اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: اردو شاعری میں ایہام گوئی  (پڑھا گیا 145 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3323
اردو شاعری میں ایہام گوئی
« بروز: جولائی 21, 2018, 05:12:57 صبح »


اردو شاعری میں ایہام گوئی

ایہام سے مراد وہم یا شک میں مبتلا کرنا ہے ۔اپنی اصل کے اعتبار سے ایہام کو رعایت لفظی کے ایک خاص انداز سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔ ذومعنی الفاظ کے استعمال سے تخلیق کار دو مفاہیم کے ذریعے قاری کو وہم میں ڈال کر اپنے فنی محاسن کے لیے داد طلب ہوتا ہے ۔ میرتقی میر نے ایہام کو ریختہ کی ایک قسم قرار دیا ہے۔
ایہام گو شعرا کے ہاں الفاظ کو دوہری معنویت کا حامل بنادیا جاتا ہے ۔
بادی النظر میں قاری قریب ترین معانی تک جاتا ہے مگر حقیقت میں اس سے مراد دور کے معانی ہوتے ہیں۔ اس طرح قاری قدرے تامل کے بعد دور کے مفہوم تک رسائی حاصل کرپاتا ہے مثلاً
یہی مضمون ِ خط ہے احسن اللہ
کہ حسن خوبرو یاں عارضی ہے

یہاں عارضی میں ایہام ہے ۔ عارضی کے قریب ترین معانی تو ناپائیدار ہیں مگر شاعر نے اس سے رخسار مراد لیے ہیں۔
نشہ ہو جس کو محبت کا سبز رنگوں کا
عجب نہیں جو وہ مشہور سب میں بھنگی ہو
یہاں لفظ بھنگی میں ایہام پایا جاتا ہے۔

علم صنائع بدائع میں ایہام کو ایک صنف قرار دیا گیا ہے۔
اردو زبان میں ایہام کے فروغ میں ہندی دوہوں کا گہرا عمل دخل ہے ۔
سنسکرت میں ایہام کو ” شلش“ کہاجاتا ہے ۔
اردو میں ہندی اور سنسکرت کے وسیلے سے ایہام کو فروغ ملا ۔
فارسی ادب میں بھی ایہام گوئی کا وجود پایا جاتا ہے مگر فارسی تخلیق کا ر اس میں کم دلچسپی لیتے تھے ۔
محمد حسن آزاد نے اردو میں ایہام گوئی کے سلسلے میں لکھا ہے کہ ہندی دوہوں کے زیر اثر اس کا آغاز ہوا

یہ بات قرین قیاس ہے کہ دوہوں نے ایہام گوئی کی راہ ہموار کی مثلاً یہ دوہا ملاحظہ کریں
رنگی کو نارنگی کہیں بنے دودھ کو کھویا
چلتی کو گاڑی کہیں دیکھ کبیرا رویا

در اصل شاعر کا مدعا یہ ہوتا ہے کہ بعید کے معنی پر توجہ مرکوز کی جائے اور قاری وہم کی صورت میں قریب کے معنی میں الجھ کر رہ جائے ۔
وہ تخلیق کار جنھوں نے ایہام گوئی پر بھرپور توجہ دی ان کے نام حسب ذیل ہیں:
خان آرزو ،شاہ مبارک آبرو ، ٹیک چند بہار ، حسن علی شوق، شہاب الدین ثاقب ، رائے آنند رام مخلص، میرزین العابدین آشنا، شرف الدین مضمون، شاہ حاتم ، محمد شاکر ناجی ، غلام مصطفٰے یک رنگ ،محمد احسن احسن، میر مکھن پاک باز ، محمد اشرف اشرف، ولی اللہ اشتیاق ، دلاورخان بیرنگ ، شرف الدین علی خان پیام ، سید حاتم علی خان حاتم ، شاہ فتح محمد دل ، میاں فضل علی دانا ، میر سعادت علی خاں دسعادت ، میر سجاد اکبر آبادی ، محمدعارف عارف ، عبد الغنی قبول ، شاہ کاکل ، شاہ مزمل ، عبدالواوہاب یک رو اور حیدر شاہ ۔

