اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: جانے خود کو وہ کیا سمجھتا ہے  (پڑھا گیا 225 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر BANDA E NACHEEZ

  • Adab Dost
  • ***
  • تحریریں: 609
جانے خود کو وہ کیا سمجھتا ہے
« بروز: جنوری 29, 2018, 06:53:30 صبح »

احباب کی بصارتوں کی نذر ایک غزل

ہر کسی سے جدا سمجھتا ہے
جانے خود کو وہ کیا سمجھتا ہے

اک ذرا اختیار ملنے پر
خود کو انساں خدا سمجھتا ہے

میرے اندر کا دکھ مرے مالک
کون تیرے سوا سمجھتا ہے

سمجھے میرا بھی تو مرض وہ جو
خود کو نبض آشنا سمجھتا ہے

اس کی باتوں میں آ گیا کیسے
تو تو اچھا برا سمجھتا ہے

جس کو جینے کا فن نہیں آتا
زندگی کو سزا سمجھتا ہے

کیسے جیتے ہیں دوسروں کے لیے
پیڑ،سورج ، دیا سمجھتا ہے

لاکھ کہتا رہوں کہ میرا ہے
خود کو دل آپ کا سمجھتا ہے

محمد یوسف شاکرؔ
« آخری ترمیم: جنوری 29, 2018, 08:57:17 شام منجانب سرور عالم راز »



غیرحاضر vb jee

  • Adab Fehm
  • ****
  • تحریریں: 1273
  • جنس: مرد
جواب: جانے خود کو وہ کیا سمجھتا ہے
« Reply #1 بروز: جنوری 31, 2018, 06:52:26 صبح »

احباب کی بصارتوں کی نذر ایک غزل

ہر کسی سے جدا سمجھتا ہے
جانے خود کو وہ کیا سمجھتا ہے

اک ذرا اختیار ملنے پر
خود کو انساں خدا سمجھتا ہے

میرے اندر کا دکھ مرے مالک
کون تیرے سوا سمجھتا ہے

سمجھے میرا بھی تو مرض وہ جو
خود کو نبض آشنا سمجھتا ہے

اس کی باتوں میں آ گیا کیسے
تو تو اچھا برا سمجھتا ہے

جس کو جینے کا فن نہیں آتا
زندگی کو سزا سمجھتا ہے

کیسے جیتے ہیں دوسروں کے لیے
پیڑ،سورج ، دیا سمجھتا ہے

لاکھ کہتا رہوں کہ میرا ہے
خود کو دل آپ کا سمجھتا ہے

محمد یوسف شاکرؔ


محترم جناب محمد یوسف شاکرؔ صاحب! السلام علیکم

بُہت اچھے جناب۔ کیا ہی بات ہے۔ چھوٹی بحر اور پھر اتنی صاف ستھری سی غزل۔ بھرپور داد قبول کیجے۔

غزل کے بیش تر اشعار بُہت سادہ اور اچھے ہیں۔ یہ مشکل کام ہے۔ دیکھنے میں گویا سادہ سی بات سادہ سے الفاظ لیکن ایسے اشعار لانا آسان نہیں۔ اس میں سے آپ کی محنت جھلک رہی ہے۔

ایک دو باتیں اپنی سمجھ کے حساب سے عرض کئیے دیتے ہیں۔ امید ہے کہ بُرا نہ منائیں گے۔

سمجھے میرا بھی تو مرض وہ جو
خود کو نبض آشنا سمجھتا ہے

شعر تو ٹھیک ہے البتہ اس کا پہلا مصرعہ بہتر کرنے کی بُہت گنجائش رکھتا ہے۔

کیسے جیتے ہیں دوسروں کے لیے
پیڑ،سورج ، دیا سمجھتا ہے

مندرجہ بالا شعر کو جس طرح ہم سمجھ رہے ہیں اس حساب سے :سمجھتا ہے: کی بجائے :سمجھتے ہیں: ہونا چاہئیے۔ باقی آپ بہتر سمجھتے ہیں۔

لیکن جناب پھر بھی غزل بُہت شاندار ہے۔ ایک بار پھر بھرپور داد قبول کیجے

دُعا گو



گنگناتی رهے گی انھیں تو سدا
اتنے نغمے تِرے نام کر جائیں گے

غیرحاضر Mushir Shamsi

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 297
جواب: جانے خود کو وہ کیا سمجھتا ہے
« Reply #2 بروز: فروری 01, 2018, 09:46:25 شام »

