اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: پہلُو میں ہم نے یار کے کیا کچھ نہیں کیا  (پڑھا گیا 146 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر Dr. Ahmad Nadeem Rafi

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 101
پہلُو میں ہم نے یار کے کیا کچھ نہیں کیا
« بروز: ستمبر 27, 2017, 07:06:18 شام »
محترم قارئین

ایک غزل آپ کے ذوقِ مطالعہ کی نذر - آپ کی قیمتی آراء کا انتظار رہے گا -احمد ندیم رفیع

                       غزل

پہلُو  میں  ہم  نے یار کے کیا کچھ نہیں کیا
اپنی  اَنا  کو  مار  کے  کیا  کچھ  نہیں  کیا

کب بیٹھنے دیا ہے تقاضوں نے عشق کے!
زلفِ  دوتا  سنوار  کے  کیا  کچھ  نہیں کیا

چھانی  ہے  خاکِ  دشتِ  تمنّا  کہاں  کہاں! 
ہم  نے تجھے پکار  کے کیا  کچھ نہیں کیا

سب دیکھتےہیں تجھکو حسَد کی نگاہ سے
تیری   نظر  اتار  کے  کیا  کچھ  نہیں  کیا

صبحِ  نشاط  ہم  سے  خفا  تھی، خفا رہی
شب  ہاۓ غم گزار کے کیا  کچھ  نہیں کیا

لوٹے  ہیں  روز کوچۂ  جاناں سے نا مراد
سائل کا روپ دھار کے  کیا  کچھ  نہیں کیا

جیتی  تو  ہم  نے  پیار  کی  بازی  مگر  ندیم
جو کچھ بھی تھا وہ ہار کے کیا کچھ نہیں کیا

          احمد ندیم رفیع   



غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3214
جواب: پہلُو میں ہم نے یار کے کیا کچھ نہیں کیا
« Reply #1 بروز: ستمبر 28, 2017, 02:14:47 صبح »
محترم قارئین

ایک غزل آپ کے ذوقِ مطالعہ کی نذر - آپ کی قیمتی آراء کا انتظار رہے گا -احمد ندیم رفیع

                       غزل

         

جناب محترم احمد ندیم رفیع صاحب
سلام عرض ہے

ماشااللہ آپ جلوہ افروز ہوئے اردو انجمن میں بہار آگئی ، آپ کا کلام بہت نفیس لطیف دلکش باتوں کو لیے دل کو چھوتا ہے ، آپ ماشااللہ اساتذہ کی صف میں کھڑے ہیں یہ کلام بھی دل کو چھو گیا بہت ہی دھیمے دھیمے لہجے میں دل کی باتیں آپ کہہ گئے میری جانب سے ڈھروں داد آپ کی نذر ، یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ اردو انجمن کی ایک روایت ہے کہ صرف داد نہیں دی جائے بلکہ کچھ سیکھا سکھایا جائے اسی روایت کو سامنے رکھتے ہوئے دو چار باتیں ذہن میں آئیں سوچا کیوں نہ تبادلہ خیال کر کے محفل کو گرمایا جائے اور دیگر احباب کو بھی اس خوبصورت نگارش پر اظہارِ خیال کے لیے مدعو کیا جائے
آپ کی اجازت سے


         
اقتباس
پہلُو  میں  ہم  نے یار کے کیا کچھ نہیں کیا
اپنی  اَنا  کو  مار  کے  کیا  کچھ  نہیں  کیا
         

ماشااللہ پہلا مصرع بہت تجسُس آمیز ہے قاری پُراشتیاق نگاہوں سے دوسرے مصرعے کی جانب آتا ہے تو تردد میں پڑ جاتا ہے کہ ایسا کیا کرنا پڑا یار کے پہلو میں جہاں انا کو مارنا پڑا :) یقیناً یار کے پہلو میں پیار محبت کی پینگیں چڑھائی جاتی ہیں راز و نیاز کی باتیں سنی سنائی جاتی ہیں دل لگی کی جاتی ہے گدگدایا جاتا ہے شرمایا جاتا ہے ہنسا مسکرایا جاتا ہے دنیا حسین لگنے لگتی ہے وغیرہ وغیرہ ، مگر انا کو مارنے کی ضرورت پڑ جائے وہ بھی یار کے پہلو میں تو یہاں قاری کو مشکوک جھلکیاں تصورات کی دنیا میں ہنگامہ آرائی کرتی نظر آتی ہیں اور قیاس آرائی پر مجبور کرتی ہیں جس سے قاری سمجھوتا کر کے خاموش ہو جانے کے لیے ہر گز تیار نہیں ہوتا اور بلآخر پوچھنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر ایسا کیا کرنا پڑا یار کے پہلو میں کہ انا کو مارنا پڑا :) امید ہے آپ میری مشکل سمجھ رہے ہوں گے 

