اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: السلامُ علیکم! پہلی بار بزم میں حاضر ہوا ہوں، اصلاح و حوصلہ افزائی فرمائیے!شکریہ  (پڑھا گیا 379 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر فیصل

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 3
چاہت جو آپ کی ہے وہی چاہتے ہیں ہم
اس چاہ میں چاہت کا چمن چاہتے ہیں ہم
گرآپ کو فرصت نہیں تو ہم بھی ہیں مصروف
خیرآپ کی دن رات رب سے چاہتے ہیں ہم
مس! آپ رہیں شاد و سرفراز ہر اک گام
ہرکام آپ کا ہو سہل چاہتے ہیں ہم
سرشار شادمانی میں ہوں آپ شب تلک
ہرصبح ہو صباحِ بہار چاہتے ہیں ہم
جیون کی تمنا کہ وہ  کردیں نگاہ سے قتل
جینے کی تمنا میں مرا چاہتے ہیں ہم
اس زیست میں ملنے کی جو ملتی نہیں فرصت
ملنے کی تمنا میں قضا چاہتے ہیں ہم
سایہ فگن ہوں آپ سدا مانندِ فلک
خود خاک کی مانند بچھا چاہتے ہیں ہم
مس! آپ جہاں بھی رہیں ہوں مطمئن جناب
بس اک بار یہ فیصل سے کہیں چاہتے ہیں ہم
« آخری ترمیم: جون 25, 2018, 04:16:07 صبح منجانب فیصل »



غیرحاضر عامر عباس

  • Naazim
  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 2401
  • جنس: مرد
محترم جناب فیصل صاحب، آداب۔
سب سے پہلے آپ کو اس انجمن میں خوش آمدید کہتا ہوں۔ یہ دوستوں کی محفل ہے اور احباب یہاں مل جل کر ایک دوسرے کو سیکھنے میں مدد کرتے ہیں۔ امید ہے کہ آپ یہاں آتے رہیں گے اور نہ صرف یہ کہ اپنی تخلیقات پیش کریں گے بلکہ دیگر ساتھیوں کی تخلیقات پر بھی اپنی رائے کا اظہار فرمائیں گے۔ شکریہ۔

آپ کی اس تخلیق کو دیکھ کر لگتا ہے کہ شعر گوئی کے کچھ جراثیم آپ میں موجود ہیں۔ البتہ وہ ابھی اپنے ابتدائی مرحلے میں ہیں اور ابھی بہت کچھ طے کرنا باقی ہے۔ آپ ہمت نہ ہاریں اور محنت جاری رکھیں تو منزل پر ضرور پہنچ جائیں گے، ان شاء اللہ۔

اس تخلیق پر کچھ کہنے کی بجائے دل چاہتا ہے کہ جہاں جہاں بہتری چاہیے ہے، اس کی طرف اشارہ کر کے آگے بڑھ جاؤں۔ امید ہے کہ آپ کے حق میں یہ بہتر ثابت ہوگا۔

۔۱۔ آپ کا ذوقِ شعری آپ کو وزن سے زیادہ دور نہیں جانے دیتا، یہ بڑی نعمت ہے۔ آپ کو چاہیے کہ شاعری کا بنیادی علم اور وزن سے متعلق ضروری اصولوں کا مطالعہ کیجیے۔ اس کے بعد مشقِ مسلسل سے آپ جلد ہی باوزن اشعار کہنے لگیں گے۔ اسی انجمن میں "آسان عروض" کے گوشے میں محترم جناب سرورؔ صاحب اور دیگر احباب کے مضامین آپ کی رہنمائی کریں گے۔

۔۲۔ بظاہر یہ تخلیق ایک پابند شعری تخلیق ہے، جس میں قافیہ کا اہتمام لازمی سمجھا جاتا ہے، اور اکثر ردیف کو بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ آپ کی تخلیق میں 'چاہتے ہیں ہم" تو ردیف ٹھہری، لیکن قافیہ غائب ہے۔

