اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: زندگی ہے تمھاری کیا لگتی؟  (پڑھا گیا 187 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر BANDA E NACHEEZ

  • Adab Dost
  • ***
  • تحریریں: 609
زندگی ہے تمھاری کیا لگتی؟
« بروز: فروری 21, 2018, 12:34:44 شام »
السلام علیکم احباب !

غزل پر احباب کی بے لاگ رائےانتظار رہے گا



شوخ لگتی ہے بے وفا لگتی
زندگی ہے تمھاری کیا لگتی؟

چاہے دشمن زمانہ ہو جائے
میں کہوں گا مگر خدا لگتی

عشق کرنے سے تجھ کو روکا تھا
یوں نہ بستر سے آج جا لگتی

سوچتی ہے غریب کی بیٹی
میرے ہاتھوں پہ بھی حنا لگتی

کوئی پیارا جو روٹھ جائے تو
زندگانی بھی ہے خفا لگتی

اب تو سستے میں بکتا ہے ایمان
اس کی منڈی ہے جا بجا لگتی

سچ تو یہ ہے کہ تیرے جانے سے
بزم ہر اک ہے بے مزہ لگتی

میں بھی آ جاتا تیری باتوں میں
گر زمانے کی نہ ہوا لگتی

نازنیں اور بھی ہیں دنیا میں
وہ ہے سب سے مگر جدا لگتی

زندگی سے نہ پیار ہو جن کو
بد دعا ان کو ہے دعا لگتی

جب نہ ذہنی سکون ہو شاکرؔ
کب بدن کو ہے پھر غذا لگتی

محمد یوسف شاکرؔ



غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • ******
  • تحریریں: 6348
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar
جواب: زندگی ہے تمھاری کیا لگتی؟
« Reply #1 بروز: فروری 23, 2018, 06:55:58 شام »

مکرمی یوسف صاحب: سلام علیکم
آپ کی غزل دو دن ہوئے دیکھ لی تھی۔ اس انتظار میں رہا کہ کوئی اور دوست لکھے لیکن ایسا نہ ہوا۔ جواب کی تاخیر کے لئے معذرت خواہ ہوں۔ آپ کی غزل کا عام رنگ اچھا ہے۔ اس کی زمین نسبتا آسان اور سیدھی سادی ہے۔ زبان سادہ اور موثر ہے اور مضامین بھی اچھے ہیں۔ میری داد قبول کیجئے۔ ایک آدھ بات لکھ رہا ہوں تاکہ گفتگو کا سلسلہ جاری رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شوخ لگتی ہے بے وفا لگتی
زندگی ہے تمھاری کیا لگتی؟
مطلع اچھا ہے اور شوخ بھی۔ داد!
چاہے دشمن زمانہ ہو جائے
میں کہوں گا مگر خدا لگتی
اچھا کہا ہے۔ اور ہونا بھی یہی چاہئے۔ لیکن زندگی کا دستور ایسا نہیں ہے۔ سو اس کا نتیجہ بھی ایسا ہی ہے۔
عشق کرنے سے تجھ کو روکا تھا
یوں نہ بستر سے آج جا لگتی
یہ شعر پسند نہیں آیا۔ مضمون عامیانہ ہے۔ غزل میرے خیال میں کچھ اور چاہتی ہے۔ ایک بار اور غورکرنے میں ہرج نہیں ہے۔
سوچتی ہے غریب کی بیٹی
میرے ہاتھوں پہ بھی حنا لگتی