اب یہ بات آپ ہی بتائیے تاکہ کچھ سیکھنے کو ملے

 

       
اقتباس
کب بیٹھنے دیا ہے تقاضوں نے عشق کے!
زلفِ  دوتا  سنوار  کے  کیا  کچھ  نہیں کیا

 اچھا شعر ہے داد قبول فرمائیے

چھانی  ہے  خاکِ  دشتِ  تمنّا  کہاں  کہاں! 
ہم  نے تجھے پکار  کے کیا  کچھ نہیں کیا

سب دیکھتےہیں تجھکو حسَد کی نگاہ سے
تیری   نظر  اتار  کے  کیا  کچھ  نہیں  کیا

صبحِ  نشاط  ہم  سے  خفا  تھی، خفا رہی
شب  ہاۓ غم گزار کے کیا  کچھ  نہیں کیا

لوٹے  ہیں  روز کوچۂ  جاناں سے نا مراد
سائل کا روپ دھار کے  کیا  کچھ  نہیں کیا
       
جیتی  تو  ہم  نے  پیار  کی  بازی  مگر  ندیم
جو کچھ بھی تھا وہ ہار کے کیا کچھ نہیں کیا


باقی یہ سارے اشاعر بہت دلکش ہیں ماشااللہ ڈھیروں داد آپ کی نذر ، آپ سے گزارش ہے کہ ذرا جلد تشریف لایا کیجیے تاکہ آپ سے استفادہ زیادہ سے زیادہ کیا جا سکے ، آپ کی خوبصورت شخصیت سے اردو انجمن آباد رہے
اللہ آپ کو شاد و آباد رکھے دونوں جہانوں کی عزّتیں عطا فرمائے
کوئی بات ناگوار گزرے تو میری نالائقی سمجھ کر درگزر فرمائیے
اپنا بہت خیال رکھیے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے
دعاگو
محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • ******
  • تحریریں: 6238
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar
جواب: پہلُو میں ہم نے یار کے کیا کچھ نہیں کیا
« Reply #2 بروز: ستمبر 28, 2017, 05:48:49 شام »
 
