اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: نغمہ نگار سیف الدین سیف  (پڑھا گیا 66 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3296
نغمہ نگار سیف الدین سیف
« بروز: جولائی 12, 2018, 11:27:31 صبح »

 آج پاکستان کے معروف شاعر اور نغمہ نگار سیف الدین سیفؔ کی تاریخِ وفات ہے۔
: سیف الدین سیف، ایک اچھے شاعر اور فلمساز تھے۔ سیف الدین سیف 20 مارچ 1922 کو امرتسر میں پیدا یوئے۔ سیف الدین سیف کو شروع ہی سے شاعری سے لگاؤ تھا اور کالج کے زمانے میں انہوں نے بہت سی عمدہ غزلیں کہیں۔ قیامِ پاکستان سے قبل انہوں نے کئی فلموں کیلئے گیت بھی لکھے مگر یہ فلمیں ریلیز نہ ہو سکیں۔
 فلم ‘تیری یاد’ جو آزادی سے پہلے بننا شروع ہوئی تھی، 1948 میں پاکستان میں ریلیز ہوئی۔ سیف نے اس فلم کے نغمات تحریر کیئے جنہیں بیحد سراہا گیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد بننے والی فلم ‘ہچکولے’ کیلئے بھی سیف الدین سیف نے نغمات لکھے اور یہ 1949 میں ریلیز ہوئی۔ تاہم انہیں زیادہ شہرت 1953 میں ‘غلام’ اور ‘محبوبہ’ کے نغمات سے ملی۔ سیف صاحب نے 1954 میں اپنی ذاتی فلمساز کمپنی ‘رہنما فلمز’ کا آغاز کیا اور پہلی فلم ‘رات کی بات’ بنائی مگر یہ فلاپ ہوئی۔ لیکن 1957 میں انکی فلم ‘سات لاکھ’ کو بے انتہا پسند کیا گیا اور یہ پاکستان کی کامیاب ترین فلموں میں شامل ہوئی۔ 1959 میں انہوں نے ایک اور بیحد کامیاب فلم ‘کرتار سنگھ’ بنائی جسکے ڈائریکٹر، پروڈیوسر، کہانی نگار اور نغمہ نگار وہ خود تھے۔ ایک نغمہ نگار کی حیثیت سے انہیں سب سے زیادہ شہرت فلم ‘گمنام’ کے گیت ‘تُو لاکھ چلے ری گوری تھم تھم کے’ سے ملی جسے اقبال بانو نے گایا تھا۔ سیف صاحب کی کامیاب فلموں میں ‘وعدہ، شمع اور پروانہ، امراؤ جان ادا اور ثریا بھوپالی’ بھی شامل ہیں۔
 ۔کف گل فروش،دور دراز،جب ترے شہر سے گزرتا ہوں(فلمی شاعری) اور ‘خمِ کاکُل سیف صاحب کی شاعری کا مجموعہ ’ کے نام سے شائع ہوا جس میں انکی غزلیات اور نظمیں شامل ہیں۔
سیف الدین سیف نے 12 جولائی 1993 کو لاہور میں وفات پائی۔