کلام میں ذومعنی الفاط کا استعمال کرنا اس عہد کے شعرا نے بظاہر ایک جدت کا پہلو تلاش کیا۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح کلام کے حسن میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ دور از کار مفہوم اور باتوں کی بے لطفی ضلع جگت کی بے لطفی سے کسی طور بھی کم نہیں

شاہ مبارک آبرو نے ایہام گوئی پر توجہ دی اور اسے اپنے اسلوب کی اساس بنایا۔آبر و کے اسلوب میں محض ایہام ہی نہیں بلکہ بسا اوقات وہ سادگی ،سلاست ،بے ساختگی اور دردمندی کو بھی اپنے تخیل کی اساس بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔اگر وہ ایہام پر انحصار نہ کرتے تو ان کا شاعرانہ مقام اس سے کہیں بلند ہوتا۔ایہام میں ان کی متبذل شاعری نے ان کے اسلوب کو شدید ضعف پہنچایا۔ شیخ شرف الدین مضمون نے ایہام گوئی کو بہ طور اسلوب اپنایا۔ان کا شمار ایہام گوئی کے بانیوں میں ہوتا ہے ۔ان کی شاعری میں ایہام کی فراوانی ہے ۔اس کے باوجود اس صنعت کے استعمال کی کسی شعوری کو شش یا کھینچ تان کا گمان نہیں گزرتا ۔ایہام گوئی ان کا اسلوب شعر و سخن رہا لیکن اس میں وہ اس سادگی ،سلاست ،بے ساختگی اور بے تکلفی کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ ان کے کمال فن کو تسلیم کرنا پڑتا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ تمام کیفیت نوائے سروش کی ایک صورت بن کر شاعر کے دل میں سما گئی ۔

مضمون شکر کر کہ تر ا نام سن رقیب
غصے سے بھوت ہو گیا لیکن جلا تو ہے
کر ے ہے دار بھی کام کو سر تاج
ہوا منصو ر سے یہ نکتہ حل آج
کرنا تھا نقش روئے زمیں پر ہمیں مراد
قالی اگر نہیں تو نہیں بوریا تو ہے
نظر آتا نہیں وہ ماہ روکیوں
گزرتا ہے مجھے یہ چاند خالی
اگر پاﺅں تو مضمون کو رکھوں باندھ
کروں کیا جو نہیں لگتا مرے ہاتھ

شیخ ظہور الدین حاتم کا ایک شعر:
نظر آوے ہے بکری سا کیا پر ذبح شیروں کو
نہ جانا میں کہ قصاب کا رکھتا ہے دل گردہ

اس عہد کے ایک اور شاعر کا نام بھی ایہام گوئی کے بانیوں میں شامل ہے یہ سید محمد شاکر ناجی ہیں ۔سید محمدشاکرناجی زمانی اعتبار سے شاہ حاتم اور ولی دکنی کے ہم عصر ہیں ۔
ریختہ ناجی کا ہے محکم اساس
بات میری بانیء ایہام ہے
قرآں کی سیر باغ پہ جھوٹی قسم نہ کھا
سیپارہ کیوں ہے غنچہ اگر تو ہنسا نہ ہو

مصطفی خان یک رنگ کی شاعری میں ایہام گوئی اس شدت کے ساتھ موجود نہیں جس قدر آبرو اور ناجی کے ہاں ہے ۔انھوں نے اپنے اسلوب پر ایہام گوئی کو مکمل طور پر حاوی نہیں ہونے دیا بلکہ ایہام گوئی کا ہلکا سا پرتو ان کی شاعری میں موجود ہے ۔
جدائی سے تری اے صندلی رنگ
مجھے یہ زندگانی دردسر ہے

ذیل میں بعض ایہام گو شعرا کا نمونہ کلام درج ہے ۔جس کے مطالعہ سے ان کے اسلوب کے بارے میں آگہی حاصل ہوسکتی ہے ۔

