اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: Aasaan Arooz #10آسان عروض سبق۔ ١٠  (پڑھا گیا 8986 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • ******
  • تحریریں: 6168
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar
جواب: Aasaan Arooz #10آسان عروض سبق۔ ١٠
« Reply #30 بروز: فروری 13, 2016, 01:16:21 شام »
اقتباس
عزیز مکرم اسد صاحب:سلام مسنون

سب سے پہلے تو عرض ہے کہ طنز کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا ہے۔ میں آپ کے خلوص نیت پر شک کیسے کرسکتا ہوں؟ دوسری بات یہ کہ کسی شعر کو پرکھنے کے لئے اسے کبھی گا کر، گنگنا کر یا لہک لہک کر نہیں پڑھا جاتا ہے۔ اس طرح اس کے صحیح وزن کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیشہ تحت الفظ صحیح ادائیگی سے ہی پڑھا جاتا ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ علم عروض کو انسانوں نے ہی ترتیب دیا ہے۔ ان سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن ان کی نیت پر شک نہیں کیا جاسکتا کہ اپنی سہولت کے لئے انہوں نے اصول مرتب کر لئے ہیں۔ چوتھی بات یہ کہ اگر اردو میں غزل کہنا ہے تو علم عروض کی پابندی لازمی ہے ورنہ شاعری بے اصول ہو کر رہ جائے گی۔ یا پھر شاعر اپنا الگ عروض مرتب کرے اور دنیائے اردو سے اس کو منوا لے۔ ان صورتوں کے علاوہ کوئی اور صورت نہیں ہے۔

مجھ کو حیرت ہے کہ لمبی اور چھوٹی آواز کا فرق آپ مجسوس نہیں کررہے ہیں۔ رات، خلجان، طومار، سنسان، شاندار، دیوار، خلیج، رکوع ان سب کی آخری آواز لمبی ہے۔ ادا کرنے سے صاف ظاہر ہے۔ دل، ضد، عمل، راشد، نوبت، ان سب کی آخری آواز چھوٹی ہے۔ شعر کہتے وقت اور پڑھتے وقت بعض جگہ پیش،زیر یا زبر فرض کر لیا جاتا ہے اور اس طرح ادائیگی کی جاتی ہے جیسی زبان کی فطرت کاتقاضا ہوتا ہے۔ بعض اوقات لمبی آوازکو چھوٹا (جیسے اور کواُر)پڑھتے ہیں اور بعض اوقات چھوٹی کو لمبا کر دیتے ہیں اور اسی طرح تقطیع کرتے ہیں۔ اس میں کسی قسم کی بد نیتی کو دخل نہیں ہے بلکہ زبان ہی اس کا تقاضا کرتی ہے۔

آپ ایسا کریں کہ میری کتاب "آسان عروض اور نکات شاعری" خرید لیں۔اس کےمطالعے سے بہت سی باتیں صاف ہو جائیں گی۔ ملنے کا پتہ یہ ہے:

vprint.vp@gmail.com اس کمبپی کے مالک صفدر ملک صاحب ہیں جو میرے کرمفرما اور عزیز دوست ہیں۔

باقی راوی سب چین بولتا ہے۔

 

سرورعالم راز


 

السلام علیکم۔ آپ کا بہت ممنون ہوں کہ آپ اپنی علالت کے بادجود وقت دے پا رہے ہیں۔ مجھے لگا کہ میں اپنا سوال ٹھیک سے آپ کے سامنے رکھ نہیں پایا۔ میں قطعی طور پر عروض کے خلاف نہیں ہوں نہ ہی کوئی اپنا عروض بنانا چاہتا ہوں۔ میں اپنا سوال ایک مثال سے سامنے رکھتا ہوں۔

 

لفظ ”اچھا“ جب حیرت، غصے یا خوشی کے اظہار کے لیے استعمال ہوتا ہے تو بولنے والا اسے کھینچ کر بولتا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس مفہوم میں ”اچھا“ کا الف گرانے کی اجازت ہے تاکہ اسے کسی خاص بحر میں باندھا جا سکے؟

اگر مناسب سمجھیں اور طبیعت اجازت دے تو براہ کرم  تو اپنے علم سے مستفید فرمائیں۔
اسد



عزیز مکرم اسد صاحب:سلام مسنون
عروض سے آپ کی دلچسپی دیکھ کر مسرت ہوتی ہے۔ بہت کم لوگ اس علم سے شغف رکھتے ہیں۔ یہ تعلق جاری رکھئے اور محنت کرتے رہئے۔ اگلے ماہ اردو انجمن شاید ختم ہو جائے گی۔ آپ جب چاہیں مجھ سے ای میل کے توسط سے بات چیت کر لیں۔ مجھ کو خوشی ہو گی۔
آپ کا سوال "اچھا" کے متعلق ہے۔ ایسے سوالات کا جواب مثال دے کر آسانی سے دیا جا سکتا ہے۔ "اچھا" کی کوئی ایسی مثال میری نظر سے نہیں گزری ہے جس میں اس کا الف گرا دیا گیا ہو اور اچھا کو اچھ کے وزن پر باندھا گیا ہو۔ چنانچہ سوال کا جواب یہی ہوگا کہ اچھا کی الف نہیں گرائی جا سکتی ہے۔ آپ نے اگر کوئی ایسی مثال دیکھی ہے تو ضرور بتائیں۔ ویسے عقل یہ کہتی ہے کہ اچھا کو اچھ باندھنا درست نہیں ہو گا۔

باقی راوی سب چین بولتا ہے۔

سرور عالم راز



غیرحاضر عامر عباس

  • Naazim
  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 2387
  • جنس: مرد
جواب: Aasaan Arooz #10آسان عروض سبق۔ ١٠
« Reply #31 بروز: فروری 14, 2016, 06:08:39 صبح »
محترم سرورؔ صاحب اور اسدؔ صاحب، سلام۔
آپ حضرات کی یہ دلچسپ گفتگو کچھ دنوں سے دیکھتا رہا اور مستفید ہوتا رہا۔ لیکن اب دل چاہا کہ "انگلی کٹا کر شہیدوں میں نام لکھوانے" کی مصداق  گفتگو میں اپنا سا کچھ حصہ ڈال دوں۔ شاید کہ کسی دل میں اتر جائے مری بات۔

اب تک کی گفتگو کے آخری حصے میں اسدؔ صاحب جن مشکلات سے دوچار نظر آتے ہیں، میں کوشش کرتا ہوں کہ ان پر اپنی طالب علمانہ رائے پیش کروں۔ کہیں چوک جاؤں گا تو یقیناً صاحبانِ علم حضرات میری اصلاح فرما ہی دیں گے۔

بہت سے حضرات شعر کو موزوں کرنے کے لیے گنگنانے کا سہارا لیتے ہیں جبکہ کچھ لوگ الفاظ کی چھوٹی بڑی آوازوں کو ناپنے کے لیے ہندسوں (۲۱) یا دوسری علامتوں کا سہارا لیتے ہیں۔ عروض ان دونوں سے ماورا ہے اور وہ خامیاں جو پہلے بیان کردہ طریقوں میں ہیں، ان کا احاطہ کرتا ہے۔ جیسے حروف کی حرکت (زیر، زبر، پیش)۔ اسدؔ صاحب کی دونوں مشکلات کا تعلق اسی سے مربوط ہے۔

۔۱۔ فعلُ اور فاع میں کیا فرق ہے؟ فعل میں پہلا اور تیسرا حرف متحرک ہیں جبکہ فاع میں بھی الف کے سکون کی وجہ سے ع متحرک ہی مانا جانا چاہیئے
درج بالا سوال میں اصل الجھن اس کا دوسرا حصہ ہے، یعنی "فاع میں بھی الف کے سکون کی وجہ سے ع متحرک ہی مانا جانا چاہیئے"۔ میرے خیال میں ایسا کوئی اصول نہیں ہے اور اگر ہے تو شاید میری نظر سے نہیں گزرا ہے۔ البتہ یہ اصول ضرور ہے کہ اگر مصرعے میں کوئی ایسا لفظ آئے جس کے آخری دو حروف ساکن ہوں اور اس کے بعد آنے والے لفظ کا پہلا حرف متحرک ہو، تو پچھلے حرف کے آخری ساکن حرف کو بھی متحرک تقطیع کیا جا سکتا ہے۔

اس اصول کی بنا پر پچھلی گفتگو میں آنے والے اس مصرعے کی تقطیع یوں ہو سکتی ہے۔
دن چھوٹا اور رات بڑی ہے
دن چو ؛ ٹا اُر ؛ راتَ ؛ بڑی ہے
فعلن ؛ فعلن ؛ فعلُ ؛ فعولن

یعنی لفظ "رات" جس میں اصلاً آخری حرف "ت" ساکن ہے، لیکن اگلے لفظ کی متحرک "ب" کی وجہ سے اسے بھی حرکت مل گئی ہے۔ لیکن اگر یہی لفظ کسی مصرعے کے آخر میں ہو تب کیا ہوگا؟ دیکھتے ہیں۔

دن ہے روشن، کالی رات
دن ہے ؛ روشن ؛ کالی ؛ رات
فعلن ؛ فعلن ؛ فعلن ؛ فاع

اس مصرعے میں لفظ 'رات" آخری لفظ ہے اور اس کے آخری دو حروف ساکن ہیں، اس لیے یہاں اس کی تقطیع "فعلُ" کی بجائے "فاع" مناسب معلوم ہوتی ہے۔
بس یہی فرق "فعلُ اور "فاع" میں ہے کہ ان کا اطلاق الفاظ کی ان کے حروف کی حرکات کی مناسبت سے ادائی کے مطابق ہوتا ہے۔

۔۲۔ لفظ ”اچھا“ جب حیرت، غصے یا خوشی کے اظہار کے لیے استعمال ہوتا ہے تو بولنے والا اسے کھینچ کر بولتا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس مفہوم میں ”اچھا“ کا الف گرانے کی اجازت ہے تاکہ اسے کسی خاص بحر میں باندھا جا سکے؟
شعر میں لفظ کی موقع کی مناسبت سے ادائی کوئی شرط نہیں ہے۔ اگر آپ غور فرمائیں تو بعض اوقات لوگ "اچھا" کو تعجب کے موقعوں پر ایسا بھی ادا کر جاتے ہیں کہ لفظ کی آخری الف دوگنی ہی نہیں چوگنی ہو جاتی ہے :)۔ میرا خیال ہے کہ اشعار میں الفاظ کو اس طرح سے برتنا کہ لہجے سے مطابقت ہو اور لفظ پوری طرح سے ادا ہو، ایک خوبی کے طور پر ضرور شمار کیا جا سکتا ہے۔ جیسے استاد غالبؔ نے ایک جگہ فرمایا:۔

میں نے کہا کہ بزمِ ناز چاہیے غیر سے تہی
سن کر ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ "یوں


اس شعر میں "یوں" کو اسی طرح کے لہجے میں ادا کیا گیا ہے، جس کا آپ نے اپنی مثال میں ذکر کیا ہے، لیکن ایسا کرنا لازم نہیں ہے۔ شرط فقط یہ ہے کہ لفظ اپنے فطری یا ممکنہ (مگر صحیح!) تلفظ میں ادا ہو جائے۔

یقیناً "اچھا" کی الف گرانے سے آپ کی مراد لفظ کو ایسے ادا کرنا ہے کہ اس کی آخری الف پوری طرح سے کھینچ کر ادا نہ کی جائے ورنہ کسی لفظ کی آخری الف کو یکسر غائب کر دینا جائز نہیں ہے۔ دیکھیے، غالبؔ ایک جگہ یوں بھی فرماتے ہیں۔

