اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: لپیٹ دے گا جب آسمانوں کی رب بساط  (پڑھا گیا 105 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3323
لپیٹ دے گا جب آسمانوں کی رب بساط
« بروز: اگست 08, 2018, 04:23:27 صبح »

قارئین کرام آداب عرض ہیں ۔ ایک فی البدیہہ غیر مردّف کلام پیشِ خدمت ہے جو 29 جولائی 2018 کو لکھا ، امید ہے پسند آئے گا اپنی آرا سے نوازیے

عرض کیا ہے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لپیٹ دے گا جب آسمانوں کی رب بساط
تو ٹوٹ جائیں گے سب روابط خوش اختلاط

ہر ایک ذی روح کانپ اٹھے گی دُہائی دے گی
کہ ختم ہو جائے گی جہاں سے سب انبساط

ندامتوں سے جھکے ہوئے سر نہ اٹھ سکیں گے
تو ہاتھ اپنا چبائے گا ہر بد احتیاط

کہیں پہ کوئی نہ رستہ ہو گا جو واپسی کا
تو رنج و غم بڑھ کے چھین لیں گے ہر اک نشاط

تُو عمر بھر کی کمائی دے کر نہ بچ سکے گا
کسی بھی صورت نہ ختم ہو گا پھر انحطاط

خیالؔ اپنی تو موت سے قبل ہی سنبھل جا
کہ پھر کسی سے نہ کر سکے گا تو ارتباط

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

توجہ کا طلبگار

اسماعیل اعجاز خیالؔ


محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

غیرحاضر nawaz

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 441
جواب: لپیٹ دے گا جب آسمانوں کی رب بساط
« Reply #1 بروز: اگست 08, 2018, 10:07:00 صبح »
محترم اسماعیل اعجاز صاحب سلام مسنون

ایک غیر مردّف غزل پڑھنے کو ملی گو کہ تاخیر سے خیر دیر آئے
درست آئے،اب کی مرتبہ غزل کا ایک نیا رنگ نظر آیا یعنی فلسفہ
 اور تصوف آپ کے جزبات اور احساسات الفاظ کےنگینوں میں پروئے
 ہوئے ہیں اس عمدہ تخلیق پر داد پیش کرتا ہوں۰ 

لپیٹ دے گا جب آسمانوں کی رب بساط
تو ٹوٹ جائیں گے سب روابط خوش اختلاط
بہت خوب خوش اختلاط کا استعمال  اچھی صحبت، اچھی دوستی
کا نام و نشاں نہ رہے گا یعنی انسان عدم سے آیا ایک معین وقت
کے بعد عدم میں واپس جناب تصوف کا رنگ جھلک رہا ہے خوب

مقطع۰  خیال اپنی تُو موت سے قبل ہی سنبھل جا
          کہ پھر کسی سے نہ کر سکے گا تو ارتباط

         آج تو آپ جزب کی حالت میں کیا خوب اشارہ دیا
         مُوتُوا قبلَ اَن تمُوتُوا    ََمرنے سے پہلے مر جاوء بھئ
       شعر میں کس عمدگی سے ڈھالا ہے   داد حاضر؛؛؛
       خدا کرے کہ ہو زورِ قلم اور زیادہ،  نیک تمناوءں کے ساتھ
                               دعا گو     نواز

غیرحاضر Mushir Shamsi

  • Adab Shinaas
  • **
  • تحریریں: 300
جواب: لپیٹ دے گا جب آسمانوں کی رب بساط
« Reply #2 بروز: اگست 10, 2018, 10:15:58 شام »

قارئین کرام آداب عرض ہیں ۔ ایک فی البدیہہ غیر مردّف کلام پیشِ خدمت ہے جو 29 جولائی 2018 کو لکھا ، امید ہے پسند آئے گا اپنی آرا سے نوازیے

عرض کیا ہے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لپیٹ دے گا جب آسمانوں کی رب بساط
تو ٹوٹ جائیں گے سب روابط خوش اختلاط

