اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: بھرتری ہری اور اس کی شاعری کا تعارفی جائزہ-1  (پڑھا گیا 363 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر dr maqsood hasni

  • Adab Dost
  • ***
  • تحریریں: 841
بھرتری ہری اور اس کی شاعری کا تعارفی جائزہ-1
« بروز: جنوری 10, 2018, 04:04:03 صبح »


بھرتری ہری
 اور
اس کی شاعری کا تعارفی جائزہ

مقصود حسنی
 
 
تاریخ کا اک مخدوش جھروکہ، ٹلہ جوگیاں​


آج پرانی کتابوں اور مخطوطوں کی سیر کر رہا تھا کہ اچانک بھرتری ہری کے کچھ کلام کا ترجمہ ہاتھ لگا۔ یہ تحفہ عکسی نقول کی صورت میں دستیاب ہوا ہے۔ اسے میں نے گورنمنٹ اسلامیہ کالج قصور کی لائبریری سے دستیاب کتاب کی عکسی نقل کی صورت میں محفوظ کیا تھا۔
آزاد ترجمہ جے کرشن چودھری نے کیا جون ١٩٥٩ میں جید برقی پریس دہلی نے اسے شائع کیا تھا جب کہ جملہ حقوق بحق ادارہ انیس اردو الہ آباد محفوظ تھے۔ کتاب کا انتساب مہاراجہ سری سوائی تج سنگھ جی بہادر کے نام کیا گیا ہے۔ پیش لفظ جوش ملیح آبادی جب کہ دیباچہ تلوک چند محروم نے تحریر کیا ہے۔ دیگر تفصیلات خود جے کرشن چودھری نے تحریر کی ہیں۔ اس عکسی کتاب کا پہلا صفحہ موجود نہیں اس لیے کتاب کا نام درج نہیں کیا جا سکتا۔
بھرتری ہری سے متعلق کچھ کچھ جانتا تھا لیکن تفصیلات سے آگاہ نہ تھا۔ اس کتاب کے حوالہ سے بھرتری ہری سے متعلق جاننے کا شوق پیدا ہوا۔ اس اشتیاق کی وجہ جوش ملیح آبادی کے یہ الفاظ بنے:
بھرتری ہری کی شخصیت و اہمیت سے ہر وہ شخص واقف ہے جسے فلسفے اور ادب سے لگاؤ ہے۔
میں ادیب ناسہی ادب سےلگاؤ ضرور رکھتا ہوں۔ جے کرشن چودھری نے بھرتری ہری سے متعلق بڑی اہم معلومات فراہم کر دی ہیں۔ انہیں پڑھ کر بھرتری ہری کے متعلق بہت کچھ ہاتھ لگ جاتا ہے۔ اس کتاب کے مطالعہ سے مزید جاننے کا شوق ہرچند بڑھ جاتا ہے۔ مزید جاننے کے لیے میں نے انٹرنیٹ ریسرچ کا سہارا لیا۔ کافی کچھ پڑھنے کو ملا ہے اور اس حوالہ سے بھرتری ہری کو جاننے میں مدد ملی ہے۔ اس مواد کے حوالہ سے ان کی شاعری کو بھی سمجھنے میں مدد ملی ہے۔ ان کے کلام کے مطالعہ سے مجھے یہ بھی سمجھنے میں آسانی ہوئی ہے کہ وہ اپنے عہد کے عظیم بھگت‘ عارف اور صوفی تھے۔ ان کے کلام کے مطالعہ سے شاید آپ بھی اس سے مختلف نہ سمجھیں گے۔
ایک زبان سے دوسری زبان میں کسی تخلیق کا منتقل کرنا بلاشبہ بڑا مشکل گزار کام ہے۔ اس کے لیے دونوں زبانوں میں مہارت کا ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ باطور خاص شاعری کا ترجمہ اور بھی مشکل ہوتا ہے۔ شاعر لفظوں کا استعمال عمومی مفاہیم سے ہٹ کر کرتا ہے۔ گویا مترجم کا حسن شعر سے آگاہی ہونا بھی اس ضمن میں ضروری قرار پاتا ہے۔ وہ نزدیک کے مفاہیم تک محدود نہیں رہتا۔ اس نثری ترجمے کے مطالعہ سے یہ امر کھل کر سامنے آتا ہے کہ جے کرشن چوھدری ناصرف دونوں زبانوں میں مہارت رکھتے تھے بل کہ شاعری سے بھی شغف خاص رکھتے تھے۔ تب ہی تو انہوں نے شعری لوازمات کے لیے ضرورت کے مطابق اردو مترادفات تلاشے ہیں۔ خصوصا تشبیہات کے لیے انہوں نے بڑے عمدہ مترادفات کا استعمال کیا ہے۔ اس ذیل میں چند ایک مثالیں ملاحطہ فرما لیں:
چاند سا خوب صورت مکھڑا
کنول کو شرمانے والی مخمور آنکھیں
 سونے کی چمک کو ماند کر دینے والا کندن سا جسم
 بھنوروں سے بڑھ کر سیاہ گھنی زلفیں
طلائی کلس کی طرح چھاتیوں کا ابھار
 ہاتھی کی سونڈ کی طرح خوشنما اور گداز رانیں
مجموعہ  شرنگارشتک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا کے مطابق:
بھرتری ہری کا زمانہ پہلی صدی عیسوی قبل مسیح کا ہے۔بھرتری ہری کا تعلق شاہی خاندان سے تھا جس کا دارالحکومت اجین تھا ۔۔ راجا بکرماجیت کا بھائی بیان کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر سلیم خاں کے مطابق:
بھرتری ہری پہلی صدی عیسوی قبل مسیح میں سنکر تزبان کا شاعر تھا ۔ ریاستِ مالوہ کےاس راجہ کا دارالخلافہ اجین تھا
کہا جاتا ہے کہ وہ راجہ وکرم مادتیا کا بھائی تھا۔
چوہدری جے کرشن کے مطابق:
وہ اجین یا اس کے نواح کے شاہی خاندان سے تعلق رتھتا تھا اور اس نے کچھ عرصہ حکومت بھی کی۔۔۔۔کئی مورخ اسے مہاراجہ بکرماجیت کا‘ جس نے بکری سمت جاری کیا بھائی بتاتے ہیں۔ اس رائے کو درست تسلیم کیا تو وہ پہلی صدی قبل مسیح میں ہیدا ہوا۔ کئی محققین اس کا زنانہ ٦٥٠ء کے قریب بتاتے ہیں۔ جب سلادتیہ دوئم اجین کے تخت پر متمکن تھا۔ اگر مختلف راوئتوں کو درست تسلیم کیا جائے تو پہلی رائے زیادہ جاندار معلوم ہوتی ہے۔
بھرتری ہری سے منسوب ایک داستان جسے جے کرشن چوھدری نے نقل کیا ہے اور یہ آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا میں بھی ملتی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
 بھرتری ہری نے ایک کامیاب دنیا دار کی زندگی کا تجربہ کیا اور دنیاوی آلائشات میں اس حد تک منہمک ہوا کہ فکری اور تخلیقی زندگی کے بہت سے شعبوں سے اس کی توجہ ہٹی رہی۔ اس کی شادی ایک خوبصورت ملکہ پنگلا سے ہوئی۔ وہ بیوی پر اس حد تک فریفتہ تھا کہ اس کی کچھ دیر کی جدائی بھی گوارا نہیں تھی۔ ہر وقت سایے کی طرح اس کے ساتھ رہتا جس سے ریاستی معاملات میں اس کی دلچسپی نہ ہونے کے برابر رہ گئی۔ اس کے رویے پر اس کا چھوٹا سوتیلا بھائی وکرما دتیہ معترض تھا کیوں کہ اس کا خیال تھا بھرتری ہری کو راج نیتی میں زیادہ وقت صرف کرنا چاہئے۔
اس کے اعتراضات کے نتیجے میں مہارانی پنگلانے اس کے خلاف بھرتری ہری کو بدگمان کرنا شروع کیا اور آخر اسی کے اشارے پر راجہ نے وکرما دتیہ کو شہر سے نکلوادیا۔تاہم زیادہ عرصہ وہ اپنی بیوی کے سحر میں گرفتار نہ رہ سکاکیونکہ اس کی وفادری مشکوک تھی۔
اس کی بیوی کی بے وفائی سے منسوب حکایت ہےجس کے مطابق بھرتری ہری کو ایک پنڈت نے ایک پھل کا تحفہ دیا جسے کھانے سے زندگی کا دورانیہ بڑھ جاتا تھا۔ اس نے وہ پھل اپنی پتنی مہارانی پنگلا کو دے دیا۔
مہارانی نے پھل لے لیا لیکن اس سے کہا کہ وہ اسے نہانے کے بعد ہی کھائے گی۔ یہ سن کر راجہ لوٹ گیا۔ حقیقت یہ تھی کہ مہارانی پنگلا ایک شاہی سائیس کے عشق میں مبتلا تھی۔ اس نے وہ پھل اسی سائیس کو دے دیا۔ وہ سائیس کسی طوائف سے محبت کی پینگیں بڑھائے ہوئے تھا۔ یوں وہ پھل سائیس سے ہوکر طوائف تک پہنچا۔ جب کہ طوائف نے راجہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی غرض سے یہ تحفہ لاکر بھرتری ہری کو دیا۔ اس پھل کو وہ پہچان گیا اور اس سے بولا کہ وہ پھل اس کے پاس کہاں سے آیا اور یوں اس کے لیے اس بات کا سراغ لگانا زیادہ مشکل ثابت ہوا کہ اس کی بیوی بے وفا تھی۔ راجہ نے وہ پھل اس سے لیا اور فوراً کھالیا۔
مہارانی کی بے وفائی کا بھرتری ہری کی زندگی پر اتنا گہرا اثر ہوا کہ وہ سبھی دنیادی آلائشات سے کنارہ کش ہوگیا۔ حتی کہ اس نے شاہی زندگی کو بھی تیاگ دیا اور جنگلوں میں رہائش اختیار کرلی۔
محمد کاشف علی کا کہنا ہے:
راجہ بھرتری تو خود راج پاٹ تیج کر، اپنے بھائی وکرم جیت کو تاج و تخت سونپ کر واردِ ٹلہ ہوا جبکہ کے راجہ سلواہن کا بیٹا پورن، گرو گورکھ ناتھ کا بھگت بنا تھا۔ آج بھی سیالکوٹ کی تاریخی اور ثقافتی کہانی تب تک مکمل نہیں ہوتی جب تک پورن بھگت کا قصہ سماعتوں کی گلیوں سے ہو کر نہ گزرے۔ لوک روایات کے بیانیے میں مبالغہ تو ہوسکتا ہے مگر قدیم ہند کی تاریخ نگاری لوک روایات سے ہی اتنی ضخیم ہوئی ہے۔ لوک روایات کو یکسر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ یہ مخصوص سماج کی مشترکہ یاداشت ہوتی ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے بھلے اس میں جزئیات کی آمیزش ہوتی رہے۔
یہ مقدس پہاڑ ٹلہ گورکھ ناتھ سے ٹلہ بالناتھ بنا اور پھر عالم میں ٹلہ جوگیاں کا نام پایا،
مغل بادشاہ اکبر کا وقائع نویس ابوالفضل اسے ٹلہ بالناتھ کے نام سے ہی ’’آئینِ اکبری‘‘ میں جگہ دیتا ہے اور اسی کے مطابق اکبر نے 1581ء میں اس جوگیوں کے اس مقدس پہاڑ کی یاترا کی۔
شیر شاہ سوری نے سولہویں صدی کے وسط میں جرنیلی سڑک سے منسلک دینہ میں قلعہ روہتاس جو بنوا رکھا تھا تو اس کے بعد جب مغل شاہان یہاں سے گزرا کرتے تو یقیناً قیام تو کرتے ہوں گے اور کچھ ٹلہ کی زیارت بھی کرتے ہوں گے، بہر کیف تاریخ میں نورالدین جہانگیر بادشاہ کا ذکر تو مل ہی جاتا ہے کہ وہ ایک بار تو جوگیوں کے مقدس پہاڑ تک آیا۔

