اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: تمہارے غم میں نڈھال ہوں میں  (پڑھا گیا 309 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر K. Ashraf

  • Adab Dost
  • ***
  • تحریریں: 735
تمہارے غم میں نڈھال ہوں میں
« بروز: جنوری 10, 2018, 01:16:59 شام »

غزل
کے اشرف

تمہارے غم میں نڈھال ہوں میں
خود اپنی جاں کا وبال ہوں میں
 
چھپا لو مجھ کو تم اپنے دل میں
کہ اک اچھوتا خیال ہوں میں
 
زمانہ گردش میں رات دن ہے
کہ ایک مشکل سوال ہوں میں

نہ ڈھونڈو مجھ کو تم آئینوں میں
کہ آپ اپنی مثال ہوں میں

نہ سمجھو مجھ کو حریفِ جاں تم
کہ خود تمہارا خیال ہوں میں
 
کبھی اگر تم پلٹ کے دیکھو
تمہاری شامِ وصال ہوں میں

نہیں ہے کافی کیا خواجہؔ جی یہ
کسی کا حرفِ کمال ہوں میں

********
« آخری ترمیم: جنوری 10, 2018, 09:50:43 شام منجانب K. Ashraf »



غیرحاضر Afroz Mehr

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 264
جواب: تمہارے غم میں نڈھال ہوں میں
« Reply #1 بروز: جنوری 15, 2018, 04:20:32 شام »

غزل
کے اشرف

تمہارے غم میں نڈھال ہوں میں
خود اپنی جاں کا وبال ہوں میں
 
چھپا لو مجھ کو تم اپنے دل میں
کہ اک اچھوتا خیال ہوں میں
 
زمانہ گردش میں رات دن ہے
کہ ایک مشکل سوال ہوں میں

نہ ڈھونڈو مجھ کو تم آئینوں میں
کہ آپ اپنی مثال ہوں میں

نہ سمجھو مجھ کو حریفِ جاں تم
کہ خود تمہارا خیال ہوں میں
 
کبھی اگر تم پلٹ کے دیکھو
تمہاری شامِ وصال ہوں میں

نہیں ہے کافی کیا خواجہؔ جی یہ
کسی کا حرفِ کمال ہوں میں

********

محترمی جناب اشرف صاحب: سلام علیکم
مرزا غالب کی ایک غزل ہے:
پھر ہوا وقت کہ ہو بال کشا موج شراب
دے بط مے کو دل ودست ثنا موج شراب
آپ نے پڑھی ہے؟ ضرور پڑھی ہوگی۔ آپ کی غزل دیکھ کر بے اختیار یہ شعر میری زبان پر آگیا!
آپ کی غزل حسب معمول اچھی ہے۔ بحر چھوٹی لیکن رواں دواں اور دلکش ہے۔ زمین زرخیز اور صاف ستھری ہے اس لئے مضامین بھی ایسے ہی ہیں۔ پڑھ کر محظوظ ہوئی اور بہت ہوئی۔ شکریہ۔ غزل کی داد حاضر ہے، قبول فرمائیں۔ البتہ ایک بات عرض کرنا ضروری ہے کہ ہر شعر کے مصرع ثانی میں "کہ" کی تکرار بہت کھٹک رہی ہے۔ اگر اس کا کوئی علاج آپ کر لیں تو غزل کو بقول شخصے چار چاند لگ جائیں گے۔
نہ ڈھونڈو مجھ کو تم آئینوں میں
کہ  آپ  اپنی  مثال   ہوں  میں 
یہ شعر بہت پسند آیا۔ خوب کہا ہے۔ امید ہے کہ یہ عنایت جاری رہے گی۔

مہر افروز


غیرحاضر B.G.M.

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3009
جواب: تمہارے غم میں نڈھال ہوں میں
« Reply #2 بروز: جنوری 15, 2018, 06:29:21 شام »

“nah DhuuNDo mujh ko tum aa’iinoN meN
kih aap apnii misaal huuN maiN!”

Waa...h! Kyaa Khuub she’r kahaa hai, janaab!
Daad, daad aur bahot daad!