ہر ایک ذی روح کانپ اٹھے گی دُہائی دے گی
کہ ختم ہو جائے گی جہاں سے سب انبساط

ندامتوں سے جھکے ہوئے سر نہ اٹھ سکیں گے
تو ہاتھ اپنا چبائے گا ہر بد احتیاط

کہیں پہ کوئی نہ رستہ ہو گا جو واپسی کا
تو رنج و غم بڑھ کے چھین لیں گے ہر اک نشاط

تُو عمر بھر کی کمائی دے کر نہ بچ سکے گا
کسی بھی صورت نہ ختم ہو گا پھر انحطاط

خیالؔ اپنی تو موت سے قبل ہی سنبھل جا
کہ پھر کسی سے نہ کر سکے گا تو ارتباط

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

توجہ کا طلبگار

اسماعیل اعجاز خیالؔ


مکرمی جناب خیال صاحب: سلام علیکم
صاحب  میں تو آپ کی جب غزل دیکھتا ہوں اس سے جانے کیا کچھ سیکھتا ہوں۔ بعض اوقات حیران بھی رہ جاتا ہوں۔ اللہ آپ کو قائم رکھے اور ہم لوگ آپ سے اسی طرح مستفید ہوتے رہیں۔ یہ غزل بہت متاثر کرتی ہے۔ اس پر تو بعد میں اپنے ناچیز خیالات لکھوں گا اس وقت گزارش ہے کہ اس کی بحر اور تقطیع بتا دیجئے۔ میں عروض سیکھ رہا ہوں اور اس کی تقطیع میں مشکلوں کا سامنا ہے۔ مدد کی درخواست ہے۔ امید ہے کہ نا امید نہیں کریں گے۔ شکریہ۔

خادم؛ مشیر شمسی

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3323
جواب: لپیٹ دے گا جب آسمانوں کی رب بساط
« Reply #3 بروز: اگست 11, 2018, 08:59:49 شام »
محترم اسماعیل اعجاز صاحب سلام مسنون

ایک غیر مردّف غزل پڑھنے کو ملی گو کہ تاخیر سے خیر دیر آئے
درست آئے،اب کی مرتبہ غزل کا ایک نیا رنگ نظر آیا یعنی فلسفہ
 اور تصوف آپ کے جزبات اور احساسات الفاظ کےنگینوں میں پروئے
 ہوئے ہیں اس عمدہ تخلیق پر داد پیش کرتا ہوں۰ 

لپیٹ دے گا جب آسمانوں کی رب بساط
تو ٹوٹ جائیں گے سب روابط خوش اختلاط
بہت خوب خوش اختلاط کا استعمال  اچھی صحبت، اچھی دوستی
کا نام و نشاں نہ رہے گا یعنی انسان عدم سے آیا ایک معین وقت
کے بعد عدم میں واپس جناب تصوف کا رنگ جھلک رہا ہے خوب

مقطع۰  خیال اپنی تُو موت سے قبل ہی سنبھل جا
          کہ پھر کسی سے نہ کر سکے گا تو ارتباط

         آج تو آپ جزب کی حالت میں کیا خوب اشارہ دیا
         مُوتُوا قبلَ اَن تمُوتُوا    ََمرنے سے پہلے مر جاوء بھئ
       شعر میں کس عمدگی سے ڈھالا ہے   داد حاضر؛؛؛
       خدا کرے کہ ہو زورِ قلم اور زیادہ،  نیک تمناوءں کے ساتھ
                               دعا گو     نواز


جناب محترم نواز صاحب
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

جنابِ عالی اللہ آپ کو سدا سلامت رکھے شاد و آباد رکھے ذرّہ نوازی ہےآپ کی ، آپ کی محبتیں اور عنایتیں سر آنکھوں پر
پذیرائی حوصلہ افزائی کا بے حد شکریہ صاحب
میری کاوش آپ کو پسند آئی میرے لیے خوشی کا باعث ہے اللہ آپ کو دونوں جہانوں کی عزتیں عطا فرمائے، اپنا بہت خیال رکھیے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے

دعاگو
محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

غیرحاضر Ismaa'eel Aijaaz

  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 3323
جواب: لپیٹ دے گا جب آسمانوں کی رب بساط
« Reply #4 بروز: اگست 11, 2018, 09:36:36 شام »

قارئین کرام آداب عرض ہیں ۔ ایک فی البدیہہ غیر مردّف کلام پیشِ خدمت ہے جو 29 جولائی 2018 کو لکھا ، امید ہے پسند آئے گا اپنی آرا سے نوازیے

عرض کیا ہے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لپیٹ دے گا جب آسمانوں کی رب بساط
تو ٹوٹ جائیں گے سب روابط خوش اختلاط

