اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: Rafaqat nahin Ghazal  (پڑھا گیا 284 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر nawaz

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 431
Rafaqat nahin Ghazal
« بروز: فروری 18, 2018, 04:02:13 صبح »
محترم اراکین و احبابِ انجمن السلام ُ علیکم

آپ حضرات سے غزل پر بھر پور تبصرہ اورتنقید کا
متمنّی ہوں۔۔۔ محترمہ مہر افروز صاحبہ  جو بہت لگن سے
عروض کی شب ظُلمات میں بادیہٗ پیمایٗ کررہی ہیں سے بھی اس
غزل کے عروضی نکات کی خامیوں کی نشاندہی کی  درخواست ہے

دُکھا کے مِرا دل ندامت نہیں ہے
ذرا تجھ میں اب آدمیت نہیں ہے

اگر جمع دَھن وہ کرے زندگی بھر
جہاں میں بشر کو قناعت نہیں ہے

پریشاں اگر اک ذرا بات میں ہو
فراست بصیرت میں وسعت نہیں ہے

چَلا تیر اب جس قدر تو چَلائے
کہ زخموں کے گننے کی فرصت نہیں ہے

کبھی غیر کی چال چلنا یہ اپنے
تمدن کی کوئی حفاظت نہیں ہے

نواز آج جلوہ نمائی کو وہ آئے
کہ تیری تو جن سے رفاقت نہیں ہے



غیرحاضر Afroz Mehr

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 281
جواب: Rafaqat nahin Ghazal
« Reply #1 بروز: فروری 21, 2018, 01:43:29 شام »

مکرمی جناب نواز صاحب: سلام علیکم
گھر کی مصروفیات سے فرصت ملتی ہے تو کتابوں کا یا پھر یہاں کا رخ کرتی ہوں۔ آپ کی غزل پر احباب نے اب تک کچھ نہیں لکھا ہے۔ اردو محفلوں میں لکھنے والوں کی عام طور پر اور اپنا فرض منصبی جان کر ادب وشعر کی پرورش کی خاطر قلم اٹھانے والوں کی خاص طور پر شدید قلت ہے۔ اگر لوگ دوسروں کا دل رکھنے یا بڑھانے کے لئے ہی دو چار الفاظ لکھ دیا کریں تو یہ مسئلہ بڑی حد تک حل ہوسکتا ہے لیکن اہل اردو کی خود پرستی ان کے ساتھ ان کی زبان کوبھی لے ڈوبے گی، ایسا مجھ کو دکھائی دیتا ہے۔ اللہ اکبر!
آپ نے میرے عروض کے مطالعہ کے حوالے سے لکھنے کا حکم دیا ہے۔ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ! ابھی سیکھ ہی رہی ہوں۔ لکھنے کی جتنی استعداد ہے سب پر ظاہر ہے۔ شاید مرزا غالب نے ایسے ہی وقت کے لئے کہا تھا کہ :
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق
آدمی کوئی  ہمارا  دم  تحریر   بھی    تھا؟
آپ کا کلام میں دیکھ چکی ہوں۔ اس کے مقابلے میں یہ غزل مجھ کو بہت خشک اور سپاٹ نظر آئی۔ خدا جانے آپ نے ایسا "دفتری" لب ولہجہ کیوں اختیار کیا ہے کہ اشعارسے تغزل اور شعریت تقریبا نا پید ہو کر رہ گئی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ میری نا تجربہ کاری کا نتیجہ ہو۔ اپنی کم فہمی کے لئے معذرت خواہ ہوں۔
آپ کی غزل میں چند مقامات پر مجھ کو تامل ہوا۔ سو آپ سے پوچھ رہی ہوں۔ امید ہے وضاحت سے سرفراز فرمائیں گے۔ شکریہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دُکھا کے مِرا دل ندامت نہیں ہے
ذرا تجھ میں اب آدمیت نہیں ہے

