اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: جو کوئی بھی مصورِ نہ کر سکا مصورَ  (پڑھا گیا 381 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر REHANA AHMAD

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 276
  • جنس: عورت
جو کوئی بھی مصورِ نہ کر سکا مصورَ
« بروز: جنوری 14, 2018, 10:36:05 شام »
عزیز دوستو!

 تسلیمات

 
 ایک نئی طرحی غزل آپ کی خدمت میں :)     
[/b]


ریحانہ احمد جاناں



"محفل ہوئی معطر آمد سے تیری دلبر"
اک حشر سا اُٹھا ہے جاناں کے دل کے اندر

جو    کوئی    بھی    مصورِ    نہ    کر    سکا    مصورَ
تو ایسا ہے تصور تو ایسا ہے تصور

سورج میں نور تیرا بن تیرے چندا پتھر
برنائی ہی سے تیری ہر شۓ ہوئی منور

دیکھے بہت ہیں ہم نے اک دوسرے سے بڑھ کر
ہم کو ملا نہیں ہے تجھ سے بڑا ستمگر

سیرت ہو یا کہ صورت ہر رنگ دلربا ہے
کوئی نہ پایا میں نے تجھ سے لگے جو بہتر

کتنے سکوں سے اپنی یہ عمر کٹ رہی ہے
دل کو لگا کے اس سے عقبا کا نہ رہا ڈر

تیرے جنوں نے کیا کیا اُس پر اثر کیا ہے
جاناں کی شان دیکھو وہ بن گئی سخنور

جب سے ہے تم نے جانا ، جاناں کو اپنا جاناں
اب کھوجتی نہیں ہے ہاتھوں میں وہ مقدر
[/b]
                           
« آخری ترمیم: جنوری 22, 2018, 02:10:22 شام منجانب REHANA AHMAD »


" زندگی کا مقصد یہ دیکھنا نہیں کہ دور دھندلکوں میں کیا ہےِ، بلکہ جو کچھ ہمارے سامنے ہے اسے سرانجام دینا ہے"   ڈیل کارنیگی

غیرحاضر Afroz Mehr

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 264
جواب: نہ کر سکا مصوِرجس کو کبھی مصوَر
« Reply #1 بروز: جنوری 15, 2018, 09:15:43 شام »

محترمہ ریحانہ صاحبہ: سلام علیکم
میں خود کو کبھی کبھی یہاں تنہا محسوس کرتی ہوں کیونکہ میرے علاوہ کوئی اور خاتون یہاں کم ہی دکھائی دیتی ہیں۔ پہلے کچھ صورتیں نظر آجاتی تھیں لیکن اب شاید وقت کے ساتھ وہ بھی بقول غالب "نقش و نگار طاق نسیاں" ہو گئی ہیں۔ آپ کی آمد باعث تقویت ہے۔ خدا کرے کہ یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہے۔ آمین۔
آپ کی غزل بہت رواں دواں ہے اور اکثر مضامین بہت نکھرے ہوئے اور اچھے ہیں۔ مجھ کو پسند آئے۔ داد حاضر ہے۔ ایک بات جو قابل ذکر ہے وہ یہ ہے کہ آپ کا مطلع یوں ہے :
نہ کرسکا مصور جس کو کبھی مصور
تو ایسا ہے تصور، تو ایسا ہے تصور
آپ نے یہاں "نہ" کو "نا" کے وزن پر باندھا ہے جو معیوب سمجھا جاتا ہے۔ اگر اس کو صحیح مان بھی لیں تو آپ نے "مصور، تصور" قافیے باندھ کر غزل کو عروض کی زبان میں "پابند" کردیا ہے گویا مطلع میں ان قافیوں کے التزام کے بعد آپ "دلبر، اندر، ستمگر، پتھر" وغیرہ قافیے نہیں باندھ سکتی ہیں بلکہ اب ہر قافیے کو "مصور، تصور" کی طرح ص کو حرف روی باندھنا ہوگا۔ آج کل میرا مشغلہ عروض کا مطالعہ ہے اور وہیں سے یہ نکتہ نکال کر آپ پر رعب جمارہی ہوں!  :) عروض میں اساتذہ نے اس قسم کی بہت سی پابندیاں لگا رکھی ہیں اور ہم ان سے مجبور ہوکر رہ گئے ہیں۔ اب کوئی صاحب علم ایسا آئے کہ وہ دلائل سے ایسے نکات کی نفی کرے تو ہم آزاد ہوسکتے ہیں یا پھر ہم سب اکٹھے ہوکر بغاوت کا اعلان کر دیں تو کیسا رہے گا؟  :P کبھی کبھی عروض میں لچک کی ضرورت سختی سے محسوس ہوتی ہے۔ لیکن :
کون  سنتا  ہے  کہانی  میری
اور پھر وہ بھی زبانی میری!
خیر یہ تو مذاق میں کہہ گئی لیکن اگر کوئی صاحب یا صاحبہ اس مسئلہ کا حل بتا سکیں تو عنایت ہوگی۔
اس نکتہ سے قطع نظر (لیکن اس کا اعتراف کرتے ہوئے) غزل پر نگاہ ڈالی جا سکتی ہے تاکہ اس کے جملہ محاسن وغیرہ سے لطف اندوز ہوا جا سکے۔
یہ غزل تمام وکمال غزل مسلسل کے رنگ میں کہی گئی ہے یعنی تقریبا ہر شے کا مخاطب محبوب معلوم ہوتا ہے البتہ درمیان میں ایک شعر یوں آجاتا ہے :
سورج میں نور تیرا بن تیرے چندا پتھر
برنائی ہی سے تیری ہر شۓ ہوئی منور
اس شعر میں اللہ کی جانب نمایاں اشارہ ہے اور اس شعر کے معنی دوسرے اشعار کے معانی سے متصادم ہیں۔ اس سے ذہن میں تردد پیدا ہوتا ہے۔ شعر میں اگر
اللہ کا ذکر واضح طور پر کردیا جائے تو شاید اچھا ہوگا اور بات صاف ہو جائے گی۔ آپ کا کیا خیال ہے؟
میری جانب سے غزل کی داد قبول کیجئے۔اور یوں ہی لکھتی رہئے۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔

مہر افروز





« آخری ترمیم: جنوری 16, 2018, 12:23:45 صبح منجانب REHANA AHMAD »

غیرحاضر REHANA AHMAD

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 276
  • جنس: عورت
جواب: نہ کر سکا مصوِرجس کو کبھی مصوَر
« Reply #2 بروز: جنوری 16, 2018, 12:24:00 صبح »

محترمہ مہر افروز صاحبہ!
تسلیمات
    غزل پر توجہ فرمانے کے لیے بہت شکریہ۔
    یقینا مجھے یہاں دیکھ کر آپ جو خوشی ہوتی ہے میں اس کا اندازہ کر سکتی ہوں کیونکہ مجھے بھی آپ کو یہاں دیکھ اتنی ہی خوشی ہوتی ہے۔ آپ نے جو نکتہ اٹھایا ہے وہ میرے
ذہن میں بھی تھا  :)  مگر ہوا کیا کہ ایک فی البد یہیہ طرحی مشاعرے میں  میں یہ غزل لکھ رہی تھی اور ایک ایک کر کے اشعار کا اضافہ کر رہی تھی اب موجودہ صورت میں مظلع ثانی دراصل مطلع  اولیٰ تھا غزل کا قافیہ کھل چکا تھا ،   

