اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: غزل برائے اصلاح: پاسِ وفا مزاج میں شامل نہیں رہا  (پڑھا گیا 102 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر azeemdin

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 7
اسلام علیکم، احباب سے غزل کے بارے میں اصلاح و تنقید کی گذارش ہے۔

مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن
پاسِ وفا مزاج میں شامل نہیں رہا
یہ شہر اعتبار کے قابل نہیں رہا
آنکھوں سے آنسؤں کی نمی خشک کیوں نہ ہو
سینے میں سوز سے بھرا وہ دل نہیں رہا
دولت لٹا کے پیار کی سیکھی ہیں نفرتیں
میں بھی خدا کے فضل سے جاہل نہیں رہا
محفل میں رقص موت کا اس بار ٹل گیا
پروانہ آج شمع پہ مائل نہیں رہا
دیکھا ہے جب سے حسن کا انجام عشق نے
شہرِ وفا میں ایک بھی سائل نہیں رہا
دریا بھی کھو گیا ہے سمندر میں ڈوب کر
باقی یہاں پہ اب کوئی ساحل نہیں رہا



 

Copyright © اُردو انجمن