اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: خود کو سمجھ رہے ہو کیا چلو ہٹو  (پڑھا گیا 205 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3214
خود کو سمجھ رہے ہو کیا چلو ہٹو
« بروز: اکتوبر 02, 2017, 02:24:06 صبح »

قارئین کرام آداب عرض ہیں ایک اُسلوب ذرا ہٹ کے پیشِ خدمت ہے ، اپنی آرا سے نوازیے
عرض کیا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈھم ڈھم سے بج رہے ہو کیا چلو ہٹو
خود کو سمجھ رہے ہو کیا چلو ہٹو

ہر وقت تم سے رہتی اب لڑائی ہے
مجھ سے الجھ رہے ہو کیا چلو ہٹو

نقشہ بگڑ گیا ہے جسم و جان کا
ایسے میں سج رہے ہو کیا چلو ہٹو

برسو تو کھل کے برسو سارے شہر میں
یوں گھن گرج رہے ہو کیا چلو ہٹو

الجھی ہوئی ہے زندگی ہر ایک کی
اور تم سلجھ رہے ہو کیا چلو ہٹو

کچھ تو خیالؔ شرم ورم اب کرو
بن شکوہ سنج رہے ہو کیا چلو ہٹو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی توجہ کا طلبگار
اسماعیل اعجاز خیالؔ


محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • ******
  • تحریریں: 6238
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar
جواب: خود کو سمجھ رہے ہو کیا چلو ہٹو
« Reply #1 بروز: اکتوبر 02, 2017, 05:56:44 شام »

قارئین کرام آداب عرض ہیں ایک اُسلوب ذرا ہٹ کے پیشِ خدمت ہے ، اپنی آرا سے نوازیے
عرض کیا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈھم ڈھم سے بج رہے ہو کیا چلو ہٹو
خود کو سمجھ رہے ہو کیا چلو ہٹو

ہر وقت تم سے رہتی اب لڑائی ہے
مجھ سے الجھ رہے ہو کیا چلو ہٹو

نقشہ بگڑ گیا ہے جسم و جان کا
ایسے میں سج رہے ہو کیا چلو ہٹو

برسو تو کھل کے برسو سارے شہر میں
یوں گھن گرج رہے ہو کیا چلو ہٹو

الجھی ہوئی ہے زندگی ہر ایک کی
اور تم سلجھ رہے ہو کیا چلو ہٹو

کچھ تو خیالؔ شرم ورم اب کرو
بن شکوہ سنج رہے ہو کیا چلو ہٹو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی توجہ کا طلبگار
اسماعیل اعجاز خیالؔ


عزیز مکرم خیال صاحب: سلام مسنون
آپ کی نئی غزل دیکھی اور اس کے نئے انداز کو بھی بغور پڑھا۔ جان کی امان پائوں تو عرض کروں کہ یہ انداز کچھ بھایا نہیں۔ نیا انداز یا کوئی بھی شعری جدت ہو اس کے لئے چند شرائط ہیں جو کہیں لکھی ہوئی نہیں ہیں لیکن ذوق شعری خود ان کی جانب توجہ اور قلم کو مبذول کرتا ہے۔ یعنی یہ کہ جدت طبیعت پر گراں نہ گزرے۔ آپ نے جو انداز اختیار کیا ہے وہ اورکچھ ہو یا نہ ہو لیکن کرخت اور بے ڈھب تو ضرور ہے۔ غزل کا ایک مزاج ہے جس کو آپ شائستگی کہہ سکتے ہیں۔ غزل کو اردو شاعری کی آبرو کہا گیا ہے تو غلط نہیں کہا گیا ہے۔ مناسب جانیں تو اس غزل پر نظر ثانی ڈال لیں۔ ویسے آپ کو اختیار ہے۔ کوئی گستاخی سرزد ہوگئی ہو تو معذرت خواہ ہوں۔

سرور عالم راز


]



غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3214
جواب: خود کو سمجھ رہے ہو کیا چلو ہٹو
« Reply #2 بروز: اکتوبر 02, 2017, 09:11:25 شام »

قارئین کرام آداب عرض ہیں ایک اُسلوب ذرا ہٹ کے پیشِ خدمت ہے ، اپنی آرا سے نوازیے
عرض کیا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈھم ڈھم سے بج رہے ہو کیا چلو ہٹو
خود کو سمجھ رہے ہو کیا چلو ہٹو

ہر وقت تم سے رہتی اب لڑائی ہے
مجھ سے الجھ رہے ہو کیا چلو ہٹو

نقشہ بگڑ گیا ہے جسم و جان کا
ایسے میں سج رہے ہو کیا چلو ہٹو

برسو تو کھل کے برسو سارے شہر میں
یوں گھن گرج رہے ہو کیا چلو ہٹو

الجھی ہوئی ہے زندگی ہر ایک کی
اور تم سلجھ رہے ہو کیا چلو ہٹو

کچھ تو خیالؔ شرم ورم اب کرو
بن شکوہ سنج رہے ہو کیا چلو ہٹو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی توجہ کا طلبگار
اسماعیل اعجاز خیالؔ


