اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: غزل"رنگ تقدیر مری لائی تو یوں لائی ہے  (پڑھا گیا 257 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر Afroz Mehr

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 280
غزل"رنگ تقدیر مری لائی تو یوں لائی ہے
« بروز: فروری 16, 2018, 06:40:12 شام »

یاران اردو انجمن: تسلیمات
ایک غزل پیش خدمت ہے۔ تنقید، تبصرہ، اصلاح اور تجاویز سے نوازئے،ممنون ہوں گی۔
==================
رنگ تقدیر مری لائی تو  یوں   لائی ہے
رنج و آلام ہیں، میں ہوں، شب تنہائی ہے

دل پریشاں ہے، طبیعت مری گھبرائی ہے
تہمت عشق سراسر مرے  سر  آئی  ہے

سرٖخ رو ہو تو کوئی مجھ سا زمانہ بھر میں
ساری دنیا مجھے کہتی  ترا  سودائی ہے !

دیکھ لیتی ہوں اسے ایک نظر حسرت سے
زندگی سے مری بس  اتنی  شناسائی  ہے

بات بے بات قیامت کھڑی کر دیتے ہیں
واہ   کیا  آپ  کا  انداز  پذیرائی  ہے

وقت نے اس قدر مجبور کیا ہے مجھ کو
ہمت  دید ، نہ  ہی  طاقت گویائی ہے !

یاد  ایام  خدا  جانے   د کھائے  کیا  کیا
صبح کی بھولی ہوئی شام کو گھر آئی ہے

زندگی نے تجھے کس پھیر میں ڈالا افروز
خود تماشہ ہے تو اور خود ہی تماشائی ہے
=============
مہر افروز





غیرحاضر sheharyar ahmad

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 21
جواب: غزل"رنگ تقدیر مری لائی تو یوں لائی ہے
« Reply #1 بروز: فروری 16, 2018, 09:57:14 شام »

یاران اردو انجمن: تسلیمات
ایک غزل پیش خدمت ہے۔ تنقید، تبصرہ، اصلاح اور تجاویز سے نوازئے،ممنون ہوں گی۔
==================
رنگ تقدیر مری لائی تو  یوں   لائی ہے
رنج و آلام ہیں، میں ہوں، شب تنہائی ہے

دل پریشاں ہے، طبیعت مری گھبرائی ہے
تہمت عشق سراسر مرے  سر  آئی  ہے

سرٖخ رو ہو تو کوئی مجھ سا زمانہ بھر میں
ساری دنیا مجھے کہتی  ترا  سودائی ہے !

دیکھ لیتی ہوں اسے ایک نظر حسرت سے
زندگی سے مری بس  اتنی  شناسائی  ہے

بات بے بات قیامت کھڑی کر دیتے ہیں
واہ   کیا  آپ  کا  انداز  پذیرائی  ہے

وقت نے اس قدر مجبور کیا ہے مجھ کو
ہمت  دید ، نہ  ہی  طاقت گویائی ہے !

یاد  ایام  خدا  جانے   د کھائے  کیا  کیا
صبح کی بھولی ہوئی شام کو گھر آئی ہے

زندگی نے تجھے کس پھیر میں ڈالا افروز
خود تماشہ ہے تو اور خود ہی تماشائی ہے
=============
مہر افروز




محترمہ مہر افروز صاحبہ،

السلام علیکم،

تبصرہ اور تنقید تو اور احباب کریں گے ہی آپ کی اس غزل پر، میں تو صرف آپ کی اس اچھی غزل پر داد دینے حاضر ہوا ہوں۔ مجھے یوں تو آپ کی یہ غزل مجموعی طور پر پسند آئی، لیکن جس شعر نے مجھے لکھنے پر مجبور کر دیا وہ یہ ہے


دیکھ لیتی ہوں اسے ایک نظر حسرت سے
زندگی سے مری بس  اتنی  شناسائی  ہے

بہت خوب، بلکہ بہت ہی خوب۔ کمال کا شعر ہے یہ اور اس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ واہ!!!
سینہ دہک رہا ہو تو کیوں چپ رہے کوئی

