اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: سر پہ قاتل آچکا ہے اور تو سجدے میں ہے  (پڑھا گیا 72 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3180
سر پہ قاتل آچکا ہے اور تو سجدے میں ہے
« بروز: اکتوبر 01, 2017, 03:13:40 صبح »

جس کی جرأت پر جہانِ رنگ و بو سجدے میں ہے
از: پیر سید نصیر الدین نصیؔر گولڑوی

جس کی جرأت پر جہانِ رنگ و بو سجدے میں ہے
آج وہ رَمز آشنائے سِرِّ ھُو سجدے میں ہے

ہر نفس میں انشراحِ صدر کی خوشبو لیے
منزلِ حق کی مجسم جستجو سجدے میں ہے

بانیازِ بندگی اللہ کا اِک عبدِ خاص
حسبِ حُکمِ فاعْبُدُوہُ وَاسْجُدُو سجدے میں ہے

کیسا عابد ہے یہ مقتل کے مصلٰی پر کھڑا
کیا نمازی ہے کہ بے خوف ِ عدو سجدے میں ہے

اے حُسین ابن علی! تجھ کو مبارک یہ عروج
آج تو اپنے خدا کے روبرو سجدے میں ہے

ابنِ زہرا! اس تری شانِ عبادت پر سلام
سر پہ قاتل آچکا ہے اور تو سجدے میں ہے

اللہ اللہ تیرا سجدہ اے شبیہِ مصطفی
جیسے خود ذاتِ پیمبر ہو بہو سجدے میں ہے

یہ شرف کس کو ملا تیرے علاوہ بعدِ قتل
سر ہے نیزے کی بلندی پر ، لہو سجدے میں ہے

محوِ حیرت ہیں ملائک، دَم بخود ہے کائنات
آج مقتل میں علی کا ماہرو سجدے میں ہے

تھا عمل پیرا جو " كَلَّا لَا تُطِعْهُ " پر وہ آج
بن کے " وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ "کی آرزو سجدے میں ہے

سر کو سجدے میں کٹا کر کہہ گیا زہرا کا لال
کچھ اگر ہے تو بشر کی آبرو سجدے میں ہے

کون جانے ، کو ن سمجھے ، کون سمجھائے نصیؔر
عابد و معبود کی جو گفتگو سجدے میں ہے.


محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

 

Copyright © اُردو انجمن