کس طرح روکتا ہوں اشک اپنے
کس قدر دل پہ جبر کرتا ہوں
جب ترے شہر سے گزرتا ہوں
اس قدر بھی نہیں مجھے معلوم
کس محلے میں ہے مکاں تیرا
کون سی شاخ ِ گل پہ رقصاں ہے
جانے رشک ِ فردوس، آشیاں تیرا
جانے کن وادیوں میں اترا ہے
غیرت ِ حسن، کارواں تیرا
کس سے پوچھوں گا میں خبر تیری
کون بتلائے گا نشاں تیرا
تیری رسوائیوں سے ڈرتا ہوں
جب ترے شہر سے گزرتا ہوں
حال ِ دل بھی نہ کہہ سکا گرچہ
تو رہی مدتوں قریب مرے
کچھ تری عظمتوں کا ڈر بھی تھا
کچھ خیالات تھے عجیب مرے
آخرِ کار وہ گھڑی آئی
باروَر ہوگئے رقیب مرے
تو مجھے چھوڑ کر چلی بھی گئی
خیر ! قسمت مری، نصیب مرے
اب میں کیوں تجھ کو یاد کرتا ہوں
جب ترے شہر سے گزرتا ہوں
گو زمانہ تری محبت کا
ایک بھولی ہوئی کہانی ہے
تیرے کوچے میں عمر بھر نہ گئے
ساری دنیا کی خاک چھانی ہے
لذت ِ وصل ہو کہ زخم فراق
جو بھی ہو تیری مہربانی ہے
کس تمنا سے تجھ کو چاہا تھا
کس محبت سے ہار مانی ہے
اپنی قمست پہ ناز کرتا ہوں
جب ترے شہر سے گزرتا ہوں
اشک پلکوں پہ آ نہیں سکتے
دل میں ہے تیری آبرو اب بھی
تجھ سے روشن ہے کائنات مری
تیرے جلوے ہیں چار سو اب بھی
اپنے غم خانہء تخئیل میں
تجھ سے ہوتی ہے گفتگو اب بھی
تجھ کو ویرانہء تصور میں
دیکھ لیتا ہوں روبرو اب بھی
اب بھی میں تجھ سے پیار کرتا ہوں
جب ترے شہر سے گزرتا ہوں
آج بھی کار زار ہستی میں
تو اگر ایک بار مل جائے
کسی محفل میں سامنا ہو جائے
یا سر راہگزر مل جائے
اک نظر دیکھ لے محبت سے
ایک لمحے کا پیار مل جائے
آرزؤوں کو چین آ جائے
حسرتوں کو قرار مل جائے
جانے کیا کیا خیال کرتا ہوں
جب ترے شہر سے گزرتا ہوں
آج میں اُس مقام پر ہوں جہاں
رسن و دار کی بلندی ہے
میرے اشعار کی لطافت میں
تیرے کردار کی بلندی ہے
تیری مجبوریوں کی عظمت ہے
میرے ایثار کی بلندی ہے
سب ترے درد کی عنایت ہے
سب ترے پیار کی بلندی ہے
تیرے غم سے نباہ کرتا ہوں
جب ترے شہر سے گزرتا ہوں
تجھ سے کوئی گلہ نہیں مجھ کو
میں تجھے بے وفا نہیں کہتا
تیرا ملنا خیال و خواب ہوا
پھر بھی نا آشنا نہیں کہتا
وہ جو کہتا تھا مجھ کو آوارہ
میں اُسے بھی بُرا نہیں کہتا
ورنہ اک بے نوا محبت میں
دل کے لٹنے پہ، کیا نہیں کہتا
میں تو مشکل سے آہ بھرتا ہوں
جب ترے شہر سے گزرتا ہوں
کوئی پرسان حال ہو تو کہوں
کیسی آندھی چلی ہے تیرے بعد
دن گزارا ہے کس طرح میں نے
رات کیسے ڈھلی ہے تیرے بعد
شمع اُمید صرصر ِ غم میں
کس بہانے جلی ہے تیرے بعد
جس میں کوئی مکیں نہ رہتا ہو
دل وہ سونی گلی ہے تیرے بعد
روز جیتا ہوں، روز مرتا ہوں
جب ترے شہر سے گززتا ہوں
لیکن اے ساکن ِ حریم ِ خیال
یاد ہے دور ِ کیف و کم کہ نہیں
کہ کبھی تیرے دل پہ گزرا ہے
میری محرومیوں کا غم کہ نہیں
میری بربادیوں کا سُن کر حال
آنکھ تیری ہوئی ہے نم کہ نہیں
اور اس کار زار ِ ہستی میں
پھر کبھی مل سکیں گے ہم کہ نہیں
ڈرتے ڈرتے سوال کرتا ہوں
جب ترے شہر سے گزرتا ہوں



محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • ******
  • تحریریں: 6356
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar
جواب: نغمہ نگار سیف الدین سیف
« Reply #1 بروز: جولائی 12, 2018, 08:55:44 شام »