کیوں چیخ چیخ کر نہ گلا چھیل لے کوئی

غیرحاضر vb jee

  • Adab Fehm
  • ****
  • تحریریں: 1273
  • جنس: مرد
جواب: غزل"رنگ تقدیر مری لائی تو یوں لائی ہے
« Reply #2 بروز: فروری 19, 2018, 10:32:57 صبح »

یاران اردو انجمن: تسلیمات
ایک غزل پیش خدمت ہے۔ تنقید، تبصرہ، اصلاح اور تجاویز سے نوازئے،ممنون ہوں گی۔
==================
رنگ تقدیر مری لائی تو  یوں   لائی ہے
رنج و آلام ہیں، میں ہوں، شب تنہائی ہے

دل پریشاں ہے، طبیعت مری گھبرائی ہے
تہمت عشق سراسر مرے  سر  آئی  ہے

سرٖخ رو ہو تو کوئی مجھ سا زمانہ بھر میں
ساری دنیا مجھے کہتی  ترا  سودائی ہے !

دیکھ لیتی ہوں اسے ایک نظر حسرت سے
زندگی سے مری بس  اتنی  شناسائی  ہے

بات بے بات قیامت کھڑی کر دیتے ہیں
واہ   کیا  آپ  کا  انداز  پذیرائی  ہے

وقت نے اس قدر مجبور کیا ہے مجھ کو
ہمت  دید ، نہ  ہی  طاقت گویائی ہے !

یاد  ایام  خدا  جانے   د کھائے  کیا  کیا
صبح کی بھولی ہوئی شام کو گھر آئی ہے

زندگی نے تجھے کس پھیر میں ڈالا افروز
خود تماشہ ہے تو اور خود ہی تماشائی ہے
=============
مہر افروز





محترمہ افروز مہر صاحبہ! السلام علیکم

واہ ۔۔ بُہت ہی شاندار غزل ہے۔ پہلے شاید ہی آپ کا کبھی کلام پڑھا ہو۔ اگر آپ مرد ہوتیں تو ہم آپ کو اُس رستم سے تشبیح دیتے جو چھُپا ہؤا ہوتا ہے :)

آپ کا کلام شاذ ہی پڑھنے کو ملتا ہے۔ پڑھ کر لطف آیا۔ اور بُہت پختگی نظر آئی۔ بھرپور داد قبول کیجے۔

اصلاح تو خیر ہمارے بس کا روگ نہیں، لیکن اب آپ نے خود تنقید، تبصرہ اور تجاویز کا حُکم فرمایا ہے تو کُچھ باتیں عرض ہیں۔ امید ہے کہ ایک شاگرد کی باتوں پر خفا نہ ہونگی۔ ہمارا مقصد فقط سیکھنا ہی ہوتا ہے۔ سو کُچھ باتیں جو ذہن میں آتی گئیں سو عرض کر رہے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رنگ تقدیر مری لائی تو  یوں   لائی ہے
رنج و آلام ہیں، میں ہوں، شب تنہائی ہے

بُہت خوبصورت مطلع ہے۔ بھرپور داد قبول کیجے۔ ویسے اگر یہ شعر ہم کہہ رہے ہوتے (وائے ناکامیءِ قسمت کہ ہمارے بس کا روگ نہیں) تو پہلا مصرعہ میں :یوں: کی جگہ :کیا: لکھتے۔

۔۔۔۔۔۔
دل پریشاں ہے، طبیعت مری گھبرائی ہے
تہمت عشق سراسر مرے  سر  آئی  ہے

شعر اچھا ہے، لیکن سچ پوچھیں تو ہمیں مزا کم دے رہا ہے۔ جس کی وجہ شاید کُچھ یوں ہے کہ :تہمتِ عشق کا سراسر، سر آ جانا: پہلے شعر کی نسبت بُہت کم نازک احساس رکھتا ہے۔

۔۔۔۔۔
سرٖخ رو ہو تو کوئی مجھ سا زمانہ بھر میں
ساری دنیا مجھے کہتی  ترا  سودائی ہے !

