اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: خرد کی خودستائی اللہ اللہ  (پڑھا گیا 474 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر K. Ashraf

  • Adab Dost
  • ***
  • تحریریں: 757
خرد کی خودستائی اللہ اللہ
« بروز: مئی 06, 2018, 09:16:50 صبح »

غزل
کے اشرف

خرد کی خودستائی اللہ اللہ
جنوں کی بے نوائی اللہ
 
فقیہانِ حرم کی بدنصیبی
ہے ان کی نارسائی اللہ اللہ

نہیں معلوم کچھ انجامِ ہستی
مگر کشور کشائی اللہ اللہ

ہوئے ویراں صنم خانے ہمارے
بتوں کی کج ادائی اللہ اللہ
 
ہوا برپا فلک پر شور و غوغا
لرزتی ہے خدائی اللہ اللہ

سلامت عشق کے ہیں بام و در سب
جنوں کی یہ رسائی اللہ اللہ

***********
« آخری ترمیم: مئی 08, 2018, 02:38:39 شام منجانب K. Ashraf »



غیرحاضر B.G.M.

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3030
جواب: خرد کی خودستائی اللہ اللہ
« Reply #1 بروز: مئی 07, 2018, 08:28:40 شام »
اقتباس
نہیں معلوم کچھ انجامِ زیست
مگر کشور کشائی اللہ اللہ

How about,

nahiiN m’aaluum kuChh anjaam-e-hastii
magar kishwar kushaa’ii, Allaah Allah!

=============================
"Meri to kyaa bisaat suKhan ko samajh sakuuN
Le jaa rahaa hai shauq chalaa jaa rahaa huuN maiN"

غیرحاضر K. Ashraf

  • Adab Dost
  • ***
  • تحریریں: 757
جواب: خرد کی خودستائی اللہ اللہ
« Reply #2 بروز: مئی 08, 2018, 12:04:48 شام »

بی جی ایم جی
میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے زیست کے مترادف کے طور پر لفظ ہستی عنایت کیا ہے۔
اس سے یقیناًً مصرعہ میں روانی  پیدا ہو جاتی ہے۔
خوش رہئے اور جیتے رہئے ۔

نیازمند و خاکسار
کے اشرف

غیرحاضر Afroz Mehr

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 282
جواب: خرد کی خودستائی اللہ اللہ
« Reply #3 بروز: مئی 09, 2018, 05:02:24 شام »

