اُردو انجمن

 


پول

یہ  بات  با  خدا  ہے   سچ جو  ہے  مرے  بیان  میں

یہ  بات  با  خدا  ہے   سچ جو  ہے  مرے  بیان  میں
0 (0%)
یہ  بات  با  خدا  ہے   سچ جو  ہے  مرے  بیان  میں
0 (0%)

کُل ووٹرز: 0

مصنف موضوع: یہ بات با خدا ہے سچ جو ہے مرے بیان میں  (پڑھا گیا 118 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر Akhtar hameed gul

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 23
یہ بات با خدا ہے سچ جو ہے مرے بیان میں
« بروز: اکتوبر 09, 2017, 10:05:40 صبح »
گُلہائے عقیدت / یہ بات با خدا ہے سچ جو ہے مرے بیان میں
« بروز: ستمبر 23, 2016, 11:00:04 شام »
یاران اردو انجمن تسلیمات ایک منقبت اصلاح کی غرض سے لے کر حآضر ہوا ہوں  امد ہے  مجھ  ناچیز کو  پہلے کی طرح  رہنمائی  ملے گی 
          منقبت امام علی مقام  رضی اللہ عنہ
یہ  بات  با  خدا  ہے   سچ جو  ہے  مرے  بیان  میں
نہ  تھا نہ  ہے  نہ  آئے  گا  حُسین  سا  جہان  میں

مثال اور  دوں میں  کیا حُسین   کے   مقام  کی
ہے  نام  اُن  کا  سربلند  زمین و آسمان   میں

انہیں  تو  روز.حشر پھر  کہیں  نہیں  ہے  خوف  کچھ
جو  لوگ  روز.حشر  ہیں حُسین  کی  امان  میں

جو  چاہتا  ہے  یہ  اگر  تری  دُعا قبول  ہو
تو  واسطہ حُسین  کا  تو  ڈال  درمیان  میں

نہیں تھا  کوئی  غم  انہیں لُٹا  کے  گھر  بھی صبر  تھا
خُدائے لم یزل  کی  بس رہی  رضا  دھیان  میں

ڈٹے  رہے  وہ  حق  پہ  ہی کہیں بھی  گل نہیں جھکے
کٹا  کے  سر  کو سرخرو  ہوئے  وہ امتحان  میں



غیرحاضر Zeeshan_Haider

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 41
جواب: یہ بات با خدا ہے سچ جو ہے مرے بیان میں
« Reply #1 بروز: اکتوبر 11, 2017, 01:20:21 صبح »
گُلہائے عقیدت / یہ بات با خدا ہے سچ جو ہے مرے بیان میں
« بروز: ستمبر 23, 2016, 11:00:04 شام »
یاران اردو انجمن تسلیمات ایک منقبت اصلاح کی غرض سے لے کر حآضر ہوا ہوں  امد ہے  مجھ  ناچیز کو  پہلے کی طرح  رہنمائی  ملے گی 
          منقبت امام علی مقام  رضی اللہ عنہ
یہ  بات  با  خدا  ہے   سچ جو  ہے  مرے  بیان  میں
نہ  تھا نہ  ہے  نہ  آئے  گا  حُسین  سا  جہان  میں

مثال اور  دوں میں  کیا حُسین   کے   مقام  کی
ہے  نام  اُن  کا  سربلند  زمین و آسمان   میں

انہیں  تو  روز.حشر پھر  کہیں  نہیں  ہے  خوف  کچھ
جو  لوگ  روز.حشر  ہیں حُسین  کی  امان  میں

جو  چاہتا  ہے  یہ  اگر  تری  دُعا قبول  ہو
تو  واسطہ حُسین  کا  تو  ڈال  درمیان  میں

نہیں تھا  کوئی  غم  انہیں لُٹا  کے  گھر  بھی صبر  تھا
خُدائے لم یزل  کی  بس رہی  رضا  دھیان  میں

ڈٹے  رہے  وہ  حق  پہ  ہی کہیں بھی  گل نہیں جھکے
کٹا  کے  سر  کو سرخرو  ہوئے  وہ امتحان  میں


محترم اختر حمید گل صاحب!