=============================== :agree:
"Meri to kyaa bisaat suKhan ko samajh sakuuN
Le jaa rahaa hai shauq chalaa jaa rahaa huuN maiN"

غیرحاضر K. Ashraf

  • Adab Dost
  • ***
  • تحریریں: 735
جواب: تمہارے غم میں نڈھال ہوں میں
« Reply #3 بروز: جنوری 16, 2018, 09:12:05 صبح »

 غزل کی پسندیدگی کے لیے احباب کا
شکر گزار ہوں ۔
نیازمند و خاکسار
کے اشرف

غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • ******
  • تحریریں: 6291
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar
جواب: تمہارے غم میں نڈھال ہوں میں
« Reply #4 بروز: جنوری 17, 2018, 09:11:57 شام »

غزل
کے اشرف

تمہارے غم میں نڈھال ہوں میں
خود اپنی جاں کا وبال ہوں میں
 
چھپا لو مجھ کو تم اپنے دل میں
کہ اک اچھوتا خیال ہوں میں
 
زمانہ گردش میں رات دن ہے
کہ ایک مشکل سوال ہوں میں

نہ ڈھونڈو مجھ کو تم آئینوں میں
کہ آپ اپنی مثال ہوں میں

نہ سمجھو مجھ کو حریفِ جاں تم
کہ خود تمہارا خیال ہوں میں
 
کبھی اگر تم پلٹ کے دیکھو
تمہاری شامِ وصال ہوں میں

نہیں ہے کافی کیا خواجہؔ جی یہ
کسی کا حرفِ کمال ہوں میں

********

عزیز مکرم خواجہ صاحب: سلام مسنون
تاخیر جواب کے لئے معذرت خواہ ہوں۔ سوچا کہ شاید دوسرے احباب بھی گفتگو میں شرکت کریں لیکن اب احباب رہ ہی کتنے گئے ہیں جو شریک ہوں! بہر کیف ایں ہم غنیمت است کہہ کر آگے بڑھنے میں ہی بہتری ہے۔ آپ کی غزل کی بحر چھوٹی ہے لیکن دلکش اور رواں دواں ہے۔ مہر افروز صاحبہ نے "کہ" کی تکرار کا ذکر کیا ہے اور صحیح کیا ہے لیکن ایسی غزلوں میں بعض اوقات اس قسم کی تکرار  نا گزیر ہوجاتی ہے خصوصا اگر مضامین میں بوجوہ یکسانیت پیدا کی جائے۔ اس "کہ" کو بدلنے میں خاصی دماغ سوزی کرنی ہوگی جو شاید ضروری نہیں ہے۔ غزل کی داد حاضر ہے۔
تمہارے غم میں نڈھال ہوں میں
خود اپنی جاں کا وبال ہوں میں
میرا خیال ہے کہ اگر "کا" کو "پر" سے بدل دیں تو شعر بہتر ہو جائے گا۔ لیکن یہ صرف میری خام خیالی بھی ہو سکتی ہے! :)
نہ مجھ کو ڈھونڈو تم آئینوں میں
کہ آپ اپنی مثال ہوں میں
یہ شعر یوں تو الفاظ کا اچھا مجموعہ ہے لیکن اپنے معنی واضح نہیں کر رہا ہے۔ کون سے آئینوں کا ذکر ہے اور کوئی ان میں آپ کو کیوں ڈھونڈے گا جب آپ خود ہی ان کے سامنے کحڑے ہوں گے؟ اگر آپ اپنی مثال ہیں تو آپ کا عکس بھی تو آپ کی ہی مثال ہے۔ یوں آپ بہتر سمجھتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
ایک اچھی غزل پر داد حاضر ہے۔ باقی رہ گیا راوی تو اس کو ایک طرف کیجئے اور چین کی بنسی بجائیے! میں بھی آپ کے ساتھ ہوں اس بدعت میں۔ :D

سرورعالم راز 





غیرحاضر K. Ashraf

  • Adab Dost
  • ***
  • تحریریں: 735
جواب: تمہارے غم میں نڈھال ہوں میں
« Reply #5 بروز: جنوری 18, 2018, 08:52:32 صبح »

