اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: کیوں ہو  (پڑھا گیا 80 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر kafilahmed

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 389
کیوں ہو
« بروز: ستمبر 20, 2017, 08:53:34 شام »
تمام احباب کی خدمت میں ہدیہ سلام اس امید کے ساتھ سب بخیر ہونگے۔

ایک طرحی مشاعرہ کے لئے لکھی گئی غزل آپ کی بصارتوں کی نذر۔ تبصرہ اب بھی کارآمد ہوگا۔

مگن  تیری محبت میں یہ دلِ ناتواں کیوں ہو
کسی  بوسیدہ کشتی کا بھروسہ  بادباں کیوں ہو

بنانا قبر گر میری اسے بے نام رکھنا تم
مری خاطر بھلا دنیا میں اک آہ و فغاں کیوں ہو

یہ کیوں لائے ہو تم شمشیر ارے ابرو ہی کافی تھا
ترے دامن پہ میرے خون کا کوئی نشاں کیوں ہو

کسی کے عشق میں پڑ کر میں  بازی  ہار آیا ہوں
یہ پوچھوں گا فرشتہ سے بتا اب امتحاں کیوں ہو

ہمیں معلوم برسوں سے ہمیں جانا ہے بالآخر
نہیں یہ سوچتے لیکن زمیں پہ آشیاں کیوں ہو

کھلا ہے بعد مدت کے کفیل اب   راز کچھ  یوں بھی
"نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو"

طالبِ دعا

[/b][/size]


مرے دوستوں نے مجھ کو آخر ہے کیا دیا
 محبت، خلوص، پیار،  باقی  ہے  کیا  بچا

غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • ******
  • تحریریں: 6238
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar
جواب: کیوں ہو
« Reply #1 بروز: ستمبر 21, 2017, 09:36:34 صبح »
تمام احباب کی خدمت میں ہدیہ سلام اس امید کے ساتھ سب بخیر ہونگے۔

ایک طرحی مشاعرہ کے لئے لکھی گئی غزل آپ کی بصارتوں کی نذر۔ تبصرہ اب بھی کارآمد ہوگا۔

مگن  تیری محبت میں یہ دلِ ناتواں کیوں ہو
کسی  بوسیدہ کشتی کا بھروسہ  بادباں کیوں ہو

بنانا قبر گر میری اسے بے نام رکھنا تم
مری خاطر بھلا دنیا میں اک آہ و فغاں کیوں ہو

یہ کیوں لائے ہو تم شمشیر ارے ابرو ہی کافی تھا
ترے دامن پہ میرے خون کا کوئی نشاں کیوں ہو

کسی کے عشق میں پڑ کر میں  بازی  ہار آیا ہوں
یہ پوچھوں گا فرشتہ سے بتا اب امتحاں کیوں ہو

ہمیں معلوم برسوں سے ہمیں جانا ہے بالآخر
نہیں یہ سوچتے لیکن زمیں پہ آشیاں کیوں ہو

کھلا ہے بعد مدت کے کفیل اب   راز کچھ  یوں بھی
"نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو"

طالبِ دعا

[/b][/size]

