہوا معلوم ہوا۔ خوبصورت محاورات اور
روزمرہ کا استعمال جوآپ کی شاعرانہ بلندی
کا خاصہ ہے یہاں اس کی کمی محسوس ہوئی
(اسکو میری رائے تک محصور سمجھیں)

مطلع میں مصرعِ ثانی کو،

کبھی ناساز کردیا تونے

کو اگر
مجھے ممتاز کردیا تو نے
کہا جائے
تو کیا خیال ہے جناب

سدا خوش رہئے  دعا گو    نواز


 جناب محترم نواز صاحب
وعلیکم السلام

جنابِ عالی پزیرائی کے لیے شکر گزار ہوں ، اللہ آپ کو دنیا و آخرت کی عزتوں سے نوازے ، بجا فرمایا ہے آپ نے یہ کلام اس معیار کا نہیں ہے جیسا آپ کو مجھ سے توقع ہے ، ان شا اللہ کوشش کروں گی کہ بہتر معیار قائم رہے ۔ آپ کی محبتیں و عنایتیں سر آنکھوں پر

آپ نے فرمایا ہے کہ


مطلع میں مصرعِ ثانی کو،

کبھی ناساز کردیا تونے

کو اگر
مجھے ممتاز کردیا تو نے
کہا جائے
تو کیا خیال ہے جناب


مصرع آپ نے بہت اچھا عنایت فرمایا ہے واہ صاحب بہت خوب ، میں نے مطلع میں ہمراز کے متضاد ناسازکے معنی و مفہوم کو مدِ نظر رکھا کہ ہمراز اسی کو آپ بنانا چاہیں گے جو آپ کا دوست ہے یا مجبور ہیں آپ اس سے دوستی رکھنے پر اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے راز افشا ہو جانے کا خوف ہے ، جب کہ ناساز وہی ہو گا جو ناموافق ہو گا نا ہمزاج ہو گا دوستی یہاں ختم ہو جاتی ہے جب نا موافقت جنم لیتی ہے

بہر حال صاحب میں آپ کا صمیمِ قلب سے سرپاء سپاس گزار ہوں کہ آپ نے اپنے قیمتی وقت اور خیالات سے سرفراز فرمایا
اللہ آپ کو دونوں جہانوں میں شاد و آباد رکھے
اپنا بہت خیال رکھیے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے

دعاگو
محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

غیرحاضر Afroz Mehr

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 238
جواب: نظر انداز کر دیا تُو نے
« Reply #3 بروز: ستمبر 20, 2017, 11:15:29 شام »