ٓٓاحسن اللہ احسن :
صبا کہیو اگر جاوے ہے تو اس شوخ دلبر سوں
کہ کر کے قول پرسوں کا گئے برسوں ہوئے برسوں

عبدالوہاب یکرو:
دیکھ تجھ سر میں جامئہ ململ
خوش قداں ہاتھ کو گئے ہیں مل

میر محمد سجاد :
ہم تو دیوانے ہیں جو زلف میں ہوتے ہیں
ورنہ زنجیر کا عالم میں نہیں ہے توڑا

ایک مرتبہ نواب آصف الدولہ شکار کو گئے سودا بھی ہمراہ تھے ۔ شکار کرتے ہوئے ”بھیلوں” کے جنگل میں نواب آصف الدولہ نے ایک شیر مارا۔اس موقع کی مناسبت سے سودا نے برجستہ کہا
یارو!یہ ابن ملجم پیدا ہوا دوبارہ
شیر خدا کو جس نے ” بھیلوں“ کے بن میں مارا

یہاں شیر خدا سے مراد اللہ کی مخوق شیر ہے ۔اس میں مزاح نگار نے ناہمواریوں کا ہمدردانہ شعور اجاگر کر کے فن کارانہ انداز میں ایہام کے ذریعے مزاح پیدا کیا ہے
منقول


محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 6360
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar
جواب: اردو شاعری میں ایہام گوئی
« Reply #1 بروز: جولائی 22, 2018, 01:07:55 شام »


اردو شاعری میں ایہام گوئی

ایہام سے مراد وہم یا شک میں مبتلا کرنا ہے ۔اپنی اصل کے اعتبار سے ایہام کو رعایت لفظی کے ایک خاص انداز سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔ ذومعنی الفاظ کے استعمال سے تخلیق کار دو مفاہیم کے ذریعے قاری کو وہم میں ڈال کر اپنے فنی محاسن کے لیے داد طلب ہوتا ہے ۔ میرتقی میر نے ایہام کو ریختہ کی ایک قسم قرار دیا ہے۔
ایہام گو شعرا کے ہاں الفاظ کو دوہری معنویت کا حامل بنادیا جاتا ہے ۔
بادی النظر میں قاری قریب ترین معانی تک جاتا ہے مگر حقیقت میں اس سے مراد دور کے معانی ہوتے ہیں۔ اس طرح قاری قدرے تامل کے بعد دور کے مفہوم تک رسائی حاصل کرپاتا ہے مثلاً
یہی مضمون ِ خط ہے احسن اللہ
کہ حسن خوبرو یاں عارضی ہے

یہاں عارضی میں ایہام ہے ۔ عارضی کے قریب ترین معانی تو ناپائیدار ہیں مگر شاعر نے اس سے رخسار مراد لیے ہیں۔
نشہ ہو جس کو محبت کا سبز رنگوں کا
عجب نہیں جو وہ مشہور سب میں بھنگی ہو
یہاں لفظ بھنگی میں ایہام پایا جاتا ہے۔

علم صنائع بدائع میں ایہام کو ایک صنف قرار دیا گیا ہے۔
اردو زبان میں ایہام کے فروغ میں ہندی دوہوں کا گہرا عمل دخل ہے ۔
سنسکرت میں ایہام کو ” شلش“ کہاجاتا ہے ۔
اردو میں ہندی اور سنسکرت کے وسیلے سے ایہام کو فروغ ملا ۔
فارسی ادب میں بھی ایہام گوئی کا وجود پایا جاتا ہے مگر فارسی تخلیق کا ر اس میں کم دلچسپی لیتے تھے ۔
محمد حسن آزاد نے اردو میں ایہام گوئی کے سلسلے میں لکھا ہے کہ ہندی دوہوں کے زیر اثر اس کا آغاز ہوا