"محفل ہوئی معطر آمد سے تیری دلبر"
اک حشر سا اُٹھا ہے جاناں کے دل کے اندر

ٹھیک؟
   اب ہوا کیا کہ جب میں نے ایک شعر دیا

                     سیرت ہو یا کہ صورت ہر رنگ دلربا ہے
حیرت سے تک رہا ہے تجھ کو تیرا مصور
  تو  میر مشاعرہ نے فرمایا کہ   " مصورِ چونکہ مکسور ہے تو قافیہ صحیح نہیں سو میں نے ان کی بات کو درست تسلیم کیا اور مصرع ثانی اس شعر کا بدل دیا ۔
 اس سے آگے میں نے مندر کا قافیہ باندھا تو یہی صاحب فرمانے لگے مندر بھی کسرا کی وجہ سے صحیح نہیں مندر بڑی واضح بات تھی کہ میرا قافیہ درست تھا ان کی دیکھا دیکھی ور لوگ بھی ہاں میں  ہاں ملانے لگے۔
میں  نے سوچا ان کو جواب دینے سے پہلے ذرا لغت بھی دیکھ لی جائے سو میں نے فیروز الغات صفحے کی فوٹو کھینچ کر لگا دی اب سب کو سانپ جب سونگھ گیا  :) تو سوچا کیوں نہ ذرا مصور  کو  دیکھ لیا جائے
سو مصورِ اور مصورَ دونوں لغت نے دے دیئے مختلف معنوں کے ساتھ سو میں نے ایک اور شعر گھڑ    :D کر لگا دیا   اور وہ بھی جلدی میں مطلع سے اوپر سو وہ ابھی تک وہیں دھرنا دیئے بیٹھا ہے
توجہ دلانے کا شکریہ ۔ابھی اس کو اس کی جگہ پر لے آتی ہوں ، باقی رہا نہ اور نا والا معاملہ تو اس پر غور کر کے کوئی صورت نکالتی ہوں انشااللہ ۔ آپ اچھا کر رہی ہیں جو عروض کا مطالعہ کر رہی ہیں میرے پاس بشمول سرور صاحب کی کتابوں کے کئی کتابیں موجود ہیں ،مگر الجبرا کی طرح یہ بھی میری سمجھ سے تقریبا باہر ہی ہیں ۔شعر کہنے سے توبہ کرنے کو جی چاہنے لگتا ہے، جب بھی پڑھنے لگتی ہوں تو۔
  اب رہی بات یہ بات کہ صرف ایک شعر الگ ہے نہیں ایسا نہیں  یہ شعر آپ کے خیال میں کس کے بارے میں ہے؟ :)
نہ کر سکا مصوِرجس کو کبھی مصوَر
تو ایسا ہے تصور تو ایسا ہے تصور
                 
       ایک بار پھر بہت سا شکریہ۔ انشااللہ ملاقات ہوتی رہے گی۔


  نوٹ:-  میں نے "  نہ کر سکا مصور   " والا مصرع دیکھا ہے میرے حساب سے تو نہ یا نا دونوں صورتوں میں وزن میں کچھ فرق نہیں پڑ رہا یہاں ،ہو سکتا ہے کہ محفل میں سے کوئی اور بھی اپنی گراں قدر راۓ سے نوازے تو شید کچھ تسلی ہو جائے۔
" زندگی کا مقصد یہ دیکھنا نہیں کہ دور دھندلکوں میں کیا ہےِ، بلکہ جو کچھ ہمارے سامنے ہے اسے سرانجام دینا ہے"   ڈیل کارنیگی

غیرحاضر Afroz Mehr

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 264
جواب: نہ کر سکا مصوِرجس کو کبھی مصوَر
« Reply #3 بروز: جنوری 16, 2018, 01:42:23 شام »

محترمہ مہر افروز صاحبہ!
تسلیمات
    غزل پر توجہ فرمانے کے لیے بہت شکریہ۔
    یقینا مجھے یہاں دیکھ کر آپ جو خوشی ہوتی ہے میں اس کا اندازہ کر سکتی ہوں کیونکہ مجھے بھی آپ کو یہاں دیکھ اتنی ہی خوشی ہوتی ہے۔ آپ نے جو نکتہ اٹھایا ہے وہ میرے
ذہن میں بھی تھا  :)  مگر ہوا کیا کہ ایک فی البد یہیہ طرحی مشاعرے میں  میں یہ غزل لکھ رہی تھی اور ایک ایک کر کے اشعار کا اضافہ کر رہی تھی اب موجودہ صورت میں مظلع ثانی دراصل مطلع  اولیٰ تھا غزل کا قافیہ کھل چکا تھا ،   

"محفل ہوئی معطر آمد سے تیری دلبر"
اک حشر سا اُٹھا ہے جاناں کے دل کے اندر

ٹھیک؟
   اب ہوا کیا کہ جب میں نے ایک شعر دیا

                     سیرت ہو یا کہ صورت ہر رنگ دلربا ہے
حیرت سے تک رہا ہے تجھ کو تیرا مصور
  تو  میر مشاعرہ نے فرمایا کہ   " مصورِ چونکہ مکسور ہے تو قافیہ صحیح نہیں سو میں نے ان کی بات کو درست تسلیم کیا اور مصرع ثانی اس شعر کا بدل دیا ۔
 اس سے آگے میں نے مندر کا قافیہ باندھا تو یہی صاحب فرمانے لگے مندر بھی کسرا کی وجہ سے صحیح نہیں مندر بڑی واضح بات تھی کہ میرا قافیہ درست تھا ان کی دیکھا دیکھی ور لوگ بھی ہاں میں  ہاں ملانے لگے۔
میں  نے سوچا ان کو جواب دینے سے پہلے ذرا لغت بھی دیکھ لی جائے سو میں نے فیروز الغات صفحے کی فوٹو کھینچ کر لگا دی اب سب کو سانپ جب سونگھ گیا  :) تو سوچا کیوں نہ ذرا مصور  کو  دیکھ لیا جائے
سو مصورِ اور مصورَ دونوں لغت نے دے دیئے مختلف معنوں کے ساتھ سو میں نے ایک اور شعر گھڑ    :D کر لگا دیا   اور وہ بھی جلدی میں مطلع سے اوپر سو وہ ابھی تک وہیں دھرنا دیئے بیٹھا ہے
توجہ دلانے کا شکریہ ۔ابھی اس کو اس کی جگہ پر لے آتی ہوں ، باقی رہا نہ اور نا والا معاملہ تو اس پر غور کر کے کوئی صورت نکالتی ہوں انشااللہ ۔ آپ اچھا کر رہی ہیں جو عروض کا مطالعہ کر رہی ہیں میرے پاس بشمول سرور صاحب کی کتابوں کے کئی کتابیں موجود ہیں ،مگر الجبرا کی طرح یہ بھی میری سمجھ سے تقریبا باہر ہی ہیں ۔شعر کہنے سے توبہ کرنے کو جی چاہنے لگتا ہے، جب بھی پڑھنے لگتی ہوں تو۔
  اب رہی بات یہ بات کہ صرف ایک شعر الگ ہے نہیں ایسا نہیں  یہ شعر آپ کے خیال میں کس کے بارے میں ہے؟ :)
نہ کر سکا مصوِرجس کو کبھی مصوَر
تو ایسا ہے تصور تو ایسا ہے تصور
                 
       ایک بار پھر بہت سا شکریہ۔ انشااللہ ملاقات ہوتی رہے گی۔


  نوٹ:-  میں نے "  نہ کر سکا مصور   " والا مصرع دیکھا ہے میرے حساب سے تو نہ یا نا دونوں صورتوں میں وزن میں کچھ فرق نہیں پڑ رہا یہاں ،ہو سکتا ہے کہ محفل میں سے کوئی اور بھی اپنی گراں قدر راۓ سے نوازے تو شید کچھ تسلی ہو جائے۔


