اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: ٹیگور کی شاعری میں روحانی اور ماورائی تصورات  (پڑھا گیا 75 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3323
ٹیگور کی شاعری میں روحانی اور ماورائی تصورات
« بروز: جولائی 28, 2018, 09:59:00 شام »


ٹیگور کی شاعری میں روحانی اور ماورائی تصورات


سرزمین ہند پررابندرناتھ ٹیگورکی حیثیت ایک ایسےشاعروادیب کی ہے جس نے ماورائی اورروحانی افکارسے انسانی ذہنوں کوسرشارکیا۔ انہوں نےمظاہر‍قدرت میں آیات یزدانی کےجلوے دیکھے اوراپنی سبک اور رواں شاعری سے ذہن وفکرکی آلودگی کومصفـّی اورمجلّی کرنےکی کوشش کی۔ اس عمل میں ہمیشہ فطرت سے ان کاعشق قائم رہا۔

عشق ہی ایک ایساراستہ ہےجوماورائی اورروحانی جذبے کو چڑھاتاہے۔ ان کی شاعری میں عشق مجازی سے زیادہ عشق حقیقی کےعناصرملتےہیں اوریہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری ہمیں اپنی طرف ملتفت کرلیتی ہے کیوں کہ عشق حقیقی کی دنیا وسیع وبسیط بھی ہوتی ہے اورآفاقی بھی۔ ان کے گیت ”قلب‘‘ کے گیت ہیں۔ ان کے ن‏غموں کامرکزقلب انسانی ہے۔ انہیں پتہ ہے کہ یہی وہ جگہ ہے جس کی تطہیرکے لیے صوفیوں اورسنتوں نے بھی سوجتن کیےہیں۔ یہ گیت ملاحظہ کیجیے:

جب تومجھے گانے کا حکم دیتا ہےتوایسا معلوم ہوتاہے کہ میرا قلب فخروغرورسے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائےگا۔ میں تیری صورت دیکھتاہوں اورمیری آنکھوں میں آنسوآجاتےہیں۔ جوکچھ میری زندگی میں سخت وکرخت ہے۔ ایک شیریں نغ‏مہ واحد کی صورت میں رقیق ہوکرتبدیل ہوجاتا ہے۔

مسرت سرورسے سرشارہو کر میں اپنے تیئں بھول جاتاہوں اورتجھے اپنا دوست کہتاہوں۔ حالاں کہ تومیرامالک وآقاہے(گیتانجلی)

گیتانجلی کے گیتوں میں جن جذبات اوراحساسات کی ترجمانی ہوئی ہے وہ گھوم پھرکرماورائیت اورروحانیت کی طرف جاتے ہیں۔ ٹیگور نے قلب پردستک دینے کے لیے نغمہ اورموسیقی یا پھرمظاہرقدرت کاسہارا لیا۔ ایسے میں انسانی کیفیت سیال ہوکربہنے لگتی ہیں۔

ٹیگورکاطرزتخاطب اس گیت میں ملاحظہ کیجیے:
تیری موسیقی کی روشنی عالم کومنورکررہی ہے۔

تیری موسیقی کا نفس حیات ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک دوڑرتا پھرتا ہے۔ تیری موسیقی کامقدس چشمہ تمام سنگین حجابات کوتوڑکربہ نکلتاہے۔
میراقلب آرزومند ہےکہ تیرے نغموں کا ہم نوا ہوجائے۔ لیکن ایک آوازکے لیے بیکارتڑپ رہاہے۔ میں بولتاہوں۔ بول نغمہ نہیں ہوتے۔ لاچارعاجزہوکرچی‍خ اٹھتاہوں۔

آہ تونے میرے قلب کواپنی کے بے شمار پھندوں میں اسیرکرلیا ائےآقا! (گیتانجلی)

ٹیگورکایہ فقرہ کہ’ تیری موسیقی کی روشنی عالم کومنورکررہی ہے’ پڑھ کراردوکا یہ شعربےساختہ آجاتاہے۔

اس غیرت ناہیدکی ہرتان ہے دیپک
شعلہ سالپک جائے ہے آوازتو دیکھو

ظاہر ہے کہ اس شعرکا تناظر وہ نہیں جوٹیگور کی شاعری کا ہے لیکن آواز اور موسیقی کی روشنی اور شعلگی کا اندازہ ضرور ہوتا ہے۔