 آج پاکستان کے معروف شاعر اور نغمہ نگار سیف الدین سیفؔ کی تاریخِ وفات ہے۔
: سیف الدین سیف، ایک اچھے شاعر اور فلمساز تھے۔ سیف الدین سیف 20 مارچ 1922 کو امرتسر میں پیدا یوئے۔ سیف الدین سیف کو شروع ہی سے شاعری سے لگاؤ تھا اور کالج کے زمانے میں انہوں نے بہت سی عمدہ غزلیں کہیں۔ قیامِ پاکستان سے قبل انہوں نے کئی فلموں کیلئے گیت بھی لکھے مگر یہ فلمیں ریلیز نہ ہو سکیں۔
 فلم ‘تیری یاد’ جو آزادی سے پہلے بننا شروع ہوئی تھی، 1948 میں پاکستان میں ریلیز ہوئی۔ سیف نے اس فلم کے نغمات تحریر کیئے جنہیں بیحد سراہا گیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد بننے والی فلم ‘ہچکولے’ کیلئے بھی سیف الدین سیف نے نغمات لکھے اور یہ 1949 میں ریلیز ہوئی۔ تاہم انہیں زیادہ شہرت 1953 میں ‘غلام’ اور ‘محبوبہ’ کے نغمات سے ملی۔ سیف صاحب نے 1954 میں اپنی ذاتی فلمساز کمپنی ‘رہنما فلمز’ کا آغاز کیا اور پہلی فلم ‘رات کی بات’ بنائی مگر یہ فلاپ ہوئی۔ لیکن 1957 میں انکی فلم ‘سات لاکھ’ کو بے انتہا پسند کیا گیا اور یہ پاکستان کی کامیاب ترین فلموں میں شامل ہوئی۔ 1959 میں انہوں نے ایک اور بیحد کامیاب فلم ‘کرتار سنگھ’ بنائی جسکے ڈائریکٹر، پروڈیوسر، کہانی نگار اور نغمہ نگار وہ خود تھے۔ ایک نغمہ نگار کی حیثیت سے انہیں سب سے زیادہ شہرت فلم ‘گمنام’ کے گیت ‘تُو لاکھ چلے ری گوری تھم تھم کے’ سے ملی جسے اقبال بانو نے گایا تھا۔ سیف صاحب کی کامیاب فلموں میں ‘وعدہ، شمع اور پروانہ، امراؤ جان ادا اور ثریا بھوپالی’ بھی شامل ہیں۔
 ۔کف گل فروش،دور دراز،جب ترے شہر سے گزرتا ہوں(فلمی شاعری) اور ‘خمِ کاکُل سیف صاحب کی شاعری کا مجموعہ ’ کے نام سے شائع ہوا جس میں انکی غزلیات اور نظمیں شامل ہیں۔
سیف الدین سیف نے 12 جولائی 1993 کو لاہور میں وفات پائی۔