ہمیں محسوس ہو رہا ہے، جیسے دوسرا مصرعہ کُچھ ابہام پیدا کر رہا ہو۔ آپ نے آخر میں :!: لگایا ہے۔ مصرعہ سے یوں بھی لگتا ہے جیسے ساری دُنیا کہتی ہے کہ :وہ: آپ کا سودائی ہے۔۔۔۔۔ اور یوں بھی لگتا ہے جیسے ساری دُنیا کہتی ہے کہ آپ (مذکر) اُس کے سودائی ہیں۔ ہمارا نہیں خیال کہ غزل میں کبھی شاعر خود مذکر اور کبھی خود کو مؤنث باندھے تو کوئی غلط بات ہے، لیکن اتنا یقین ہے کہ اس سے پڑھنے والے پر اچھا اثر نہیں پڑتا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ اسے اس طرح لکھنے میں کوئی حرج نہیں :ساری دُنیا مجھے کہتی، "تِرا سودائی ہے!": ۔۔ باقی آپ بہتر سمجھتی ہیں۔

۔۔۔۔۔
دیکھ لیتی ہوں اسے ایک نظر حسرت سے
زندگی سے مری بس  اتنی  شناسائی  ہے

یہ شعر تو واقعی کمال ہے۔ ہمیں بھی بُہت پسند آیا۔ بھرپور داد۔ کیا ہی بات ہے۔

۔۔۔۔۔۔
بات بے بات قیامت کھڑی کر دیتے ہیں
واہ   کیا  آپ  کا  انداز  پذیرائی  ہے

ہمیں محسوس ہؤا کہ یہ شعر اپنے معنی ٹھیک سے بیان نہیں کر پایا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے :بات بے بات قیامت کھڑی کر دینے: کو :اندازِ پذیرائی: ہی کیوں لیا؟: ۔۔ یا پھر ہم ہی نہیں سمجھ پا رہے۔

۔۔۔۔۔۔
وقت نے اس قدر مجبور کیا ہے مجھ کو
ہمت  دید ، نہ  ہی  طاقت گویائی ہے !

یہاں ہمیں کُچھ جھٹکا سا محسوس ہؤا۔ ہمیں شعر کا پہلا مصرعہ وزن میں کیوں نہیں لگ رہا۔ :قدر: کی :ر: کا مسلئہ محسوس ہو رہا ہے۔ البتہ خیال اور دوسرا مصرعہ بُہت خوب ہیں۔ شعر کو جانے نہیں دیجے گا۔

۔۔۔۔۔۔
یاد  ایام  خدا  جانے   د کھائے  کیا  کیا
صبح کی بھولی ہوئی شام کو گھر آئی ہے

شعر تو اچھا ہے۔ البتہ ایک سوال یہاں پیدا ہوتا ہے۔ کہ کیا ضربُ المثال میں صیغہ بدلنا درست ہے یا نہیں؟ ممکن ہے ہمیں اپنے مرد ہونے کی مجبوری کے تحت پڑھ کر کُچھ عجیب محسوس ہو رہا ہو۔ معلوم نہیں، اگر کُچھ اور ضروب الامثال کے ساتھ ایسا کیا جائے تو کیا کیا صورتیں سامنے آئیں۔ ہے تو کُچھ عجیب لیکن اگر ہم آپ سے کہیں کہ :آپ چھپا رستم نکلیں: تو درست ہو گا یا :آپ چھُپی رستم نکلیں: درست ہو گا؟ نکلنا بہر صورت آپ کو :رستم: ہی پڑے گا۔ :)
باقی اچھی بات یہ ہے کہ آپ نے ہر مصرعہ کو بُہت چست باندھا ہے۔ جیسے اس میں پہلے مصرعہ میں :کیا کیا: میں لطف ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔
زندگی نے تجھے کس پھیر میں ڈالا افروز
خود تماشہ ہے تو اور خود ہی تماشائی ہے

شعر بُہت خوبصورت ہے۔ البتہ جانے کیوں ہمیں لفظ :پھیر: کُچھ کم لطف دے رہا ہے۔ یا پھر ہمارے کانوں نے اسے زیادہ نہیں سُن رکھا۔ اسے ہماری طرف سے بلا وجہ کی تنقید سمجھ لیں تو بھی حرج نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امید ہے کہ ہماری باتوں کی ایک شاگرد کی باتیں ہی سمجھیں گی۔ ہماری کوئی بھی کہی ہوئی بات، ہمارا دعویٰ نہیں ہے کہ اس لائق نہیں ہیں ہم۔ مقصد صرف اپنے خیالات آپ تک پہنچانا ہے۔