محترمی خواجہ صاحب: سلام علیکم
کافی عرضہ کےبعد ادھر آنا ہوا اور آپ کی غزل سے مستفید ہونے کا موقع ملا۔ شکریہ۔ غزل کی زمین اور انداز تغزل تمام تر علامہ اقبال سے مستعار ہے اور اسی لئے دلچسپ و معتبر ہے۔ آپ کو علم  ہی ہے کہ ایسی صورت حال پیش آئے تو مضامین بھی بلند خیالی کے متقاضی ہوتے ہیں۔ آپ نے مطلع سے ہی اس کوشش کی ابتدا کی ہے اور یہ نیک فال ہے۔ غزل کی داد حاضر ہے۔ دو ایک باتیں مزید لکھنے کی اجازت چاہتی ہوں۔ شکریہ۔
خرد کی خودستائی اللہ اللہ
جنوں کی بے نوائی اللہ
مطلع اچھا ہے۔ دونوں مصرعے الگ الگ تو بہت اچھے ہیں لیکن مل کر جو شعر بناتے ہیں وہ خدا جانے کیوں بے اثر اور بے جان سا معلوم ہوتا ہے۔ واللہ اعلم
فقیہانِ حرم کی بدنصیبی
ہے ان کی نارسائی اللہ اللہ
شعر اچھا ہے۔ نظر بار بار علامہ کی علوئے خیال ڈھونڈتی ہے۔ اگر "ہے" کو "یہ" سے بدل دیں تو شاید کچھ اثر پیدا ہو جائے، ایسا میرا خیال ہے۔
نہیں معلوم کچھ انجامِ ہستی
مگر کشور کشائی اللہ اللہ
معاف کیجئے، یہ شعر بھول بھلیاں ہے الفاظ کی۔ "کشور کشائی" کے معنی ہیں "ملک فتح کرنا" جو پہلے مصرع کے ساتھ مل کر بے معنی ہوجاتا ہے۔ بھلا زندگی کا انجام "کشور کشائی' کیسے ہوسکتا ہے۔ آپ یہاں بھاری بھرکم لفظوں کوباندھنے کی کوشش میں ٹھوکر کھا گئے ہیں۔ نظر ثانی کرلیجئے۔
ہوئے ویراں صنم خانے ہمارے
بتوں کی کج ادائی اللہ اللہ
صنم خانے تو سب کے ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ "ہمارے" کی شرط کیسی؟ یوں کہہ سکتے ہیں:
صنم خانے ہوئے جاتے ہیں ویراں
بتوں کی کج ادائی اللہ اللہ
کیا خیال ہے آپ کا؟ ممکن ہے کوئی اور اس جانب توجہ کرے۔ شکریہ۔
ہوا برپا فلک پر شور و غوغا
لرزتی ہے خدائی اللہ اللہ
یہ کیسا شور وغوغا ہے،کون کر رہا ہے اور وہ بھی فلک پر؟ اور اس سے خدائی لرز رہی ہے۔ ساری تصویرگری علامہ اقبال سے مستعار ضرور ہے لیکن اپنی معنویت میں بےاثر رہ گئی ہے۔ شعر کی تشریح کے لئے کوئی ایسی ہی تاویل کرنی ہوگی۔ ایسا میرا خیال ہے۔
سلامت عشق کے ہیں بام و در سب
جنوں کی یہ رسائی اللہ اللہ
گستااخی معاف، یہ شعر بھی الفاظ کی بھول بھلیاں ہے۔ مطلب در بطن شاعر ہو کر رہ گیا ہے۔ امید ہے کہ نظر ثانی فرمائیں گے۔

مہر افروز




غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • ******
  • تحریریں: 6360
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar
جواب: خرد کی خودستائی اللہ اللہ
« Reply #4 بروز: مئی 10, 2018, 06:26:15 شام »

محترمی خواجہ صاحب: سلام علیکم
کافی عرضہ کےبعد ادھر آنا ہوا اور آپ کی غزل سے مستفید ہونے کا موقع ملا۔ شکریہ۔ غزل کی زمین اور انداز تغزل تمام تر علامہ اقبال سے مستعار ہے اور اسی لئے دلچسپ و معتبر ہے۔ آپ کو علم  ہی ہے کہ ایسی صورت حال پیش آئے تو مضامین بھی بلند خیالی کے متقاضی ہوتے ہیں۔ آپ نے مطلع سے ہی اس کوشش کی ابتدا کی ہے اور یہ نیک فال ہے۔ غزل کی داد حاضر ہے۔ دو ایک باتیں مزید لکھنے کی اجازت چاہتی ہوں۔ شکریہ۔
خرد کی خودستائی اللہ اللہ
جنوں کی بے نوائی اللہ
مطلع اچھا ہے۔ دونوں مصرعے الگ الگ تو بہت اچھے ہیں لیکن مل کر جو شعر بناتے ہیں وہ خدا جانے کیوں بے اثر اور بے جان سا معلوم ہوتا ہے۔ واللہ اعلم
فقیہانِ حرم کی بدنصیبی
ہے ان کی نارسائی اللہ اللہ
شعر اچھا ہے۔ نظر بار بار علامہ کی علوئے خیال ڈھونڈتی ہے۔ اگر "ہے" کو "یہ" سے بدل دیں تو شاید کچھ اثر پیدا ہو جائے، ایسا میرا خیال ہے۔
نہیں معلوم کچھ انجامِ ہستی
مگر کشور کشائی اللہ اللہ
معاف کیجئے، یہ شعر بھول بھلیاں ہے الفاظ کی۔ "کشور کشائی" کے معنی ہیں "ملک فتح کرنا" جو پہلے مصرع کے ساتھ مل کر بے معنی ہوجاتا ہے۔ بھلا زندگی کا انجام "کشور کشائی' کیسے ہوسکتا ہے۔ آپ یہاں بھاری بھرکم لفظوں کوباندھنے کی کوشش میں ٹھوکر کھا گئے ہیں۔ نظر ثانی کرلیجئے۔
ہوئے ویراں صنم خانے ہمارے
بتوں کی کج ادائی اللہ اللہ
صنم خانے تو سب کے ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ "ہمارے" کی شرط کیسی؟ یوں کہہ سکتے ہیں:
صنم خانے ہوئے جاتے ہیں ویراں
بتوں کی کج ادائی اللہ اللہ
کیا خیال ہے آپ کا؟ ممکن ہے کوئی اور اس جانب توجہ کرے۔ شکریہ۔
ہوا برپا فلک پر شور و غوغا
لرزتی ہے خدائی اللہ اللہ
یہ کیسا شور وغوغا ہے،کون کر رہا ہے اور وہ بھی فلک پر؟ اور اس سے خدائی لرز رہی ہے۔ ساری تصویرگری علامہ اقبال سے مستعار ضرور ہے لیکن اپنی معنویت میں بےاثر رہ گئی ہے۔ شعر کی تشریح کے لئے کوئی ایسی ہی تاویل کرنی ہوگی۔ ایسا میرا خیال ہے۔
سلامت عشق کے ہیں بام و در سب
جنوں کی یہ رسائی اللہ اللہ
گستااخی معاف، یہ شعر بھی الفاظ کی بھول بھلیاں ہے۔ مطلب در بطن شاعر ہو کر رہ گیا ہے۔ امید ہے کہ نظر ثانی فرمائیں گے۔

