اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: وہ روشنی ہے میں اُس کا ہالہ  (پڑھا گیا 268 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر K. Ashraf

  • Adab Dost
  • ***
  • تحریریں: 728
وہ روشنی ہے میں اُس کا ہالہ
« بروز: دسمبر 04, 2017, 01:44:45 شام »

غزل
کے اشرف

وہ روشنی ہے میں اُس کا  ہالہ
میں بھی نرالا وہ بھی نرالا

میں بن گیا ہوں اُس کا حوالہ
وہ  بن گیا ہے میرا حوالہ

کوئی نہیں ہے اُس کے علاوہ
دکھ دینے والا سکھ دینے والا

جس میں نہ شامل خونِ جگر ہو
زہرِ ہلاہل ہے وہ  نوالہ

ہے تشنگی گر عرفاں میں  اب تک
حاضر ہے سائیں میرا پیالہ

گزرے جدائی میں جتنے لمحے   
کیسے کروں میں اُن کا ازالہ

خواجہ ؔجی آئی جاں   اب لبوں پر
شاید وہ سن لے اب میرا نالہ

******



غیرحاضر سہیل ملک

  • Naazim
  • Adab Fehm
  • *****
  • تحریریں: 1208
  • جنس: مرد
    • Medicine Pakistan
جواب: وہ روشنی ہے میں اُس کا ہالہ
« Reply #1 بروز: دسمبر 05, 2017, 02:38:15 صبح »
بہت خوب خواجہ جی

بہت عمدہ غزل کہی ہے

ہلکی پھلکی ترو تازہ

داد

والسلام

ڈاکٹر سہیل ملک

http://www.medpk.com

غیرحاضر K. Ashraf

  • Adab Dost
  • ***
  • تحریریں: 728
جواب: وہ روشنی ہے میں اُس کا ہالہ
« Reply #2 بروز: دسمبر 05, 2017, 10:45:40 صبح »

محترم ملک صاحب
میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے میری ناچیز کاوش
کی تحسین کی۔
خوش رہئے اور جیتے رہئے۔
نیازمند و خاکسار
کے اشرف

غیرحاضر Dr. Ahmad Nadeem Rafi

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 111
جواب: وہ روشنی ہے میں اُس کا ہالہ
« Reply #3 بروز: دسمبر 05, 2017, 09:19:53 شام »
وہ روشنی ہے میں اُس کا  ہالہ
میں بھی نرالا وہ بھی نرالا

میں بن گیا ہوں اُس کا حوالہ
وہ  بن گیا ہے میرا حوالہ

کوئی نہیں ہے اُس کے علاوہ
دکھ دینے والا سکھ دینے والا

بہت خوب ! اشرف صاحب

سادہ مگر پر اثر کلام -

مخلص
ڈاکٹر احمد ندیم رفیع

غیرحاضر K. Ashraf

  • Adab Dost
  • ***
  • تحریریں: 728
جواب: وہ روشنی ہے میں اُس کا ہالہ
« Reply #4 بروز: دسمبر 06, 2017, 12:28:41 شام »

محترم و مکرّم ڈاکٹر صاحب
میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے میری ناچیز کاوش
کو پڑھا اور پھر اس کے بارے میں اظہار پسندیدگی فرمایا۔
خوش رہئے اور جیتے رہئے۔
نیازمندو خاکسار
کے اشرف

غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • ******
  • تحریریں: 6270
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar
جواب: وہ روشنی ہے میں اُس کا ہالہ
« Reply #5 بروز: دسمبر 06, 2017, 01:43:56 شام »

غزل
کے اشرف

وہ روشنی ہے میں اُس کا  ہالہ
میں بھی نرالا وہ بھی نرالا

میں بن گیا ہوں اُس کا حوالہ
وہ  بن گیا ہے میرا حوالہ

کوئی نہیں ہے اُس کے علاوہ
دکھ دینے والا سکھ دینے والا

جس میں نہ شامل خونِ جگر ہو
زہرِ ہلاہل ہے وہ  نوالہ

ہے تشنگی گر عرفاں میں  اب تک
حاضر ہے سائیں میرا پیالہ

گزرے جدائی میں جتنے لمحے   
کیسے کروں میں اُن کا ازالہ

خواجہ ؔجی آئی جاں   اب لبوں پر
شاید وہ سن لے اب میرا نالہ

******

مکرمی خواجہ صاحب: سلام مسنون
"وہ روشنی ہے، میں اس کا ہالہ"
روشنی کا ہالہ یعنی کیا؟ کبھی سنا یادیکھا یاپڑھا نہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ غلط ہے۔ محض یہ پوچھنا ہے کہ کیا لغت کے لحاظ سے یہ درست ہے؟ اور دوسرے یہ کہ اس سے تعریف کا پہلو کیسے نکلتا ہے؟

