اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: دردِ دل بڑھتا رہا  (پڑھا گیا 295 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3180
جواب: دردِ دل بڑھتا رہا
« Reply #15 بروز: اکتوبر 10, 2017, 08:38:00 شام »
محترم اسماعیل اعجاز صاحب
سلام مسنون
مرزا غالب کا قافیہ بلکل درست ہے۔ اس قافیہ کی ہزاروں مثالیں آپ کو اساتذہ کے کلام میں مل جائیں گی۔
اسماعیل صاحب آپ ہر  بار مرزا غالب کی غزل کا حوالہ دے رہے ہیں اور اس بنیاد پر اپنے قافیہ کا دفاع کر رہے ہیں- مرزا غالب اور آپ کے قافیے میں واضح فرق ہے جو میں اپنی پہلی تحریر میں لکھ چکا ہوں-
ہاں ! اگر کوئی مثال آپ کے پاس ہے جس میں کسی  استاد یا  مستند شاعر نے قافیہ بلکل ویسے ہی استعمال کیا ہو جیسے کہ آپ نے کیا ہے تو آپ کی دلیل میں وزن آ جاتا ہے-

حرف روی قافیہ کا جزو ہے نہ کہ علیحدہ سے کوئی شناخت رکھتا ہے- "تا" میں یا تو الف حرف روی ہو سکتا ہے یا پھر  "ت" -اس کے بر عکس  "تا" کو حرف روی کہنا درست نہیں-

اگر آپ الف کو حرف روی مان  لیں تو مرتا ، بولا ، اچھا ، شرما وغیرہ ہم قافیہ ہو سکتے ہیں- اگر آپ ت کو حرف روی مان  لیں تو باقی قافیہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ نے مطلع میں آپ نے اپنے آپ  پر کیا پابندی لگائی- اگر ایک مصرع میں جلتا اور دوسرے میں ڈھلتا کا قافیہ استعمال کیا تو باقی شعروں میں بھی  یہ پابندی روا رکھنی پڑے گی - یہی چیزیں شاعری میں ترنم اور موسیقیت پیدا کرتی ہیں- اگر آپ اجتہاد کر رہے ہیں تو کرتے رہیے- نۓ تجربات کرنے میں کوئی حرج نہیں-


لیکن میں ابھی بھی اس بات پر قائم ہوں کہ آپ کا قافیہ غیر فصیح ہے-

مخلص

احمد ندیم رفیع


ڈاکٹر صاحب
اقتباس
اسماعیل صاحب آپ ہر  بار مرزا غالب کی غزل کا حوالہ دے رہے ہیں اور اس بنیاد پر اپنے قافیہ کا دفاع کر رہے ہیں- مرزا غالب اور آپ کے قافیے میں واضح فرق ہے جو میں اپنی پہلی تحریر میں لکھ چکا ہوں-

جب آدمی چڑچڑانے لگے تو اس کی کوئی بات اچھی نہیں لگتی
اردو انجمن اس ماحول سے پاک ہے

خیر میں ایک طالب علم ہوں اور آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ ایک استاد کی مسند پر بیٹھ کر شفقت محبت صبر تحمل بردباری سبھی کا مظاہرہ کیجیے

اللہ آپ کو سدا سلامت رکھے

آپ کے فرمان کے مطابق میں نے مان لیا کہ میری تحریر میں خامی ہے :) اب خوش ہو جائیے چڑچڑائیے مت

یہ ایک ادارہ ہے اردو انجمن کے نام سے یہاں مجھ جیسے ہی لوگوں سے آپ کا پالا پڑے گا جو استاد نہیں ہیں آپ کے طرح فقط سیکھنے کے مراحل سے گزر رہے ہیں

آپ کو میں نے زحمت دی معذرت خواہ ہوں




 


اسماعیل اعجاز صاحب

آپ کا مندرجہ بالا جواب آپ کی شخصیت کا آئینہ دار ہے- میرے خیال میں آپ کا جواب بد تمیزی کے زُمرے میں آتا ہے-  مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آپ کی مثال اس  چار سال کے بچے کی طرح ہے  جس  سے جب کوئی جواب نہیں بن پڑتا تو دوسروں کو منہ چَڑا کے بھاگ جاتا ہے-