ایسا آساں نہیں لہو رونا
دل میں‌ طاقت، جگر میں حال کہاں


پہلے مصرعے کی تقطیع:۔
ایسَ آسا ؛ نہی لہو ؛ رونا
فاعِلاتن ؛ مفاعِلن ؛ فعلن

یہاں "ایسا" کی آخری الف غائب نہیں ہوئی ہے بلکہ "زبر" میں بدل گئی، یا یوں کہیے کہ بڑی آواز چھوٹی آواز میں تبدیل ہو گئی ہے۔ اسی لیے "سَ" کے مقابل تقطیع میں "عِ" متحرک ہے۔ ایسا کرنا جائز ہے۔ ہاں، اچھے شعراء شعر کے مجموعی حسن کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی رعایت کو استعمال کرتے ہیں۔

مجھے امید ہے کہ آپ حضرات "دخل در معقولات" پر، یا اگر کہیں کسی کی دل آزاری کا مرتکب ہوا ہوں تو مجھے معاف فرمائیں گے۔

اس دعا کے ساتھ کہ انجمن کا یہ حسین سلسلہ جاری رہے اور مجھ جیسے لوگ اس سے استفادہ کرتے رہیں، اجازت چاہتا ہوں۔

احقر
عامر عباس
« آخری ترمیم: فروری 14, 2016, 06:14:58 صبح منجانب عامر عباس »

غیرحاضر Asadullah Khan

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 116
جواب: Aasaan Arooz #10آسان عروض سبق۔ ١٠
« Reply #32 بروز: فروری 15, 2016, 04:26:00 صبح »
اقتباس

عزیز مکرم اسد صاحب:سلام مسنون

عروض سے آپ کی دلچسپی دیکھ کر مسرت ہوتی ہے۔ بہت کم لوگ اس علم سے شغف رکھتے ہیں۔ یہ تعلق جاری رکھئے اور محنت کرتے رہئے۔ اگلے ماہ اردو انجمن شاید ختم ہو جائے گی۔ آپ جب چاہیں مجھ سے ای میل کے توسط سے بات چیت کر لیں۔ مجھ کو خوشی ہو گی۔

آپ کا سوال "اچھا" کے متعلق ہے۔ ایسے سوالات کا جواب مثال دے کر آسانی سے دیا جا سکتا ہے۔ "اچھا" کی کوئی ایسی مثال میری نظر سے نہیں گزری ہے جس میں اس کا الف گرا دیا گیا ہو اور اچھا کو اچھ کے وزن پر باندھا گیا ہو۔ چنانچہ سوال کا جواب یہی ہوگا کہ اچھا کی الف نہیں گرائی جا سکتی ہے۔ آپ نے اگر کوئی ایسی مثال دیکھی ہے تو ضرور بتائیں۔ ویسے عقل یہ کہتی ہے کہ اچھا کو اچھ باندھنا درست نہیں ہو گا۔

 

باقی راوی سب چین بولتا ہے۔

 

سرور عالم راز


 

اقتباس

 

محترم سرورؔ صاحب اور اسدؔ صاحب، سلام۔

آپ حضرات کی یہ دلچسپ گفتگو کچھ دنوں سے دیکھتا رہا اور مستفید ہوتا رہا۔ لیکن اب دل چاہا کہ "انگلی کٹا کر شہیدوں میں نام لکھوانے" کی مصداق  گفتگو میں اپنا سا کچھ حصہ ڈال دوں۔ شاید کہ کسی دل میں اتر جائے مری بات۔

 

اب تک کی گفتگو کے آخری حصے میں اسدؔ صاحب جن مشکلات سے دوچار نظر آتے ہیں، میں کوشش کرتا ہوں کہ ان پر اپنی طالب علمانہ رائے پیش کروں۔ کہیں چوک جاؤں گا تو یقیناً صاحبانِ علم حضرات میری اصلاح فرما ہی دیں گے۔

 

بہت سے حضرات شعر کو موزوں کرنے کے لیے گنگنانے کا سہارا لیتے ہیں جبکہ کچھ لوگ الفاظ کی چھوٹی بڑی آوازوں کو ناپنے کے لیے ہندسوں (۲۱) یا دوسری علامتوں کا سہارا لیتے ہیں۔ عروض ان دونوں سے ماورا ہے اور وہ خامیاں جو پہلے بیان کردہ طریقوں میں ہیں، ان کا احاطہ کرتا ہے۔ جیسے حروف کی حرکت (زیر، زبر، پیش)۔ اسدؔ صاحب کی دونوں مشکلات کا تعلق اسی سے مربوط ہے۔

 

۔۱۔ فعلُ اور فاع میں کیا فرق ہے؟ فعل میں پہلا اور تیسرا حرف متحرک ہیں جبکہ فاع میں بھی الف کے سکون کی وجہ سے ع متحرک ہی مانا جانا چاہیئے

درج بالا سوال میں اصل الجھن اس کا دوسرا حصہ ہے، یعنی "فاع میں بھی الف کے سکون کی وجہ سے ع متحرک ہی مانا جانا چاہیئے"۔ میرے خیال میں ایسا کوئی اصول نہیں ہے اور اگر ہے تو شاید میری نظر سے نہیں گزرا ہے۔ البتہ یہ اصول ضرور ہے کہ اگر مصرعے میں کوئی ایسا لفظ آئے جس کے آخری دو حروف ساکن ہوں اور اس کے بعد آنے والے لفظ کا پہلا حرف متحرک ہو، تو پچھلے حرف کے آخری ساکن حرف کو بھی متحرک تقطیع کیا جا سکتا ہے۔

 

اس اصول کی بنا پر پچھلی گفتگو میں آنے والے اس مصرعے کی تقطیع یوں ہو سکتی ہے۔

دن چھوٹا اور رات بڑی ہے

دن چو ؛ ٹا اُر ؛ راتَ ؛ بڑی ہے

فعلن ؛ فعلن ؛ فعلُ ؛ فعولن

 

یعنی لفظ "رات" جس میں اصلاً آخری حرف "ت" ساکن ہے، لیکن اگلے لفظ کی متحرک "ب" کی وجہ سے اسے بھی حرکت مل گئی ہے۔ لیکن اگر یہی لفظ کسی مصرعے کے آخر میں ہو تب کیا ہوگا؟ دیکھتے ہیں۔

 

دن ہے روشن، کالی رات

دن ہے ؛ روشن ؛ کالی ؛ رات

فعلن ؛ فعلن ؛ فعلن ؛ فاع

 

اس مصرعے میں لفظ 'رات" آخری لفظ ہے اور اس کے آخری دو حروف ساکن ہیں، اس لیے یہاں اس کی تقطیع "فعلُ" کی بجائے "فاع" مناسب معلوم ہوتی ہے۔

بس یہی فرق "فعلُ اور "فاع" میں ہے کہ ان کا اطلاق الفاظ کی ان کے حروف کی حرکات کی مناسبت سے ادائی کے مطابق ہوتا ہے۔

 

۔۲۔ لفظ ”اچھا“ جب حیرت، غصے یا خوشی کے اظہار کے لیے استعمال ہوتا ہے تو بولنے والا اسے کھینچ کر بولتا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس مفہوم میں ”اچھا“ کا الف گرانے کی اجازت ہے تاکہ اسے کسی خاص بحر میں باندھا جا سکے؟

شعر میں لفظ کی موقع کی مناسبت سے ادائی کوئی شرط نہیں ہے۔ اگر آپ غور فرمائیں تو بعض اوقات لوگ "اچھا" کو تعجب کے موقعوں پر ایسا بھی ادا کر جاتے ہیں کہ لفظ کی آخری الف دوگنی ہی نہیں چوگنی ہو جاتی ہے :)۔ میرا خیال ہے کہ اشعار میں الفاظ کو اس طرح سے برتنا کہ لہجے سے مطابقت ہو اور لفظ پوری طرح سے ادا ہو، ایک خوبی کے طور پر ضرور شمار کیا جا سکتا ہے۔ جیسے استاد غالبؔ نے ایک جگہ فرمایا:۔

 

میں نے کہا کہ بزمِ ناز چاہیے غیر سے تہی

سن کر ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ "یوں"۔

 

اس شعر میں "یوں" کو اسی طرح کے لہجے میں ادا کیا گیا ہے، جس کا آپ نے اپنی مثال میں ذکر کیا ہے، لیکن ایسا کرنا لازم نہیں ہے۔ شرط فقط یہ ہے کہ لفظ اپنے فطری یا ممکنہ (مگر صحیح!) تلفظ میں ادا ہو جائے۔

 

یقیناً "اچھا" کی الف گرانے سے آپ کی مراد لفظ کو ایسے ادا کرنا ہے کہ اس کی آخری الف پوری طرح سے کھینچ کر ادا نہ کی جائے ورنہ کسی لفظ کی آخری الف کو یکسر غائب کر دینا جائز نہیں ہے۔ دیکھیے، غالبؔ ایک جگہ یوں بھی فرماتے ہیں۔

 

ایسا آساں نہیں لہو رونا

دل میں‌ طاقت، جگر میں حال کہاں

 

پہلے مصرعے کی تقطیع:۔

ایسَ آسا ؛ نہی لہو ؛ رونا

فاعِلاتن ؛ مفاعِلن ؛ فعلن

 

یہاں "ایسا" کی آخری الف غائب نہیں ہوئی ہے بلکہ "زبر" میں بدل گئی، یا یوں کہیے کہ بڑی آواز چھوٹی آواز میں تبدیل ہو گئی ہے۔ اسی لیے "سَ" کے مقابل تقطیع میں "عِ" متحرک ہے۔ ایسا کرنا جائز ہے۔ ہاں، اچھے شعراء شعر کے مجموعی حسن کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی رعایت کو استعمال کرتے ہیں۔

 

مجھے امید ہے کہ آپ حضرات "دخل در معقولات" پر، یا اگر کہیں کسی کی دل آزاری کا مرتکب ہوا ہوں تو مجھے معاف فرمائیں گے۔

 

اس دعا کے ساتھ کہ انجمن کا یہ حسین سلسلہ جاری رہے اور مجھ جیسے لوگ اس سے استفادہ کرتے رہیں، اجازت چاہتا ہوں۔

 

احقر

عامر عباس




جناب سرور عالم صاحب اور عامر عباس صاحب السلامُ علیکم

 

سرور عالم صاحب سے اتنا کہوں گا کہ میں آپ کی توجہ اور محبت کا تہِ دل سے شکرگزار ہوں۔ اور یقیناً آپ سے اس انجمن کے بند ہونے کے بعد رابطہ رکھنے کی کوشش کروں گا۔ ابھی تو بہت کچھ سیکھنا ہے۔

 

عامر صاحب آپ نے میری کافی مشکلیں دور کر دی ہیں۔ لیکن کچھ اشکال ہیں جن کا ذکر کرتا ہوں۔

 

لسانیات کی رو سے اردو میں کوئی عبارت دو متواتر ساکنوں پر ختم نہیں ہوتی ہے۔ اس لیے آخری ساکن کو گرا کیوں نہیں دیتے؟ اس سے وزن پر بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جیسا کہ میری سمجھ کے مطابق مصرعے کے آخر میں 'فع' اور 'فاع'، 'فعولن' اور 'فعولان'، 'فعلن' اور 'فعلان'، اور 'مفاعلن' اور 'مفاعلان' وغیرہ کو ایک شعر یا غزل میں باندھا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر ہم دیکھیں تو یہ رخصت اس ہی اصول کے تحت ہی دی گئی ہے کہ آخری ساکن اردو بول چال میں بھی گرا ہی دیا جاتا ہے۔ میری اس بحث کا یہی مقصد ہے کہ اتنے اصول کہ "مصرعے کے آخر میں 'فع' اور 'فاع'، 'فعولن' اور 'فعولان'، 'فعلن' اور 'فعلان'، اور 'مفاعلن' اور 'مفاعلان' وغیرہ کو ایک شعر یا غزل میں باندھا جا سکتا ہے" وضع کرنے کی بجائے یہ کہ دینا بہتر نہیں ہے کہ اگر مصرعہ دو ساکنوں پر ختم ہو رہا ہو تو آخری ساکن گرا دیا جائے؟ کیونکہ جس زبان کی موجودہ شکل اردو ہے اس میں ایسی کوئی ترکیب نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ دو ساکن اگر بیچ میں آتے ہیں تو آخری ساکن متحرک ہو جاتا ہے۔

