اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: کہاں ہے کوئی تیرے پیکر سی صورت  (پڑھا گیا 89 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3214
کہاں ہے کوئی تیرے پیکر سی صورت
« بروز: ستمبر 28, 2017, 02:20:14 صبح »

قارئین کرام آداب عرض ہیں ایک غیر مردّف کلام آپ سبھی کرم فرماؤں کی نذر
عرض کیا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شرافت شرارت نزاکت لطافت
کہاں ہے کوئی تیرے پیکر سی صورت

زمانہ ہوا آئینہ دیکھے اب تو
’’ نہیں ہم کو ملتی گھڑی بھر کی فرصت ‘‘

مری خامُشی مصلحت کے سبب ہے
وگرنہ کسے شوق رکّھے مُروّت

مجھے چھوڑ کر تم یوں چل تو دیے ہو
لیے جاؤ الفت پڑے گی ضرورت

ہم اک دوسرے پر مرے جا رہے ہیں
مگر کہہ رہے ہیں نہیں ہے محبت

تمہیں بات کرنا گوارہ نہیں ہے
ہمیں تم سے کوئی نہیں ہےشکایت

کوئی آکے ان کے یہ انداز دیکھے
ہمیں سے محبت ہمیں سے عداوت

خیالؔ اپنی الفت کا اظہار کر دو
جہاں ہو سکے تم کو اس کی سہولت

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ کی محبتوں کا طلبگار

اسماعیل اعجاز خیالؔ


محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

غیرحاضر Afroz Mehr

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 238
جواب: کہاں ہے کوئی تیرے پیکر سی صورت
« Reply #1 بروز: ستمبر 29, 2017, 06:07:40 شام »

محترمی جناب خیال صاحب: سلام علیکم
آپ کی غزل سے ہمیشہ کی طرح فیضیاب ہوئی۔ غیر مردف غزلیں بہت کم نظر آتی ہیں۔ شاید اس لئے کہ اسے کہنا نسبتا مشکل ہے۔ آپ کے کلام میں اکثر نئی باتیں اور جدت اورانفرادیت نظر آتی ہے۔ چنانچہ غیر مردف غزل بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہوئی۔ غزل کی داد قبول کیجئے۔ شکریہ۔ اس کا عام رنگ اچھا ہے۔ کہیں کہیں اس میں سامنے کے مضامین کا رنگ ابھر آیا ہے جو کوئی عیب نہیں ہے۔ اساتذہ کب اس کیفیت سے بچ سکے ہیں۔ اتنی اچھی کاوش پر داد کے ساتھ مبارکباد بھی پیش کی جانی چاہئے۔ سو حاضر ہے۔ دو ایک باتیں ذہن میں آئیں جو عرض کرنے کی اجازت چاہتی ہوں۔
--------------------
شرافت شرارت نزاکت لطافت
کہاں ہے کوئی تیرے پیکر سی صورت
مطلع میں "صورت" چہرہ یا شکل کے معنوں میں نہیں باندھی گئی ہے بلکہ "مثال" کے معنے میں ہے، یعنی تیرے پیکر کی سی مثال کہیں نہیں ہے۔ البتہ یہ بات غور طلب ہے کہ شرافت اور شرارت پیکر کا حصہ نہیں ہوسکتے ہیں۔ لہذہ ان کی جگہ آپ کو کچھ اور کہنا ہوگا۔ کیا خیال ہے آپ کا؟
زمانہ ہوا آئینہ دیکھے اب تو
’’ نہیں ہم کو ملتی گھڑی بھر کی فرصت ‘‘
معاف کیجئے گا۔ یہ شعر بالکل سپاٹ اور بے اثر لگا۔ غزل کی کوئی کیفیت بھی اس سے ظاہر نہیں ہورہی ہے۔ باقی آپ بہتر جانتے ہیں۔
مری خامُشی مصلحت کے سبب ہے
وگرنہ کسے شوق رکّھے مُروّت
دوسرا مصرع اصلاح کا شدت سے طلبگار ہے۔ "کسے شوق رکھے مروت" نہ صرف بناوٹ میں غیر معروف ہے بلکہ معنی آفرینی میں بھی لنگڑا رہا ہے۔ کیا اسے یوں نہیں کر سکتے ؟
وگرنہ نہیں یہ رہین مروت؟
یا ایسی ہی کوئی اور شکل۔
مجھے چھوڑ کر تم یوں چل تو دیے ہو
لیے جاؤ الفت پڑے گی ضرورت
خیال تو اچھا ہے لیکن دوسرا مصرع کچھ "مول بھائو" کا اثر لئے ہوئے ہے! مجھ کو تو ایسا ہی محسوس ہوا۔ گستاخی معاف کیجئے گا۔
ہم اک دوسرے پر مرے جا رہے ہیں
مگر کہہ رہے ہیں نہیں ہے محبت
شعر ٹھیک ہے لیکن بالکل سامنے کا ہے اور مطلق سپاٹ اور بےاثرلگا۔
تمہیں بات کرنا گوارہ نہیں ہے
ہمیں تم سے کوئی نہیں ہےشکایت
بہت خوب۔ البتہ دوسرے مصرع میں "لیکن، مگر" کی ضرورت محسوس ہوئی۔ یا میں غلطی پر ہوں؟
کوئی آکے ان کے یہ انداز دیکھے
ہمیں سے محبت ہمیں سے عداوت
بہت اچھا کہا ہے۔ اگر اس کو ذرا تیکھا کر دیں تو کیا مضائقہ ہے:
ذرا اپنے انداز خود بھی تو دیکھو
ہمیں سے محبت، ہمیں سے عداوت!
خیالؔ اپنی الفت کا اظہار کر دو
جہاں ہو سکے تم کو اس کی سہولت
گزارش ہے کہ دوسرا مصرع پھر سے سوچیں تاکہ یہ پہلے کی ٹکر کا ہوجائے۔

