اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: hath main hath Ghazal  (پڑھا گیا 101 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر nawaz

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 368
hath main hath Ghazal
« بروز: ستمبر 19, 2017, 09:50:45 صبح »
تمام احباب و اراکین انجمن کو سلامِ مسنون

آپ کی مخلِصانہ رائے اور خوب سے خوب تر
کی سمت رہنمائی کا طلبگار،

جب نہیں ہاتھ اُس کا اپنے ہاتھ میں پاتا ہوں میں
دیکھ میرا حال اب کس طرح گھبراتاہوں میں

آہ بے کس وہ ہے کتنا تو نہ جس کے ساتھ  ہو
کیا تجھے اب یاد پل بھر بھی نہیں آتا ہوں میں

مان میرا کہنا ورنہ تو بہت پچتائے گا
جان کر فرض ایک یہ ہی بات سمجھاتا ہوں میں

بال ہیں اُلجھے ہوئے میرے پرانا ہے لِباس
دیکھ کر حالات اپنے اب تو شرماتاہوں میں

بات کا انداز تیرا تیر دل پرہے چلے
ہاں بناوٹ گفتگو میں تیری اب پاتا ہوں میں

تم ذرا مجھ غم کے مارے کی کہانی تو سنو
ہاں نواز اِس طرح اب تسکین اور پاتاہوں میں



غیرحاضر Afroz Mehr

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 238
جواب: hath main hath Ghazal
« Reply #1 بروز: ستمبر 22, 2017, 07:07:15 شام »

محترمی جناب نواز صاحب: سلام علیکم
آپ کی غزل نظر نواز ہوئی۔ پہلا تاثر یہ تھا کہ ردیف "ہوں میں" کے انتخاب نے آپ کی شعرگوئی کو محدود رہنے پر مجبور کردیا ہے کیوںکہ ہر شعر کو اپنے حال پر منطبق کرنا آسان نہیں ہے۔ عام طور پر اگر ایسی مجبوری ہو تو غزل بھلے ہی ہوجائے لیکن اشعار کے معنی بلند نہیں ہوپاتے ہیں بلکہ معمولی رہ جاتَے ہیں۔ غزل کی زمین اور بحر کا انتخاب اکثر اس کے معیارپر اثر انداز ہوتا ہے۔ آپ کے ساتھ میری رائے میں یہی ہوا ہے۔ غزل پر آپ نے محنت کی ہے۔ سب سے پہلے داد قبول کیجئے اور پھر اجازت دیجئے کہ دو چار باتیں عرض کروں۔ شکریہ۔
جب نہیں ہاتھ اُس کا اپنے ہاتھ میں پاتا ہوں میں
دیکھ میرا حال اب کس طرح گھبراتاہوں میں
پہلا مصرع انتہائی الجھ گیا ہے۔ آپ سوچئے کہ کبھی اس طرح بات کی جاتی ہے؟ اس مصرع کو بناوٹ کی اصلاح کی سخت ضرورت ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ آپ کا مخاطب دونوں مصرعوں میں الگ الگ ہے! اگر "اس کا " کو "تیرا" کہیں تو یہ نقص ٹھیک ہوجاتا ہے ورنہ اس کا کوئی مطلب نہیں بنتا ہے۔ لفظ "اب" بھی بھرتی کا ہے۔ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
آہ بے کس وہ ہے کتنا تو نہ جس کے ساتھ  ہو
کیا تجھے اب یاد پل بھر بھی نہیں آتا ہوں میں
پہلے مصرع میں آپ محبوبہ کے "ساتھ" کو ضروری قرار دے رہے ہیں اور دوسرے میں اسے فقط "یاد" کے برابر بنا رہے ہیں۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ محبوبہ کا آپ کو یاد رکھنا اس کے ساتھ کے برابر ہو؟ شعر پر نظرثانی کی سخت ضرورت ہے۔
مان میرا کہنا ورنہ تو بہت پچتائے گا
جان کر فرض ایک یہ ہی بات سمجھاتا ہوں میں
کون سی بات منوا رہے ہیں آپ؟ پورا شعر الفاظ کا ایک مجموعہ ہے لیکن شعر کے تقاضے پورے نہیں کرتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ شعر پھر سے کہنا چاہئے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟
بال ہیں اُلجھے ہوئے میرے پرانا ہے لِباس
دیکھ کر حالات اپنے اب تو شرماتاہوں میں
شعر موزوں تو ضرور ہے لیکن اس کو غزل کا معنی آفریں شعر نہیں کہہ سکتے ہیں۔ اس میں کوئی بات ایسی نہیں ہے جس کو قابل ذکر کہا جاسکے۔ اگر غزل سے اسے نکال دیں تو بہتر ہوگا یا پھر اسے دوبارہ سوچئے۔ گستاخی معاف!
بات کا انداز تیرا تیر دل پرہے چلے
ہاں بناوٹ گفتگو میں تیری اب پاتا ہوں میں
معاف کیجئے گا یہ شعر بھی پورا کا پورا بھرتی کا ہے۔ معلوم نہیں کس طرح اس کا جواز پیدا کیا جائے۔ اگر چھوٹا منھ بڑی بات نہ سمجھیں تو عرض کروں گی کہ اس غزل کو پھر سے سوچیں۔ ممکن ہے کہ کام بن جائے۔
تم ذرا مجھ غم کے مارے کی کہانی تو سنو
ہاں نواز اِس طرح اب تسکین اور پاتاہوں میں   
پہلے مصرع اچھا ہے لیکن دوسرے نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔ آپ کیا صرف یہ کہہ کر سکون محسوس کرتے ہیں کہ میرے غم کی داستان تو سن لیجئے؟ اگر محبوبہ بات سننے پر تیار ہوتی اور مصرع ایسا ظاہر بھی کرتا تو آپ سکون کی بات کرسکتے تھے۔ اس وقت تو دونوں مصرعوں میں ربط مفقود ہے۔
گزارش ہے کہ میری کسی بات کا برا نہ مانئے گا۔ جیسا میں نے محسوس کیا ہے وہ لکھ دیا۔ گستاخی ہوگئی ہو تو معذرت خواہ ہوں۔

مہر افروز

غیرحاضر nawaz

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 368
جواب: hath main hath Ghazal
« Reply #2 بروز: ستمبر 23, 2017, 06:21:41 صبح »
محترمہ مہر افروز سلامِ مسنون
اپنی غزل پر آپ کا ناقِدانہ اوربھر پور تبصرہ
پڑھا جومیرے لئے باعث ِ اضافہ شعر فہمی ہے
جن شعری معائب کی جانب  توجہ دلائی ہے اُن
کی اصلاح ضرور کروں گا۔۔

آئندہ بھی اپنی قیمتی آرا سے نوازتی رہیں  شکریہ

      دعا گو         نواز

 

Copyright © اُردو انجمن