اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: گھاؤ بنتے ہی رہے پھر دل شگاف اپنی جگہ  (پڑھا گیا 81 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3259
گھاؤ بنتے ہی رہے پھر دل شگاف اپنی جگہ
« بروز: جون 12, 2018, 08:53:41 شام »

قارئین کرام کی خدمت میں خیال کا آداب

ایک تازہ کلام پیشِ خدمت ہے امید ہے پسند آئے گا ، اپنی قیمتی آرا سے نوازیے ،

عرض کیا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اعتراض اپنی جگہ اور اعتراف اپنی جگہ
متّفق ہو کر وہ رکّھے اختلاف اپنی جگہ

دل میں رہ کر دل کے ٹکڑے کر گیا الفت شعار
گھاؤ بنتے ہی رہے پھر دل شگاف اپنی جگہ

خواہشوں کو آج ہے معبود کا درجہ دیا
اور حصولِ شوق میں رکّھا طواف اپنی جگہ

نکتہ جوؤں نے مرے لوگوں کو نکتہ چیں کیا
کھوٹ سب میں ہے مگر سب ہیں خلاف اپنی جگہ

صوت کے پیمانے پر پرکھا نہیں جائے سخن
عین غین اپنی جگہ ہیں کاف گاف اپنی جگہ

مانتے ہیں خود کو ہم مؤمن مگر کیا کیجیے
ہیں مسلمانی سے کرتے انحراف اپنی جگہ

تم نے شخصیت خیالؔ اپنی چھپائی ہے مگر
دیکھتے ہیں آنکھ والے چہرہ صاف اپنی جگہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپکی توجہ کا طلبگار

اسماعیل اعجاز خیالؔ
« آخری ترمیم: جون 13, 2018, 08:52:43 شام منجانب Ismaa'eel Aijaaz »


محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

غیرحاضر Afroz Mehr

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 280
جواب: گھاؤ بنتے ہی رہے پھر دل شگاف اپنی جگہ
« Reply #1 بروز: جون 13, 2018, 06:04:16 شام »