محترمی جناب خیال صاحب: سلام علیکم
آپ کی غزل پہلے ہی دیکھ لی تھی لیکن لکھنے کی فرصت اب مل سکی ہے۔ آپ نے ہمیشہ کی طرح انفرادیت قائم رکھی ہے۔ غزل کی داد قبول فرمائیے۔ اگراجازت ہو تو کچھ تفصیل سے عرض کروں۔ آپ یقینا میری باتیں سن لیں گے اور جواب بھی دیں گے۔ جس کے لئے پیشگی شکریہ حاضر ہے۔
کبھی ہمراز کر دیا تُو نے
کبھی ناساز کر دیا تُو نے
طببیعت یا مزاج کا ناساز ہونا تو سنا اور پڑھا ہے لیکن کسی شخص کا ناساز کردیا جانا کبھی نہیں دیکھا اور نہ ہی سنا۔ ممکن ہے کہ ایسا محاورہ ہو۔ اگر آپ نے کہیں ایسا استعمال دیکھا ہے تو لکھیں تاکہ ہمارے علم میں بھی اضافہ ہو۔ اگر اسے محاورہ کے طور پر  صحیح بھی مان لیا جائے تو سوال اٹھتا ہے کہ ہمراز کے مقابلہ میں ناساز کس حد تک شعر کا حق ادا کررہا ہے؟ مجھ کو ان دو الفاظ کا باہمی اس طرح مقابل ہونا کچھ ہضم نہ ہوسکا۔ لیکن یہ صرف میری رائے ہے۔
مرے جب بھی قریب سے گزرا
نظر انداز کر دیا تُو نے
یہ شعر پسند آیا۔ داد حاضر ہے۔
میں کہانی کا خاتمہ کر دوں
جس کا آغاز کر دیا تُو نے
گستاخی معاف، یہ سراسربھرتی کا شعر معلوم ہوتا ہے۔ "آغاز کردیا" سے مطلب نکلتا ہے جیسے کرنا نہیں چاہئے تھا لیکن کردیا۔ کیا آپ یہی کہنا چاہتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو میں آپ کی شروع کی ہوئی کہانی کس طرح ختم کر سکتی ہوں جب یہی علم نہیں کہ وہ کس طرح آگے بڑھے گی۔ کہانی تو آپ کہہ رہے ہیں، پھر کوئی دوسرا اسے کیسے ختم کرسکتا ہے؟
کسی انجان راستے پر کیوں
محوِ پرواز کر دیا تُو نے
آدمی کسی کام یا خیال میں خود محو ہوتا ہے، اسے کوئی اور محو نہیں کرسکتا۔ چنانچہ شعر بے معنی ہوکر رہ گیا ہے۔ آپ خود ہی سوچیں کوئی مجھ کو کسی راستہ پر بھی محو "پرواز" کیسے کرسکتا ہے؟ شعر دوبارہ سوچنا ضروری ہے۔
تجھ سے ناتا میں کس طرح جوڑوں
مجھے آزاد کر دیا تُو نے
شعر ٹھیک ہے۔ آزاد  کرنا آپ نے ناطہ توڑنے کے معنوں میں باندھا ہے جو قابل برداشت ہے لیکن بہتری چاہتا ہے۔
میں تھا شاہین کوہساروں کا
کرگس و باز کر دیا تُو نے
کوئی آپ کو شاہیں سے کرگس و باز کیسے کرسکتا ہے؟ اس کی تاویل بہت پیچیدہ  دینی ہوگی کیونکہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔
پھولؔ جیسی عنایتیں کر کے
عطا اعزاز کر دیا تُو نے
شعر واضح نہیں ہے۔ معلوم نہیں آپ کیا کہنا چاہتے ہیں۔ کیا عنایت پھول کی طرح نہ ہوکر خوشبو کی طرح ہوتی تو اعزاز نہ ہوتی؟ شعر معمہ ہو کر رہ گیا ہے۔
کر کے اپنا خیالؔ آج مجھے
نگہِ ناز کر دیا تُو نے
کوئی آپ کو اپنا بنا کر "نگہ ناز" کیسے کرسکتا ہے؟ یہ شعر بھی ایسی ہی ناممکنات کی باتیں کر رہاہے جو اس سے قبل دوسرے شعروں میں آئی ہیں۔ ازراہ کرم وضاحت فرمادیجئے۔ شکریہ۔

مہر افروز

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3214
جواب: نظر انداز کر دیا تُو نے
« Reply #4 بروز: ستمبر 24, 2017, 09:45:15 شام »

محترمی جناب خیال صاحب: سلام علیکم
آپ کی غزل پہلے ہی دیکھ لی تھی لیکن لکھنے کی فرصت اب مل سکی ہے۔ آپ نے ہمیشہ کی طرح انفرادیت قائم رکھی ہے۔ غزل کی داد قبول فرمائیے۔ اگراجازت ہو تو کچھ تفصیل سے عرض کروں۔ آپ یقینا میری باتیں سن لیں گے اور جواب بھی دیں گے۔ جس کے لئے پیشگی شکریہ حاضر ہے۔

محترمہ افروز مہر صاحبہ
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

جیتی رہیے سدا سلامت رہیے
آپ کا میرے لیے ایک منفرد مقام قائم کرنا اور اسے پزیرائی بخشنا عزت افزائی فرمانا
 آپ کی توجہ خلوص اور عنایت سر آنکھوں پر
 

اقتباس
کبھی ہمراز کر دیا تُو نے
کبھی ناساز کر دیا تُو نے
طببیعت یا مزاج کا ناساز ہونا تو سنا اور پڑھا ہے لیکن کسی شخص کا ناساز کردیا جانا کبھی نہیں دیکھا اور نہ ہی سنا۔ ممکن ہے کہ ایسا محاورہ ہو۔ اگر آپ نے کہیں ایسا استعمال دیکھا ہے تو لکھیں تاکہ ہمارے علم میں بھی اضافہ ہو۔ اگر اسے محاورہ کے طور پر  صحیح بھی مان لیا جائے تو سوال اٹھتا ہے کہ ہمراز کے مقابلہ میں ناساز کس حد تک شعر کا حق ادا کررہا ہے؟ مجھ کو ان دو الفاظ کا باہمی اس طرح مقابل ہونا کچھ ہضم نہ ہوسکا۔ لیکن یہ صرف میری رائے ہے۔