ٹیگور نے نغمے اورموسیقی کو قلب کے لیے اورانسانی سائیکی کے لیے موثر ذریعہ تصور کیا ہے۔ نغمےاورموسیقی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اوریہ سیدھا دل پراثراندازہوتے ہیں خدا سے رابطے کے لیے یا مخاطبت کے لیے ٹیگور نے اسے ایک tool یا کردارکے طورپراپنی شاعری میں برتا ہے۔ اس روحانی اورماورائی سفرمیں ایک اہم کردارقلب بھی ہے۔ قلب صوفیہ کے لیے بھی اہم رہا ہے اوربے شک تزکيہ نفس کےلیےاسی قلب پرمحنت کی جاتی رہی ہے۔ٹیگورکوبھی ملاحظہ کیجیے:

اےجان جاں! میں ہمیشہ اپنے جسم کو صاف وپاک رکھنے کی کوشش کروں گا۔ یہ جان کرکہ تیراذی حیات مس میرے تمام اعضا پر(محیط) ہے۔ میں ہمیشہ کوشش کروں گاکہ تمام برائیاں اپنے دل سے نکال ڈالوں اور اپنے عشق کو پھول کی طرح (تازہ وشگفتہ) رکھوں۔ یہ جان کرکہ تیری جگہ میرے دل کی خلوت حرم میں ہے۔ (گیتانجلی)

ترجمہ کرتےہوئے نیاز فتح پوری نے فٹ نوٹ میں لکھاہے۔ کہ اس میں وہی تخیل ظاہر کیا ہے جس کا ذکر مقدمے میں کر چکا ہوں یعنی موسیقیت خود ایک الوہیت ہے اور ایک غنا‏ء جاوید کائنات کے ہرذرے میں نہاں ہے۔ گویا خدا کی موسیقی نے جسم اختیار کرلیا اور تمام عالم ظہورمیں آگئے۔ (گیتانجلی،ساہتیہ اکادمی)

شاعری تو خودبھی انسان کو زمیں سے دور لے جاتی ہے۔ پھرجب معاملہ قلب یاقلب ماہیت کا ہو تو ایسی شاعری میں وجدان کارول بڑھ جاتا ہے۔ ٹیگورکی شعری اور تخلیقی دنیا میں وجدانی افکار واضح طور پرنظر آتےہیں۔ اسی وجدانی کیفیت کے سبب پروفیسر ایم ضیاءالدین نے لکھاہے:

” ٹیگورکی شاعری ایک بے بدل شاعر کی موسیقار طبیعت کی نغمہ سرائی ہے۔ ملہمانہ شاعری کی بے عیب اور مکمل مثال۔‘‘ (کلام ٹیگورمترجم: پروفیسرایم ضیاءالدین)

اگراس موقف میں دیکھیں توٹیگور نے مظاہر قدرت دبے کچلے عوام میں خدا کوتلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ گیتانجلی کے ایک گیت (ترجمہ:پروفیسرایم ضیاءالدین) کا یہ حصہ دیکھیے:

”میں جب چاہتا ہوں کہ تیرے حضور میں جبہ سائی کروں، تو معلوم نہیں میرا سجدہ اپنی رسائی میں کہاں تک پہنچ کررہ جاتاہے، جہاں تو دنیا کے دھتکارے ہوؤں کے ساتھ ہے ہماری نخوت کو وہاں دخل نہیں، جہاں تو نادار کے چیتھڑے پہنے ہوئے بیکسوں میں بیکس ہے۔‘‘

شاعری کے ذریعہ انہوں نے جو سفر حیات طے کیاہے وہ سرا سر metaphysical اور transcendental ہے۔ روحانی اور ماورائی سفر کے لیے انہوں نے اپنے لہجے میں ایک پرسکون موسیقیت اور پرسوز نغمگی کو تحلیل کرلیا ہےجو انسانی تحلیل نفسی کا غماز بھی بن گئی ہے۔ گیتا نجلی پڑھتے ہوئے یا اس نوع کے دوسرے گیتوں یا نظموں میں روح انسانی کی سرسراہٹ محسوس کی جاسکتی ہے۔ یہ دوٹکڑے ملاحظہ کیجیے:

اے لامحدود! اے بے پایاں اس محدودعالم کےستاروں بھرے لا محدود آسمان
میں بے پایاں وجودکےمقصد کو روشن اور قصاں پاتاہوں۔ (پوروبی)

سن اس خاموش فضا میں اس پارسے بانسری کی آواز آرہی ہے, اب میں شام
کے وقت اسی بانسری کی تان بھری ہوامیں اپنی کشتی کوبہائےدیتاہوں۔

ٹیگور کی شاعری انسان اور کائنات کے درمیان ایک ایسے ماورائی رشتوں کو واضح کرتی ہے۔ جس سے انسانی عظمت کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ انہوں نے مشاہدہ کائنات اورقلب انسانی کے درمیان ایک سچے رشتے کی تلاش کی ہے۔ ایسے میں ظاہرکی دنیا سے باطنی دنیا وابستہ ہوجاتی ہے۔ علامہ اقبال نے اپنے ایک انگریزی خطبے میں اس بات کا اعادہ کیاہے:

”عالم روحانی عالم مادی سے بے تعلق نہیں۔ انفس و آفاق ایک ہی حقیقت کےدوپہلوہیں۔
ظاہرکی دنیاکا ایک باطن اورباطن کی دنیا کا ایک ظاہر ہے کیوں کہ خدا جو حقیقت وجود ہے وہ ظاہر بھی ہے اور باطن بھی۔ خارجی قوتیں بھی روحانی عالم ہی کےمظاہرہیں۔‘‘
(فکراقبال:خلیفہ عبدالحکیم)

انسانی فکرجوعام سطح سےعالی ہوکر انفس وآفاق کو محیط ہوجاتی ہے وہ ماورائی اور مابعدالطبعیات زاویئہ فکر کے زمرے میں آجاتی ہے۔ انہوں نے کائنات اورمقصد کا ئنات پرغور و فکر کیا ہے۔ ان کی شاعری کسی خاص مذہب کے بجائے انسانی احساس اور جذبے کو چھوتی ہے جواپنے اندرایک روحانی اورماورائی صفت رکھتی ہے۔ رومی اور اقبال کی شاعری پڑھتے ہوئے ہم جس روحانی اور ماورائی تصور زندگی سے دوچار ہوتے ہیں، کچھ یہی صورت حال ٹیگورکی شاعری پڑھتے ہوئے بھی پیداہوتی ہے۔ ٹیگورنے اپنے دل کےتزکیہ کی بات کی ہے، کیوں کہ دل ہی خدا کا مسکن ہے۔ اقبال بھی اسی دل پرمحنت کی تلقین کرتےہیں:

دل بے سوزکم گیرونصیب ازصحبت مردے
مس تابیدہ آور کہ گیرد درتواکسیرم (زبورعجم)

یعنی یہ کہ کسی مردحق آگاہ کی محض صحبت ہی کافی نہیں ہوتی بلکہ دل کو پہلے آلائشوں سے پاک کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس لیے ٹیگورنے بھی کہاہے:

”میں ہمیشہ کوشش کروں گاکہ تمام برائیاں اپنے دل سے نکال ڈالوں اور اپنے
عشق کو پھول کی طرح تازہ و شگفتہ رکھوں۔ یہ جان کرکہ تری جگہ میرے
دل کی خلوت حرم میں ہے۔‘‘ (گیتانجلی)

اردو شاعری میں تصوف کے اشعار ولی، میر، سودا، درد، راسخ، آتش، غالب، سب کے یہاں مل جاتے ہیں اور ایسے اشعار بھی کثرت سے ہیں جن میں دل کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ چند اشعار دیکھیں:

گل کوں ہر مرتبہ حیدر فن کا
مفت ہے دیکھنا سری جن کا
ولی
غلط تھا آپ سے غافل گزرنا
مسجد ہم کہ اس قالب میں تو تھا
میر
غافل تو کدھر بہکے ہے کہ ٹک دل کی خبر لے
شیشہ جو بغل میں ہے اسی میں تو پھر یہی
درد
شیخ کعبہ کو کیا کروں جاکر
دیہی کو خان ای خدا دیکھا
سوز

کسی بھی انسان کا اپنے دل تک سفر کرنا روحانی سفر ہوتا ہے جو ایک مشکل کام ہے۔ ٹیگور نے بھی یہ مشکل کام انجام دیا ہے جس کے نمونے انکی شاعری میں جا بجا نظر آتے ہیں۔