مکرمی جناب اعجاز خیال صاحب: سلام علیکم
ایک منفرد زمین میں آپ کی غزل دیکھی۔ ردیف "اپنی جگہ"نہ صرف منفرد ہے بلکہ بہت مشکل بھی ہے۔ گستاخی معاف کیجئے گا لیکن آپ جا بجا اس ردیف کا حق ادا نہیں کر سکے ہیں۔ کم سے کم ایسا میرا تاثر ہے جو نیچے درج کررہی ہوں۔ ممکن ہے کہ میں غلطی پر ہوں، اس صورت میں آپ یا کوئی اور مجھ کو آگاہ کردے تو بہت عنایت ہوگی۔ عمومی داد کے بعد چند باتیں عرض کرنے کی اجازت چاہتی ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اعتراض اپنی جگہ اور اعتراف اپنی جگہ
متّفق ہو کر وہ رکّھے اختلاف اپنی جگہ
شعر کا پہلا مصرع بہت اچھا ہے۔ دوسرے مصرع نے شعر کا مطلب خبط کردیا ہے۔ جب اعتراض اور اعتراف اپنی اپنی جگہ ہیں تو پھر"متفق ہوکر" لکھنا اس کو رد کردیتا ہے کیونکہ اس مصرع سے کہیں ظاہر نہیں ہورہا ہپے کہ یہ اتفاق صرف جزوی ہے۔ مصرع ثانی تو یہ کہہ رہا ہے کہ وہ مجھ سے متفق ہے پھربھی اس کے اختلافات قایم ہیں۔ یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب "وہ" منافقت کا سلوک کر رہا ہواور آپ کا مقصودایسا نہیں معلوم ہوتا ہے۔ یوں بھی اپنی محبوبہ کو منافق کون کہتا ہے؟  :) مصرع ثانی کی اصلاح ضروری معلوم ہوتی ہے۔
دل میں رہ کر دل کے ٹکڑے کر گیا الفت شعار
گھاؤ بنتے ہی رہے پھر دل شگاف اپنی جگہ
اول تو "الفت شعار" نے مصرع سست اور کمزور کردیا کیونکہ یہ بھرتی کا لفظ ہے، دوسرے جب دل کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے تو "دل شگاف" ہونا کیا معنی رکھتا ہے؟ "اپنی جگہ" کہنے سے مطلب یہ نکلتا ہے کہ دل کے ٹکڑے ہونا الگ بات تھی اور اس سے الگ دل شگافی اپنی جگہ ہے۔ گویا مطلب الفاظ کی اس ہیرا پھیری میں کہیں رہ گیا۔ پہلا مصرع یوں بھی کہہ سکتے ہیں:
دل میں بس کردل کے ٹکڑے کر گیا، کیا ظلم ہے!
اور پھر دوسرا مصرع اس مطلب کو پورا کرنےکے لئے کہا جائے۔ یا آپ جیسا بہتر سمجھیں۔ شکریہ۔
خواہشوں کو آج ہے معبود کا درجہ دیا
اور حصولِ شوق میں رکّھا طواف اپنی جگہ
خیال صاحب! یہ کیا بات ہوئی؟ اگر کوئی اپنی خواہشوں کو معبود کا درجہ دے تو پھر "حصول شوق" میں وہ اس کے طواف کو "اپنی جگہ" کیونکر رکھے گا؟ معبود بنانے کے بعد طواف تو فطری اور لازمی ہوگیا، اپنی جگہ یا الگ کیسے ہو سکتا ہے؟ شعرکی کوئی دورازکار تاویل کی جائے تو شاید کھینچ تان کر معنی برآمد کئے جا سکتے ہیں لیکن کیا ایسا کرنے کی ضرورت ہے؟ بہتر ہے کہ شعر پھر سے سوچا جائے۔
نکتہ جوؤں نے مرے لوگوں کو نکتہ چیں کیا
کھوٹ سب میں ہے مگر سب ہیں خلاف اپنی جگہ
نکتہ جو اور نکتہ چیں ایک ہی چیز ہیں۔ معلوم نہیں شعر کا کیا مطلب ہے۔ کچھ نہ کچھ تو آپ نے سوچا ہوگا۔ از راہ کرم وضاحت کر دیجئے۔ شکریہ!
صوت کے پیمانے پر پرکھا نہیں جائے سخن
عین غین اپنی جگہ ہیں کاف گاف اپنی جگہ

مانتے ہیں خود کو ہم مؤمن مگر کیا کیجیے
ہیں مسلمانی سے کرتے انحراف اپنی جگہ

تم نے شخصیت خیالؔ اپنی چھپائی ہے مگر
دیکھتے ہیں آنکھ والے چہرہ صاف اپنی جگہ
اوپر کچھ اشعار پر لکھنے کے بعد ایسے ہی حاشیے باقی شعروں پر بھی واجب معلوم ہوئے۔ مناسب یہ معلوم ہوا کہ آپ تک اپنے خیالات کی بنیاد بہنچانے کے بعد آپ سے گزارش کی جائے کہ آپ اپنے خیالات سے ہم کو بہرہ ورفرمائیں تاکہ غزل سمجھ سکیں۔ جزاک اللہ خیرا۔ 

مہر افروز


]

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3259
جواب: گھاؤ بنتے ہی رہے پھر دل شگاف اپنی جگہ
« Reply #2 بروز: جون 13, 2018, 10:06:13 شام »