عزیز مکرم خیال صاحب: سلام مسنون
آپ کی نئی غزل دیکھی اور اس کے نئے انداز کو بھی بغور پڑھا۔ جان کی امان پائوں تو عرض کروں کہ یہ انداز کچھ بھایا نہیں۔ نیا انداز یا کوئی بھی شعری جدت ہو اس کے لئے چند شرائط ہیں جو کہیں لکھی ہوئی نہیں ہیں لیکن ذوق شعری خود ان کی جانب توجہ اور قلم کو مبذول کرتا ہے۔ یعنی یہ کہ جدت طبیعت پر گراں نہ گزرے۔ آپ نے جو انداز اختیار کیا ہے وہ اورکچھ ہو یا نہ ہو لیکن کرخت اور بے ڈھب تو ضرور ہے۔ غزل کا ایک مزاج ہے جس کو آپ شائستگی کہہ سکتے ہیں۔ غزل کو اردو شاعری کی آبرو کہا گیا ہے تو غلط نہیں کہا گیا ہے۔ مناسب جانیں تو اس غزل پر نظر ثانی ڈال لیں۔ ویسے آپ کو اختیار ہے۔ کوئی گستاخی سرزد ہوگئی ہو تو معذرت خواہ ہوں۔

سرور عالم راز


]


 جناب محترم سرور عالم راز سرور صاحب
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

جنابِ عالی سب سے پہلے تو آپ کا بےحد شکریہ کہ آپ نے اپنا قیمتی وقت عنایت فرمایا اور میں نے جو پہلے ہی عرض کیا وہ دوبارہ پیشِ خدمت ہے کہ جو میں نے وضاحتی نوٹ لگا رکھا ہے کہ ’’ایک اُسلوب ذرا ہٹ کے پیشِ خدمت ہے‘‘ میرا یہ انداز اب تک رواج میں نہیں ہو گا مگر اب ہے اس کی شروعات میں نے کر دیں ہیں، دوسرے یہ عرض کرنا ہے کہ آپ نے جو فرمایا سر آنکھوں پر مگر کوئی خاص بات آپ کے اعتراض کی میں پکڑ نہیں پایا کہ وہ کیا بات ہے جو اس میں ادب کے منافی ہے یا غیر مہذب ہے یہ تو ایک اسلوبِ عام ہے ہم اکثر ایک دوسرے سے اس اسلوب میں مخاطب رہتے ہیں جن سے ذرا بے تکلف ہمارے معاملات ہوتے ہیں ، اس میں کسی کی ذاتیات پر خدانخواسطہ یا براہِ راست کسی کے کردار پر کوئی حملہ نہیں ہے یا بد اخلاقی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا یہ تو آج کا ایک عامیانہ رویہ ہے

بہر حال اپنی اپنی پسند ہے آپ کو میرا اسلوب پسند نہیں آیا یہ آپ کا ذوق ہے اس میں کوئی زبردستی نہیں ہے لیکن کسی کو پسند بھی آ سکتا ہے اس پر آپ کو اعتراض کرنے کا بھی حق حاصل ہے مگر یہ ایک اسلوب ہے بس یہی میرا اس تحریر کو رقم کرنے کا مقصد ہے ، نہ تو آپ نے قوافی پر بات کی نہ آپ نے ردیف پر بات کی نہ ہی آپ نے کوئی تکنیکی بات کی جو قابلِ گرفت ہو نہ ہی آپ نے عروض کی کوئی بات کی جب کہ اسلوب کے بارے میں تو میں پہلے ہی عرض کر چکا ہوں
ہو سکے تو وہ شرائط بھی عنایت فرمائیے ، تاکہ یہاں میرے ساتھ ساتھ باقی سبھی سیکھنے والوں کی رہنمائی ہو

میری اگر کوئی بات آپ کو بری لگی ہے تو مجھے معاف فرمائیے میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں کہ میں آپ کو ناراض کروں
اپنا بہت خیال رکھیے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے
اللہ آپ کو دنیا و آخرت کی عزتوں سے نوازے

دعاگو
« آخری ترمیم: اکتوبر 02, 2017, 09:36:25 شام منجانب Ismaa'eel Aijaaz »
محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • ******
  • تحریریں: 6238
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar
جواب: خود کو سمجھ رہے ہو کیا چلو ہٹو
« Reply #3 بروز: اکتوبر 03, 2017, 10:08:38 صبح »

قارئین کرام آداب عرض ہیں ایک اُسلوب ذرا ہٹ کے پیشِ خدمت ہے ، اپنی آرا سے نوازیے
عرض کیا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈھم ڈھم سے بج رہے ہو کیا چلو ہٹو
خود کو سمجھ رہے ہو کیا چلو ہٹو

ہر وقت تم سے رہتی اب لڑائی ہے
مجھ سے الجھ رہے ہو کیا چلو ہٹو

نقشہ بگڑ گیا ہے جسم و جان کا
ایسے میں سج رہے ہو کیا چلو ہٹو

برسو تو کھل کے برسو سارے شہر میں
یوں گھن گرج رہے ہو کیا چلو ہٹو

الجھی ہوئی ہے زندگی ہر ایک کی
اور تم سلجھ رہے ہو کیا چلو ہٹو

کچھ تو خیالؔ شرم ورم اب کرو
بن شکوہ سنج رہے ہو کیا چلو ہٹو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی توجہ کا طلبگار
اسماعیل اعجاز خیالؔ