احباب کی بصارتوں کی نذر ایک غزل

ہر کسی سے جدا سمجھتا ہے
جانے خود کو وہ کیا سمجھتا ہے

اک ذرا اختیار ملنے پر
خود کو انساں خدا سمجھتا ہے

میرے اندر کا دکھ مرے مالک
کون تیرے سوا سمجھتا ہے

سمجھے میرا بھی تو مرض وہ جو
خود کو نبض آشنا سمجھتا ہے

اس کی باتوں میں آ گیا کیسے
تو تو اچھا برا سمجھتا ہے

جس کو جینے کا فن نہیں آتا
زندگی کو سزا سمجھتا ہے

کیسے جیتے ہیں دوسروں کے لیے
پیڑ،سورج ، دیا سمجھتا ہے

لاکھ کہتا رہوں کہ میرا ہے
خود کو دل آپ کا سمجھتا ہے

محمد یوسف شاکرؔ

مکرمی یوسف صاحب: سلام عرض ہے!
صاحب! غزل پڑھ کر مزا آگیا۔ سادہ زبان، سادہ بیان اور مضامیں دلکش اور کام کے۔ باتوں باتوں میں آپ بڑے پتے کی باتیں کہہ گئے ہیں۔ اگر ان باتوں کو آدمی سمجھ لے اور ان پر عمل بھی کرے تو کیا ہی کہنے۔ لیکن ظاہر ہے کہ ایسی امید رکھنا شاید بیسود ہے۔ سب اشعار اچھے ہیں۔ قبلہ جناب وی بی جی تبصرہ کر ہی چکے ہیں۔ ان  کے بعد میں کیا لکھوں۔ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ۔ میری دلی داد حاضر ہے۔ آپ کا یہ شعر مجھ کو بہت پسند آیا:
جس کو جینے کا فن نہیں آتا
زندگی کو سزا سمجھتا ہے
ہندوستان کے مشہور (اور اب مرحوم) شاعر جناب کلیم احمد عاجز صاحب کا یہ شعر بے اختیار یاد آگیا:
بات چاہے بے سلیقہ ہو کلیم
بات کہنے کا سلیقہ چاہئے!
آپ کا شعر اسی رنگ میں ڈھلا ہوا ہے۔ ماشااللہ۔
آپ کا آخری شعر معلوم نہیں مقطع میں ڈھلنے سے کیسے رہ گیا۔ کیا اس کو یوں کہہ سکتے ہیں؟
لاکھ یوسف کہے کہ میرا ہے
خود کو دل آپ کا سمجھتا ہے
میری ناچیز رائے میں شعر اس مقطع کی شکل میں برا نہیں ہے۔ یوں آپ یقینا بہتر سمجھتے ہیں۔

خادم ؛ مشیر شمسی



غیرحاضر BANDA E NACHEEZ

  • Adab Dost
  • ***
  • تحریریں: 609
جواب: جانے خود کو وہ کیا سمجھتا ہے
« Reply #3 بروز: فروری 27, 2018, 09:58:46 صبح »

احباب کی بصارتوں کی نذر ایک غزل

ہر کسی سے جدا سمجھتا ہے
جانے خود کو وہ کیا سمجھتا ہے

اک ذرا اختیار ملنے پر
خود کو انساں خدا سمجھتا ہے

میرے اندر کا دکھ مرے مالک
کون تیرے سوا سمجھتا ہے

سمجھے میرا بھی تو مرض وہ جو
خود کو نبض آشنا سمجھتا ہے

اس کی باتوں میں آ گیا کیسے
تو تو اچھا برا سمجھتا ہے

جس کو جینے کا فن نہیں آتا
زندگی کو سزا سمجھتا ہے

کیسے جیتے ہیں دوسروں کے لیے
پیڑ،سورج ، دیا سمجھتا ہے

لاکھ کہتا رہوں کہ میرا ہے
خود کو دل آپ کا سمجھتا ہے

محمد یوسف شاکرؔ


محترم جناب محمد یوسف شاکرؔ صاحب! السلام علیکم

بُہت اچھے جناب۔ کیا ہی بات ہے۔ چھوٹی بحر اور پھر اتنی صاف ستھری سی غزل۔ بھرپور داد قبول کیجے۔

غزل کے بیش تر اشعار بُہت سادہ اور اچھے ہیں۔ یہ مشکل کام ہے۔ دیکھنے میں گویا سادہ سی بات سادہ سے الفاظ لیکن ایسے اشعار لانا آسان نہیں۔ اس میں سے آپ کی محنت جھلک رہی ہے۔

ایک دو باتیں اپنی سمجھ کے حساب سے عرض کئیے دیتے ہیں۔ امید ہے کہ بُرا نہ منائیں گے۔

سمجھے میرا بھی تو مرض وہ جو
خود کو نبض آشنا سمجھتا ہے

شعر تو ٹھیک ہے البتہ اس کا پہلا مصرعہ بہتر کرنے کی بُہت گنجائش رکھتا ہے۔

کیسے جیتے ہیں دوسروں کے لیے
پیڑ،سورج ، دیا سمجھتا ہے

مندرجہ بالا شعر کو جس طرح ہم سمجھ رہے ہیں اس حساب سے :سمجھتا ہے: کی بجائے :سمجھتے ہیں: ہونا چاہئیے۔ باقی آپ بہتر سمجھتے ہیں۔