مکرم بندہ جناب کفیل صاحب: سلام مسنون
ایک مدت کے بعد آج پھر آپ کو اردوانجمن میں غزل سرا دیکھ کر دلی مسرت سے دوچار ہوا۔ آپ ان چند دوستوں میں ہیں جن سے  انجمن کی آبرو قائم ہے۔ گزارش ہے کہ آتے رہئے۔ یہاں کبھی طرحی مشاعرے ہوا کرتے تھے لیکں اب : وہ دن ہوا ہوئے کہ پسینہ گلاب تھا! میرا اور انجمن کا شکریہ قبول کیجئے۔
اپ کی غزل پر سب سے پہلے داد حاضر ہے۔ غالب کے مصرع پر طرحی غزل کہنا آسان کام نہیں ہے۔ مشاہیر کی غزلوں پر طرحی غزل کہنے میں ہر قدم پر خدشہ رہتا ہے کہ صراط مستقیم سے پائوں بھٹک نہ جائے۔ پھر اس پر طرہ یہ کہ ہر شعر پر اس شاعر کا کوئی شعر سامنے آکر کھڑا ہوجاتا ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ اگر کوشش نہیں کی جائے گی تو پھر کام کیسے چلے گا۔ آپ کی ہمت کی مزید داد حاضر ہے! اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
غزل کا عمومی رنگ اچھا ہے۔ کہیں کہیں آپ کی نگاہ ذرا سی چوک گئی ہے۔ اگر گستاخی نہ ہو تو ان مقامات کی نشاندہی کردوں۔ ایسی سہو ہر ایک سے ہوسکتی ہے اور ہوتی ہے۔ چند باتیں عرض کرنے کی جسارت کررہا ہوں۔
مگن  تیری محبت میں یہ دلِ ناتواں کیوں ہو
کسی  بوسیدہ کشتی کا بھروسہ  بادباں کیوں ہو
یہ شعر کافی وضاحت کا طلبگار ہے۔ اول تو پہلےمصرع کو باوزن کرنے کے لئے "دل" کی ل پر تشدید فرض کرنی پڑتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہاں سہوکتابت ہے۔ کوئی اور ترکیب ہوگی "دل ناتواں" کے بجائے۔ دوسرے یہ کہ دونوں مصرعوں کا ربط واضح نہین ہوا۔ اگر آپ وضاحت کردیں تو عنایت ہوگی۔ شکریہ۔ل
بنانا قبر گر میری اسے بے نام رکھنا تم
مری خاطر بھلا دنیا میں اک آہ و فغاں کیوں ہو
دوسرے مصرع میں "اک" بھرتی کا ہے کیونکہ اس کے بغیر ہی مصرع نہ صرف پورا ہے بلکہ بہتر ہے۔اسے آسانی سے یوں کہا جاسکتا ہے:
زمانہ میں مری خاطر بھلا آہ وفغاں کیوں ہو
یہ کیوں لائے ہو تم شمشیر ارے ابرو ہی کافی تھا
ترے دامن پہ میرے خون کا کوئی نشاں کیوں ہو
اس شعر میں شتر گربہ کا نقص ہے۔ پہلے مصرع میں "تم" اور دوسرے میں "ترے" کہنا درست نہیں ہے۔ یا تو محبوبہ کو تم کہئے یا تو۔ گویا یہ نقص آسانی سے دور ہوسکتا ہے۔ ساتھ ہی اگر پہلے مصرع کے پر نظر ثانی کرکے اس کی بندش چست اور بہتر کردی جائے تو ہرج نہیں ہے۔
کسی کے عشق میں پڑ کر میں  بازی  ہار آیا ہوں
یہ پوچھوں گا فرشتہ سے بتا اب امتحاں کیوں ہو
اول توکسی سے عشق کے بارے میں پوچھ گحھ کیوں ہوگی؟ یہ تصور ہی عجیب وغریب ہے۔ دوسرے اگر آپ سوال کریں گے تو فرشتہ سے کیوں کریں گے۔ پوچھ تاچھ کرنے والا تو اللہ ہوگا۔ یہ مضمون نظر ثانی چاہتا ہے۔
ہمیں معلوم برسوں سے ہمیں جانا ہے بالآخر
نہیں یہ سوچتے لیکن زمیں پہ آشیاں کیوں ہو
کیا آپ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر زمین پر ہمیں پیدا کیا جائے تو کسی قسم کا گھر نہ بنایا جائے؟ تو بھائی پھر وہاں ہم کیسے رہیں؟ کچھ روشنی ڈالئے۔ شکریہ۔
کھلا ہے بعد مدت کے کفیل اب   راز کچھ  یوں بھی
"نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو"
 "اب راز کچھ یوں بھی" بھرتی کا ٹکڑا ہے۔ اس کی اصلاح ضروری معلوم ہوتی ہے۔ اگر یہاں تقاضائے وفا یا اسی قبیل کی ترکیب آجاتی تو کیسا رہتا؟ ایسا میرا خیال ہے۔
اگر کوئی بات ناگوار خاطر گزری ہے تو معذرت خواہ ہوں۔ مقصد صرف اپنے خیالات کا اظہار ہے جو غلط بھی ہوسکتے ہیں۔ بندہ نوازی کا شکریہ۔

سرورعالم راز


]



 

Copyright © اُردو انجمن