مکرمی جناب اعجاز خیال صاحب: سلام علیکم
ایک منفرد زمین میں آپ کی غزل دیکھی۔ ردیف "اپنی جگہ"نہ صرف منفرد ہے بلکہ بہت مشکل بھی ہے۔ گستاخی معاف کیجئے گا لیکن آپ جا بجا اس ردیف کا حق ادا نہیں کر سکے ہیں۔ کم سے کم ایسا میرا تاثر ہے جو نیچے درج کررہی ہوں۔ ممکن ہے کہ میں غلطی پر ہوں، اس صورت میں آپ یا کوئی اور مجھ کو آگاہ کردے تو بہت عنایت ہوگی۔ عمومی داد کے بعد چند باتیں عرض کرنے کی اجازت چاہتی ہوں۔

محترمہ مہر افروز صاحبہ
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

آپ کی توجہ اور وقت میرے لیے دونوں گرانقدر ہیں آپ کی عنایت کے لیے شکرگزار ہوں ، ردیف کی مشکلات کے پیشِ نظر آپ نے اپنی آرا سے نوازا جن میں میں اپنی اس کاوش میں اس کا حق ادا کرنے سے ناکام رہا ، ضرور ایسا ہوگا جب تک کہ بات کی تہہ تک نہ پہنچا جائے میں کوشش کرتا ہوں کہ اپنے اسلوب اپنے پیغام اپنی کاوش کی وضاحت کروں ، مجھے امید ہے میری وضاحت میرے کلام کو سمجھنے میں معاون و مددگار ثابت ہو گی
تاہم میں آپ کا دلی طور پر ایک بار پھر شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے مجھے اپنی قیمتی آرا اور وقت سے نوازا
اللہ آپ کو شاد و آباد رکھے

اقتباس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اعتراض اپنی جگہ اور اعتراف اپنی جگہ
متّفق ہو کر وہ رکّھے اختلاف اپنی جگہ
شعر کا پہلا مصرع بہت اچھا ہے۔ دوسرے مصرع نے شعر کا مطلب خبط کردیا ہے۔ جب اعتراض اور اعتراف اپنی اپنی جگہ ہیں تو پھر"متفق ہوکر" لکھنا اس کو رد کردیتا ہے کیونکہ اس مصرع سے کہیں ظاہر نہیں ہورہا ہپے کہ یہ اتفاق صرف جزوی ہے۔ مصرع ثانی تو یہ کہہ رہا ہے کہ وہ مجھ سے متفق ہے پھربھی اس کے اختلافات قایم ہیں۔ یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب "وہ" منافقت کا سلوک کر رہا ہواور آپ کا مقصودایسا نہیں معلوم ہوتا ہے۔ یوں بھی اپنی محبوبہ کو منافق کون کہتا ہے؟  :) مصرع ثانی کی اصلاح ضروری معلوم ہوتی ہے۔

ہم مختلف نظریات خیالات میں بٹے ہوئے لوگ ہیں جو اس دنیا میں آباد ہیں ہماری تعداد 7 ارب سے تجاوز کر چکی ہے ہمارے جد امجد ایک ہی ہیں آدم و حوا لیکن ہمارے رنگ زبان رہن سہن عادات و اطوار سب الگ الگ ہیں ہم قبیلوں میں قوموں میں فرقوں میں نسلوں میں ملکوں میں برِ اعظموں کے ساتھ ساتھ مذہبوں مسلکوں اور عقیدوں میں بٹے ہوئے ہیں اس لیے ہمیں بیک وقت ایک دوسرے پر اعتراض رہتا ہے جس کا ہم اعتراف کرتے ہیں اور اس پر اتفاق بھی کرتے ہیں مگر چوں  کہ الگ مزاج الگ زبان الگ نظریہ الگ ماحول الگ طرزِ زندگی رکھتے ہیں اس لیے آپس میں اختلاف رکھتے ہیں  :D یہ تو ہوئی سیدھی سیدھی بات اب آئیے دوسری بات کی جانب شعروسخن کی بات علم و ادب کی بات زبان و بیان کی بات کی جانب ماہرین عروض اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ عروض ضروری ہے مگر ایک دوسرے پر اعتراض کرتے ہیں ، اعتراض کی وجہ علمی و ادبی قابلیت کا موازنہ ہے جبکہ آپس میں اتفاقِ رائے رکھتے ہوئے ایک دوسرے سے اختلاف بھی رکھتے ہیں ، یہ سب اگر ایک دوسرے سے متفق ہوں تو علمِ عروض آسان ہو جائے ، بس یہی بیان کرنے کی کوشش کی ہے میں ، امید ہے آپ اس سے اتفاق کریں گی باوجود اس کے کہ آپ کو مجھ سے اختلاف ہے
 :)