السلام و علیکم

آپ کی منقبت نظر سے گزری، کئی دنوں سے وقت نہیں مل رہا تھا کہ کچھ لکھ سکوں۔ اپنے خیالات کا اظہار کئے دیتا ہوں اگر کوئی بات ناگوار گزرے تو معاف فرمائیے گا۔

آپ نے عنوان میں لکھا منقبت امام علی مقام جبکہ منقبت حضرت حسین کی ہے۔ شاید آپ منقبت امام عالی مقام لکھنا چاہتے ہوں گے۔

مثال اور  دوں میں  کیا حُسین   کے   مقام  کی
ہے  نام  اُن  کا  سربلند  زمین و آسمان   میں

بلند میں "ن" بھی تقطیع میں شمار ہوتا ہے جو کہ آپ نے نہیں کیا اس وجہ سے یہ مصرعہ بحر سے خارج ہو گیا ہے۔ دوبار کہنے کی ضرورت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انہیں  تو  روز.حشر پھر  کہیں  نہیں  ہے  خوف  کچھ
جو  لوگ  روز.حشر  ہیں حُسین  کی  امان  میں

میرے خیال میں اس شعر پر دوبارہ سوچ لیں تو کوئی حرج نہیں۔ مصرعہ اول جب بات روزِ حشر، میدانِ حشرکی ہو رہی ہے تو کہیں کا استعمال درست نہیں، اس مصرعہ کا بیانیہ مستقبل میں ہو تو زیادہ اچھا ہے۔ اسی طرح دوسرے مصرعہ کا بھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جو  چاہتا  ہے  یہ  اگر  تری  دُعا قبول  ہو
تو  واسطہ حُسین  کا  تو  ڈال  درمیان  میں

اس میں بھی پہلا مصرعے کا بیانیہ درست نہیں ہے۔ جو چاہتا ہے اور پھر تیری دعا؟ مثلاً  اگر تو چاہتا ہے تیری ہر دُعا قبول ہو مگر اس کے ساتھ دوسرا مصرعہ دوبارا کہنے کی ضرورت ہو گی کیونکہ تُو کی تکرار ہو جائے گی۔

نہیں تھا  کوئی  غم  انہیں لُٹا  کے  گھر  بھی صبر  تھا
خُدائے لم یزل  کی  بس رہی  رضا  دھیان  میں

پہلا مصرعہ کچھ بہتری چاہتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈٹے  رہے  وہ  حق  پہ  ہی کہیں بھی  گل نہیں جھکے

"گل" نہیں جھکے سمجھ نہیں آیا

انہیں ایک طالب علم کے خیالات ہی جانئے گا، یقیناً اساتذہ میں سے بھی کوئی نہ کوئی اپنے رائے کا اظہار ضرور کرے گا۔ جس سے ہم دونوں مستفید ہوں گے۔

والسلام

غیرحاضر Asadullah Khan

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 126
جواب: یہ بات با خدا ہے سچ جو ہے مرے بیان میں
« Reply #2 بروز: اکتوبر 11, 2017, 03:35:00 صبح »

السلام علیکم۔

ہم ہمیشہ سے یہی سنتے پڑھتے آ رہے ہیں کہ تقطیع مکتوبی نہیں ملفوظی ہے۔ لیکن ہر دفعہ یہی لگتا ہے کہ آواز کی جگہ حروف کی تقطیع کی جاتی ہے۔ ’سربلند‘ میں یقیناً نون تو بھرپور ہے لیکن جس بھی طرح پڑھ جایئے دال کی آواز دب ہی جاتی ہے۔ یقیناً اگر اس کو پڑھنے کی بجائے سُنا ہوتا تو اس ’بے وزنی‘ کا ذرا سا بھی احساس نہ ہوا ہوتا۔ مجھے نہیں لگتا کہ ادھر یہ اعتراض کرنا چاہیے۔ لیکن، چونکہ عروض کا سارا علم حروف ہی پر کھڑا ہے اس لیے مجھ سے اتفاق کم ہی لوگ کریں گے۔