عزیز مکرم ندیم صاحب: سلام مسنون
آپ کویہاں غزل سرا دیکھا اور وہ بھی ایک منفرد انداز کے ساتھ تو دلی مسرت سے دوچار ہوا۔ گاہے گاہے یہاں آجایا کیجئے۔ شکریہ۔
آپ کے کلام میں عام طور پر اشاروں کنایوں کا اہتمام ہوتا ہے۔ اس غزل میں بھی ایسا ہی ہے۔ ایک اچھی کاوش پر داد حاضر ہے۔ اگر بار خاطر نہ ہو تو دو ایک باتیں عرض کروں؟
------------------------------
پہلُو  میں  ہم  نے یار کے کیا کچھ نہیں کیا
اپنی  اَنا  کو  مار  کے  کیا  کچھ  نہیں  کیا
پہلوئے یار میں بیٹھنا بجائے خود عاشق کی کامرانی کی نشانی ہے۔ لیکن اس کا انا کے مارنے سے کیا تعلق ہے اس جانب کوئی اشارہ نہیں ملتا ہے۔ کوئی تاویل تو یقینا ہوسکتی ہے لیکن وہ کتنی صائب اور قابل اعتنا ہوگی اس کا علم نہیں۔ مدد کی گزارش ہے۔ شکریہ۔
کب بیٹھنے دیا ہے تقاضوں نے عشق کے!
زلفِ  دوتا  سنوار  کے  کیا  کچھ  نہیں کیا
غالبا محبوبہ کی زلف سنوارنا عشق کے تقاضوں میں شامل ہے۔ اس خوشگوار شغل کے بعد آپ نے اور کیا کیا، یا نہیں کیا؟ شعر میں ابہام کافی ہے۔ اگر وضاحت فرمادیں تو عنایت ہوگی۔
چھانی  ہے  خاکِ  دشتِ  تمنّا  کہاں  کہاں! 
ہم  نے تجھے پکار  کے کیا  کچھ نہیں کیا
خوب کہا ہے۔ داد قبول کیجئے۔
سب دیکھتےہیں تجھکو حسَد کی نگاہ سے
تیری   نظر  اتار  کے  کیا  کچھ  نہیں  کیا
آپ نے محبوبہ کی نظر اتاری ہے اور لوگ اس کو حسد کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں؟ یہ بات کچھ عجیب سی لگی۔ دوسرا مصرع اپنے معنی مجھ پر نہ کھول سکا اور اسکا پہلے مصرع سے تعلق بھی صاف نہ ہوا۔ اگر کچھ مددکرسکیں تو مہربانی ہوگی۔
صبحِ  نشاط  ہم  سے  خفا  تھی، خفا رہی
شب  ہاۓ غم گزار کے کیا  کچھ  نہیں کیا
ایک تو شب ہائے غم کی سختیاں اور اسکے بعد بھی آپ آزمائشوں کا شکار رہے پھر بھی صبح نشاط کا دامن ہاتھ نہ آسکا۔ یہ تو خیرہے لیکن "خفا تھی، خفا رہی" سے تاثرملتا ہے کہ شب غم گزارنے سے یہ خفگی کم ہوسکتی تھی لیکن نہ ہوئی۔ "کیاکچھ نہیں کیا" کس طرح یہاں موثر ہے ؟ردیف سے معنی صاف ہونے کے بجائے کیا الجھ رہے ہیں؟ یا میں ہی غلط سمجھ رہا ہوں؟
لوٹے  ہیں  روز کوچۂ  جاناں سے نا مراد
سائل کا روپ دھار کے  کیا  کچھ  نہیں کیا
بہت خوب۔ یہاں ردیف بہت لطف دے رہی ہے۔ داد حاضر ہے۔
جیتی  تو  ہم  نے  پیار  کی  بازی  مگر  ندیم
جو کچھ بھی تھا وہ ہار کے کیا کچھ نہیں کیا
"مگر" یہ کہہ رہا ہے کہ سب کچھ ہار کے پیار کی بازی ہم نے جیت تو لی لیکن کچھ جیسے کمی رہ گئی ہے۔ گویا شعر کا مفہوم پورا نہیں ہوا ہے۔ واللہ اعلم۔
باقی راوی سب چین بولتا ہے۔

سرورعالم راز


]



غیرحاضر Afroz Mehr

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 238
جواب: پہلُو میں ہم نے یار کے کیا کچھ نہیں کیا
« Reply #3 بروز: ستمبر 29, 2017, 08:21:57 صبح »
محترم قارئین

ایک غزل آپ کے ذوقِ مطالعہ کی نذر - آپ کی قیمتی آراء کا انتظار رہے گا -احمد ندیم رفیع

                       غزل

پہلُو  میں  ہم  نے یار کے کیا کچھ نہیں کیا
اپنی  اَنا  کو  مار  کے  کیا  کچھ  نہیں  کیا

کب بیٹھنے دیا ہے تقاضوں نے عشق کے!
زلفِ  دوتا  سنوار  کے  کیا  کچھ  نہیں کیا

چھانی  ہے  خاکِ  دشتِ  تمنّا  کہاں  کہاں! 
ہم  نے تجھے پکار  کے کیا  کچھ نہیں کیا