بہت نوازش آپ کی رائے کا احترام کرتا ہوں میں یقیناً جو آپ نے ذکر فرمایا محاورے سے متعلق تو ایسا ہی ہے لیکن اگر ہم ناساز کے معنی دیکھیں تو اس کے معنی دو تین ہیں
١ - جو راس نہ آئے ، ۲ ۔  میل نہ کھاتا ہو، ۳ ۔ ناموافق،  ۴ ۔ جو بامراد نہ ہو ، ۵ ۔ مخالف، ۶ ۔ دشمن ۔
گویا بہت سے معنی و مفہوم کو لیے یہ لفظ اپنے اندر اتنی وسعت رکھتا ہے کہ ہمیں اسے مزید جدت طرازی واستعمال میں لانا چاہیے  بس یہی خیال ہے میرا

ہمراز کرنا کسی کو اختیاری اور مجبوری دونوں حالتوں میں ہے مگر ناساز کرنا اختلافی مد میں ہے اگر ان معنوں میں اس شعر کو دیکھا جائے پرکھا جائے تو شاید وضاحت کی ضرورت نہ پڑے

بہر حال آپ کا بے حد شکریہ کہ ایک علمی نکتے کی جانب توجہ مبذول کروائی آپ نے بہت شکریہ آپ کا سدا سلامت رہیے
 

اقتباس
مرے جب بھی قریب سے گزرا
نظر انداز کر دیا تُو نے
یہ شعر پسند آیا۔ داد حاضر ہے۔
میں کہانی کا خاتمہ کر دوں
جس کا آغاز کر دیا تُو نے
گستاخی معاف، یہ سراسربھرتی کا شعر معلوم ہوتا ہے۔ "آغاز کردیا" سے مطلب نکلتا ہے جیسے کرنا نہیں چاہئے تھا لیکن کردیا۔ کیا آپ یہی کہنا چاہتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو میں آپ کی شروع کی ہوئی کہانی کس طرح ختم کر سکتی ہوں جب یہی علم نہیں کہ وہ کس طرح آگے بڑھے گی۔ کہانی تو آپ کہہ رہے ہیں، پھر کوئی دوسرا اسے کیسے ختم کرسکتا ہے؟

 آپ کو یہ شعر بھرتی کا لگا ، آپ اپنی رائے کا استحقاق رکھتی ہیں آپ کی رائے سر آنکھوں پر لیکن یہ روزمرّہ کی بول چال میں اسلوبِ عام ہے ، ہم اکثر ایسے جملے سنتے ہیں کہ ’’ تم نے اگر بات چھیڑ ہی دی ہے تو اسے ختم میں کیے دیتا ہوں ‘‘ بالکل اسی طرح شعر میں بھی کہا گیا ہے کہ جس کہانی کو تم نے شروع کیا ہے اسے
 :) میں ختم کیے دیتا ہوں ، اس میں بھرتی کی کون سی بات ہے ذرا اس پر روشنی ڈالیے
 

 
اقتباس
کسی انجان راستے پر کیوں
محوِ پرواز کر دیا تُو نے
آدمی کسی کام یا خیال میں خود محو ہوتا ہے، اسے کوئی اور محو نہیں کرسکتا۔ چنانچہ شعر بے معنی ہوکر رہ گیا ہے۔ آپ خود ہی سوچیں کوئی مجھ کو کسی راستہ پر بھی محو "پرواز" کیسے کرسکتا ہے؟ شعر دوبارہ سوچنا ضروری ہے۔

بہت خوب میں آپ کی اس بات پر خوش ہوں کہ آپ نے مجھے شعر دوبارہ کہنے کا قیمتی مشورہ دیا ، سدا سلامت رہیے