اگر جمع دَھن وہ کرے زندگی بھر
جہاں میں بشر کو قناعت نہیں ہے

پریشاں اگر اک ذرا بات میں ہو
فراست بصیرت میں وسعت نہیں ہے
یہ اشعار اچھے ہیں البتہ بے مزا بھی ہیں۔ ایک مبتدی کی بات کا برا نہ مانئے گا اور گستاخی کومعاف کردیجئے ۔
چَلا تیر اب جس قدر تو چَلائے
کہ زخموں کے گننے کی فرصت نہیں ہے
اول تو "کہ" بھرتی کا لگا اوردوسرے یہ کہ آپ کو فرصت نہیں ہے یا طاقت نہیں ہے؟
کبھی غیر کی چال چلنا یہ اپنے
تمدن کی کوئی حفاظت نہیں ہے
یہ شعر مجھ کو کھٹکا کیونکہ آپ نے "اپنے" اور تمدن" کو مختلف مصرعوں میں بانٹ کر بیان میں نقص پیدا کردیا ہے۔ مجھ کو معلوم نہیں کہ یہ کوئی عیب ہے یا نہیں لیکن پڑھنے میں عجیب سا تو ضرور لگتا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟
نواز آج جلوہ نمائی کو وہ آئے
کہ تیری تو جن سے رفاقت نہیں ہے
گستاخی معاف لیکن پہلا مصرع مجھ کو بے وزن لگ رہا ہے۔ غزل کی بحر ہے : فعولن فعولن فعولن فعولن  اور مصرع اس وزن میں پورا نہیں اترتا ہے۔

مہر افروز



[/font]

غیرحاضر nawaz

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 431
جواب: Rafaqat nahin Ghazal
« Reply #2 بروز: فروری 22, 2018, 02:32:39 صبح »
محترمہ مہر افروز صاحبہ سلامِ مسنون

انتہائی ممنون ہوں آپ نے غزل پر اپنے علمی اور عروضی تجربے کی روشنی
میں اپنی صائب رائے سے نوازا،
دراصل انجمن میں کلام لگانے کا مقصد یہی ہے کہ سیکھنے سکھانےکا عمل جاری
رہے ورنہ اپنے کلام  پر خود مِیاں مِٹّھو بننے کا کیا فائدہ؟

جہاں تک سخن پَروَری کے میدان میں قلم اُٹھانے والوں کی قلت شکوہ بجا ہے
مگر آج کا انسان کمپیوٹر میں فیڈ  کرتاہے لمحہ میں  کیا حکم ہے میرےآقا سامنے
جواب حا ضر شاعری کے تخیل تغزل کے جھنجٹ میں کون پڑے کیونکہ ایک عمر
چاہئے اس دشت کی سیاحی میں  میر تقی میر فرما گئے ؛

  ع   یہی جانا کہ کچھ  نہیں جانا
      یہ بھی اک عمر میں ہوا معلوم

آپ نے شعر،،، چَلا تیراب جس قدر تو چَلائے
                    کہ زخموں کے گننےکی فرصت نہیں ہے

یہاں یہ تاثر دینا چاہتا ہوں صرف تیرے تیرنہیں بلکہ ظالم
زمانہ بھی بھالےمار رہا ہے  ہر طرف مصروف  ہوں ویسے طاقت
قافیہ بھی مناسب معنی دےرہا ہے۔۔

مقطع کا پہلا مصرع بے وزن ہے  اصلاح کرلوں گا

سدا خوش رہئے    دعاگو        نواز

غیرحاضر vb jee

  • Adab Fehm
  • ****
  • تحریریں: 1273
  • جنس: مرد
جواب: Rafaqat nahin Ghazal
« Reply #3 بروز: فروری 26, 2018, 02:20:35 صبح »