محترمہ ریحانہ صاحبہ:سلام علیکم
خط کے جواب کا شکریہ۔ آپ نے کافی تفصیل سے میرے سوالات کا جواب لکھا ہے۔ اس سے آپ کی فکر واضح ہو گئی اور مجھ کو بھی سوچنے کا موقع ملا۔ جہاں تک "مندر، اندر، شاکر" جیسے قافیوں کا تعلق ہے تو عروض اس باب میں بالکل واضح ہے کہ یہ الفاظ ہم قافیہ ہیں حالانکہ ان میں روی سے پہلے آنے والے حرف پر زیر زبر کا فرق ہے۔ جناب شمس الرحمن فاروقی صاحب اپنی کتاب "درس بلاغت" میں واضح طور سے لکھتے ہیں کہ خوش کا قافیہ شش اور نم کا قافیہ گم (گ پر پیش)ہو سکتا ہے۔ اصل میں عروض سے بہت کم شاعر واقف ہیں اس لئے اعتراض تو کرتے ہیں لیکن وہ حقیقت سے نا آشنا ہوتے ہیں۔ یہی آپ کے ساتھ پیش آیا۔ چلئے آئندہ کے لئے بہتری کی امید رکھنی چاہئے۔ انشااللہ۔
آپ کا ایک شعر ہے جس پر پچھلی بار میں نے دانستہ اظہار خیال نہیں کیا تھا:
سورج میں نور تیرا بن تیرے چندا پتھر
برنائی ہی سے تیری ہر شے ہوا منور
یہ شعر اصل میں اللہ کے لئے ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ آپ کہہ رہی ہیں کہ :بن تیرے چندا پتھر: گویا اللہ کا وجود نا پید بھی ہو سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ بات بے سود اورغلط ہے۔ دوسری بات یہ کہ آپ اللہ کی "برنائی" کا ذکر کر رہی ہیں۔ برنائی کے معنی جوانی ہیں تو کیا اللہ سے جوانی اور بڑھاپا اور بچپن منسوب ہو سکتا ہے؟ ظاہر ہے کہ یہ ایک (معاف کیجئے گا) لغو اور مہمل خیال ہے۔ اس لئے یہ شعر بھی لغو ٹھہرتا ہے۔
ایک اور شعر ہے:
نہ کر سکا مصور جس کو کبھی مصور
تو ایسا ہے تصور تو ایسا ہے تصور
تو عرض ہے کہ اللہ کا تصور تو مصوروں اور بت تراشوں نے ہمیشہ اپنی تصاویر اور مجسموں میں ڈھالا ہے۔ اپ کیسے کہہ سکتی ہیں کہ یہ شعر صحیح ہے؟ در اصل اس قسم کے شعر کہتے وقت بہت غوروفکر اور دانشمندی کی ضرورت ہوتی ہے اور جب تک سوچ ایسی گہری نہ ہو جو سب احوال کا احاطہ کر سکے اس وادی میں قدم نہیں رکھنا چاہئے۔ ایسا میرا خیال ہے۔ آپ کی غزل پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن شاید پھر کسی اور وقت پر ایسا ممکن ہو۔

مہر افروز

غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • ******
  • تحریریں: 6291
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar
جواب: نہ کر سکا مصوِرجس کو کبھی مصوَر
« Reply #4 بروز: جنوری 16, 2018, 01:55:51 شام »

عزیزہ ریحانہ صاحبہ: سلام مسنون
میں آپ کی غزل پر محترمہ مہر افروز صاحبہ سے آپ کی گفتگو شوق سے دیکھ رہا ہوں۔ ایسے تبادلہءخیال کی ہرمحفل میں ضرورت ہے۔ علم ایسے ہی پھیلتا ہے۔ آپ نے لکھا ہے کہ آپ کی دانست میں "نہ" اور "نا" سے وزن میں فرق نہیں پڑتا ہے۔ یہ خیال غلط ہے۔ مرزا غالب کے دو اشعار لکھ رہا ہوں۔ ان میں ان دونوں الفاظ کا استعمال ہے۔ وزن دونوں جگہ مختلف ہے اور یہی زبان کا تقاضا بھی ہے:
نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
اور پھر یہ شعر:
نا کردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد
یارب اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے
تقطیع کر کے دیکھا جا سکتا ہے۔ آپ ماشااللہ صاحب علم ہیں۔ یہ نہ کہا کریں کہ عروض آپ کے سر پر سے گزر جاتا ہے۔ عروض مشکل فن نہیں ہے۔ ذرا سا شوق، ذرا سی محنت! اور پھر بیڑا پار ہے!

سرورعالم راز






غیرحاضر REHANA AHMAD

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 276
  • جنس: عورت
جواب: نہ کر سکا مصوِرجس کو کبھی مصوَر
« Reply #5 بروز: جنوری 17, 2018, 07:39:52 صبح »
محترم سرور صاحب اور مہر افروز صاحبہ

سلام مسنون

جوابات کےلۓممنون ہوں میں گھر پر نہیں ہں ایک دد دن میں حاضری دوںگی   انشااللہ
" زندگی کا مقصد یہ دیکھنا نہیں کہ دور دھندلکوں میں کیا ہےِ، بلکہ جو کچھ ہمارے سامنے ہے اسے سرانجام دینا ہے"   ڈیل کارنیگی

غیرحاضر REHANA AHMAD

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 276
  • جنس: عورت
جواب: نہ کر سکا مصوِرجس کو کبھی مصوَر
« Reply #6 بروز: جنوری 19, 2018, 04:03:59 صبح »
محترمہ مہر افروز

 تسلیمات

  دیکھئے گھر آتے ہی حسبِ وعدہ حاضر ہو گئی ہوں    :)

     آپ کے تبصرے سے میں قطعاََ متفق نہیں خیر مجھے آپ کے خیالات پر کوئی اعتراض بھی نہیں کسی شعر سے اپنی پسند کا کوئی بھی معنی نکال لینا ہر ایک کا حق ہے ۔


آپ تحریر فرماتی ہیں۔
آپ کا ایک شعر ہے جس پر پچھلی بار میں نے دانستہ اظہار خیال نہیں کیا تھا:
سورج میں نور تیرا بن تیرے چندا پتھر
برنائی ہی سے تیری ہر شے ہوا منور
یہ شعر اصل میں اللہ کے لئے ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ آپ کہہ رہی ہیں کہ :بن تیرے چندا پتھر: گویا اللہ کا وجود نا پید بھی ہو سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ بات بے سود اورغلط ہے۔ دوسری بات یہ کہ آپ اللہ کی "برنائی" کا ذکر کر رہی ہیں۔ برنائی کے معنی جوانی ہیں تو کیا اللہ سے جوانی اور بڑھاپا اور بچپن منسوب ہو سکتا ہے؟ ظاہر ہے کہ یہ ایک (معاف کیجئے گا) لغو اور مہمل خیال ہے۔ اس لئے یہ شعر بھی لغو ٹھہرتا ہے۔

میرا ہرگز ایسا کوئی مطلب نہیں جو آپ اخذ کر رہی ہیں مصرے پر غور کیجئے اور لفظوں کو سرسری نہ پکڑیئے گہرائی  میں جایئے خیال کی، آپ آدھا مصرع کیوں دیکھ رہی ہیں؟ جب میں کہہ چکی ہوں کہ سورج میں تیرا ہی نور ہے اور کون نہیں جانتا کہ چاند میں سورج کی روشنی منعکس ہو رہی ہے ،اگر مجازی محبوب کا عکس رخسار چاند کی آب و تاب میں اضافہ کر سکتا  تو خالقِ حقیقی کا نور کیوں نہیں؟( عکسِ رخسار نے کس کے ہے تجھے چمکایا؟  )

 جب اللہ کے بندے جنت میں جوان ہو کر جائیں گے تو اللہ کے جوان ہونے میں کسی کو کیا شبہ ہو سکتا ہے ہاں بچہ یا بڑھا اللہ تعالیٰ کو سمجھنا نامناسب ہو سکتا ہے اور جوانی میں ایک خاص چمک ہوتی ہے ہوتی ہے ناں؟ امید ہے کہ بات آپ کی سمجھ میں بھی آ گئی ہوگی


