اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: پھر اجالا ہُوا دیکھتے دیکھتے  (پڑھا گیا 88 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3296
پھر اجالا ہُوا دیکھتے دیکھتے
« بروز: جولائی 07, 2018, 09:05:33 شام »


قارئین کرام آداب عرض ایک کلام پیشِ خدمت ہے ، امید ہے پسند آئے گا اپنی آرا سے نوازیے ۔ شکریہ
عرض کیا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
پھر اجالا ہُوا دیکھتے دیکھتے
جب اندھیرا چھٹا دیکھتے دیکھتے

زندگی ڈھنگ اپنے بدلنے لگی
بدلا جب آئینہ دیکھتے دیکھتے

تجھ کو عزت نہیں راس آئی جبھی
رُسوا تُو ہو گیا دیکھتے دیکھتے

کتنا مشکل ہے سچ بولنا آج کل
ہر کوئی ہو خفا دیکھتے دیکھتے

گل سے الفت جتائی صلہ مل گیا
دل میں کانٹا چُبھادیکھتے دیکھتے

ساری دنیا بدلنے چلا تھا کوئی
خود نہ بدلا ذرا دیکھتے دیکھتے

چلتے چلتے جدا راستے ہوگئے
پائی منزل جدا دیکھتے دیکھتے

اپنی اپنی حدوں میں رہا جائے اب
کر لیا فیصلہ دیکھتے دیکھتے

لَو دیے کی لگی پھڑپھڑانے تو بس
اب بجھے گا دیا دیکھتے دیکھتے

تھا پرستار کل تک خیالؔ آپ کا
چھوڑ کر جا چکا دیکھتے دیکھتے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
توجہ کا طلبگار
اسماعیل اعجازخیالؔ


محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

غیرحاضر nawaz

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 431
جواب: پھر اجالا ہُوا دیکھتے دیکھتے
« Reply #1 بروز: جولائی 08, 2018, 07:56:22 صبح »
محترم اسماعیل اعجاز صاحب سلامِ مسنون
آپ کی نئ غزل پڑھی ھر شعرکا زیِر و بم پوری غزل میں ایک مختلف پیرائے
میں قاری کے ذہن کو پیغام دیتا دکھائ دیتا ہے۰۰۰
مقطع، پھر اُجالا ہوا دیکھتے دیکھتے
             جب اندھیرا چھٹا دیکھتےد یکھتے
یہ عام مشاھدہ ہے شعر دل و دماغ کو متاثر نہ کرسکا
۲ زندگی ڈھنگ اپنے بدلنے لگی
   بدلا جب آئنہ دیکھتے دیکھتے
 بھائ زندگی ایک حقیت آئنہ محض شبیہ مجازی کا رکھوالا، زندگی اور
آئنہ کا خیال مدغم اور یک جاں دو قالب،، ذرا اس گتھی کو سلجا ئں شکریہ
۴ کتنا مشکل ہے سچ بولنا آج کل
  ہر کوئ ہو خفا دیکھتے دیکھتے
بہت خوب؛ خوب کہا  داد حاضر ہے
۵ گُل سے الفت جتائ صلہ مل گیا
   دل میں کانٹا چُبھا دیکھتے دیکھتے
کیا الفاظ بندش اور چناوء ہے ذہن میں طلاطم اور پھر کسی کی آواز آئ
  کانٹوں کے انتقام کی شاید خبر نہ تھی
  پھولوں پہ ہاتھ ڈالنے والے اُچھل پڑے
  تھا پرستار کل تک خیال آپ کا
  چھوڑ کر جا چکا دیکھتے دیکھتے
  شعر خوب داد پیش کرتا ہوں؛؛ مگر بھائ یہ آپ کے دل کے تار
  اچانک نغمہ غم آگیں کیوں سنانے لگے
ع  دل سے اُٹھتی ہے اک آواز وفورِغم میں
    کوک اُٹھے موسمِ برسات میں کوئل جیسے
خیر بھائ عمدہ کلام پر داد؛ اللہ ،امن،عافیت،سکونِ قلب عطا فرمائے
دعا گو نواز

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3296
جواب: پھر اجالا ہُوا دیکھتے دیکھتے
« Reply #2 بروز: جولائی 12, 2018, 03:47:10 صبح »
محترم اسماعیل اعجاز صاحب سلامِ مسنون
آپ کی نئ غزل پڑھی ھر شعرکا زیِر و بم پوری غزل میں ایک مختلف پیرائے
میں قاری کے ذہن کو پیغام دیتا دکھائ دیتا ہے۰۰۰
مقطع، پھر اُجالا ہوا دیکھتے دیکھتے
             جب اندھیرا چھٹا دیکھتےد یکھتے
یہ عام مشاھدہ ہے شعر دل و دماغ کو متاثر نہ کرسکا
۲ زندگی ڈھنگ اپنے بدلنے لگی
   بدلا جب آئنہ دیکھتے دیکھتے
 بھائ زندگی ایک حقیت آئنہ محض شبیہ مجازی کا رکھوالا، زندگی اور
آئنہ کا خیال مدغم اور یک جاں دو قالب،، ذرا اس گتھی کو سلجا ئں شکریہ
۴ کتنا مشکل ہے سچ بولنا آج کل
  ہر کوئ ہو خفا دیکھتے دیکھتے
بہت خوب؛ خوب کہا  داد حاضر ہے
۵ گُل سے الفت جتائ صلہ مل گیا
   دل میں کانٹا چُبھا دیکھتے دیکھتے
کیا الفاظ بندش اور چناوء ہے ذہن میں طلاطم اور پھر کسی کی آواز آئ
  کانٹوں کے انتقام کی شاید خبر نہ تھی
  پھولوں پہ ہاتھ ڈالنے والے اُچھل پڑے
  تھا پرستار کل تک خیال آپ کا
  چھوڑ کر جا چکا دیکھتے دیکھتے
  شعر خوب داد پیش کرتا ہوں؛؛ مگر بھائ یہ آپ کے دل کے تار
  اچانک نغمہ غم آگیں کیوں سنانے لگے
ع  دل سے اُٹھتی ہے اک آواز وفورِغم میں
    کوک اُٹھے موسمِ برسات میں کوئل جیسے
خیر بھائ عمدہ کلام پر داد؛ اللہ ،امن،عافیت،سکونِ قلب عطا فرمائے
دعا گو نواز



 جناب محترم نواز صاحب
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
جنابِ عالی میں شکر گزار ہوں آپ کا کہ آپ نے مجھے اپنی محبتوں سے نوازا اپنا قیمتی وقت دیا شاد رہیے  ، اللہ آپ کو سدا سلامت رکھے دونوں جہانوں کی عزتوں سے نوازے
اپنا بہت خیال رکھیے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے
دعاگو
محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

 

Copyright © اُردو انجمن