اس سلسلے میں میری کچھ معروضات ہیں -

١- جب آپ بزم میں کوئی غزل لگا کر دوسروں کی راۓ  مانگتے ہیں تو پھر دوسروں کی بھی اپنی راۓ  دینے کا پورا حق ہے -  اگر آپ میں دوسروں کی راۓ جاننے کا حوصلہ نہیں تو خاموشی سے غزل لگا کر نکل جائیے - میں نے آپ سے جو سوال پوچھا تھا وہ کبھی مجھ سے بھی پوچھا گیا تھا کیونکہ میں نے قافیہ میں ایک بار یہی غلطی کی تھی- میں آج بھی اس شخص کا احترام کرتا ہوں - اگر میں اسے چڑچڑا کہہ کر آگے بڑھ جاتا تو شاید ابھی تک وہی غلطی دہرا رہا ہوتا-

٢- دلیل کا جواب دلیل سے دیجیے - بار بار ایک ہی دلیل کو دہرانے کا کوئی  فائدہ نہیں سواۓ وقت کے ضیاع کے- ہو سکتا ہے آپ کے پاس  وقت کی ارزانی  ہو لیکن میرا وقت میرے نزدیک بہت قیمتی ہے-

٣- اپنی غلطی تسلیم کرنے سے کوئی انسان چھوٹا نہیں ہو جاتا - جس طریقے سے آپ نے آخر میں اپنی غلطی تسلیم کی ہے اس سے آپ کی جنجھلاہٹ کا اندازہ ہوتا ہے -  ایک طرف اپنی غلطی مان  رہے ہیں اور دوسرے طرف مجھے یہ کہہ رہے  ہیں کہ خوش ہو جایے چڑ چڑایے مت - واہ  صاحب ! غلطی تسلیم کرنے یہ انداز میں نے پہلی مرتبہ دیکھا  ہے- بین السطور دیکھا جاۓ تو آپ نے غلطی تسلیم ہی نہیں کی بلکہ چار سال کے بچے کی طرح  اپنی جان چھڑائی ہے-       

٤- آپ کی اطلاع کی لئے عرض ہے کہ مستند حوالہ صرف اور صرف اساتذہ کا گِنا جاتا ہے- ایسا کرنا اردو زبان کی صحت اور تندرستی کے ضروری ہے- ورنہ زبان چوں چوں کا مربّہ بن جاۓ - پچھلی صدی میں شاید جوش ملیح  آبادی ہی آخری استاد تھے -  آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ اہل زبان علامہ محمّد اقبال اور فیض احمد فیض کو بھی اس مرتبے پر فائز نہیں کرتے- پھر میں، آپ اور مرحوم عرفان ستار صاحب  کس کھیت کی مُولی ہیں ! 

٥- میرے نزدیک شاعری ایک سنجیدہ عمل ہے اور ہر حال میں سنجیدگی کا متقاضی ہے- اگر آپ اپنی شاعری کو "اوٹ پٹانگ " سمجھتے ہیں تو شاعری کرنا چھوڑ دیجیے - خواہ مخواہ بزم میں اپنی "اوٹ پٹانگ" غزلیں لگا کر اپنا اور دوسروں کا وقت مت برباد کیجیے - اس سے بہتر ہے کہ کسی اور نیک کام میں اپنا دل لگائیں - ہو سکتا ہے اس سے آپ کی عاقبت بھی سنور جاۓ -

٦- علم عروض کی چند کتابیں پڑھنے سے کوئی شاعر نہیں بن جاتا - "عروضیہ" اور شاعر بننے میں بہت بڑی خلیج حائل ہے  جس کو پاٹنا ہر ایک کے بس کا کام نہیں-

٧- شاعری محض تک بندی اور قافیہ پیمائی کا نام  نہیں- اسکے لئے  زبان و بیان کی صحت اور محاورے کا درست استعمال ہی کافی نہیں بلکہ  خیال آرائی، معنی آفرینی، الفاظ کی نشت و برخاست  اور حسن بیان پر بھی دھیان دینا پڑتا ہے- لیکن ان سب کا حصول غزلوں کی تقطیع کرنے سے نہیں ، اساتذہ کرام  کے کلام کا مطالعہ کرنے سے حاصل ہوتا ہے- ہنوز دِلّی دُور است !

٩- دوسروں کی عزت کریں گے تو آپ کو بھی عزت ملے گی- میرے نزدیک سب کا احترام لازم  ہے  چاہے وہ شخصیات اس دنیا سے گزر ہی کیوں نہ گئی ہوں - جس طرح آپ نے  مرزا اسدالله خان غالب کو بار بار "چچا" کہہ  کر بلایا ، اس سے خوب  اندازہ ہوتا ہے کہ آپ شاعری میں کتنے سنجیدہ ہیں - اردو انجمن کوئی لطیفہ گاہ نہیں کہ آپ اردو زبان کے سب سے بڑے شاعر کو "چچا" بلا کر ان کی توہین کرتے پھریں -