سرورعالم راز



غیرحاضر K. Ashraf

  • Adab Dost
  • ***
  • تحریریں: 728
جواب: وہ روشنی ہے میں اُس کا ہالہ
« Reply #6 بروز: دسمبر 06, 2017, 07:50:30 شام »

محترم سرور راز صاحب
آپ کے سامنے میں کسی چیز کی تشریح و تعبیر کروں یہ کیسے ممکن ہے؟
چونکہ آپ نے حکم دیا ہے تو عرض کیے دیتا ہوں۔ میں آپ کی بات سے ہرگز یہ مطلب اخذ نہیں
کر رہا  کہ آپ نے کبھی لفظ ہالہ نہیں پڑھا یا آپ کو اس کے معنی معلوم نہیں۔
ادب کی تمام حدو ں میں رہتے ہوئے عرض کرتا ہوں کہ ہالہ کا مطلب ہے روشنی کا وہ دائرہ جو چاند کے گرد بنتا ہے۔ اس
دائرے کا اپنا کوئی وجود نہیں ہوتا۔ اصل وجود چاند کا  ہے جس کی وجہ سے وہ دائرہ معرض وجود میں آتا ہے۔
اگر چاند نہ رہے تو اس دائرے کا وجود بھی ختم ہو جائے۔
اس شعر میں شاعر نے اسی صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے محبوب کو روشنی اور خود کو اس کا  ہالہ قرار دیا ہے۔
مقصد یہ ہے کہ عاشق کا اپنا کوئی وجود نہیں ہے۔ محبوب ہی اصل حقیقت ہے یا اسی کا وجود وجودِ حقیقی ہے۔
پہلے مصرعے کے بعد دوسرے مصرعے میں اس بات سے پھر معنی آفرینی کی ہے  چونکہ محبوب کا روشنی ہونا ایک نرالا عمل ہے اس لیے اُس کا ہالہ ہونے کی وجہ سے عاشق کا ہونا بھی ایک نرالا عمل ہے۔
توقع ہے کہ آپ نے جو سوال اٹھایا ہے اس کی وضاحت ہو گئی ہوگی۔ 
نیازمندو خاکسار
کے اشرف

غیرحاضر vb jee

  • Adab Fehm
  • ****
  • تحریریں: 1253
  • جنس: مرد
جواب: وہ روشنی ہے میں اُس کا ہالہ
« Reply #7 بروز: دسمبر 07, 2017, 07:45:21 صبح »

غزل
کے اشرف

وہ روشنی ہے میں اُس کا  ہالہ
میں بھی نرالا وہ بھی نرالا

میں بن گیا ہوں اُس کا حوالہ
وہ  بن گیا ہے میرا حوالہ

کوئی نہیں ہے اُس کے علاوہ
دکھ دینے والا سکھ دینے والا

جس میں نہ شامل خونِ جگر ہو
زہرِ ہلاہل ہے وہ  نوالہ

ہے تشنگی گر عرفاں میں  اب تک
حاضر ہے سائیں میرا پیالہ

گزرے جدائی میں جتنے لمحے   
کیسے کروں میں اُن کا ازالہ

خواجہ ؔجی آئی جاں   اب لبوں پر
شاید وہ سن لے اب میرا نالہ

******


محترم جناب کے اشرف صاحب ! السلام علیکم

واہ جناب کیا ہی بات ہے۔ اتنے عرصہ کے بعد آپ کے خوبصورت کلام سے لطف اندوز ہوئے۔ پُرانی یادیں تازہ ہو گئیں۔ بُہت ہی خوب اشعار نکالے ہیں۔ ہماری طرف سے بے داد قبول کیجے۔ ایک دو باتیں جو ذہن میں آتی ہیں وہ عرض کئیے دیتے ہیں۔ امید ہے ہمیشہ کی طرح ناچیز سے خفا نہ ہونگے بلکہ رہنمائی فرمائیں گے۔

ایک تو مطلع سے متعلق ہماری رائے میں روشنی کا ہالہ سے بہتر چاند کا ہالہ ہے۔ شاید ہمارا ذہن یہی سُننے کا عادی ہے اس لئیے زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے۔ جیسے :وہ چاند ہے اور میں اُس کا ہالہ:۔۔۔ باقی آپ ہم سے بہتر علم رکھتے ہیں سو بہتر سمجھتے بھی ہیں۔

دوسری بات یہ کہ ہمیں اب اتنے عرصہ کے بعد شاید دوبارہ محنت کرنی پڑے گی۔ تمام احباب میں سے کسی نے بحر سے متعلق کوئی بات نہیں کی سو ہمیں یقین ہے کہ ہے تو یہ درست ہی لیکن نجانے کیوں ہمیں کُچھ مسئلہ پیش آ رہا ہے۔ ہمیں بحر میں :فعلُ فعولن: اور : فعول فعلن: نظر آ رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ہم بحر نہ پکڑ سکے ہوں۔ آپ نے ضرور ہمیشہ کی طرح روانی کو محسوس کر کہ ہی لکھا ہے۔ لیکن ہمیں یہاں آپ سے اور احباب سے مدد کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔

وہ روشنی ہے میں اُس کا  ہالہ ۔۔۔۔ فعول فعلن فعول فعلن
میں بھی نرالا وہ بھی نرالا ۔۔۔۔ فعولُ فعلن فعول فعلن ۔۔۔ یا فعلُ فعولن فعلُ فعولن

میں بن گیا ہوں اُس کا حوالہ ۔۔۔ فعول فعلن فعلُ فعولن
وہ  بن گیا ہے میرا حوالہ  ۔۔۔ فعول فعلن فعلُ فعولن

کوئی نہیں ہے اُس کے علاوہ ۔۔ فعلُ فعولن فعلُ فعولن
دکھ دینے والا سکھ دینے والا ۔۔ فعلن فعولن فعلن فعولن ۔۔ یا ۔۔ فعلن فعولُ فعلن فعولُ ۔۔ ؟

جس میں نہ شامل خونِ جگر ہو ۔۔ فعلُ فعولن فعلُ فعولن
زہرِ ہلاہل ہے وہ  نوالہ ۔۔ فعلُ فعولن فعلُ فعولن

ہے تشنگی گر عرفاں میں  اب تک ۔۔ فعولُ فعلن فعلُ فعولن ۔۔ ؟
حاضر ہے سائیں میرا پیالہ ۔۔ فعلن فعولن فعلُ فعولن ۔۔ ؟

گزرے جدائی میں جتنے لمحے   ۔۔ فعلُ فعولن فعولُ فعلن ۔۔ ؟
کیسے کروں میں اُن کا ازالہ ۔۔ فعلُ فعولن فعلُ فعولن

خواجہ ؔجی آئی جاں   اب لبوں پر ۔۔ فعلُ فعولن فعلن فعولن
شاید وہ سن لے اب میرا نالہ ۔۔ فعلن فعولن فعلن فعولن


امید ہے مدد فرمائیں گے۔

دُعا گو



گنگناتی رهے گی انھیں تو سدا
اتنے نغمے تِرے نام کر جائیں گے

غیرحاضر K. Ashraf

  • Adab Dost
  • ***
  • تحریریں: 728
جواب: وہ روشنی ہے میں اُس کا ہالہ
« Reply #8 بروز: دسمبر 07, 2017, 10:17:12 صبح »

محترم وی بی جی
آپ کو عرصہ بعد انجمن میں دیکھ کر خوشی ہوئی ۔
غزل کی پسندیدگی کے لیے شکر گزار ہوں۔ روشنی کی وضاحت میں نے محترم راز صاحب کو دیے گئے
جواب میں کر دی ہے۔ ہالہ صرف چاند کا نہین ہوتا۔ تارک راتوں میں دور سے دکھائی
دینے والی ہر روشنی کے گرد ہالہ ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے بارے میں قران میں کہا ہے کہ وہ زمین و آسمان کا نور (روشنی ) ہے۔
دوسرا سوال بحر کے بارے میں ہے۔  اس ضمن میں عرض ہے کہ میں بحروں کا علم نہیں رکھتا۔
تکنیکی طور پر آپ کی بات درست ہے لیکن مجھے الفاظ کے اتار چڑھاو میں کوئی فرق محسوس
نہیں ہوتا۔ اس لیے اس  کے تکنیکی رموز کو میں عروضیوں پر چھوڑتا ہوں شاید وہ اس
پر بہتر روشنی ڈال سکیں۔
توقع ہے کہ آپ انجمن میں باقاعدگی سے آتے جاتے رہیں گے اور ہمیں اپنی خوبصورت
تخلیقات سے نوازتے رہیں گے۔
نیازمند و خاکسار
کے اشرف

غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • ******
  • تحریریں: 6270
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar
جواب: وہ روشنی ہے میں اُس کا ہالہ
« Reply #9 بروز: دسمبر 07, 2017, 03:12:19 شام »

محترم سرور راز صاحب
آپ کے سامنے میں کسی چیز کی تشریح و تعبیر کروں یہ کیسے ممکن ہے؟
چونکہ آپ نے حکم دیا ہے تو عرض کیے دیتا ہوں۔ میں آپ کی بات سے ہرگز یہ مطلب اخذ نہیں
کر رہا  کہ آپ نے کبھی لفظ ہالہ نہیں پڑھا یا آپ کو اس کے معنی معلوم نہیں۔
ادب کی تمام حدو ں میں رہتے ہوئے عرض کرتا ہوں کہ ہالہ کا مطلب ہے روشنی کا وہ دائرہ جو چاند کے گرد بنتا ہے۔ اس
دائرے کا اپنا کوئی وجود نہیں ہوتا۔ اصل وجود چاند کا  ہے جس کی وجہ سے وہ دائرہ معرض وجود میں آتا ہے۔
اگر چاند نہ رہے تو اس دائرے کا وجود بھی ختم ہو جائے۔
اس شعر میں شاعر نے اسی صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے محبوب کو روشنی اور خود کو اس کا  ہالہ قرار دیا ہے۔
مقصد یہ ہے کہ عاشق کا اپنا کوئی وجود ہے۔ محبوب ہی اصل حقیقت ہے یا اسی کا وجود وجودِ حقیقی ہے۔
پہلے مصرعے کے بعد دوسرے مصرعے میں اس بات سے پھر معنی آفرینی کی ہے  چونکہ محبوب کا روشنی ہونا ایک نرالا عمل ہے اس لیے اُس کا ہالہ ہونے کی وجہ سے عاشق کا ہونا بھی ایک نرالا عمل ہے۔
توقع ہے کہ آپ نے جو سوال اٹھایا ہے اس کی وضاحت ہو گئی ہوگی۔ 
نیازمندو خاکسار
کے اشرف