کوئی پیارا جو روٹھ جائے تو
زندگانی بھی ہے خفا لگتی

اب تو سستے میں بکتا ہے ایمان
اس کی منڈی ہے جا بجا لگتی

سچ تو یہ ہے کہ تیرے جانے سے
بزم ہر اک ہے بے مزہ لگتی
یہ سب اشعار اچھے ہیں۔ اگر آپ کوشش سے فکرکو بلند کرنے کی کوشش کریں تو بہتر ہوگا۔ سامنے کے مضامین باندھنے سے غزل بلند نہیں ہوتی ہے۔
میں بھی آ جاتا تیری باتوں میں
گر زمانے کی نہ ہوا لگتی
آپ کو زمانے اگر ہوا نہیں لگتی تو اپ بھی محبوبہ کی باتوں میں آجاتے؟ مطلب کچھ صاف نہیں ہورہا ہے۔ ایک نظر اورڈال لیجئے۔شکریہ۔
نازنیں اور بھی ہیں دنیا میں
وہ ہے سب سے مگر جدا لگتی
یہ شعر بھی عامیانہ اور معمولی لگا۔ یہ میرا خیال ہے جس سے آپ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
زندگی سے نہ پیار ہو جن کو
بد دعا ان کو ہے دعا لگتی
دوسرے مصرع سے دونوں باتیں نکلتی ہیں یعنی دعا بددعا لگتی ہے اور بددعا دعا لگتی ہے۔ اس کوصاف کرنے کی ضرورت ہے۔
جب نہ ذہنی سکون ہو شاکرؔ
کب بدن کو ہے پھر غذا لگتی
بات تو سچ ہے لیکن شعر بالکل "میڈیکل" قسم کا ہوگیا ہے۔  :)
باقی راوی سب چین بولتا ہے۔

سرورعالم راز






غیرحاضر sheharyar ahmad

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 21
جواب: زندگی ہے تمھاری کیا لگتی؟
« Reply #2 بروز: فروری 24, 2018, 05:48:15 شام »
محترم محمد یوسف شاکر صاحب،

السلام علیکم،

آپ کی غزل پر سرور صاحب نے جو تبصرہ کیا ہے اس کے بعد مزید کچھ کہنے کی گنجائش نظر نہیں آتی۔ لیکن میں صرف یہ عرض کرنے حاضر ہوا ہوں کہ مجھے چھوٹی بحر کی غزلیں مجھے بیحد پسند ہیں اور آپ کے کلام کی روانی سے صاف ظاہر ہے کہ آپ کو اس پر خوب عبور حاصل ہے۔

غزل کا مطلع، پہلا شعر، اور مقطع مجھے بہت پسند آئے۔ سرور صاحب سے معذرت کے ساتھ، آپ مقطع تبدیل مت کیجیے گا، اس کا لب و لہجہ مجھے تو بہت اچھا لگا۔
سینہ دہک رہا ہو تو کیوں چپ رہے کوئی

کیوں چیخ چیخ کر نہ گلا چھیل لے کوئی

غیرحاضر BANDA E NACHEEZ

  • Adab Dost
  • ***
  • تحریریں: 609
جواب: زندگی ہے تمھاری کیا لگتی؟
« Reply #3 بروز: فروری 27, 2018, 09:26:51 صبح »

مکرمی یوسف صاحب: سلام علیکم
آپ کی غزل دو دن ہوئے دیکھ لی تھی۔ اس انتظار میں رہا کہ کوئی اور دوست لکھے لیکن ایسا نہ ہوا۔ جواب کی تاخیر کے لئے معذرت خواہ ہوں۔ آپ کی غزل کا عام رنگ اچھا ہے۔ اس کی زمین نسبتا آسان اور سیدھی سادی ہے۔ زبان سادہ اور موثر ہے اور مضامین بھی اچھے ہیں۔ میری داد قبول کیجئے۔ ایک آدھ بات لکھ رہا ہوں تاکہ گفتگو کا سلسلہ جاری رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شوخ لگتی ہے بے وفا لگتی
زندگی ہے تمھاری کیا لگتی؟
مطلع اچھا ہے اور شوخ بھی۔ داد!
چاہے دشمن زمانہ ہو جائے
میں کہوں گا مگر خدا لگتی
اچھا کہا ہے۔ اور ہونا بھی یہی چاہئے۔ لیکن زندگی کا دستور ایسا نہیں ہے۔ سو اس کا نتیجہ بھی ایسا ہی ہے۔
عشق کرنے سے تجھ کو روکا تھا
یوں نہ بستر سے آج جا لگتی
یہ شعر پسند نہیں آیا۔ مضمون عامیانہ ہے۔ غزل میرے خیال میں کچھ اور چاہتی ہے۔ ایک بار اور غورکرنے میں ہرج نہیں ہے۔
سوچتی ہے غریب کی بیٹی
میرے ہاتھوں پہ بھی حنا لگتی