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا کے مطابق وہ:
بھرتری ہری قدیم ہندوستان کا سنسکرت کا عظیم فلسفی، ماہر لسانیات ،شاعر اور نجومی تھا۔ راج پاٹ چھوڑ کر جوگی بن گیا۔ وہ جدت پسند نظریہ ساز ہونے کے ساتھ ساتھ پانینی کے بعد سنسکرت کا سب سے اہم ماہر لسانیات بھی تھا۔
ڈاکٹر نیر عباس نیر نے بڑے کمال کی کہی ہے:
افلاطون نے یہ بحث Cratylas میں اٹھائی ہے۔ بالعموم یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ زبان اور دنیا کے رشتے پر غور کرنے والا پہلا آدمی افلاطون ہے، جو درست نہیں ہے۔ افلاطون سے کہیں پہلے بھرتری ہری یہ بحث پیش کر چکا تھا۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ بھرتری ہری اور افلاطون دونوں زبان اور دنیا کے رشتے کو حقیقی اور فطری قرار دیتے ہیں۔
آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا کے مطابق اس کی چار کتابیں دسیاب ہیں:
 شرنگار شتک: اس شتک میں سو شلوک ہیں اس میں بھرتری ہری نے عشق و محبت کی باتیں کی ہیں۔
 نیتی شتک: کہا جاتا ہے کہ جب بھرتری ہری اجین کا راج کمار تھا تب اس نے نیتی شتک لکھا تھا جس کا مطلب سیاست ہے ، اس شتک میں اس دور کی سیاست کی عکاسی ہے۔
 ویراگیہ شتک : جب بھرتری ہری نے سنیاس لے لیا اور اپنا راج پاٹ چھوڑ کر فقیری اختیار کیا تو اس نے ویراگیہ شتک لکھا اس کا مطلب ہے معرفتِ الہٰی اور فقیری۔
واکیہ پدیہ صرف نحو کی ایک کتاب شامل ہے۔
 سید یعقوب شمیم کے مطابق:
1670
 میں اس کی اخلاقی نظموں کا ترجمہ فرانسیسی زبان میں کیا تھا اس کے علاوہ Schiefmer اور Weber نے اس کی نظمیں لاطینی میں ترجمہ کے ساتھ شائع کیں۔ بھرتری ہری کی نظموں کا ترجمہ جرمنی زبان میں Bohler اور Schtz نے کیا ہے۔
Prof. Tawney کی تصنیف Indian Artiquiary میں ان نظموں کا انگریزی میں ترجمہ پیش کیا گیا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا کے مطابق:
اقبال بھرتری ہری کے قول وعمل سے بہت متاثر ہیں اور تمام انسانوں کی فلاح کا راستہ بتاتے ہیں ۔ بھرتری ہری کے اس فکر وعمل سے اقبال نے بہت فائدہ اٹھایا اور ہم دیکھتے ہیں کہ بھرتری ہری کے اس فکر کا اثر اقبال کے کلام میں ہمیں جابجا نظر آتا ہے ۔ اسی لیے علامہ اقبال نے بال ِجبریل کا آغاز اس شعر سے کیا ہے۔
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مر د ناداں پر کلام ِ نر م و نازک بے اثر
اقبال بھرتری ہری کی عظمت کے اس قدر قائل تھے کہ بھرتری ہری کو فلک الافلاک پر جگہ دی ہے جس کو ہم جنت الفردوس کے نام سے جانتے ہیں
اس کی شاعری کے بارے سید یعقوب شمیم کا کہنا ہے:
آج بھی ہندوستان کے مختلف علاقوں بالخصوص شمالی ہند کے علاقہ اجین میں بھرتری ہری کے خیالات لوک گیتوں اور لوک نظموں کی صورت میں موجود ہیں
علامہ کی وسعتِ نظری اور کشادہ دلی نے انہیں سرزمین ہند کے عظیم فلسفی اور شاعر بھرتریہری کا بھی دلدادہ بنا دیا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال نے اپنی مشہور کتاب بال جبریل کے سر ورق پر بھرتری ہری کے شعرکا ترجمہ لکھا ہے۔ کسی شعری مجموعے کی ابتداء میں کسی دوسرے فلسفی کے شعر کے موجودگی کا منفرد اعزاز کم ہی لوگوں کو حاصل ہوا ہوگا ۔
سید یعقوب شمیم کے مطابق:
اقبال نے اس کے کلام کا منظوم ترجمہ بھی پیش کیا ہے جنہیں بھگوت گیتا کی تعلیمات کا خلاصہ کہا جاسکتا ہے۔
ایں خدایان تنک مایہ زسنگ اندو زخشت
برترے ہست کہ دور است ز دیر و کنشت
اس کا انتقال ۶۵۱ء میں ہوا تھا