والسلام


اسد

غیرحاضر Zeeshan_Haider

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 41
جواب: یہ بات با خدا ہے سچ جو ہے مرے بیان میں
« Reply #3 بروز: اکتوبر 11, 2017, 06:02:42 صبح »
محترم جناب اسد اللہ خان صاحب

و علیکم السلام!

یقیناً تقطیع ملفوظی ہوتی ہے۔ جب آپ نے اس بات کا اعتراف کر ہی لیا ہے کہ "سربلند" میں یقیناً نون بھرپور ہے تو تقطیع میں تو آئے گا نا پھر۔ اور میں چونکہ ادنیٰ سا طالب علم ہوں اس لئے  اپنے پڑھ کے سننے سے زیادہ اساتذہ کے کلام میں دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں کے انہوں نے کس طرح استعمال کیا ہے:

آتش بلند دل کی نہ تھی ورنہ اے کلیم
یک شعلہ برق خرمنِ صد کوہ طور تھا
میر تقی میر (مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن)

ہے تو ہی دینے والا پستی سے دے بلندی
اسفل مقام میرا اعلیٰ مقام تیرا
داغ (مفعول فاعلاتن مفعول فاعلاتن)

کبھی خود دُھوپ نکھری چاندنی معلُوم ہوتی ہے
کبھی کانٹوں کی نوکوں پرلبِ گُل رنگ کی نرمی
(مفاعیلین مفاعیلین مفاعیلین مفاعیلین)

یہاں رنگ میں بھی نون تقطیع ہو رہا ہے۔

میرا خیال ہے کہ الف، ی اور واوٴ کے بعد اگر نون آئے تو تقطیع میں شمار نہیں ہوتا اس کے علاوہ آئے شمار ہوتاہے۔

باقی اساتذہ بہتر رہنمائی کر سکتے ہیں کہ بغیر نون کے بھی تقطیع کیا جا سکتا ہے کہ نہیں!

والسلام

غیرحاضر Asadullah Khan

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 126
جواب: یہ بات با خدا ہے سچ جو ہے مرے بیان میں
« Reply #4 بروز: اکتوبر 11, 2017, 06:15:03 صبح »


ذیشان حیدر صاحب، میں نے کب کہا کہ نون نہیں شمار ہوگا؟ لیکن اگر صوتیات کی رُو سے دیکھیں تو اس بحر کا رنگ ایسا ہی ہے کہ جب آپ پڑھیں تو دال کی آواز دب جاتی ہے۔ میرے خیال سے تو دال ہی کو شمار نہ کریں تو ہی ٹھیک لگے۔ ’رنگ‘ میں نون شمار نہیں ہوتا بلکہ گاف دو بار شمار ہوتا ہے۔ رگ گ۔ بولتے ہوئے بھی آپ کو محسوس ہوگا۔ یعنی جب لفظ رنگ میں ہم اس کی صوت کی وجہ سے گاف کو دو بار شمار کرتے ہیں تو اس طرح صرف اس شعر میں دال کی دبی ہوئی آواز کو نظر انداز کر دینے میں کیا حرج ہے؟

غیرحاضر Zeeshan_Haider

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 41
جواب: یہ بات با خدا ہے سچ جو ہے مرے بیان میں
« Reply #5 بروز: اکتوبر 11, 2017, 06:31:52 صبح »
آپ صیح کہہ رہے ہیں، شاید حرج نہ ہو۔ میں نے تو ایک دو اشعار دیکھے تھے جن میں بلند کو فعل کے وزن پر نہیں باندھا گیا تھا۔ اس لئے کہا تھا۔ باقی اساتذہ اگر رہنمائی فرما دیں تو سند ہو جاوے گی۔

غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 6220
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar
جواب: یہ بات با خدا ہے سچ جو ہے مرے بیان میں
« Reply #6 بروز: اکتوبر 11, 2017, 07:08:05 شام »

السلام علیکم۔

ہم ہمیشہ سے یہی سنتے پڑھتے آ رہے ہیں کہ تقطیع مکتوبی نہیں ملفوظی ہے۔ لیکن ہر دفعہ یہی لگتا ہے کہ آواز کی جگہ حروف کی تقطیع کی جاتی ہے۔ ’سربلند‘ میں یقیناً نون تو بھرپور ہے لیکن جس بھی طرح پڑھ جایئے دال کی آواز دب ہی جاتی ہے۔ یقیناً اگر اس کو پڑھنے کی بجائے سُنا ہوتا تو اس ’بے وزنی‘ کا ذرا سا بھی احساس نہ ہوا ہوتا۔ مجھے نہیں لگتا کہ ادھر یہ اعتراض کرنا چاہیے۔ لیکن، چونکہ عروض کا سارا علم حروف ہی پر کھڑا ہے اس لیے مجھ سے اتفاق کم ہی لوگ کریں گے۔


والسلام


اسد


عزیز مکرم اسد صاحب:سلام مسنون
مجھ کو آپ کا خط پڑھ کر حیرت ہوئی۔ تقطیع کے بارے میں معلوم نہیں آپ کو کہاں سے ایسی غلط فہمی ہوگئی ہے۔ تقطیع ہمیشہ ملفوظی ہی ہوتی ہے۔ آپ نے جو لکھا ہے کہ آپ کو ہمیشہ اس کے برخلاف عمل نظر آیا تو یہ آپ کی نگاہ کا قصور ہے۔ ازراہ کرم اپنے بیان کی تائید میں کوئی مثال دیجئے۔ شکریہ۔
شعر یوں ہے :
مثال اور دوں میں کیا حسین کے مقام کی
ہے نام ان کا سر بلند زمین و آسمان میں
اس کا وزن ہے : مفاعلن مفاعلن مفاعلن مفاعلن
م ثا ل او (مفاعلن)، ر دو م کا (مفاعلن)، ح سے ن کے (مفاعلن)، م قا م کی (مفاعلن)
دوسرا مصرع اس وزن پر پورا نہیں اتر رہا ہے کیونکہ اس کا وزن غلط ہے۔ بلند کی د سے زمین کی ز تک انتقال صحیح نہیں ہو رہا ہے اور ہو بھی نہیں سکتا۔ اس مصرع کو پھر سے کہنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں ایک واقعہ سن لیجئے۔
میں ساتویں درجہ میں تھا کہ اردو کے ماسٹر جناب محمود صاحب نے ایک مصرع پڑھا : سیہ پوش ہوتا جاتا ہے جہاں آہستہ آہستہ
شام کو والد صاحب نے اسکول کا سبق پوچھا تو مصرع سنتے ہی کہا کہ مصرع کا وزن غلط ہے۔ کل محمود صاحب سے کہہ دیجئے گا۔ دوسرے دن میں نے کلاس میں ذکر کیا تو محمود صاحب نے غور کر کے کہا "راز صاحب صحیح کہہ رہے ہیں۔ مصرع غلط ہے" اور پھر کچھ سوچ کر فرمایا کہ "آپ لوگ اس مصرع کو یوں پڑھیں: سیہ جو ہوتا جاتا ہے جہاں آہستہ آہستہ"  یہاں بھی وہی کیفیت ہے کہ پوش کی ش سے ہو کی ہ تک انتقال زبان نہیں ہو رہا ہے۔
امید ہے کہ بات واضح ہو گئی ہوگی۔

سرورعالم راز

]



 

Copyright © اُردو انجمن