مہر افروز


عزیزہ مہر افروز: سلام اوردعائے خیر
ماشااللہ آپ کے تبصرے ہمیشہ ہی بے لاگ اور معتبر ہوتے ہیں۔ عام طور پر ایسے باعلم تبصرے کم دیکھنے میں آتے ہیں۔ آپ کا شکریہ کہ اردو انجمن کو روشن رکھے ہوئے ہیں۔ دیکھئے کب تک یہ سلسلہ چلتا ہے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
مکرمی خواجہ صاحب کی غزل پر آپ کے تبصرہ سے مجموعی طور پر میں متفق ہوں۔ البتہ ایک شعر پر آپ نے جو خیال ظاہر کیا ہے اس سے ضرور اختلاف ہے۔ شعر یہ ہے :
ہوئے ویراں صنم خانے ہمارے
بتوں کی کج ادائی اللہ اللہ
صنم خانے ضرور "ہمارے" ہو سکتے ہیں۔ صنم خانے نہ صرف ایک اصطلاحی لفظ ہے بلکہ ایک استعارہ بھی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس شعر میں خواجہ صاحب نے اس کو استعارہ کی حیثیت سے ہی باندھا ہے اور خوب باندھا ہے۔ بتوں کی کج ادائی کا کون شکار نہیں ہے؟ شعر مستحق داد ہے۔

باقی راوی سب چین بولتا ہے۔

سرورعالم راز





غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • ******
  • تحریریں: 6360
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar
جواب: خرد کی خودستائی اللہ اللہ
« Reply #5 بروز: مئی 12, 2018, 01:46:23 شام »