 مواد کی حصولی کے لیے ان ویب سائٹسز سے شکریے کے ساتھ مدد لی گئی ہے۔
http://www.urdulinks.com/urj/?p=544
 http://humshehrionline.com/?p=9181#sthash.WQShfTkT.dpuf
http://www.mazameen.microiways.com/Languages_SEEN/Sunskreet.aspx
http://llisaniatortanqeed.blogspot.com/2011/08/linguistics-and-criticism.html
https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%D8%B1%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%DB%81%D8%B1%DB%8C
https://urdu.siasat.com/news/%D8%A7%D9%82%D8%A8%D8%A7%D9%84-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A8%DA%BE%D8%B1%D8%AA%D8%B1%DB%8C-%DB%81%D8%B1%DB%8C-818856/
https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%DA%A9-%D9%85%D8%AE%D8%AF%D9%88%D8%B4-%D8%AC%DA%BE%D8%B1%D9%88%DA%A9%DB%81%D8%8C-%D9%B9%D9%84%DB%81-%D8%AC%D9%88%DA%AF%DB%8C%D8%A7%DA%BA.93005/

بھرتری سے منسوب اس روایت کی مثال‘ اشارتی سہی ان کے کلام میں بھی ملتی ہیں۔ مثلا

میں ہوں جس کا پریمی
وہ ہے دوجے مرد کی دوانی
اور دوجا مرد دوسری
نار کے دَر کا سیلانی
پر وہ دوجی نار پیار کی
ماری مرتی ہے مجھ پر
سو سو لعنت کام دیو١  پر
مجھ پر اور اس پر اور اس پر
ترجمہ تاج قایم خانی
١-کام دیو‘ محبت کا دیوتا
۔۔۔۔۔
کیا عورت حقیقت میں کسی شخص سے محبت کرتی ہے
وہ ۔۔۔بیک وقت۔۔۔ ایک انسان سے باتیں کرتی ہے
دوسرے کی طرف نگاہ غلط انداز سے دیکھتی ہے
اور تیسرے کی یاد کو سینے سے لگائے رکھتی ہے
مجموعہ  شرنگارشتک
۔۔۔۔۔
مجموعہ  شرنگارشتک میں موجود کلام عیش کوشی سے تعلق کرتا ہے۔ عورت کے حسن و جمال اور لذت کوشی پر مبنی ہے۔
تیاگی ہونے سے پہلے وہ عورت کے کس قدر دلداہ تھے اس کا اندازہ ان کی ان دو نظموں سے باخوبی لگایا جا سکتا ہے:
وہ زاہد جو عورت کی تحقیر کرتا ہے‘ نہ صرف خود فریبی میں مبتلا ہے بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ کرتا ہے۔ کیونکہ ریاضت اس لیے کی جاتی ہے کہ بہشت ملے۔ اور بہشت کے حصول سے غرض اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ اپسراؤں ۔۔۔حوروں۔۔۔۔ کا وصل نصیب ہو۔
جے کشن چوھدری نے اس خیال سے ملتی خیام کی ایک رباعی بھی درج کی ہے۔
گویند بہشت وجود عین خواہد بود
و آنجا مے ناب و انگبین خواہد بود
گرمائے و معشوق پرستیم رواست
چوں عاقبت کار ہمیں خواہد بود
مجموعہ  شرنگارشتک
۔۔۔۔۔
ایک حسین عورت کامدیو ۔۔۔۔عشق کا دیوتا۔۔۔ کا آلہءکار ہے۔ جس کے توسط سے دنیا کی سب عیش وعشرت میسر ہے جو احمق‘ عورتوں کا خیال چھوڑ بہشت کے تصور میں محو ہو جاتے ہیں۔ وہ کامدیو کے غم و غصہ کا شکار ہو کر سزا پاتے ہیں۔ جو ان کو مختلف صورتوں میں ملتی ہے۔ کبھی تو کامدیو ان کا لباس اترا لیتا ہے‘ کبھی سرمنڈاوا دیتا ہے۔ کسی کو جٹا دھاری بننے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اور کسی کے ہاتھ میں کشکول دیکر در در کی بھیک منگواتا ہے۔   
مجموعہ  شرنگارشتک
۔۔۔۔۔
 بھرتری ہری کے کلام میں خوب صورت غزلیاتی تشبیہات کا بھی استعمال ہوا ہے۔ جے کرشن چوھدری نے ان کا ترجمہ کرتے وقت اپنی حس جمالیات کا پوری ذمہ داری سے استعمال کیا ہے۔ مثلا ان کا یہ ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:
چاند سا خوب صورت مکھڑا کنول کو شرمانے والی مخمور آنکھیں‘ سونے کی چمک کو ماند کر دینے والا کندن سا جسم‘ بھنوروں سے بڑھ کر سیاہ گھنی زلفیں؛ طلائی کلس کی طرح چھاتیوں کا ۔۔۔ زہد شکن۔۔۔ ابھار‘ ہاتھی کی سونڈ کی طرح خوشنما اور گداز رانیں اور شیرنینی کلام۔ یہ سب جوان دوشیزاؤں کے فطری جوہر ہیں۔ جو انسان کے دل و دماغ کو تسخیر کر لیتے ہیں۔
مجموعہ  شرنگارشتک
اس نظم کو پڑھ کر شاہ لوگوں کی ذہنیت اور کرتوت کھل کر سامنے آ جاتے ہیں۔ یہ اس سے قطعی الگ بات ہے کہ چوری خور مورکھ اسے نبی سے کچھ انچ ہی نیچے رکھتا ہے۔ وہ وہ گن ان میں گنواتا ہے جو ان کے قریب سے بھی نہیں گزرے ہوتے یا ان سے کبھی اس کی بھولے سے بھی سلام دعا نہیں ہوئی ہوتی۔
اسی کتاب میں دو نظمیں ایسی بھی درج ہیں جو آفاقی اور عملی زندگی کی عکاس ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:
علم کے علم و فن کا چراغ محض اس وقت تک روشن ہے‘ جب تک کسی دل نواز حسینہ کے دامن حسن کا جھوکا اس تک نہ پہنچے۔
۔۔۔۔۔۔
انسان کو بزرگی‘ فہم و فراست‘ تمیز نیک و بد اور خاندانی وقار کا احساس تب تک رہتا ہے۔ جب تک اس کا جسم آتش عشق کے شعلوں سے محفوظ ہے!
مجموعہ  شرنگارشتک
حسن زن اور عشق رن سے متعلق دو نظمیں ایسی بھی پڑھنے کو ملتی ہیں جو زن گرفتنی کی انتہا کو چھوتی نظر آتی ہیں۔ بھرتری ہری نے اس ضمن میں برہما دیو کو بھی بےدست و پا قرار دے دیا ہے۔ آپ بھی پڑھیں:
بےانتہا محبت کی گرمجوشی میں عورت جس کام کو شروع کر دیتی ہے۔ اس کو روکنے میں برھما بھی بےدست و پا ہو جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔
اس دنیا میں ایسے شہزور موجود ہیں جو بدمست ہاتھیوں کے جھنڈ کو خاظر میں نہیں لاتے اور غضب ناک شیروں سے الجھنا ایک کھیل سمجھتے ہیں۔ لیکن مجھے اس بات کے کہنے میں اصرار ہے کہ ایسے بہادر بہت کم ہیں جو کامدیو کی پیدا کی ہوئی مستی کی تاب لا سکیں۔
اس مضمون سے متعلق ایک شعر مولانا روم کا بھی درج کیا گیا ہے جو جے کرشن چوھدری کے ذوق اور فارسی دانی کا غماز ہے۔
سہل شیرے واں کہ صفہا بشکند
شیر آن است آنکہ خود را بشکند
مجموعہ  شرنگارشتک
ایک نظم جو رنگین طبعتوں کے لیے عنوان لیے ہوئے ہے۔ یہ نظم عورت شوقینی کی جیتی جاگتی ایمجری کا درجہ لیے ہوئے ہے۔
سب سے قابل نظارہ چیز کون سی ہے
ایک آہو چشم حسینہ کا محبت سے مسکراتا ہوا چہرا۔!
سونگھنے کے لئے سب سے عمدہ چیز کون سی ہے
حسینہ کا تنفس۔!
سب سے زیادہ سامع نواز چیز کون سی ہے
حسینہ کی شیریں کلامی۔!
چھونے کے قابل سب سے زیادہ احساس آفریں چیز کون سی ہے
حسینہ کا نازک اندام!
تصور کے لیے سب سے بڑھ کر مسرت خیز چیز کون سی ہے
حسینہ کا پربہار شباب اور وصال!   
مجموعہ  شرنگارشتک
بھرتری ہری کمال کے سراپا نگار ہیں۔ اس ذیل میں ان کی یہ نظم ملاحظہ فرمائیں:
نازک اندام حسینہ! تیرے حسن کا کیا کہنا! بال بال میں موتی گندھے ہیں‘ دونوں آنکھیں کانوں کے نزدیک پہنچ گئی ہیں‘ دانت موتیوں کی لڑیوں کی طرح آنکھوں کو خیرہ کئے دیتے ہیں‘ چھاتیوں پر پڑا ہوا موتیوں کا خوشنما ہار اپنی جگہ آب وتاب دیکھا رہا ہے غرضٰکہ تو ان تمام خوبیوں کی حامل ہے‘ جو شرقی١ میں پائی جاتی ہیں۔ تیرا بدن شانتی کا گہوارہ ہے۔‘ تیرا جسم تمام برتوں۔۔۔ریاضتوں۔۔۔ اور آشرموں٢ کا مسکن ہے۔ لیکن ان سب سے بالاتر‘ تو ایک قابل احترام شکتی۔۔۔طاقت۔۔۔ ہے۔ جس نے مجھے گرویدہ کر رکھا ہے۔
١ الہامی کتاب ٢ ہندو عقیدہ کے مطابق زندگی کے چار دور ہیں‘ برہمچریہ‘گرہست‘ ‘ بان برستھ اور سنیاس
نوٹ۔ یہ حواشی جے کرشن چوھدری نے درج کیے ہیں۔
مجموعہ  شرنگارشتک




غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • ******
  • تحریریں: 6348
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar
جواب: بھرتری ہری اور اس کی شاعری کا تعارفی جائزہ-1
« Reply #1 بروز: جنوری 12, 2018, 12:12:37 شام »


