اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: کچھ بھلائی کا ارادہ کر خیال  (پڑھا گیا 76 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3227
کچھ بھلائی کا ارادہ کر خیال
« بروز: مئی 17, 2018, 02:52:13 صبح »
قارئین کرام کی خدمت میں خیال کا آداب

ایک فی البدیہہ کلام کے ساتھ حاضرِ خدمت ہوں امید ہے پسند آئے گا  ، اپنی قیمتی آرا سے نوازیے ،

عرض کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ بھلائی کا ارادہ کر خیالؔ
سادگی اپنا لبادہ کر خیالؔ

اس سے پہلے وقت تھم جائے کہیں
وقت سے تُو استفادہ کر خیالؔ

ساری دنیا ہو خفا تجھ سے وَلے
تُو نہیں ہو گا یہ وعدہ کر خیالؔ

دوستوں سے مل رہے ہیں غم تجھے
ان غموں کو جامِ بادہ کر خیالؔ

جانور ہے تُو نہیں احساس جب
چاہے خود کو شاہ زادہ کر خیالؔ

بات کہنے کا ہنر آجائے گا
اپنا اب اسلوب سادہ کر خیالؔ

دشمنوں کو بھی لگا لے تُو گلے
نیکیاں کچھ بے ارادہ کر خیالؔ

زیست کی سب مشکلیں آسان ہوں
یوں اجاگر اپنا جادہ کر خیالؔ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپکی توجہ کا طلبگار

اسماعیل اعجاز خیال


محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

غیرحاضر nawaz

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 408
جواب: کچھ بھلائی کا ارادہ کر خیال
« Reply #1 بروز: مئی 17, 2018, 05:55:31 صبح »
محترم اسماعیل اعجاز صاحب سلامِ مسنون

کیا مبارک مہینہ میں آپ کا جلوہ نظر آیا،،، عمدہ غزل پیش کرنے پر
 داد اور  یوں انجمن کو اپنے وجود سے رونق بخشنے پر بھی داد۔



ساری دنیا ہو خفا تجھ سے وَلے
تو نہیں ہو گا یہ وعدہ کر خیالؔ

اچھا اور نیک خیال ہے   رمضان کی آمد آمد
سدا خوش رہئے    دعا گو   نواز

غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • ******
  • تحریریں: 6339
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar
جواب: کچھ بھلائی کا ارادہ کر خیال
« Reply #2 بروز: مئی 17, 2018, 04:00:26 شام »

عزیز مکرم خیال صاحب: سلام علیکم
ایک اچھی اور دلچسپ غزل عنایت کرنے کا شکریہ اور داد حاضر ہے۔ کچھ مقامات ضرور محل نظر ہیں سو احباب لکھ ہی رہے ہیں۔ اس تبادلہءخیال میں کتنی ہی گتھیاں کھل جائیں گی۔ آپ سے گزارش ہے کہ دوسرے احباب کے کلام پر اپنے خیالات سے ضرور نوازیں۔ شکریہ۔ آپ کا ایک شعر خاص طور سے توجہ کا طالب ہوا ۔
کچھ بھلائی کا ارادہ کر خیالؔ
سادگی اپنا لبادہ کر خیالؔ
ساری دنیا ہو خفا تجھ سے وَلے
تُو نہیں ہو گا یہ وعدہ کر خیالؔ
میں نے مطلع وضاحت کی خاطر لکھ دیا ہے یعنی غزل کے حرف روی کی شناخت اس طرح آسان ہے۔ دوسرے شعر میں آپ نے "وعدہ" کو "ارادہ، لبادہ" کا ہم قافیہ باندھا ہے۔ کیا اس طرح حرف روی تبدیل نہیں ہوگیا ہے؟ اوراگر ہوا ہے تو کیا ایسی تبدیلی اصولا صحیح ہے؟ امید ہے اپنے خیالات سے آگاہ فرمائیں گے۔
باقی راوی سب چین بولتا ہے۔

سرورعالم راز




غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3227
جواب: کچھ بھلائی کا ارادہ کر خیال
« Reply #3 بروز: مئی 18, 2018, 01:52:08 صبح »
محترم اسماعیل اعجاز صاحب سلامِ مسنون

کیا مبارک مہینہ میں آپ کا جلوہ نظر آیا،،، عمدہ غزل پیش کرنے پر
 داد اور  یوں انجمن کو اپنے وجود سے رونق بخشنے پر بھی داد۔



ساری دنیا ہو خفا تجھ سے وَلے
تو نہیں ہو گا یہ وعدہ کر خیالؔ

اچھا اور نیک خیال ہے   رمضان کی آمد آمد
سدا خوش رہئے    دعا گو   نواز


جناب محترم نواز صاحب
وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ
جنابِ عالی آپ کی محبتیں عنایتیں سر آنکھوں پر رمضان کی مبارکباد قبول فرمائیے اپنی قیمتی دعاؤں میں یاد رکھیے
صاحب ایک طویل عرصے کے بعد واپس آیا ہوں اس خیال سے کہ صبح کا روٹھا شام کو گھر لوٹے اور مان جائے تو اسے روٹھا نہیں کہتے
اور بندہ روٹهتا بھی تو انہی سے ہے جنہیں اس اپنا سمجھتا ہے
خیر صاحب آپ کا گرم جوش استقبالیہ انتہائی فرحت بخش و حوصلہ افزا ہے اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے دنیا و آخرت کی عزتوں سے نوازے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے اپنا بہت خیال رکھیے
ان شا اللہ آپ سے گفت و شنید کے ساتھ سیکھنے کا عمل جاری رہے گا اور دل جوئی و دلداری کا سلسلہ رواں دواں رہے گا
سدا سلامت رہیے
دعا گو
محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3227
جواب: کچھ بھلائی کا ارادہ کر خیال
« Reply #4 بروز: مئی 18, 2018, 02:14:17 صبح »