کوئی پیارا جو روٹھ جائے تو
زندگانی بھی ہے خفا لگتی

اب تو سستے میں بکتا ہے ایمان
اس کی منڈی ہے جا بجا لگتی

سچ تو یہ ہے کہ تیرے جانے سے
بزم ہر اک ہے بے مزہ لگتی
یہ سب اشعار اچھے ہیں۔ اگر آپ کوشش سے فکرکو بلند کرنے کی کوشش کریں تو بہتر ہوگا۔ سامنے کے مضامین باندھنے سے غزل بلند نہیں ہوتی ہے۔
میں بھی آ جاتا تیری باتوں میں
گر زمانے کی نہ ہوا لگتی
آپ کو زمانے اگر ہوا نہیں لگتی تو اپ بھی محبوبہ کی باتوں میں آجاتے؟ مطلب کچھ صاف نہیں ہورہا ہے۔ ایک نظر اورڈال لیجئے۔شکریہ۔
نازنیں اور بھی ہیں دنیا میں
وہ ہے سب سے مگر جدا لگتی
یہ شعر بھی عامیانہ اور معمولی لگا۔ یہ میرا خیال ہے جس سے آپ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
زندگی سے نہ پیار ہو جن کو
بد دعا ان کو ہے دعا لگتی
دوسرے مصرع سے دونوں باتیں نکلتی ہیں یعنی دعا بددعا لگتی ہے اور بددعا دعا لگتی ہے۔ اس کوصاف کرنے کی ضرورت ہے۔
جب نہ ذہنی سکون ہو شاکرؔ
کب بدن کو ہے پھر غذا لگتی
بات تو سچ ہے لیکن شعر بالکل "میڈیکل" قسم کا ہوگیا ہے۔  :)
باقی راوی سب چین بولتا ہے۔

سرورعالم راز







محترم و مکرم سرور عالم راز صاحب وعلیکم السلام
اپنی غزل پر آپکی رائے دیکھ کر دلی خوشی ہوتی ہے اور میں اسے اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں میری خواہش ہوتی ہے کہ میری ہر غزل آپکی نظر سے گزرے اور آپ اپنی بیش قیمت رائے سے نوازیں۔تاخیر بھی قبول ہی قبول ہے۔
آپکا بیحد شکریہ کہ غزل کو سراہا اور اپنی گراں قدر رائے سے نوازا۔ جن خامیوں کی طرف آپ نے توجہ دلائی ہے ان پہ مزید محنت کروں گا ان شاءاللہ
شاد و آباد رہیے


غیرحاضر BANDA E NACHEEZ

  • Adab Dost
  • ***
  • تحریریں: 609
جواب: زندگی ہے تمھاری کیا لگتی؟
« Reply #4 بروز: فروری 27, 2018, 09:45:27 صبح »
محترم محمد یوسف شاکر صاحب،

السلام علیکم،

آپ کی غزل پر سرور صاحب نے جو تبصرہ کیا ہے اس کے بعد مزید کچھ کہنے کی گنجائش نظر نہیں آتی۔ لیکن میں صرف یہ عرض کرنے حاضر ہوا ہوں کہ مجھے چھوٹی بحر کی غزلیں مجھے بیحد پسند ہیں اور آپ کے کلام کی روانی سے صاف ظاہر ہے کہ آپ کو اس پر خوب عبور حاصل ہے۔

غزل کا مطلع، پہلا شعر، اور مقطع مجھے بہت پسند آئے۔ سرور صاحب سے معذرت کے ساتھ، آپ مقطع تبدیل مت کیجیے گا، اس کا لب و لہجہ مجھے تو بہت اچھا لگا۔

مکرمی شہریار صاحب وعلیکم السّلام

غزل پر آپکی رائے کا تہہِ دل سے ممنون ہوں ۔عزت افزائی کا بیحد شکریہ۔
آئندہ بھی اپنی رائے سے نوازتے رہیے گا
شاداب رہیے
والسلام

 

Copyright © اُردو انجمن