بھرتری ہری
 اور
اس کی شاعری کا تعارفی جائزہ

مقصود حسنی
 
 
تاریخ کا اک مخدوش جھروکہ، ٹلہ جوگیاں​


آج پرانی کتابوں اور مخطوطوں کی سیر کر رہا تھا کہ اچانک بھرتری ہری کے کچھ کلام کا ترجمہ ہاتھ لگا۔ یہ تحفہ عکسی نقول کی صورت میں دستیاب ہوا ہے۔ اسے میں نے گورنمنٹ اسلامیہ کالج قصور کی لائبریری سے دستیاب کتاب کی عکسی نقل کی صورت میں محفوظ کیا تھا۔
آزاد ترجمہ جے کرشن چودھری نے کیا جون ١٩٥٩ میں جید برقی پریس دہلی نے اسے شائع کیا تھا جب کہ جملہ حقوق بحق ادارہ انیس اردو الہ آباد محفوظ تھے۔ کتاب کا انتساب مہاراجہ سری سوائی تج سنگھ جی بہادر کے نام کیا گیا ہے۔ پیش لفظ جوش ملیح آبادی جب کہ دیباچہ تلوک چند محروم نے تحریر کیا ہے۔ دیگر تفصیلات خود جے کرشن چودھری نے تحریر کی ہیں۔ اس عکسی کتاب کا پہلا صفحہ موجود نہیں اس لیے کتاب کا نام درج نہیں کیا جا سکتا۔
بھرتری ہری سے متعلق کچھ کچھ جانتا تھا لیکن تفصیلات سے آگاہ نہ تھا۔ اس کتاب کے حوالہ سے بھرتری ہری سے متعلق جاننے کا شوق پیدا ہوا۔ اس اشتیاق کی وجہ جوش ملیح آبادی کے یہ الفاظ بنے:
بھرتری ہری کی شخصیت و اہمیت سے ہر وہ شخص واقف ہے جسے فلسفے اور ادب سے لگاؤ ہے۔
میں ادیب ناسہی ادب سےلگاؤ ضرور رکھتا ہوں۔ جے کرشن چودھری نے بھرتری ہری سے متعلق بڑی اہم معلومات فراہم کر دی ہیں۔ انہیں پڑھ کر بھرتری ہری کے متعلق بہت کچھ ہاتھ لگ جاتا ہے۔ اس کتاب کے مطالعہ سے مزید جاننے کا شوق ہرچند بڑھ جاتا ہے۔ مزید جاننے کے لیے میں نے انٹرنیٹ ریسرچ کا سہارا لیا۔ کافی کچھ پڑھنے کو ملا ہے اور اس حوالہ سے بھرتری ہری کو جاننے میں مدد ملی ہے۔ اس مواد کے حوالہ سے ان کی شاعری کو بھی سمجھنے میں مدد ملی ہے۔ ان کے کلام کے مطالعہ سے مجھے یہ بھی سمجھنے میں آسانی ہوئی ہے کہ وہ اپنے عہد کے عظیم بھگت‘ عارف اور صوفی تھے۔ ان کے کلام کے مطالعہ سے شاید آپ بھی اس سے مختلف نہ سمجھیں گے۔
ایک زبان سے دوسری زبان میں کسی تخلیق کا منتقل کرنا بلاشبہ بڑا مشکل گزار کام ہے۔ اس کے لیے دونوں زبانوں میں مہارت کا ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ باطور خاص شاعری کا ترجمہ اور بھی مشکل ہوتا ہے۔ شاعر لفظوں کا استعمال عمومی مفاہیم سے ہٹ کر کرتا ہے۔ گویا مترجم کا حسن شعر سے آگاہی ہونا بھی اس ضمن میں ضروری قرار پاتا ہے۔ وہ نزدیک کے مفاہیم تک محدود نہیں رہتا۔ اس نثری ترجمے کے مطالعہ سے یہ امر کھل کر سامنے آتا ہے کہ جے کرشن چوھدری ناصرف دونوں زبانوں میں مہارت رکھتے تھے بل کہ شاعری سے بھی شغف خاص رکھتے تھے۔ تب ہی تو انہوں نے شعری لوازمات کے لیے ضرورت کے مطابق اردو مترادفات تلاشے ہیں۔ خصوصا تشبیہات کے لیے انہوں نے بڑے عمدہ مترادفات کا استعمال کیا ہے۔ اس ذیل میں چند ایک مثالیں ملاحطہ فرما لیں:
چاند سا خوب صورت مکھڑا
کنول کو شرمانے والی مخمور آنکھیں
 سونے کی چمک کو ماند کر دینے والا کندن سا جسم
 بھنوروں سے بڑھ کر سیاہ گھنی زلفیں
طلائی کلس کی طرح چھاتیوں کا ابھار
 ہاتھی کی سونڈ کی طرح خوشنما اور گداز رانیں
مجموعہ  شرنگارشتک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا کے مطابق:
بھرتری ہری کا زمانہ پہلی صدی عیسوی قبل مسیح کا ہے۔بھرتری ہری کا تعلق شاہی خاندان سے تھا جس کا دارالحکومت اجین تھا ۔۔ راجا بکرماجیت کا بھائی بیان کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر سلیم خاں کے مطابق:
بھرتری ہری پہلی صدی عیسوی قبل مسیح میں سنکر تزبان کا شاعر تھا ۔ ریاستِ مالوہ کےاس راجہ کا دارالخلافہ اجین تھا
کہا جاتا ہے کہ وہ راجہ وکرم مادتیا کا بھائی تھا۔
چوہدری جے کرشن کے مطابق:
وہ اجین یا اس کے نواح کے شاہی خاندان سے تعلق رتھتا تھا اور اس نے کچھ عرصہ حکومت بھی کی۔۔۔۔کئی مورخ اسے مہاراجہ بکرماجیت کا‘ جس نے بکری سمت جاری کیا بھائی بتاتے ہیں۔ اس رائے کو درست تسلیم کیا تو وہ پہلی صدی قبل مسیح میں ہیدا ہوا۔ کئی محققین اس کا زنانہ ٦٥٠ء کے قریب بتاتے ہیں۔ جب سلادتیہ دوئم اجین کے تخت پر متمکن تھا۔ اگر مختلف راوئتوں کو درست تسلیم کیا جائے تو پہلی رائے زیادہ جاندار معلوم ہوتی ہے۔
بھرتری ہری سے منسوب ایک داستان جسے جے کرشن چوھدری نے نقل کیا ہے اور یہ آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا میں بھی ملتی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
 بھرتری ہری نے ایک کامیاب دنیا دار کی زندگی کا تجربہ کیا اور دنیاوی آلائشات میں اس حد تک منہمک ہوا کہ فکری اور تخلیقی زندگی کے بہت سے شعبوں سے اس کی توجہ ہٹی رہی۔ اس کی شادی ایک خوبصورت ملکہ پنگلا سے ہوئی۔ وہ بیوی پر اس حد تک فریفتہ تھا کہ اس کی کچھ دیر کی جدائی بھی گوارا نہیں تھی۔ ہر وقت سایے کی طرح اس کے ساتھ رہتا جس سے ریاستی معاملات میں اس کی دلچسپی نہ ہونے کے برابر رہ گئی۔ اس کے رویے پر اس کا چھوٹا سوتیلا بھائی وکرما دتیہ معترض تھا کیوں کہ اس کا خیال تھا بھرتری ہری کو راج نیتی میں زیادہ وقت صرف کرنا چاہئے۔
اس کے اعتراضات کے نتیجے میں مہارانی پنگلانے اس کے خلاف بھرتری ہری کو بدگمان کرنا شروع کیا اور آخر اسی کے اشارے پر راجہ نے وکرما دتیہ کو شہر سے نکلوادیا۔تاہم زیادہ عرصہ وہ اپنی بیوی کے سحر میں گرفتار نہ رہ سکاکیونکہ اس کی وفادری مشکوک تھی۔
اس کی بیوی کی بے وفائی سے منسوب حکایت ہےجس کے مطابق بھرتری ہری کو ایک پنڈت نے ایک پھل کا تحفہ دیا جسے کھانے سے زندگی کا دورانیہ بڑھ جاتا تھا۔ اس نے وہ پھل اپنی پتنی مہارانی پنگلا کو دے دیا۔
مہارانی نے پھل لے لیا لیکن اس سے کہا کہ وہ اسے نہانے کے بعد ہی کھائے گی۔ یہ سن کر راجہ لوٹ گیا۔ حقیقت یہ تھی کہ مہارانی پنگلا ایک شاہی سائیس کے عشق میں مبتلا تھی۔ اس نے وہ پھل اسی سائیس کو دے دیا۔ وہ سائیس کسی طوائف سے محبت کی پینگیں بڑھائے ہوئے تھا۔ یوں وہ پھل سائیس سے ہوکر طوائف تک پہنچا۔ جب کہ طوائف نے راجہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی غرض سے یہ تحفہ لاکر بھرتری ہری کو دیا۔ اس پھل کو وہ پہچان گیا اور اس سے بولا کہ وہ پھل اس کے پاس کہاں سے آیا اور یوں اس کے لیے اس بات کا سراغ لگانا زیادہ مشکل ثابت ہوا کہ اس کی بیوی بے وفا تھی۔ راجہ نے وہ پھل اس سے لیا اور فوراً کھالیا۔
مہارانی کی بے وفائی کا بھرتری ہری کی زندگی پر اتنا گہرا اثر ہوا کہ وہ سبھی دنیادی آلائشات سے کنارہ کش ہوگیا۔ حتی کہ اس نے شاہی زندگی کو بھی تیاگ دیا اور جنگلوں میں رہائش اختیار کرلی۔
محمد کاشف علی کا کہنا ہے:
راجہ بھرتری تو خود راج پاٹ تیج کر، اپنے بھائی وکرم جیت کو تاج و تخت سونپ کر واردِ ٹلہ ہوا جبکہ کے راجہ سلواہن کا بیٹا پورن، گرو گورکھ ناتھ کا بھگت بنا تھا۔ آج بھی سیالکوٹ کی تاریخی اور ثقافتی کہانی تب تک مکمل نہیں ہوتی جب تک پورن بھگت کا قصہ سماعتوں کی گلیوں سے ہو کر نہ گزرے۔ لوک روایات کے بیانیے میں مبالغہ تو ہوسکتا ہے مگر قدیم ہند کی تاریخ نگاری لوک روایات سے ہی اتنی ضخیم ہوئی ہے۔ لوک روایات کو یکسر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ یہ مخصوص سماج کی مشترکہ یاداشت ہوتی ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے بھلے اس میں جزئیات کی آمیزش ہوتی رہے۔
یہ مقدس پہاڑ ٹلہ گورکھ ناتھ سے ٹلہ بالناتھ بنا اور پھر عالم میں ٹلہ جوگیاں کا نام پایا،
مغل بادشاہ اکبر کا وقائع نویس ابوالفضل اسے ٹلہ بالناتھ کے نام سے ہی ’’آئینِ اکبری‘‘ میں جگہ دیتا ہے اور اسی کے مطابق اکبر نے 1581ء میں اس جوگیوں کے اس مقدس پہاڑ کی یاترا کی۔
شیر شاہ سوری نے سولہویں صدی کے وسط میں جرنیلی سڑک سے منسلک دینہ میں قلعہ روہتاس جو بنوا رکھا تھا تو اس کے بعد جب مغل شاہان یہاں سے گزرا کرتے تو یقیناً قیام تو کرتے ہوں گے اور کچھ ٹلہ کی زیارت بھی کرتے ہوں گے، بہر کیف تاریخ میں نورالدین جہانگیر بادشاہ کا ذکر تو مل ہی جاتا ہے کہ وہ ایک بار تو جوگیوں کے مقدس پہاڑ تک آیا۔

