اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: مضطر خیرآبادی صاحب کے ایک شعر کا مصرع  (پڑھا گیا 142 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3323
مضطر خیرآبادی صاحب کے ایک شعر کا مصرع
« بروز: جولائی 23, 2018, 12:35:05 صبح »

مضطر خیرآبادی صاحب کے ایک شعر کا مصرع


اسے کیوں ہم نے دیا دل، جو ہے بے مہری میں کامل، جسے عادت ہے جفا کی، جسے چڑ مہر و وفا کی، جسے آتا نہیں آنا، غم وحسرت کا مٹانا، جو ستم میں ہے یگانہ، جسے کہتا ہے زمانہ، بت بے مہر و دغاباز، جفا پیشہ فسوں ساز، ستم خانہ برانداز، غضب جس کا ہر اک ناز، نظر فتنہ مژہ تیر، بلا زلف گرہ گیر، غم ورنج کا بانی، قلق ودرد کا موجب، ستم و جور کا استاد، جفاکاری میں ماہر، جو ستم کیش و ستم گر، جو ستم پیشہ ہے دلبر، جسے آتی نہیں الفت، جو سمجھتا نہیں چاہت، جو تسلی کو نہ سمجھے، جو تشفی کو نہ جانے، جو کرے قول نہ پورا، کرے ہر کام ادھورا، یہی دن رات تصور ہے کہ ناحق اسے چاہا، جو نہ آئے نہ بلائے، نہ کبھی پاس بٹھائے، نہ رخ صاف دکھائے، نہ کوئی بات سنائے، نہ لگی دل کی بجھائے، نہ کلی دل کی کھلائے نہ غم و رنج گھٹائے، نہ رہ و رسم بڑھائے، جو کہو کچھ تو خفا ہو، کہے شکوے کی ضرورت جو یہی ہے تو نہ چاہو، جو نہ چاہوگے تو کیا ہے، نہ نباہوگے تو کیا ہے، بہت اتراؤ نہ دل دے کے، یہ کس کام کا دل ہے، غم واندوہ کا مارا، ابھی چاہوں تو میں رکھ دو اسے تلوؤں سے مسل کر، ابھی منہ دیکھتے رہ جاؤ کہ ہیں! ان کو ہوا کیا کہ انہوں نے مرا دل لے کے مرے ہاتھ سے کھویا

..........................


منقول
« آخری ترمیم: جولائی 23, 2018, 01:28:41 صبح منجانب Ismaa'eel Aijaaz »


محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • ******
  • تحریریں: 6360
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar
جواب: مضطر خیرآبادی صاحب کے ایک شعر کا مصرع
« Reply #1 بروز: جولائی 25, 2018, 12:36:29 شام »

مضطر خیرآبادی صاحب کے ایک شعر کا مصرع


اسے کیوں ہم نے دیا دل، جو ہے بے مہری میں کامل، جسے عادت ہے جفا کی، جسے چڑ مہر و وفا کی، جسے آتا نہیں آنا، غم وحسرت کا مٹانا، جو ستم میں ہے یگانہ، جسے کہتا ہے زمانہ، بت بے مہر و دغاباز، جفا پیشہ فسوں ساز، ستم خانہ برانداز، غضب جس کا ہر اک ناز، نظر فتنہ مژہ تیر، بلا زلف گرہ گیر، غم ورنج کا بانی، قلق ودرد کا موجب، ستم و جور کا استاد، جفاکاری میں ماہر، جو ستم کیش و ستم گر، جو ستم پیشہ ہے دلبر، جسے آتی نہیں الفت، جو سمجھتا نہیں چاہت، جو تسلی کو نہ سمجھے، جو تشفی کو نہ جانے، جو کرے قول نہ پورا، کرے ہر کام ادھورا، یہی دن رات تصور ہے کہ ناحق اسے چاہا، جو نہ آئے نہ بلائے، نہ کبھی پاس بٹھائے، نہ رخ صاف دکھائے، نہ کوئی بات سنائے، نہ لگی دل کی بجھائے، نہ کلی دل کی کھلائے نہ غم و رنج گھٹائے، نہ رہ و رسم بڑھائے، جو کہو کچھ تو خفا ہو، کہے شکوے کی ضرورت جو یہی ہے تو نہ چاہو، جو نہ چاہوگے تو کیا ہے، نہ نباہوگے تو کیا ہے، بہت اتراؤ نہ دل دے کے، یہ کس کام کا دل ہے، غم واندوہ کا مارا، ابھی چاہوں تو میں رکھ دو اسے تلوؤں سے مسل کر، ابھی منہ دیکھتے رہ جاؤ کہ ہیں! ان کو ہوا کیا کہ انہوں نے مرا دل لے کے مرے ہاتھ سے کھویا