عزیز مکرم خیال صاحب: سلام مسنون
آپ کی نئی غزل دیکھی اور اس کے نئے انداز کو بھی بغور پڑھا۔ جان کی امان پائوں تو عرض کروں کہ یہ انداز کچھ بھایا نہیں۔ نیا انداز یا کوئی بھی شعری جدت ہو اس کے لئے چند شرائط ہیں جو کہیں لکھی ہوئی نہیں ہیں لیکن ذوق شعری خود ان کی جانب توجہ اور قلم کو مبذول کرتا ہے۔ یعنی یہ کہ جدت طبیعت پر گراں نہ گزرے۔ آپ نے جو انداز اختیار کیا ہے وہ اورکچھ ہو یا نہ ہو لیکن کرخت اور بے ڈھب تو ضرور ہے۔ غزل کا ایک مزاج ہے جس کو آپ شائستگی کہہ سکتے ہیں۔ غزل کو اردو شاعری کی آبرو کہا گیا ہے تو غلط نہیں کہا گیا ہے۔ مناسب جانیں تو اس غزل پر نظر ثانی ڈال لیں۔ ویسے آپ کو اختیار ہے۔ کوئی گستاخی سرزد ہوگئی ہو تو معذرت خواہ ہوں۔

سرور عالم راز


]


 جناب محترم سرور عالم راز سرور صاحب
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

جنابِ عالی سب سے پہلے تو آپ کا بےحد شکریہ کہ آپ نے اپنا قیمتی وقت عنایت فرمایا اور میں نے جو پہلے ہی عرض کیا وہ دوبارہ پیشِ خدمت ہے کہ جو میں نے وضاحتی نوٹ لگا رکھا ہے کہ ’’ایک اُسلوب ذرا ہٹ کے پیشِ خدمت ہے‘‘ میرا یہ انداز اب تک رواج میں نہیں ہو گا مگر اب ہے اس کی شروعات میں نے کر دیں ہیں، دوسرے یہ عرض کرنا ہے کہ آپ نے جو فرمایا سر آنکھوں پر مگر کوئی خاص بات آپ کے اعتراض کی میں پکڑ نہیں پایا کہ وہ کیا بات ہے جو اس میں ادب کے منافی ہے یا غیر مہذب ہے یہ تو ایک اسلوبِ عام ہے ہم اکثر ایک دوسرے سے اس اسلوب میں مخاطب رہتے ہیں جن سے ذرا بے تکلف ہمارے معاملات ہوتے ہیں ، اس میں کسی کی ذاتیات پر خدانخواسطہ یا براہِ راست کسی کے کردار پر کوئی حملہ نہیں ہے یا بد اخلاقی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا یہ تو آج کا ایک عامیانہ رویہ ہے

بہر حال اپنی اپنی پسند ہے آپ کو میرا اسلوب پسند نہیں آیا یہ آپ کا ذوق ہے اس میں کوئی زبردستی نہیں ہے لیکن کسی کو پسند بھی آ سکتا ہے اس پر آپ کو اعتراض کرنے کا بھی حق حاصل ہے مگر یہ ایک اسلوب ہے بس یہی میرا اس تحریر کو رقم کرنے کا مقصد ہے ، نہ تو آپ نے قوافی پر بات کی نہ آپ نے ردیف پر بات کی نہ ہی آپ نے کوئی تکنیکی بات کی جو قابلِ گرفت ہو نہ ہی آپ نے عروض کی کوئی بات کی جب کہ اسلوب کے بارے میں تو میں پہلے ہی عرض کر چکا ہوں
ہو سکے تو وہ شرائط بھی عنایت فرمائیے ، تاکہ یہاں میرے ساتھ ساتھ باقی سبھی سیکھنے والوں کی رہنمائی ہو

میری اگر کوئی بات آپ کو بری لگی ہے تو مجھے معاف فرمائیے میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں کہ میں آپ کو ناراض کروں
اپنا بہت خیال رکھیے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے
اللہ آپ کو دنیا و آخرت کی عزتوں سے نوازے

دعاگو


عزیزمکرم خیال صاحب: سلام مسنون
برا ماننے کی کوئی بات نہیں ہے۔ رہ گیا اسلوب کا سوال تو عرض یہ ہے کہ بے تکلف دوست تو گالیاں دے کر بھی آپس میں بات کرتے ہیں تو کیا اس انداز کلام کو بھی آپ ادب میں روا رکھیں گے؟ لفظ "ادب" ہی اس اشارہ کے لئے کافی ہے کہ جو زنان وبیان شائستہ نہ ہو وہ ادب میں روا نہیں ہے۔ آپ کو جہاں بھی "غیر معروف " زبان غزل میں نظر آئے گی وہیں سمجھ لیں کہ "اب آبروئے شیوہء اہل نظر گئی"۔ بات بہت معمولی ہے لیکن اگر آپ نہ مانیں تو کوئی کیا کر سکتا ہے۔ آپ شرائط کی بات جو کررہے ہیں تو بھائی ان کو بیان کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ اہل ذوق ونظر بین السطور خود ہی دیکھ سکتے ہیں۔
رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی سے معاف
آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا  ہے !

