اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: Dar Lagta Hai Ghazal  (پڑھا گیا 241 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر nawaz

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 441
Dar Lagta Hai Ghazal
« بروز: جنوری 16, 2018, 09:06:29 صبح »
معزّز اِحباب و اَراکین انجمن السلامُ علیکم

کلام پیش کررہا ہوں آپ اپنی مخلصانہ اور ماہرانہ آرا
سے ضرور نوازئے  بہت شکریہ



شعر اک کھیل نہیں یہ تو ہنر لگتا ہے
ایک اک شعر میں بھی خونِ جِگر لگتا ہے


لوگ وحشت زدہ پھر مجھ کو نظر آتے ہیں
پھر قیامت ہی اُٹھانے کو ہے سرلگتا ہے

آرزو پھول کی دامن میں تھی مجھ کو لیکن
آج دَامن کو مِلے صرف شرر لگتاہے

مجھ کولاچار کیا اُس نے مِگر دنیا کو
اُف غضب ہےکہ وہی نیک بشر لگتا ہے

اُس کی تعریف پہ راضی نہ ہوا دل میرا
جو نہیں کام کا مجھ کو بے ہنر لگتا ہے

کاش تم وقت کے بے مِثل شناور ہوتے
ہاں نواز آج تو دریا سے بھی ڈرلگتا ہے
« آخری ترمیم: جنوری 18, 2018, 12:30:28 صبح منجانب nawaz »



غیرحاضر Mushir Shamsi

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 300
جواب: Dar Lagta Hai Ghazal
« Reply #1 بروز: جنوری 17, 2018, 09:24:26 شام »
معزّز اِحباب و اَراکین انجمن السلامُ علیکم

کلام پیش کررہا ہوں آپ اپنی مخلصانہ اور ماہرانہ آرا
سے ضرور نوازئے  بہت شکریہ

شاعری کھیل نہیں یہ بھی ہنر لگتا ہے
ایک اک شعر میں بھی خونِ جِگرلگتا ہے

لوگ وحشت زدہ پھر مجھ کو نظر آتے ہیں
پھر قیامت ہی اُٹھانے کو ہے سرلگتا ہے

آرزو پھول کی دامن میں تھی مجھ کو لیکن
آج دَامن کو مِلے صرف شرر لگتاہے

مجھ کولاچار کیا اُس نے مِگر دنیا کو
اُف غضب ہےکہ وہی نیک بشر لگتا ہے

اُس کی تعریف پہ راضی نہ ہوا دل میرا
جو نہیں کام کا مجھ کو بے ہنر لگتا ہے

کاش تم وقت کے بے مِثل شناور ہوتے
ہاں نواز آج تو دریا سے بھی ڈرلگتا ہے


محترمی نواز صاحب: سلام عرض ہے!
آپ کی غزل کی زمین اور بحر دونوں اچھی اور نواں ہیں اور آپ نے شاعرانہ کوشش میں کوئی کسر بھی نہیں چھوڑی ہے۔ ایک دلکش غزل کی داد دینا میرا خوشگوار فرض ہے۔ قبول فرما کر شکریہ کا موقع عنایت کیجئے۔ امید ہے کہ آپ کا کلام اسی طرح پڑھنے کو ملتا رہے گا۔ انشااللہ۔
جہاں تک تنقید یا تبصرے کا سوال ہے وہ امید ہے کہ مجھ سے کہیں زیادہ با علم اور قابل دوست کریں گے۔ میں شاعر تو کیا تک بند بھی نہیں ہوں اس لئے صرف داد دینا کافی ہے۔ ایک بات کہنے کی ضرور اجازت چاہتا ہوں یعنی آپ کی غزل میں بھرتی کے الفاظ بہت کثرت سے نظر آرہے ہیں۔ مثال کے طور پر مطلع میں "بھی" دونوں مصرعوں میں باندھا گیا ہے اور کم سے کم ایک میں غیر ضروری ہے۔ دوسرے یہ کہ جب آپ کہتے ہیں کہ :
شاعری کھیل نہیں یہ بھی ہنر لگتا ہے
تو "یہ" شاعری کے لئے کہا گیا ہے اس لئے "لگتا ہے" کی جگہ "لگتی ہے" ہونا چاہئے۔ اگر میں درست ہوں تو آپ کا مطلع غلط ہے اور اس کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟

خادم : مشیر شمسی

غیرحاضر nawaz

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 441
جواب: Dar Lagta Hai Ghazal
« Reply #2 بروز: جنوری 18, 2018, 12:48:20 صبح »
محترم مشیر شمسی صاحب سلامِ مسنون

میں آپ کا ممنون ہوں کہ غزل پڑھی اور میری حوصلہ افزائی
فرمائی۔
میں نے مطلع  کے پہلے مصرع میں شاعری کو شعر سے بدل
کر بھیً  بھرتی کا  ہٹادیا ہے نئی صورت کچھ یوں ہے

شعر اک کھیل نہیں یہ تو ہنر لگتا ہے

دیکھئے کیا صورت بنتی ہے آپکی رائے میرے لئے بہت اہم ہے
سدا خوش رہئے     دعا گو نواز

 

Copyright © اُردو انجمن