۔۳۔ آپ کو چاہیے کہ اشعار میں بلند افکار کو باندھیں۔ عشق یوں ایک پاک جذبہ ہے مگر گلی کوچوں والی محبت کے سبب بدنام ہے۔ سنجیدہ فکر سے کام لیجیے تاکہ آپ کے عشق کو بلند پرواز عطا ہو۔

۔۴۔ اچھا شعر کہنے کے لیے الفاظ کا انتخاب بہت بنیادی ضرورت ہے۔ یہ الفاظ نہ صرف شعر میں وزن کے تقاضوں کو پورا کرتے ہیں بلکہ اس سے اہم یہ ہے کہ یہ مطلب کی ادائی کا بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ کوشش کرنی چاہیے کہ غیر ضروری انگریزی الفاظ سے اجتناب برتنا چاہیے۔ آپ کی تخلیق میں لفظ "مس" کتنا ضروری ہے یہ آپ بخوبی جانتے ہیں۔ کچھ شعرا نے سنجیدہ شاعری میں انگریزی الفاظ کا استعمال کیا ہے لیکن اس کی ضرورت کا پاس رکھنا بہت اہم ہے۔

۔۵۔ اچھا لکھنے کے لیے اچھا پڑھنا بہت ضروری ہے۔ اچھے اور مشہور (اور مستند) شعرا کے کلام کا مطالعہ کیجیے۔ اس سے نہ صرف آپ کی فکر میں پختگی پیدا ہوگی بلکہ الفاظ کا انتخاب اور ان کی نشت و برخواست کا ذوق پیدا ہوگا۔ ایک اور فائدہ یہ ہوگا کہ آپ کو الفاظ کے صحیح تلفظ سے آشنائی ہوگی۔
جیسے آپ نے "سَہْل" کو "سَہَل" کے وزن پر باندھا ہے جو درست نہیں ہے۔

آپ نے اپنی زبان کی روانی کے معیار پر الفاظ کا وزن قرار دیا ہے جبکہ ہر لفظ کا اپنا وزن ہوتا ہے اور ہمیں اسی کے مطابق مصرعے کا وزن درست کرنا ہوتا ہے۔ اس پر قابو پانے کی ایک صورت یہ ہے کہ آپ لفظ کو زبان سے ٹھہر ٹھہر کر ادا کریں تاکہ ہر چھوٹی بڑی آواز پہچانی جا سکے۔ اس بارے میں آپ "آسان عروض" کے مضامین میں مزید معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

ان باتوں سے آپ کی حوصلہ شکنی ہرگز مقصود نہیں ہے، بلکہ دل حقیقتاً یہی چاہتا ہے کہ آپ جلد ان باتوں کو سیکھ لیں اور ہمیں اپنی خوبصورت تخلیقات سے مسفیض فرمائیں۔

اگر میری کسی بات سے دل آزاری ہوئی ہو تو اس کے لیے معذرت کا خواستگار ہوں۔

احقر
عامر عباس

غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 6360
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar
چاہت جو آپ کی ہے وہی چاہتے ہیں ہم
اس چاہ میں چاہت کا چمن چاہتے ہیں ہم
گرآپ کو فرصت نہیں تو ہم بھی ہیں مصروف
خیرآپ کی دن رات رب سے چاہتے ہیں ہم
مس! آپ رہیں شاد و سرفراز ہر اک گام
ہرکام آپ کا ہو سہل چاہتے ہیں ہم
سرشار شادمانی میں ہوں آپ شب تلک
ہرصبح ہو صباحِ بہار چاہتے ہیں ہم
جیون کی تمنا کہ وہ  کردیں نگاہ سے قتل
جینے کی تمنا میں مرا چاہتے ہیں ہم
اس زیست میں ملنے کی جو ملتی نہیں فرصت
ملنے کی تمنا میں قضا چاہتے ہیں ہم
سایہ فگن ہوں آپ سدا مانندِ فلک
خود خاک کی مانند بچھا چاہتے ہیں ہم
مس! آپ جہاں بھی رہیں ہوں مطمئن جناب
بس اک بار یہ فیصل سے کہیں چاہتے ہیں ہم