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا کے مطابق وہ:
بھرتری ہری قدیم ہندوستان کا سنسکرت کا عظیم فلسفی، ماہر لسانیات ،شاعر اور نجومی تھا۔ راج پاٹ چھوڑ کر جوگی بن گیا۔ وہ جدت پسند نظریہ ساز ہونے کے ساتھ ساتھ پانینی کے بعد سنسکرت کا سب سے اہم ماہر لسانیات بھی تھا۔
ڈاکٹر نیر عباس نیر نے بڑے کمال کی کہی ہے:
افلاطون نے یہ بحث Cratylas میں اٹھائی ہے۔ بالعموم یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ زبان اور دنیا کے رشتے پر غور کرنے والا پہلا آدمی افلاطون ہے، جو درست نہیں ہے۔ افلاطون سے کہیں پہلے بھرتری ہری یہ بحث پیش کر چکا تھا۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ بھرتری ہری اور افلاطون دونوں زبان اور دنیا کے رشتے کو حقیقی اور فطری قرار دیتے ہیں۔
آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا کے مطابق اس کی چار کتابیں دسیاب ہیں:
 شرنگار شتک: اس شتک میں سو شلوک ہیں اس میں بھرتری ہری نے عشق و محبت کی باتیں کی ہیں۔
 نیتی شتک: کہا جاتا ہے کہ جب بھرتری ہری اجین کا راج کمار تھا تب اس نے نیتی شتک لکھا تھا جس کا مطلب سیاست ہے ، اس شتک میں اس دور کی سیاست کی عکاسی ہے۔
 ویراگیہ شتک : جب بھرتری ہری نے سنیاس لے لیا اور اپنا راج پاٹ چھوڑ کر فقیری اختیار کیا تو اس نے ویراگیہ شتک لکھا اس کا مطلب ہے معرفتِ الہٰی اور فقیری۔
واکیہ پدیہ صرف نحو کی ایک کتاب شامل ہے۔
 سید یعقوب شمیم کے مطابق:
1670
 میں اس کی اخلاقی نظموں کا ترجمہ فرانسیسی زبان میں کیا تھا اس کے علاوہ Schiefmer اور Weber نے اس کی نظمیں لاطینی میں ترجمہ کے ساتھ شائع کیں۔ بھرتری ہری کی نظموں کا ترجمہ جرمنی زبان میں Bohler اور Schtz نے کیا ہے۔
Prof. Tawney کی تصنیف Indian Artiquiary میں ان نظموں کا انگریزی میں ترجمہ پیش کیا گیا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا کے مطابق:
اقبال بھرتری ہری کے قول وعمل سے بہت متاثر ہیں اور تمام انسانوں کی فلاح کا راستہ بتاتے ہیں ۔ بھرتری ہری کے اس فکر وعمل سے اقبال نے بہت فائدہ اٹھایا اور ہم دیکھتے ہیں کہ بھرتری ہری کے اس فکر کا اثر اقبال کے کلام میں ہمیں جابجا نظر آتا ہے ۔ اسی لیے علامہ اقبال نے بال ِجبریل کا آغاز اس شعر سے کیا ہے۔
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مر د ناداں پر کلام ِ نر م و نازک بے اثر
اقبال بھرتری ہری کی عظمت کے اس قدر قائل تھے کہ بھرتری ہری کو فلک الافلاک پر جگہ دی ہے جس کو ہم جنت الفردوس کے نام سے جانتے ہیں
اس کی شاعری کے بارے سید یعقوب شمیم کا کہنا ہے:
آج بھی ہندوستان کے مختلف علاقوں بالخصوص شمالی ہند کے علاقہ اجین میں بھرتری ہری کے خیالات لوک گیتوں اور لوک نظموں کی صورت میں موجود ہیں
علامہ کی وسعتِ نظری اور کشادہ دلی نے انہیں سرزمین ہند کے عظیم فلسفی اور شاعر بھرتریہری کا بھی دلدادہ بنا دیا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال نے اپنی مشہور کتاب بال جبریل کے سر ورق پر بھرتری ہری کے شعرکا ترجمہ لکھا ہے۔ کسی شعری مجموعے کی ابتداء میں کسی دوسرے فلسفی کے شعر کے موجودگی کا منفرد اعزاز کم ہی لوگوں کو حاصل ہوا ہوگا ۔
سید یعقوب شمیم کے مطابق:
اقبال نے اس کے کلام کا منظوم ترجمہ بھی پیش کیا ہے جنہیں بھگوت گیتا کی تعلیمات کا خلاصہ کہا جاسکتا ہے۔
ایں خدایان تنک مایہ زسنگ اندو زخشت
برترے ہست کہ دور است ز دیر و کنشت
اس کا انتقال ۶۵۱ء میں ہوا تھا