لیکن جناب پھر بھی غزل بُہت شاندار ہے۔ ایک بار پھر بھرپور داد قبول کیجے

دُعا گو



محترم و مکرم وی۔بی جی ۔وعلیکم السّلام

غزل پر آپکی رائے دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا
میری ہر غزل آپکی ماہرانہ رائے کی مںتظر ہوتی ہے۔ آپ نے ناچیز کی غزل کو پسند فرمایا ۔اس عزت افزائی کا بیحد شکریہ
سمجھے میرا بھی تو مرض وہ جو
خود کو نبض آشنا سمجھتا ہے

مصرع اولیٰ واقعی بہتری کی گنجائش رکھتا ہے ۔ متفق

پیڑ،سورج ،دیا سمجھتے ہیں

کیا بات ہے آپکی عمیق نظری کی آپکی اردو گرامر کی۔بہت جئیں

والسلام


غیرحاضر BANDA E NACHEEZ

  • Adab Dost
  • ***
  • تحریریں: 609
جواب: جانے خود کو وہ کیا سمجھتا ہے
« Reply #4 بروز: فروری 27, 2018, 10:09:22 صبح »

احباب کی بصارتوں کی نذر ایک غزل

ہر کسی سے جدا سمجھتا ہے
جانے خود کو وہ کیا سمجھتا ہے

اک ذرا اختیار ملنے پر
خود کو انساں خدا سمجھتا ہے

میرے اندر کا دکھ مرے مالک
کون تیرے سوا سمجھتا ہے

سمجھے میرا بھی تو مرض وہ جو
خود کو نبض آشنا سمجھتا ہے

اس کی باتوں میں آ گیا کیسے
تو تو اچھا برا سمجھتا ہے

جس کو جینے کا فن نہیں آتا
زندگی کو سزا سمجھتا ہے

کیسے جیتے ہیں دوسروں کے لیے
پیڑ،سورج ، دیا سمجھتا ہے

لاکھ کہتا رہوں کہ میرا ہے
خود کو دل آپ کا سمجھتا ہے

محمد یوسف شاکرؔ

مکرمی یوسف صاحب: سلام عرض ہے!
صاحب! غزل پڑھ کر مزا آگیا۔ سادہ زبان، سادہ بیان اور مضامیں دلکش اور کام کے۔ باتوں باتوں میں آپ بڑے پتے کی باتیں کہہ گئے ہیں۔ اگر ان باتوں کو آدمی سمجھ لے اور ان پر عمل بھی کرے تو کیا ہی کہنے۔ لیکن ظاہر ہے کہ ایسی امید رکھنا شاید بیسود ہے۔ سب اشعار اچھے ہیں۔ قبلہ جناب وی بی جی تبصرہ کر ہی چکے ہیں۔ ان  کے بعد میں کیا لکھوں۔ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ۔ میری دلی داد حاضر ہے۔ آپ کا یہ شعر مجھ کو بہت پسند آیا:
جس کو جینے کا فن نہیں آتا
زندگی کو سزا سمجھتا ہے
ہندوستان کے مشہور (اور اب مرحوم) شاعر جناب کلیم احمد عاجز صاحب کا یہ شعر بے اختیار یاد آگیا:
بات چاہے بے سلیقہ ہو کلیم
بات کہنے کا سلیقہ چاہئے!
آپ کا شعر اسی رنگ میں ڈھلا ہوا ہے۔ ماشااللہ۔
آپ کا آخری شعر معلوم نہیں مقطع میں ڈھلنے سے کیسے رہ گیا۔ کیا اس کو یوں کہہ سکتے ہیں؟
لاکھ یوسف کہے کہ میرا ہے
خود کو دل آپ کا سمجھتا ہے
میری ناچیز رائے میں شعر اس مقطع کی شکل میں برا نہیں ہے۔ یوں آپ یقینا بہتر سمجھتے ہیں۔

خادم ؛ شمسی
مکرمی مشیر شمسی صاحب۔وعلیکم السّلام

آپ کا دلی شکریہ کہ غزل پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔بہت خوشی ہوئی کہ آپکو غزل پسند آئی۔اس حوصلہ افزائی اور عزت افزائی کا بہت ممنون ہوں ۔
اور کیا ہی خوبصورت تجویز دی ہے مقطع کے لیے۔ ماشاءاللہ

تخلص اب میں شاکرؔ استعمال کرتا ہوں

بہت خوش رہیں
والسلام


 

Copyright © اُردو انجمن