محترمی فیصل صاحب: سلام علیکم
آپ کو اردوانجمن میں دیکھ کر مسرت ہوئی۔ اب گزارش ہے کہ یہاں برابر مستقل مزاجی سے آتے رہیں اور سیکھنے سکھانے کا عمل جاری رکھیں۔ جناب عامر صاحب نے مفصل خط لکھ کر تمام ایسے معاملات کا احاطہ کر لیا ہے جو آپ کو اس کام میں مدد دے سکتے ہیں۔ ان کی تجاویز میں کسی اضافے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ہے۔ صرف اتنا کہوں گا کہ عروض کا کچھ علم حاصل کرلیجئے۔ آئندہ یہ بہت کام ائے گا۔ اس سلسلہ میں اکثر میں اپنی کتاب "آسان عروض اور نکات شاعری" کا ذکر کرتا ہوں کیونکہ اس میں عروض کو آسان بنا کر سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کو خرید لیجئے اور اس کا مطالعہ اور مشق کیجئے۔ یہ کتاب پاکستان میں صفدر ملک صاحب سے اس پتے پر حاصل کی جا سکتی ہے:
vprint.vp@gmail.com
صفدر صاجب بہت نیک اور مددگار شخص ہیں۔ اپ ان سے بات کر کے خوش ہوں گے۔ اگر کوئی مشکل پیش آئے تو یہاں بتائیں۔ دوست ہمہ وقت مدد کو تیار ہیں۔

سرورعالم راز





غیرحاضر فیصل

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 3
محترم جناب فیصل صاحب، آداب۔
سب سے پہلے آپ کو اس انجمن میں خوش آمدید کہتا ہوں۔ یہ دوستوں کی محفل ہے اور احباب یہاں مل جل کر ایک دوسرے کو سیکھنے میں مدد کرتے ہیں۔ امید ہے کہ آپ یہاں آتے رہیں گے اور نہ صرف یہ کہ اپنی تخلیقات پیش کریں گے بلکہ دیگر ساتھیوں کی تخلیقات پر بھی اپنی رائے کا اظہار فرمائیں گے۔ شکریہ۔

آپ کی اس تخلیق کو دیکھ کر لگتا ہے کہ شعر گوئی کے کچھ جراثیم آپ میں موجود ہیں۔ البتہ وہ ابھی اپنے ابتدائی مرحلے میں ہیں اور ابھی بہت کچھ طے کرنا باقی ہے۔ آپ ہمت نہ ہاریں اور محنت جاری رکھیں تو منزل پر ضرور پہنچ جائیں گے، ان شاء اللہ۔

اس تخلیق پر کچھ کہنے کی بجائے دل چاہتا ہے کہ جہاں جہاں بہتری چاہیے ہے، اس کی طرف اشارہ کر کے آگے بڑھ جاؤں۔ امید ہے کہ آپ کے حق میں یہ بہتر ثابت ہوگا۔

۔۱۔ آپ کا ذوقِ شعری آپ کو وزن سے زیادہ دور نہیں جانے دیتا، یہ بڑی نعمت ہے۔ آپ کو چاہیے کہ شاعری کا بنیادی علم اور وزن سے متعلق ضروری اصولوں کا مطالعہ کیجیے۔ اس کے بعد مشقِ مسلسل سے آپ جلد ہی باوزن اشعار کہنے لگیں گے۔ اسی انجمن میں "آسان عروض" کے گوشے میں محترم جناب سرورؔ صاحب اور دیگر احباب کے مضامین آپ کی رہنمائی کریں گے۔

۔۲۔ بظاہر یہ تخلیق ایک پابند شعری تخلیق ہے، جس میں قافیہ کا اہتمام لازمی سمجھا جاتا ہے، اور اکثر ردیف کو بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ آپ کی تخلیق میں 'چاہتے ہیں ہم" تو ردیف ٹھہری، لیکن قافیہ غائب ہے۔

۔۳۔ آپ کو چاہیے کہ اشعار میں بلند افکار کو باندھیں۔ عشق یوں ایک پاک جذبہ ہے مگر گلی کوچوں والی محبت کے سبب بدنام ہے۔ سنجیدہ فکر سے کام لیجیے تاکہ آپ کے عشق کو بلند پرواز عطا ہو۔