یہ شعر آج کے اس پُر فتن دور میں ایک دم فٹ بیٹھ رہا ہے جہاں لوگ لوگوں کے لیے استعمال ہو رہے ہیں جسے جدید زبان میں (برین واشنگ) کہا جاتا ہے لوگ یہ نہیں جانتے کہ وہ کسی جانب گامزن ہیں مگر گامزن ہیں کیوں کہ انہیں ایسا کہا گیا ہے ، ایک روایت میں آتا ہے کہ قتل ہونے والا یہ نہیں جانتا ہگا کہ اسے کیوں قتل کیا جارہا ہے اور قاتل کو یہ معلوم نہیں ہوگا کہ وہ کیوں قتل کر رہا ہے ، ہلاکت دونوں کا مقدر ہوئی
میرا یہ شعر اسی سوچ اسی تخیل جس پر برین واش کر کے لوگوں کو محوِ پرواز کر دیا گیا ہے غمازی ہے
میرا خیال ہے اس مدلل وضاحت کے بعد آپ کا یقیناً خیال میرے اس شعر کے بارے میں بدل گیا ہوگا
 

اقتباس

تجھ سے ناتا میں کس طرح جوڑوں
مجھے آزاد کر دیا تُو نے
شعر ٹھیک ہے۔ آزاد  کرنا آپ نے ناطہ توڑنے کے معنوں میں باندھا ہے جو قابل برداشت ہے لیکن بہتری چاہتا ہے۔

جی بہت نوازش ، میں اسے بہتر کرنے کی کوشش کروں گا
 

اقتباس
میں تھا شاہین کوہساروں کا
کرگس و باز کر دیا تُو نے
کوئی آپ کو شاہیں سے کرگس و باز کیسے کرسکتا ہے؟ اس کی تاویل بہت پیچیدہ  دینی ہوگی کیونکہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔

یہاں کرگس کے ساتھ زاغ کا محل تھا باز قافیے کی مجبور ہے جب کہ باز میں بھی شاہین والی بات نہیں ہے یہ مصرع مجھے میرے استاد شاعر جناب محترم تنویر پھول صاحب نے عنایت فرمایا ہے پہلے یہ مصرع جو میں نے کہا تھا وہ کچھ یوں تھا ’’ مجھے گدھ ، باز ، کر دیا تو نے ‘‘ ذرا الجھا ہوا اور مبہنم تھا جس کی نئی صورت ’’ کرگس و باز کر دیا تُو نے ‘‘ ہے اصل میں شکایت ہے آپ سے بھی اور ساری امت مسلمہ سے بھی
یہ شعر مسلمانوں سے محوِ شکوہ ہے مسلمان آج مردار خور مکار چالباز بزدل دوسروں کی کاوشات محنت ترقی و خوشحالی کے مرہونِ منّت زندگی گزار کر نہ صرف مطمئن ہیں بلکہ ہر طرف کائیں کائیں کر رہے ہیں نجانے کس زعم میں مبتلا ہیں
 

اقتباس

پھولؔ جیسی عنایتیں کر کے
عطا اعزاز کر دیا تُو نے
شعر واضح نہیں ہے۔ معلوم نہیں آپ کیا کہنا چاہتے ہیں۔ کیا عنایت پھول کی طرح نہ ہوکر خوشبو کی طرح ہوتی تو اعزاز نہ ہوتی؟ شعر معمہ ہو کر رہ گیا ہے۔

یہ شعر آپ کو ہدیہ کیا خوش رہیے اللہ آپ کو دونوں جہانوں کی خوشیاں عطا فرمائے
 

اقتباس
کر کے اپنا خیالؔ آج مجھے
نگہِ ناز کر دیا تُو نے
کوئی آپ کو اپنا بنا کر "نگہ ناز" کیسے کرسکتا ہے؟ یہ شعر بھی ایسی ہی ناممکنات کی باتیں کر رہاہے جو اس سے قبل دوسرے شعروں میں آئی ہیں۔ ازراہ کرم وضاحت فرمادیجئے۔ شکریہ۔

مہر افروز

یہ شعر بھی آپ کی نذر آپ نے توجہ دے کر مجھے میری نگاہِ ناز بنا دیا ہے مجھے خود پر فخر ہے ناز ہے

خیر اللہ آپ کو دونوں جہانوں کی عزتیں اور خوشیاں عطا فرمائے آپ تشریف لائیں اور اپنی توجہ اور عنایتوں سے نوازا بہت شکریہ آپ کا
یونہی عزت افزائی فرماتی رہا کیجیے آپ کے آنے سے اردو انجمن آباد ہوئی اللہ آپ کا شاد و آباد رکھے
دعاگو
 
« آخری ترمیم: ستمبر 24, 2017, 10:03:32 شام منجانب Ismaa'eel Aijaaz »
محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

 

Copyright © اُردو انجمن