 

بہر حال آپ کی گفتگو سے میں نے یہ اخذ کیا ہے کہ 'رات' مصرعے کے آخر میں آئے تو 'فاع' ہے اور بیچ میں آئے تو 'فعلُ' ہے۔ براہِ مہربانی تصدیق فرما دیجیے۔

 

اسی لسانیاتی علم کی رو سے اردو کی کوئی عبارت زیر، زبر، پیش کی آواز پر ختم نہیں ہو سکتی۔ تو اس کو کیوں تقطیع میں ایسے باندھا جاتا ہے؟

 

اب مسئلہ رہا ”اچھا“ کا۔ میں نے بھی الف گرادینے سے اس کو زبر میں تبدیل کرنا ہی کہا تھا۔  ’اچھا‘ میں چھ-زبر-الف ہوتا ہے۔ الف گرے گی تو 'چھَ' ہی رہ جائے گا۔

 

اسد۔


 

غیرحاضر عامر عباس

  • Naazim
  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 2387
  • جنس: مرد
جواب: Aasaan Arooz #10آسان عروض سبق۔ ١٠
« Reply #33 بروز: فروری 15, 2016, 12:11:53 شام »
محترم اسدؔ صاحب، السلام علیکم۔
مجھے خوشی ہے کہ میری چند گزارشات کے توسط سے آپ کی مشکلات حل ہوگئیں۔ جن اشکالات کا ذکر آپ نے اپنے جوابی خط میں کیا ہے، ان کا تسلی بخش جواب تو صاحبانِ علم بالخصوص لسانیات کے ماہرین ہی دے سکیں گے۔ البتہ کچھ سیکھنے کی نیت سے میں ان تکنیکیات کے بھنور میں پھنس جانے کا خطرہ مول کر اپنی سی گزارشات پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ دیکھیے، کیا فرماتے ہیں مفتیانِ دینِ متین بیچ اس مسئلے کے :)۔

آپ کے خط کے حصوں کو مختلف رنگ سے چسپاں کر رہا ہوں تاکہ قارئین انھیں الگ پہچان سکیں۔

لسانیات کی رو سے اردو میں کوئی عبارت دو متواتر ساکنوں پر ختم نہیں ہوتی ہے۔

مجھے لسانیات کا تو کچھ زیادہ علم نہیں ہے، البتہ عام اردو لغات، جن پر مجھ ایسے نوآموز تکیہ کرتے ہیں، میں ایسے الفاظ اچھی تعداد میں نظر آتے ہیں، جن کے آخر میں نہ صرف دو متواتر ساکن حروف بلکہ بعض میں تین متواتر ساکن حروف بھی ملتے ہیں۔ سنسکرت سے آئے ہوئے بھینٹ، گیند، پیار، دیس، عربی سے آئے ہوئے سراج، منیر، خلد، شمس، اذان، اور فارسی سے لیے گئے بہشت، دوست، چرند، درخت، شمشیر، جام ۔۔۔ ایسی ایک طویل فہرست الفاظ کی ہے۔

لسانیات کی رو سے عبارت (یعنی نثر) کے ختم کرنے کے کیا اصول ہیں، اس کا مجھے زیادہ علم نہیں ہے لیکن شاعری میں تو ہم کسی لفظ پر بھی مصرعے کو ختم کر سکتے ہیں کیوں کہ اس ملک میں عروضی قانون چلتا ہے :)۔

میں جہاں تک سمجھ سکا ہوں، عروض کا نظام فقط الفاظ کو ان کے اوزان پر پرکھنے ہی نہیں بلکہ ان اوزان کے نتیجے میں اشعار کو آہنگ و موسیقیت ودیعت کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔ تبھی تو عروض کی بنیادی باتوں میں یہ بات بہت صراحت کے ساتھ سکھائی جاتی ہے کہ "شعر کی تقطیع مکتوبی نہیں بلکہ ملفوظی ہوتی ہے"۔ یعنی، لفظ جیسا چاہے لکھا جائے، لیکن جس طرح زبان سے ادا ہوگا، شعر کی تقطیع بھی اسی کے مطابق ہوگی۔ اگر یہ بات سمجھ آ جائے تو یہ ہضم کرنا بھی آسان ہو جائے گا کہ درمیانی لفظ کے آخری ساکن حرف کو متحرک محسوب کرنے، یا دو مصرعوں کے آخر میں فعلن/فعلان کی رعایت۔۔۔ ان اصولوں کا تعلق لفظ کی شکل و صورت سے نہیں بلکہ ان کی ادائی اور شعر کی موسیقیت سے ہے۔

اس لیے آخری ساکن کو گرا کیوں نہیں دیتے؟ اس سے وزن پر بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جیسا کہ میری سمجھ کے مطابق مصرعے کے آخر میں 'فع' اور 'فاع'، 'فعولن' اور 'فعولان'، 'فعلن' اور 'فعلان'، اور 'مفاعلن' اور 'مفاعلان' وغیرہ کو ایک شعر یا غزل میں باندھا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر ہم دیکھیں تو یہ رخصت اس ہی اصول کے تحت ہی دی گئی ہے کہ آخری ساکن اردو بول چال میں بھی گرا ہی دیا جاتا ہے۔

ارے بھائی، ایسے کیسے گرا دیں آخری ساکن کو؟ اور کیوں کوئی فرق نہیں پڑتا ان کے گرنے سے؟ اب اس معصوم سے لفظ "درخت" کو ہی لیجیے۔

صحرا میں چاہیے تھا ہمیں، گل نہیں، درخت
صح را مِ ؛ چا ہِ یے تَ ؛ ہَ مے گل نَ ؛ ہی د رخْ ت
مف عو لُ ؛ فا ع لا تُ ؛ م فا عی لُ ؛ فا ع لا ن

اب، اگر ہم ہر جگہ "درخت" کی "ت" کو اس کے آخری ساکن حرف ہونے کی وجہ سے گرا دیں تو اس کو مصرعے کے درمیان میں کیسے برتیں گے؟ جیسے۔

کہیں درخت گرا اور کہیں فلک ٹوٹا
کَ ہی دَ رخْ ؛ تَ گِ را اُر ؛ کَ ہی فَ لک ؛ ٹو ٹا
مُ فا عِ لن ؛ فَ عِ لا تن ؛ مُ فا عِ لن ؛ فع لن

مجھے اس بات کو ہضم کرنے میں دشواری کا سامنا ہے کہ "آخری ساکن اردو بول چال میں بھی گرا ہی دیا جاتا ہے"۔ میرا خیال یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ کیا ہم "درخت" کو بول چال میں "درخ" کہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں؟ یا "دوست" کو فقط "دوس" کہنا کافی سمجھتے ہیں؟ نہیں، ایسا نہیں ہے۔ معاملہ صرف یہ ہے کہ ہماری زبان جس طریقہ سے الفاظ کو ادا کرتی ہے، اس میں آخری متواتر ساکن حروف آپس میں ضم ہونے لگتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ان کی آواز ختم ہو جاتی ہے یا حروف گر جاتے ہیں۔ عروض حروف کے اس مدغم سے نمٹتا ہے لیکن اصول کی بنیاد پر۔

جی ہاں، یہ سہولت عروض میں موجود ہے کہ جن الفاظ کے آخری تین حروف ساکن ہوں، ان کی ادائی کے پیشِ نظر آخری حرف کو اس سے ماقبل میں ضم کر دیا جاتا ہے۔ جیسے، دوست۔ دیکھیے غالبؔ کیا فرماتے ہیں۔

غالبؔ ندیمِ دوست سے آتی ہے بوئے دوست
غا لب نَ ؛ دی مِ دو سَ ؛ سِ آ تی ہِ ؛ بو ءِ دو س
مف عو لُ ؛ فا عِ لا تُ ؛ م فا عی لُ ؛ فا عِ لا ن

اس مثال سے بھی مجھے یہی سمجھ آتا ہے کہ عروض کا مقصد اشعار کو الفاظ کی فطری ادائی کے مطابق رواں دواں اور مترنم بنانا ہے۔

میری اس بحث کا یہی مقصد ہے کہ اتنے اصول کہ "مصرعے کے آخر میں 'فع' اور 'فاع'، 'فعولن' اور 'فعولان'، 'فعلن' اور 'فعلان'، اور 'مفاعلن' اور 'مفاعلان' وغیرہ کو ایک شعر یا غزل میں باندھا جا سکتا ہے" وضع کرنے کی بجائے یہ کہ دینا بہتر نہیں ہے کہ اگر مصرعہ دو ساکنوں پر ختم ہو رہا ہو تو آخری ساکن گرا دیا جائے؟ کیونکہ جس زبان کی موجودہ شکل اردو ہے اس میں ایسی کوئی ترکیب نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ دو ساکن اگر بیچ میں آتے ہیں تو آخری ساکن متحرک ہو جاتا ہے۔

یہی تو میں واضح کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ دو ساکنوں پر اختتام کی صورت میں آخری ساکن گرایا نہیں جاتا بلکہ اس کی ادائی کا اس طرح سامان کیا جاتا ہے کہ لفظ نہ صرف ادا ہو بلکہ اس کی وجہ سے شعر اہلِ ذوق کی سماعتوں پر گراں بھی نہ گزرے۔ درجِ بالا مثالیں اس بات کو سمجھنے میں معاون ہو سکتی ہیں۔

پھر بھی اگر آپ کو ایسا لگتا ہے کہ اتنے سارے افاعیل اور زحافات ہونے سے الجھن ہے تو آپ عروض کے اصولوں کو ایسا ہی یاد کر لیجیے جیسا آپ کے لیے آسان ہے۔ اب خوش! :)۔ ہاں، اس بات سے ہوشیار رہیے کہ آسانیوں کی تلاش میں آپ کہیں انہی ہندسوں یا علامتوں کے نظام میں نہ پھنس جائیں، جن کی مشکلات کو عروض نے حل کیا تھا۔
 
بہر حال آپ کی گفتگو سے میں نے یہ اخذ کیا ہے کہ 'رات' مصرعے کے آخر میں آئے تو 'فاع' ہے اور بیچ میں آئے تو 'فعلُ' ہے۔ براہِ مہربانی تصدیق فرما دیجیے۔

صاحب، کیوں اس غریب کی گردن پھانس رہے ہیں! :)۔ میں ٹھہرا ایک ادنیٰ سا طالب علم، میری یہ بساط نہیں کہ کسی اصول کی تصدیق کر سکوں۔ بس جو تھوڑا بہت سیکھا ہے، اس سے مجھے یہی سمجھ آیا ہے۔ آپ چاہیں تو مصرعے کے درمیان میں "فاع" استعمال کر سکتے ہیں، لیکن پھر ہر مصرعے میں اسے یوں ہی برتنا ہوگا کیوں کہ ایسی صورت میں یہ آپ کے اشعار کا وزن قرار پائے گا نہ کہ عروضی رعایت۔ میں کچھ ایسا ہی سمجھتا ہوں۔