 مواد کی حصولی کے لیے ان ویب سائٹسز سے شکریے کے ساتھ مدد لی گئی ہے۔
http://www.urdulinks.com/urj/?p=544
 http://humshehrionline.com/?p=9181#sthash.WQShfTkT.dpuf
http://www.mazameen.microiways.com/Languages_SEEN/Sunskreet.aspx
http://llisaniatortanqeed.blogspot.com/2011/08/linguistics-and-criticism.html
https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%D8%B1%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%DB%81%D8%B1%DB%8C
https://urdu.siasat.com/news/%D8%A7%D9%82%D8%A8%D8%A7%D9%84-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A8%DA%BE%D8%B1%D8%AA%D8%B1%DB%8C-%DB%81%D8%B1%DB%8C-818856/
https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%DA%A9-%D9%85%D8%AE%D8%AF%D9%88%D8%B4-%D8%AC%DA%BE%D8%B1%D9%88%DA%A9%DB%81%D8%8C-%D9%B9%D9%84%DB%81-%D8%AC%D9%88%DA%AF%DB%8C%D8%A7%DA%BA.93005/

بھرتری سے منسوب اس روایت کی مثال‘ اشارتی سہی ان کے کلام میں بھی ملتی ہیں۔ مثلا

میں ہوں جس کا پریمی
وہ ہے دوجے مرد کی دوانی
اور دوجا مرد دوسری
نار کے دَر کا سیلانی
پر وہ دوجی نار پیار کی
ماری مرتی ہے مجھ پر
سو سو لعنت کام دیو١  پر
مجھ پر اور اس پر اور اس پر
ترجمہ تاج قایم خانی
١-کام دیو‘ محبت کا دیوتا
۔۔۔۔۔
کیا عورت حقیقت میں کسی شخص سے محبت کرتی ہے
وہ ۔۔۔بیک وقت۔۔۔ ایک انسان سے باتیں کرتی ہے
دوسرے کی طرف نگاہ غلط انداز سے دیکھتی ہے
اور تیسرے کی یاد کو سینے سے لگائے رکھتی ہے
مجموعہ  شرنگارشتک
۔۔۔۔۔
مجموعہ  شرنگارشتک میں موجود کلام عیش کوشی سے تعلق کرتا ہے۔ عورت کے حسن و جمال اور لذت کوشی پر مبنی ہے۔
تیاگی ہونے سے پہلے وہ عورت کے کس قدر دلداہ تھے اس کا اندازہ ان کی ان دو نظموں سے باخوبی لگایا جا سکتا ہے:
وہ زاہد جو عورت کی تحقیر کرتا ہے‘ نہ صرف خود فریبی میں مبتلا ہے بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ کرتا ہے۔ کیونکہ ریاضت اس لیے کی جاتی ہے کہ بہشت ملے۔ اور بہشت کے حصول سے غرض اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ اپسراؤں ۔۔۔حوروں۔۔۔۔ کا وصل نصیب ہو۔
جے کشن چوھدری نے اس خیال سے ملتی خیام کی ایک رباعی بھی درج کی ہے۔
گویند بہشت وجود عین خواہد بود
و آنجا مے ناب و انگبین خواہد بود
گرمائے و معشوق پرستیم رواست
چوں عاقبت کار ہمیں خواہد بود
مجموعہ  شرنگارشتک
۔۔۔۔۔
ایک حسین عورت کامدیو ۔۔۔۔عشق کا دیوتا۔۔۔ کا آلہءکار ہے۔ جس کے توسط سے دنیا کی سب عیش وعشرت میسر ہے جو احمق‘ عورتوں کا خیال چھوڑ بہشت کے تصور میں محو ہو جاتے ہیں۔ وہ کامدیو کے غم و غصہ کا شکار ہو کر سزا پاتے ہیں۔ جو ان کو مختلف صورتوں میں ملتی ہے۔ کبھی تو کامدیو ان کا لباس اترا لیتا ہے‘ کبھی سرمنڈاوا دیتا ہے۔ کسی کو جٹا دھاری بننے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اور کسی کے ہاتھ میں کشکول دیکر در در کی بھیک منگواتا ہے۔   
مجموعہ  شرنگارشتک
۔۔۔۔۔
 بھرتری ہری کے کلام میں خوب صورت غزلیاتی تشبیہات کا بھی استعمال ہوا ہے۔ جے کرشن چوھدری نے ان کا ترجمہ کرتے وقت اپنی حس جمالیات کا پوری ذمہ داری سے استعمال کیا ہے۔ مثلا ان کا یہ ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:
چاند سا خوب صورت مکھڑا کنول کو شرمانے والی مخمور آنکھیں‘ سونے کی چمک کو ماند کر دینے والا کندن سا جسم‘ بھنوروں سے بڑھ کر سیاہ گھنی زلفیں؛ طلائی کلس کی طرح چھاتیوں کا ۔۔۔ زہد شکن۔۔۔ ابھار‘ ہاتھی کی سونڈ کی طرح خوشنما اور گداز رانیں اور شیرنینی کلام۔ یہ سب جوان دوشیزاؤں کے فطری جوہر ہیں۔ جو انسان کے دل و دماغ کو تسخیر کر لیتے ہیں۔
مجموعہ  شرنگارشتک
اس نظم کو پڑھ کر شاہ لوگوں کی ذہنیت اور کرتوت کھل کر سامنے آ جاتے ہیں۔ یہ اس سے قطعی الگ بات ہے کہ چوری خور مورکھ اسے نبی سے کچھ انچ ہی نیچے رکھتا ہے۔ وہ وہ گن ان میں گنواتا ہے جو ان کے قریب سے بھی نہیں گزرے ہوتے یا ان سے کبھی اس کی بھولے سے بھی سلام دعا نہیں ہوئی ہوتی۔
اسی کتاب میں دو نظمیں ایسی بھی درج ہیں جو آفاقی اور عملی زندگی کی عکاس ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:
علم کے علم و فن کا چراغ محض اس وقت تک روشن ہے‘ جب تک کسی دل نواز حسینہ کے دامن حسن کا جھوکا اس تک نہ پہنچے۔
۔۔۔۔۔۔
انسان کو بزرگی‘ فہم و فراست‘ تمیز نیک و بد اور خاندانی وقار کا احساس تب تک رہتا ہے۔ جب تک اس کا جسم آتش عشق کے شعلوں سے محفوظ ہے!
مجموعہ  شرنگارشتک
حسن زن اور عشق رن سے متعلق دو نظمیں ایسی بھی پڑھنے کو ملتی ہیں جو زن گرفتنی کی انتہا کو چھوتی نظر آتی ہیں۔ بھرتری ہری نے اس ضمن میں برہما دیو کو بھی بےدست و پا قرار دے دیا ہے۔ آپ بھی پڑھیں:
بےانتہا محبت کی گرمجوشی میں عورت جس کام کو شروع کر دیتی ہے۔ اس کو روکنے میں برھما بھی بےدست و پا ہو جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔
اس دنیا میں ایسے شہزور موجود ہیں جو بدمست ہاتھیوں کے جھنڈ کو خاظر میں نہیں لاتے اور غضب ناک شیروں سے الجھنا ایک کھیل سمجھتے ہیں۔ لیکن مجھے اس بات کے کہنے میں اصرار ہے کہ ایسے بہادر بہت کم ہیں جو کامدیو کی پیدا کی ہوئی مستی کی تاب لا سکیں۔
اس مضمون سے متعلق ایک شعر مولانا روم کا بھی درج کیا گیا ہے جو جے کرشن چوھدری کے ذوق اور فارسی دانی کا غماز ہے۔
سہل شیرے واں کہ صفہا بشکند
شیر آن است آنکہ خود را بشکند
مجموعہ  شرنگارشتک
ایک نظم جو رنگین طبعتوں کے لیے عنوان لیے ہوئے ہے۔ یہ نظم عورت شوقینی کی جیتی جاگتی ایمجری کا درجہ لیے ہوئے ہے۔
سب سے قابل نظارہ چیز کون سی ہے
ایک آہو چشم حسینہ کا محبت سے مسکراتا ہوا چہرا۔!
سونگھنے کے لئے سب سے عمدہ چیز کون سی ہے
حسینہ کا تنفس۔!
سب سے زیادہ سامع نواز چیز کون سی ہے
حسینہ کی شیریں کلامی۔!
چھونے کے قابل سب سے زیادہ احساس آفریں چیز کون سی ہے
حسینہ کا نازک اندام!
تصور کے لیے سب سے بڑھ کر مسرت خیز چیز کون سی ہے
حسینہ کا پربہار شباب اور وصال!   
مجموعہ  شرنگارشتک
بھرتری ہری کمال کے سراپا نگار ہیں۔ اس ذیل میں ان کی یہ نظم ملاحظہ فرمائیں:
نازک اندام حسینہ! تیرے حسن کا کیا کہنا! بال بال میں موتی گندھے ہیں‘ دونوں آنکھیں کانوں کے نزدیک پہنچ گئی ہیں‘ دانت موتیوں کی لڑیوں کی طرح آنکھوں کو خیرہ کئے دیتے ہیں‘ چھاتیوں پر پڑا ہوا موتیوں کا خوشنما ہار اپنی جگہ آب وتاب دیکھا رہا ہے غرضٰکہ تو ان تمام خوبیوں کی حامل ہے‘ جو شرقی١ میں پائی جاتی ہیں۔ تیرا بدن شانتی کا گہوارہ ہے۔‘ تیرا جسم تمام برتوں۔۔۔ریاضتوں۔۔۔ اور آشرموں٢ کا مسکن ہے۔ لیکن ان سب سے بالاتر‘ تو ایک قابل احترام شکتی۔۔۔طاقت۔۔۔ ہے۔ جس نے مجھے گرویدہ کر رکھا ہے۔
١ الہامی کتاب ٢ ہندو عقیدہ کے مطابق زندگی کے چار دور ہیں‘ برہمچریہ‘گرہست‘ ‘ بان برستھ اور سنیاس
نوٹ۔ یہ حواشی جے کرشن چوھدری نے درج کیے ہیں۔
مجموعہ  شرنگارشتک