١٠- تعریف کس کو اچھی نہیں لگتی - لیکن یہی تعریف کبھی کبھار عقل کی کھڑکی بند کر دیتی ہے- لوگ آپ کی غزلوں پر رسمی واہ واہ کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے آپ کسی کے اچھے  مشورے کو بھی  خاطر میں نہیں لاتے- محترم سرور عالم راز کی  آپ کی ایک غزل پر آخری پوسٹ درج کر رہا ہوں-

اقتباس شروع
"عزیزمکرم خیال صاحب: سلام مسنون
برا ماننے کی کوئی بات نہیں ہے۔ رہ گیا اسلوب کا سوال تو عرض یہ ہے کہ بے تکلف دوست تو گالیاں دے کر بھی آپس میں بات کرتے ہیں تو کیا اس انداز کلام کو بھی آپ ادب میں روا رکھیں گے؟ لفظ "ادب" ہی اس اشارہ کے لئے کافی ہے کہ جو زنان وبیان شائستہ نہ ہو وہ ادب میں روا نہیں ہے۔ آپ کو جہاں بھی "غیر معروف " زبان غزل میں نظر آئے گی وہیں سمجھ لیں کہ "اب آبروئے شیوہء اہل نظر گئی"۔ بات بہت معمولی ہے لیکن اگر آپ نہ مانیں تو کوئی کیا کر سکتا ہے۔ آپ شرائط کی بات جو کررہے ہیں تو بھائی ان کو بیان کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ اہل ذوق ونظر بین السطور خود ہی دیکھ سکتے ہیں۔
رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی سے معاف
آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا  ہے ! "
 اقتباس ختم

واقعی ٹھیک لکھا انہوں نے کہ "آپ  نہ مانیں تو کوئی کیا کر سکتا ہے" - آپ کو شاید ان کی بات سمجھ ہی نہیں آئی - ایسی مثالیں بزم میں میں بھری پڑی ہیں جہاں آپ نے اچھے سے اچھے مشورے کو خاطر میں نہ لاتے ہوۓ رد کر دیا - طب کی اصطلاح میں ایسے مرض کو لاعلاج کہتے ہیں -

١١- میں نے یہ بھی محسوس کیا  ہے کہ  آپ مدلّل جواب نہ ہونے کی صورت میں اپنے مذہبی عقائد کی دیوار کے پیچھے چھپ جاتے ہیں اور الله تعالیٰ کی ذات کو بیچ میں لے آتے ہیں- یاد رکھیے زبان کا کوئی مذھب نہیں ہوتا -جبکہ عقیدہ منطق سے بلا تر ہے - لیکن زبان و بیان میں " بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر" - یہاں بادہ ساغر سےمیری مراد "منطق" ہے - 

١٢ - نئی، نامانوس اور غیر مترنّم بحریں ایجاد کرنے سے بہتر ہے کہ انسان شعر کے مضمون پر توجہ دے - جتنے بھی معروف اور باکمال شاعر گزرے ہیں اپنی شاعری اور نفسِ مضمون کی وجہ سے ہی جانے پہچانے گۓ - کسی کو یہ نہیں یاد  کہ انہیں عروض پر کتنا کمال حاصل تھا  اور وہ  تقطیع کرنے میں کتنا یدِ طُولی رکھتے تھے-

١١- آپ  نے ابھی تک لوگوں کی رسمی واہ واہ ہی سنی ہے-  آج تک آپ کو کسی نے یہ نہیں بتایا ہو گا کہ آپ کی شاعری کا معیار کیسا  ہے- اچھا دوست وہی ہے جو آپ کی خامیوں کی نشان دہی بھی کرے - میری بے لاگ راۓ میں آپ کی شاعری قافیہ پیمائی اور تُک بندی سے آگے نہیں بڑھی - آپ کا کلام  یک سطحی ، سپاٹ اور بے لطف ہے- گہرائی ہے نہ گیرائی، معنی آفرینی اور لطفِ بیان تو چُھو کر نہیں گزرا - تغزل کے تو شاید آپ کو معنی بھی نہیں معلوم - اگر یقین نہیں آتا تو اپنی چند غزلیں پاک و ہند کے چند معتبر ادبی  رسالوں کو  بھیج کر آزما لیں- مجھے یقین ہے کہ آپ کی ساری غزلیں ردی کی ٹوکری کو نذر ہو جایئں گی-

١٢- آئندہ مجھے استاد کہہ کر اساتذہ کرام کی توہین مت کیجئے گا - اساتذہ کرام کے  اردو زبان پر بہت احسانات ہیں- ہم لوگ تو ان کی خاکِ پا بھی نہیں-