ایک اور شعر ہے:
نہ کر سکا مصور جس کو کبھی مصور
تو ایسا ہے تصور تو ایسا ہے تصور
تو عرض ہے کہ اللہ کا تصور تو مصوروں اور بت تراشوں نے ہمیشہ اپنی تصاویر اور مجسموں میں ڈھالا ہے۔ اپ کیسے کہہ سکتی ہیں کہ یہ شعر صحیح ہے؟ در اصل اس قسم کے شعر کہتے وقت بہت غوروفکر اور دانشمندی کی ضرورت ہوتی ہے اور جب تک سوچ ایسی گہری نہ ہو جو سب احوال کا احاطہ کر سکے اس وادی میں قدم نہیں رکھنا چاہئے۔ ایسا میرا خیال ہے۔ آپ کی غزل پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن شاید پھر کسی اور وقت پر ایسا ممکن ہو۔

      جی بہن میری توبہ کہ میں اس وادی پر خار میں  پھر کبھی قدم رکھوں  :)
    اللہ کے تصور کو بیشک لاکھوں مجسموں اور تصاویر میں ڈھالا جا چکا ہے اب تک ،مگر دل پر ہاتھ رکھ کر فرمایئے گا کہ کسی ایک کو بھی دیکھ کر آپ کا دل یہ کہہ اٹھتا ہے کہ یہ واقعی اللہ تعالیٰ کی نعوذ باللہ تصویر ہو سکتی ہے؟ میرا تو بقول فیض ساحب کے یہی خیال ہے  کہ
 وہ نظر بہم نہ پہنچی کہ محیط حسن کرتے
تیری دید کے وسیلے خد و خال تک نہ پہنچے
     تقریبا اسی طرح کے خیال کو میں بھی برسوں پہلے قلمبند کر چکی ہوں
      اک بیاں ہو نہ سکا کیف نگاہوں کا تیری
یوں تیرے حسن کی لکھی کئی تفسیریں ہیں
     باقی مہر خیال اپنا اپنا ہے  ،انشاللہ آئندہ بھی ملاقات رہے گی ۔ فی الحال اجازت

 مصرع درست کر دیا ہے ہو سکتا ہے کہ اب آپ مطمن ہو جائیں گی۔ :) ویسے وہ نہ نا کے فرق کے ساتھ بھی درست ہی تھا

جو    کوئی    بھی    مصور    نہ    کر    سکا    مصور
تو ایسا ہے تصور تو ایسا ہے تصور

« آخری ترمیم: جنوری 19, 2018, 12:37:00 شام منجانب REHANA AHMAD »
" زندگی کا مقصد یہ دیکھنا نہیں کہ دور دھندلکوں میں کیا ہےِ، بلکہ جو کچھ ہمارے سامنے ہے اسے سرانجام دینا ہے"   ڈیل کارنیگی

غیرحاضر Afroz Mehr

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 264
جواب: نہ کر سکا مصوِرجس کو کبھی مصوَر
« Reply #7 بروز: جنوری 19, 2018, 06:13:52 شام »
محترمہ مہر افروز

 تسلیمات

  دیکھئے گھر آتے ہی حسبِ وعدہ حاضر ہو گئی ہوں    :)

     آپ کے تبصرے سے میں قطعاََ متفق نہیں خیر مجھے آپ کے خیالات پر کوئی اعتراض بھی نہیں کسی شعر سے اپنی پسند کا کوئی بھی معنی نکال لینا ہر ایک کا حق ہے ۔


آپ تحریر فرماتی ہیں۔
آپ کا ایک شعر ہے جس پر پچھلی بار میں نے دانستہ اظہار خیال نہیں کیا تھا:
سورج میں نور تیرا بن تیرے چندا پتھر
برنائی ہی سے تیری ہر شے ہوا منور
یہ شعر اصل میں اللہ کے لئے ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ آپ کہہ رہی ہیں کہ :بن تیرے چندا پتھر: گویا اللہ کا وجود نا پید بھی ہو سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ بات بے سود اورغلط ہے۔ دوسری بات یہ کہ آپ اللہ کی "برنائی" کا ذکر کر رہی ہیں۔ برنائی کے معنی جوانی ہیں تو کیا اللہ سے جوانی اور بڑھاپا اور بچپن منسوب ہو سکتا ہے؟ ظاہر ہے کہ یہ ایک (معاف کیجئے گا) لغو اور مہمل خیال ہے۔ اس لئے یہ شعر بھی لغو ٹھہرتا ہے۔

میرا ہرگز ایسا کوئی مطلب نہیں جو آپ اخذ کر رہی ہیں مصرے پر غور کیجئے اور لفظوں کو سرسری نہ پکڑیئے گہرائی  میں جایئے خیال کی، آپ آدھا مصرع کیوں دیکھ رہی ہیں؟ جب میں کہہ چکی ہوں کہ سورج میں تیرا ہی نور ہے اور کون نہیں جانتا کہ چاند میں سورج کی روشنی منعکس ہو رہی ہے ،اگر مجازی محبوب کا عکس رخسار چاند کی آب و تاب میں اضافہ کر سکتا  تو خالقِ حقیقی کا نور کیوں نہیں؟( عکسِ رخسار نے کس کے ہے تجھے چمکایا؟  )

 جب اللہ کے بندے جنت میں جوان ہو کر جائیں گے تو اللہ کے جوان ہونے میں کسی کو کیا شبہ ہو سکتا ہے ہاں بچہ یا بڑھا اللہ تعالیٰ کو سمجھنا نامناسب ہو سکتا ہے اور جوانی میں ایک خاص چمک ہوتی ہے ہوتی ہے ناں؟ امید ہے کہ بات آپ کی سمجھ میں بھی آ گئی ہوگی


ایک اور شعر ہے:
نہ کر سکا مصور جس کو کبھی مصور
تو ایسا ہے تصور تو ایسا ہے تصور
تو عرض ہے کہ اللہ کا تصور تو مصوروں اور بت تراشوں نے ہمیشہ اپنی تصاویر اور مجسموں میں ڈھالا ہے۔ اپ کیسے کہہ سکتی ہیں کہ یہ شعر صحیح ہے؟ در اصل اس قسم کے شعر کہتے وقت بہت غوروفکر اور دانشمندی کی ضرورت ہوتی ہے اور جب تک سوچ ایسی گہری نہ ہو جو سب احوال کا احاطہ کر سکے اس وادی میں قدم نہیں رکھنا چاہئے۔ ایسا میرا خیال ہے۔ آپ کی غزل پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن شاید پھر کسی اور وقت پر ایسا ممکن ہو۔

      جی بہن میری توبہ کہ میں اس وادی پر خار میں  پھر کبھی قدم رکھوں  :)
    اللہ کے تصور کو بیشک لاکھوں مجسموں اور تصاویر میں ڈھالا جا چکا ہے اب تک ،مگر دل پر ہاتھ رکھ کر فرمایئے گا کہ کسی ایک کو بھی دیکھ کر آپ کا دل یہ کہہ اٹھتا ہے کہ یہ واقعی اللہ تعالیٰ کی نعوذ باللہ تصویر ہو سکتی ہے؟ میرا تو بقول فیض ساحب کے یہی خیال ہے  کہ
 وہ نظر بہم نہ پہنچی کہ محیط حسن کرتے
تیری دید کے وسیلے خد و خال تک نہ پہنچے
     تقریبا اسی طرح کے خیال کو میں بھی برسوں پہلے قلمبند کر چکی ہوں
      اک بیاں ہو نہ سکا کیف نگاہوں کا تیری
یوں تیرے حسن کی لکھی کئی تفسیریں ہیں
     باقی مہر خیال اپنا اپنا ہے  ،انشاللہ آئندہ بھی ملاقات رہے گی ۔ فی الحال اجازت

 مصرع درست کر دیا ہے ہو سکتا ہے کہ اب آپ مطمن ہو جائیں گی۔ :) ویسے وہ نہ نا کے فرق کے ساتھ بھی درست ہی تھا

جو    کوئی    بھی    مصور    نہ    کر    سکا    مصور
تو ایسا ہے تصور تو ایسا ہے تصور