کس طرح روکتا ہوں اشک اپنے
کس قدر دل پہ جبر کرتا ہوں
جب ترے شہر سے گزرتا ہوں
اس قدر بھی نہیں مجھے معلوم
کس محلے میں ہے مکاں تیرا
کون سی شاخ ِ گل پہ رقصاں ہے
جانے رشک ِ فردوس، آشیاں تیرا
جانے کن وادیوں میں اترا ہے
غیرت ِ حسن، کارواں تیرا
کس سے پوچھوں گا میں خبر تیری
کون بتلائے گا نشاں تیرا
تیری رسوائیوں سے ڈرتا ہوں
جب ترے شہر سے گزرتا ہوں
حال ِ دل بھی نہ کہہ سکا گرچہ
تو رہی مدتوں قریب مرے
کچھ تری عظمتوں کا ڈر بھی تھا
کچھ خیالات تھے عجیب مرے
آخرِ کار وہ گھڑی آئی
باروَر ہوگئے رقیب مرے
تو مجھے چھوڑ کر چلی بھی گئی
خیر ! قسمت مری، نصیب مرے
اب میں کیوں تجھ کو یاد کرتا ہوں
جب ترے شہر سے گزرتا ہوں
گو زمانہ تری محبت کا
ایک بھولی ہوئی کہانی ہے
تیرے کوچے میں عمر بھر نہ گئے
ساری دنیا کی خاک چھانی ہے
لذت ِ وصل ہو کہ زخم فراق
جو بھی ہو تیری مہربانی ہے
کس تمنا سے تجھ کو چاہا تھا
کس محبت سے ہار مانی ہے
اپنی قمست پہ ناز کرتا ہوں
جب ترے شہر سے گزرتا ہوں
اشک پلکوں پہ آ نہیں سکتے
دل میں ہے تیری آبرو اب بھی
تجھ سے روشن ہے کائنات مری
تیرے جلوے ہیں چار سو اب بھی
اپنے غم خانہء تخئیل میں
تجھ سے ہوتی ہے گفتگو اب بھی
تجھ کو ویرانہء تصور میں
دیکھ لیتا ہوں روبرو اب بھی
اب بھی میں تجھ سے پیار کرتا ہوں
جب ترے شہر سے گزرتا ہوں
آج بھی کار زار ہستی میں
تو اگر ایک بار مل جائے
کسی محفل میں سامنا ہو جائے
یا سر راہگزر مل جائے
اک نظر دیکھ لے محبت سے
ایک لمحے کا پیار مل جائے
آرزؤوں کو چین آ جائے
حسرتوں کو قرار مل جائے
جانے کیا کیا خیال کرتا ہوں
جب ترے شہر سے گزرتا ہوں
آج میں اُس مقام پر ہوں جہاں
رسن و دار کی بلندی ہے
میرے اشعار کی لطافت میں
تیرے کردار کی بلندی ہے
تیری مجبوریوں کی عظمت ہے
میرے ایثار کی بلندی ہے
سب ترے درد کی عنایت ہے
سب ترے پیار کی بلندی ہے
تیرے غم سے نباہ کرتا ہوں
جب ترے شہر سے گزرتا ہوں
تجھ سے کوئی گلہ نہیں مجھ کو
میں تجھے بے وفا نہیں کہتا
تیرا ملنا خیال و خواب ہوا
پھر بھی نا آشنا نہیں کہتا
وہ جو کہتا تھا مجھ کو آوارہ
میں اُسے بھی بُرا نہیں کہتا
ورنہ اک بے نوا محبت میں
دل کے لٹنے پہ، کیا نہیں کہتا
میں تو مشکل سے آہ بھرتا ہوں
جب ترے شہر سے گزرتا ہوں
کوئی پرسان حال ہو تو کہوں
کیسی آندھی چلی ہے تیرے بعد
دن گزارا ہے کس طرح میں نے
رات کیسے ڈھلی ہے تیرے بعد
شمع اُمید صرصر ِ غم میں
کس بہانے جلی ہے تیرے بعد
جس میں کوئی مکیں نہ رہتا ہو
دل وہ سونی گلی ہے تیرے بعد
روز جیتا ہوں، روز مرتا ہوں
جب ترے شہر سے گززتا ہوں
لیکن اے ساکن ِ حریم ِ خیال
یاد ہے دور ِ کیف و کم کہ نہیں
کہ کبھی تیرے دل پہ گزرا ہے
میری محرومیوں کا غم کہ نہیں
میری بربادیوں کا سُن کر حال
آنکھ تیری ہوئی ہے نم کہ نہیں
اور اس کار زار ِ ہستی میں
پھر کبھی مل سکیں گے ہم کہ نہیں
ڈرتے ڈرتے سوال کرتا ہوں
جب ترے شہر سے گزرتا ہوں



عزیز مکرم جناب خیال صاحب: سلام علیکم
سیف الدین سیف مرحوم پر آپ کی تحریر بہت شوق سے پڑھی۔ میں ہندوستان کا باسی ہون اس لئے پاکستان کے فلمی منظر نامے سے مطلق بیگانہ رہا۔ فلمی دنیا اور اس کے متعلقات سے ویسے بھی مجھ کو کبھی شوق نہیں رہا۔ فلم دیکھے ہوئے کوئی چالیس سال گزر گئے ہیں اور کبھی کسی کمی کا احساس نہیں ہوا۔ بہر حال میں سیف الدین سیف صاحب سے ادب وشعر کی کسی سظح پر بھی واقف نہیں تھا کہ یہ تحریر دیکھی۔ یاد آیا کہ "جب ترے شہر سے گزرتا ہوں" کہیں سنا تھا۔ اب یاد نہیں کہ کس حوالے سے اور کہاں سنا تھا۔ نظم پڑھ کر دل خوش ہوا۔ اگرچہ یہ بہت طویل ہے لیکن پڑھنے میں بوریت نہیں ہوئی۔ ایک تو موضوع دلکش ہے اور دوسرے یہ کہ نظم کا زیر وبم دلفریب ہے۔ رواں دواں شعر ڈھلتے چلے جاتے ہیں۔ میں آپ کا ممنون ہوں۔ کسی موقع سے مرحوم کی کچھ غزلیں بھی عنایت کیجئے۔ شکریہ۔
باقی راوی سب چین بولتا ہے۔

سرورعالم راز





 

Copyright © اُردو انجمن