عزیزمکرم خواجہ صاحب: سلام مسنون!
سب سے پہلے تو عرض ہے کہ میں وی بی جی کا خط اور آپ کی جانب سے اس کا جواب پڑھ چکا ہوں۔ کوئی بات دہرادوں تو معذرت!
میرے علم میں ہالہ اصطلاح ایک خاص صورت حال کے لئے ہے۔ آپ نے جو لکھا ہے کہ ہر روشن چیز کے آس پاس ہالہ ہوتا ہے تو میں نے ایسا کبھی نہیں دیکھا یا سنا۔ ہو سکتا ہے کہ میرا علم نا قص ہو۔ اب آمدم بر سر مطلب۔
آپ نے اپنے شعر کی جو پر لطف اور نازک توضیح کی ہے اس جانب تومیرا ذہن گیا بھی نہیں تھا کیونکہ میں چاند کے اردگرد ہالہ سے ناواقف تھا ۔ اگر آپ کے کسی قاری کا ذہن آپ کی دی ہوئی تشریح سے متفق ہے تو میں آپ کی معنی آفرینی اورقاری کی شعرفہمی کی دلی داد پیش کرتا ہوں۔ میرے ذہن میں ہالہ روشنی کا وہ حلقہ یا دائرہ ہےجو لوگ عقیدت میں کسی بزرگ کی تصویر میں اس کے سر کے اردگرد بنادیتے ہیں۔ آپ نے یہ ہالہ حضرت عیسیِ کی تصویر پر یا گرونانک کی تصویر پر یا دیگر تصاویر پر ضرور دیکھا ہوگا۔ گویا ہالہ کسی کی فضیلت دکھانے کا ایک طریقہ ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہالہ کسی شخص کے سر کے اردگرد تو ہوسکتا ہے بلکہ ہوتا ہے لیکن روشنی کاہالہ نہیں ہوسکتا کیونکہ ہالہ تو خود روشنی سے ہی بنتا ہے۔ پھر بھلا وہ "روشنی" کے اردگرد کیوں کر ہوسکتا ہے؟ یہ فکر تھی جس نے مجھ سے خط لکھوایا تھا۔ وی بی جی کے خط سے ایسا اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی سوچ بھی اسی جانب گئی ہے حالانکہ انہوں نے کھل کر ایسا نہیں لکھا ہے۔ میں اب بھی اپنی فکر پر قائم ہوں اور وی بی جی کی تائید کرتا ہوں۔ زیادہ حد ادب۔
رہ گیا بحر کا معاملہ تو وہ اگلے خط میں سہی! راوی گڑگڑی میں انگارے رکھنے باورچی خانے گیا ہوا ہے۔ اس کی جانب سے سلام!

سرورعالم راز





غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • ******
  • تحریریں: 6270
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar
جواب: وہ روشنی ہے میں اُس کا ہالہ
« Reply #10 بروز: دسمبر 07, 2017, 03:21:46 شام »

غزل
کے اشرف

وہ روشنی ہے میں اُس کا  ہالہ
میں بھی نرالا وہ بھی نرالا

میں بن گیا ہوں اُس کا حوالہ
وہ  بن گیا ہے میرا حوالہ

کوئی نہیں ہے اُس کے علاوہ
دکھ دینے والا سکھ دینے والا

جس میں نہ شامل خونِ جگر ہو
زہرِ ہلاہل ہے وہ  نوالہ

ہے تشنگی گر عرفاں میں  اب تک
حاضر ہے سائیں میرا پیالہ

گزرے جدائی میں جتنے لمحے   
کیسے کروں میں اُن کا ازالہ

خواجہ ؔجی آئی جاں   اب لبوں پر
شاید وہ سن لے اب میرا نالہ

******


محترم جناب کے اشرف صاحب ! السلام علیکم

واہ جناب کیا ہی بات ہے۔ اتنے عرصہ کے بعد آپ کے خوبصورت کلام سے لطف اندوز ہوئے۔ پُرانی یادیں تازہ ہو گئیں۔ بُہت ہی خوب اشعار نکالے ہیں۔ ہماری طرف سے بے داد قبول کیجے۔ ایک دو باتیں جو ذہن میں آتی ہیں وہ عرض کئیے دیتے ہیں۔ امید ہے ہمیشہ کی طرح ناچیز سے خفا نہ ہونگے بلکہ رہنمائی فرمائیں گے۔