مکرمی خواجہ صاحب: سلام مسنون
ایک دلچسپ غزل کی داد حاضر ہے۔ اس غزل کو پڑھ کر خود اپنی ایک غزل بے اختیار یاد آ گئی جس کا مطلع ہے:
محبت، پھر اس کابیاں اللہ اللہ
زمیں ہو گئی آسماں اللہ اللہ
میری غزل سراسر جذباتی ہے اور آپ کی کم
خ بیش تصوفانہ۔ یقینا آپ نے علامہ اقبال کا تتبع ارادی طور پر نہیں کیا ہے لیکن زمین ہی ایسی ہے کہ غیر ارادی طورپر علامہ موصوف کا انداز اور مضامین جھلک اٹھے ہیں۔ یہ ہرگز عیب نہیں ہے بلکہ ایک فطری امرہے اور ہر استاد کی ایسی غزل میں یہ صورت پیش آتی ہے۔
خرد کی خودستائی اللہ اللہ
جنوں کی بے نوائی اللہ
خوب کہا ہے خواجہ صاحب! 
فقیہانِ حرم کی بدنصیبی
ہے ان کی نارسائی اللہ اللہ
یہ شعر بیانیہ ضرور ہے لیکن فقیہان حرم کی پول بھی کھول رہا ہے۔ لہذا داد دینا فرض ہے، قبول کیجئے۔
نہیں معلوم کچھ انجامِ ہستی
مگر کشور کشائی اللہ اللہ
بی جی ایم صاحب کی اصلاح سے نہ صرف شعر میں روانی پیدا ہوگئی بلکہ وزن بھی بہتر ہوگیا۔ بی جی ایم صاحب یہاں جب اول اول آئے تھے تو اردو شاعری سے نسبتا کم واقف تھے۔ شوق اور محنت سے انہوں نے بہت اچھی نگاہ بنا لی ہے۔ ہاں شعر کا مطلب محل نظر ہے یعنی زندگی کا انجام کشور کشائی نہیں ہوسکتا ہے۔ میں یہاں مہر افروز صاحبہ سے متفق ہوں کہ نظر ثانی کی ضرورت ہے الا یہ کہ کشورکشائی کا آپ کے ذہن میں کوئی اور مطلب ہو جو لغت میں نہیں ہے۔
ہوئے ویراں صنم خانے ہمارے
بتوں کی کج ادائی اللہ اللہ
 واہ واہ ۔ داد!
ہوا برپا فلک پر شور و غوغا
لرزتی ہے خدائی اللہ اللہ
یہاں شعر مبہم ہوگیا ہے۔ مہر افروز صاحبہ کی تنقید سے اتفاق لازمی ہے۔ اگر کچھ وضاحت ہو جاتی تو شعر میں جان پڑ جاتی۔ ایسا میں سوچتا ہوں۔
سلامت عشق کے ہیں بام و در سب
جنوں کی یہ رسائی اللہ اللہ
معاف کیجئے، یہ شعر میری سمجھ میں نہیں آیا۔ کچھ بے فیض تاویل کی جائے تو شاید کام چل جائے۔ آپ ہی ہماری مدد کر دیجئے۔ شکریہ۔

باقی راوی سب چین بولتا ہے۔

سرورعالم راز





غیرحاضر Afroz Mehr

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 282
جواب: خرد کی خودستائی اللہ اللہ
« Reply #6 بروز: مئی 12, 2018, 06:38:33 شام »

مکرمی خواجہ صاحب: سلام مسنون
ایک دلچسپ غزل کی داد حاضر ہے۔ اس غزل کو پڑھ کر خود اپنی ایک غزل بے اختیار یاد آ گئی جس کا مطلع ہے:
محبت، پھر اس کابیاں اللہ اللہ
زمیں ہو گئی آسماں اللہ اللہ
میری غزل سراسر جذباتی ہے اور آپ کی کم
خ بیش تصوفانہ۔ یقینا آپ نے علامہ اقبال کا تتبع ارادی طور پر نہیں کیا ہے لیکن زمین ہی ایسی ہے کہ غیر ارادی طورپر علامہ موصوف کا انداز اور مضامین جھلک اٹھے ہیں۔ یہ ہرگز عیب نہیں ہے بلکہ ایک فطری امرہے اور ہر استاد کی ایسی غزل میں یہ صورت پیش آتی ہے۔
خرد کی خودستائی اللہ اللہ
جنوں کی بے نوائی اللہ
خوب کہا ہے خواجہ صاحب! 
فقیہانِ حرم کی بدنصیبی
ہے ان کی نارسائی اللہ اللہ
یہ شعر بیانیہ ضرور ہے لیکن فقیہان حرم کی پول بھی کھول رہا ہے۔ لہذا داد دینا فرض ہے، قبول کیجئے۔
نہیں معلوم کچھ انجامِ ہستی
مگر کشور کشائی اللہ اللہ
بی جی ایم صاحب کی اصلاح سے نہ صرف شعر میں روانی پیدا ہوگئی بلکہ وزن بھی بہتر ہوگیا۔ بی جی ایم صاحب یہاں جب اول اول آئے تھے تو اردو شاعری سے نسبتا کم واقف تھے۔ شوق اور محنت سے انہوں نے بہت اچھی نگاہ بنا لی ہے۔ ہاں شعر کا مطلب محل نظر ہے یعنی زندگی کا انجام کشور کشائی نہیں ہوسکتا ہے۔ میں یہاں مہر افروز صاحبہ سے متفق ہوں کہ نظر ثانی کی ضرورت ہے الا یہ کہ کشورکشائی کا آپ کے ذہن میں کوئی اور مطلب ہو جو لغت میں نہیں ہے۔
ہوئے ویراں صنم خانے ہمارے
بتوں کی کج ادائی اللہ اللہ
 واہ واہ ۔ داد!
ہوا برپا فلک پر شور و غوغا
لرزتی ہے خدائی اللہ اللہ
یہاں شعر مبہم ہوگیا ہے۔ مہر افروز صاحبہ کی تنقید سے اتفاق لازمی ہے۔ اگر کچھ وضاحت ہو جاتی تو شعر میں جان پڑ جاتی۔ ایسا میں سوچتا ہوں۔
سلامت عشق کے ہیں بام و در سب
جنوں کی یہ رسائی اللہ اللہ
معاف کیجئے، یہ شعر میری سمجھ میں نہیں آیا۔ کچھ بے فیض تاویل کی جائے تو شاید کام چل جائے۔ آپ ہی ہماری مدد کر دیجئے۔ شکریہ۔

