اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: فضول میں اپنا موازنہ دوسروں سے نہ کیجئے  (پڑھا گیا 598 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3323
فضول میں اپنا موازنہ دوسروں سے نہ کیجئے
« بروز: نومبر 13, 2017, 06:05:14 صبح »

کسی جنگل میں ایک کوآ رہتا تھا۔ کوآ اپنی زندگی سے بڑا مطمئن اور خوش باش تھا۔ ایک دن کوے نے پانی میں تیرتے سفید ہنس کو دیکھا۔ کوا ہنس کے دودھ جیسے سفید رنگ اور خوبصورتی سے بڑا متاثرهوا اور سوچنے لگا کہ یہ ہنس تو یقینا'' دنیا کا خوبصورت ترین اور خوش ترین پرندہ ہوگا اوراس کے مقابلے میں میں کتنا کالا کلوٹا ہوں۔
کوے نے جب یہی بات ہنس سے کی تو ہنس بولا کہ میں بھی اپنے آپ کو دنیا کا خوبصورت اور خوش قسمت ترین پرندہ سمجھتا تھا لیکن جب میں نے طوطے کو دیکھا تو مجھے اسپر رشک آیا کہ اس کو دو خوبصورت رنگوں سے نوازا گیا ہے اور میرے خیال میں تو طوطا دنیا کا سب سے خوبصورت پرندہ ہے۔
کوا یہ سب سن کر طوطے کے پاس پہنچا۔جب اس نے یہی بات طوطے سے کہی تو طوطا بولا کہ میں بھی بڑا خوش باش اور اپنی زندگی اور خوبصورتی سے بْڑا مطمئن تھا لیکن جب سے میں نے مور کو دیکھا ہے میرا سارا سكون اور خوشی غارت ہو گئ ہے۔ مور کو تو قدرت نے بے شمار ْخوب صورت رنگوں سے نوازا ہے،
۔''
کوا مور کو ڈھونڈتے ہوئے چڑیا گھر پہنچ گیا جہاں مور ایک پنجرے میں قید تھا اور سینکڑوں لوگ اسے دیکھنے کے لئے جمع تھے۔ شام کو جب ذرہ لوگوں کی بھیڑ چھٹی تو کوا مور کے پاس پہنچا اور بولا،
'' پیارے مور، تم کس قدر خوبصورت ہو۔ تمہارا ایک ایک رنگ کتنا خوبصورت ہے۔ روزانہ ہزاروں لوگ تمہیں دیکھنے آتے ہیں اور ایک میں ہوں کہ مجھے دیکھتے ہی شو شو کر کے مجھے بھگا دیتے ہیں۔ تم یقینا'' دنیا کے خوبصورت اور خوش قسمت ترین پرندے ہو۔ تم کتنے خوش ہوگے۔ ''
مور بولا۔ '' ہاں میں بھی خود کو دنیا کا سب سے حسین پرندہ سمجھتا تھا لیکن ایک دن اسی خوبصورتی کی وجہ سے مجھے پکڑ کر اس پنجرے میں قید کر لیا گیا۔ جب میں اس چڑیا گھر کا جائزہ لیتا ہوں تو ایک کوا ہی ایسا پرندہ ہے جسے پنجرے میں نہیں رکھا گیا ہے۔ اب پچھلے کچھ دنوں سے میں سوچتا ہوں کہ کاش میں ایک کوا ہوتا اور آزادی سے جنگلوں میں اڑتا گھومتا پھرتا۔''
بالکل یہی مسئلہ ہمارا بھی ہے۔ ہم ہر وقت غیر ضروری طور پر دوسروں کے ساتھ اپنا موازنہ کرتے رہتے ہیں۔۔ اللہ پاک نے ہمیں جن نعمتوں اور صلاحیتوں سے نوازا ہے ان کی قدر نہیں کرتے اور ہر وقت شکائتیں کرتے رہتے ہیں۔ یہی نا شکری ہم سے ہماری خوشی و شادمانی چھین لیتی ہے۔ ایک کے بعد ایک غم اور اداسی ہم کو گھیر لیتی ہے۔
اللہ کی دی ہوئ نعمتوں کی قدر کیجئے۔ فضول میں اپنا موازنہ دوسروں سے نہ کیجئے۔ یہی خوشی اور سکون کا راز ہے۔
کیسی خوبصورت بات ہے ناں۔۔۔
اللہ کی ہر نعمت کے لئے کہئے۔ ۔۔۔ الحمدُ اللہ.

 میرا مطلب ہے جس اللہ نے آپ کو آپ کی خوبیوں کے ساتھ پیدا کیا ہے اسی اللہ نے مجھے پیدا کیا ہے خود پر اترائیے مت اور مجھ پر تاؤ پیچ مت کھائیے آپ آپ ہیں اور میں میں ہوں لہٰذا اپنے آپ کو دیکھ کر مجھ میں عیب مت نکالیے یا اپنے آپ کو بہتر اور مجھے کمتر مت جانیے آپ میں اگر کوئی خوبی ہے تو یہ آپ کا ذاتی کمال نہیں ہے یہ اللہ کی عطا ہے


محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

غیرحاضر Asadullah Khan

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 135
جواب: فضول میں اپنا موازنہ دوسروں سے نہ کیجئے
« Reply #1 بروز: نومبر 14, 2017, 06:53:54 صبح »