ایک تو مطلع سے متعلق ہماری رائے میں روشنی کا ہالہ سے بہتر چاند کا ہالہ ہے۔ شاید ہمارا ذہن یہی سُننے کا عادی ہے اس لئیے زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے۔ جیسے :وہ چاند ہے اور میں اُس کا ہالہ:۔۔۔ باقی آپ ہم سے بہتر علم رکھتے ہیں سو بہتر سمجھتے بھی ہیں۔

دوسری بات یہ کہ ہمیں اب اتنے عرصہ کے بعد شاید دوبارہ محنت کرنی پڑے گی۔ تمام احباب میں سے کسی نے بحر سے متعلق کوئی بات نہیں کی سو ہمیں یقین ہے کہ ہے تو یہ درست ہی لیکن نجانے کیوں ہمیں کُچھ مسئلہ پیش آ رہا ہے۔ ہمیں بحر میں :فعلُ فعولن: اور : فعول فعلن: نظر آ رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ہم بحر نہ پکڑ سکے ہوں۔ آپ نے ضرور ہمیشہ کی طرح روانی کو محسوس کر کہ ہی لکھا ہے۔ لیکن ہمیں یہاں آپ سے اور احباب سے مدد کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔

وہ روشنی ہے میں اُس کا  ہالہ ۔۔۔۔ فعول فعلن فعول فعلن
میں بھی نرالا وہ بھی نرالا ۔۔۔۔ فعولُ فعلن فعول فعلن ۔۔۔ یا فعلُ فعولن فعلُ فعولن

میں بن گیا ہوں اُس کا حوالہ ۔۔۔ فعول فعلن فعلُ فعولن
وہ  بن گیا ہے میرا حوالہ  ۔۔۔ فعول فعلن فعلُ فعولن

کوئی نہیں ہے اُس کے علاوہ ۔۔ فعلُ فعولن فعلُ فعولن
دکھ دینے والا سکھ دینے والا ۔۔ فعلن فعولن فعلن فعولن ۔۔ یا ۔۔ فعلن فعولُ فعلن فعولُ ۔۔ ؟

جس میں نہ شامل خونِ جگر ہو ۔۔ فعلُ فعولن فعلُ فعولن
زہرِ ہلاہل ہے وہ  نوالہ ۔۔ فعلُ فعولن فعلُ فعولن

ہے تشنگی گر عرفاں میں  اب تک ۔۔ فعولُ فعلن فعلُ فعولن ۔۔ ؟
حاضر ہے سائیں میرا پیالہ ۔۔ فعلن فعولن فعلُ فعولن ۔۔ ؟

گزرے جدائی میں جتنے لمحے   ۔۔ فعلُ فعولن فعولُ فعلن ۔۔ ؟
کیسے کروں میں اُن کا ازالہ ۔۔ فعلُ فعولن فعلُ فعولن

خواجہ ؔجی آئی جاں   اب لبوں پر ۔۔ فعلُ فعولن فعلن فعولن
شاید وہ سن لے اب میرا نالہ ۔۔ فعلن فعولن فعلن فعولن


امید ہے مدد فرمائیں گے۔

دُعا گو




عزیز مکرم وی بی جی: سلام مسنون!
یہ عید کا چاند کہاں سے نکل آیا؟ چلئے جی آج ہماری عید سہی!
خواجہ صاحب کی غزل کا وزن ہے :
فعلن فعولن فعلن فعولن
یہ ایک عام اور معروف وزن ہے۔ تقطیع کر کےتصدیق کر لیں۔ اگر میں غلطی پر ہوں تو میرے نمبر کاٹ لیجئے گا!
باقی راوی سلام اور چین بولتا ہے۔

سرورعالم راز

]



غیرحاضر K. Ashraf

  • Adab Dost
  • ***
  • تحریریں: 728
جواب: وہ روشنی ہے میں اُس کا ہالہ
« Reply #11 بروز: دسمبر 07, 2017, 03:36:47 شام »