یہ بات قرین قیاس ہے کہ دوہوں نے ایہام گوئی کی راہ ہموار کی مثلاً یہ دوہا ملاحظہ کریں
رنگی کو نارنگی کہیں بنے دودھ کو کھویا
چلتی کو گاڑی کہیں دیکھ کبیرا رویا

در اصل شاعر کا مدعا یہ ہوتا ہے کہ بعید کے معنی پر توجہ مرکوز کی جائے اور قاری وہم کی صورت میں قریب کے معنی میں الجھ کر رہ جائے ۔
وہ تخلیق کار جنھوں نے ایہام گوئی پر بھرپور توجہ دی ان کے نام حسب ذیل ہیں:
خان آرزو ،شاہ مبارک آبرو ، ٹیک چند بہار ، حسن علی شوق، شہاب الدین ثاقب ، رائے آنند رام مخلص، میرزین العابدین آشنا، شرف الدین مضمون، شاہ حاتم ، محمد شاکر ناجی ، غلام مصطفٰے یک رنگ ،محمد احسن احسن، میر مکھن پاک باز ، محمد اشرف اشرف، ولی اللہ اشتیاق ، دلاورخان بیرنگ ، شرف الدین علی خان پیام ، سید حاتم علی خان حاتم ، شاہ فتح محمد دل ، میاں فضل علی دانا ، میر سعادت علی خاں دسعادت ، میر سجاد اکبر آبادی ، محمدعارف عارف ، عبد الغنی قبول ، شاہ کاکل ، شاہ مزمل ، عبدالواوہاب یک رو اور حیدر شاہ ۔

کلام میں ذومعنی الفاط کا استعمال کرنا اس عہد کے شعرا نے بظاہر ایک جدت کا پہلو تلاش کیا۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح کلام کے حسن میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ دور از کار مفہوم اور باتوں کی بے لطفی ضلع جگت کی بے لطفی سے کسی طور بھی کم نہیں

شاہ مبارک آبرو نے ایہام گوئی پر توجہ دی اور اسے اپنے اسلوب کی اساس بنایا۔آبر و کے اسلوب میں محض ایہام ہی نہیں بلکہ بسا اوقات وہ سادگی ،سلاست ،بے ساختگی اور دردمندی کو بھی اپنے تخیل کی اساس بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔اگر وہ ایہام پر انحصار نہ کرتے تو ان کا شاعرانہ مقام اس سے کہیں بلند ہوتا۔ایہام میں ان کی متبذل شاعری نے ان کے اسلوب کو شدید ضعف پہنچایا۔ شیخ شرف الدین مضمون نے ایہام گوئی کو بہ طور اسلوب اپنایا۔ان کا شمار ایہام گوئی کے بانیوں میں ہوتا ہے ۔ان کی شاعری میں ایہام کی فراوانی ہے ۔اس کے باوجود اس صنعت کے استعمال کی کسی شعوری کو شش یا کھینچ تان کا گمان نہیں گزرتا ۔ایہام گوئی ان کا اسلوب شعر و سخن رہا لیکن اس میں وہ اس سادگی ،سلاست ،بے ساختگی اور بے تکلفی کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ ان کے کمال فن کو تسلیم کرنا پڑتا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ تمام کیفیت نوائے سروش کی ایک صورت بن کر شاعر کے دل میں سما گئی ۔

مضمون شکر کر کہ تر ا نام سن رقیب
غصے سے بھوت ہو گیا لیکن جلا تو ہے
کر ے ہے دار بھی کام کو سر تاج
ہوا منصو ر سے یہ نکتہ حل آج
کرنا تھا نقش روئے زمیں پر ہمیں مراد
قالی اگر نہیں تو نہیں بوریا تو ہے
نظر آتا نہیں وہ ماہ روکیوں
گزرتا ہے مجھے یہ چاند خالی
اگر پاﺅں تو مضمون کو رکھوں باندھ
کروں کیا جو نہیں لگتا مرے ہاتھ

شیخ ظہور الدین حاتم کا ایک شعر:
نظر آوے ہے بکری سا کیا پر ذبح شیروں کو
نہ جانا میں کہ قصاب کا رکھتا ہے دل گردہ