محترم سرور راز صاحب
آپ نے غزل پڑھی ، اس پر داد دی اور ساتھ ہی اظہار خیال فرمایا، اس
کے لیے آپ کا شکریہ۔
آپ نے نہ ڈھونڈو مجھ کو تم آئینوں میں
  کہ آپ اپنی مثال ہوں میں کے بارے میں کچھ سوال اٹھائے ہیں۔
  یہ ایک انتہائی لطیف صورت حال کا شعر ہے۔
صورت حال یہ ہے کہ معشوق آئنے کے سامنے کھڑا ہے اور عاشق اس کے آئنے میں عکس کو انتہائی  محویت سے
دیکھ رہا ہے۔
معشوق عاشق کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ آئینے میں میرے عکس میں
وہ حسن نہیں جو مجھ میں ہے۔ چناچہ آئینے میں میرا عکس دیکھنے کی بجاے
مجھے دیکھو کہ میں اپنی مثال آپ ہوں۔  آئینے میں میرا عکس بھی میر ی مثال نہیں ہے۔
توقع ہے بات واضح ہو گئی ہوگی ۔
اس صورت حال کا شاید ہی کوئی اور شعر آپ کو اردو شاعری میں ملے۔
غالب کا ایک انتہائی خوبصورت شعر ہے لیکن صورت حال قدرے مختلف ہے۔
تماشا کر اے محوِ آئین داری
تجھے کس تمنا سے ہم دیکھتے ہیں۔
غالب ہی کا ایک اور شعر ہے۔
آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے
ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے
نیازمند و خاکسار
کے اشرف
« آخری ترمیم: جنوری 18, 2018, 11:08:58 صبح منجانب K. Ashraf »

غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • ******
  • تحریریں: 6291
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar
جواب: تمہارے غم میں نڈھال ہوں میں
« Reply #6 بروز: جنوری 18, 2018, 07:50:53 شام »

محترم سرور راز صاحب
آپ نے غزل پڑھی ، اس پر داد دی اور ساتھ ہی اظہار خیال فرمایا، اس
کے لیے آپ کا شکریہ۔
آپ نے نہ ڈھونڈو مجھ کو تم آئینوں میں
  کہ آپ اپنی مثال ہوں میں کے بارے میں کچھ سوال اٹھائے ہیں۔
  یہ ایک انتہائی لطیف صورت حال کا شعر ہے۔
صورت حال یہ ہے کہ معشوق آئنے کے سامنے کھڑا ہے اور عاشق اس کے آئنے میں عکس کو انتہائی  محویت سے
دیکھ رہا ہے۔
معشوق عاشق کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ آئینے میں میرے عکس میں
وہ حسن نہیں جو مجھ میں ہے۔ چناچہ آئینے میں میرا عکس دیکھنے کی بجاے
مجھے دیکھو کہ میں اپنی مثال آپ ہوں۔  آئینے میں میرا عکس بھی میر ی مثال نہیں ہے۔
توقع ہے بات واضح ہو گئی ہوگی ۔
اس صورت حال کا شاید ہی کوئی اور شعر آپ کو اردو شاعری میں ملے۔
غالب کا ایک انتہائی خوبصورت شعر ہے لیکن صورت حال قدرے مختلف ہے۔
تماشا کر اے محوِ آئین داری
تجھے کس تمنا سے ہم دیکھتے ہیں۔
غالب ہی کا ایک اور شعر ہے۔
آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے
ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے
نیازمند و خاکسار
کے اشرف

برادرم اشرف ساحب:سلام مسنون
جواب خط کے لئے ممنون ہوں۔ اس سے آپ کا موقف معلوم ہوا لیکن بھائی (گستاخی معاف) جان کی امان پائوں تو عرض کروں کہ یہ آپ کے شعر کا عاشق اپنے وقت کا اناڑی معلوم ہوتا ہے کہ محبوبہ سامنے اپنی ساری قیامت آفرینی کے ساتھ کھڑی ہے اور آپ اس کو دیکھنے کے بجائے آئینے میں اس کا عکس دیکھ رہے ہیں۔ اس کو کسی ماہر نفسیات کے پاس جانے کی سخت ضروت ہے۔ آپ نے غالب کا شعر لکھا ہے کہ :
تماشا  کہ   اے  محو  آئینہ  داری
تجھے کس تمنا سے ہم دیکھتے ہیں
تو کم سے کم عاشق اس میں اپنی محبوبہ کو تمنا سے دیکھ تو رہا ہے! اناڑیوں کی طرح ادھر ادھرٹامک ٹوئیاں نہیں مار رہا ہے۔ خیر یہ تو مذاق تھا۔ اس قسم کے تبادلہءخیال سے سوچ کی راہیں کھلتی ہیں اور بعض اوقات عبرت بھی حاصل ہوتی ہے! :)
یہ عبرت والی بات راوی نے دبے الفاظ میں کہی ہے۔ دروغ بر گردن راوی!