مکرمی جناب نواز صاحب: سلام علیکم
گھر کی مصروفیات سے فرصت ملتی ہے تو کتابوں کا یا پھر یہاں کا رخ کرتی ہوں۔ آپ کی غزل پر احباب نے اب تک کچھ نہیں لکھا ہے۔ اردو محفلوں میں لکھنے والوں کی عام طور پر اور اپنا فرض منصبی جان کر ادب وشعر کی پرورش کی خاطر قلم اٹھانے والوں کی خاص طور پر شدید قلت ہے۔ اگر لوگ دوسروں کا دل رکھنے یا بڑھانے کے لئے ہی دو چار الفاظ لکھ دیا کریں تو یہ مسئلہ بڑی حد تک حل ہوسکتا ہے لیکن اہل اردو کی خود پرستی ان کے ساتھ ان کی زبان کوبھی لے ڈوبے گی، ایسا مجھ کو دکھائی دیتا ہے۔ اللہ اکبر!
آپ نے میرے عروض کے مطالعہ کے حوالے سے لکھنے کا حکم دیا ہے۔ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ! ابھی سیکھ ہی رہی ہوں۔ لکھنے کی جتنی استعداد ہے سب پر ظاہر ہے۔ شاید مرزا غالب نے ایسے ہی وقت کے لئے کہا تھا کہ :
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق
آدمی کوئی  ہمارا  دم  تحریر   بھی    تھا؟
آپ کا کلام میں دیکھ چکی ہوں۔ اس کے مقابلے میں یہ غزل مجھ کو بہت خشک اور سپاٹ نظر آئی۔ خدا جانے آپ نے ایسا "دفتری" لب ولہجہ کیوں اختیار کیا ہے کہ اشعارسے تغزل اور شعریت تقریبا نا پید ہو کر رہ گئی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ میری نا تجربہ کاری کا نتیجہ ہو۔ اپنی کم فہمی کے لئے معذرت خواہ ہوں۔
آپ کی غزل میں چند مقامات پر مجھ کو تامل ہوا۔ سو آپ سے پوچھ رہی ہوں۔ امید ہے وضاحت سے سرفراز فرمائیں گے۔ شکریہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دُکھا کے مِرا دل ندامت نہیں ہے
ذرا تجھ میں اب آدمیت نہیں ہے

اگر جمع دَھن وہ کرے زندگی بھر
جہاں میں بشر کو قناعت نہیں ہے

پریشاں اگر اک ذرا بات میں ہو
فراست بصیرت میں وسعت نہیں ہے
یہ اشعار اچھے ہیں البتہ بے مزا بھی ہیں۔ ایک مبتدی کی بات کا برا نہ مانئے گا اور گستاخی کومعاف کردیجئے ۔
چَلا تیر اب جس قدر تو چَلائے
کہ زخموں کے گننے کی فرصت نہیں ہے
اول تو "کہ" بھرتی کا لگا اوردوسرے یہ کہ آپ کو فرصت نہیں ہے یا طاقت نہیں ہے؟
کبھی غیر کی چال چلنا یہ اپنے
تمدن کی کوئی حفاظت نہیں ہے
یہ شعر مجھ کو کھٹکا کیونکہ آپ نے "اپنے" اور تمدن" کو مختلف مصرعوں میں بانٹ کر بیان میں نقص پیدا کردیا ہے۔ مجھ کو معلوم نہیں کہ یہ کوئی عیب ہے یا نہیں لیکن پڑھنے میں عجیب سا تو ضرور لگتا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟
نواز آج جلوہ نمائی کو وہ آئے
کہ تیری تو جن سے رفاقت نہیں ہے
گستاخی معاف لیکن پہلا مصرع مجھ کو بے وزن لگ رہا ہے۔ غزل کی بحر ہے : فعولن فعولن فعولن فعولن  اور مصرع اس وزن میں پورا نہیں اترتا ہے۔

مہر افروز



[/font]


محترمہ مہر افروز صاحبہ! السلام علیکم

آپ نے فرمایا ہے کہ درجِ ذیل مصرعہ وزن میں نہیں ہے

؎ نواز آج جلوہ نمائی کو وہ آئے

یہاں ہمیں محسوس ہو رہا ہے کہ ہمیں یا پھر آپ کو تصحیح کی ضرورت ہے، کیونکہ ہمیں مصرعہ وزن میں ہی لگ رہا ہے۔

مصرعہ کی تقطیع :فعولن فعولن فعولن فعولان: پر ہو گی اور ہمارے علم میں تو یہی ہے کہ ہر بحر کے آخر میں ایک ساکن کے اضافہ کی اجازت ہوتی ہے۔

:ئے: کے اس طرح کے استعمال کی مثالیں


دُور دُنیا کا مِرے دم سے اندھیرا ہو جائے
ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے (اقبال)

کہتے تو ہو تم سب کہ بُتِ غالیہ منہ آئے
یک مرتبہ گھبرا کے کہو کوئی کہ وہ آئے (غالب)


ہم اگر سمجھنے میں کُچھ غلطی کر رہے ہیں تو بھی امید ہے کہ رہنمائی فرمائیں گی۔


دُعا گو


گنگناتی رهے گی انھیں تو سدا
اتنے نغمے تِرے نام کر جائیں گے

غیرحاضر Afroz Mehr

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 281
جواب: Rafaqat nahin Ghazal
« Reply #4 بروز: فروری 26, 2018, 06:48:32 شام »