سرورعالم راز



غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3214
جواب: خود کو سمجھ رہے ہو کیا چلو ہٹو
« Reply #4 بروز: اکتوبر 03, 2017, 09:22:28 شام »

قارئین کرام آداب عرض ہیں ایک اُسلوب ذرا ہٹ کے پیشِ خدمت ہے ، اپنی آرا سے نوازیے
عرض کیا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈھم ڈھم سے بج رہے ہو کیا چلو ہٹو
خود کو سمجھ رہے ہو کیا چلو ہٹو

ہر وقت تم سے رہتی اب لڑائی ہے
مجھ سے الجھ رہے ہو کیا چلو ہٹو

نقشہ بگڑ گیا ہے جسم و جان کا
ایسے میں سج رہے ہو کیا چلو ہٹو

برسو تو کھل کے برسو سارے شہر میں
یوں گھن گرج رہے ہو کیا چلو ہٹو

الجھی ہوئی ہے زندگی ہر ایک کی
اور تم سلجھ رہے ہو کیا چلو ہٹو

کچھ تو خیالؔ شرم ورم اب کرو
بن شکوہ سنج رہے ہو کیا چلو ہٹو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی توجہ کا طلبگار
اسماعیل اعجاز خیالؔ


عزیز مکرم خیال صاحب: سلام مسنون
آپ کی نئی غزل دیکھی اور اس کے نئے انداز کو بھی بغور پڑھا۔ جان کی امان پائوں تو عرض کروں کہ یہ انداز کچھ بھایا نہیں۔ نیا انداز یا کوئی بھی شعری جدت ہو اس کے لئے چند شرائط ہیں جو کہیں لکھی ہوئی نہیں ہیں لیکن ذوق شعری خود ان کی جانب توجہ اور قلم کو مبذول کرتا ہے۔ یعنی یہ کہ جدت طبیعت پر گراں نہ گزرے۔ آپ نے جو انداز اختیار کیا ہے وہ اورکچھ ہو یا نہ ہو لیکن کرخت اور بے ڈھب تو ضرور ہے۔ غزل کا ایک مزاج ہے جس کو آپ شائستگی کہہ سکتے ہیں۔ غزل کو اردو شاعری کی آبرو کہا گیا ہے تو غلط نہیں کہا گیا ہے۔ مناسب جانیں تو اس غزل پر نظر ثانی ڈال لیں۔ ویسے آپ کو اختیار ہے۔ کوئی گستاخی سرزد ہوگئی ہو تو معذرت خواہ ہوں۔

سرور عالم راز


]


 جناب محترم سرور عالم راز سرور صاحب
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

جنابِ عالی سب سے پہلے تو آپ کا بےحد شکریہ کہ آپ نے اپنا قیمتی وقت عنایت فرمایا اور میں نے جو پہلے ہی عرض کیا وہ دوبارہ پیشِ خدمت ہے کہ جو میں نے وضاحتی نوٹ لگا رکھا ہے کہ ’’ایک اُسلوب ذرا ہٹ کے پیشِ خدمت ہے‘‘ میرا یہ انداز اب تک رواج میں نہیں ہو گا مگر اب ہے اس کی شروعات میں نے کر دیں ہیں، دوسرے یہ عرض کرنا ہے کہ آپ نے جو فرمایا سر آنکھوں پر مگر کوئی خاص بات آپ کے اعتراض کی میں پکڑ نہیں پایا کہ وہ کیا بات ہے جو اس میں ادب کے منافی ہے یا غیر مہذب ہے یہ تو ایک اسلوبِ عام ہے ہم اکثر ایک دوسرے سے اس اسلوب میں مخاطب رہتے ہیں جن سے ذرا بے تکلف ہمارے معاملات ہوتے ہیں ، اس میں کسی کی ذاتیات پر خدانخواسطہ یا براہِ راست کسی کے کردار پر کوئی حملہ نہیں ہے یا بد اخلاقی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا یہ تو آج کا ایک عامیانہ رویہ ہے

بہر حال اپنی اپنی پسند ہے آپ کو میرا اسلوب پسند نہیں آیا یہ آپ کا ذوق ہے اس میں کوئی زبردستی نہیں ہے لیکن کسی کو پسند بھی آ سکتا ہے اس پر آپ کو اعتراض کرنے کا بھی حق حاصل ہے مگر یہ ایک اسلوب ہے بس یہی میرا اس تحریر کو رقم کرنے کا مقصد ہے ، نہ تو آپ نے قوافی پر بات کی نہ آپ نے ردیف پر بات کی نہ ہی آپ نے کوئی تکنیکی بات کی جو قابلِ گرفت ہو نہ ہی آپ نے عروض کی کوئی بات کی جب کہ اسلوب کے بارے میں تو میں پہلے ہی عرض کر چکا ہوں
ہو سکے تو وہ شرائط بھی عنایت فرمائیے ، تاکہ یہاں میرے ساتھ ساتھ باقی سبھی سیکھنے والوں کی رہنمائی ہو

میری اگر کوئی بات آپ کو بری لگی ہے تو مجھے معاف فرمائیے میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں کہ میں آپ کو ناراض کروں
اپنا بہت خیال رکھیے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے
اللہ آپ کو دنیا و آخرت کی عزتوں سے نوازے