اقتباس
دل میں رہ کر دل کے ٹکڑے کر گیا الفت شعار
گھاؤ بنتے ہی رہے پھر دل شگاف اپنی جگہ
اول تو "الفت شعار" نے مصرع سست اور کمزور کردیا کیونکہ یہ بھرتی کا لفظ ہے، دوسرے جب دل کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے تو "دل شگاف" ہونا کیا معنی رکھتا ہے؟ "اپنی جگہ" کہنے سے مطلب یہ نکلتا ہے کہ دل کے ٹکڑے ہونا الگ بات تھی اور اس سے الگ دل شگافی اپنی جگہ ہے۔ گویا مطلب الفاظ کی اس ہیرا پھیری میں کہیں رہ گیا۔ پہلا مصرع یوں بھی کہہ سکتے ہیں:

دل میں بس کردل کے ٹکڑے کر گیا، کیا ظلم ہے!
اور پھر دوسرا مصرع اس مطلب کو پورا کرنےکے لئے کہا جائے۔ یا آپ جیسا بہتر سمجھیں۔ شکریہ۔
 


(الفت +  شعار)
کو میں نے اسی طرح لیا ہے جیسے لفظ (کفایت + شعار) ہے شاید اس سے پہلے کسی نے ایسی ترکیب نہیں استعمال کی نہ باندھی ہوگی لیکن میں نے کی جو رواج پا جائے گی آپ کو تردد ہوا یقیاً کوئی علمی ادبی وجہ ہو گی از راہِ کرم اسے بیان کیجیے اس آگاہ فرمائیے تاکہ ہم سبھی کے علم میں اضافہ ہو ،دوسرے آپ نے اسے بھرتی سے جوڑا ، آپ سے گزارش ہے کہ وہ کون سا پیمانہ ہے جس سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ کون سا لفظ بھرتی کا ہے اور کون سا نہیں ، اس کے لیے رہنمائی فرمائیے تاکہ آئندہ احتیاط کے ساتھ ساتھ اجتناب کیا جا سکے
اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے
دوسرا مصرع بھی خوب ہے رہنا یا بسنا ایک ہی معانی میں لیا جاتا ہے اگر میں غلطی کروں تو میری اصلاح فرمائیے  :048:
دل کے ٹکڑے کرنے سے مراد دل توڑ دینا ہے دل میں رہ کر دل توڑ دینا اور پھر طنز کر کے دل دکھا کر دل گھائل کرنا دل میں شگاف نہیں کرنا تو اور کیا کرنا ہوتا ہے ؟ آپ ہی بتائیے  :)

اقتباس
خواہشوں کو آج ہے معبود کا درجہ دیا
اور حصولِ شوق میں رکّھا طواف اپنی جگہ
خیال صاحب! یہ کیا بات ہوئی؟ اگر کوئی اپنی خواہشوں کو معبود کا درجہ دے تو پھر "حصول شوق" میں وہ اس کے طواف کو "اپنی جگہ" کیونکر رکھے گا؟ معبود بنانے کے بعد طواف تو فطری اور لازمی ہوگیا، اپنی جگہ یا الگ کیسے ہو سکتا ہے؟ شعرکی کوئی دورازکار تاویل کی جائے تو شاید کھینچ تان کر معنی برآمد کئے جا سکتے ہیں لیکن کیا ایسا کرنے کی ضرورت ہے؟ بہتر ہے کہ شعر پھر سے سوچا جائے۔