..........................


منقول


عزیز مکرم خیال صاحب: سلام مسنون
مضطر خیرآبادی کا مصرع دیکھ کر لطف اندوز ہوا۔ ایسی ندرت شاعری میں گاہے گاہے نظر آجاتی ہے اور اس کا مقصد تفنن طبع ہوا کرتا ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ اس سے کسی فنی خوبی کا سمجھنا کا ر لاحاصل ہے۔ جب تک کوئی مصرع چوتھائی بھی پڑھ لیتا ہے وہ باقی کا مصرع بھول  چکا ہوتا ہے اور آخر تک پہنچتے پہنچتے تو خود اس کی سانس پھولنے لگتی ہے۔ بہر حال اچھی مشق ہے اگر کوئی کرنا پسند کرے۔ پاکستان کے ایک شاعر تھے، شاید اختر تخلص تھا مرحوم کا۔ امریکہ ایک مرتبہ آئے تھے۔ مشاعرہ میں انہوں نے ایسی ہی ایک شیطان کی آنت غزل سنائی تھی۔ بیچ بیچ میں سامعین سے پوچھتے جاتے تھے کہ "سمجھ رہے ہیں نا آپ؟"لطف کی بات یہ تھی کہ وہ بغیر بیاض کی مدد کے غزل سنا رہے تھے۔ آپ نے ایک دلچسپ چیز عنایت کی۔ ہم سب اس کے لئے ممنون ہیں۔ انجمن کے دوستوں سے گزارش ہے کہ وہ دوسروں کی کوشش پر ضرور لکھیں۔ اس سے ہمت افزائی ہوتی ہے اور یہ ادب اور عزت کی بھی نشانی ہے۔

سرورعالم راز



غیرحاضر Afroz Mehr

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 282
جواب: مضطر خیرآبادی صاحب کے ایک شعر کا مصرع
« Reply #2 بروز: جولائی 25, 2018, 07:44:55 شام »

محترمی خیال صاحب: سلام علیکم
جہان تک مجھ کو معلوم ہے مضطر خیر آبادی کا شمار اساتزہ میں ہوتا ہے۔ معلوم نہیں انہوں نے پوری غزل اسی بحر میں کہی ہے یا ایک آدھ شعر ہی کہا ہے۔اگر غزل کہی ہے تو اہسا کون سورما مدیر تھا جس نے اپنے رسالے میں اس غزل کی اشاعت کا بیڑا اٹھایا؟ آپ کو کچھ علم ہے؟ دل بہلانے کو ایسی شاعری ٹھیک ہے لیکن ادب میں اس کا کیا مقام ہے معلوم نہیں۔ جس کو نہ کوئی پڑھ سکے اور نہ سمجھ سکے اس کو کہنے سے کیا حاصل؟ ہاں مذاق کے طور پر چل سکتا ہے۔ میں تو پورا  مصرع پڑھ گئی لیکن پلے کچھ نہ آیا۔ کیا آپ دوسرا مصرع بھی یہاں لگا سکتے ہیں؟

مہر افروز

 

Copyright © اُردو انجمن