مکرمی جناب نواز صاحب: سلام علیکم
گھر کی مصروفیات سے فرصت ملتی ہے تو کتابوں کا یا پھر یہاں کا رخ کرتی ہوں۔ آپ کی غزل پر احباب نے اب تک کچھ نہیں لکھا ہے۔ اردو محفلوں میں لکھنے والوں کی عام طور پر اور اپنا فرض منصبی جان کر ادب وشعر کی پرورش کی خاطر قلم اٹھانے والوں کی خاص طور پر شدید قلت ہے۔ اگر لوگ دوسروں کا دل رکھنے یا بڑھانے کے لئے ہی دو چار الفاظ لکھ دیا کریں تو یہ مسئلہ بڑی حد تک حل ہوسکتا ہے لیکن اہل اردو کی خود پرستی ان کے ساتھ ان کی زبان کوبھی لے ڈوبے گی، ایسا مجھ کو دکھائی دیتا ہے۔ اللہ اکبر!
آپ نے میرے عروض کے مطالعہ کے حوالے سے لکھنے کا حکم دیا ہے۔ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ! ابھی سیکھ ہی رہی ہوں۔ لکھنے کی جتنی استعداد ہے سب پر ظاہر ہے۔ شاید مرزا غالب نے ایسے ہی وقت کے لئے کہا تھا کہ :
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق
آدمی کوئی  ہمارا  دم  تحریر   بھی    تھا؟
آپ کا کلام میں دیکھ چکی ہوں۔ اس کے مقابلے میں یہ غزل مجھ کو بہت خشک اور سپاٹ نظر آئی۔ خدا جانے آپ نے ایسا "دفتری" لب ولہجہ کیوں اختیار کیا ہے کہ اشعارسے تغزل اور شعریت تقریبا نا پید ہو کر رہ گئی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ میری نا تجربہ کاری کا نتیجہ ہو۔ اپنی کم فہمی کے لئے معذرت خواہ ہوں۔
آپ کی غزل میں چند مقامات پر مجھ کو تامل ہوا۔ سو آپ سے پوچھ رہی ہوں۔ امید ہے وضاحت سے سرفراز فرمائیں گے۔ شکریہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دُکھا کے مِرا دل ندامت نہیں ہے
ذرا تجھ میں اب آدمیت نہیں ہے

اگر جمع دَھن وہ کرے زندگی بھر
جہاں میں بشر کو قناعت نہیں ہے

پریشاں اگر اک ذرا بات میں ہو
فراست بصیرت میں وسعت نہیں ہے
یہ اشعار اچھے ہیں البتہ بے مزا بھی ہیں۔ ایک مبتدی کی بات کا برا نہ مانئے گا اور گستاخی کومعاف کردیجئے ۔
چَلا تیر اب جس قدر تو چَلائے
کہ زخموں کے گننے کی فرصت نہیں ہے
اول تو "کہ" بھرتی کا لگا اوردوسرے یہ کہ آپ کو فرصت نہیں ہے یا طاقت نہیں ہے؟
کبھی غیر کی چال چلنا یہ اپنے
تمدن کی کوئی حفاظت نہیں ہے
یہ شعر مجھ کو کھٹکا کیونکہ آپ نے "اپنے" اور تمدن" کو مختلف مصرعوں میں بانٹ کر بیان میں نقص پیدا کردیا ہے۔ مجھ کو معلوم نہیں کہ یہ کوئی عیب ہے یا نہیں لیکن پڑھنے میں عجیب سا تو ضرور لگتا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟
نواز آج جلوہ نمائی کو وہ آئے
کہ تیری تو جن سے رفاقت نہیں ہے
گستاخی معاف لیکن پہلا مصرع مجھ کو بے وزن لگ رہا ہے۔ غزل کی بحر ہے : فعولن فعولن فعولن فعولن  اور مصرع اس وزن میں پورا نہیں اترتا ہے۔

مہر افروز



[/font]


محترمہ مہر افروز صاحبہ! السلام علیکم

آپ نے فرمایا ہے کہ درجِ ذیل مصرعہ وزن میں نہیں ہے

؎ نواز آج جلوہ نمائی کو وہ آئے

یہاں ہمیں محسوس ہو رہا ہے کہ ہمیں یا پھر آپ کو تصحیح کی ضرورت ہے، کیونکہ ہمیں مصرعہ وزن میں ہی لگ رہا ہے۔