محترمہ ریحانہ صاحبہ:سلام علیکم
اردو انجمن کی انفرادیت اور دلچسپی ایسی ہی گفتگو پر مبنی ہے کہ مختلف الخیال لوگ اپنی اپنی بات کہہ سکتےہیں اور دوسروں پر سنجیدہ اور شائستہ تنقید بھی کر سکتے ہیں۔ آپ کے خیالات سن کر مستفید ہوئی ہرچند کہ آپ کے دلائل میرے موقف کو متزلزل نہیں کر سکے۔ دراصل اس ساری گفتگو کو آپ کے خط کے ایک مختصر اقتباس کے تناظر میں بہتر سمجھا جا سکتا ہے۔ آپ نے لکھا ہے کہ :
" اللہ کے تصور کو بیشک لاکھوں مجسموں اور تصاویر میں ڈھالا جا چکا ہے اب تک ،مگر دل پر ہاتھ رکھ کر فرمایئے گا کہ کسی ایک کو بھی دیکھ کر آپ کا دل یہ کہہ اٹھتا ہے کہ یہ واقعی اللہ تعالیٰ کی نعوذ باللہ تصویر ہو سکتی ہے؟ "
یہ تو بالکل درست ہے کہ ان مجسموں کودیکھ کر میں قبول نہیں کرتی کہ یہ اللہ کی تصویر ہے لیکن جو ان تصاویر اور مجسموں کے خالق ہیں ان کے نزدیک تو یہ سب اللہ کی ہی شبیہیں ہیں! یعنی لیلی را با چشم مجنوں باید دید!
آپ سے بات کرکے بہت مسرت ہوئی۔ شاد آباد رہئے۔

مہرافروز

غیرحاضر chshakir

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 62
جواب: جو کوئی بھی مصور نہ کر سکا مصور
« Reply #8 بروز: جنوری 20, 2018, 02:56:22 شام »
یہاں تو بہت دقیق گفتگو چل رہی ہے۔
خیر کچھ گزارشات میری طرف سے  :048:

۱۔ غزل کے تمام قوافی میں حرف روی کا اتحاد قوافی کی درستی کے لیے کافی ہے۔ حرف روی لفظ کے آخری اصلی حرف کو کہتے ہیں۔

۲۔ اس غزل کے قوافی میں حرف روی ”ر“ ہے ، جو کہ غزل کے تمام قوافی میں پایا جارہا ہے، لہذا اس غزل کے تمام قوافی درست ہیں۔

3۔ مطلع میں قافیہ اور ردیف متعین کیے جاتے ہیں ، نہ کہ حرف روی سے پہلے کے حروف کے اشتراک کا لزوم۔

4۔ استشہاد کے طور پر غالب کی غزل ملاحظہ فرمائیں جس میں مطلع میں پاسبانی اور بے زبانی قوافی ہیں اور ان میں ”بانی“ مشترک ہے ، مگر باقی غزل میں جوانی ، کہانی اور زندگانی قوافی ہیں جن میں ”ب“ نہیں ہے ، حالانکہ مطلع میں اس کی پابندی ہے۔

جو نہ نقدِ داغِ دل کی کرے شعلہ پاسبانی
تو فسردگی نہاں ہے بہ کمینِ بے زبانی
مجھے اس سے کیا توقّع بہ زمانۂ جوانی
کبھی کودکی میں جس نے نہ سنی مری کہانی
یوں ہی دکھ کسی کو دینا نہیں خوب ورنہ کہتا
کہ مرے عدو کو یا رب ملے میری زندگانی

مزید تسلی کے لیے غالب کی اس غزل میں بھی غور فرمائیے۔

حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچّھا ہے
اس سے میرا مہِ خورشید جمال اچّھا ہے
بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ
جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچّھا ہے
اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا
ساغرِ جم سے مرا جامِ سفال اچّھا ہے
بے طلب دیں تو مزہ اس میں سوا ملتا ہے
وہ گدا جس کو نہ ہو خوۓ سوال اچّھا ہے
ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچّھا ہے
دیکھیے پاتے ہیں عشّاق بتوں سے کیا فیض
اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچّھا ہے
ہم سخن تیشے نے فرہاد کو شیریں سے کیا
جس طرح کا کہ* کسی میں ہو کمال اچّھا ہے
قطرہ دریا میں جو مل جائے تو دریا ہو جائے
کام اچّھا ہے وہ، جس کا کہ مآل اچّھا ہے
خضر سلطاں کو رکھے خالقِ اکبر سر سبز
شاہ کے باغ میں یہ تازہ نہال اچّھا ہے
ہم کو معلوم ہے جنّت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچّھا ہے
آیا  ہے  شاکرؔ آپ کی محفل میں  آج  پھر
چھوٹے بڑوں سبھی  کو ہی پیشِ سلام ہے
(شاکر علی شاکرؔ)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
Aya Hay SHAKIR Aap Ki Mehfil Main Aaj Phir
Choty  Baro Sabi Ko Hi Paish-E-Salaam  Hay
(SHAKIR ALI SHAKIR)

غیرحاضر REHANA AHMAD

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 276
  • جنس: عورت
جواب: جو کوئی بھی مصور نہ کر سکا مصور
« Reply #9 بروز: جنوری 20, 2018, 11:41:23 شام »


  چودھری شاکر صاحب
 تسلیمات
   اس گفتگو  پر توجہ فرمانے کا بہت شکریہ۔ اب آپ نے ایک سے زائد مثالیں دے کر اور خاص طور پرمکمل غزل اور وہ بھی دیوان غالب سے دے کر مزید کسی بحث کی گنجائش کم ازکم میری جیسی کم علم کے لیے تو نہیں چھوڑی آگے کچھ کہنے کے لیے محترم سرور صاحب  سے ہی درخواست کی جا سکتی ہے، یا ہوسکتا ہے مہر افروز صاحبہ کچھ ارشاد فرنائیں ۔ بہرحال ایک بار پھر شکریہ ادا کرتی ہوں آپ کا ۔
" زندگی کا مقصد یہ دیکھنا نہیں کہ دور دھندلکوں میں کیا ہےِ، بلکہ جو کچھ ہمارے سامنے ہے اسے سرانجام دینا ہے"   ڈیل کارنیگی

غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • ******
  • تحریریں: 6291
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar
جواب: جو کوئی بھی مصور نہ کر سکا مصور
« Reply #10 بروز: جنوری 21, 2018, 01:45:58 شام »


  چودھری شاکر صاحب
 تسلیمات
   اس گفتگو  پر توجہ فرمانے کا بہت شکریہ۔ اب آپ نے ایک سے زائد مثالیں دے کر اور خاص طور پرمکمل غزل اور وہ بھی دیوان غالب سے دے کر مزید کسی بحث کی گنجائش کم ازکم میری جیسی کم علم کے لیے تو نہیں چھوڑی آگے کچھ کہنے کے لیے محترم سرور صاحب  سے ہی درخواست کی جا سکتی ہے، یا ہوسکتا ہے مہر افروز صاحبہ کچھ ارشاد فرنائیں ۔ بہرحال ایک بار پھر شکریہ ادا کرتی ہوں آپ کا ۔