سرورعالم راز




غیرحاضر K. Ashraf

  • Adab Dost
  • ***
  • تحریریں: 735
جواب: تمہارے غم میں نڈھال ہوں میں
« Reply #7 بروز: جنوری 30, 2018, 03:26:13 شام »

محترم سرور رازؔصاحب
آپ کا دوسرا نوٹ آج دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ آپ نے دروغ راوی کی گردن
اور عبرت  بھی اسی کے کھاتے میں ڈال دی ہے۔ لگتا ہے حوالہ دیے گئے غالب کے پہلے
دو اشعار سے شعر کا اشکال دور نہیں ہوا۔ تو صاحب لیجئے اسی سیاق و سباق
میں ایک اور شعر پیش کئے دیتا ہوں۔ شاید آپ کا ذہن
راوی کے پراپیگنڈے کے علاوہ کچھ اور بھی سن لے۔ بہر حال غالب نے فرمایا ہے کہ
آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
صاحب کو دل نہ دینے پر کتنا غرور تھا۔
اسی لیے میں نے انتباع کیا ہے کہ آئینہ جو کہ عکسوں کی دنیا ہے اس
میں حقیقت تلاش مت کریں ۔
اور کیا عرض کروں آپ ادھر ادھر بھٹکنا چاہتے ہیں تو پھر میں کیا
آپ کو آپ کا راوی بھی نہیں روک سکتا۔
نیازمند و خاکسار
کے اشرف

غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • ******
  • تحریریں: 6291
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar
جواب: تمہارے غم میں نڈھال ہوں میں
« Reply #8 بروز: جنوری 30, 2018, 09:32:12 شام »

محترم سرور رازؔصاحب
آپ کا دوسرا نوٹ آج دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ آپ نے دروغ راوی کی گردن
اور عبرت  بھی اسی کے کھاتے میں ڈال دی ہے۔ لگتا ہے حوالہ دیے گئے غالب کے پہلے
دو اشعار سے شعر کا اشکال دور نہیں ہوا۔ تو صاحب لیجئے اسی سیاق و سباق
میں ایک اور شعر پیش کئے دیتا ہوں۔ شاید آپ کا ذہن
راوی کے پراپیگنڈے کے علاوہ کچھ اور بھی سن لے۔ بہر حال غالب نے فرمایا ہے کہ
آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
صاحب کو دل نہ دینے پر کتنا غرور تھا۔
اسی لیے میں نے انتباع کیا ہے کہ آئینہ جو کہ عکسوں کی دنیا ہے اس
میں حقیقت تلاش مت کریں ۔
اور کیا عرض کروں آپ ادھر ادھر بھٹکنا چاہتے ہیں تو پھر میں کیا
آپ کو آپ کا راوی بھی نہیں روک سکتا۔
نیازمند و خاکسار
کے اشرف

مکرم بندہ خواجہ صاحب: سلام مسنون
جواب خط کے لئے ممنون ہوں لیکن جو شعر آپ نے مرزا غالب کا بطور دلیل عنایت کیا ہے کیا وہ واقعی آپ کے موقف کی تائید کر رہا ہے کہ آئینے کی دنیا میں حقیقت کی تلاش بیسود ہے؟ مجھ کو تو کچھ اور ہی نظر آرہا ہے۔ شعر یہ ہے :
آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے  کے  رہ گئے
صاحب کو دل نہ دینے پر کتنا غرور تھا
یعنی محبوبہ کو اس پر بہت ناز تھا کہ میرا دل کوئی نہیں جیت سکتا لیکن جب اس نے خود اپنا عکس آئینہ میں دیکھا تو وہ اپنے ہی حسن کے ہاتھوں دل ہار بیٹھی اور اپنا سا منھ لے کر رہ گئی۔ اور آپ فرمارہے ہیں کہ آئینہ حقیقت کا عکاس نہیں ہوتا ہے؟ ایں چہ بوالعجبی است! میری بات سن کر راوی بھی منھ پلٹ کر ہنس رہا ہے۔ اس کا کوئی علاج ہے؟

