اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: غزل برائے اصلاح: پاسِ وفا مزاج میں شامل نہیں رہا  (پڑھا گیا 380 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر azeemdin

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 7
اسلام علیکم، احباب سے غزل کے بارے میں اصلاح و تنقید کی گذارش ہے۔

مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن
پاسِ وفا مزاج میں شامل نہیں رہا
یہ شہر اعتبار کے قابل نہیں رہا
آنکھوں سے آنسؤں کی نمی خشک کیوں نہ ہو
سینے میں سوز سے بھرا وہ دل نہیں رہا
دولت لٹا کے پیار کی سیکھی ہیں نفرتیں
میں بھی خدا کے فضل سے جاہل نہیں رہا
محفل میں رقص موت کا اس بار ٹل گیا
پروانہ آج شمع پہ مائل نہیں رہا
دیکھا ہے جب سے حسن کا انجام عشق نے
شہرِ وفا میں ایک بھی سائل نہیں رہا
دریا بھی کھو گیا ہے سمندر میں ڈوب کر
باقی یہاں پہ اب کوئی ساحل نہیں رہا



غیرحاضر Ejaz Ahmad

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 8
  • جنس: مرد
جواب: غزل برائے اصلاح: پاسِ وفا مزاج میں شامل نہیں رہا
« Reply #1 بروز: اپریل 01, 2018, 12:35:43 شام »
وعلیکم السلام۔
ماشااللہ۔ آپ کی غزل بہت عمدہ ہے۔
لیکن دوسرے شعر کے دوسرے مصرع میں وہ کی جگہ جو لگا دیجیے

غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 6356
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar
جواب: غزل برائے اصلاح: پاسِ وفا مزاج میں شامل نہیں رہا
« Reply #2 بروز: اپریل 01, 2018, 06:26:02 شام »

مکرمی عظیم صاحب: سلام مسنون
آپ کی غزل دیکھی۔ اس سے ظاہر ہے کہ غزل کے دروبست سے آپ بخوبی واقف ہیں۔ پیشانی پر غزل کا وزن درج کرنا اس بات کا غماز ہے کہ آپ عروض سے بھی شوق رکھتے ہیں۔ عام طور سے شعرا اپنی غزل کا وزن درج نہیں کرتے ہیں۔ غزل میں کوئی عروضی جھول دکھائی نہیں دیتا ہے۔ آپ کی مشق کافی پرانی ہے۔ یہ سب کہنے کا مقصد سرف یہ ہے کہ آپ کو اصلاح کی ضرورت نہیں ہے۔ میری ناچیز رائے میں مضامین بلند کرنے کی اور اپنی فکرکوگہری اور معنی آفریں بنانے کی ضرورت ہے۔ یہ ضرورت تقریبا ہر شاعر کو ہوتی ہے سو یہ کسی تذبذب یا فکر و تامل کا مقام نہیں ہے۔
آپ اجازت دیں تو دو ایک باتیں عرض کرنا چاہوں گا۔ امید ہے کہ اگر یہ سود مند نہیں ہیں تو ان سے کوئی نقصان بھی نہیں ہوگا۔ انشااللہ۔
پاسِ وفا مزاج میں شامل نہیں رہا
یہ شہر اعتبار کے قابل نہیں رہا
مطلع بہت خوب ہے۔ داد حاضر ہے!
آنکھوں سے آنسؤں کی نمی خشک کیوں نہ ہو
سینے میں سوز سے بھرا وہ دل نہیں رہا
شعر ٹھیک ہے البتہ بیانیہ ہے یعنی اس میں تغزل، شعریت اور سوزوساز کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ یقینا آپ اس کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ 
دولت لٹا کے پیار کی سیکھی ہیں نفرتیں
میں بھی خدا کے فضل سے جاہل نہیں رہا
دوسرا مصرع واقعی بہت تیکھا اور توجہ طلب ہے لیکن پہلا اس معیار پر پورا نہیں اترتا ہے۔ کوئی پیار کی دولت کودوسروں پر صرف کرکے نفرت کیوں اور کیسے سیکھ سکتا ہے؟ بات بہت مبہم ہے اور دوسرے مصرع سے اپنا رشتہ نہیں جوڑ سکی ہے۔کم سے کم مجھ کو یہی احساس ہوا۔
محفل میں رقص موت کا اس بار ٹل گیا
پروانہ آج شمع پہ مائل نہیں رہا
یہ شعر بھرتی کا معلوم ہورہا ہے جو شاید قافیہ پیمائی کی فکر میں صادر ہوگیا ہے۔ شعر میں کوئی غیر معمولی یا توجہ طلب بات نہیں ملی۔ یہ میری کم فہمی کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے۔ واللہ اعلم۔
دیکھا ہے جب سے حسن کا انجام عشق نے
شہرِ وفا میں ایک بھی سائل نہیں رہا
حسن کے کس انجام کا ذکر ہے؟ کوئی اشارہ شعر میں نہیں ہے۔ اس ابہام نے شعر کی قیمت کو بہت کم کردیا ہے۔ ایسا میرا تاثرہے۔
دریا بھی کھو گیا ہے سمندر میں ڈوب کر
باقی یہاں پہ اب کوئی ساحل نہیں رہا
یہ شعر میری سمجھ میں نہ آیا۔ ہر دریا سمندر میں ڈوب جاتا ہے لیکن اس کا یا سمندر کا ساحل تو کہیں نہیں جاتا۔ ساحل کے غائب ہوجانے کی صورت گری سے آپ کی کیا مراد ہے اگر وضاحت کردیں اور پھر شعر کو یہی مطلب ادا کرنے پر مجبور کریں تو کیسا رہے گا؟
امید ہے کہ کوئی بات ناگوار خاطر نہیں گزری ہوگی۔ شکریہ۔

سرور عالم راز




س



 

Copyright © اُردو انجمن