اس طرز بندگی میں ایک طرح کی بے چارگی اور سپردگی ہے۔ الوہیت وہ ماورائیت کا وصف ٹیگور کی شاعری میں خوب ملتا ہے۔ لیکن انکی یہاں رومی اور اقبال کے برخلاف موت نجات دہندہ کے طور پر آتی ہے۔ وہ خدا کی قوت کو اور ہستی کو ماورائے تصور انسانی سمجھتے ہیں۔ ان کی شاعری میں خدا کے سامنے بندے کا عجز اور اس کی نیازمندی ایک طرح کی موسیقیت میں ڈھلی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ٹیگور اپنی شاعری میں قدرت کے مظاہر کو بھی ماورائیت کے تصور پیش کرنے اور الوحی جذبے کو مستحکم کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس طرز شاعری میں کسی طرح کے طنطنے کے بجائے سبک خرامی اور شیرینی ہوتی ہے۔ ٹیگور کی شاعری میں جس رقت آمیز سوزے نہاں کی چمک ہے وہ دلوں کو کسی ایسے مقام تک جانے کا راستہ دکھاتی ہے جہاں سے آدمی آنا نہیں چاہتا:

ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتی

ایک ایسا مقام جہاں ٹھنڈی ہوائیں چل رہی ہوں اور طیور کے روحانی زمرے دلوں کو مسخر کرتے ہوں۔ مملاحظہ کیجیے ٹیگور کے ماورائی نغمے:


یہ دنیا عالم خیال کی بیکراں سمندر کی موجوں پر ایک ناچتا ہوا کنول ہے۔ (بولا کا، ترجمہ، پر وفیسر ایم ضیاءادین)

‎جس طرح رات اپنی تاریکی میں التجائیں ضیاء پنہاں رکھتی ہے۔ اس طرح میری بے خبری کے عمق میں کی آواز گونجا کرتی ہے کہ "میں تجھے چاہتا ہوں اور صرف تجھی کو” ( گیتانجلی)

‎جب آدھی رات کے تاریک معبد میں گھڑیاں تیری خاموش-‎کے وقت کا اعلان کر ہے تو اے میرے آقا مجھے بھی حکم دے کہ ترے حضور میں گانے کے لیے کھڑی ہو ( گیتانجلی)

لیکن وہاں جہاں غیر محدود آسمان پروازوں کے لیے پھیلا ہوا ہے۔ اک سپید بےداغ درخشانی حکمراں ہے۔ نہ وہاں دن ہے،نہ رات۔ نہ صورت ہے۔ نہ رنگ اور نہ کبھی کوئی لفظ ( گیتانجلی)

شاعاع مہر اس ہماری زمین پر آغوش پھیلائے ہوئے آتی ہے اور دن دن بھر میرے دروازے پر کھڑی رہتی ہے کہ تیرے قدموں کے پاس ان بادلوں کو لے جا کر ڈال دے۔جو میرے آنسوؤں میری ٹھنڈی سانسوں اور میرے نغموں سے بنتے ہیں ( گیتانجلی)

یہ پوچھو کہ میرے پاس وہہاں لے جانے کو کیا ہے. میں اپنے سفر میں خالی ہاتھ مگر پرامید قلب لیکر جاتا ہوں۔ ( گیتانجلی)

مذکورہ بالا اقتباسات میں شاعر کے دل کی دھڑکنیں سنی جا سکتی ہیں۔ ان گیتوں میں ایک پرسکون اضطراب کی کیفیت اپنی پوری سالیت کے ساتھ رواں دواں ہے جو دل کو چھوتی ہوئی گزرتی ہے۔ نیاز فتحپوری گیتانجلی کے ’مقدمہ‘ میں لکھتے ہیں:

”اس کتاب میں جتنی نظمیں ہیں مختلف کیفیات کلب کے ساتھ نوع انسان اور ذات باری کے باہمی تعلقات کا اظہار ہے۔‘‘

ٹیگور کی شاعری میں جو ایک طرح کی رندی اور قلندری ملتی ہے وہ قلب کی حالت بدلنے کا کام کرتی ہے۔ عقل و عشق کو اقبال نے بھی مرکز توجہ بتایا ہے اس میں بھی عشق کو عقل پر فوقیت دی ہے، کیونکہ عشق رشتہ دل سے ہے:

اچھا ہے دل کے پاس رہے پاسبان عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دو
عقل گو آستاں سے دور نہیں
اس کی تقدیر میں حضور نہیں

یعنی یہ کہ حضوری کے لیے دل کی ضرورت ہے، عقل کی نہیں۔ یا یہ شعر کے:

عقل عیار ہے سو بھیس بنا لیتی ہے
عشق بے چارہ نہ ملا ہے نہ زاہد نہ حکیم
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی

‎یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ اقبال اور ٹیگور کے عشق میں ایک فرق یہ بھی ہے جس پر یہاں تفصیلی گفتگو کی گنجائش نہیں۔ عرض یہ کرنا ہے کہ ٹیگور کے یہاں بھی ایک طرح کی قلندری اور ذات مطلق سے قرب اور وصل کی خواہش کے گہرے نقوش ملتے ہیں۔ مکر وریا اور الحاد کو ٹیگور نے بھی درخور اعتنا نہیں سمجھا ہے۔ ان کی فکر میں روحانی اور ماورائی نقطہ نظر کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔ ان کی تخلیقیت میں ٹھوس کے بجائے وجدانی تصور حیات نظر آتا ہے۔ ‘شکست خواب آبشار’ (گیتانجلی) کا یہ حصہ دیکھیے جس میں آپ محسوس کریں گے روح اور قفس عنصری کو ٹیگور نے کس طرح پیش کیا ہے

‎نجانے آج کیا ہو گیا ہے؟ پران جاگ اٹھا ہے
‎دور سے گویا سن رہا ہوں پر خروش نغمہ،

‎میری ہر جانت/ یہ بھیانک قید خانہ / توڑ و توڑ یہ قید خانہ،

چوٹ پر چوٹ لگائی آج پنچھی نے کیا گایا ہے/ آج کس انداز سے سورج کی کرن اتر رہی ہے۔

یہاں مہاساگر ذات مطلق کی طرف اشارہ ہے جس کی طرف روح کا پنچھی جسم کی قید سے آزاد ہو کر جانا چاہتا ہے۔ اس گیت میں ٹیگور کا ماورائی تصور حیات پوری طرح واضح نظر آ تا ہے۔ ٹیگور کا مہاساگر غالب کے یہاں کبھی دریا ہے تو کبھی بحر:

عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
دل ہر قطرہ ہے ساز انا البحر
ہم اس کے ہیں ہمارا پوچھنا کیا

ٹیگور نے ہمیشہ ایک غیر مشخص اور غیر مرئی قوت کو محسوس کیا ہے جو پوری کائنات کو چلاتا ہے۔ مظاہر قدرت اور آسمان پر بکھرے ہوئے تاروں اور پورے نظام شمسی کو قائم اور رواں دواں رکھنے کے پیچھے ایک بڑی قوت کار فرما ہے۔ نظم کا یہ حصّہ دیکھیے:

سورج ستارے، چاند اور تارے/ تیرے روشن مویشی ہیں
تو اک گوشے میں چھپ کر/ بانسوری کی تان بھرتا ہے/ اور ان سب کو چڑاتا ہے

ٹیگور نے اپنی شاعری کے مرکز میں انسانی عظمت کو ہمیشہ رکھا- ان تمام تر روحانی اور ماورائی تصورات کے پیچھے ٹیگور کا پیغام انسانی زندگی آلاءشوں سے پاک ہوکر ایک سب سے بڑی طاقت یعنی پر ماتما کو تسلیم کرلے۔ کیونکہ بندگی کے بغیر شعور انسان کی نہ تہذیب و تعمیر ہوسکتی ہے اور نہ اس کا ارتقا ممکن ہے۔ ان کی کتاب ریلیجن آف مین کے لکچر میں جو فکر و فلسفہ کے عناصر ہیں ان سے انسانی عظمت اور خدا اور انسان کے رشتے کی مختلف جہتوں کا اندازہ ہوتا ہے۔ کیونکہ عشرت قطرہ دریا میں فنا ہو جانے کا نام ہے اس لیے ٹیگور بھی اسی لامحدود ذات مطلق سے وصل کے متمنی ہیں:

اے تو کہ جس پر دل و جان سے فدا ہوں/ میں تشنہ دیدار ہو ں
وہ جو کہ بہت دور ہے، دور- غیر محدود کے اس پار- دور/ بانسری میں تان پھونک رہا ہے
ہائے صرف تڑپتا ہوں، بار بار بھول جاتا ہوں/ میرے پر نہیں, میں اڑ نہیں سکتا

اس کے علاوہ ان کی نظموں اور گیتوں میں خدا اور انسان کے درمیان دوری اور کرب کو قیاس اور مایوسی کے جذبات کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ ٹیگور نے کائنات کی شاعری کی اور کائنات کی تمام اشیاء سے گفتگو کرنے اور ان کی آوازں کو سمیٹنے کی کوشش کی انہوں نے لیکن یہ بھی اعتراف کیا کہ میں اس وسیع و عریض کائنات سے بہت کم واقف ہوں۔

انسانی شعور کے سفر کو ٹیگور نے اپنی تخلیقی وجدان کے حصار میں لینے کی پوری کوشش کی۔‌ دنیا کی بزم طرب میں انہوں نے زندگی کے یاس انگیز لمحوں کو مجتمع کیا اور لمحہ یا س میں طرب انگیز ساعتوں کی کرنیں بکھیرنے کی کوشش کی۔ دنیا کی ہر شے میں و ذات مطلق کا عکسِ دیکھا کرتے تھے۔ اس نہج پر وہ بھی مسلک اقبال کے ہمنوا بن جاتے ہیں:

حسن ازل کی پیدا ہر چیز میں جھلک ہے
انساں میں وہ سخن ہے غنچے میں وہ چٹک ہے

ہر بڑے فنکار نے اس عالم وجود اور کائنات کو اپنی اپنی طرف دیکھا اور سمجھا ہے۔ کسی نے تشریح و تعبیر کی ہے تو کسی نے سوالات قائم کیے ہیں۔ غالب نے کہا:

سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں
ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے

ٹیگور نے اپنی شاعری میں تخلیقی وژن کے ساتھ ساتھ ماورائی روحانی عناصر کو پیش کیا ہے۔ ان کی زندگی اور ذہن کے ارتقائی سفر پر ان کی شاعری سے بھی روشنی پڑتی ہے۔ کھلی آنکھوں سے کائنات کو دیکھنا اور پھر بند آنکھوں سے انہیں دل میں اتار کر عملے انجذاب کے بعد ماورائی سفر طے کرنا ٹیگور کا شعری وظیفہ تھا۔ ٹیگور کی شاعری اور نغموں کے تموج میں پتا نہیں کیا اثر ہے کہ ان کا مطالعہ کرتے ہوئے میری روح کی گہرائیوں سے اقبال کا یہ شعر طلوع ہوتا ہوا محسوس ہونے لگتا ہے:

نغمہ کجا و من کجا ساز سخن بہانہ ایست
سوئے قطار می کشم ناقہ بے زمام را

یہ موضوع بہت ہی وسیع ہے۔ ان کی شاعری میں اس نوع کی مثالیں بےشمار ہیں۔ میں اپنی بات ٹیگور کی ایک نظم ’بولا کا‘ (اڑتی ہوئی چڑیوں کی قطار) اور مجموعہ کلام ’گارڈنر‘ کے ایک ٹکڑے پر ختم کرتا ہوں:

دن-رات / یہ بے خانماں پنچھی دوڑتے ہیں روشنی، تیرگی میں
(نہ جانے) کس پار سے کس پارکو/خلا گونجتا جا رہا ہے آفاق کے پروں کے اس سنگیت سے.

”یہاں نہیں ,اور اور کہیں ,اور کہیں ,اور کسی جگہ‘‘
مرے باطن سے میری تمناؤں کا پرتو نکل کر/میرے سامنے رقص کر رہا ہے
یہ نورانی عکس ناچتا ہوا آگے ہی بڑھتا جاتا ہے
میں چاہتا ہوں کہ اسے مضبوطی سے پکڑے رکھو، لیکن
وہ مجھ سے بچ کر نکل جاتا ہے اور مجھے بھٹکاتا پھرتا ہے
جو شے میں حاصل نہیں کرسکتا، اس کی مجھے جستجو ہے اوری مجھے تلاش نہیں وہ مجھے حاصل ہے.

ڈاکٹر کوثر مظہری- شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی


محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

 

Copyright © اُردو انجمن