سرورعالم راز
]



غیرحاضر vb jee

  • Adab Fehm
  • ****
  • تحریریں: 1267
  • جنس: مرد
جواب: تمہارے غم میں نڈھال ہوں میں
« Reply #9 بروز: جنوری 31, 2018, 06:06:03 صبح »

غزل
کے اشرف

تمہارے غم میں نڈھال ہوں میں
خود اپنی جاں کا وبال ہوں میں
 
چھپا لو مجھ کو تم اپنے دل میں
کہ اک اچھوتا خیال ہوں میں
 
زمانہ گردش میں رات دن ہے
کہ ایک مشکل سوال ہوں میں

نہ ڈھونڈو مجھ کو تم آئینوں میں
کہ آپ اپنی مثال ہوں میں

نہ سمجھو مجھ کو حریفِ جاں تم
کہ خود تمہارا خیال ہوں میں
 
کبھی اگر تم پلٹ کے دیکھو
تمہاری شامِ وصال ہوں میں

نہیں ہے کافی کیا خواجہؔ جی یہ
کسی کا حرفِ کمال ہوں میں

********


محترم جناب کے اشرف صاحب! السلام علیکم

غزل سادہ اور خوبصورت ہے۔ ہماری طرف سے بھی داد قبول کیجے۔ محترمہ مہر افروز صاحبہ نے :کہ: کی تکرار کی بات کہی، جب پہلی بار ہم نے پڑھی تھی آپ کی یہ غزل تو ہماری توجہ بھی :کہ: کی تکرار کی طرف گئی۔ یہ کوئی ایسی خامی نہیں ہے البتہ غزل کے حسن کو ضرور متاثر کرتی ہے۔

آپ کی اور محترم سرور عالم راز سرورؔ صاحب کی گفتگو بھی پڑھتے رہے ہیں۔ آپ نے شعر میں جو بات کہی ہے ہمارا خیال ہے کہ اس میں :ڈھونڈو: اور :آئینوں: کا مقام نہیں ہے، آپ کی بات شعر میں ذیادہ واضح ہوتی اگر مصرع کُچھ یوں ہوتا :نہ دیکھو مجھ کو تم  آئنیے میں:  ۔۔

لیکن خیر شعر اسی طرح بھی ہمیں تو بُہت پسند آیا ۔۔ ہم نے جو اس کی تشریح سمجھ رکھی ہے وہ کُچھ یوں ہے کہ شاعر سے جو محبت کرتا ہے، اس سے شاعر مخاطب ہے اور بے نیازی سے کہہ رہا ہے کہ مُجھے آئینوں میں یعنی :اپنے آپ میں: مت تلاش کرو، کیونکہ اس کی کوئی بات شاعر سے نہیں ملتی۔ آئینے کے سامنے انسان اپنے آپ کو دیکھتا ہے تو کبھی دائیں کبھی بائیں طرف سے مختلف زاویوں سے دیکھتا ہے سو :آئینے کی بجائے، آئینوں: اچھا لگا ہمیں۔

باقی آپ بہتر سمجھتے ہیں۔

ایک بار پھر داد کے ساتھ


دُعا گو



گنگناتی رهے گی انھیں تو سدا
اتنے نغمے تِرے نام کر جائیں گے

غیرحاضر K. Ashraf

  • Adab Dost
  • ***
  • تحریریں: 735
جواب: تمہارے غم میں نڈھال ہوں میں
« Reply #10 بروز: فروری 06, 2018, 08:51:02 صبح »