اس عہد کے ایک اور شاعر کا نام بھی ایہام گوئی کے بانیوں میں شامل ہے یہ سید محمد شاکر ناجی ہیں ۔سید محمدشاکرناجی زمانی اعتبار سے شاہ حاتم اور ولی دکنی کے ہم عصر ہیں ۔
ریختہ ناجی کا ہے محکم اساس
بات میری بانیء ایہام ہے
قرآں کی سیر باغ پہ جھوٹی قسم نہ کھا
سیپارہ کیوں ہے غنچہ اگر تو ہنسا نہ ہو

مصطفی خان یک رنگ کی شاعری میں ایہام گوئی اس شدت کے ساتھ موجود نہیں جس قدر آبرو اور ناجی کے ہاں ہے ۔انھوں نے اپنے اسلوب پر ایہام گوئی کو مکمل طور پر حاوی نہیں ہونے دیا بلکہ ایہام گوئی کا ہلکا سا پرتو ان کی شاعری میں موجود ہے ۔
جدائی سے تری اے صندلی رنگ
مجھے یہ زندگانی دردسر ہے

ذیل میں بعض ایہام گو شعرا کا نمونہ کلام درج ہے ۔جس کے مطالعہ سے ان کے اسلوب کے بارے میں آگہی حاصل ہوسکتی ہے ۔

ٓٓاحسن اللہ احسن :
صبا کہیو اگر جاوے ہے تو اس شوخ دلبر سوں
کہ کر کے قول پرسوں کا گئے برسوں ہوئے برسوں

عبدالوہاب یکرو:
دیکھ تجھ سر میں جامئہ ململ
خوش قداں ہاتھ کو گئے ہیں مل

میر محمد سجاد :
ہم تو دیوانے ہیں جو زلف میں ہوتے ہیں
ورنہ زنجیر کا عالم میں نہیں ہے توڑا

ایک مرتبہ نواب آصف الدولہ شکار کو گئے سودا بھی ہمراہ تھے ۔ شکار کرتے ہوئے ”بھیلوں” کے جنگل میں نواب آصف الدولہ نے ایک شیر مارا۔اس موقع کی مناسبت سے سودا نے برجستہ کہا
یارو!یہ ابن ملجم پیدا ہوا دوبارہ
شیر خدا کو جس نے ” بھیلوں“ کے بن میں مارا

یہاں شیر خدا سے مراد اللہ کی مخوق شیر ہے ۔اس میں مزاح نگار نے ناہمواریوں کا ہمدردانہ شعور اجاگر کر کے فن کارانہ انداز میں ایہام کے ذریعے مزاح پیدا کیا ہے
منقول


عزیز مکرم خیال صاحب: سلام علیکم
ایہام پر یہ مضمون دیکھ کر لطف آگیا۔ اب بیشتر شاعر اس فن کی اصطلاحات سے بھی نا واقف ہیں چہ جائیکہ اس میں فکر کریں۔ شاعری کی صنعتوں اور آصناف پر اب مضامین بھی مشکل سے دکھائی دیتے ہیں۔ آپ  نے اس ضمن میں بہت محنت کی ہے اور ہم سب کے شکریہ کے مستحق ہیں۔ گزارش ہے کہ اس مضمون کے مصنف کا نام بھی لکھ دیں اور مستقبل میں بھی مصنف کا نام دے دیا کیجئے، جزاک اللہ خیرا۔

سرور عالم راز




غیرحاضر dr maqsood hasni

  • Adab Dost
  • ***
  • تحریریں: 852
جواب: اردو شاعری میں ایہام گوئی
« Reply #2 بروز: جولائی 26, 2018, 12:46:53 صبح »
wah wah kya baat hai zabardast. aap nay molmaat ka dhair laga diya hai. bilashuba itni malomat is hawala se pahranay ko nahain miltein. yah tehreer bohtoon kay liay tehqeeq kay hawala se kaam ki niklay gi

 

Copyright © اُردو انجمن