محترم سرور راز صاحب
آپ نے ہالہ کا مفہوم پوچھا میں نے عرض کر دیا۔ ہالہ دراصل ہوتا نہیں ہے صرف جس
فضا سے روشنی گزر رہی ہوتی ہے اس فضا میں مادی زرات اسے پیدا کرتے ہیں۔ چاند کے گرد ہالہ بھی دراصل اسی فضا کا پیدا کردہ ہوتا ہے
چاند کے گردہ گرد وہ زرات نہیں ہوتے وہ زمین کے ارد گرد کے ماحول میں ہوتے ہیں جن میں انعکاس کی وجہ سے وہ پیدا ہوتا ہے۔
اگر کسی جگہ فضا نمی سے سو فیصد پاک ہو وہاں وہ ہالہ نہیں بنتا۔۔ جب ماحول میں نمی بڑھتی ہے
تو ہالہ بننے لگتا ہے۔ ایسے نمی والے ماحول میں دور سے جب بیٹری کی لائٹ دیکھیں تو اس کے گرد بھی وہ ہالہ بنتا ہے۔
چونکہ آپ کو ایسا تجربہ نہیں ہوا اس لیے میں اس پر اصرار نہین کروں گا۔
چونکہ محبوب حقیقی نے خود کو روشنی قرار دیا ہے بندہ جو کہ اس کا عکس ہے اسے ہالہ قرار دینے میں حرج ہے؟
اقبال نے تو اپنی ایک فارسی غزل میں انسان کو خدا کا پیراہن قرار دیا(پیراہینِ یزدانم) ہے۔
ؓبحر کی نشاندہی کرنے کا شکریہ ۔
خوش رہئے اور جیتے رہئے۔
نیازمند و خاکسار
کے اشرف

غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • ******
  • تحریریں: 6270
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar
جواب: وہ روشنی ہے میں اُس کا ہالہ
« Reply #12 بروز: دسمبر 07, 2017, 11:28:24 شام »

محترم سرور راز صاحب
آپ نے ہالہ کا مفہوم پوچھا میں نے عرض کر دیا۔ ہالہ دراصل ہوتا نہیں ہے صرف جس
فضا سے روشنی گزر رہی ہوتی ہے اس فضا میں مادی زرات اسے پیدا کرتے ہیں۔ چاند کے گرد ہالہ بھی دراصل اسی فضا کا پیدا کردہ ہوتا ہے
چاند کے گردہ گرد وہ زرات نہیں ہوتے وہ زمین کے ارد گرد کے ماحول میں ہوتے ہیں جن میں انعکاس کی وجہ سے وہ پیدا ہوتا ہے۔
اگر کسی جگہ فضا نمی سے سو فیصد پاک ہو وہاں وہ ہالہ نہیں بنتا۔۔ جب ماحول میں نمی بڑھتی ہے
تو ہالہ بننے لگتا ہے۔ ایسے نمی والے ماحول میں دور سے جب بیٹری کی لائٹ دیکھیں تو اس کے گرد بھی وہ ہالہ بنتا ہے۔
چونکہ آپ کو ایسا تجربہ نہیں ہوا اس لیے میں اس پر اصرار نہین کروں گا۔
چونکہ محبوب حقیقی نے خود کو روشنی قرار دیا ہے بندہ جو کہ اس کا عکس ہے اسے ہالہ قرار دینے میں حرج ہے؟
اقبال نے تو اپنی ایک فارسی غزل میں انسان کو خدا کا پیراہن قرار دیا(پیراہینِ یزدانم) ہے۔
ؓبحر کی نشاندہی کرنے کا شکریہ ۔
خوش رہئے اور جیتے رہئے۔
نیازمند و خاکسار
کے اشرف

عزیز  مکرم خواجہ صاحب:سلام مسنون
جواب خط کے لئے ممنون ہوں۔ علامہ اقبال کی بابت آپ نے نہایت دلچسپ بات لکھی ہے۔ از راہ کرم اس کتاب اور نظم کا نام لکھیں جس میں :پیراہن یزدانم: ملتا ہے ۔زحمت تو ہوگی لیکن وہ شعر یہاں نقل کردیں جس میں یہ ترکیب ہے اور اگر وہ شعر کسی قطعہ کا حصہ ہے تو پورا قطعہ درج کردیجئے۔ جزاک اللہ خیرا۔

سرورعالم راز



غیرحاضر vb jee

  • Adab Fehm
  • ****
  • تحریریں: 1253
  • جنس: مرد
جواب: وہ روشنی ہے میں اُس کا ہالہ
« Reply #13 بروز: دسمبر 08, 2017, 06:16:32 صبح »

غزل
کے اشرف

وہ روشنی ہے میں اُس کا  ہالہ
میں بھی نرالا وہ بھی نرالا

میں بن گیا ہوں اُس کا حوالہ
وہ  بن گیا ہے میرا حوالہ

کوئی نہیں ہے اُس کے علاوہ
دکھ دینے والا سکھ دینے والا

جس میں نہ شامل خونِ جگر ہو
زہرِ ہلاہل ہے وہ  نوالہ

ہے تشنگی گر عرفاں میں  اب تک
حاضر ہے سائیں میرا پیالہ

گزرے جدائی میں جتنے لمحے   
کیسے کروں میں اُن کا ازالہ

خواجہ ؔجی آئی جاں   اب لبوں پر
شاید وہ سن لے اب میرا نالہ

******


محترم جناب کے اشرف صاحب ! السلام علیکم

واہ جناب کیا ہی بات ہے۔ اتنے عرصہ کے بعد آپ کے خوبصورت کلام سے لطف اندوز ہوئے۔ پُرانی یادیں تازہ ہو گئیں۔ بُہت ہی خوب اشعار نکالے ہیں۔ ہماری طرف سے بے داد قبول کیجے۔ ایک دو باتیں جو ذہن میں آتی ہیں وہ عرض کئیے دیتے ہیں۔ امید ہے ہمیشہ کی طرح ناچیز سے خفا نہ ہونگے بلکہ رہنمائی فرمائیں گے۔