۔۴۔ اچھا شعر کہنے کے لیے الفاظ کا انتخاب بہت بنیادی ضرورت ہے۔ یہ الفاظ نہ صرف شعر میں وزن کے تقاضوں کو پورا کرتے ہیں بلکہ اس سے اہم یہ ہے کہ یہ مطلب کی ادائی کا بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ کوشش کرنی چاہیے کہ غیر ضروری انگریزی الفاظ سے اجتناب برتنا چاہیے۔ آپ کی تخلیق میں لفظ "مس" کتنا ضروری ہے یہ آپ بخوبی جانتے ہیں۔ کچھ شعرا نے سنجیدہ شاعری میں انگریزی الفاظ کا استعمال کیا ہے لیکن اس کی ضرورت کا پاس رکھنا بہت اہم ہے۔

۔۵۔ اچھا لکھنے کے لیے اچھا پڑھنا بہت ضروری ہے۔ اچھے اور مشہور (اور مستند) شعرا کے کلام کا مطالعہ کیجیے۔ اس سے نہ صرف آپ کی فکر میں پختگی پیدا ہوگی بلکہ الفاظ کا انتخاب اور ان کی نشت و برخواست کا ذوق پیدا ہوگا۔ ایک اور فائدہ یہ ہوگا کہ آپ کو الفاظ کے صحیح تلفظ سے آشنائی ہوگی۔
جیسے آپ نے "سَہْل" کو "سَہَل" کے وزن پر باندھا ہے جو درست نہیں ہے۔

آپ نے اپنی زبان کی روانی کے معیار پر الفاظ کا وزن قرار دیا ہے جبکہ ہر لفظ کا اپنا وزن ہوتا ہے اور ہمیں اسی کے مطابق مصرعے کا وزن درست کرنا ہوتا ہے۔ اس پر قابو پانے کی ایک صورت یہ ہے کہ آپ لفظ کو زبان سے ٹھہر ٹھہر کر ادا کریں تاکہ ہر چھوٹی بڑی آواز پہچانی جا سکے۔ اس بارے میں آپ "آسان عروض" کے مضامین میں مزید معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

ان باتوں سے آپ کی حوصلہ شکنی ہرگز مقصود نہیں ہے، بلکہ دل حقیقتاً یہی چاہتا ہے کہ آپ جلد ان باتوں کو سیکھ لیں اور ہمیں اپنی خوبصورت تخلیقات سے مسفیض فرمائیں۔

اگر میری کسی بات سے دل آزاری ہوئی ہو تو اس کے لیے معذرت کا خواستگار ہوں۔

احقر
عامر عباس
مکرمی و محترمی!السلامُ علیکم!
الحمدللہ!میں خود کو خوش قسمت سمجھ رہا ہوں کہ آپ جیسی معتبر اورعلمی شخصیت نے مجھ جیسے عام آدمی کے عجیب کلام کو پڑھ لیا اور اس پر اپنے قیمتی رائے عطا کی۔
میں معافی چاہتا ہوں کہ میں نے اسے اپنا کلام کہا۔ دراصل میں نے کسی ٹیچر(مِس) کے لیے اپنے جذبات کا اظہار کیا تھا اور سوچا کہ اسے یہاں علمی شخصیات سے بہترین کرواکر پھر اُن کی نذر کرتا۔ لیکن میری کم علمی کی وجہ سے یہ کلام اس قابل ہی نہیں تھا کہ اس پر اصلاحی رائے دی جاتی۔
آئندہ خیال رکھوں گا کہ اس طرح کی کوئی گستاخی نہ کروں۔ معافی قبول کیجئے گا۔
آپ جناب کی عنایت کا بے حد شکریہ۔
رب تعالیٰ آپ کو خیروخوشیاں اور سربلندی عطا فرمائے۔
والسلام!

