اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: دیپک راگ ہے چاہت اپنی کاہے سنائیں تمہیں  (پڑھا گیا 141 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3323
دیپک راگ ہے چاہت اپنی کاہے سنائیں تمہیں
« بروز: جولائی 23, 2018, 01:44:23 صبح »
ظهور نظر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دیپک راگ ہے چاہت اپنی کاہے سنائیں تمہیں
ہم تو سلگتے ہی رہتے ہیں کیوں سلگائیں تمہیں

ترکِ محبت، ترکِ تمنا کر چکنے کے بعد
ہم پہ یہ مشکل آن پڑی ہے کیسے بھلائیں تمہیں

دل کے زخم کا رنگ تو شاید آنکھوں میں بھر آئے
روح کے زخموں کی گہرائی کیسے دکھائیں تمہیں

سناٹا جب تنہائی کے زہر میں گھلتا ہے
وہ گھڑیاں کیونکر کٹتی ہیں، کیسے بتائیں تمہیں

جن باتوں نے پیار تمہارا نفرت میں بدلا
ڈر لگتا ہے وہ باتیں بھی بھول نہ جائیں تمہیں

اڑتے پنچھی، ڈھلتے سائے، جاتے پل اور ہم
بیرن شام کا تھام کے دامن روز بلائیں تمہیں

دور گگن پر ہنسنے ولے نرمل کومل چاند
بے کل من کہتا ہے آؤ، ہاتھ لگائیں تمہیں

درد ہماری محرومی کا تم جب جانو گے
جب کھانے آئے گی چپ کی سائیں سائیں تمہیں

رنگ برنگے گیت تمھارے ہجر میں ہاتھ آئے
پھر بھی یہ کیسے چاہیں کہ ساری عمر نہ پائیں تمہیں

پاس ہمارے آکر تم بیگانہ سے کیوں ہو؟
چاہو تو ہم پھر کچھ دوری پر چھوڑ آئیں تمہیں

انہونی کی چنتا، ہونی کا انیائے نظرؔ
دونوں بیری ہیں جیون کے، ہم سمجھائیں تمہیں


محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

غیرحاضر Mushir Shamsi

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 300
جواب: دیپک راگ ہے چاہت اپنی کاہے سنائیں تمہیں
« Reply #1 بروز: جولائی 25, 2018, 07:18:17 شام »
ظهور نظر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دیپک راگ ہے چاہت اپنی کاہے سنائیں تمہیں
ہم تو سلگتے ہی رہتے ہیں کیوں سلگائیں تمہیں

ترکِ محبت، ترکِ تمنا کر چکنے کے بعد
ہم پہ یہ مشکل آن پڑی ہے کیسے بھلائیں تمہیں

دل کے زخم کا رنگ تو شاید آنکھوں میں بھر آئے
روح کے زخموں کی گہرائی کیسے دکھائیں تمہیں

سناٹا جب تنہائی کے زہر میں گھلتا ہے
وہ گھڑیاں کیونکر کٹتی ہیں، کیسے بتائیں تمہیں

جن باتوں نے پیار تمہارا نفرت میں بدلا
ڈر لگتا ہے وہ باتیں بھی بھول نہ جائیں تمہیں

اڑتے پنچھی، ڈھلتے سائے، جاتے پل اور ہم
بیرن شام کا تھام کے دامن روز بلائیں تمہیں

دور گگن پر ہنسنے ولے نرمل کومل چاند
بے کل من کہتا ہے آؤ، ہاتھ لگائیں تمہیں

درد ہماری محرومی کا تم جب جانو گے
جب کھانے آئے گی چپ کی سائیں سائیں تمہیں

رنگ برنگے گیت تمھارے ہجر میں ہاتھ آئے
پھر بھی یہ کیسے چاہیں کہ ساری عمر نہ پائیں تمہیں

پاس ہمارے آکر تم بیگانہ سے کیوں ہو؟
چاہو تو ہم پھر کچھ دوری پر چھوڑ آئیں تمہیں

انہونی کی چنتا، ہونی کا انیائے نظرؔ
دونوں بیری ہیں جیون کے، ہم سمجھائیں تمہیں


مکرمی خیال صاحب: سلام علیکم
جناب منظور نظر سے اور ان کے کلام سے میں واقف نہیں ہوں۔ آپ نے انجمن میں ان کو متعارف کرایا تو بہت مسرت ہوئی۔ جزاک اللہ خیرا۔ غزل پڑھ کر میں عجیب کشمکش میں پڑگیا۔ عروض میں نے حال ہی میں سیکھنا شروع کیا ہے اس لئے قدم قدم پر رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس غزل کے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے۔ اس کا درج ذیل مصرع اور میری تقطیع دیکھئے:
ترک  محبت، ترک تمنا کر چکنے کے بعد
ترک م حب بت  ترک ت من نا  کرچک  نے کے  بعد
فعل     فعولن   فعل   فعولن    فعلن     فعلن     فاع
البتہ جب میں مطلع دیکھتا ہوں تو اس کا وزن کچھ اور ہی ہے۔ آپ عروض سے مجھ سے کہیں زیادہ واقف ہیں۔ از راہ کرم بتائیں کہ میں کہاں غلطی کر رہا ہوں۔ اگر ہو سکے تو پہلے دو اشعار کی تقطیع یہاں دے دیجئے۔ شکریہ

خادم: مشیر شمسی

 

Copyright © اُردو انجمن