مصرعہ کی تقطیع :فعولن فعولن فعولن فعولان: پر ہو گی اور ہمارے علم میں تو یہی ہے کہ ہر بحر کے آخر میں ایک ساکن کے اضافہ کی اجازت ہوتی ہے۔

:ئے: کے اس طرح کے استعمال کی مثالیں


دُور دُنیا کا مِرے دم سے اندھیرا ہو جائے
ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے (اقبال)

کہتے تو ہو تم سب کہ بُتِ غالیہ منہ آئے
یک مرتبہ گھبرا کے کہو کوئی کہ وہ آئے (غالب)


ہم اگر سمجھنے میں کُچھ غلطی کر رہے ہیں تو بھی امید ہے کہ رہنمائی فرمائیں گی۔


دُعا گو



مکرمی جناب وی بی جی: سلام علیکم
آپ کے خط کے لئے میں تہ دل سے ممنون ہوں۔ یہ آپ کی نوازش ہے کہ ہر موقع پر اپنے علم وتجربہ سے استفادہ کا موقع عنایت کرتے ہیں۔ جزاک اللہ خیرا۔
اس غزل کا وزن (جیسا کہ آپ بخوبی واقف ہیں) ہے : فعولن فعولن فعولن فعولن
دکھا کر مرا دل ندامت نہیں ہے
د کا کر (فعولن)، م را دل(فعولن)، ن دا مت (فعولن)، ن ہی ہے (فعولن)
ذرا تجھ میں اب آدمیت نہیں ہے
ذ را تج (فعولن)، م اب آ (فعولن)، د می یت (فعولن)، ن ہی ہے (فعولن)
اس صورت پر یہ مصرع دیکھیں:
نواز آج جلوہ نمائی کو وہ آئے
ن وا زا (فعولن)، ج جل وہ (فعولن)، ن ما ئی (فعولن)، ۔۔۔۔۔
یہاں تک چل کر میری گاڑی اٹک گئی کیونکہ "کو وہ آئے"  کو فعولن یا فعولان (میں اس نکتہ سے واقف تھی) سے مطابقت دینے کے لئے :کو: کی و کو گرانا پڑتا ہے اور میں نہیں سمجھتی کہ مصرع کی ادائیگی اس کا تقاضا کررہی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اگر ایسا کیا جائے تو مصرع خبط ہو جاتا ہے۔ میں عروض سیکھ رہی ہوں۔ اگر میں غلطی پر ہوں تو میری اصلاح کر دیجئے۔ ممنون ہوں گی۔ آپ کی دی ہوئی مثالوں میں مجھ کو یہ صورت نظر نہیں آئی۔

مہر افروز



غیرحاضر vb jee

  • Adab Fehm
  • ****
  • تحریریں: 1273
  • جنس: مرد
جواب: Rafaqat nahin Ghazal
« Reply #5 بروز: فروری 27, 2018, 12:55:34 صبح »

مکرمی جناب نواز صاحب: سلام علیکم
گھر کی مصروفیات سے فرصت ملتی ہے تو کتابوں کا یا پھر یہاں کا رخ کرتی ہوں۔ آپ کی غزل پر احباب نے اب تک کچھ نہیں لکھا ہے۔ اردو محفلوں میں لکھنے والوں کی عام طور پر اور اپنا فرض منصبی جان کر ادب وشعر کی پرورش کی خاطر قلم اٹھانے والوں کی خاص طور پر شدید قلت ہے۔ اگر لوگ دوسروں کا دل رکھنے یا بڑھانے کے لئے ہی دو چار الفاظ لکھ دیا کریں تو یہ مسئلہ بڑی حد تک حل ہوسکتا ہے لیکن اہل اردو کی خود پرستی ان کے ساتھ ان کی زبان کوبھی لے ڈوبے گی، ایسا مجھ کو دکھائی دیتا ہے۔ اللہ اکبر!
آپ نے میرے عروض کے مطالعہ کے حوالے سے لکھنے کا حکم دیا ہے۔ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ! ابھی سیکھ ہی رہی ہوں۔ لکھنے کی جتنی استعداد ہے سب پر ظاہر ہے۔ شاید مرزا غالب نے ایسے ہی وقت کے لئے کہا تھا کہ :
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق
آدمی کوئی  ہمارا  دم  تحریر   بھی    تھا؟
آپ کا کلام میں دیکھ چکی ہوں۔ اس کے مقابلے میں یہ غزل مجھ کو بہت خشک اور سپاٹ نظر آئی۔ خدا جانے آپ نے ایسا "دفتری" لب ولہجہ کیوں اختیار کیا ہے کہ اشعارسے تغزل اور شعریت تقریبا نا پید ہو کر رہ گئی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ میری نا تجربہ کاری کا نتیجہ ہو۔ اپنی کم فہمی کے لئے معذرت خواہ ہوں۔
آپ کی غزل میں چند مقامات پر مجھ کو تامل ہوا۔ سو آپ سے پوچھ رہی ہوں۔ امید ہے وضاحت سے سرفراز فرمائیں گے۔ شکریہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دُکھا کے مِرا دل ندامت نہیں ہے
ذرا تجھ میں اب آدمیت نہیں ہے