غیرحاضر فیصل

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 3
چاہت جو آپ کی ہے وہی چاہتے ہیں ہم
اس چاہ میں چاہت کا چمن چاہتے ہیں ہم
گرآپ کو فرصت نہیں تو ہم بھی ہیں مصروف
خیرآپ کی دن رات رب سے چاہتے ہیں ہم
مس! آپ رہیں شاد و سرفراز ہر اک گام
ہرکام آپ کا ہو سہل چاہتے ہیں ہم
سرشار شادمانی میں ہوں آپ شب تلک
ہرصبح ہو صباحِ بہار چاہتے ہیں ہم
جیون کی تمنا کہ وہ  کردیں نگاہ سے قتل
جینے کی تمنا میں مرا چاہتے ہیں ہم
اس زیست میں ملنے کی جو ملتی نہیں فرصت
ملنے کی تمنا میں قضا چاہتے ہیں ہم
سایہ فگن ہوں آپ سدا مانندِ فلک
خود خاک کی مانند بچھا چاہتے ہیں ہم
مس! آپ جہاں بھی رہیں ہوں مطمئن جناب
بس اک بار یہ فیصل سے کہیں چاہتے ہیں ہم


محترمی فیصل صاحب: سلام علیکم
آپ کو اردوانجمن میں دیکھ کر مسرت ہوئی۔ اب گزارش ہے کہ یہاں برابر مستقل مزاجی سے آتے رہیں اور سیکھنے سکھانے کا عمل جاری رکھیں۔ جناب عامر صاحب نے مفصل خط لکھ کر تمام ایسے معاملات کا احاطہ کر لیا ہے جو آپ کو اس کام میں مدد دے سکتے ہیں۔ ان کی تجاویز میں کسی اضافے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ہے۔ صرف اتنا کہوں گا کہ عروض کا کچھ علم حاصل کرلیجئے۔ آئندہ یہ بہت کام ائے گا۔ اس سلسلہ میں اکثر میں اپنی کتاب "آسان عروض اور نکات شاعری" کا ذکر کرتا ہوں کیونکہ اس میں عروض کو آسان بنا کر سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کو خرید لیجئے اور اس کا مطالعہ اور مشق کیجئے۔ یہ کتاب پاکستان میں صفدر ملک صاحب سے اس پتے پر حاصل کی جا سکتی ہے:
vprint.vp@gmail.com
صفدر صاجب بہت نیک اور مددگار شخص ہیں۔ اپ ان سے بات کر کے خوش ہوں گے۔ اگر کوئی مشکل پیش آئے تو یہاں بتائیں۔ دوست ہمہ وقت مدد کو تیار ہیں۔

سرورعالم راز



محترم جناب فیصل صاحب، آداب۔
سب سے پہلے آپ کو اس انجمن میں خوش آمدید کہتا ہوں۔ یہ دوستوں کی محفل ہے اور احباب یہاں مل جل کر ایک دوسرے کو سیکھنے میں مدد کرتے ہیں۔ امید ہے کہ آپ یہاں آتے رہیں گے اور نہ صرف یہ کہ اپنی تخلیقات پیش کریں گے بلکہ دیگر ساتھیوں کی تخلیقات پر بھی اپنی رائے کا اظہار فرمائیں گے۔ شکریہ۔

آپ کی اس تخلیق کو دیکھ کر لگتا ہے کہ شعر گوئی کے کچھ جراثیم آپ میں موجود ہیں۔ البتہ وہ ابھی اپنے ابتدائی مرحلے میں ہیں اور ابھی بہت کچھ طے کرنا باقی ہے۔ آپ ہمت نہ ہاریں اور محنت جاری رکھیں تو منزل پر ضرور پہنچ جائیں گے، ان شاء اللہ۔

اس تخلیق پر کچھ کہنے کی بجائے دل چاہتا ہے کہ جہاں جہاں بہتری چاہیے ہے، اس کی طرف اشارہ کر کے آگے بڑھ جاؤں۔ امید ہے کہ آپ کے حق میں یہ بہتر ثابت ہوگا۔

۔۱۔ آپ کا ذوقِ شعری آپ کو وزن سے زیادہ دور نہیں جانے دیتا، یہ بڑی نعمت ہے۔ آپ کو چاہیے کہ شاعری کا بنیادی علم اور وزن سے متعلق ضروری اصولوں کا مطالعہ کیجیے۔ اس کے بعد مشقِ مسلسل سے آپ جلد ہی باوزن اشعار کہنے لگیں گے۔ اسی انجمن میں "آسان عروض" کے گوشے میں محترم جناب سرورؔ صاحب اور دیگر احباب کے مضامین آپ کی رہنمائی کریں گے۔