ایک بار پھر بھرپور داد کے ساتھ

دُعا گو

گنگناتی رهے گی انھیں تو سدا
اتنے نغمے تِرے نام کر جائیں گے

غیرحاضر Afroz Mehr

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 280
جواب: غزل"رنگ تقدیر مری لائی تو یوں لائی ہے
« Reply #3 بروز: فروری 20, 2018, 05:00:53 شام »

یاران اردو انجمن: تسلیمات
ایک غزل پیش خدمت ہے۔ تنقید، تبصرہ، اصلاح اور تجاویز سے نوازئے،ممنون ہوں گی۔
==================
رنگ تقدیر مری لائی تو  یوں   لائی ہے
رنج و آلام ہیں، میں ہوں، شب تنہائی ہے

دل پریشاں ہے، طبیعت مری گھبرائی ہے
تہمت عشق سراسر مرے  سر  آئی  ہے

سرٖخ رو ہو تو کوئی مجھ سا زمانہ بھر میں
ساری دنیا مجھے کہتی  ترا  سودائی ہے !

دیکھ لیتی ہوں اسے ایک نظر حسرت سے
زندگی سے مری بس  اتنی  شناسائی  ہے

بات بے بات قیامت کھڑی کر دیتے ہیں
واہ   کیا  آپ  کا  انداز  پذیرائی  ہے

وقت نے اس قدر مجبور کیا ہے مجھ کو
ہمت  دید ، نہ  ہی  طاقت گویائی ہے !

یاد  ایام  خدا  جانے   د کھائے  کیا  کیا
صبح کی بھولی ہوئی شام کو گھر آئی ہے

زندگی نے تجھے کس پھیر میں ڈالا افروز
خود تماشہ ہے تو اور خود ہی تماشائی ہے
=============
مہر افروز




محترمہ مہر افروز صاحبہ،

السلام علیکم،

تبصرہ اور تنقید تو اور احباب کریں گے ہی آپ کی اس غزل پر، میں تو صرف آپ کی اس اچھی غزل پر داد دینے حاضر ہوا ہوں۔ مجھے یوں تو آپ کی یہ غزل مجموعی طور پر پسند آئی، لیکن جس شعر نے مجھے لکھنے پر مجبور کر دیا وہ یہ ہے


دیکھ لیتی ہوں اسے ایک نظر حسرت سے
زندگی سے مری بس  اتنی  شناسائی  ہے

بہت خوب، بلکہ بہت ہی خوب۔ کمال کا شعر ہے یہ اور اس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ واہ!!!

مکرمی جناب شہر یار صاحب: سلام علیکم
آپ کا مختصر خط پڑھ کر دل بہت خوش ہوا۔ ہمت افزائی کے لئے ممنون ہوں۔ نئے لکھنے والوں کے لئے نہ صرف آپ اصحاب کی تنقید و اصلاح ضروری ہے بلکہ اسی قدر ہمت افزائی اگر ہوتی رہے تو احسان عظیم ہوگا۔ بہت بہت شکریہ۔
غزل آپ کو پسند آئی یہ تو دل خوش کن ہے لیکن آپ کے تبصرے سے محروم رہی اس کا ملال ہے۔ گزارش ہے کہ وقت نکال کر لکھئے۔ دیکھئے محترم وی بی جی نے کیسے میرے لتے لئے ہیں! اللہ ان کو اور آپ کو سلامت رکھے تاکہ یہ نوازش یوں ہی جاری رہے۔ جو شعر آپ کو بہت پسند آیا ہے وہ مجھ کو بھی بہت عزیز ہے۔علامہ اقبال نے اسی لئے کہا ہے کہ :
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز  مگر  رکھتی   ہے

مہر افروز

غیرحاضر Afroz Mehr

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 280
جواب: غزل"رنگ تقدیر مری لائی تو یوں لائی ہے
« Reply #4 بروز: فروری 20, 2018, 09:44:07 شام »