اگر جمع دَھن وہ کرے زندگی بھر
جہاں میں بشر کو قناعت نہیں ہے

پریشاں اگر اک ذرا بات میں ہو
فراست بصیرت میں وسعت نہیں ہے
یہ اشعار اچھے ہیں البتہ بے مزا بھی ہیں۔ ایک مبتدی کی بات کا برا نہ مانئے گا اور گستاخی کومعاف کردیجئے ۔
چَلا تیر اب جس قدر تو چَلائے
کہ زخموں کے گننے کی فرصت نہیں ہے
اول تو "کہ" بھرتی کا لگا اوردوسرے یہ کہ آپ کو فرصت نہیں ہے یا طاقت نہیں ہے؟
کبھی غیر کی چال چلنا یہ اپنے
تمدن کی کوئی حفاظت نہیں ہے
یہ شعر مجھ کو کھٹکا کیونکہ آپ نے "اپنے" اور تمدن" کو مختلف مصرعوں میں بانٹ کر بیان میں نقص پیدا کردیا ہے۔ مجھ کو معلوم نہیں کہ یہ کوئی عیب ہے یا نہیں لیکن پڑھنے میں عجیب سا تو ضرور لگتا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟
نواز آج جلوہ نمائی کو وہ آئے
کہ تیری تو جن سے رفاقت نہیں ہے
گستاخی معاف لیکن پہلا مصرع مجھ کو بے وزن لگ رہا ہے۔ غزل کی بحر ہے : فعولن فعولن فعولن فعولن  اور مصرع اس وزن میں پورا نہیں اترتا ہے۔

مہر افروز



[/font]


محترمہ مہر افروز صاحبہ! السلام علیکم

آپ نے فرمایا ہے کہ درجِ ذیل مصرعہ وزن میں نہیں ہے

؎ نواز آج جلوہ نمائی کو وہ آئے

یہاں ہمیں محسوس ہو رہا ہے کہ ہمیں یا پھر آپ کو تصحیح کی ضرورت ہے، کیونکہ ہمیں مصرعہ وزن میں ہی لگ رہا ہے۔

مصرعہ کی تقطیع :فعولن فعولن فعولن فعولان: پر ہو گی اور ہمارے علم میں تو یہی ہے کہ ہر بحر کے آخر میں ایک ساکن کے اضافہ کی اجازت ہوتی ہے۔

:ئے: کے اس طرح کے استعمال کی مثالیں


دُور دُنیا کا مِرے دم سے اندھیرا ہو جائے
ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے (اقبال)

کہتے تو ہو تم سب کہ بُتِ غالیہ منہ آئے
یک مرتبہ گھبرا کے کہو کوئی کہ وہ آئے (غالب)