مہر افروز

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3214
جواب: کہاں ہے کوئی تیرے پیکر سی صورت
« Reply #2 بروز: اکتوبر 01, 2017, 12:38:02 صبح »

محترمی جناب خیال صاحب: سلام علیکم
آپ کی غزل سے ہمیشہ کی طرح فیضیاب ہوئی۔ غیر مردف غزلیں بہت کم نظر آتی ہیں۔ شاید اس لئے کہ اسے کہنا نسبتا مشکل ہے۔ آپ کے کلام میں اکثر نئی باتیں اور جدت اورانفرادیت نظر آتی ہے۔ چنانچہ غیر مردف غزل بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہوئی۔ غزل کی داد قبول کیجئے۔ شکریہ۔ اس کا عام رنگ اچھا ہے۔ کہیں کہیں اس میں سامنے کے مضامین کا رنگ ابھر آیا ہے جو کوئی عیب نہیں ہے۔ اساتذہ کب اس کیفیت سے بچ سکے ہیں۔ اتنی اچھی کاوش پر داد کے ساتھ مبارکباد بھی پیش کی جانی چاہئے۔ سو حاضر ہے۔ دو ایک باتیں ذہن میں آئیں جو عرض کرنے کی اجازت چاہتی ہوں۔

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
داد مبارکباد اور حوصلہ افزائی کے لیے شکر گزار ہوں ، جو باتیں آپ کے ذہن میں آئیں ان کو پوچھنے کی اجازت چاہی جی کیوں ضرور ضرور بسم اللہ کیجیے

اقتباس
--------------------
شرافت شرارت نزاکت لطافت
کہاں ہے کوئی تیرے پیکر سی صورت
مطلع میں "صورت" چہرہ یا شکل کے معنوں میں نہیں باندھی گئی ہے بلکہ "مثال" کے معنے میں ہے، یعنی تیرے پیکر کی سی مثال کہیں نہیں ہے۔ البتہ یہ بات غور طلب ہے کہ شرافت اور شرارت پیکر کا حصہ نہیں ہوسکتے ہیں۔ لہذہ ان کی جگہ آپ کو کچھ اور کہنا ہوگا۔ کیا خیال ہے آپ کا؟

جی بجا فرمایا اصل میں پیکر کے لیے جسمانی اور روحانی دونوں زاویوں سے دیکھا جاتا ہے شرافت کا پیکر یا شرارت کا پیکر کہنا تو کسی کے کردار کی صفات کو بیان کرتا ہے جب کہ نزاکت لطافت جمالیاتی صفات کی ترجمانی ہے ، مجھے تو اس میں ایسی کوئی بات نہیں لگتی ، خوبصورتی اور کردار دونوں زاویوں سے پرکھے جانے کا نام شخصیت ہے میرا تو یہی خیال ہے ، اگر میں غلطی پر ہوں تو آپ یا  کوئی صاحبِ علم رہنمائی فرمادیں تو مہربانی ہوع گی :)

اقتباس
زمانہ ہوا آئینہ دیکھے اب تو
’’ نہیں ہم کو ملتی گھڑی بھر کی فرصت ‘‘
معاف کیجئے گا۔ یہ شعر بالکل سپاٹ اور بے اثر لگا۔ غزل کی کوئی کیفیت بھی اس سے ظاہر نہیں ہورہی ہے۔ باقی آپ بہتر جانتے ہیں۔