مکرمی و محترمی وی بی جی؛ سلام علیکم
آپ کا خط ہو اور کسر نفسی اور عاجزی کا مرقع نہ ہو یہ کیسے ہو سکتا ہے! اتنے پرلطف اور ہم مبتدیوں کی ہمت افزائی کرنے والے خط اردو انجمن میں آپ کے خطوط کے علاوہ اور کہیں دستیاب نہیں ہیں۔ اللہ آپ کو آباد اورسلامت رکھے اور آپ اسی طرح آبدار موتیوں سے لوگوں کے دل خوش کرتے رہیں۔ آپ کا تبصرہ جہاں مفصل تھا وہیں مجھ کو کئی مقامات پر الجھن میں بھی ڈال گیا۔ یا تو میں آپ کا مطلب جگہ جگہ نہیں سمجھ سکی ہوں یا پھر میری غزل گوئی اپنی معنی آفرینی اور بنت میں بہت کمزور ہے۔ حقیقت جو بھی ہو یقین کیجئے کہ میں اپنی بدحالی بہتر کرنے کی کوشش میں کوئی کسر نہیں چھوڑوں گی۔  :)
آپ کی اجازت سے آپ کے تبصرے پر چند باتیں عرض کرتی ہوں۔
=====================
رنگ تقدیر مری لائی تو  یوں   لائی ہے
رنج و آلام ہیں، میں ہوں، شب تنہائی ہے
"بُہت خوبصورت مطلع ہے۔ بھرپور داد قبول کیجے۔ ویسے اگر یہ شعر ہم کہہ رہے ہوتے (وائے ناکامیءِ قسمت کہ ہمارے بس کا روگ نہیں) تو پہلا مصرعہ میں :یوں: کی جگہ :کیا: لکھتے۔"
میں نے پہلے "یہ" لکھا تھا اور نظرثانی کرتے وقت "یوں" کر دیا۔ آپ "کیا " بہتر سمجھتے ہیں تو وہی بہتر ہوگا۔ کیا خبر میں مطلع بدل ہی دوں  :blush:
دل پریشاں ہے، طبیعت مری گھبرائی ہے
تہمت عشق سراسر مرے  سر  آئی  ہے
"شعر اچھا ہے، لیکن سچ پوچھیں تو ہمیں مزا کم دے رہا ہے۔ جس کی وجہ شاید کُچھ یوں ہے کہ :تہمتِ عشق کا سراسر، سر آ جانا: پہلے شعر کی نسبت بُہت کم نازک احساس رکھتا ہے۔"
شعر کی پسندیدگی کا شکریہ۔ ویسے میں آپ کی بات کے تناظر میں مزید غورکروں گی۔ انشااللہ۔
۔۔۔۔۔
سرٖخ رو ہو تو کوئی مجھ سا زمانہ بھر میں
ساری دنیا مجھے کہتی  ترا  سودائی ہے !
"ہمیں محسوس ہو رہا ہے، جیسے دوسرا مصرعہ کُچھ ابہام پیدا کر رہا ہو۔ آپ نے آخر میں :!: لگایا ہے۔ مصرعہ سے یوں بھی لگتا ہے جیسے ساری دُنیا کہتی ہے کہ :وہ: آپ کا سودائی ہے۔۔۔۔۔ اور یوں بھی لگتا ہے جیسے ساری دُنیا کہتی ہے کہ آپ (مذکر) اُس کے سودائی ہیں۔ ہمارا نہیں خیال کہ غزل میں کبھی شاعر خود مذکر اور کبھی خود کو مؤنث باندھے تو کوئی غلط بات ہے، لیکن اتنا یقین ہے کہ اس سے پڑھنے والے پر اچھا اثر نہیں پڑتا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ اسے اس طرح لکھنے میں کوئی حرج نہیں :ساری دُنیا مجھے کہتی، "تِرا سودائی ہے!": ۔۔ باقی آپ بہتر سمجھتی ہیں۔"
میں آپ کا مطلب سمجھنے سے قاصر رہی۔ اردو شاعری میں محبوبہ کو مذکر باندھ کر اس کے ساتھ وہ سلوک کیا جاتا ہے کہ اللہ اکبر اور میں اگر "تری" کے بجائے "ترا" لکھتی ہوں (جس سے مطلب میں کوئی اشکال پیدا نہیں ہوتا ہے ) تو استاذی تنبیہہ کر تے ہیں! گستاخی تو ہے لیکن یہاں میں نہیں سمجھتی کہ کسی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ امید ہے معاف کردیں گے۔!!
۔۔۔۔۔
دیکھ لیتی ہوں اسے ایک نظر حسرت سے
زندگی سے مری بس  اتنی  شناسائی  ہے