سب دیکھتےہیں تجھکو حسَد کی نگاہ سے
تیری   نظر  اتار  کے  کیا  کچھ  نہیں  کیا

صبحِ  نشاط  ہم  سے  خفا  تھی، خفا رہی
شب  ہاۓ غم گزار کے کیا  کچھ  نہیں کیا

لوٹے  ہیں  روز کوچۂ  جاناں سے نا مراد
سائل کا روپ دھار کے  کیا  کچھ  نہیں کیا

جیتی  تو  ہم  نے  پیار  کی  بازی  مگر  ندیم
جو کچھ بھی تھا وہ ہار کے کیا کچھ نہیں کیا

          احمد ندیم رفیع   


مکرمی و محترمی جناب ندیم رفیع صاحب: سلام علیکم!
واہ واہ! کیا ہی دلکش غزل عنایت کی ہے آپ نے۔ اس میں نئی غزل کی جھلک بھی ہے اور پرانی غزل کی پاسداری بھی۔ بہت سی باتیں بین السطور چھوڑ دی گئی ہیں جو قاری کے لطف کو دوبالا کرتی ہیں۔ پڑھ کر بہت لطف آیا۔ بہت شکریہ۔اللہ کرے زور قلم اور زیادہ! شکریہ کے ساتھ دلی داد حاضر ہے۔
محترمی جناب خیال صاحب اور مکرمی جناب سرورعالم راز صاحب کے تبصروں نے کوئی نکتہ نہیں چھوڑا ہے جس پر گفتگو کی جائے۔ آپ کی وضاحتوں کا انتظار ہے۔ اسی طرح مجھ جیسے مبتدی شعر وادب کی جزویات سے واقف ہوتے ہیں۔ آپ سب کا شکریہ۔

مہر افروز


غیرحاضر Dr. Ahmad Nadeem Rafi

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 101
جواب: پہلُو میں ہم نے یار کے کیا کچھ نہیں کیا
« Reply #4 بروز: اکتوبر 01, 2017, 06:01:51 شام »
محترم اسماعیل اعجاز صاحب
سلام مسنون
غزل آپ کو پسند  آئی اور جس انداز میں آپ نے اپنی راۓ کا اظہار کیا ہے  ، میں آپ کا جے حد شکر گزار ہوں -میں اردو ادب کا ایک ادنی سا طالب علم ہوں- اپنے آپ کو اساتذہ کی پاؤں کی خاک بھی نہیں سمجھتا - بہر حال  آپ کا تبصرہ ہمیشہ دلچسپ اور فکر آمیز ہوتا ہے- آپ نے مطلع کا بارے میں جو سوال  اٹھایا ہے، اپنی جگہ درست ہے- لیکن بات یہ ہے  کہ حسن اگر مغرور ہے تو عشق مجبور -تو پھر عشق میں انا اور خودداری کا کیا  عمل دخل ! عشق میں انا ہی نہیں مارنی پڑتی بلکہ  کوچۂ رقیب میں سر کے بل جا کر ذلیل  بھی ہونا پڑتا ہے- سر بازار "تھیا تھیا" کر کے ناچنا بھی پڑتا ہے-  اور اگر معشوق پاؤں دابنے کے لئے کہے تو اپنی حیثیت اور مرتبے کو پس پشت ڈال کر  خوشی خوشی پاؤں بھی دبانے پڑتے ہیں.

محترم  سرور عالم راز صاحب
اس غزل نے آپ کی توجہ حاصل کی -یوں سمجھیے کہ  پیسہ وصول ہو گیا  - مطلع کے بارے آپ نے  جو سوال اٹھاۓ ہیں میں نے اس حوالے سے  اعجاز صاحب کو مخاطب کرتے ہوۓ کچھ معروضات پیش  کی ہیں- اگر سچ پوچھیے تو اس غزل کا مطلع کچھ یوں تھا-

پہلو میں ہم نے یار کے کیا کچھ نہیں کیا
زلف دوتا  سنوار  کے  کیا  کچھ نہیں کیا

پھر یہ سوچ کر بدل دیا کہ اس شعر سے قاری کا توسن  تخیل  بے لگام بھی ہو سکتا ہے -  اس بارے میں آپ کی راۓ کا انتظار  رہے گا-