اسی لسانیاتی علم کی رو سے اردو کی کوئی عبارت زیر، زبر، پیش کی آواز پر ختم نہیں ہو سکتی۔ تو اس کو کیوں تقطیع میں ایسے باندھا جاتا ہے؟

موسیقیت، بھائی! موسیقیت۔
یقین نہ آئے تو اس مصرعے کو ایک بار اس کی بحر یعنی موسیقیت کے ساتھ پڑھ کر دیکھیں، اور دوسری بار ساکن حروف کو ساکن ہی ادا کریں۔

دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
دے کَ نا ہے ؛ زو رَ کت نا ؛ با زُ اے قا ؛ تل مِ ہے
فا عِ لا تن ؛ فا عِ لا تن ؛ فا عِ لا تن ؛ فا عِ لن
۔۔ ساکن ۔۔
دے کْ نا ہے ؛ زو رْ کت نا ؛ با زُ اے قا ؛ تل مِ ہے

بتائیے، کیا فرق محسوس کیا آپ نے؟

اب مسئلہ رہا ”اچھا“ کا۔ میں نے بھی الف گرادینے سے اس کو زبر میں تبدیل کرنا ہی کہا تھا۔  ’اچھا‘ میں چھ-زبر-الف ہوتا ہے۔ الف گرے گی تو 'چھَ' ہی رہ جائے گا۔

دراصل، عروض/تقطیع میں جب ہم کسی حرف کو گرانے کا کہتے ہیں تو اس کا مطلب اس کو (یعنی اس کی آواز کو) یکسر ساقط (غائب) کرنا ہوتا ہے۔ تقطیع میں "اچ چھَ" کی صورت میں "زبر" چھ کی حرکت کی بجائے "الف" کی آواز کا اختصار سمجھی جاتی ہے۔ ایسا میرا خیال ہے۔ اگر آپ وہی کہنا چاہتے ہیں جو میں کہ رہا ہوں، تب تو بات ہی ختم ہو گئی۔ :)

چلیے، بالآخر یہ خط تمام ہوا۔ ٹکڑوں میں اس کا جواب لکھا ہے، اس لیے امید ہے کہ باتوں کا ربط اگر کہیں مفقود ہو تو آپ انھیں تلاش کر ہی لیں گے۔ امید ہے کہ یا تو یہ بے قیمت عرائض آپ کے کسی کام آ جائیں گے، یا پھر میری اصلاح کا سامان ہو جائے گا۔ دیکھیے آگے کیا ہوتا ہے۔

احقر
عامر عباس

غیرحاضر Asadullah Khan

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 116
جواب: Aasaan Arooz #10آسان عروض سبق۔ ١٠
« Reply #34 بروز: فروری 16, 2016, 10:59:17 شام »

محترم اسدؔ صاحب، السلام علیکم۔

مجھے خوشی ہے کہ میری چند گزارشات کے توسط سے آپ کی مشکلات حل ہوگئیں۔ جن اشکالات کا ذکر آپ نے اپنے جوابی خط میں کیا ہے، ان کا تسلی بخش جواب تو صاحبانِ علم بالخصوص لسانیات کے ماہرین ہی دے سکیں گے۔ البتہ کچھ سیکھنے کی نیت سے میں ان تکنیکیات کے بھنور میں پھنس جانے کا خطرہ مول کر اپنی سی گزارشات پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ دیکھیے، کیا فرماتے ہیں مفتیانِ دینِ متین بیچ اس مسئلے کے :)۔

 

آپ کے خط کے حصوں کو مختلف رنگ سے چسپاں کر رہا ہوں تاکہ قارئین انھیں الگ پہچان سکیں۔

 

لسانیات کی رو سے اردو میں کوئی عبارت دو متواتر ساکنوں پر ختم نہیں ہوتی ہے۔

 

مجھے لسانیات کا تو کچھ زیادہ علم نہیں ہے، البتہ عام اردو لغات، جن پر مجھ ایسے نوآموز تکیہ کرتے ہیں، میں ایسے الفاظ اچھی تعداد میں نظر آتے ہیں، جن کے آخر میں نہ صرف دو متواتر ساکن حروف بلکہ بعض میں تین متواتر ساکن حروف بھی ملتے ہیں۔ سنسکرت سے آئے ہوئے بھینٹ، گیند، پیار، دیس، عربی سے آئے ہوئے سراج، منیر، خلد، شمس، اذان، اور فارسی سے لیے گئے بہشت، دوست، چرند، درخت، شمشیر، جام ۔۔۔ ایسی ایک طویل فہرست الفاظ کی ہے۔

 

لسانیات کی رو سے عبارت (یعنی نثر) کے ختم کرنے کے کیا اصول ہیں، اس کا مجھے زیادہ علم نہیں ہے لیکن شاعری میں تو ہم کسی لفظ پر بھی مصرعے کو ختم کر سکتے ہیں کیوں کہ اس ملک میں عروضی قانون چلتا ہے :)۔

 

میں جہاں تک سمجھ سکا ہوں، عروض کا نظام فقط الفاظ کو ان کے اوزان پر پرکھنے ہی نہیں بلکہ ان اوزان کے نتیجے میں اشعار کو آہنگ و موسیقیت ودیعت کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔ تبھی تو عروض کی بنیادی باتوں میں یہ بات بہت صراحت کے ساتھ سکھائی جاتی ہے کہ "شعر کی تقطیع مکتوبی نہیں بلکہ ملفوظی ہوتی ہے"۔ یعنی، لفظ جیسا چاہے لکھا جائے، لیکن جس طرح زبان سے ادا ہوگا، شعر کی تقطیع بھی اسی کے مطابق ہوگی۔ اگر یہ بات سمجھ آ جائے تو یہ ہضم کرنا بھی آسان ہو جائے گا کہ درمیانی لفظ کے آخری ساکن حرف کو متحرک محسوب کرنے، یا دو مصرعوں کے آخر میں فعلن/فعلان کی رعایت۔۔۔ ان اصولوں کا تعلق لفظ کی شکل و صورت سے نہیں بلکہ ان کی ادائی اور شعر کی موسیقیت سے ہے۔

 

اس لیے آخری ساکن کو گرا کیوں نہیں دیتے؟ اس سے وزن پر بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جیسا کہ میری سمجھ کے مطابق مصرعے کے آخر میں 'فع' اور 'فاع'، 'فعولن' اور 'فعولان'، 'فعلن' اور 'فعلان'، اور 'مفاعلن' اور 'مفاعلان' وغیرہ کو ایک شعر یا غزل میں باندھا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر ہم دیکھیں تو یہ رخصت اس ہی اصول کے تحت ہی دی گئی ہے کہ آخری ساکن اردو بول چال میں بھی گرا ہی دیا جاتا ہے۔

 

ارے بھائی، ایسے کیسے گرا دیں آخری ساکن کو؟ اور کیوں کوئی فرق نہیں پڑتا ان کے گرنے سے؟ اب اس معصوم سے لفظ "درخت" کو ہی لیجیے۔

 

صحرا میں چاہیے تھا ہمیں، گل نہیں، درخت

صح را مِ ؛ چا ہِ یے تَ ؛ ہَ مے گل نَ ؛ ہی د رخْ ت

مف عو لُ ؛ فا ع لا تُ ؛ م فا عی لُ ؛ فا ع لا ن

 

اب، اگر ہم ہر جگہ "درخت" کی "ت" کو اس کے آخری ساکن حرف ہونے کی وجہ سے گرا دیں تو اس کو مصرعے کے درمیان میں کیسے برتیں گے؟ جیسے۔

 

کہیں درخت گرا اور کہیں فلک ٹوٹا

کَ ہی دَ رخْ ؛ تَ گِ را اُر ؛ کَ ہی فَ لک ؛ ٹو ٹا

مُ فا عِ لن ؛ فَ عِ لا تن ؛ مُ فا عِ لن ؛ فع لن

 

مجھے اس بات کو ہضم کرنے میں دشواری کا سامنا ہے کہ "آخری ساکن اردو بول چال میں بھی گرا ہی دیا جاتا ہے"۔ میرا خیال یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ کیا ہم "درخت" کو بول چال میں "درخ" کہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں؟ یا "دوست" کو فقط "دوس" کہنا کافی سمجھتے ہیں؟ نہیں، ایسا نہیں ہے۔ معاملہ صرف یہ ہے کہ ہماری زبان جس طریقہ سے الفاظ کو ادا کرتی ہے، اس میں آخری متواتر ساکن حروف آپس میں ضم ہونے لگتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ان کی آواز ختم ہو جاتی ہے یا حروف گر جاتے ہیں۔ عروض حروف کے اس مدغم سے نمٹتا ہے لیکن اصول کی بنیاد پر۔

 

جی ہاں، یہ سہولت عروض میں موجود ہے کہ جن الفاظ کے آخری تین حروف ساکن ہوں، ان کی ادائی کے پیشِ نظر آخری حرف کو اس سے ماقبل میں ضم کر دیا جاتا ہے۔ جیسے، دوست۔ دیکھیے غالبؔ کیا فرماتے ہیں۔

 

غالبؔ ندیمِ دوست سے آتی ہے بوئے دوست

غا لب نَ ؛ دی مِ دو سَ ؛ سِ آ تی ہِ ؛ بو ءِ دو س

مف عو لُ ؛ فا عِ لا تُ ؛ م فا عی لُ ؛ فا عِ لا ن

 

اس مثال سے بھی مجھے یہی سمجھ آتا ہے کہ عروض کا مقصد اشعار کو الفاظ کی فطری ادائی کے مطابق رواں دواں اور مترنم بنانا ہے۔

 

میری اس بحث کا یہی مقصد ہے کہ اتنے اصول کہ "مصرعے کے آخر میں 'فع' اور 'فاع'، 'فعولن' اور 'فعولان'، 'فعلن' اور 'فعلان'، اور 'مفاعلن' اور 'مفاعلان' وغیرہ کو ایک شعر یا غزل میں باندھا جا سکتا ہے" وضع کرنے کی بجائے یہ کہ دینا بہتر نہیں ہے کہ اگر مصرعہ دو ساکنوں پر ختم ہو رہا ہو تو آخری ساکن گرا دیا جائے؟ کیونکہ جس زبان کی موجودہ شکل اردو ہے اس میں ایسی کوئی ترکیب نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ دو ساکن اگر بیچ میں آتے ہیں تو آخری ساکن متحرک ہو جاتا ہے۔

 

یہی تو میں واضح کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ دو ساکنوں پر اختتام کی صورت میں آخری ساکن گرایا نہیں جاتا بلکہ اس کی ادائی کا اس طرح سامان کیا جاتا ہے کہ لفظ نہ صرف ادا ہو بلکہ اس کی وجہ سے شعر اہلِ ذوق کی سماعتوں پر گراں بھی نہ گزرے۔ درجِ بالا مثالیں اس بات کو سمجھنے میں معاون ہو سکتی ہیں۔

 

پھر بھی اگر آپ کو ایسا لگتا ہے کہ اتنے سارے افاعیل اور زحافات ہونے سے الجھن ہے تو آپ عروض کے اصولوں کو ایسا ہی یاد کر لیجیے جیسا آپ کے لیے آسان ہے۔ اب خوش! :)۔ ہاں، اس بات سے ہوشیار رہیے کہ آسانیوں کی تلاش میں آپ کہیں انہی ہندسوں یا علامتوں کے نظام میں نہ پھنس جائیں، جن کی مشکلات کو عروض نے حل کیا تھا۔


بہر حال آپ کی گفتگو سے میں نے یہ اخذ کیا ہے کہ 'رات' مصرعے کے آخر میں آئے تو 'فاع' ہے اور بیچ میں آئے تو 'فعلُ' ہے۔ براہِ مہربانی تصدیق فرما دیجیے۔