مُحترم جناب خیالؔ صاحب۔ السلام علیکم۔

امید ہے کہ برانگیختہ نہ ہوں گے۔ اس پوسٹ کے آخری سطروں کے مخاطَب کو میں بھی جانتا ہوں اور وجہِ خطاب کو بھی۔ بلکہ اس ہی وقوعے کے بعد سے میں  نےیہاں لکھنا کچھ دیر کے لیے بند کر دیا۔ ہاں آتا تو میں باقاعدگی سے ہوں لیکن ہر طرف غُصہ اور شکایت دیکھ کر لکھنے کو جی نہیں چاہتا۔ جس پوسٹ کی بات چل رہی ہے اُس میں آپ کا رویہ بھی بہت اچھا نہ تھا اور ڈاکٹر صاحب کے ایطا کی موجودگی کے اشارے پر آپ کافی برانگیختہ نظر آئے، ایسا مجھے لگا (شاید اوروں کو بھی لگا ہو) میں یہ نہیں کہ رہا کہ آپ واقعی جارحانہ ہوئے ہوں گے۔۔۔لیکن آپ مجھے ہوتے معلوم ہوئے، کہنے کا مقصد یہ ہے کہ تحریری خطاب میں یہ مسئلہ ہوتا ہی ہے کہ بات کرنے والے کا اندازِ تکلم نظر نہیں آتا۔

میں آپ دونوں کی بات میں نہیں پڑنا چاہتا تھا، اسی لیے خاموش تھا، مگر اب بات ہے کہ ختم ہونے میں نہیں آ رہی۔ میں ڈاکٹر صاحب کو جانتا بھی نہیں، کبھی براہ راست بات بھی نہیں ہوئی اور آپ سے تو کافی آشنائی پیدا ہو چکی ہے۔ لیکن یہی کہوں گا کہ اب آپ زیادتی کر رہے ہیں۔ مجھے اچھا لگا تھا جب ڈاکٹرصاحب کے جواب میں آپ چند دن کو غائب ہوئے اور  چند ایک غُصیلی غزلوں کے ساتھ واپس آئے، یہاں تک تو بات ٹھیک تھی، لیکن پھر آپ کی غزلیں تلخ سے تلخ ہوتی گئیں اور یہ سلسلہ ختم ہونے میں ہی نہیں آ رہا۔ کفیل صاحب کے استفسار پر آپ نے فرمایا ’آپ مطمئن رہیے میں ان متکبر لوگوں سے برسرِ پیکار ہوں‘ جناب یہ کیسی جنگ ہے؟ ایک صاحب نے آپ کی غلطی کی نشاندہی کی اس پر آپ نے ان کو چڑچڑانے کا طعنہ دے مارا۔۔۔یہاں تک تو انھوں نے کچھ بھی ایسا نہیں کہا تھا جس پر آپ غصہ ہوتے۔ ڈاکٹر صاحب کی غلطی یہ ہے کہ جو انھوں نے ردِ عمل کے طور پر کہا اگر وہ اس کو ٹھیک سمجھتے ہیں تو سب کے سامنے نہیں کہنا چاہیے تھا اکیلے میں کہ سکتے تھے (اور انجمن میں اس کا انتظام بھی موجود ہے)، اور اگر صرف غصے میں کہا تھا تو اور اس کا مقصد اصلاح نہیں تھا تو معافی مانگ لیتے۔ اور انھوں نے بات ختم کرنے کی کوشش بھی کی تھی آپ کی غزل پر تبصرہ کر کے۔

اس لیے جناب، اگر تمام ارکانِ انجمن کو نہیں تو کم از کم مجھے تو یہ لگتا ہے کہ یہ سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے۔ وہ بھی تب، جب آپ کا مُخاطَب آپ کے ہر وار کو نظر انداز کر رہا ہے اور کوئی جوابی کارروائی نہیں کر رہا۔ جب وہ کوئی ردِ عمل دے ہی نہیں رہے تو ان تمام باتوں کا کوئی مقصد نہیں رہتا۔

امید ہے کہ عمر کے بڑے ہونے کے باوجود آپ مجھ کم عمر اور کم تجربہ کار کی بات پر دھیان ضرور دیں گے۔

ایک بات واضح کرنا چاہوں گا۔ میرا اعتراض ان غزلوں پر نہیں ہے جن میں ایک آدھ شعر اس موضوع پر ہوتا ہے۔۔۔یقیناً آپ دکھی ہیں اور اس کا اظہار آپ کے کلام میں نہیں ہوگا تو اور کہاں ہوگا۔ میرا اعتراض ان غزلوں پر ہے جو کہی ہی کسی کی نفرت میں گئی ہیں۔ اور اس طرح کی کہانیاں جن سے حاصل ہونے والے اصلاحی نتیجے کو آپ موڑ توڑ کر ادھر لا رہے ہیں۔ ان غزلوں اور ایسی کہانیوں کا واحد مقصد کسی کی تضحیک اور ہجو بیان کرنا ہی نظر آتا ہے۔ اس سے ادب کی کیا خدمت مقصود ہے؟

مجھے معلوم ہے کہ اس حساس موضوع پر بات کرنا بہتوں کا ٹھیک نہ لگے، لیکن آج مجھے یہی ٹھیک لگا کہ جو مجھے ٹھیک لگتا ہے وہ دو ٹوک کہ دوں۔

ولسلام

اسد

« آخری ترمیم: نومبر 14, 2017, 08:35:08 صبح منجانب Asadullah Khan »

 

Copyright © اُردو انجمن