احمد ندیم رفیع               



جناب محترم احمد ندیم رفیع صاحب
سدا سلامت رہیے

میں شکرگزار ہوں آپ کا مجھے آئینہ دکھایا آپ نے میں انتہائی شرمندہ ہوں

کوشش کروں گا کہ اپنے اس رویے کو تبدیل کروں اور تمام احباب کی عزت کروں
آپ مجھے معاف فرمادیجیے

اللہ آپ کو دونوں جہانوں کی عزتوں سے نوازے

دعاگو
« آخری ترمیم: اکتوبر 10, 2017, 08:55:29 شام منجانب Ismaa'eel Aijaaz »
محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • ******
  • تحریریں: 6220
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar
جواب: دردِ دل بڑھتا رہا
« Reply #16 بروز: اکتوبر 11, 2017, 09:49:33 صبح »

عزیز مکرم جناب خیال/ندیم صاحب:سلام مسنون
آپ لوگوں کی گفتگو جس مرحلے پر پہنچ گئی ہے اس کے بعد یہی مناسب ہے کہ میں اس موضوع کو مقفل کردوں۔
خیال  خاطر  احباب   چاہئے  ہر دم
انیس! ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو
وہ ادب ہو یا شعر یا زندگی، غلطی ہر انسان سے ہوسکتی ہے اور ہوتی ہے۔ غلطی کی اصلاح کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ اس کو مان لیا جائے۔ پھر اس کے بعد دوسرے تمام مراحل آسان ہوجاتے ہیں۔ خیال صاحب کے قافیہ پر دو ایک باتیں لکھ رہا ہوں۔ اس کے بعد یہ موضوع مقفل کردوں گا۔
جیسا کہ "حرف روی" اصطلاح سے ظاہر ہے، یہ کسی حرف پر ہی صادق آتی ہے۔ کسی لفظ کو ہم "حرف روی" نہیں کہہ سکتے ہیں۔ چنانچہ "تا" حرف روی نہیں کہا جا سکتا ہے۔
خیال صاحب کا مطلع یوں ہے:
آدمی مرتا رہا
جانور بنتا رہا
بادی النظر میں اس کی ردیف "رہا" ہے اور مرتا، بنتا وغیرہ قافیے ہیں اس کے بعد سوال یہ اٹھتا ہے کہ غزل کا حرف روی کیا ہے؟ حرف روی پر ہی غزل کی بنیاد ہوتی ہے۔ بلکہ بعض کٹر قسم کے علمائے قافیہ نے تو حرف روی کو ہی قافیہ کہا ہے۔ حرف روی کہ پہچاننے کا آسان طریقہ مولوی عبدالغنی صاحب نے اپنی کتاب بحرالفصاحت میں لکھا ہے کہ قافیہ کے آخر سے ایک ایک حرف ہٹا کر دیکھا جائے۔ جس حرف کےہڑنے سے بچا ہوا ٹکڑا مہمل اور بے معنی ہوجائے وہی حرف روی ہے۔ یہاں ت اور الف مشکل پیدا کر رہے ہیں۔ الف کو الگ کیجئے تو جو کچھ بچ رہتا ہے وہ بے معنی ہے لیکن اب اگر ت کو الگ کیجئے تو بچا ہوا ٹکڑا پھر بامعنی ہوجاتا ہے یعنی حرف روی نہ تو الف ہے اور نہ ت۔ تو پھر کیا ہے؟ یاد رہے کہ حرف روی کی تکرار قافیوں میں شرط لازم ہے۔ یہاں ایسی کوئی صورت پیدا نہیں ہو رہی ہے کیونکہ قافے ناقص ہیں اور حرف روی کا تعین نہیں ہو سکتا ہے۔ میں نے بہت تلاش کیا لیکن اساتذہ کے کلام میں کوئی مثال ایسی نہیں ملی جو رہنمائی کر کے مسئلہ کا حل بتا سکتی۔ چونکہ اس وقت میں ہنگامی حالات سے گزر رہا ہوں اس لئے کتابیں زیادہ میرے پاس نہیں ہیں۔ آپ بھی دیکھ لیں اور اگر ایسی کوئی مثال مل جائے تو ضرور لکھیں۔ میری ناقص رائے میں غزل کے قوافی درست نہیں ہیں۔ واللہ اعلم
یہ عین ممکن ہے کہ میں غلطی پر ہوں ۔ اس صورت میں یقین ہے کہ اپ میری اصلاح کریں گے۔ شکریہ۔

سرورعالم راز



 

Copyright © اُردو انجمن