 

صاحب، کیوں اس غریب کی گردن پھانس رہے ہیں! :)۔ میں ٹھہرا ایک ادنیٰ سا طالب علم، میری یہ بساط نہیں کہ کسی اصول کی تصدیق کر سکوں۔ بس جو تھوڑا بہت سیکھا ہے، اس سے مجھے یہی سمجھ آیا ہے۔ آپ چاہیں تو مصرعے کے درمیان میں "فاع" استعمال کر سکتے ہیں، لیکن پھر ہر مصرعے میں اسے یوں ہی برتنا ہوگا کیوں کہ ایسی صورت میں یہ آپ کے اشعار کا وزن قرار پائے گا نہ کہ عروضی رعایت۔ میں کچھ ایسا ہی سمجھتا ہوں۔

 

اسی لسانیاتی علم کی رو سے اردو کی کوئی عبارت زیر، زبر، پیش کی آواز پر ختم نہیں ہو سکتی۔ تو اس کو کیوں تقطیع میں ایسے باندھا جاتا ہے؟

 

موسیقیت، بھائی! موسیقیت۔

یقین نہ آئے تو اس مصرعے کو ایک بار اس کی بحر یعنی موسیقیت کے ساتھ پڑھ کر دیکھیں، اور دوسری بار ساکن حروف کو ساکن ہی ادا کریں۔

 

دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

دے کَ نا ہے ؛ زو رَ کت نا ؛ با زُ اے قا ؛ تل مِ ہے

فا عِ لا تن ؛ فا عِ لا تن ؛ فا عِ لا تن ؛ فا عِ لن

۔۔ ساکن ۔۔

دے کْ نا ہے ؛ زو رْ کت نا ؛ با زُ اے قا ؛ تل مِ ہے

 

بتائیے، کیا فرق محسوس کیا آپ نے؟

 

اب مسئلہ رہا ”اچھا“ کا۔ میں نے بھی الف گرادینے سے اس کو زبر میں تبدیل کرنا ہی کہا تھا۔  ’اچھا‘ میں چھ-زبر-الف ہوتا ہے۔ الف گرے گی تو 'چھَ' ہی رہ جائے گا۔

 

دراصل، عروض/تقطیع میں جب ہم کسی حرف کو گرانے کا کہتے ہیں تو اس کا مطلب اس کو (یعنی اس کی آواز کو) یکسر ساقط (غائب) کرنا ہوتا ہے۔ تقطیع میں "اچ چھَ" کی صورت میں "زبر" چھ کی حرکت کی بجائے "الف" کی آواز کا اختصار سمجھی جاتی ہے۔ ایسا میرا خیال ہے۔ اگر آپ وہی کہنا چاہتے ہیں جو میں کہ رہا ہوں، تب تو بات ہی ختم ہو گئی۔ :)

 

چلیے، بالآخر یہ خط تمام ہوا۔ ٹکڑوں میں اس کا جواب لکھا ہے، اس لیے امید ہے کہ باتوں کا ربط اگر کہیں مفقود ہو تو آپ انھیں تلاش کر ہی لیں گے۔ امید ہے کہ یا تو یہ بے قیمت عرائض آپ کے کسی کام آ جائیں گے، یا پھر میری اصلاح کا سامان ہو جائے گا۔ دیکھیے آگے کیا ہوتا ہے۔

 

احقر

عامر عباس



 

السلام علیکم

 

جناب کا احسان مند ہوں کہ اتنا وقت دے پا رہے ہیں۔ میں آپ کے خط کا بھی جواب ٹکڑوں میں دوں گا۔ جواب کیا میں اپنا سوال ہی ان ٹکڑوں میں واضح کروں گا۔

 

اقتباس
سنسکرت سے آئے ہوئے بھینٹ، گیند، پیار، دیس، عربی سے آئے ہوئے سراج، منیر، خلد، شمس، اذان، اور فارسی سے لیے گئے بہشت، دوست، چرند، درخت، شمشیر، جام ۔۔۔ ایسی ایک طویل فہرست الفاظ کی ہے۔

 

معاف کیجیے گا۔  تھادو متواتر ساکنان سے میرا مطلب کانسوننٹ سے تھا۔ جسے شاید مصمتہ کہتے ہیں یا روایتی ادب میں حرفِ جامد۔ اس طرح سنسکرت سے آئے ہوے الفاظ کی فہرست کا تو سوال ہی نہیں اٹھٹتا کیونکہ ان میں آپ کو ایسا کوئی لفظ شاید ہی ملے جو اردو میں اسی صورت میں مستعمل ہو۔ رہی بات عربی اور فارسی کی تو ان الفاظ کی اکثریت کو اپنے ہی انداز میں ادا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ان دو عبارتوں میں ”خلد“ کی دال کی آواز دیکھیے۔ ’خلد مکیں‘ اور ’سوئے خلد‘ دوسری عبارت میں دال کی آواز بہت دب جاتی ہے۔ لیکن الف، یا، اور واو کے بعد بھی اگر لفظ پر تقریر ختم ہوتی ہو تو بھی آخری ساکن دب جاتا ہے۔ میں خود عروض کی رخصتوں اور لسانیاتی قوانین کی درمیان موافقت ڈھونڈ رہا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ یہ رخصتیں انہی قوانین کی وجہ سے دی گئی ہیں۔

اقتباس
"شعر کی تقطیع مکتوبی نہیں بلکہ ملفوظی ہوتی ہے"۔ یعنی، لفظ جیسا چاہے لکھا جائے، لیکن جس طرح زبان سے ادا ہوگا، شعر کی تقطیع بھی اسی کے مطابق ہوگی


یہی تو میری مشکل ہے۔ مجھے کئی شعروں کی تقطیع پر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس میں موجود الفاظ اس طرح زبان سے ادا نہیں ہوتے جیسے ان کو شعر میں باندھا جاتا ہے۔ مثال میں وہ مصرعہ دیکھ لیجیے جو سرور عالم صاحب نے پیش کیا تھا:

 

دل کو عجب بیماری ہو گئی

دل کُ (فعلُ)؛ ع جب بی (فعولن)؛ ما ری (فعلن)؛ ہو گء. (فعلن)

 

مجھے کسی طرح یہ نہیں لگتا کہ آخری ’ہو گئی‘ کی واحد ’یے‘ زبان سے ادا ہوتے ہوئے مختصر رہ جاتی ہے۔ چاھے اس کو روانی سے پڑھیں یا لہک لہک کر۔ اس میں موسیقیت ”یے“ مختصر کرنے سے محسوس نہیں ہوتی۔


 

اقتباس
لسانیات کی رو سے عبارت (یعنی نثر) کے ختم کرنے کے کیا اصول ہیں، اس کا مجھے زیادہ علم نہیں ہے لیکن شاعری میں تو ہم کسی لفظ پر بھی مصرعے کو ختم کر سکتے ہیں کیوں کہ اس ملک میں عروضی قانون چلتا ہے :)۔


یہ ہم کو یاد رکھنا چاہیے نا کہ عروض کی بنیاد پہلے سے رائج عربی شاعری تھی؟ تو اس علم کو ہو بہو تو کسی بھی زبان میں استعمال  نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس زبان کا لسانی جائزہ لے کر کچھ رد و بدل سے کیا جائے گا؟

اقتباس

ارے بھائی، ایسے کیسے گرا دیں آخری ساکن کو؟ اور کیوں کوئی فرق نہیں پڑتا ان کے گرنے سے؟ اب اس معصوم سے لفظ "درخت" کو ہی لیجیے۔

 

صحرا میں چاہیے تھا ہمیں، گل نہیں، درخت

صح را مِ ؛ چا ہِ یے تَ ؛ ہَ مے گل نَ ؛ ہی د رخْ ت

مف عو لُ ؛ فا ع لا تُ ؛ م فا عی لُ ؛ فا ع لا ن


 

اس بحر میں ”فاع لان“ کی جگہ ”فاعلن“ کر دیں تو نہ تو موسقیت میں فرق پڑے گا نہ ہی شاید عروض اس سے روکتا ہوگا۔



اقتباس
اب، اگر ہم ہر جگہ "درخت" کی "ت" کو اس کے آخری ساکن حرف ہونے کی وجہ سے گرا دیں تو اس کو مصرعے کے درمیان میں کیسے برتیں گے؟ جیسے...

 

دیکھیے مَیں نے صرف آخر میں گرانے کی بات کی تھی۔



اقتباس

کیا ہم "درخت" کو بول چال میں "درخ" کہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں؟ یا "دوست" کو فقط "دوس" کہنا کافی سمجھتے ہیں؟ نہیں، ایسا نہیں ہے۔

 

جی ہاں اگر دونوں کی ”ت“ کے بعد کوئی واول آواز نہ ہو تو۔

 

”میں دوست کے گھر جا رہا ہوں“

”میرا دوست آ رہا ہے“

 

پہلے جملے میں ”ت“ دب جائے گی جبکہ دوسرے میں ”ت“ ”آ“ کی الف سے مل جائے گی۔ ”میرا دوستا رہا ہے“۔


 

اقتباس
اس مثال سے بھی مجھے یہی سمجھ آتا ہے کہ عروض کا مقصد اشعار کو الفاظ کی فطری ادائی کے مطابق رواں دواں اور مترنم بنانا ہے۔


 

جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، صاحبِ بحر الفصاحت ایسے الفاظ کی ”ت“ کو تقطیع میں شمار نہ کرنے کا اصول بتاتے ہیں۔ جیسے دوست، گوشت، زیست وغیرہ۔ یا شاید میں ہی غلط سمجھا ہووں۔



 

اقتباس
پھر بھی اگر آپ کو ایسا لگتا ہے کہ اتنے سارے افاعیل اور زحافات ہونے سے الجھن ہے تو آپ عروض کے اصولوں کو ایسا ہی یاد کر لیجیے جیسا آپ کے لیے آسان ہے۔ اب خوش!