اس شعر میں احساس کی بات شعور کی بات اپنے احتساب کی بات ہو رہی ہے ، اور آپ تو جانتی ہیں کہ دوسروں پر نظر رکھنا بڑا دلچسپ اور تجسُس سے بھرپور کام ہے بندہ بڑا چاک و چوبند بڑا پھرتیلا رہتا ہے بہت مزا آتا ہے مگر اپنا مواخذہ کرنا بہت کٹھن کام ہے نفس کو چوٹ لگتی ہے جی نہیں چاہتا اسی لیے اس میں کشش نہیں ہے ،  تو پھر سخن میں کیسے ہو سکتی ہے :)

اقتباس
مری خامُشی مصلحت کے سبب ہے
وگرنہ کسے شوق رکّھے مُروّت
دوسرا مصرع اصلاح کا شدت سے طلبگار ہے۔ "کسے شوق رکھے مروت" نہ صرف بناوٹ میں غیر معروف ہے بلکہ معنی آفرینی میں بھی لنگڑا رہا ہے۔ کیا اسے یوں نہیں کر سکتے ؟
وگرنہ نہیں یہ رہین مروت؟
یا ایسی ہی کوئی اور شکل۔

بہت شکریہ آپ کا مشورہ سر آںکھوں پر ، اب یہ تو اسلوب کی بات ہے آپ کو میرا اسلوب پسند نہیں آیا آپ نے اپنے طریقے سے مصرع بدلنے کو کہا برا نہیں ہے ، اچھا ہے
بہت عنایت ہے آپ کی

اقتباس
مجھے چھوڑ کر تم یوں چل تو دیے ہو
لیے جاؤ الفت پڑے گی ضرورت
خیال تو اچھا ہے لیکن دوسرا مصرع کچھ "مول بھائو" کا اثر لئے ہوئے ہے! مجھ کو تو ایسا ہی محسوس ہوا۔ گستاخی معاف کیجئے گا۔


جی بالکل صحیح پہچانا یہاں طنز ہے ذرا سا احساس دلانا ہے کہ تمہیں ضرورت تو ہماری رہے گی ہم نہ سہی ہماری محبت سہی

اقتباس
ہم اک دوسرے پر مرے جا رہے ہیں
مگر کہہ رہے ہیں نہیں ہے محبت
شعر ٹھیک ہے لیکن بالکل سامنے کا ہے اور مطلق سپاٹ اور بےاثرلگا۔


 اس شعر میں بڑی گہرائی ہے یہ شعر دو انا کے ماروں کے لیے ہے کہ جو آپس میں محبت تو کرتے ہیں مگر اظہار کرنے سے ان کی سبکی ہوتی ہے انہیں جھکنا پڑتا ہے ،اور اسی اکر میں زندگی گزار دیتے ہیں

اقتباس
تمہیں بات کرنا گوارہ نہیں ہے
ہمیں تم سے کوئی نہیں ہےشکایت
بہت خوب۔ البتہ دوسرے مصرع میں "لیکن، مگر" کی ضرورت محسوس ہوئی۔ یا میں غلطی پر ہوں؟

داد کا شکریہ جی ہو سکتا ہے کہ ’’ لیکن یا اگر‘‘ کی ضرورت اوروں کو بھی محسوس ہو رہی ہو ، میں نے تو وجوہات ایک دوسرے کی بیان کی ہیں

اقتباس
کوئی آکے ان کے یہ انداز دیکھے
ہمیں سے محبت ہمیں سے عداوت
بہت اچھا کہا ہے۔ اگر اس کو ذرا تیکھا کر دیں تو کیا مضائقہ ہے:
ذرا اپنے انداز خود بھی تو دیکھو
ہمیں سے محبت، ہمیں سے عداوت!

ماشااللہ بہت خوبصورت تجویز ہے آپ کی اس طرح کہنے سے واقعی دلکشی اور خوبصورتی بڑھ جاتی ہے ،، بہت عنایت ہے آپ کی بہت شکریہ
اقتباس
خیالؔ اپنی الفت کا اظہار کر دو
جہاں ہو سکے تم کو اس کی سہولت
گزارش ہے کہ دوسرا مصرع پھر سے سوچیں تاکہ یہ پہلے کی ٹکر کا ہوجائے۔
مہر افروز

جی میں اسے بہتر سوچوں گا اگر کوئی متبادل اس سے بہتر لگا تو بدل دوں گا

آخر میں آپ کو ایک بار پھر تہِ دل سے شکرگزار ہوں کہ آپ تشریف لائیں اور اپنی ناقدانہ شاعرانہ گہری نظر سے نوازا میری اصلاح فرمائی ، اللہ آپ کو دونوں جہانوں میں عزتیں عطا فرمائے

اپنا بہت خیال رکھیے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے

دعاگو
محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

 

Copyright © اُردو انجمن