۔۲۔ بظاہر یہ تخلیق ایک پابند شعری تخلیق ہے، جس میں قافیہ کا اہتمام لازمی سمجھا جاتا ہے، اور اکثر ردیف کو بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ آپ کی تخلیق میں 'چاہتے ہیں ہم" تو ردیف ٹھہری، لیکن قافیہ غائب ہے۔

۔۳۔ آپ کو چاہیے کہ اشعار میں بلند افکار کو باندھیں۔ عشق یوں ایک پاک جذبہ ہے مگر گلی کوچوں والی محبت کے سبب بدنام ہے۔ سنجیدہ فکر سے کام لیجیے تاکہ آپ کے عشق کو بلند پرواز عطا ہو۔

۔۴۔ اچھا شعر کہنے کے لیے الفاظ کا انتخاب بہت بنیادی ضرورت ہے۔ یہ الفاظ نہ صرف شعر میں وزن کے تقاضوں کو پورا کرتے ہیں بلکہ اس سے اہم یہ ہے کہ یہ مطلب کی ادائی کا بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ کوشش کرنی چاہیے کہ غیر ضروری انگریزی الفاظ سے اجتناب برتنا چاہیے۔ آپ کی تخلیق میں لفظ "مس" کتنا ضروری ہے یہ آپ بخوبی جانتے ہیں۔ کچھ شعرا نے سنجیدہ شاعری میں انگریزی الفاظ کا استعمال کیا ہے لیکن اس کی ضرورت کا پاس رکھنا بہت اہم ہے۔

۔۵۔ اچھا لکھنے کے لیے اچھا پڑھنا بہت ضروری ہے۔ اچھے اور مشہور (اور مستند) شعرا کے کلام کا مطالعہ کیجیے۔ اس سے نہ صرف آپ کی فکر میں پختگی پیدا ہوگی بلکہ الفاظ کا انتخاب اور ان کی نشت و برخواست کا ذوق پیدا ہوگا۔ ایک اور فائدہ یہ ہوگا کہ آپ کو الفاظ کے صحیح تلفظ سے آشنائی ہوگی۔
جیسے آپ نے "سَہْل" کو "سَہَل" کے وزن پر باندھا ہے جو درست نہیں ہے۔

آپ نے اپنی زبان کی روانی کے معیار پر الفاظ کا وزن قرار دیا ہے جبکہ ہر لفظ کا اپنا وزن ہوتا ہے اور ہمیں اسی کے مطابق مصرعے کا وزن درست کرنا ہوتا ہے۔ اس پر قابو پانے کی ایک صورت یہ ہے کہ آپ لفظ کو زبان سے ٹھہر ٹھہر کر ادا کریں تاکہ ہر چھوٹی بڑی آواز پہچانی جا سکے۔ اس بارے میں آپ "آسان عروض" کے مضامین میں مزید معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

ان باتوں سے آپ کی حوصلہ شکنی ہرگز مقصود نہیں ہے، بلکہ دل حقیقتاً یہی چاہتا ہے کہ آپ جلد ان باتوں کو سیکھ لیں اور ہمیں اپنی خوبصورت تخلیقات سے مسفیض فرمائیں۔