ہم اگر سمجھنے میں کُچھ غلطی کر رہے ہیں تو بھی امید ہے کہ رہنمائی فرمائیں گی۔


دُعا گو



مکرمی جناب وی بی جی: سلام علیکم
آپ کے خط کے لئے میں تہ دل سے ممنون ہوں۔ یہ آپ کی نوازش ہے کہ ہر موقع پر اپنے علم وتجربہ سے استفادہ کا موقع عنایت کرتے ہیں۔ جزاک اللہ خیرا۔
اس غزل کا وزن (جیسا کہ آپ بخوبی واقف ہیں) ہے : فعولن فعولن فعولن فعولن
دکھا کر مرا دل ندامت نہیں ہے
د کا کر (فعولن)، م را دل(فعولن)، ن دا مت (فعولن)، ن ہی ہے (فعولن)
ذرا تجھ میں اب آدمیت نہیں ہے
ذ را تج (فعولن)، م اب آ (فعولن)، د می یت (فعولن)، ن ہی ہے (فعولن)
اس صورت پر یہ مصرع دیکھیں:
نواز آج جلوہ نمائی کو وہ آئے
ن وا زا (فعولن)، ج جل وہ (فعولن)، ن ما ئی (فعولن)، ۔۔۔۔۔
یہاں تک چل کر میری گاڑی اٹک گئی کیونکہ "کو وہ آئے"  کو فعولن یا فعولان (میں اس نکتہ سے واقف تھی) سے مطابقت دینے کے لئے :کو: کی و کو گرانا پڑتا ہے اور میں نہیں سمجھتی کہ مصرع کی ادائیگی اس کا تقاضا کررہی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اگر ایسا کیا جائے تو مصرع خبط ہو جاتا ہے۔ میں عروض سیکھ رہی ہوں۔ اگر میں غلطی پر ہوں تو میری اصلاح کر دیجئے۔ ممنون ہوں گی۔ آپ کی دی ہوئی مثالوں میں مجھ کو یہ صورت نظر نہیں آئی۔

مہر افروز





محترمہ مہر افروز صاحبہ! السلام علیکم

آپ کی بات بجا ہے۔ ہم معزرت خواہ ہیں کہ ایسا سمجھ بیٹھے گویا مسئلہ مصرعہ کے اختتام میں موجود :ئے: کی وجہ سے پیدا ہو رہا ہے۔ جس کی وجہ سے مثالیں بھی اسی کی دیں۔ آپ کا شکریہ کہ تحمل سے کام لیا اور ناراض ہونے کی بجائے، رہنمائی بھی فرمائی اور حوصلہ افزائی بھی :)

ایک بار پھر شکریہ کے ساتھ

دُعا گو

گنگناتی رهے گی انھیں تو سدا
اتنے نغمے تِرے نام کر جائیں گے

غیرحاضر nawaz

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 431
جواب: Rafaqat nahin Ghazal
« Reply #6 بروز: فروری 27, 2018, 02:37:13 صبح »
محترمہ  مہر افروز اور محترم وی بی جی سلامِ مسنون

بات ہورہی میرے مقطع کے مصرعِ اول کے وزن کے سلسلہ میں

ع  نواز ٓآج جلوہ نمائی کو وہ ٓآ ئے

حوالہ:  خواجہ محمد عبدالروٗف عشرت اپنی کتاب شاعری کی کتاب میں
ایک جگہ تقطیع کے باب میں لکھتے ہیں  ًکبھی ایسا ہوتا ہے کہ دو حرفی لفظ کے حرف ساکن
کو حرکت دیتے ہیں لیکن اُس وقت جب کسی  مبعد والے حرف کا گرانا مقصود ہو
  چل  او دل اس کا وزن مفعولن ہے لیکن او میں اول حرف الف وصل ہے اور وہ بیچ میں
واقع ہوا ہے شاعر کو اختیار ہے اسے تلفظ میں ادا کرے یا نہ کرے لیکن یہی حرف الف رکن
اول میں ہوتا یعنی  او دل چل،  تو اس کو مفعولن کے وزن پر لانا پڑتا  الف جب رکن کے اول
 میں آتا ہے تو اپسے نہیں گرا سکتے
 
یہاں میں نے اس اصول کو استعمال کیا ہے؛؛؛؛؛
مصرع۔۔۔۔ نواز آج جلوہ نمائی کو وہ آئے
            ف عولن، ف عو لن، ف عولن ، ف عولن   یہاں ئے گرا دی جیسا کے وی بی جی صاحب
 بھی رائے رکھتے ہیں ۔ نواز کو( ن وز باندھا ) ہے ؟؟؟؟
 
آپ کی رائے کا منتظر میں کہاں تک درست ہوں فرمائے
  سدا سلامت رہیں    دعا گو   نواز


ً

غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • ******
  • تحریریں: 6356
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar
جواب: Rafaqat nahin Ghazal
« Reply #7 بروز: فروری 27, 2018, 03:58:37 شام »
محترمہ  مہر افروز اور محترم وی بی جی سلامِ مسنون