محترم وی بی جی صاحب
میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے میری غزل پڑھی ، اس کے بارے
میں اظہارِ پسندیدگی کیا اور داد سےنوازا۔
کہ کی تکرار کے بارے میں عرض یہ ہے کہ یہ ضرورتاً نہیں عمداً استعمال کیا ہے
اور اس کا مقصد یہ ہے کہ ایک نقطے کے کئی پہلووں کی تاکید کی گئی ہے۔
آئنے کی بجائے آئینوں کا استعمال آپ کو اچھا لگا۔ اچھی بات ہے
ہے لیکن میں جس محبوب کی بات کر رہا ہوں
اس کے کئی عاشق ہیں اور ہر ایک اس کے عکس کو ایک آئینے میں
دیکھ  رہا ہے۔ سب کو محبوب تاکید کر رہا ہے کہ میری حقیقت اور ہے۔ آئینوں میں
جو میرے عکس تم دیکھ رہے ہو ان کا میری حقیقت و اصلیت سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ آئنے بھی استعارے ہیں۔ استعارے
اس ذہنی پردے کے جن  پر محبوب کا عکس بن رہا ہے۔ یہ بیرونی آئنے نہیں ہیں۔
ایک بار پھر غزل پڑھنے اور رائے دینے کا شکریہ۔ آپ سے ہمیشہ
کچھ نہ کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ اب بھی ملا ہے ۔
نیاز مند و خاکسار۔
کے اشرف 'd'

غیرحاضر Afroz Mehr

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 264
جواب: تمہارے غم میں نڈھال ہوں میں
« Reply #11 بروز: فروری 06, 2018, 08:42:50 شام »

غزل
کے اشرف

تمہارے غم میں نڈھال ہوں میں
خود اپنی جاں کا وبال ہوں میں
 
چھپا لو مجھ کو تم اپنے دل میں
کہ اک اچھوتا خیال ہوں میں
 
زمانہ گردش میں رات دن ہے
کہ ایک مشکل سوال ہوں میں

نہ ڈھونڈو مجھ کو تم آئینوں میں
کہ آپ اپنی مثال ہوں میں

نہ سمجھو مجھ کو حریفِ جاں تم
کہ خود تمہارا خیال ہوں میں
 
کبھی اگر تم پلٹ کے دیکھو
تمہاری شامِ وصال ہوں میں

نہیں ہے کافی کیا خواجہؔ جی یہ
کسی کا حرفِ کمال ہوں میں

********


محترم جناب کے اشرف صاحب! السلام علیکم

غزل سادہ اور خوبصورت ہے۔ ہماری طرف سے بھی داد قبول کیجے۔ محترمہ مہر افروز صاحبہ نے :کہ: کی تکرار کی بات کہی، جب پہلی بار ہم نے پڑھی تھی آپ کی یہ غزل تو ہماری توجہ بھی :کہ: کی تکرار کی طرف گئی۔ یہ کوئی ایسی خامی نہیں ہے البتہ غزل کے حسن کو ضرور متاثر کرتی ہے۔

آپ کی اور محترم سرور عالم راز سرورؔ صاحب کی گفتگو بھی پڑھتے رہے ہیں۔ آپ نے شعر میں جو بات کہی ہے ہمارا خیال ہے کہ اس میں :ڈھونڈو: اور :آئینوں: کا مقام نہیں ہے، آپ کی بات شعر میں ذیادہ واضح ہوتی اگر مصرع کُچھ یوں ہوتا :نہ دیکھو مجھ کو تم  آئنیے میں:  ۔۔

لیکن خیر شعر اسی طرح بھی ہمیں تو بُہت پسند آیا ۔۔ ہم نے جو اس کی تشریح سمجھ رکھی ہے وہ کُچھ یوں ہے کہ شاعر سے جو محبت کرتا ہے، اس سے شاعر مخاطب ہے اور بے نیازی سے کہہ رہا ہے کہ مُجھے آئینوں میں یعنی :اپنے آپ میں: مت تلاش کرو، کیونکہ اس کی کوئی بات شاعر سے نہیں ملتی۔ آئینے کے سامنے انسان اپنے آپ کو دیکھتا ہے تو کبھی دائیں کبھی بائیں طرف سے مختلف زاویوں سے دیکھتا ہے سو :آئینے کی بجائے، آئینوں: اچھا لگا ہمیں۔