محترمہ ریحانہ صاحبہ: سلام مسنون
آپ نے مجھ سے رائے مانگی ہے۔ آپ کا حسن ظن ہے کہ مجھ کو اس قابل جانتی ہیں ورنہ حق تو یہ ہے کہ میں اساتذہ اور علما کا خوشہ چین ہوں۔ والد مرحوم اپنے وقت کے استاد تھے لیکن عمر بھر کسی کو شاگرد نہیں کیا ہرچند کہ درجنوں شعرا ان سے اصلاح لیتے تھے۔ انہیں سے میں نے یہ سیکھا کہ ہمیشہ خودکو علم وادب کا طالب علم ہی تصور کرنا چاہئے کیونکہ اسی راستے سے علم کے مختلف مدارج تک دسترس ہو سکتی ہے۔ شاکر صاحب نے مرزا غالب کے کلام سے جومثالیں دی ہیں وہ ہم کو بہت بڑی مشکل میں ڈالتی ہیں۔ اگر علم عروض کی کتابوں کا مطالعہ کیجئے تو ہر شخص متفق ہے کہ اگر مطلع میں قوافی پر کوئی پابندی لگا دی جائے تو پھر وہ پابندی آگے آنے والے ہر قافیہ پر لگانی ضروری ہے۔ اپنی کتاب "درس بلاغت" میں شمس الرحمن فاروقی صاحب لکھتے ہیں کہ (مثال کے طور پر)اگر مطلع میں کامل، عامل قوافی ہیں تو دوسرے قوافی شامل، آ مل تو ہوسکتے ہیں لیکن جاہل، قاتل نہیں ہوسکتے ہیں۔ پھر بھی آپ اساتذہ کے کلام میں اس اصول سے بیگانگی دیکھ سکتے ہیں جیسا کہ شاکر صاحب نے لکھا ہے۔ اپنی کتاب "بحر الفصاحت" میں مولوی نجم الغنی صاحب نے قافیہ کے نو عیوب کا ذکر کیا ہے اور پھر ہر عیب کی مثال مشہور اساتذہ کے کلام سے دی ہے! یہ صورت حال قاری کو تذبذب میں ڈالتی ہے کہ حقیقت کیا ہے۔ دراصل تمام اساتذہ بنیادی طور پر اس قسم کے اصولوں کو مانتے ہیں اور ان کے کلام کا عظیم حصہ اس کی تائید کرتا ہے لیکن ایک آدھ جگہ وہ کسی نہ کسی اصول سے اھتراز بھی کرجاتے ہیں گویا اپنی شعرگوئی کے کسی لمحہ میں کسی غیر معلوم وجہ کی بنا پر خود کو اس اصول سے آزاد کر لیتے ہیں۔ اگر قاری اس حقیقت سے نا بلد ہو تو وہ ان کے کلام سے اشعار نکال کر ہر عیب کو رد کر سکتا ہے۔ شاعری کوئی ریاضی کا سبق تو ہے نہیں کہ اس کے اصول اٹوٹ ہوں۔ شاعری میں ہمیشہ دو اور دو چار نہیں ہوتے ہیں۔ میں اور آپ بھی اصول شاعری توڑ سکتے ہیں اور اس کی سند بھی فراہم کر سکتے ہیں۔ لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ ایسا کرنے سے قبل اساتذہ کے کلام کا بالاستیعاب مطالعہ ضروری ہے تاکہ ان کا صحیح موقف معلوم ہوجائے اور ان کے خلاف اصول اشعار کو سند نہ بنایا جائے۔ اب اگر کوئی ایسا کرنا ہی چاہے تو کوئی اس کا کیا بگاڑ سکتا ہے؟ اس سے زیادہ شاید اس معاملہ میں کچھ کہا نہیں جا سکتا ہے۔ واللہ اعلم۔
باقی راوی سب چین بولتا ہے۔

سرورعالم راز






غیرحاضر Mushir Shamsi

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 276
جواب: جو کوئی بھی مصور نہ کر سکا مصور
« Reply #11 بروز: جنوری 21, 2018, 08:30:09 شام »


  چودھری شاکر صاحب
 تسلیمات
   اس گفتگو  پر توجہ فرمانے کا بہت شکریہ۔ اب آپ نے ایک سے زائد مثالیں دے کر اور خاص طور پرمکمل غزل اور وہ بھی دیوان غالب سے دے کر مزید کسی بحث کی گنجائش کم ازکم میری جیسی کم علم کے لیے تو نہیں چھوڑی آگے کچھ کہنے کے لیے محترم سرور صاحب  سے ہی درخواست کی جا سکتی ہے، یا ہوسکتا ہے مہر افروز صاحبہ کچھ ارشاد فرنائیں ۔ بہرحال ایک بار پھر شکریہ ادا کرتی ہوں آپ کا ۔

محترمہ ریحانہ صاحبہ: سلام مسنون
آپ نے مجھ سے رائے مانگی ہے۔ آپ کا حسن ظن ہے کہ مجھ کو اس قابل جانتی ہیں ورنہ حق تو یہ ہے کہ میں اساتذہ اور علما کا خوشہ چین ہوں۔ والد مرحوم اپنے وقت کے استاد تھے لیکن عمر بھر کسی کو شاگرد نہیں کیا ہرچند کہ درجنوں شعرا ان سے اصلاح لیتے تھے۔ انہیں سے میں نے یہ سیکھا کہ ہمیشہ خودکو علم وادب کا طالب علم ہی تصور کرنا چاہئے کیونکہ اسی راستے سے علم کے مختلف مدارج تک دسترس ہو سکتی ہے۔ شاکر صاحب نے مرزا غالب کے کلام سے جومثالیں دی ہیں وہ ہم کو بہت بڑی مشکل میں ڈالتی ہیں۔ اگر علم عروض کی کتابوں کا مطالعہ کیجئے تو ہر شخص متفق ہے کہ اگر مطلع میں قوافی پر کوئی پابندی لگا دی جائے تو پھر وہ پابندی آگے آنے والے ہر قافیہ پر لگانی ضروری ہے۔ اپنی کتاب "درس بلاغت" میں شمس الرحمن فاروقی صاحب لکھتے ہیں کہ (مثال کے طور پر)اگر مطلع میں کامل، عامل قوافی ہیں تو دوسرے قوافی شامل، آ مل تو ہوسکتے ہیں لیکن جاہل، قاتل نہیں ہوسکتے ہیں۔ پھر بھی آپ اساتذہ کے کلام میں اس اصول سے بیگانگی دیکھ سکتے ہیں جیسا کہ شاکر صاحب نے لکھا ہے۔ اپنی کتاب "بحر الفصاحت" میں مولوی نجم الغنی صاحب نے قافیہ کے نو عیوب کا ذکر کیا ہے اور پھر ہر عیب کی مثال مشہور اساتذہ کے کلام سے دی ہے! یہ صورت حال قاری کو تذبذب میں ڈالتی ہے کہ حقیقت کیا ہے۔ دراصل تمام اساتذہ بنیادی طور پر اس قسم کے اصولوں کو مانتے ہیں اور ان کے کلام کا عظیم حصہ اس کی تائید کرتا ہے لیکن ایک آدھ جگہ وہ کسی نہ کسی اصول سے اھتراز بھی کرجاتے ہیں گویا اپنی شعرگوئی کے کسی لمحہ میں کسی غیر معلوم وجہ کی بنا پر خود کو اس اصول سے آزاد کر لیتے ہیں۔ اگر قاری اس حقیقت سے نا بلد ہو تو وہ ان کے کلام سے اشعار نکال کر ہر عیب کو رد کر سکتا ہے۔ شاعری کوئی ریاضی کا سبق تو ہے نہیں کہ اس کے اصول اٹوٹ ہوں۔ شاعری میں ہمیشہ دو اور دو چار نہیں ہوتے ہیں۔ میں اور آپ بھی اصول شاعری توڑ سکتے ہیں اور اس کی سند بھی فراہم کر سکتے ہیں۔ لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ ایسا کرنے سے قبل اساتذہ کے کلام کا بالاستیعاب مطالعہ ضروری ہے تاکہ ان کا صحیح موقف معلوم ہوجائے اور ان کے خلاف اصول اشعار کو سند نہ بنایا جائے۔ اب اگر کوئی ایسا کرنا ہی چاہے تو کوئی اس کا کیا بگاڑ سکتا ہے؟ اس سے زیادہ شاید اس معاملہ میں کچھ کہا نہیں جا سکتا ہے۔ واللہ اعلم۔
باقی راوی سب چین بولتا ہے۔