ایک تو مطلع سے متعلق ہماری رائے میں روشنی کا ہالہ سے بہتر چاند کا ہالہ ہے۔ شاید ہمارا ذہن یہی سُننے کا عادی ہے اس لئیے زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے۔ جیسے :وہ چاند ہے اور میں اُس کا ہالہ:۔۔۔ باقی آپ ہم سے بہتر علم رکھتے ہیں سو بہتر سمجھتے بھی ہیں۔

دوسری بات یہ کہ ہمیں اب اتنے عرصہ کے بعد شاید دوبارہ محنت کرنی پڑے گی۔ تمام احباب میں سے کسی نے بحر سے متعلق کوئی بات نہیں کی سو ہمیں یقین ہے کہ ہے تو یہ درست ہی لیکن نجانے کیوں ہمیں کُچھ مسئلہ پیش آ رہا ہے۔ ہمیں بحر میں :فعلُ فعولن: اور : فعول فعلن: نظر آ رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ہم بحر نہ پکڑ سکے ہوں۔ آپ نے ضرور ہمیشہ کی طرح روانی کو محسوس کر کہ ہی لکھا ہے۔ لیکن ہمیں یہاں آپ سے اور احباب سے مدد کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔

وہ روشنی ہے میں اُس کا  ہالہ ۔۔۔۔ فعول فعلن فعول فعلن
میں بھی نرالا وہ بھی نرالا ۔۔۔۔ فعولُ فعلن فعول فعلن ۔۔۔ یا فعلُ فعولن فعلُ فعولن

میں بن گیا ہوں اُس کا حوالہ ۔۔۔ فعول فعلن فعلُ فعولن
وہ  بن گیا ہے میرا حوالہ  ۔۔۔ فعول فعلن فعلُ فعولن

کوئی نہیں ہے اُس کے علاوہ ۔۔ فعلُ فعولن فعلُ فعولن
دکھ دینے والا سکھ دینے والا ۔۔ فعلن فعولن فعلن فعولن ۔۔ یا ۔۔ فعلن فعولُ فعلن فعولُ ۔۔ ؟

جس میں نہ شامل خونِ جگر ہو ۔۔ فعلُ فعولن فعلُ فعولن
زہرِ ہلاہل ہے وہ  نوالہ ۔۔ فعلُ فعولن فعلُ فعولن

ہے تشنگی گر عرفاں میں  اب تک ۔۔ فعولُ فعلن فعلُ فعولن ۔۔ ؟
حاضر ہے سائیں میرا پیالہ ۔۔ فعلن فعولن فعلُ فعولن ۔۔ ؟

گزرے جدائی میں جتنے لمحے   ۔۔ فعلُ فعولن فعولُ فعلن ۔۔ ؟
کیسے کروں میں اُن کا ازالہ ۔۔ فعلُ فعولن فعلُ فعولن

خواجہ ؔجی آئی جاں   اب لبوں پر ۔۔ فعلُ فعولن فعلن فعولن
شاید وہ سن لے اب میرا نالہ ۔۔ فعلن فعولن فعلن فعولن


امید ہے مدد فرمائیں گے۔

دُعا گو




عزیز مکرم وی بی جی: سلام مسنون!
یہ عید کا چاند کہاں سے نکل آیا؟ چلئے جی آج ہماری عید سہی!
خواجہ صاحب کی غزل کا وزن ہے :
فعلن فعولن فعلن فعولن
یہ ایک عام اور معروف وزن ہے۔ تقطیع کر کےتصدیق کر لیں۔ اگر میں غلطی پر ہوں تو میرے نمبر کاٹ لیجئے گا!
باقی راوی سلام اور چین بولتا ہے۔

سرورعالم راز

]



محترم جناب سرور عالم راز سرورؔ صاحب! السلام علیکم

ہائے صاحب، چاند کی سُن کر کیا کیا یاد آ گیا ہمیں۔ ایک دؤر تھا کہ بچپن تھا۔ بچے تو امی کے چاند ہوتے ہی ہیں سو ہم بھی ہؤا کرتے تھے۔ پھر ایک دؤر آیا، کہ چاند ہر گز نہ تھے، لیکن خود کو چاند سمجھتے تھے۔ لیکن صاحب کیا کیجے کہ اب وہ زمانہ بھی نہیں رہا۔ آئینہ جو مدت سے کہتا آ رہا اب اسے تسلیم کئیے بغیر چارہ نہیں۔ سو چاند کی تو کیا کہئیے، اوپر سے عید کا چاند؟ ہماری ہیئت کی ماہییت تو یہ ہے کہ اب ہم جس قدر دائروی ہیں، ہم پر کم از کم پہلی کے چاند کا گماں نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارا وجود تو گویا ایک کرہءِ لحمی بن کر رہ گیا ہے۔ مدت سے اپنے پاؤں تک نہیں دیکھ سکے۔ بس یہی سوچ کر دل کو دلاسہ دیتے رہتے ہیں کہ جو لوگ اپنے پاؤں دیکھ سکتے ہیں، مَر تو وہ بھی جاتے ہیں۔