 



اچھا۔ پھر میں "واں گیا بھی مَیں تو اُن کی گالیوں کا کیا جواب" کی تقطیع فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلان کی بجائے آخر میں فاعلن سے کروں گا :)

 

آپ کے جواب کا منتظر

اسد

غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • ******
  • تحریریں: 6168
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar
جواب: Aasaan Arooz #10آسان عروض سبق۔ ١٠
« Reply #35 بروز: فروری 17, 2016, 01:46:10 شام »

عزیز مکرم اسد صاحب: سلام مسنون
آپ کی اور عامر صاحب کی اس علم افروز اور نہایت دلچسپ گفتگو سے مستفید ہوتا رہا ہوں۔ یہ ظاہر ہے کہ آپ دونوں نے عروض کو کافی نہ صرف پڑھا ہی ہے بلکہ اس پر سوچا بھی ہے۔ دلی مسرت ہوئی۔ عروض کو شاعروں میں معروف کرنا اس انجمن کا ایک اہم مقصد رہا ہے۔ شکر ہے کہ یہ کوشش رائگاں نہیں جا رہی ہے۔
آپ نے فرمایا ہے کہ "
اچھا۔ پھر میں "واں گیا بھی مَیں تو اُن کی گالیوں کا کیا جواب" کی تقطیع فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلان کی بجائے آخر میں فاعلن سے کروں گا "
اس میں مجھ کو تامل ہے:
وا گ یا بی (فاعلاتن)۔ مے تُ ان کی (فاعلاتن)، گا ل یو کا (فاعلاتن)، کا ج واب (فاعلان)
یہ سمجھ نہ سکا کہ"جواب" کو "فاعلن" سے کیسے دکھا سکتے ہیں؟ آپ کی تقتیع میں "واب" کو "لن" سے ظاہر کرنا ہوگا جو درست نہیں ہے۔ واب لمبی آواز ہے اسے فاعلان سے ہی ادا کیا جا سکتا ہے۔
باقی راوی سب چین بولتا ہے کیونکہ اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے۔  :D

سرور عالم راز   



غیرحاضر Asadullah Khan

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 116
جواب: Aasaan Arooz #10آسان عروض سبق۔ ١٠
« Reply #36 بروز: فروری 18, 2016, 03:18:43 صبح »



عزیز مکرم اسد صاحب: سلام مسنون

آپ کی اور عامر صاحب کی اس علم افروز اور نہایت دلچسپ گفتگو سے مستفید ہوتا رہا ہوں۔ یہ ظاہر ہے کہ آپ دونوں نے عروض کو کافی نہ صرف پڑھا ہی ہے بلکہ اس پر سوچا بھی ہے۔ دلی مسرت ہوئی۔ عروض کو شاعروں میں معروف کرنا اس انجمن کا ایک اہم مقصد رہا ہے۔ شکر ہے کہ یہ کوشش رائگاں نہیں جا رہی ہے۔

آپ نے فرمایا ہے کہ "

اچھا۔ پھر میں "واں گیا بھی مَیں تو اُن کی گالیوں کا کیا جواب" کی تقطیع فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلان کی بجائے آخر میں فاعلن سے کروں گا "

اس میں مجھ کو تامل ہے:

وا گ یا بی (فاعلاتن)۔ مے تُ ان کی (فاعلاتن)، گا ل یو کا (فاعلاتن)، کا ج واب (فاعلان)

یہ سمجھ نہ سکا کہ"جواب" کو "فاعلن" سے کیسے دکھا سکتے ہیں؟ آپ کی تقتیع میں "واب" کو "لن" سے ظاہر کرنا ہوگا جو درست نہیں ہے۔ واب لمبی آواز ہے اسے فاعلان سے ہی ادا کیا جا سکتا ہے۔

باقی راوی سب چین بولتا ہے کیونکہ اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے۔  :D

 

سرور عالم راز



جناب سرور عالم راز صاحب السلام علیکم۔ عروض کو میں نے بالکل واجبی سا پڑھا ہے۔ اور جتنا پڑھا ہے اس کی بھی مشق کرنے کا موقع بالکل نہیں ملا۔ لیکن یہ ہے کہ عروض کے قوانین کو میں نے اتنا پڑھ لیا ہے جتنا ”بحرالفصاحت“ میں درج ہے۔ بحروں کو بہرحال پوری طرح نہیں پڑھ سکا۔ اور پتہ نہیں یہ میری خوش قسمتی ہے یا بد قسمتی کہ عروض سے تعارف بھی اسی کتاب کی بدولت ہوا۔ بد قسمتی شاید یوں کہ تعارف کے لیے شاید اتنی مفصل کتاب موزوں نہ ہوتی ہو۔ خوش قسمتی شاید یوں کہ اتنی اچھی کتاب ہاتھ لگی۔

 

عروض کو شاعروں میں معروف کرنا تو مقصد ہونا ہی چاہیے لیکن مجھ جیسے غیر شاعروں کو بھی اس کا پتہ ہونا چایئے۔ میں عروض اس اعتراف کے ساتھ ہی پڑھتا ہوں کہ شاعری میرے بس کی بات نہیں ہے۔ اور میرا یقین ہے کہ شاعری مزا تو سب ہی کو دیتی ہے لیکن جو عروض سمجھتا ہے وہی شاعر کے اصل فن کی صحیح معنوں میں داد دینے کا اہل ہوتا ہے۔ اور میری عروض میں دلچسپی وجہ بھی یہی ہے۔

 

خیر اب اس انجمن کے بند ہونے کی خبر ہے تو جلدی جلدی آپ کے لکھے اسباق اپنے پاس محفوظ کر رہا ہوں۔ آپ کی طبع شدہ کتاب کا علم ہے مجھے لیکن مجھے یقین ہے کہ اپنی سُستی کی وجہ سے 2، 4 سال تو لگ ہی جائیں گے مجھے وہ کتاب خریدتے خریدتے۔

 

اس مصرعے کے آخر میں ”فاعلن“ لگانے کی وجہ میرا یہ عقیدہ ہے کہ اردو بولتے ہوئے عبارت کے آخر میں‌ اس طرح کی آواز دب جاتی ہے۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ اس ’اصول‘ پر مجھے دوبارہ غور کرنا پڑے گا۔

 

 

اسد


 

غیرحاضر عامر عباس

  • Naazim
  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 2387
  • جنس: مرد
جواب: Aasaan Arooz #10آسان عروض سبق۔ ١٠
« Reply #37 بروز: فروری 18, 2016, 04:05:21 صبح »
جناب اسدؔ صاحب، وعلیکم السلام۔
جوابِ خط کے لیے ممنون ہوں، البتہ آپ نے خود کو میرے خط کے جواب کا منتظر کہ کر نہ صرف مجھ پر بڑی ذمہ داری ڈال دی بلکہ دیگر احباب کو بات آگے بڑھانے سے روک دیا :)۔
بہرحال، کوشش کرتا ہوں کہ بساط بھر آپ کی باتوں کا جواب دے سکوں۔

نوٹ:۔ اس خط کو لکھنے میں ضرورت سے زیادہ وقت لگ گیا، اور اسی اثنا میں سرورؔ صاحب کا اور آپ کا تبادلۂ خیال بھی ہو گیا۔ اپنا جواب، جیسا لکھا تھا ویسا ہی چسپاں کر رہا ہوں کہ شاید کوئی بات کام کی نکل آئے۔


اقتباس
"شعر کی تقطیع مکتوبی نہیں بلکہ ملفوظی ہوتی ہے"۔ یعنی، لفظ جیسا چاہے لکھا جائے، لیکن جس طرح زبان سے ادا ہوگا، شعر کی تقطیع بھی اسی کے مطابق ہوگی

یہی تو میری مشکل ہے۔ مجھے کئی شعروں کی تقطیع پر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس میں موجود الفاظ اس طرح زبان سے ادا نہیں ہوتے جیسے ان کو شعر میں باندھا جاتا ہے۔ مثال میں وہ مصرعہ دیکھ لیجیے جو سرور عالم صاحب نے پیش کیا تھا:

دل کو عجب بیماری ہو گئی

دل کُ (فعلُ)؛ ع جب بی (فعولن)؛ ما ری (فعلن)؛ ہو گء. (فعلن)

مجھے کسی طرح یہ نہیں لگتا کہ آخری ’ہو گئی‘ کی واحد ’یے‘ زبان سے ادا ہوتے ہوئے مختصر رہ جاتی ہے۔ چاھے اس کو روانی سے پڑھیں یا لہک لہک کر۔ اس میں موسیقیت ”یے“ مختصر کرنے سے محسوس نہیں ہوتی۔

آخر آپ کو اوپر دئیے مصرعے میں "ہوگئی" کی "ی" کی ادائی مختصر کیوں نہیں لگتی؟ اچھا، بتائیے تو بھلا کہ ذیل میں لکھے مصرعوں میں "ہوگئی" کی ادائی اور "ی" کی آوازوں میں کیا فرق ہے اور انھیں ان کے مصرعوں کی بحر کی مناسبت سے کیا وزن دینا چاہیے؟

دل کو عجب بیماری ہوگئی
دل کو عجب یہ دیکھیے بیماری ہوگئی

اقتباس
لسانیات کی رو سے عبارت (یعنی نثر) کے ختم کرنے کے کیا اصول ہیں، اس کا مجھے زیادہ علم نہیں ہے لیکن شاعری میں تو ہم کسی لفظ پر بھی مصرعے کو ختم کر سکتے ہیں کیوں کہ اس ملک میں عروضی قانون چلتا ہے :)۔

یہ ہم کو یاد رکھنا چاہیے نا کہ عروض کی بنیاد پہلے سے رائج عربی شاعری تھی؟ تو اس علم کو ہو بہو تو کسی بھی زبان میں استعمال  نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس زبان کا لسانی جائزہ لے کر کچھ رد و بدل سے کیا جائے گا؟
یقیناً عروض کی بنیاد میں عربی اصول کارفرما ہیں، لیکن کچھ تو اس کے بعد فارس نے اس میں تبدیلیاں کیں، اور آخر کار جب اردو میں اسے لیا گیا تو ابتدائی طور پر شاید اسے من و عن استعمال کیا گیا ہو مگر بعد میں شعراء و ادباء نے اسے اردو کے مزاج سے کسی قدر ہم آہنگ ضرور کیا، جبھی تو ہمیں عروض کی مختلف کتابوں میں کچھ اختلافات بھی نظر آتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اردو شاعری جن ارتقائی مراحل سے گزر رہی ہے، عروض کو بھی اس کا ساتھ دیتے ہوئے اپنے اندر اصولی بنیاد پر کچھ تبدیلیاں اور لچک پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ البتہ آج کل یہ عروض میں تبدیلیوں اور آسانیوں کا جو عمومی رجحان نظر آرہا ہے، وہ زیادہ تر (میرے خیال سے) سہل انگاری یا عروضی اصولوں سے ناواقفیت کے سبب ہے۔

اقتباس
ارے بھائی، ایسے کیسے گرا دیں آخری ساکن کو؟ اور کیوں کوئی فرق نہیں پڑتا ان کے گرنے سے؟ اب اس معصوم سے لفظ "درخت" کو ہی لیجیے۔

صحرا میں چاہیے تھا ہمیں، گل نہیں، درخت

صح را مِ ؛ چا ہِ یے تَ ؛ ہَ مے گل نَ ؛ ہی د رخْ ت

مف عو لُ ؛ فا ع لا تُ ؛ م فا عی لُ ؛ فا ع لا ن


اس بحر میں ”فاع لان“ کی جگہ ”فاعلن“ کر دیں تو نہ تو موسقیت میں فرق پڑے گا نہ ہی شاید عروض اس سے روکتا ہوگا۔
جی، موسیقیت تو برقرار رہی لیکن درخت کی آخری شاخ قطع ہوگئی :)۔ مجھے یقین نہیں ہو رہا ہے کہ آپ بغیر "ت" کی آواز کے درخت کو ادا کیسے کر سکتے ہیِں۔ آپ شعر کو زبان سے ادا کیجیے اور انصاف سے بتائیے کہ "ت" ادا ہوتی ہے یا نہیں؟

اقتباس
کیا ہم "درخت" کو بول چال میں "درخ" کہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں؟ یا "دوست" کو فقط "دوس" کہنا کافی سمجھتے ہیں؟ نہیں، ایسا نہیں ہے۔

جی ہاں اگر دونوں کی ”ت“ کے بعد کوئی واول آواز نہ ہو تو۔

”میں دوست کے گھر جا رہا ہوں“

”میرا دوست آ رہا ہے“

پہلے جملے میں ”ت“ دب جائے گی جبکہ دوسرے میں ”ت“ ”آ“ کی الف سے مل جائے گی۔ ”میرا دوستا رہا ہے“۔
بجا فرمایا آپ نے۔ آواز کے اس طرح ضم ہونے کو "گرا دینا" کی بجائے "دب جانا" کہنا بہتر لگتا ہے۔ یقیناً ا، و، ی کے وصل سے ایسے حروف کو تقویت ملتی ہے، لیکن مجھے تو ان کے بغیر بھی ایسے حروف کا ماقبل میں ضم ہونا محسوس ہوتا ہے، اسی لیے میں ابتداء ہی سے ان کے گر جانے پر مطمئن نہیں ہوں۔ ان جملوں کو ادا کرکے دیکھیے، کیا واقعی (کاشت، درخت، دوست کی) "ت" فراموش ہو رہی ہے؟
وہ ابھی گندم کاشت کرکے آیا ہے۔
ناریل کے درخت دراز قد ہوتے ہیں۔
تم میرے دوست سے پہلے ملے ہو؟