دعاگو


عزیزمکرم خیال صاحب: سلام مسنون
برا ماننے کی کوئی بات نہیں ہے۔ رہ گیا اسلوب کا سوال تو عرض یہ ہے کہ بے تکلف دوست تو گالیاں دے کر بھی آپس میں بات کرتے ہیں تو کیا اس انداز کلام کو بھی آپ ادب میں روا رکھیں گے؟ لفظ "ادب" ہی اس اشارہ کے لئے کافی ہے کہ جو زنان وبیان شائستہ نہ ہو وہ ادب میں روا نہیں ہے۔ آپ کو جہاں بھی "غیر معروف " زبان غزل میں نظر آئے گی وہیں سمجھ لیں کہ "اب آبروئے شیوہء اہل نظر گئی"۔ بات بہت معمولی ہے لیکن اگر آپ نہ مانیں تو کوئی کیا کر سکتا ہے۔ آپ شرائط کی بات جو کررہے ہیں تو بھائی ان کو بیان کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ اہل ذوق ونظر بین السطور خود ہی دیکھ سکتے ہیں۔
رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی سے معاف
آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا  ہے !

سرورعالم راز

 جناب محترم سرور عالم راز سرور صاحب
اللہ آپ کو سدا سلامت رکھے

صاحب ماشااللہ خوب کہی آپ نے ادب سے متعلق بات سچ ہے اد ب کے بغیر کوئی بھی بات بے معنی ہے لایعنی ہے ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں ادب کا تقاضا تو شکوے شکایتوں سے بھی گریزاں رہنے کا متمنّی ء سخنوری ہے یا پھر سخنوروں کے لیے ادب میں ہر بات روا ہے جب وہ اللہ سے مخاطب ہوتے ہیں جیسا بڑے بڑے شعرا اللہ رب العزت سے
 بغاوت کرتے نظر آتے ہیں اور صاحبِ علم چپ سادھے بلکہ مدح سرائی سرشاری میں اور والہانہ وفاداری  کے پیکر نظر آتے ہیں انہیں کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ اللہ رب العزت جو عزتیں عطا کرنے والی ذاتِ عالی ہے وہ ساری عزتوں کا خالق ہے اسے عزتوں سے نوازنا ادب سے مستثنیٰ کیوں ہے یا اس کا ادب ضروری نہین ہے شاعری میں جائز ہے کہ اس کے ادب کی دھجیاں اڑا دی جائیں ، اللہ  سے بغاوت انکار شکوہ شکایت روا رکھنا ابلیس کا طرز عمل ہے مگر نہیں سبھی کے فرموداتِ عالیہ میں یہ مباح ہے جائز ہے روا ہے شاعری میں ایسی کوئی قدغن کیوں نہیں ہے یہ ادب کیسا ادب ہے جس میں اللہ کا ادب نہیں ہے کس نے اسے ادب کا درجہ دیا  خالقِ کائنات کا ادب بھی تو ادب میں شامل کیا جانا چاہیے ادب کے فروغ دینے والوں کے ادب میں :)
میں نے یہاں کسی کی خدانخواسطہ بے ادبی نہیں کی گستاخی نہیں کی کسی کو رسوا نہیں کیا بس یہی کہا ،چلو ہٹو
بحر حال آپ کا یہ فرمان محفوظ کر رہا ہوں تاکہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت  کام آئے

اللہ آپ کو شاد و آباد رکھے

 
محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

غیرحاضر Asadullah Khan

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 130
جواب: خود کو سمجھ رہے ہو کیا چلو ہٹو
« Reply #5 بروز: اکتوبر 05, 2017, 01:27:37 صبح »


 

السلام علیکم۔

 

خیال صاحب اور سرور عالم راز صاحب کا مکالمہ پڑھا۔ جُزوی طور پر سرور عالم صاحب سے متفق ہوں۔ ’’چلو ہٹو‘‘ پر تو سرور عالم صاحب کے دل گرفتہ ہونے کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی ہاں یہ ضرور ہے کہ غزل کی زمین  کم از کم مجھے ذرا دلکش نہیں لگی۔خیر۔۔۔اپنی اپنی پسند۔

 

خیر۔۔۔اب آتا ہوں اپنے مدعے کی طرف۔ چند سوالات جو ذہن میں اُٹھے وہ بہت ادب سے پیش کرنے ہیں، کوئی بھی اس کا جواب دے دے۔

 

۱۔ غزل کی بحر جو میں سمجھ سکا وہ ’’مستفعلن مفاعلن مفاعلن‘‘ ہے، کیا یہ کوئی جانی پہچانی بحر ہے؟ کیا یہی وجہ تو نہیں کہ بحر معروف نہیں اس لیے غزل کا حُسن مانند پڑ گیا ہو؟

۲۔ اگر بحر جانی پہچانی ہے تو کیا اس مصرعے میں ’’برسو تو کھل کے برسو سارے شہر میں‘‘ جو بحر تبدیل ہوئی کیا وہ جائز ہے؟ کیونکہ پڑھتے پڑھتے میں ٹھٹھک گیا تھا اس مصرعے پر۔