خیر صاحب، اب اس قدر عید کے چاند بھی نہیں۔ اکثر یہاں رہتے ہیں اور احباب کے اشعار اور تبصروں سے استفاضہ کرتے رہتے ہیں۔ بات کئی بار نہیں کرتے جس کی کوئی خاص وجہ تو نہیں البتہ یہاں بہادر شاہ ظفر کا وہ مشہور شعر یاد آتا ہے جس میں بات کرنے میں مشکل کا ذکر کیا گیا ہے۔

ہم شکریہ ادا کرنا تو بھول ہی گئے کہ آپ نے بحر والا مسئلہ ہمارے لئیے حل کر دیا۔ ہمیں یقین تو تھا ہی کہ اس قدر علم رکھنے والے احباب نے اس ضمن میں کوئی بات نہیں کی تو ہے تو یہ درست ہی۔ البتہ ہم بحر تک نہیں پہنچ پا رہے تھے۔ ممکن ہے کہ یہ بحر اس قدر عام نہ ہو یا پھر ہم سے ہی چھُپی پھرتی رہی ہے۔ خیر صاحب آپ کی رہنمائی کے ہمیشہ کی طرح نہایت شکر گزار ہیں ہم۔

ہالہ سے متعلق ہمیں بھی یہی محسوس ہؤا کہ عام طور پر چاند سے متعلق ہے یا پھر جیسا کہ محترم کے اشرف صاحب نے ذکر کیا کہ کسی بھی روشن چیز کا ہو سکتا ہے البتہ روشنی کا ہالہ ہونا، کُچھ اَنسُنا سا لگا۔ ہم بھانپ گئے تھے کہ شعر چونکہ حقیقی میں کہا گیا ہے تو شاعر کو روشنی، چاند سے بہتر استعارہ معلوم ہو رہا ہے۔ اگرچہ دونوں ہی مخلوق ہیں، لیکن پھر بھی عام انسانی سمجھ ایسی ہی ہے، سو اس لئیے ہم نے ذیادہ نہیں کہا۔ صاحبِ کلام کو جو بھلا معلوم ہو وہی درست۔

انشاٗاللہ بات ہوتی رہے گی، اگرچہ ایک گٹھڑی میں سَتو اور پیاز کی کُچھ گانٹھیں (راوی کے مشوروں کے شکر گزار ہیں) باندھ رکھی ہیں کہ کُچھ دنوں کے لئیے پھر آوارگی کا پروگرام ہے.


دُعا گو


گنگناتی رهے گی انھیں تو سدا
اتنے نغمے تِرے نام کر جائیں گے

غیرحاضر K. Ashraf

  • Adab Dost
  • ***
  • تحریریں: 728
جواب: وہ روشنی ہے میں اُس کا ہالہ
« Reply #14 بروز: دسمبر 08, 2017, 12:56:22 شام »

محترم سرور راز صاحب
اقبال کی جس نظم کا حوالہ میں نے دیا تھا وہ  پیام مشرق میں شامل ہے۔
اقبال نے اسے صدائے وقت  کہا ہے۔ میں نے اردو اور فارسی ادب میں ان سے
زیادہ خوبصورت اشعار نہیں دیکھے؛

خورشید بدامنم انجم بہ گریبانم
در من نگری ہیچم، در خود نگری جانم
در شہرو بیابانم در کاخ و شبستانم
من درد و درمانم من عیشِ فراوانم
من تیغِ جہاں سوزم  من چشمہ حیوانم
چنگیزی و تیموری مشتی ز غبارِ من
ہنگامہ افرنگی یک جستہ شرارِ من
انسان و جہانِ او از نقش و نگارِ من
خونِ جگرِ  مرداں سامانِ بہارِ من
من آتشِ سوزانم من روضہ ٔ رضوانم
آسودہ و سّیارم این طرفہ تماشا بین
در بادۂ امروزم کیفیتِ فردا بین
پنہان بہ ضمیر من صد عالم رعنا بین
صد کوکبِ غلطاں بین صد گنبدِ خضرا بین
من کسوتِ انسانم پیراہنِ یزدانم

نیاز مند و خاکسار
کے اشرف
« آخری ترمیم: دسمبر 08, 2017, 02:38:27 شام منجانب K. Ashraf »

 

Copyright © اُردو انجمن