اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: غزل بہ غرض اصلاح: بے زر کے پاس آتی ہے ثروت کبھی کبھی  (پڑھا گیا 121 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر Ejaz Ahmad

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 8
  • جنس: مرد
بے زَر کے پاس آتی ہے ثَروَت کَبھی کَبھی
"مِلتی ہے زِندگی میں محبّت کَبھی کَبھی"

اپنے نصیب میں نہیں : جو چاہتے ہیں ہم
خفتہ سی لگتی ہمیں قسمت کَبھی کَبھی

دل ایک ہے کہ جِس میں بَسِیں خواہشیں ہزار
اس دل پہ ہم کو ہوتی ہے حَیرت کَبھی کَبھی

دن زیست کے گزر رہے ہیں کچھ قرار میں
فرقت مگر یہ چھینے ہے راحت کبھی کبھی

اس طرزِ زندگی سے تو مختل ہوئے ہیں ہم
فرقت ہو مدتوں کی تو قربت کبھی کبھی

عزلت نشین رہ جو ہے جلوے کا منتظر
خلوت کے بعد ہوتی ہے جلوت کبھی کبھی

دو گام چَل بھی نہ سَکے میرے جنازے تک
دُشمن بھی اِتنی کرتے ہیں زَحمت کبھی کبھی

مِٹّی سے سب بنے ہیں غرور و غماز کیا
بندوں کے ساتھ مِٹتی تُربت کبھی کبھی

مَن میں جو سوز و ساز کا انبار ہو لگا
ڈھلتی ہے شعروں میں یہی صُورت کَبھی کَبھی

ہر اِک کے سامنے مجھے یہ شعر گُوئی کی
اِعجؔاز یُوں ہی ہوتی ہے جُرات کبھی کبھی

اِعجؔاز احمؔد
« آخری ترمیم: مئی 13, 2018, 04:15:40 شام منجانب سرور عالم راز »



غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 6348
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar

عزیزم اعجاز صاحب: سلام مسنون
جواب میں تاخیر ہوئی۔ اب یہاں اتنے کم لوگ رہ گئے ہیں کہ دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے۔ اگر احباب ایک دوسرے کی تخلیق پر لکھ دیا کریں تو کچھ کام بن سکتا ہے لیکن کیا کیجئے کہ لوگ لکھنے سے گریز کرتے ہیں۔ آپ کی غزل دیکھی۔ ایک رائے یہ ہے کہ اول اول غزل میں صرف آٹھ، نو اشعار کہا کیجئے اور انہیں پر محنت کر کے بہتر بنانے کی کوشش کیجئے۔ جب مشق پختہ ہوجائے گی تو زیادہ اشعار کہنے میں ہرج نہیں ہے۔
بے زَر کے پاس آتی ہے ثَروَت کَبھی کَبھی
"مِلتی ہے زِندگی میں محبّت کَبھی کَبھی"
شعر یوں تو ٹھیک ہے لیکن دونوں مصرعوں کا باہمی تعلق بہت کمزور ہے۔ آپ نے ثروت اور محبت کولازم وملزوم لکھ رکھا ہے جو درست نہیں ہے۔ پہلا مصرع پھر سے کہنے کی ضرورت ہے اس طرح کہ دوسرے مصرع کا ساتھی معلوم ہو۔ ایک کوشش اور کر دیکھئے۔ 
اپنے نصیب میں نہیں : جو چاہتے ہیں ہم
خفتہ سی لگتی ہمیں قسمت کَبھی کَبھی
دوسرے مصرع میں "لگتی ہے" ہونا چاہئے۔ یہ کتابت کی غلطی ہے۔ اس کے بعد شعر ٹھیک ہوجاتا ہے۔
دل ایک ہے کہ جِس میں بَسِیں خواہشیں ہزار
اس دل پہ ہم کو ہوتی ہے حَیرت کَبھی کَبھی
ٹھیک شعر ہے۔ کوشش کیجئے کہ مطالعہ اور فکر سے شعر کا مضمون کچھ بلند کر سکیں۔ مشق، مطالعہ اور محنت سے یہ آہستہ آہستہ ہو جائے گا۔
دن زیست کے گزر رہے ہیں کچھ قرار میں
فرقت مگر یہ چھینے ہے راحت کبھی کبھی
یہ شعر اپنی بندش اور بیان میں الجھ کر رہ گیا ہے اور اس کو پڑھ کر اس کا مفہوم آسانی سے سمجھ میں نہیں آتا ہے۔ شعر میں اثریا جذبہ کا ہونا ضروری ہے۔ اس کی اس شعرمیں کمی ہے۔
اس طرزِ زندگی سے تو مختل ہوئے ہیں ہم
فرقت ہو مدتوں کی تو قربت کبھی کبھی
"مختل" نے شعر کو بے لطف کردیا ہے۔ دوسرا مصرع اچھا ہے۔ پہلا پھر ایک بار کہئے اور دوسرے پر نظر رکھ کر کہئے۔
عزلت نشین رہ جو ہے جلوے کا منتظر
خلوت کے بعد ہوتی ہے جلوت کبھی کبھی
شعر موزوں ہے لیکن شعر کی موزونیت ہی شاعری نہیں ہے۔ اس میں کوئی خیال، جذبہ، فکر ایسی ضروری ہے جو دل پر اثر کرے۔ آپ کی غزل میں اس کی کمی ہے چنانچہ غزل پڑھ کر لطف محسوس نہیں ہوتا ہے۔ برا نہ مانیں۔ میں اپنی سوچ کے مطابق آپ کو لکھ رہا ہوں۔
دو گام چَل بھی نہ سَکے میرے جنازے تک
دُشمن بھی اِتنی کرتے ہیں زَحمت کبھی کبھی
یہ شعر غزل سے نکال دیجئے کیونکہ یہ قمر جلالوی کے شعر کی نقل ہے:
جاتی ہوئی میت دیکھ کے بھی اللہ تم اٹھ کر آ نہ سکے
دو چار قدم تو دشمن بھی تکلیف گوارا کرتے ہیں
مِٹّی سے سب بنے ہیں غرور و غماز کیا
بندوں کے ساتھ مِٹتی تُربت کبھی کبھی
یہ شعر میری سمجھ میں نہیں آیا۔ اس کو یا تو دوبارہ کہئے یا نکال دیجئے یا سمجھا دیجئے۔ دوسرے مصرع کا وزن درست کر لیجئے۔
مَن میں جو سوز و ساز کا انبار ہو لگا
ڈھلتی ہے شعروں میں یہی صُورت کَبھی کَبھی
پہلے مصرع کی بہتر صورت یوں ہو سکتی ہے:
دل میں ہو سوز وساز کا ابنار جب لگا
ویسے میری رائے میں اس مصرع کو کسی اور طرح کہنے کی ضرورت ہے تاکہ دوسرے مصرع سے مل کر یہ اچھے معنی پیدا کرے۔
ہر اِک کے سامنے مجھے یہ شعر گُوئی کی
اِعجؔاز یُوں ہی ہوتی ہے جُرات کبھی کبھی
مقطع ٹھیک ہے۔ اس پر بھی ویسی ہی محنت چاہئے جیسی پوری غزل پر کرنے کی ضرورت ہے۔
میں نے اشعار میں اصلاح سے گریز کیا ہے کیونکہ بیشتر اشعار اصلاح طلب ہیں۔ اگر میں یہ کرتا تو تقریبا ہر شعر دوبارہ کہنا ہوتا جو مناسب نہیں ہے۔ میری خواہش یہ ہے کہ آپ خود محنت اور کوشش سے غزل بہتر بنائیں۔ اگر ایک کوشش کے بعد بہتری کی صورت نظر نہیں آئی تو اور بات ہے۔ ویسے مجھ کو یقین ہے کہ آپ یہ کام بخوبی کر سکتے ہیں۔ شعر کی بنیادی باتوں سے آپ کی واقفیت اچھی ہے۔ صرف مطالعہ، فکر اور محنت کی ضرورت ہے۔

سرور عالم راز



 

Copyright © اُردو انجمن