اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: پیارے ترے فلک کا مہتاب ہم نہیں ہیں  (پڑھا گیا 188 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر K. Ashraf

  • Adab Dost
  • ***
  • تحریریں: 755
پیارے ترے فلک کا مہتاب ہم نہیں ہیں
« بروز: مارچ 12, 2018, 09:46:03 صبح »

غزل
کے اشرف

پیارے ترے فلک کا مہتاب ہم نہیں ہیں
تم دیکھتے ہو جس کے سب خواب ہم نہیں ہیں

ہم پھر رہے ہیں دل میں لے کر ہزار طوفاں
یہ حوصلہ ہے پھر بھی بے تاب ہم نہیں ہیں

برسیں گے بن کے نیساں تیرے چمن میں پل بھر
ابر بہار ہیں ہم گرداب ہم نہیں ہیں

کیوں ڈر رہے ہو ہم سے اُترو بلا تردّد
دکھتے ہیں گہرا ساگر پایاب ہم نہیں ہیں

ڈھونڈو گے تم ہمیں تو مل جائیں گے کہیں پر
اس دہر میں ابھی تک نایاب ہم نہیں ہیں

اک ہاتھ میں ہے سورج اک ہاتھ میں قمر ہے
پھر اس میں کیا تعجب برفاب ہم نہیں ہیں

******
« آخری ترمیم: مارچ 12, 2018, 11:19:42 صبح منجانب K. Ashraf »



غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • ******
  • تحریریں: 6348
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar
جواب: پیارے ترے فلک کا مہتاب ہم نہیں ہیں
« Reply #1 بروز: مارچ 12, 2018, 07:51:57 شام »

مکرم بندہ خواجہ صاحب: سلام علیکم
واہ صاحب واہ! اس غزل نے آپ کے نئے اور منفرد رنگ تغزل پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔ ہر شاعر اپنے فن کی مختلف منزلوں میں مختلف کیفیات سے گزرتا ہے اور اپنی داستان طرح طرح کے انداز بیان سے مزین کرتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آپ بھی کچھ ایسے ہی تجربے سے گزر رہے ہیں۔ بات کوئی بھی ہو لیکن غزل خوش آہنگ اور دلفریب انداز کی حامل ہے۔ میری ناچیز داد حاضر ہے۔ قبول کیجئے۔ اور اجازت دیجئے کہ دو چار باتیں مزید عرض کروں۔ شکریہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیارے ترے فلک کا مہتاب ہم نہیں ہیں
تم دیکھتے ہو جس کے سب خواب ہم نہیں ہیں
مطلع اچھا ہے اور اپنی معنی آفرینی میں بہت سے امکانات کا حامل ہے۔ پہلے مصرع میں "تیرے" اور دوسرے میں اس کے مخاطب کو "تم" لکھنے سے شعرمیں شتر گربہ پیداہوگیا ہے۔ اس کی اصلاح کر لیجئے۔ بعض اوقات شعر گوئی میں شاعر ایسا کھو جاتا ہے کہ سہوا ایسا ہو جاتا ہے۔ شعر کی داد حاضر ہے!
ہم پھر رہے ہیں دل میں لے کر ہزار طوفاں
یہ حوصلہ ہے پھر بھی بے تاب ہم نہیں ہیں

برسیں گے بن کے نیساں تیرے چمن میں پل بھر
ابر بہار ہیں ہم گرداب ہم نہیں ہیں
دونوں اشعار خوب ہیں۔ غزل کا انداز غزل مسلسل کا ہے۔ اگر آپ کے مخاطب کی شناخت ہو جاتی تو اچھا ہوتا۔ پھر بھی مخاطب کو پردہءخفا میں رکھنے سے شعر میں جو تجسس کی صورت پیدا ہوئی ہے وہ خوشگوار اور دلچسپ ہے۔ داد!
کیوں ڈر رہے ہو ہم سے اُترو بلا تردّد
دکھتے ہیں گہرا ساگر پایاب ہم نہیں ہیں
یہ شعر مجھ کو تذبذب میں ڈال گیا۔ "پایاب" کے معنی ہیں "اتھلا، جس کو آسانی سے عبور کیا جا سکے" یعنی shallow۔ اس صورت میں دوسرا مصرع کس طرح شعر کا مطلب پورا کرتا ہے؟ آپ سے وضاحت کی گزارش ہے۔ شکریہ۔
ڈھونڈو گے تم ہمیں تو مل جائیں گے کہیں پر
اس دہر میں ابھی تک نایاب ہم نہیں ہیں
خوب کہا ہے۔ داد حاضر ہے۔
اک ہاتھ میں ہے سورج اک ہاتھ میں قمر ہے
پھر اس میں کیا تعجب برفاب ہم نہیں ہیں
یہ شعر کچھ وضاحت کا خواستگار ہے۔ سورج تو یقینا گرم ہے لیکن چاند گرم نہیں ہے۔ اس کی چاندنی کو اکثر "خنک، ٹھنڈی" کہا جاتا ہے۔ اس لئے یہ کہنا کہ چاندکے ہمارے ہاتھ میں ہوتے ہوئے ہم برفاب کیسے ہو سکتے ہیں کہاں تک صحیح ہے؟

غزل پر ایک بار پھر داد حاضر ہے۔ راوی اس میں میرا شریک ہے۔!

سرورعالم راز





غیرحاضر K. Ashraf

  • Adab Dost
  • ***
  • تحریریں: 755
جواب: پیارے ترے فلک کا مہتاب ہم نہیں ہیں
« Reply #2 بروز: مارچ 14, 2018, 11:12:25 صبح »

محترم سرور راز صاحب
میں آپ کاممنون ہوں کہ آپ
نے میری غزل پڑھی اور اس پر اپنی رائے دی۔
مطلع میں شترِگربہ کا مجھے اندازہ ہے لیکن
فوری طور پر کوئی اور صورت نہیں سوجھی اس لیے اسے جوں کا توں
چھوڑ دیا ہے۔
دو اشعار کی آپ نے وضاحت طلب فرمائی ہے۔ شعر
کو اپنی وضاحت خود کرنی چاہے۔ اگر شعر اپنی
وضاحت کرنے سے قاصر ہے تو پھر شعر ناقص ہے۔ شاعر کو اس
کی صفائی نہیں دینی چاہئے۔
نیازمند و خاکسار
کے اشرف

 

Copyright © اُردو انجمن