کب بیٹھنے دیا ہے تقاضوں نے عشق کے!
زلفِ  دوتا  سنوار  کے  کیا  کچھ  نہیں کیا

زلف دوتا کا سنور جانا  معشوق کی خوشنودی اور عشق میں کامیابی کی علامت ہے- لیکن امتحان یہاں پر ختم نہیں ہو جاتا - وہ شادی شدہ حضرات جنہوں نے عشق کیا اور پھر شادی بھی وہیں کی اس بات کی گواہی دیں گے کہ عشق کا اصل امتحان تو وصال یار کے بعد شروع ہوتا ہے- خیر یہ بات تو میں نے  محض تفنن طبع کی لئے لکھ دی ہے- ورنہ کسی  عاشق کا مذاق اڑانا مقصود نہیں -

سب دیکھتےہیں تجھکو حسَد کی نگاہ سے
تیری   نظر  اتار  کے  کیا  کچھ  نہیں  کیا

اس شعر پر آپ کا نکتۂ نظر بجا ہے - کوشش کروں گا کہ کچھ بہتری لا سکوں- پہلے مصرع کچھ یوں تھا-

تکتا ہے کیوں زمانہ حسد کی نگاہ سے - شاید یہی بہتر تھا-

صبحِ  نشاط  ہم  سے  خفا  تھی، خفا رہی
شب  ہاۓ غم گزار کے کیا  کچھ  نہیں کیا

مجھے اس شعر میں کوئی جھول نظر نہیں آ رہا -البتہ شعر کوئی بھی ہو ، بہتری کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے --

جیتی  تو  ہم  نے  پیار  کی  بازی  مگر  ندیم
جو کچھ بھی تھا وہ ہار کے کیا کچھ نہیں کیا

میرے خیال میں یہ بھی سیدھا سادہ سا  شعر ہے- پیار میں سب کچھ ہار جانا کامیابی کی ضمانت نہیں بلکہ اور بھی بہت سے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں-

محترمہ افروز مہر صاحبہ

غزل کی پسندیدگی  کا بہت بہت شکریہ - میں آپ کے تبصرے ہمیشہ بڑے شوق سے پڑھتا ہوں- میرے لئے یہ ہی بہت اعزاز کی بات ہے کہ میری شاعری کو آپ کی توجہ حاصل ہوئی - خدا آپ کو خوش و خرم رکھے -

مخلص

احمد ندیم رفیع

غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • ******
  • تحریریں: 6238
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar
جواب: پہلُو میں ہم نے یار کے کیا کچھ نہیں کیا
« Reply #5 بروز: اکتوبر 02, 2017, 03:42:01 شام »
محترم اسماعیل اعجاز صاحب
سلام مسنون
غزل آپ کو پسند  آئی اور جس انداز میں آپ نے اپنی راۓ کا اظہار کیا ہے  ، میں آپ کا جے حد شکر گزار ہوں -میں اردو ادب کا ایک ادنی سا طالب علم ہوں- اپنے آپ کو اساتذہ کی پاؤں کی خاک بھی نہیں سمجھتا - بہر حال  آپ کا تبصرہ ہمیشہ دلچسپ اور فکر آمیز ہوتا ہے- آپ نے مطلع کا بارے میں جو سوال  اٹھایا ہے، اپنی جگہ درست ہے- لیکن بات یہ ہے  کہ حسن اگر مغرور ہے تو عشق مجبور -تو پھر عشق میں انا اور خودداری کا کیا  عمل دخل ! عشق میں انا ہی نہیں مارنی پڑتی بلکہ  کوچۂ رقیب میں سر کے بل جا کر ذلیل  بھی ہونا پڑتا ہے- سر بازار "تھیا تھیا" کر کے ناچنا بھی پڑتا ہے-  اور اگر معشوق پاؤں دابنے کے لئے کہے تو اپنی حیثیت اور مرتبے کو پس پشت ڈال کر  خوشی خوشی پاؤں بھی دبانے پڑتے ہیں.