سرورعالم راز


محترمی جناب سرور راز صاحب: سلام مسنون
ریحانہ صاحبہ اور شاکر صاحب کے سوال نے مجھ کو بڑی الجھن میں ڈال دیا تھا۔ آخر اساتذہ اپنے کلام میں ایسے اصولوں سے انحراف کیوں کرتے ہیں جو علم عروض میں مسلمہ سمجھے جاتے ہیں۔ مطلع میں اگر قافیہ کی پابندی سے یہ مجبوری عائد ہوتی ہے کہ باقی سب قافِے اسی پابندی سے مقید ہوں تو وہ ایسا کیوں نہِیں کرتے ہیں ہر چند کہ ایسا انحراف ان کے یہاں گاہے گاہے ہی دکھائی دیتا ہے لیکن سوال یہی ہے کہ ذرا بھی کیوں دکھائی دیتا ہے؟ آپ کے جواب سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایسی پابندیاں کسی اٹوٹ اصول کا نتیجہ نہیں ہیں اور اگر ان اصولوں سے انحراف کیا جائے تو کلام میں کوئی خرابی پیدا نہیں ہوتی ہے۔ لیکن اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ پھر ایسے اصولوں کو خیرباد ہی کیوں نہ کہہ دیا جائے اور شاعروں کو آزادی دی جائے۔ آپ کی عروض کی کتاب میں ایک مضمون "عروض اور اردو کے تقاضے" ایسی ہی باتوں پر پر لطف گفتگو کرتا ہے۔ اس میں کئی صورتیں ایسی بیان کی گئی ہیں جن کو اپنا کر شاعری کا کوئی نقصان نہیں ہوتا ہے بلکہ شاعر کو تھوڑی سی آزادی اور مل جاتی ہے۔ تو اس میں کیا ہرج ہے؟
میں آپ کا شکرگزار ہوں کہ ایک خلش دور ہوئی۔ اگر میں شعر کہتا ہوتا تو ایسی پابندیوں کی خلاف ورزی میں برائی نہ سمجھتا جن سے شاعری کی اساس پر کوئی ضرب نہیں پڑتی ہے۔ امید ہے کہ ریحانہ صاحبہ بھی مجھ سے متفق ہوں گی۔

خادم: مشیر شمسی

غیرحاضر chshakir

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 62
جواب: جو کوئی بھی مصور نہ کر سکا مصور
« Reply #12 بروز: جنوری 21, 2018, 11:34:13 شام »
جملۂ احباب کو السلام علیکم !

بہت خوب اور پرلطف گفتگو چل نکلی تو ایک بار پھر اپنی ادنٰی رائے دینا ضروری سمجھا۔ مشیر شمسی صاحب آپ نے جو رائے قائم کی ہے میں اس کی ۱۰۰ فی صد تائید کرتا ہوں اور سرور راز صاحب کے بقول بھی یہ کوئی ریاضی کا فارمولا نہیں ہے جو دو جمع دو چار ہوتا ہے۔ شاعری ہے اور خود سارے اصول وضع کیے گئے ہیں۔
میں اس الجھن سے عرصہ دراز سے چھٹکارا پا چکا ہوں جو نہیں چاہتا وہ ایسا نا کرے یہ اس کی ثواب دید پر ہے۔ ہمارا کوئی زور تھوڑی ہے کسی پر۔
اور ایسے اور بھی بہت سارے اصول ہیں جو مستند شاعروں کے کلام میں واضح بیگانگی کا سبب بنے ہوئے موجود ہیں۔
ایک بات اور عرض کر دوں کہ جیسا سرور راز صاحب نے فرمایا کہ کامل اور عامل مطلع مین اگر قافیہ باندھا جائے تو اس پابندی کو مدِنظر رکھتے ہوئے" آ مل" تو باندھ سکتے ہیں مگر جاہل، ساحل وغیرہ بالکل نہیں۔ یہاں پر " آ مل" باندھنے کی اجازت محض صوتی اثر کو ملحوظ رکھتے ہوئے دی گئی ہے جو کہ درست بات اور بھلی محسوس ہوتی ہے مگر جب یہی اصول "الف کے ساختہ" پر نبھایا جاتا ہے یعنی الف کے ساختہ کی طرح "ع کا ساختہ" بھی عین درست اور جائز ہونا چاہیے ایسا میرا کہنا ہے۔ وجہ؟
وجہ یہی ہے کہ "ع" کی آواز بالکل"الف" کے متقاضی ہے اور تقطیع بھی تمام الفاظوں کی ملفوظی ہوتی مکتوبی نہیں۔
مزید برآں کہ خدائے سخن "میر تقی میر" نے "ع کا ساختہ" کیا بھی ان کا شعر سند کے لیے موجود ہے مگر شاعر حضرات اس بات کو نہیں مانتے۔
آج کے دور کے کسی استاد سے بھی بات کی جائے تو اس اصول کو ماننے سے صاف انکاری ہے۔
کیا خیال ہے آپ سب احباب کا اگر عامل اور کامل میں آ مل بطور ملفوظی آ سکتا ہے تو "ع کا ساختہ" جائز نہیں ہونا چاہیے ؟
اس غزل میں اس بات کا کوئی جواز نہیں بنتا مگر بات سے بات نکلی تو سوچا عروض کی بات ہے مشاورت ضرور ہونی چاہیے۔
کیا ہم ابھی تک نابلد ہی رہیں گے ان اصولوں سے۔
ہمیں شاعری کو آسان سے آسان بنانا چاہیے اور پیچیدہ اصولوں سے احتراز کرنا چاہیے۔
مگر اس رائے کو میری ذاتی رائے سمجھا جائے
کسی کا متفق ہونا ضروری نہیں

والسلام
« آخری ترمیم: جنوری 21, 2018, 11:55:43 شام منجانب chshakir »
آیا  ہے  شاکرؔ آپ کی محفل میں  آج  پھر
چھوٹے بڑوں سبھی  کو ہی پیشِ سلام ہے
(شاکر علی شاکرؔ)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
Aya Hay SHAKIR Aap Ki Mehfil Main Aaj Phir
Choty  Baro Sabi Ko Hi Paish-E-Salaam  Hay
(SHAKIR ALI SHAKIR)

غیرحاضر REHANA AHMAD

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 276
  • جنس: عورت
جواب: جو کوئی بھی مصور نہ کر سکا مصور
« Reply #13 بروز: جنوری 22, 2018, 11:53:36 صبح »


   محترم سرور صاحب ،مشیر شمسی صاحب اور چودھری شاکر صاحب!
 
  تسیمات
       میں آپ سب کی تہہِ دل سے ممنون ہوں ،درجہ بالا تفصیلی گفتگو کے لیے۔
      سرور صاحب میں آپ کے مضامین میں یہ سب کچھ پڑھ چکی ہوں اور میرے ذہن میں تھا مگر آپ کی طرح
باحُسن و خوبی اسکے بیان سے قاصر تھی اسی لیے میں نے آپ کو زحمت دی :) بہت شکریہ میری بات کو آپ نے سنا اور سب کی تشفی فرما دی ۔
  اللہ تعالیٰ آپ کو اجر سے نوازے آمین ۔
" زندگی کا مقصد یہ دیکھنا نہیں کہ دور دھندلکوں میں کیا ہےِ، بلکہ جو کچھ ہمارے سامنے ہے اسے سرانجام دینا ہے"   ڈیل کارنیگی

غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • ******
  • تحریریں: 6291
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar
جواب: جو کوئی بھی مصور نہ کر سکا مصور
« Reply #14 بروز: جنوری 22, 2018, 07:31:42 شام »
جملۂ احباب کو السلام علیکم !