عزیز مکرم خیال صاحب: سلام علیکم
ایک اچھی اور دلچسپ غزل عنایت کرنے کا شکریہ اور داد حاضر ہے۔ کچھ مقامات ضرور محل نظر ہیں سو احباب لکھ ہی رہے ہیں۔ اس تبادلہءخیال میں کتنی ہی گتھیاں کھل جائیں گی۔ آپ سے گزارش ہے کہ دوسرے احباب کے کلام پر اپنے خیالات سے ضرور نوازیں۔ شکریہ۔ آپ کا ایک شعر خاص طور سے توجہ کا طالب ہوا ۔
کچھ بھلائی کا ارادہ کر خیالؔ
سادگی اپنا لبادہ کر خیالؔ
ساری دنیا ہو خفا تجھ سے وَلے
تُو نہیں ہو گا یہ وعدہ کر خیالؔ
میں نے مطلع وضاحت کی خاطر لکھ دیا ہے یعنی غزل کے حرف روی کی شناخت اس طرح آسان ہے۔ دوسرے شعر میں آپ نے "وعدہ" کو "ارادہ، لبادہ" کا ہم قافیہ باندھا ہے۔ کیا اس طرح حرف روی تبدیل نہیں ہوگیا ہے؟ اوراگر ہوا ہے تو کیا ایسی تبدیلی اصولا صحیح ہے؟ امید ہے اپنے خیالات سے آگاہ فرمائیں گے۔
باقی راوی سب چین بولتا ہے۔

سرورعالم راز



جناب محترم سرور عالم راز سرور صاحب
وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ
جنابِ عالی
اللہ آپ کو سدا سلامت رکھے دونوں جہانوں کی عزتیں عطا فرمائے غزل کی پذیرائی کے لیے شکرگزار ہوں آپ نے قافیے کی جانب توجہ مبذول کروائی ہے وہ درست ہے کہ ارادہ لبادہ کے ساتھ وعدہ باندھنا یقیناً درست نہیں ہے ایف بی کے ایک گروپ میں میثم علی آغا صاحب کی ایک غزل نگاہ سے گزری جس میں انہوں نے کہا

مر گئی مجھ میں کہیں شعر مزاجی میری
اب تُجھے دیکھ کے مصرع نہیں ہونے والا

جب کہ باقی قوافی الف پر ختم ہو رہے تھے
میں نے عرض کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قافیہ نظرِ ثانی کا متقاضی ہے ، باقی ماشااللہ بڑھیا ہے
 تو وہ مسکرا کے بولے یہ صوتی قافیہ پرکھنے کے لیے باندھا ہے گو کہ غلط ہے
میرا قافیہ بھی غلط ہے
اس کی اصل صورت

ساری دنیا ہو خفا تجھ سے وَلے
مت خفا ہو دل کشادہ کرخیالؔ

میں نے اسے وعدہ باندھ کر صوتی قافیے کی بدعت کو فروغ دیا جو کہ غلط ہے

اللہ آپ کو دنیا و آخرت کی عزتوں سے نوازے آپ نے بہت عمدہ نکتے کی بات کی جانب توجہ دلائی جو یقیناً بہت سے سیکھنے والوں کے لیے باعثِ فکر و عمل ہے
میں ان شا اللہ حاضر ہوتا رہوں گا اپنی کاوشوں کولیے  اور احباب کی نگارشات سے استفادہ کرنے کی غرض سے
اپنا بہت خیال رکھیے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے
میثم علی آغا صاحب کی مکمل غزل دیکھیے

اِتنا  بکھرا  ہوں  اِکٹھّا  نہیں  ہونے  والا
اب تُجھے چُھو کے بھی اچھا نہیں ہونے والا

زندگی کھول دے زنجیر مِرے پاؤں کی
مجھ سے اب اور تماشا نہیں ہونے والا

اتنا روئی ہیں ترے ہِجر میں زندہ آنکھیں
اب کسی لاش پہ گریہ نہیں ہونے والا

دیکھ چُپ چاپ پلٹ جا مِرے اچھے عیسیٰ
یہ وہ مُردہ ہے جو زندہ نہیں ہونے والا

مر گئی مجھ میں کہیں شعر مزاجی میری
اب تُجھے دیکھ کے  مصرع نہیں ہونے والا

دُکھ یہی ہے کہ مِری سانس پہ قابض ہوا شخص
کچھ بھی ہو جائے وہ میرا نہیں ہونے والا

میثم علی آغا


آپ کی دعاؤں کا طلبگار
« آخری ترمیم: مئی 18, 2018, 05:37:27 صبح منجانب Ismaa'eel Aijaaz »
محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

 

Copyright © اُردو انجمن