بات ہورہی میرے مقطع کے مصرعِ اول کے وزن کے سلسلہ میں

ع  نواز ٓآج جلوہ نمائی کو وہ ٓآ ئے

حوالہ:  خواجہ محمد عبدالروٗف عشرت اپنی کتاب شاعری کی کتاب میں
ایک جگہ تقطیع کے باب میں لکھتے ہیں  ًکبھی ایسا ہوتا ہے کہ دو حرفی لفظ کے حرف ساکن
کو حرکت دیتے ہیں لیکن اُس وقت جب کسی  مبعد والے حرف کا گرانا مقصود ہو
  چل  او دل اس کا وزن مفعولن ہے لیکن او میں اول حرف الف وصل ہے اور وہ بیچ میں
واقع ہوا ہے شاعر کو اختیار ہے اسے تلفظ میں ادا کرے یا نہ کرے لیکن یہی حرف الف رکن
اول میں ہوتا یعنی  او دل چل،  تو اس کو مفعولن کے وزن پر لانا پڑتا  الف جب رکن کے اول
 میں آتا ہے تو اپسے نہیں گرا سکتے
 
یہاں میں نے اس اصول کو استعمال کیا ہے؛؛؛؛؛
مصرع۔۔۔۔ نواز آج جلوہ نمائی کو وہ آئے
            ف عولن، ف عو لن، ف عولن ، ف عولن   یہاں ئے گرا دی جیسا کے وی بی جی صاحب
 بھی رائے رکھتے ہیں ۔ نواز کو( ن وز باندھا ) ہے ؟؟؟؟
 
آپ کی رائے کا منتظر میں کہاں تک درست ہوں فرمائے
  سدا سلامت رہیں    دعا گو   نواز
ً


مکرم بندہ نواز صاحب: سلام علیکم
آپ احباب کی یہ دلچسپ گفتگو میں بھی پڑھ رہا ہوں اور مستفید ہو رہا ہوں۔ آپ کا خط اور سوال وی بی جی اور مہر افروز صاحبہ کے نام ہے چنانچہ میرا یہ خط "دخل در معقولات" کے کھاتے میں آتا ہے جس کے لئے معذرت خواہ ہوں۔ آپ کی وسیع القلبی کے پیش نظر لکھنے کی جراءت کر رہا ہوں۔
آپ نے جو اصول بیان کیا ہے اس کا اطلاق آپ کے نام اور تخلص پر کیسے ہو سکتا ہے یہ میری سمجھ میں نہیں آیا۔ اپ کا تخلص اور نام "نواز" ہے نہ کہ "نوز" سو نواز کو نوز ادا کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اور اگر بالفرض ایسا کر بھی سکیں تو تقطیع آپ کے خلاف "تال ٹھونک کر" سامنے آ کھڑی ہوتی ہے:
نوز آج جلوہ نمائی کو وہ آئے
ن وز آ(فعولن)، ج جل وہ (فعولن) ، ن ما ئی (فعولن)، کو وہ آئے ۔۔۔؟؟؟؟
گویا جہاں مہر افروز کی گاڑی اٹک گئی تھی وہیں پھر اٹک گئی۔ نواز کو نوز پڑھنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
مصرع کو موزوں کرنا ہے تو "وہ" کو حذف کرنا ہوگا:
نواز آج جلوہ نمائی کو آئے
ن وا زا (ف عو لن)، ج جل وہ (ف عو لن)، ن ما ئی (ف عو لن)، ک آ ئے (ف عو لن)
اب تقطیع درست ہے۔ باقی راوی سب چین بولتا ہے۔ امید ہے آپ بھی " راضی خوشی" ہوں گے۔

سرور عالم راز





غیرحاضر nawaz

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 431
جواب: Rafaqat nahin Ghazal
« Reply #8 بروز: فروری 28, 2018, 12:09:36 صبح »
محترم سرور عالم راز صاحب سلامِ مسنون

جناب آپ کی شرکت ہماری گفتگو میں دخل در معقولات نہیں بلکہ
باعث بَرَکت ہے یعنی علم میں بَرَکت سَخُن فہمی میں اضافہ، میں
ممنون ہوں کہ اپنی صائب رائے سے نوازا اور مصرع کی اصلاح
فرمائی۔۔
   ع    نوازآج جلوہ نمائی  کو آئے
شکریہ     
سدا شاد و آباد رہئے اور اسی طرح ہماری رہنمائی فرماتے رہیں   

دعا گو نواز

 

Copyright © اُردو انجمن