۳۔ شعر میں اکثر دیکھا ہے کہ ایک کلام میں الفاظ کی ترتیب نثر سے مختلف کردی جاتی ہے۔ لیکن کیا فعل کی ایک حالت کو بتانے والے الفاظ بھی آگے پیچھے کیے جا سکتے ہیں؟ مثلاً کھانا مصدر سے کھایا، کھاتا، کھارہا ان سب کو اکھٹا ہی نہیں لکھنا چاہیے؟ اس غزل میں بھی، ’’بن شکوہ سنج رہے ہو‘‘ کی ترکیب استعمال ہوئی ہے۔ اگر بن رہے کو الگ کیا جا سکتا ہے تو پھر کھا رہے کو بھی  ’’کھا مجھ کو کیوں رہے ہو‘‘ کر سکتے ہیں، اور اگر ایسا ہی ہے تو کھاتے کو بھی ’’کیوں کھا مجھ کو تے ہو‘‘ جیسی کوئی ترکیب جائز ہونی چاہیے۔ اسی طرح تھوڑا سا شُبہہ ’’تم سے رہتی اب لڑائی ہے‘‘ پر بھی ہوا مجھے لگتا ہے کہ 'ہے' بھی فعل کی حالت کو ظاہر کرنے کے لیے کلیدی لفظ ہے اور رہتی ہے اکھٹا ہی لکھا جانا چاہیے۔ ورنہ اوپر کا مصرعہ (وزن کی پابندی کے بغیر) ایسے بھی کہ سکتے ہیں ’’بن شکوہ سنج رہے کیوں ہو‘‘۔ یہ بھی جائز ہوگا؟ اساتذہ سے کوئی مثال مل سکے تو ممنوں ہووں گا۔

 

اسد


غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3214
جواب: خود کو سمجھ رہے ہو کیا چلو ہٹو
« Reply #6 بروز: اکتوبر 07, 2017, 12:11:37 صبح »


 

السلام علیکم۔

 

خیال صاحب اور سرور عالم راز صاحب کا مکالمہ پڑھا۔ جُزوی طور پر سرور عالم صاحب سے متفق ہوں۔ ’’چلو ہٹو‘‘ پر تو سرور عالم صاحب کے دل گرفتہ ہونے کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی ہاں یہ ضرور ہے کہ غزل کی زمین  کم از کم مجھے ذرا دلکش نہیں لگی۔خیر۔۔۔اپنی اپنی پسند۔

 

خیر۔۔۔اب آتا ہوں اپنے مدعے کی طرف۔ چند سوالات جو ذہن میں اُٹھے وہ بہت ادب سے پیش کرنے ہیں، کوئی بھی اس کا جواب دے دے۔

 

۱۔ غزل کی بحر جو میں سمجھ سکا وہ ’’مستفعلن مفاعلن مفاعلن‘‘ ہے، کیا یہ کوئی جانی پہچانی بحر ہے؟ کیا یہی وجہ تو نہیں کہ بحر معروف نہیں اس لیے غزل کا حُسن مانند پڑ گیا ہو؟

۲۔ اگر بحر جانی پہچانی ہے تو کیا اس مصرعے میں ’’برسو تو کھل کے برسو سارے شہر میں‘‘ جو بحر تبدیل ہوئی کیا وہ جائز ہے؟ کیونکہ پڑھتے پڑھتے میں ٹھٹھک گیا تھا اس مصرعے پر۔

۳۔ شعر میں اکثر دیکھا ہے کہ ایک کلام میں الفاظ کی ترتیب نثر سے مختلف کردی جاتی ہے۔ لیکن کیا فعل کی ایک حالت کو بتانے والے الفاظ بھی آگے پیچھے کیے جا سکتے ہیں؟ مثلاً کھانا مصدر سے کھایا، کھاتا، کھارہا ان سب کو اکھٹا ہی نہیں لکھنا چاہیے؟ اس غزل میں بھی، ’’بن شکوہ سنج رہے ہو‘‘ کی ترکیب استعمال ہوئی ہے۔ اگر بن رہے کو الگ کیا جا سکتا ہے تو پھر کھا رہے کو بھی  ’’کھا مجھ کو کیوں رہے ہو‘‘ کر سکتے ہیں، اور اگر ایسا ہی ہے تو کھاتے کو بھی ’’کیوں کھا مجھ کو تے ہو‘‘ جیسی کوئی ترکیب جائز ہونی چاہیے۔ اسی طرح تھوڑا سا شُبہہ ’’تم سے رہتی اب لڑائی ہے‘‘ پر بھی ہوا مجھے لگتا ہے کہ 'ہے' بھی فعل کی حالت کو ظاہر کرنے کے لیے کلیدی لفظ ہے اور رہتی ہے اکھٹا ہی لکھا جانا چاہیے۔ ورنہ اوپر کا مصرعہ (وزن کی پابندی کے بغیر) ایسے بھی کہ سکتے ہیں ’’بن شکوہ سنج رہے کیوں ہو‘‘۔ یہ بھی جائز ہوگا؟ اساتذہ سے کوئی مثال مل سکے تو ممنوں ہووں گا۔

 

اسد



 جناب محترم اسد اللہ خان صاحب
جنابِ عالی وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

چچا کا ایک شعر نظرنواز ہوا فرماتے ہیں

درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے
کیا ہوئی ظالم تری غفلت شعاری ہائے ہائے


مجھے اس شعر میں آپ کے سوال کا جواب ملا  اسی کو آپ کی خدمت میں پیش کردوں اسی خیال سے حاضر ہوا ہوں