ہاں، دوست کا معاملہ کاشت اور درخت سے ذرا مختلف ہے، کیوں کہ اس میں متواتر تین بے حرکت حروف کی وجہ سے آخری حرف کی آواز ہلکی سی جھلک دکھا کر پچھلے حرف کی آواز میں کھو جاتی ہے۔ غالباً اسی لیے اس آخری حرف کو شعر میں تقطیع نہیں کیا جاتا، سوائے اس کے کہ اس کے بعد وارد ہونے والا "الف" اسے سہارا دے دے۔ جیسا کہ آپ نے اپنی مثال (دوستا) سے واضح فرمایا ہے۔ یہ معاملہ تقطیع کا ہے، لیکن "الف" سے "ت" کو تقویت ملنا خود اس بات کی علامت و دلیل ہے کہ "ت" کی آواز کہیں موجود ضرور ہے، خفی ہے سہی۔

اقتباس
اس مثال سے بھی مجھے یہی سمجھ آتا ہے کہ عروض کا مقصد اشعار کو الفاظ کی فطری ادائی کے مطابق رواں دواں اور مترنم بنانا ہے۔

جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، صاحبِ بحر الفصاحت ایسے الفاظ کی ”ت“ کو تقطیع میں شمار نہ کرنے کا اصول بتاتے ہیں۔ جیسے دوست، گوشت، زیست وغیرہ۔ یا شاید میں ہی غلط سمجھا ہووں۔
آنجناب اصول تو صحیح بتارے ہیں، لیکن انھوں نے اس اصول کی کچھ وجہ یا دلیل بھی تو بتائی ہی ہوگی۔ اب تک کی ہماری گفتگو میں ایسے حروف کی "ت" کو تقطیع نہ کرنے پر ہم دونوں ہی کا اتفاق ہے۔ میں نے "غالبؔ ندیمِ دوست" سے بھی یہی کہنے کی کوشش کی تھی۔ اور اس پر ہمارا اتفاق کیوں نہ ہو، یہ بات اصولی جو ٹھہری :)۔  ہماری گفتگو کا زیادہ حصہ ان الفاظ کے گرد گھومتا نظر آتا ہے جن کے آخر میں دو ساکن حروف ہیں، جیسے درخت، قوم، نام وغیرہ۔

اقتباس
پھر بھی اگر آپ کو ایسا لگتا ہے کہ اتنے سارے افاعیل اور زحافات ہونے سے الجھن ہے تو آپ عروض کے اصولوں کو ایسا ہی یاد کر لیجیے جیسا آپ کے لیے آسان ہے۔ اب خوش!

اچھا۔ پھر میں "واں گیا بھی مَیں تو اُن کی گالیوں کا کیا جواب" کی تقطیع فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلان کی بجائے آخر میں فاعلن سے کروں گا :)
اگر آخری لفظ کی "ب" ادا کیے بغیر آپ کو سامعین سے داد مل جائے تو ضرور کیجیے۔ :)۔

میرا خیال ہے کہ اب ہماری گفتگو شاید آخری مراحل میں ہے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ کچھ نتیجہ نکل چکا ہے تب تو اللہ کا شکر ہے، اور نہیں تو مجھے اللہ سے اچھی امید ہے۔ بہرحال اس گفتگو کا نتیجہ کچھ بھی نکلے، وہ اردو کے حق میں تو بہتر ہی ہوگا، انشاءاللہ۔
یار زندہ صحبت باقی۔

احقر
عامر عباس
[/font]

غیرحاضر Asadullah Khan

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 116
جواب: Aasaan Arooz #10آسان عروض سبق۔ ١٠
« Reply #38 بروز: فروری 22, 2016, 12:20:47 صبح »

جناب اسدؔ صاحب، وعلیکم السلام۔

جوابِ خط کے لیے ممنون ہوں، البتہ آپ نے خود کو میرے خط کے جواب کا منتظر کہ کر نہ صرف مجھ پر بڑی ذمہ داری ڈال دی بلکہ دیگر احباب کو بات آگے بڑھانے سے روک دیا :)۔

بہرحال، کوشش کرتا ہوں کہ بساط بھر آپ کی باتوں کا جواب دے سکوں۔

 

نوٹ:۔ اس خط کو لکھنے میں ضرورت سے زیادہ وقت لگ گیا، اور اسی اثنا میں سرورؔ صاحب کا اور آپ کا تبادلۂ خیال بھی ہو گیا۔ اپنا جواب، جیسا لکھا تھا ویسا ہی چسپاں کر رہا ہوں کہ شاید کوئی بات کام کی نکل آئے۔

 




اقتباس
"شعر کی تقطیع مکتوبی نہیں بلکہ ملفوظی ہوتی ہے"۔ یعنی، لفظ جیسا چاہے لکھا جائے، لیکن جس طرح زبان سے ادا ہوگا، شعر کی تقطیع بھی اسی کے مطابق ہوگی

 

یہی تو میری مشکل ہے۔ مجھے کئی شعروں کی تقطیع پر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس میں موجود الفاظ اس طرح زبان سے ادا نہیں ہوتے جیسے ان کو شعر میں باندھا جاتا ہے۔ مثال میں وہ مصرعہ دیکھ لیجیے جو سرور عالم صاحب نے پیش کیا تھا:

 

دل کو عجب بیماری ہو گئی

 

دل کُ (فعلُ)؛ ع جب بی (فعولن)؛ ما ری (فعلن)؛ ہو گء. (فعلن)

 

مجھے کسی طرح یہ نہیں لگتا کہ آخری ’ہو گئی‘ کی واحد ’یے‘ زبان سے ادا ہوتے ہوئے مختصر رہ جاتی ہے۔ چاھے اس کو روانی سے پڑھیں یا لہک لہک کر۔ اس میں موسیقیت ”یے“ مختصر کرنے سے محسوس نہیں ہوتی۔



آخر آپ کو اوپر دئیے مصرعے میں "ہوگئی" کی "ی" کی ادائی مختصر کیوں نہیں لگتی؟ اچھا، بتائیے تو بھلا کہ ذیل میں لکھے مصرعوں میں "ہوگئی" کی ادائی اور "ی" کی آوازوں میں کیا فرق ہے اور انھیں ان کے مصرعوں کی بحر کی مناسبت سے کیا وزن دینا چاہیے؟

 

دل کو عجب بیماری ہوگئی

دل کو عجب یہ دیکھیے بیماری ہوگئی




اقتباس
لسانیات کی رو سے عبارت (یعنی نثر) کے ختم کرنے کے کیا اصول ہیں، اس کا مجھے زیادہ علم نہیں ہے لیکن شاعری میں تو ہم کسی لفظ پر بھی مصرعے کو ختم کر سکتے ہیں کیوں کہ اس ملک میں عروضی قانون چلتا ہے :)۔


 

یہ ہم کو یاد رکھنا چاہیے نا کہ عروض کی بنیاد پہلے سے رائج عربی شاعری تھی؟ تو اس علم کو ہو بہو تو کسی بھی زبان میں استعمال  نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس زبان کا لسانی جائزہ لے کر کچھ رد و بدل سے کیا جائے گا؟


یقیناً عروض کی بنیاد میں عربی اصول کارفرما ہیں، لیکن کچھ تو اس کے بعد فارس نے اس میں تبدیلیاں کیں، اور آخر کار جب اردو میں اسے لیا گیا تو ابتدائی طور پر شاید اسے من و عن استعمال کیا گیا ہو مگر بعد میں شعراء و ادباء نے اسے اردو کے مزاج سے کسی قدر ہم آہنگ ضرور کیا، جبھی تو ہمیں عروض کی مختلف کتابوں میں کچھ اختلافات بھی نظر آتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اردو شاعری جن ارتقائی مراحل سے گزر رہی ہے، عروض کو بھی اس کا ساتھ دیتے ہوئے اپنے اندر اصولی بنیاد پر کچھ تبدیلیاں اور لچک پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ البتہ آج کل یہ عروض میں تبدیلیوں اور آسانیوں کا جو عمومی رجحان نظر آرہا ہے، وہ زیادہ تر (میرے خیال سے) سہل انگاری یا عروضی اصولوں سے ناواقفیت کے سبب ہے۔




اقتباس

ارے بھائی، ایسے کیسے گرا دیں آخری ساکن کو؟ اور کیوں کوئی فرق نہیں پڑتا ان کے گرنے سے؟ اب اس معصوم سے لفظ "درخت" کو ہی لیجیے۔

 

صحرا میں چاہیے تھا ہمیں، گل نہیں، درخت

 

صح را مِ ؛ چا ہِ یے تَ ؛ ہَ مے گل نَ ؛ ہی د رخْ ت

 

مف عو لُ ؛ فا ع لا تُ ؛ م فا عی لُ ؛ فا ع لا ن

 


 

اس بحر میں ”فاع لان“ کی جگہ ”فاعلن“ کر دیں تو نہ تو موسقیت میں فرق پڑے گا نہ ہی شاید عروض اس سے روکتا ہوگا۔


جی، موسیقیت تو برقرار رہی لیکن درخت کی آخری شاخ قطع ہوگئی :)۔ مجھے یقین نہیں ہو رہا ہے کہ آپ بغیر "ت" کی آواز کے درخت کو ادا کیسے کر سکتے ہیِں۔ آپ شعر کو زبان سے ادا کیجیے اور انصاف سے بتائیے کہ "ت" ادا ہوتی ہے یا نہیں؟




اقتباس

کیا ہم "درخت" کو بول چال میں "درخ" کہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں؟ یا "دوست" کو فقط "دوس" کہنا کافی سمجھتے ہیں؟ نہیں، ایسا نہیں ہے۔

 

جی ہاں اگر دونوں کی ”ت“ کے بعد کوئی واول آواز نہ ہو تو۔

 

”میں دوست کے گھر جا رہا ہوں“

 

”میرا دوست آ رہا ہے“

 

پہلے جملے میں ”ت“ دب جائے گی جبکہ دوسرے میں ”ت“ ”آ“ کی الف سے مل جائے گی۔ ”میرا دوستا رہا ہے“۔

بجا فرمایا آپ نے۔ آواز کے اس طرح ضم ہونے کو "گرا دینا" کی بجائے "دب جانا" کہنا بہتر لگتا ہے۔ یقیناً ا، و، ی کے وصل سے ایسے حروف کو تقویت ملتی ہے، لیکن مجھے تو ان کے بغیر بھی ایسے حروف کا ماقبل میں ضم ہونا محسوس ہوتا ہے، اسی لیے میں ابتداء ہی سے ان کے گر جانے پر مطمئن نہیں ہوں۔ ان جملوں کو ادا کرکے دیکھیے، کیا واقعی (کاشت، درخت، دوست کی) "ت" فراموش ہو رہی ہے؟

وہ ابھی گندم کاشت کرکے آیا ہے۔

ناریل کے درخت دراز قد ہوتے ہیں۔

تم میرے دوست سے پہلے ملے ہو؟

 

ہاں، دوست کا معاملہ کاشت اور درخت سے ذرا مختلف ہے، کیوں کہ اس میں متواتر تین بے حرکت حروف کی وجہ سے آخری حرف کی آواز ہلکی سی جھلک دکھا کر پچھلے حرف کی آواز میں کھو جاتی ہے۔ غالباً اسی لیے اس آخری حرف کو شعر میں تقطیع نہیں کیا جاتا، سوائے اس کے کہ اس کے بعد وارد ہونے والا "الف" اسے سہارا دے دے۔ جیسا کہ آپ نے اپنی مثال (دوستا) سے واضح فرمایا ہے۔ یہ معاملہ تقطیع کا ہے، لیکن "الف" سے "ت" کو تقویت ملنا خود اس بات کی علامت و دلیل ہے کہ "ت" کی آواز کہیں موجود ضرور ہے، خفی ہے سہی۔