ہر ایک ذی روح کانپ اٹھے گی دُہائی دے گی
کہ ختم ہو جائے گی جہاں سے سب انبساط

ندامتوں سے جھکے ہوئے سر نہ اٹھ سکیں گے
تو ہاتھ اپنا چبائے گا ہر بد احتیاط

کہیں پہ کوئی نہ رستہ ہو گا جو واپسی کا
تو رنج و غم بڑھ کے چھین لیں گے ہر اک نشاط

تُو عمر بھر کی کمائی دے کر نہ بچ سکے گا
کسی بھی صورت نہ ختم ہو گا پھر انحطاط

خیالؔ اپنی تو موت سے قبل ہی سنبھل جا
کہ پھر کسی سے نہ کر سکے گا تو ارتباط

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

توجہ کا طلبگار

اسماعیل اعجاز خیالؔ


مکرمی جناب خیال صاحب: سلام علیکم
صاحب  میں تو آپ کی جب غزل دیکھتا ہوں اس سے جانے کیا کچھ سیکھتا ہوں۔ بعض اوقات حیران بھی رہ جاتا ہوں۔ اللہ آپ کو قائم رکھے اور ہم لوگ آپ سے اسی طرح مستفید ہوتے رہیں۔ یہ غزل بہت متاثر کرتی ہے۔ اس پر تو بعد میں اپنے ناچیز خیالات لکھوں گا اس وقت گزارش ہے کہ اس کی بحر اور تقطیع بتا دیجئے۔ میں عروض سیکھ رہا ہوں اور اس کی تقطیع میں مشکلوں کا سامنا ہے۔ مدد کی درخواست ہے۔ امید ہے کہ نا امید نہیں کریں گے۔ شکریہ۔

خادم؛ مشیر شمسی

جناب محترم مشیر شمسی صاحب
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

جناب عالی ، شکرگزار ہوں میں آپ کا کہ میری ادنیٰ سی کاوشیں آپ کے لیے مفید ثابت ہوتی ہیں میرے لیے باعثِ عزت و افتخار ہیں ، آپ نے بحر اور تقطیع کی بابت دریافت فرمایا ہے تو عرضِ خدمت ہے کہ یہ بحر رجز کے زحافات کی معروف شکلیں ہیں جس میں افاعیل کے زحافات کو موزوں کیا گیا ہے

مستفعلن کا مخبون متفعلن جس کا بدل مفاعلن ہے جس کی ترفیل مفاعلن+تن  جس کی شکل مفاعلنتن کا بدل مفاعلاتن ہے تو اسی کو سامنے رکھتے ہوئے
مصرعوں کا وزن
مفاعلاتن ۔۔۔۔۔ مفاعلاتن ۔۔۔۔ مفاعلاتن /  مفاعلان
رجز مسدس مخبون مرفل / مسبغ
لپیٹ دے گا جب آسمانوں کی رب بساط

کی تقطیع ملاحظہ فرمائیے

لَ پی ٹ دے گا ۔۔۔۔۔۔ جَ با سُ ما نو ۔۔۔۔۔۔ کِ رب بِ سا ط
مُ فا عِ لا تن ۔۔۔۔۔۔۔ مُ فا عِ لا تن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مُ فا عِ لا ن
مفاعلاتن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مفاعلاتن ۔۔۔۔۔۔ مفاعلان


اس طرح دوسرے شعر کا پہلا مصرع دیکھیے

ہر ایک ذی روح کانپ اٹھے گی دُہائی دے گی

تقطیع ملاحظہ فرمائیے


ہَ ری کُ ذی رو  ۔۔۔۔۔۔ حُ کا پُ ٹے گی ۔۔۔۔۔۔ دُ ہا ءِ دے گی
مُ فا عِ لا تن ۔۔۔۔۔۔۔ مُ فا عِ لا تن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مُ فا عِ لا تن
مفاعلاتن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مفاعلاتن ۔۔۔۔۔۔ مفاعلاتن

امید ہے آپ اس سے اتفاق کریں گے
بالفرض نہیں ہے اتفاق تو میری اصلاح فرمائیں گے اور وجہ اصلاح کو وضاحتاً پیش کریں گے کہ مفاعلن جو کہ مخبون زحاف ہے مستفعلن کا اسے مرفل کیوں نہیں بدلا جا سکتا امید ہے ، جبکہ مفاعلان کی شکل کیسے وجود میں آئی اس پر تحقیق جاری ہے :) آپ اور ماہرینِ عروض اس پر کوئی علمی و ادبی روشنی ضرور ڈالیں گے تاکہ سیکھنے اور سمجھنے کا سلسلہ اور روایت اردو انجمن جاری و ساری رہے   
اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے دنیا و آخرت کی عزتیں عطا فرمائے ، اپنا بہت خیال رکھیے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے

دعاگو


قارئین کرام مجھے یقین ہے کہ ماہرینِ عروض میری کھلّی اڑا رہے ہوںگے ضرور اڑائیے ، میں آپ کی توجہ چاہوں گا

جناب جمال الدین جمال صاحب اپنی کتاب تفہیم العروض میں افاعیل (مستفعلن) کے انیس 19 زحاف لکھتے ہیں لیکن ان کی فہرست اور مرزا یاس عظیم آبادی صاحب کی فہرست میں تھوڑا سا اختلاف ہے جس کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ایسا میں نہیں کہتا بلکہ ایسا میں نے نقل کیا ہے جناب سرور عالم راز سرور صاحب کی عروض پر مبنی کتاب
(آسان عروض اور نکاتِ شاعری ) سے جسے  میں نے یہاں بیان کر دیا آپ احباب کی خدمت میں
ٓآئیے مرزا یاس عظیم آبادی صاحب کی فہرست میں زحافات کا ایک جائزہ لیتے ہیں

(1) مفاعلن ، (2) مفتعلن (3) فاعلن (4) مفعولن (5) فعلن بسکون عین (6) مستفعلان (7) مستفعلاتن (8) مفعولان (9) فعلان بسکون عین (10)(1) فعولن (11) فَعِلَتُن مکسور عین (12) فاع (13) فع (14) مفاعلان (15) مفتعلان (16) فاعلاتن (17) فَعِلَتان عین مکسور (18) مفاعلاتن (19) مفتعلاتن

اور اب آئیے جمال الدین جمال صاحب کی مرتب فہرست کا جائزہ لیں


(1) مفاعیلن ، (2) مفتعلن (3) مفعولن (4) فعلن بسکون عین(5) مستفعلان (6) مستفعلاتن (7) مفعولان (8) فعلان بسکون عین (9) فاعلن (10) فعلتن  (11) فعولن (12) مفاعلان (13) مفاعلاتن (14) مفتعلان  (15) مفتعلاتن (16) فعِلتان (17) فع (18) فاع (19) فاعلان


اگر یہان پر مشاہدہ کیا جائے تو جناب مرزا یاس عظیم آبادی کی فہرست میں(18) اور جمال الدین جمال صاحب کی فہرست میں (13) ایک ہی زحاف مفاعلاتن ہیں جب کہ (14) اور (12) بالترتیب ایک ہی زحاف مفاعلان ہیں
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ترفیل زحاف کسی تفعیل کے آخر میں اگر سبب خٖفیف کے آگے ایک اور سبب خفیف کے بڑھانے سے قائم ہوتا ہے تو مستفعلن میں سبب خفیف +  سبب خفیف +  وتد مجموع =  مس +  تف + علن
ہیں ، ایسی صورت میں جب کہ وتد مجموع آخر میں ہے مفاعلاتن کا زحاف کیسے قائم ہوا اسی طرح تسبیغ کا زحاف آخر ن سے پہلے حرف کے ساتھ الف کا اضافہ کر دینے سے وجود میں آتا ہے تو اب بتائیے کہ مستفعلن میں مخبون مفاعلن ہے ایسی صورت میں مفاعلان کی سورت مسبغ ہوئی اگر نہیں ہوئی تو مفاعلان کا زحاف اور مفاعلاتن کا زحاف ان دونوں ماہرین عروض جناب مرزا یاس عظیم آبادی اور جناب جمال الدین جمال صاحب نے کیسے اور کس طرح سے اخذ کیا
از راہِ کرم ماہرین عروض سے گزارش ہے کہ میری رہنمائی فرما کر میری اس الجھن کو اپنی محبتوں اور مہربانیوں سے دور فرمائیے

اللہ آپ سبھی کو دونوں جہانوں کی عزتیں مرحمت فرمائے
آپ کی توجہ کا طلبگار

دعا گو
« آخری ترمیم: اگست 12, 2018, 07:04:29 شام منجانب Ismaa'eel Aijaaz »
محبتوں سے محبت سمیٹنے والا
خیال آپ کی محفل میں آچ پھر آیا

خیال

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

(Khayaal)

 

Copyright © اُردو انجمن