باقی راوی سب چین بولتا ہے۔

سرورعالم راز




مکرمی ومحترمی جناب سرور راز صاحب:سلام علیکم
خواجہ اشرف صاحب کی اس غزل پر آپ کا تبصرہ پڑھ کر اپنی کم مائیگی کا احساس ہوا، ساتھ ہی کچھ سیکھنے کو بھی ملا۔ آپ کا تجزیہ اور تبصرہ بہت متوازن اور ہموار ہیں اور کہیں یہ احساس نہیں ہوتا ہے کہ کوئی بات بلا غور و خوض کے لکھ دی گئی ہے۔ مجھ جیسے نو آموز اس تبصرے سے بہت کچھ سیکھیں گے۔ دلی شکریہ قبول کیجئے۔ اور دعائے خیر میں یاد رکھئے۔

مہر افروز

]

غیرحاضر B.G.M.

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3030
جواب: خرد کی خودستائی اللہ اللہ
« Reply #7 بروز: مئی 16, 2018, 11:20:10 صبح »
“.....
نہیں معلوم کچھ انجامِ ہستی
مگر کشور کشائی اللہ اللہ

بی جی ایم صاحب کی اصلاح سے نہ صرف شعر میں روانی پیدا ہوگئی بلکہ وزن بھی بہتر ہوگیا۔ بی جی ایم صاحب یہاں جب اول اول آئے تھے تو اردو شاعری سے نسبتا کم واقف تھے۔ شوق اور محنت سے انہوں نے بہت اچھی نگاہ بنا لی ہے۔ ہاں شعر کا مطلب محل نظر ہے یعنی زندگی کا انجام کشور کشائی نہیں ہوسکتا ہے۔ میں یہاں مہر افروز صاحبہ سے متفق ہوں کہ نظر ثانی کی ضرورت ہے الا یہ کہ کشورکشائی کا آپ کے ذہن میں کوئی اور مطلب ہو جو لغت میں نہیں ہے۔”

MoHtaram Ustad Janaab Sarwar saahab,
aadaab va Salaam-e-muHabbat!

Khwaja Ashraf saahab ki Ghazal par aap kaa aur moHtarma Afroz Mehr saahibah kaa tabsirah bahot dilchasp rahaa.
Aap donoN ke tabsire se hameN har waqt kuCh nah kuCh nayaa seekhne ko miltaa hai, is baar bhi yehii hu’aa.

MaiN Khwajah saahab ke jawaab ke intezaar meN thaa, is liye mira apnaa janaab mauquuf rahaa.
(magar ab woh nahiiN aaye haiN to maiN mira javaab Haazir-e-Khidmat kar rahaa huuN )

Sab se pehle to aap kaa shukriya ke aap  ne miri m’aamuli si tajviiz ko itne mehrbaan alfaaz meN saraahaa 🙏

Duusri baat, Khwaza saahab ke woh mazkurah sh’er jis par aap aur Afroz saahibah ne “ nazar-e-saanii” ka mashwarah diyaa hai.