باقی آپ بہتر سمجھتے ہیں۔

ایک بار پھر داد کے ساتھ


دُعا گو



مکرمی جناب وی بی جی : سلام علیکم
آپ کا انداز تبصرہ دیکھ کر اکثر بے اختیار ایک تو آپ کے لئے دعائے خیر دل سے نکلتی ہے اور دوسرے حسرت سے آسمان کی جانب نگاہ بھی اٹھ جاتی ہے کہ کاش یہ انداز تحریر ہم کوبھی نصیب ہوا ہوتا تو مستقل نظر انداز کئے جانے پر بھی ملال نہ ہوتا بلکہ اپنی بدقسمتی پر نازہوتا اور دنیا کی عادت خاص پر صبر کرنا اور اس سے عبرت حاصل کرنا آسان ہو جاتا۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے۔ آپ کی بات بھی مانی نہیں جاتی ہے اور اکثر"تحصیل لا حاصل" تاویلات کی یورش کا شکار ہوتی ہے لیکن جس طرح آپ اس سے نمٹتے ہیں اس پر آپ کی ہمت کی داد ہی دینا پڑتی ہے۔ واہ واہ۔ ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کنند۔

مہر افروز


غیرحاضر vb jee

  • Adab Fehm
  • ****
  • تحریریں: 1267
  • جنس: مرد
جواب: تمہارے غم میں نڈھال ہوں میں
« Reply #12 بروز: فروری 09, 2018, 09:35:45 صبح »

غزل
کے اشرف

تمہارے غم میں نڈھال ہوں میں
خود اپنی جاں کا وبال ہوں میں
 
چھپا لو مجھ کو تم اپنے دل میں
کہ اک اچھوتا خیال ہوں میں
 
زمانہ گردش میں رات دن ہے
کہ ایک مشکل سوال ہوں میں

نہ ڈھونڈو مجھ کو تم آئینوں میں
کہ آپ اپنی مثال ہوں میں

نہ سمجھو مجھ کو حریفِ جاں تم
کہ خود تمہارا خیال ہوں میں
 
کبھی اگر تم پلٹ کے دیکھو
تمہاری شامِ وصال ہوں میں

نہیں ہے کافی کیا خواجہؔ جی یہ
کسی کا حرفِ کمال ہوں میں

********


محترم جناب کے اشرف صاحب! السلام علیکم

غزل سادہ اور خوبصورت ہے۔ ہماری طرف سے بھی داد قبول کیجے۔ محترمہ مہر افروز صاحبہ نے :کہ: کی تکرار کی بات کہی، جب پہلی بار ہم نے پڑھی تھی آپ کی یہ غزل تو ہماری توجہ بھی :کہ: کی تکرار کی طرف گئی۔ یہ کوئی ایسی خامی نہیں ہے البتہ غزل کے حسن کو ضرور متاثر کرتی ہے۔

آپ کی اور محترم سرور عالم راز سرورؔ صاحب کی گفتگو بھی پڑھتے رہے ہیں۔ آپ نے شعر میں جو بات کہی ہے ہمارا خیال ہے کہ اس میں :ڈھونڈو: اور :آئینوں: کا مقام نہیں ہے، آپ کی بات شعر میں ذیادہ واضح ہوتی اگر مصرع کُچھ یوں ہوتا :نہ دیکھو مجھ کو تم  آئنیے میں:  ۔۔

لیکن خیر شعر اسی طرح بھی ہمیں تو بُہت پسند آیا ۔۔ ہم نے جو اس کی تشریح سمجھ رکھی ہے وہ کُچھ یوں ہے کہ شاعر سے جو محبت کرتا ہے، اس سے شاعر مخاطب ہے اور بے نیازی سے کہہ رہا ہے کہ مُجھے آئینوں میں یعنی :اپنے آپ میں: مت تلاش کرو، کیونکہ اس کی کوئی بات شاعر سے نہیں ملتی۔ آئینے کے سامنے انسان اپنے آپ کو دیکھتا ہے تو کبھی دائیں کبھی بائیں طرف سے مختلف زاویوں سے دیکھتا ہے سو :آئینے کی بجائے، آئینوں: اچھا لگا ہمیں۔

