اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: ہمت ہی کہاں ہے کہ سہیں اور جفا اب  (پڑھا گیا 94 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر Zeeshan_Haider

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 41
ہمت ہی کہاں ہے کہ سہیں اور جفا اب
« بروز: اکتوبر 13, 2017, 01:00:17 شام »
 :typ:سلام مسنون!
ایک نئی غزل پیشِ خدمت ہے۔ اپنی قیمتی آراء سے نوازیئے (ذرا سی ترمیم کے ساتھ)

بس اور نہ دیکھیں گے ترے ناز و ادا اب
ہمت ہی کہاں ہے کہ سہیں اور جفا اب

اس شہرِ پریشاں میں گرفتارِ جُنوں ہیں
افسوس کہ اپنا بھی سہارا نہ رہا اب

جس صبر نے ہر دورِ مصیبت میں سنبھالا
وہ عُنصرِ یکجائی ہوا مجھ سے جدا اب

قصے جو ملیں گے تو کتابوں میں ملیں گے
بس نام ہی کی رہ گئی دُنیا میں وفا اب

ہم لوگ ہیں پہلے ہی محبت کے ستائے
تُو اور نہ اے گردشِ ایام ستا اب

ہر شخص نے چہرے پہ سجا رکھا ہے چہرا
ہر شخص نظر آتا ہے باہر سے جدا اب

ڈھا ڈھا کے ستم اپنے وفاداروں پہ صاحب
دُنیا میں کہاں ڈھونڈنے جاتے ہو وفا اب
« آخری ترمیم: اکتوبر 20, 2017, 09:22:39 صبح منجانب Zeeshan_Haider »



غیرحاضر Asadullah Khan

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 130
جواب: ہمت بھی کہاں ہے کہ سہیں اور جفا اب
« Reply #1 بروز: اکتوبر 14, 2017, 01:42:32 صبح »
بہت خوب۔

غیرحاضر Zeeshan_Haider

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 41

 

Copyright © اُردو انجمن