Khwajah saahab ki Ghazal achChhi to hai hii, magar mujhe yeh she’r Khaas taur par is liye pasand aayaa thaa kih,
mira apni samajh meN is ke  m’aani kuChh aur thay.

Khuda-e-suKhan Mir ke ik she’r ( sahii suurat nahiiN yaad aa rahi. ) jis kaa mafHuum kuChh yuuN thaa kih

Woh Sikandar ( jo duniya jeetne chalaa thaa) jab jahaaN se chal paRaa
haath Khaalii kafan se baahar thay!

(I think actual she’r was,
“aaKhir-e-kaar jab jahaaN se chalaa
haath Khaalii  kafan se baahar thay!”. )

“Kishwar kushaa’ii “ kaa maiN ne jo m’aani samjhaa thaa, ho saktaa hai, Khwajah saahab ke apni samajh se muKhtalif hoN.

 Bas , yehii mujhe kehnaa thaa. Ab, agar ko’ii yeh kaheN kih yeh to- “maGhas ko bauGh meN jaane nah deejo”- jaisii vazaaHat  hu’ii (! ) to mujhe t’ajjub nah hogaa.😉

~niyaazmand

~B G

===========================================










« آخری ترمیم: مئی 16, 2018, 06:42:53 شام منجانب B.G.M. »
"Meri to kyaa bisaat suKhan ko samajh sakuuN
Le jaa rahaa hai shauq chalaa jaa rahaa huuN maiN"

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3323
جواب: خرد کی خودستائی اللہ اللہ
« Reply #8 بروز: مئی 17, 2018, 02:50:56 صبح »
محترم جناب خواجہ اشرف صاحب
السلام علیکم
چھ ماہ کے بعد آپ سے ہمکلام ہونے کا شرف حاصل ہوا ماشاءاللہ خوب کلام سے نوازا ہے آپ نے میری جانب سے ڈھیروں داد قبول فرمائیے
ایک گزارش بھی کرنی ہے آپ سے اللہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذاتی نام جیسے آپ کا اسم مبارک خواجہ اشرف ہے آپ نے اللہ کی آخر میں آنے والی ( ه ) کو عروض کی سہولت اور قواعد کو مدنظر رکھتے ہوئے گرا دیا جسے دیگر اساتذہ اور شعرا کرام کی طرف داری اور پشت پناہی حاصل ہے مگر ادب کا تقاضا یہی ہے کہ وہ اللہ رب العزت جو ساری کائنات کا خالق و مالک ہے اس کے اس ادب و احترام میں کسی کو فوقیت یا برتری حاصل نہیں اس باری تعالیٰ کو اہلِ ادب بھی عزت و احترام سے نوازیں اور اللہ کے نام کی ( ہ ) کو اپنی سخنوری میں مت گرائیں اللہ کو اپنی سخنوری کی زینت بنائیں
اللہ آپ سبھی کو دنیا و آخرت کی عزتیں عطا فرمائے
دعا گو
محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

غیرحاضر K. Ashraf

  • Adab Dost
  • ***
  • تحریریں: 757
جواب: خرد کی خودستائی اللہ اللہ
« Reply #9 بروز: مئی 17, 2018, 08:58:01 صبح »

محترم اسماعیل اعجاز صاحب
خوش آمدید۔ بازآئی و خوب آئی۔ اپنے کلام پر آپ کا تبصرہ بہت اچھا لگا۔
آپ نے بہت اچھی بات کی ہے۔ شاعرانہ خرافات میں نہ جانے ہم کیا کچھ کہہ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ
نے بھی شاعروں اور شاعری کی بارے میں کچھ ایسی ہی بات
کہی ہے لیکن ہم کہاں سنتے ہیں۔
خوش رہئے اور جیتے رہئے اور ایسے ہی اپنی ماہرانہ آرا سے ہمیں نوازتے رہئے۔
ایک بار پھر خوش آمدید۔
نیازمند و خاکسار
کے اشرف

 

Copyright © اُردو انجمن