باقی آپ بہتر سمجھتے ہیں۔

ایک بار پھر داد کے ساتھ


دُعا گو



مکرمی جناب وی بی جی : سلام علیکم
آپ کا انداز تبصرہ دیکھ کر اکثر بے اختیار ایک تو آپ کے لئے دعائے خیر دل سے نکلتی ہے اور دوسرے حسرت سے آسمان کی جانب نگاہ بھی اٹھ جاتی ہے کہ کاش یہ انداز تحریر ہم کوبھی نصیب ہوا ہوتا تو مستقل نظر انداز کئے جانے پر بھی ملال نہ ہوتا بلکہ اپنی بدقسمتی پر نازہوتا اور دنیا کی عادت خاص پر صبر کرنا اور اس سے عبرت حاصل کرنا آسان ہو جاتا۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے۔ آپ کی بات بھی مانی نہیں جاتی ہے اور اکثر"تحصیل لا حاصل" تاویلات کی یورش کا شکار ہوتی ہے لیکن جس طرح آپ اس سے نمٹتے ہیں اس پر آپ کی ہمت کی داد ہی دینا پڑتی ہے۔ واہ واہ۔ ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کنند۔

مہر افروز




محترمہ مہر افروز صاحبہ! السلام علیکم

آپ نے جس فراخدلی سے ہمارے اندازِ بیاں کی تعریف فرمائی ہے، جی تو چاہتا ہے جھٹ سے یقین کر لیں۔ لیکن کیا کیجے کہ بقول ساحرؔ :ہر ایک ہاتھ میں لے کر ہزار آئینے۔۔۔۔۔۔۔ حیات بند دریچوں سے بھی گزر آئی: ۔۔ سو اپنی حقیقت تو جانتے ہی ہیں ہم۔ خیر،  تعریف اور بھلی بھلی سی نا لگے، یہ تو ممکن نہیں سو آپ کا شکریہ :)

آپ نے فرمایا کہ ہماری بات بھی مانی نہیں جاتی۔۔۔ یہ تو ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا ۔۔  ہم تو ڈر ڈر کہ خلوصِ نیت سے احباب کے کلام پر اپنی رائے دیتے ہیں، ہمارا بس چلے تو ہر جملہ میں :ہمارے خیال میں:  لکھا کریں، تاکہ ہماری رائے کو اعتراض نہ سمجھا جائے۔ پھر بھی کبھی کبھی ہماری ذاتی رائے کو اعتراض سمجھ لیا جاتا ہے۔ مقصد ہمارا صرف یہ ہوتا ہے کہ صاحبِ غزل کو معلوم ہو سکے کہ اس کی غزل پر کسی کی یہ رائے بھی ہے۔ باقی شاعر بہتر ہی سمجھتا ہے۔ اگر سب لوگ ایک بات پر متفق ہو کر شاعری فرماتے تو شاید سب ایک سا کلام ہی کہتے۔ نہ کوئی غالبؔ ہوتا نہ میرؔ۔ سو ہماری ایسی کوئی خواہش نہیں ہوتی کہ ہماری رائے سے اتفاق بھی کیا جائے۔ رائے تو رائے ہی ہوتی ہے، حقیقت نہیں ہوتی ہے۔ جیسے یہ حقیقت ہے کہ اس غزل میں سات شعر ہیں، سب اس پر متفق ہوں گے، لیکن کوئی شعر خوبصورت ہے یا نہیں، یا کس قدر خوبصورت ہے یہ رائے ہے جو ہر کسی کی اپنی ہو سکتی ہے۔

باقی ہم آپ کے تبصرے بھی پڑھتے ہیں سو جانتے ہی ہیں کہ آپ ان سب باتوں کو ہم سے بہتر سمجھتی ہیں۔

سرمہءِ مفت نظر ہوں، مری قیمت یہ ہے
کہ رہے چشمِ خریدار پہ احساں میرا ۔۔۔۔ (غالبؔ)

دُعا گو


گنگناتی رهے گی انھیں تو سدا
اتنے نغمے تِرے نام کر جائیں گے

غیرحاضر K. Ashraf

  • Adab Dost
  • ***
  • تحریریں: 735
جواب: تمہارے غم میں نڈھال ہوں میں
« Reply #13 بروز: گزشتہ روز بوقت 01:12:59 شام »

محترم وی بی جی صاحب
باقی باتوں پر تبصرہ کئے بغیر صرف آپ  کے اس ذوق نظر کی
داد دینا چاہتا ہوں جس سے کام لیتے ہوئے
آپ نے غالب کے ایک خوبصورت شعر کا حوالہ دیا ہے۔
نیازمندو خاکسار
کے اشرف

 

Copyright © اُردو انجمن