"یہ شعر تو واقعی کمال ہے۔ ہمیں بھی بُہت پسند آیا۔ بھرپور داد۔ کیا ہی بات ہے۔"
بہت شکریہ۔ آپ کی ذرہ نوازی ہے۔
۔۔۔۔۔۔
بات بے بات قیامت کھڑی کر دیتے ہیں
واہ   کیا  آپ  کا  انداز  پذیرائی  ہے
"ہمیں محسوس ہؤا کہ یہ شعر اپنے معنی ٹھیک سے بیان نہیں کر پایا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے :بات بے بات قیامت کھڑی کر دینے: کو :اندازِ پذیرائی: ہی کیوں لیا؟: ۔۔ یا پھر ہم ہی نہیں سمجھ پا رہے۔"
آپ کا اعتراض ایک حد تک یقینا بجا ہے۔ پذیرائی یہاں ابہام پیدا کر رہا ہے۔ دیکھئے پھر سوچتی ہوں۔ شکریہ۔
۔۔۔۔۔۔
وقت نے اس قدر مجبور کیا ہے مجھ کو
ہمت  دید ، نہ  ہی  طاقت گویائی ہے !
"یہاں ہمیں کُچھ جھٹکا سا محسوس ہؤا۔ ہمیں شعر کا پہلا مصرعہ وزن میں کیوں نہیں لگ رہا۔ :قدر: کی :ر: کا مسلئہ محسوس ہو رہا ہے۔ البتہ خیال اور دوسرا مصرعہ بُہت خوب ہیں۔ شعر کو جانے نہیں دیجے گا۔ "
آپ بالکل بجا فرمارہے ہیں۔ آج کل عروض سیکھ رہی ہوں۔ "قدر" پر میں کھٹکی تھی لیکن پھر بے توجہی میں (جس کو آپ شاید "جھونک" کے لقب سے سرفراز کریں گے!) لکھ گئی۔ معذرت خواہ ہوں۔ دیکھئے یوں ٹھیک ہے؟
وقت نے آہ یوں مجبور کیا ہے مجھ کو
ہمت دید نہ ہی قوت گویائی ہے
۔۔۔۔۔۔
یاد  ایام  خدا  جانے   د کھائے  کیا  کیا
صبح کی بھولی ہوئی شام کو گھر آئی ہے
شعر تو اچھا ہے۔ البتہ ایک سوال یہاں پیدا ہوتا ہے۔ کہ کیا ضربُ المثال میں صیغہ بدلنا درست ہے یا نہیں؟ ممکن ہے ہمیں اپنے مرد ہونے کی مجبوری کے تحت پڑھ کر کُچھ عجیب محسوس ہو رہا ہو۔ معلوم نہیں، اگر کُچھ اور ضروب الامثال کے ساتھ ایسا کیا جائے تو کیا کیا صورتیں سامنے آئیں۔ ہے تو کُچھ عجیب لیکن اگر ہم آپ سے کہیں کہ :آپ چھپا رستم نکلیں: تو درست ہو گا یا :آپ چھُپی رستم نکلیں: درست ہو گا؟ نکلنا بہر صورت آپ کو :رستم: ہی پڑے گا۔
باقی اچھی بات یہ ہے کہ آپ نے ہر مصرعہ کو بُہت چست باندھا ہے۔ جیسے اس میں پہلے مصرعہ میں :کیا کیا: میں لطف ہے۔ "
آپ کی یہ بات تو "قابل دست اندازیء بیگم" کے تحت آتی ہے! کہتے ہیں کہ "صبح کا بھولا شام گھر آئے تو بھولا نہیں کہلاتا" تو کیا یہاں "بھولی" کہہ کر اس مثل کو مونث نہیں بنا سکتے ہیں؟ ضرور بنا سکتے ہیں۔ بیچاری یاد ہی مونث ہے تو وہ گھر آئے گی اور ضرور آئے گی۔  :)
۔۔۔۔۔۔۔
زندگی نے تجھے کس پھیر میں ڈالا افروز
خود تماشہ ہے تو اور خود ہی تماشائی ہے
"شعر بُہت خوبصورت ہے۔ البتہ جانے کیوں ہمیں لفظ :پھیر: کُچھ کم لطف دے رہا ہے۔ یا پھر ہمارے کانوں نے اسے زیادہ نہیں سُن رکھا۔ اسے ہماری طرف سے بلا وجہ کی تنقید سمجھ لیں تو بھی حرج نہیں۔"
الفاظ بھرتی کے ہوتے ہیں، شعر بھی بھرتی کے سنے ہیں لیکن اعتراض آج ہی بھرتی کا سننے کو ملا ہے وی بی جی! رہ گیا پھیرتو اس میں کیا خرابی ہے۔آپ تو الفاظ میں پھیر ڈالنے کے موجد ہیں۔ مجھ غریب کو ایک شعرمیں "پھیر " ڈالنے کی اجازت نہیں ہے؟ ویسے اس لفظ میں نسوانیت کی بوباس سے شاید آپ ڈر گئے ہیں۔