چچا یہاں درد بیان فرما رہے ہیں
شاید کچھ میری طرفداری کا سامان ہو جائے اس شعر سے

درد کو میرے
 کہہ کر چچا نے ایک الگ آہنگ ایک الگ اسلوب پیش کیا جو نثر میں روا نہیں مگر بابائے سخن نے اسے روا رکھ کر سند دے ڈالی
آپ نے درست بحر شناخت فرمائی جزاکم اللہ خیر بحر بسیط مستفعلن مخبون شکل میں مستفعلن مفاعلن مفاعلن مگر مجھے اس کی کوئی مثال تو نہیں ملی مگر روانی میں لاجواب ہے کمال درجہ مترنم ہے اس پر ڈرم بیٹ پر دھن بنائی جا سکتی ہے

ڈم ڈم ڈَ ڈم ۔۔۔۔ ڈَ ڈم ڈَ ڈم ۔۔۔۔۔۔ ڈَ ڈم ڈَ ڈم


میری تحریر کی تقطیع ملاحظہ فرمائیے


ڈھم ڈھم سے بج رہے ہو کیا چلو ہٹو
ڈم ڈم سِ بج ۔۔۔۔ رَہے ہُ کا ۔۔۔۔۔ چَ لو ہَ ٹو
مس تف عِ لُن ۔۔۔۔ مُ فا عِ لُن ۔۔۔۔۔ مُ فا عَ لُن
مستفعلن ۔۔۔۔۔۔ مفاعلن ۔۔۔۔۔ مفاعلن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خود کو سمجھ رہے ہو کیا چلو ہٹو

خُد کو سَ مج ۔۔۔۔ رَہے ہُ کا ۔۔۔۔۔ چَ لو ہَ ٹو
مس تف عِ لُن ۔۔۔۔ مُ فا عِ لُن ۔۔۔۔۔ مُ فا عَ لُن
مستفعلن ۔۔۔۔۔۔ مفاعلن ۔۔۔۔۔ مفاعلن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر وقت تم سے رہتی اب لڑائی ہے

ہر وق تُ تم ۔۔۔۔ سِ رہ تِ اب ۔۔۔۔۔ لَ ڑا ءِ ہے
مس تف عِ لُن ۔۔۔۔ مُ فا عِ لُن ۔۔۔۔۔ مُ فا عَ لُن
مستفعلن ۔۔۔۔۔۔ مفاعلن ۔۔۔۔۔ مفاعلن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھ سے الجھ رہے ہو کیا چلو ہٹو

مج سے اُ لج ۔۔۔۔ رَہے ہُ کا ۔۔۔۔۔ چَ لو ہَ ٹو
مس تف عِ لُن ۔۔۔۔ مُ فا عِ لُن ۔۔۔۔۔ مُ فا عَ لُن
مستفعلن ۔۔۔۔۔۔ مفاعلن ۔۔۔۔۔ مفاعلن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نقشہ بگڑ گیا ہے جسم و جان کا

نق شہ بَ دل ۔۔۔۔ گَ یا ہِ جس ۔۔۔۔۔ مُ جا نُ کا
مس تف عِ لُن ۔۔۔۔ مُ فا عِ لُن ۔۔۔۔۔ مُ فا عَ لُن
مستفعلن ۔۔۔۔۔۔ مفاعلن ۔۔۔۔۔ مفاعلن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسے میں سج رہے ہو کیا چلو ہٹو

ای سے مُ سج ۔۔۔۔ رَہے ہُ کا ۔۔۔۔۔ چَ لو ہَ ٹو
مس تف عِ لُن ۔۔۔۔ مُ فا عِ لُن ۔۔۔۔۔ مُ فا عَ لُن
مستفعلن ۔۔۔۔۔۔ مفاعلن ۔۔۔۔۔ مفاعلن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

برسو تو کھل کے برسو سارے شہر میں

بر سو تُ کُل ۔۔۔۔ کِ بر سُ سا ۔۔۔۔۔ رِ شہ رُ می
مس تف عِ لُن ۔۔۔۔ مُ فا عِ لُن ۔۔۔۔۔ مُ فا عَ لُن
مستفعلن ۔۔۔۔۔۔ مفاعلن ۔۔۔۔۔ مفاعلن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یوں گھن گرج رہے ہو کیا چلو ہٹو

یو گن گَ رج ۔۔۔۔ رَہے ہُ کا ۔۔۔۔۔ چَ لو ہَ ٹو
مس تف عِ لُن ۔۔۔۔ مُ فا عِ لُن ۔۔۔۔۔ مُ فا عَ لُن
مستفعلن ۔۔۔۔۔۔ مفاعلن ۔۔۔۔۔ مفاعلن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الجھی ہوئی ہے زندگی ہر ایک کی

اُل جی ہُ ئی ۔۔۔۔ ہِ زن دَ گی ۔۔۔۔۔ ہَ ری کُ کی
مس تف عِ لُن ۔۔۔۔ مُ فا عِ لُن ۔۔۔۔۔ مُ فا عَ لُن
مستفعلن ۔۔۔۔۔۔ مفاعلن ۔۔۔۔۔ مفاعلن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور تم سلجھ رہے ہو کیا چلو ہٹو