محترم  سرور عالم راز صاحب
اس غزل نے آپ کی توجہ حاصل کی -یوں سمجھیے کہ  پیسہ وصول ہو گیا  - مطلع کے بارے آپ نے  جو سوال اٹھاۓ ہیں میں نے اس حوالے سے  اعجاز صاحب کو مخاطب کرتے ہوۓ کچھ معروضات پیش  کی ہیں- اگر سچ پوچھیے تو اس غزل کا مطلع کچھ یوں تھا-

پہلو میں ہم نے یار کے کیا کچھ نہیں کیا
زلف دوتا  سنوار  کے  کیا  کچھ نہیں کیا

پھر یہ سوچ کر بدل دیا کہ اس شعر سے قاری کا توسن  تخیل  بے لگام بھی ہو سکتا ہے -  اس بارے میں آپ کی راۓ کا انتظار  رہے گا-

کب بیٹھنے دیا ہے تقاضوں نے عشق کے!
زلفِ  دوتا  سنوار  کے  کیا  کچھ  نہیں کیا

زلف دوتا کا سنور جانا  معشوق کی خوشنودی اور عشق میں کامیابی کی علامت ہے- لیکن امتحان یہاں پر ختم نہیں ہو جاتا - وہ شادی شدہ حضرات جنہوں نے عشق کیا اور پھر شادی بھی وہیں کی اس بات کی گواہی دیں گے کہ عشق کا اصل امتحان تو وصال یار کے بعد شروع ہوتا ہے- خیر یہ بات تو میں نے  محض تفنن طبع کی لئے لکھ دی ہے- ورنہ کسی  عاشق کا مذاق اڑانا مقصود نہیں -

سب دیکھتےہیں تجھکو حسَد کی نگاہ سے
تیری   نظر  اتار  کے  کیا  کچھ  نہیں  کیا

اس شعر پر آپ کا نکتۂ نظر بجا ہے - کوشش کروں گا کہ کچھ بہتری لا سکوں- پہلے مصرع کچھ یوں تھا-

تکتا ہے کیوں زمانہ حسد کی نگاہ سے - شاید یہی بہتر تھا-

صبحِ  نشاط  ہم  سے  خفا  تھی، خفا رہی
شب  ہاۓ غم گزار کے کیا  کچھ  نہیں کیا

مجھے اس شعر میں کوئی جھول نظر نہیں آ رہا -البتہ شعر کوئی بھی ہو ، بہتری کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے --

جیتی  تو  ہم  نے  پیار  کی  بازی  مگر  ندیم
جو کچھ بھی تھا وہ ہار کے کیا کچھ نہیں کیا

میرے خیال میں یہ بھی سیدھا سادہ سا  شعر ہے- پیار میں سب کچھ ہار جانا کامیابی کی ضمانت نہیں بلکہ اور بھی بہت سے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں-

محترمہ افروز مہر صاحبہ

غزل کی پسندیدگی  کا بہت بہت شکریہ - میں آپ کے تبصرے ہمیشہ بڑے شوق سے پڑھتا ہوں- میرے لئے یہ ہی بہت اعزاز کی بات ہے کہ میری شاعری کو آپ کی توجہ حاصل ہوئی - خدا آپ کو خوش و خرم رکھے -

مخلص

احمد ندیم رفیع


عزیز مکرم ندیم صاحب: سلام مسنون
جواب خط کے لئے ممنون ہوں۔ اگر سوالات کا جواب مل جائے تو اور کچھ ہو نہ ہو کم سے کم اپنی رائے پر شاعر کی رائے تو معلوم ہو ہی جاتی ہے۔
مطلع پر آپ کا خیال درست ہے کہ اگر ترمیم شدہ صورت بعینہ چھوڑ دی جاتی تو اس میں ذم کا پہلو نکالنا مشکل نہ ہوتا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ موجودہ صورت میرے خیال میں نگاہ ثانی چاہتی ہے۔ ویسے جو آپ بہتر سمجھیں۔ میں اس خیال کا ہوں کہ شعر پر شاعر کے وضاحتی حاشیہ کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے۔ بلکہ وہ اپنی جگہ مکمل ہونا چاہئے، یہ اور بات ہے کہ قاری کو ذرا سا سوچنا پڑجائے۔
دوسرے اشعار پر آپ کے خیال معلوم ہوئے۔ میں اپنا موقف اور تاثر لکھ ہی چکا ہوں۔ باقی راوی سب چین بولتا ہے۔

سرورعالم راز


]



 

Copyright © اُردو انجمن