مکرمی حسنی صاحب: سلام مسنون
آپ کا یہ علم افروز مضمون پڑھ کر خدا جانے کیا کیا یاد آگیا۔ والد مرحوم حضرت راز چاند پوری کے پاس اس وقت کے تمام موقر رسالے آیا کرتے تھے اور ہم سب بھائیوں اور بہنوں کو ان کے مطالعے کی مکمل آزادی تھی۔ چنانچہ اکثر رسالے دیکھا کرتا تھا اور خاص طور سے گرمی کی تعطیل اسی شغل میں گزرا کرتی تھی۔۔ ان رسالوں میں کبھی کبھی بھرتی ہری کا ذکر نظر آجایا کرتا تھا۔ اسی زمانے میں علامہ اقبال کا بھرتری ہری کو خراج عقیدت دیکھنے کا موقع ملا تھا۔ ذہن میں سوال اٹھا کرتے تھے کہ یہ بھرتی ہری کون تھا، کہاں تھا، یا تھا بھی کہ نہیں۔ اردو میں تحقیق کا شعبہ ہمیشہ ہی کمزور رہا ہے۔ کبھی بھرتری ہری کے بارے میں تفصیل سے پڑھنے کو کچھ نہیں ملا اور ذہن  میں یہ خیال کچھ پختہ ساہو گیا کہ یہ ایک خیالی ہستی تھی جس کا کوئی وجود اگر تھا تو صرف ادب میں تھا ورنہ حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس زمانے میں "گوگل شریف" کا بھی وجود نہیں تھا۔ آپ کا یہ مضمون پہلا مضمون ہے جس نے بھرتری ہری کی ذات و صفات سے ہم کو متعارف کروایا ہے۔ آپ کی محنت اور ادب دوستی اگر یہ عقدہ نہ کھولتی تو بھرتری ہری کی ذات سے وہ پردہ نہ ہٹتا جو بچپن میں اس پر گر گیا تھا۔ مضمون جتنا علم افروز ہے اسی قدر دلچسپ بھی ہے۔ میں آپ کا انتہائی ممنون ہوں کہ آپ نے یہ کام سرانجام دیا۔ کاش انجمن کے احباب اس جانب توجہ کریں اور غزل کی گردن کو چند لمحوں کے لئے آزاد کرکے سوچیں کہ یہ کام کتنی محنت اور محبت کا متقاضی ہے۔ آپ اس عمر میں ایسے مضامین استقلال اور پا مردی سے لکھے جاتے ہیں۔ اردو دنیا کو ایسے کام کی اشد ضرورت ہے۔ جزاک اللہ خیرا۔ میرا شکریہ ہی نہیں ہدیہ عقیدت قبول کیجئے۔

سرورعالم راز





 

Copyright © اُردو انجمن