جی یہ شعر اپنے معنوں میں بالکل واضح ہے کہ ہم سب نے خواہشات کو معبود کا درجہ دے رکھا ہے جبھی ان کی تکمیل ان کے حصول میں ان کے اطراف میں سرگرداں رہتے ہیں

اگر غور کریں تو بالکل آسان پیغام ہے


اقتباس
نکتہ جوؤں نے مرے لوگوں کو نکتہ چیں کیا
کھوٹ سب میں ہے مگر سب ہیں خلاف اپنی جگہ
نکتہ جو اور نکتہ چیں ایک ہی چیز ہیں۔ معلوم نہیں شعر کا کیا مطلب ہے۔ کچھ نہ کچھ تو آپ نے سوچا ہوگا۔ از راہ کرم وضاحت کر دیجئے۔ شکریہ!

نکتہ جُو واحد ہے یہاں میں نے نکتہ جُوؤں کہا مطلب جمع کا صیغہ لیا
نکتہ لغت میں
{ نُک + تَہ + جُو }
تفصیلات
معانی
صفت ذاتی
١ - علمی باتیں بیان کرنے والا، لطیف اور عمدہ کام کرنے والا۔

جب کہ نکتہ چیں کے معانی

{ نُک + تَہ + چِیں }
تفصیلات
معانی
صفت ذاتی
١ - گرفت کرنے والا، عیب ڈھونڈنے والا، نقص نکالنے والا، عیب گیر، عیب جُو، اعتراض کرنے والا۔

گویا نکتہ جُو دانشور ہیں نکتہ داں ہیں اہلِ علم و ادب ہیں
اور نکتہ چیں معترض عیب کی تلاش میں سرگرداں لوگ ہیں جن کا کام خامیاں تلاش کرتے رہنا ہے
میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ ہمارے دانشوروں نے ایسے لوگ تیار کیے ہیں جو عیب ڈھونڈتے ہیں اعتراض کرتے ہیں منفی دیکھتے ہیں خامیاں تلاش کرتے ہیں اگرچہ وہ خامیاں دیکھنے والے بذات خود خامیوں برائیوں اور ہر طرح کی کھوٹ سے بھرے ہوئے ہیں


اقتباس
صوت کے پیمانے پر پرکھا نہیں جائے سخن
عین غین اپنی جگہ ہیں کاف گاف اپنی جگہ

مانتے ہیں خود کو ہم مؤمن مگر کیا کیجیے
ہیں مسلمانی سے کرتے انحراف اپنی جگہ

تم نے شخصیت خیالؔ اپنی چھپائی ہے مگر
دیکھتے ہیں آنکھ والے چہرہ صاف اپنی جگہ
اوپر کچھ اشعار پر لکھنے کے بعد ایسے ہی حاشیے باقی شعروں پر بھی واجب معلوم ہوئے۔ مناسب یہ معلوم ہوا کہ آپ تک اپنے خیالات کی بنیاد بہنچانے کے بعد آپ سے گزارش کی جائے کہ آپ اپنے خیالات سے ہم کو بہرہ ورفرمائیں تاکہ غزل سمجھ سکیں۔ جزاک اللہ خیرا۔ 

مہر افروز


][/font]

بہر حال میں آپ کا بے حد ممنون ہوں کہ آپ تشریف لائیں اور مجھے اپنے قیمتی وقت اور علمی و ادبی خیالات سے نوازا جس سے مجھے اپنی تخلیق پر غور غوص کے ساتھ ساتھ اصلاحی پہلو کی جانب دیکھنے کا شرف حاصل ہوا
اللہ پاک آپ کو دونوں جہانوں کی خوشیاں اور سلامتی عطا فرمائے
اپنا بہت خیال رکھیے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے عید کی مبارکباد بھی قبول فرمائیے

والسلام
« آخری ترمیم: جون 14, 2018, 12:37:25 صبح منجانب Ismaa'eel Aijaaz »
محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

 

Copyright © اُردو انجمن