اُر تإ سُ لج ۔۔۔۔ رَہے ہُ کا ۔۔۔۔۔ چَ لو ہَ ٹو
مس تف عِ لُن ۔۔۔۔ مُ فا عِ لُن ۔۔۔۔۔ مُ فا عَ لُن
مستفعلن ۔۔۔۔۔۔ مفاعلن ۔۔۔۔۔ مفاعلن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ تو خیالؔ شرم ورم اب کرو

کچ تو خَ یا  ۔۔۔۔ لُ شر مُ ور ۔۔۔۔۔ مُ اب کَ رو
مس تف عِ لُن ۔۔۔۔ مُ فا عِ لُن ۔۔۔۔۔ مُ فا عَ لُن
مستفعلن ۔۔۔۔۔۔ مفاعلن ۔۔۔۔۔ مفاعلن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بن شکوہ سنج رہے ہو کیا چلو ہٹو

بن شک وَ سج ۔۔۔۔ رَہے ہُ کا ۔۔۔۔۔ چَ لو ہَ ٹو
مس تف عِ لُن ۔۔۔۔ مُ فا عِ لُن ۔۔۔۔۔ مُ فا عَ لُن
مستفعلن ۔۔۔۔۔۔ مفاعلن ۔۔۔۔۔ مفاعلن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


بن شکوہ سنج رہے ہو کیا ؟ ۔۔۔۔۔۔ چلو ہٹو

ہونا چاہیے شکوہ سنج بن رہے ہو نثر کے اعتبار سے مگر شعر وسخن میں اسے آپ اسی طرح دیکھیے جیسے چچا نے فرمایا 


درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے
کیا ہوئی ظالم تری غفلت شعاری ہائے ہائے

ہونا چاہیے میرے درد سے ہے تجھ نثر کے مطابق مگر ایسا نہیں ہے شعر میں اوزان کی خاطر اس طرح سے لفظوں کو آگے پیچھے کیا جانا کہ اسلوب نہ بگڑے میرا خیال ہے کہ روا ہے
باقی زبان کے بیان اور اس کے ادبی تقاضوں کو اسلوب کے قوائد و ضوابط کے لحاظ سے کیسے بتا جائے آپ صاحب علم ہیں اور آپ کی طرح یہاں ماشااللہ صاحب ادب شخصیات جلوہ افروز رہتے ہیں ان سے ملتمس ہوں کہ اگر میں غلطی پر ہوں تو میری اصلاح فرمائیں
بہت شکریہ آپ سبھی کا اللہ آپ سبھی کو سدا سلامت رکھے دونوں جہانوں کی عزتیں مرحمت فرمائے
دعاگو
محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

غیرحاضر Asadullah Khan

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 130
جواب: خود کو سمجھ رہے ہو کیا چلو ہٹو
« Reply #7 بروز: اکتوبر 08, 2017, 10:36:11 صبح »


السلام علیکم خیالؔ صاحب۔

پہلے تو آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے میرے سوالوں کا بہت محنت سے جواب تحریر فرمایا۔ آپ سے سوال کر کے میں شرمندہ ہو جاتا ہوں۔ کہ میں تو چند سطریں لکھ جاتا ہوں اور اس کے لیے آپ کو بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔ خیر، اظہار تشکر کے بعد میں اپنی نالایقی پر بھی شرمندگی کا اظہا کروں گا۔ ایک شعر کی تقطیع میں مجھ سے غلطی ہوئی اور اس کے لیے آپ کو پوری غزل کی تقطیع دکھانی پڑ گئی۔ معذرت خواہ ہوں۔ کسی کو سکھانے کا جذبہ کوئی آپ سے سیکھے۔ خدا ہم سب کو اس جذبے سے سرشار کرے۔

اب آتے ہیں الفاظ کی ترتیب بدلنے کی بات کی طرف۔ اگر آپ میرا پیغام دوبارہ پڑھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس بات کا تو میں نے اعتراف کیا تھا کہ شاعری میں الفاظ کی ترتیب نثر سے الگ ہو سکتی ہے، بلکہ الگ ہو تو ہی اچھی لگتی ہے۔۔۔۔لیکن سوال یہ تھا کہ وہ الفاظ جو ایک فعل کی حالت ظاہر کرتے ہیں کیا انھیں بھی آگے پیچھے کیا جا سکتا ہے؟

اور آپ کو یہ بحر اچھی لگتی ہوگی، لیکن بہت احترام سے عرض ہے کہ یہ بحر ڈرم کی کسی مانوس بِیٹ (تال) سے نہیں ملتی۔ اور اگر اس بِیٹ میں کوئی ڈرم بج رہا ہو تو شاید آپ بھی کانوں پر ہاتھ رکھ لیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ شعرا نے اس بحر کو استعمال نہیں کیا۔ اگر ڈرم جیسی بِیٹ چاہیے تو آپ متدارک کی وہ بحر کیوں نہیں استعمال کرتے جس میں ابن انشا نے اپنی مشہور غزل کہی تھی؟

انشا جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کا لگانا کیا؟

ڈم ڈم ڈ ڈ ڈم ڈم ڈم ڈ ڈ ڈم ڈم ڈم ڈ ڈ ڈم ڈ ڈ ڈم ڈم ڈم

چلیے کبھی میری طرف سے فرمائش ہی سمجھ کر اس بحر میں طبع آزمائی کیجیے۔

 

Copyright © اُردو انجمن