مہر افروز

غیرحاضر sheharyar ahmad

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 21
جواب: غزل"رنگ تقدیر مری لائی تو یوں لائی ہے
« Reply #5 بروز: فروری 24, 2018, 05:38:12 شام »

مکرمی جناب شہر یار صاحب: سلام علیکم
آپ کا مختصر خط پڑھ کر دل بہت خوش ہوا۔ ہمت افزائی کے لئے ممنون ہوں۔ نئے لکھنے والوں کے لئے نہ صرف آپ اصحاب کی تنقید و اصلاح ضروری ہے بلکہ اسی قدر ہمت افزائی اگر ہوتی رہے تو احسان عظیم ہوگا۔ بہت بہت شکریہ۔
غزل آپ کو پسند آئی یہ تو دل خوش کن ہے لیکن آپ کے تبصرے سے محروم رہی اس کا ملال ہے۔ گزارش ہے کہ وقت نکال کر لکھئے۔ دیکھئے محترم وی بی جی نے کیسے میرے لتے لئے ہیں! اللہ ان کو اور آپ کو سلامت رکھے تاکہ یہ نوازش یوں ہی جاری رہے۔ جو شعر آپ کو بہت پسند آیا ہے وہ مجھ کو بھی بہت عزیز ہے۔علامہ اقبال نے اسی لئے کہا ہے کہ :
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز  مگر  رکھتی   ہے

مہر افروز

محترمہ مہر افروز صاحبہ،

جواب کے لئے میں آپ کا شکر گذار ہوں۔

میں بہت شرمندہ ہوں کہ خود کو تبصرے کا اہل نہیں پاتا ورنہ حکم کی تعمیل میں چوں چراں سے کام نہیں لیتا۔ کیوں نہ ہم یہ کارِ گراں وی بی جی اور سرور صاحب جیسے کہنہ مشق شاعروں اور استادوں کے لیے چھوڑ دیں؟

مجھ جیسے نو آموز تو بس احباب کا کلام پڑھ کر اپنے احساسات کا اظہار کر دیں اور لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں تو یہ بھی شاید غنیمت ہے۔ اب لوگ کہاں ان محفلوں میں آتے ہیں۔

آپ بہت اچھا لکھتی ہیں، گو کہ میں نے آپ کی صرف ایک غزل ہی دیکھی ہے، امید ہے مزید غزلوں اور نظموں سے نوازتی رہیں گی۔
سینہ دہک رہا ہو تو کیوں چپ رہے کوئی

کیوں چیخ چیخ کر نہ گلا چھیل لے کوئی

 

Copyright © اُردو انجمن