بہت خوب اور پرلطف گفتگو چل نکلی تو ایک بار پھر اپنی ادنٰی رائے دینا ضروری سمجھا۔ مشیر شمسی صاحب آپ نے جو رائے قائم کی ہے میں اس کی ۱۰۰ فی صد تائید کرتا ہوں اور سرور راز صاحب کے بقول بھی یہ کوئی ریاضی کا فارمولا نہیں ہے جو دو جمع دو چار ہوتا ہے۔ شاعری ہے اور خود سارے اصول وضع کیے گئے ہیں۔
میں اس الجھن سے عرصہ دراز سے چھٹکارا پا چکا ہوں جو نہیں چاہتا وہ ایسا نا کرے یہ اس کی ثواب دید پر ہے۔ ہمارا کوئی زور تھوڑی ہے کسی پر۔
اور ایسے اور بھی بہت سارے اصول ہیں جو مستند شاعروں کے کلام میں واضح بیگانگی کا سبب بنے ہوئے موجود ہیں۔
ایک بات اور عرض کر دوں کہ جیسا سرور راز صاحب نے فرمایا کہ کامل اور عامل مطلع مین اگر قافیہ باندھا جائے تو اس پابندی کو مدِنظر رکھتے ہوئے" آ مل" تو باندھ سکتے ہیں مگر جاہل، ساحل وغیرہ بالکل نہیں۔ یہاں پر " آ مل" باندھنے کی اجازت محض صوتی اثر کو ملحوظ رکھتے ہوئے دی گئی ہے جو کہ درست بات اور بھلی محسوس ہوتی ہے مگر جب یہی اصول "الف کے ساختہ" پر نبھایا جاتا ہے یعنی الف کے ساختہ کی طرح "ع کا ساختہ" بھی عین درست اور جائز ہونا چاہیے ایسا میرا کہنا ہے۔ وجہ؟
وجہ یہی ہے کہ "ع" کی آواز بالکل"الف" کے متقاضی ہے اور تقطیع بھی تمام الفاظوں کی ملفوظی ہوتی مکتوبی نہیں۔
مزید برآں کہ خدائے سخن "میر تقی میر" نے "ع کا ساختہ" کیا بھی ان کا شعر سند کے لیے موجود ہے مگر شاعر حضرات اس بات کو نہیں مانتے۔
آج کے دور کے کسی استاد سے بھی بات کی جائے تو اس اصول کو ماننے سے صاف انکاری ہے۔
کیا خیال ہے آپ سب احباب کا اگر عامل اور کامل میں آ مل بطور ملفوظی آ سکتا ہے تو "ع کا ساختہ" جائز نہیں ہونا چاہیے ؟
اس غزل میں اس بات کا کوئی جواز نہیں بنتا مگر بات سے بات نکلی تو سوچا عروض کی بات ہے مشاورت ضرور ہونی چاہیے۔
کیا ہم ابھی تک نابلد ہی رہیں گے ان اصولوں سے۔
ہمیں شاعری کو آسان سے آسان بنانا چاہیے اور پیچیدہ اصولوں سے احتراز کرنا چاہیے۔
مگر اس رائے کو میری ذاتی رائے سمجھا جائے
کسی کا متفق ہونا ضروری نہیں

والسلام


محبی شاکر صاحب: سلام مسنون!
آپ کو شریک گفتگو دیکھ کر دلی مسرت سے دوچار ہوا۔ گزارش ہے کہ باقاعدگی سے یہاں تشریف لاتے رہیں اور یہاں کے معاملات کو درد سر بنائے رہیں! شکریہ۔ آپ نے جو نکات اٹھائے ہیں وہ اردو محفلوں میں گاہے گاہے سامنے آتے رہے ہیں لیکن ان کا جواب فراہم ہوجانے کے باوجود ان کا نفاذ اردو پر نہیں ہو سکا ہے۔ اور یہ اردو کی بدقسمتی کا ایک حصہ ہے جس پر جتنا بھی رویا جائے کم ہے۔ الف اور عین کا معاملہ بھی ان معاملات میں شامل ہے۔ جب ہم اہل اردو الف اور عین کا تلفظ یکساں کرتے ہیں تو عروض میں بھی ان پر ایک سے ہی اصولوں کا اطلاق کیوں نہیں ہو سکتا ہے، مثال کے طور پر (جیسا کہ آپ نے فرمایا ہے) تقطیع ملفوظی ہوتی ہے اور عین کو الف کی طرح ہم ملفوظ کرتے ہیں تو الف اور عین کے اصول بھی ایک سے ہونے چاہئیں۔ عقل کا یہی تقاضا ہے۔ میری کتاب "آسان عروض اورنکات شاعری" میں ایک مضمون "علم عروض اور اردو کے تقاضے" کے عنوان سے ایسے ہی سوالوں پر گفتگو کرتا ہے۔ اس سے قبل بھی بہت سے اصحاب ان سوالات پر اظہار خیال کر چکے ہیں لیکن "نتیجہ وہی  ڈھاک کے تین پات"۔ ہم جہاں کے تہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔
درحقیقت اہل اردو ہمیشہ سے کاہل، سہل انگار اور کم ہمت واقع ہوئے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ تو یہ ہے کہ ہمارا سارا ادب اور شعر فارسی سے جیوں کا تیوں پکا پکایا ہم کو مل گیا ہے۔ شروع شروع میں ملک کے حکام کی زبان اور بعد میں پڑھے لکھے طبقے کی زبان بھی فارسی ہی تھی سو اس بدعت کو آسانی سے ہضم کر لیا گیا۔ اس کے بعد اردو کا رواج تو ضرور بڑھا لیکن شعروادب پر فارسی کی چھاپ لگ کر پختہ ہوچکی تھی سو عروض اور دوسرے علوم کے تمام اصول معمولی سی تبدیلی کے بعد اپنا لئے گئے۔ تحقیق اور تنقید کی روایت اردو میں کبھی تھی ہی نہیں۔ ہمارا بیشتر نثری ادب تذکروں اور سوانح تک محدود رہا اور کسی نے تحقیق کی بابت سوچا بھی نہیں۔ چنانچہ آج تک یہ روایت مستحکم نہ ہو پائی۔ اسی کا نتیجہ یہ ہے کہ اردو کا کوئی رسالہ آٹھا کر دیکھ لیجئے۔ چند ٹوٹی پھوٹی غزلوں، دوچار ادھ کچرے اور نام نہاد افسانوں سے زیادہ کچھ دکھائی نہیں دیتا ہے۔ اب تو برصغیر ہند وپاک میں (جہاں ہم بڑے جوش وخروش سے کروڑوں کو اردو زبان والا گردانتے ہیں) میرے علم کی حد تک صرف تین رسالے کسی معیار کے ہیں اور باقی سب بھرتی اور "گاجر مولی" کے کھاتے میں جاتے ہیں۔ پاکستان کی تو قومی زبان اردو ہے۔ وہاں کون سا تحقیقی کام ہوا ہے یا ہو رہا ہے جس کا ذکر کیا جائے؟ چند سال پہلے تک تو اردو میں کوئی ایسی لغت بھی نہیں تھی جس کو مستند کہہ سکتے۔ لے دے کر وہی نورالغات تھی جس سے طلبا کام چلالیتے تھے۔ جس زبان کی جانب سے خود اس کے بولنے والوں کی رغبت کا یہ حال ہو وہ بھلا آج کی دنیا میں ترقی کیسے کر سکتی ہے۔ انٹرنیٹ کو دیکھ کر عبرت حاصل ہوتی ہے۔ وہاں سوائے مزخرفات کےسنجیدہ کام کون کررہا ہے۔؟ اردو محفلوں کو اجاڑنے میں اہل اردو کا فیس بک سے شغف سب سے زیادہ ذمہ دار ہے۔ یہ صورت حال نہایت خوفناک ہے کیونکہ اگر یہی حال رہا (اور بظاہر رہے گا) تو اردو زبان زیادہ دن تک صفحہءہستی پر قایم نہیں رہے گی۔ ہاں فلموں میں اور جاسوسی اور فیشن کے رسالوں میں شاید رہ جائے۔ یہ امید رکھنا کہ اہل اردو اس باب میں آنکھ کھولیں گے سوائے خام خیالی کے اور کچھ نہیں ہے۔
دیکھئے کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔ سمع خراشی کے لئے معذرت خواہ ہوں۔
رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی سے معاف
آج کچھ  درد مرے دل میں  سوا  ہوتا   ہے
اور رہ گیا ہمارا پرانا ہمدم راوی سو وہ چین بولتا ہے کیونکہ اور سب کچھ بولنا بھول چکا ہے۔

سرورعالم راز

]



 

Copyright © اُردو انجمن