اگر میری کسی بات سے دل آزاری ہوئی ہو تو اس کے لیے معذرت کا خواستگار ہوں۔

احقر
عامر عباس
مکرمی و محترمی!السلامُ علیکم!
الحمدللہ!میں خود کو خوش قسمت سمجھ رہا ہوں کہ آپ جیسی معتبر اورعلمی شخصیت نے مجھ جیسے عام آدمی کے عجیب کلام کو پڑھ لیا اور اس پر اپنے قیمتی رائے عطا کی۔
میں معافی چاہتا ہوں کہ میں نے اسے اپنا کلام کہا۔ دراصل میں نے کسی ٹیچر(مِس) کے لیے اپنے جذبات کا اظہار کیا تھا اور سوچا کہ اسے یہاں علمی شخصیات سے بہترین کرواکر پھر اُن کی نذر کرتا۔ لیکن میری کم علمی کی وجہ سے یہ کلام اس قابل ہی نہیں تھا کہ اس پر اصلاحی رائے دی جاتی۔
آئندہ خیال رکھوں گا کہ اس طرح کی کوئی گستاخی نہ کروں۔ معافی قبول کیجئے گا۔
آپ جناب کی عنایت کا بے حد شکریہ۔
رب تعالیٰ آپ کو خیروخوشیاں اور سربلندی عطا فرمائے۔
والسلام!

چاہت جو آپ کی ہے وہی چاہتے ہیں ہم
اس چاہ میں چاہت کا چمن چاہتے ہیں ہم
گرآپ کو فرصت نہیں تو ہم بھی ہیں مصروف
خیرآپ کی دن رات رب سے چاہتے ہیں ہم
مس! آپ رہیں شاد و سرفراز ہر اک گام
ہرکام آپ کا ہو سہل چاہتے ہیں ہم
سرشار شادمانی میں ہوں آپ شب تلک
ہرصبح ہو صباحِ بہار چاہتے ہیں ہم
جیون کی تمنا کہ وہ  کردیں نگاہ سے قتل
جینے کی تمنا میں مرا چاہتے ہیں ہم
اس زیست میں ملنے کی جو ملتی نہیں فرصت
ملنے کی تمنا میں قضا چاہتے ہیں ہم
سایہ فگن ہوں آپ سدا مانندِ فلک
خود خاک کی مانند بچھا چاہتے ہیں ہم
مس! آپ جہاں بھی رہیں ہوں مطمئن جناب
بس اک بار یہ فیصل سے کہیں چاہتے ہیں ہم


محترمی فیصل صاحب: سلام علیکم
آپ کو اردوانجمن میں دیکھ کر مسرت ہوئی۔ اب گزارش ہے کہ یہاں برابر مستقل مزاجی سے آتے رہیں اور سیکھنے سکھانے کا عمل جاری رکھیں۔ جناب عامر صاحب نے مفصل خط لکھ کر تمام ایسے معاملات کا احاطہ کر لیا ہے جو آپ کو اس کام میں مدد دے سکتے ہیں۔ ان کی تجاویز میں کسی اضافے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ہے۔ صرف اتنا کہوں گا کہ عروض کا کچھ علم حاصل کرلیجئے۔ آئندہ یہ بہت کام ائے گا۔ اس سلسلہ میں اکثر میں اپنی کتاب "آسان عروض اور نکات شاعری" کا ذکر کرتا ہوں کیونکہ اس میں عروض کو آسان بنا کر سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کو خرید لیجئے اور اس کا مطالعہ اور مشق کیجئے۔ یہ کتاب پاکستان میں صفدر ملک صاحب سے اس پتے پر حاصل کی جا سکتی ہے:
vprint.vp@gmail.com
صفدر صاجب بہت نیک اور مددگار شخص ہیں۔ اپ ان سے بات کر کے خوش ہوں گے۔ اگر کوئی مشکل پیش آئے تو یہاں بتائیں۔ دوست ہمہ وقت مدد کو تیار ہیں۔

سرورعالم راز




مکرمی و محترمی!السلامُ علیکم!
الحمدللہ!میں خود کو خوش قسمت سمجھ رہا ہوں کہ آپ جیسی معتبر اورعلمی شخصیت نے مجھ جیسے عام آدمی کے عجیب کلام کو پڑھ لیا اور اس پر اپنے قیمتی رائے عطا کی۔
آئندہ خیال رکھوں گا کہ اس طرح کی کوئی گستاخی نہ کروں۔ پہلے کچھ سیکھ لوں پھر آپ جناب کی خدمت میں پیش کروں گا، تاکہ کچھ اصلاح عطا ہو جائے۔
آپ جناب کی عنایت کا بے حد شکریہ۔
رب تعالیٰ آپ کو خیروخوشیاں اور سربلندی عطا فرمائے۔
والسلام!

 

Copyright © اُردو انجمن