اقتباس
اس مثال سے بھی مجھے یہی سمجھ آتا ہے کہ عروض کا مقصد اشعار کو الفاظ کی فطری ادائی کے مطابق رواں دواں اور مترنم بنانا ہے۔


 

جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، صاحبِ بحر الفصاحت ایسے الفاظ کی ”ت“ کو تقطیع میں شمار نہ کرنے کا اصول بتاتے ہیں۔ جیسے دوست، گوشت، زیست وغیرہ۔ یا شاید میں ہی غلط سمجھا ہووں۔


آنجناب اصول تو صحیح بتارے ہیں، لیکن انھوں نے اس اصول کی کچھ وجہ یا دلیل بھی تو بتائی ہی ہوگی۔ اب تک کی ہماری گفتگو میں ایسے حروف کی "ت" کو تقطیع نہ کرنے پر ہم دونوں ہی کا اتفاق ہے۔ میں نے "غالبؔ ندیمِ دوست" سے بھی یہی کہنے کی کوشش کی تھی۔ اور اس پر ہمارا اتفاق کیوں نہ ہو، یہ بات اصولی جو ٹھہری :)۔  ہماری گفتگو کا زیادہ حصہ ان الفاظ کے گرد گھومتا نظر آتا ہے جن کے آخر میں دو ساکن حروف ہیں، جیسے درخت، قوم، نام وغیرہ۔




اقتباس
پھر بھی اگر آپ کو ایسا لگتا ہے کہ اتنے سارے افاعیل اور زحافات ہونے سے الجھن ہے تو آپ عروض کے اصولوں کو ایسا ہی یاد کر لیجیے جیسا آپ کے لیے آسان ہے۔ اب خوش!

 

اچھا۔ پھر میں "واں گیا بھی مَیں تو اُن کی گالیوں کا کیا جواب" کی تقطیع فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلان کی بجائے آخر میں فاعلن سے کروں گا :)


اگر آخری لفظ کی "ب" ادا کیے بغیر آپ کو سامعین سے داد مل جائے تو ضرور کیجیے۔ :)۔

 

میرا خیال ہے کہ اب ہماری گفتگو شاید آخری مراحل میں ہے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ کچھ نتیجہ نکل چکا ہے تب تو اللہ کا شکر ہے، اور نہیں تو مجھے اللہ سے اچھی امید ہے۔ بہرحال اس گفتگو کا نتیجہ کچھ بھی نکلے، وہ اردو کے حق میں تو بہتر ہی ہوگا، انشاءاللہ۔

یار زندہ صحبت باقی۔

 

احقر

عامر عباس

[/font]


 

جناب عامر عباس صاحب۔ السلام علیکم۔

 

آپ نے جہاں اپنے خط کے آخر میں بحث ختم کرنے کا اشارہ دیا ہے وہاں اسی خط میں جگہ جگہ مجھ سے سوال بھی پوچھے ہیں۔ آپ کے خط کے ٹکڑوں کو میں واوین میں لکھوں گا اور جواب دوں گا۔

 

 

آپ نے فرمایا:

”اچھا، بتائیے تو بھلا کہ ذیل میں لکھے مصرعوں میں "ہوگئی" کی ادائی اور "ی" کی آوازوں میں کیا فرق ہے اور انھیں ان کے مصرعوں کی بحر کی مناسبت سے کیا وزن دینا چاہیے؟

 

دل کو عجب بیماری ہوگئی

دل کو عجب یہ دیکھیے بیماری ہوگئی“

 

یقینا دوسرے مصرعے میں ’یے‘ کو کھینچ کر پڑھیں گے۔ لیکن میرے خیال میں پہلے مصرعے کی ’یے‘ بھی زیر کی آواز نہیں ہے۔ فرق مجھے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے مصرعے کی ’یے‘ کو زیادہ کھینچ دیا جاتا ہے۔ جیسے آپ نے پہلے کہا تھا کہ ’اچھا‘ کو ہم بہت کھینچ کر بولتے ہیں لیکن وزن اس کے مطابق نہیں ہوتا۔

 

آپ نے فرمایا:

”یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اردو شاعری جن ارتقائی مراحل سے گزر رہی ہے، عروض کو بھی اس کا ساتھ دیتے ہوئے اپنے اندر اصولی بنیاد پر کچھ تبدیلیاں اور لچک پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ البتہ آج کل یہ عروض میں تبدیلیوں اور آسانیوں کا جو عمومی رجحان نظر آرہا ہے، وہ زیادہ تر (میرے خیال سے) سہل انگاری یا عروضی اصولوں سے ناواقفیت کے سبب ہے۔“

 

میں بالکل بھی عروض میں کسی تبدیلی کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ میں صرف اس کے اصولوں کو بیان کرنے کے طریقے سے اختلاف کر رہا ہوں۔ میری کوئی بات عروض میں کوئی نئی رخصت لانے یا کسی کے کلام کو غلط قرار دینے کی دعوت نہیں دیتی۔ دیکھیے نا، جب آپ کہتے ہیں کہ مصرعے کے آخر میں فاعلن اور فاعلان ہم وزن تصور ہوں گے تو میں تو صرف اتنا کہ رہا ہوں کہ مصرعے کے آخر میں‌ جو ’فاعلان‘ ہے وہ دراصل ’فاعلن‘ ہی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اساتذہ نے اس کی اجازت دی ہے۔ لیجیے! کیا اس سے عروض میں کچھ فرق آیا؟

 

آپ نے فرمایا:

”مجھے یقین نہیں ہو رہا ہے کہ آپ بغیر "ت" کی آواز کے درخت کو ادا کیسے کر سکتے ہیِں۔ آپ شعر کو زبان سے ادا کیجیے اور انصاف سے بتائیے کہ "ت" ادا ہوتی ہے یا نہیں؟“

 

جی، ’ت‘ کی آواز ادا تو ہوتی ہے لیکن دب جاتی ہے۔ اگر ہم تقطیع کرتے ہوئے ’ت‘ کی آواز نظر انداز کردیں تو بھی جو بحر ہوگی وہ عروض سے باہر نہ ہوگی، اور نو مشقوں کے لیے ایک شعر میں دو طرح کے افاعیل کی پریشانی بھی نہ رہے گی۔

 

آپ نے فرمایا:

”ہاں، دوست کا معاملہ کاشت اور درخت سے ذرا مختلف ہے، کیوں کہ اس میں متواتر تین بے حرکت حروف کی وجہ سے آخری حرف کی آواز ہلکی سی جھلک دکھا کر پچھلے حرف کی آواز میں کھو جاتی ہے۔“

 

'کاشت' کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔ ’ناریل کے درخ دراز قد ہوتے ہیں‘ کیا یہ جملہ اب بہت عجیب لگ رہا ہے؟ اگر آپ ’درخت‘ کی ’ت‘ کو ادا کریں گے بھی تو آپ کو ’دراز‘ کی ’دال‘ سے پہلے رکنا پڑے گا اور تقریر کا تسلسل ٹوٹ جائے گا۔ کسی زبان کا حسن اس کی روانی ہی تو ہے۔


 

آپ نے فرمایا:

"اگر آخری لفظ کی "ب" ادا کیے بغیر آپ کو سامعین سے داد مل جائے تو ضرور کیجیے۔ :)۔"

 

مزے کی بات دیکھیے۔ جب میں مصرعے کے آخر میں ’جوا‘ کہ کر خاموش ہو جاؤں گا تو میرے لبوں کے باہمی ملاپ سے ’ب‘ کی سی آواز نکل ہی آئے گی۔

 

میں پھر واضح کردوں میں اپنے خیالات کا اظہار ان کو بالکل درست مان کر نہیں‌ کر رہا ہوں۔ میرے غلطی پر ہونے کے بہت زیادہ امکانات ہیں۔ میں صرف اپنی پریشانیوں کا اظہار کر رہا ہوں۔ اور ابھی تک تسلی بخش جواب کا امیدوار ہوں۔

 

اسد



غیرحاضر Asadullah Khan

  • Adab Aashnaa
  • *
  • تحریریں: 116
جواب: Aasaan Arooz #10آسان عروض سبق۔ ١٠
« Reply #39 بروز: جولائی 09, 2016, 11:12:33 صبح »
السلام علیکم۔ چند چھوٹے چھوٹے سوالات لے کر پھر حاضر ہو رہا ہوں امید ہے احباب میری رہنمائی فرمائیں گے۔ متقارب کی ایک شکل متقارب اثرم مقبوض محذوف یا بحرِ ھندی بھی ہے جس کے بارے میں مَیں نے پڑھا ہے کہ یہ سببِ خفیف کا مجموعہ ہے لیکن ہر دوسرا (جُفت) سبب، سببِ ثقیل بھی ہو سکتا ہے۔ یہ کلیہ کہاں تک ٹھیک ہے یہ تو میں نہیں جانتا لیکن میرؔ کی کئی غزلوں کی تقطیع اس ہی کلیے کی مدد سے مجھ سے ممکن ہوئی۔ یعنی اس کلیے کی رُو سے درج ذیل عبارتیں ہم وزن ہوں گی:

فعلن فعلن فعلن فع
فعلُ فعولن فعلن فع

اب میرے ذہن میں خیال آیا کہ اگر یہ کلیہ درست ہے تو اس کی رُو سے نیچے دی گئی عبارت بھی اوپر دی گئی عبارتوں کے ہم وزن سمجھی جانی چاہیے:

فعلُ فعَل فعِلن فعلن (اس میں پہلے فعل میں ع ساکن اور ل پر حرکت ہے، جبکہ دوسرے فعل میں ع متحرک اور ل ساکن ہے، اس ہی طرح پہلے فعلن کی ع متحرک جبکہ دوسرے کی ساکن ہے) دیکھا جائے تو اس میں بھی دوسرا اور چوتھا سبب ہی سببِ ثقیل ہے اور باقی سب سببِ خفیف ہیں۔ لیکن موسیقیت کی اعتبار سے یہ مجھے اوپر درج بحروں کے ہم وزن محسوس نہیں ہوتی۔

پہلا سوال یہی ہے، اگر اوپر دی گئی تیسری عبارت پہلی دو کے ہم وزن نہیں ہے تو کیا بحرِ متقارب اثرم مقبوض محذوف کو سمجھنے کا کوئی اور کلیہ ہے؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ ہم کسی مصرعے کے آخر میں ایک ساکن بڑھا سکتے ہیں، تو کیا اس بحر میں بھی بڑھا سکتے ہیں؟ یعنی پہلی دو بحروں کے آخر میں "فع" کی جگہ "فاع" ہو سکتا ہے؟ پھر تو یہ سبب نہیں رہے گا بلکہ وتد ہو جائے گا؟

اس ہی سوال کا ایک یہ بھی حصہ ہے کہ کیا ایک ساکن بڑھا دینے کی اجازت سالم ارکان میں بھی ہے؟ اگر ہے تو کیا دونوں پانچ حرفی اور سات حرفی ارکان میں ہے؟ مجھے سات حرفی ارکان میں بڑھا دینا کچھ عجیب سا معلوم ہو رہا ہے۔

جواب کے لیے متجسس

اسد
« آخری ترمیم: جولائی 10, 2016, 04:04:56 صبح منجانب Asadullah Khan »

 

Copyright © اُردو انجمن