اُردو انجمن

 


مصنف موضوع: سوال و جواب .. شمس الرحمن فاروقی  (پڑھا گیا 2357 بار)

0 اراکین اور 1 مہمان یہ موضوع دیکھ رہے ہیں

غیرحاضر Manzar alam

  • Adab Dost
  • ***
  • تحریریں: 615
  • جنس: مرد
سوال و جواب .. شمس الرحمن فاروقی
« بروز: مارچ 30, 2012, 10:46:30 صبح »
salaam
yeh mazmoon yahaaN http://esbaatpublications.com/urducamp/2011/08/info_period_question2/ se liyaa gayaa hai..
سوال ۔2
محمد سیف عالم(کھڑگپور،مغربی بنگال)
شمس الرحمن فاروقی صاحب! میں چند سوالات پیش کرنے کی جرأت کر رہا ہوں۔امید ہے جواب دے کر مجھ کج فہم کی فراست میںاـضافہ کریںگے اور وہ نظر بخشیںگے جو ادب کو اور ادیبوںکو سمجھنے میں معاون ہوگی۔
1۔ شعر فہمی کے بنیادی اصول کیا ہیں؟
2۔میر کو ' خدائے سخن ' کیوں کہتے ہیں؟ (اگر دو چار جملوں میں کہنا ہو تو کیا کہناچاہیے؟)
3۔تغزل کیا ہے؟(بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک تغزل کی جو تعریف کی گئی ہے وہ بڑی گڈ مڈ ہے۔)
4۔میراور حسرت کو شہنشاہ متغزلین کیوں کہتے ہیں؟
5۔کلکتہ مسلم انسٹی ٹیوٹ میں" میر تقی میر ۔حیات اور فن " کے حوالے سے دو روزہ سمینار تھا۔اس سمینار میں پروفیسر ابوالکلام قاسمی صاحب بھی مدعو تھے۔انہوں نے آپ کے متعلق کہا کہ شعر شور انگیز واقعی غیر معمولی کام ہے مگر اس کتاب میں آپ نے دو طرح کی زیادتیاںکی ہیں۔اول، آپ نے جن شاعروں کی پہلے تعریف کی تھی،جب میر کی تعریف و توصیف کرنے میں آئے، تو ان تمام شاعروں کو یہ کہہ کر disownکردیاکہ میرکے سامنے یہ تمام شاعر(مثلاً مومن ،غالب، فراق وغیرہ) نہیں ٹھہر تے۔انھوں نے دوسری زیادتی بتائی ہی نہیں۔ان کے اس commentمیں کہاں تک صداقت ہے؟
6۔اسی سمینار میں پروفیسر لطف الرحمن صاحب بھی تھے۔ انہوں نے آپ کے تعلق سے کہا کہ کبھی انھوں نے آپ سے ایک شعر کا مطلب پوچھا تھا مگر آپ بتا نہ سکے۔وہ شعر ہے:
اب کے جنوں میں فاصلہ شاید ہی کچھ رہے
دامن کے چاک اور گریباں کے چاک میں
کیا شعر واقعی مشکل اور ناقابل تشریح ہے؟
جواب
شمس الرحمٰن فاروقی
تم ابوالکلام سے اتنا تو پوچھ لیتے کہ وہ دوسری بات کیا تھی؟فراق کی تعریف میں نے کھل کر کبھی نہیں کی۔اور میر کے مقابلے میں وہ طفل مکتب معلوم ہو تے ہیں تو اس میں میرا کیا قصور؟مومن پر میں نے شاید ہی کچھ لکھا ہو، اور جو بھی لکھا ہے اس میں ان کی اتنی ہی تعریف کی ہے جس کے وہ مستحق ہیں۔غالب کے کئی مضامین اور ان کی کئی شاعرانہ صفات میر پر مبنی ہیں۔یہ بات میں مدتوں سے کہتا رہاہوں۔اس میں غالب کی برائی کہاں سے نکلی؟ اگر یہ کہا جائے کہ غالب نے بہت کچھ بیدل سے مستعار لیا ہے تو اس میں غالب کی کوئی برائی نہیں،لیکن اگر یہ کہا جائے کہ غالب نے میر سے بہت کچھ مستعار لیا ہے تو اس میں غالب کی برائی ہے۔ ایسا کیوں؟کیا اس لیے کہ میر بچارہ ہندی کا شاعر ہے اور بیدل فارسی کے شاعر ہیں۔"شعر شور انگیز" شاید تم نے پڑھی نہیں۔غالب نے جگہ جگہ میر سے استفادہ کیا ہے اور کبھی کبھی وہ میر سے بڑھ گئے ہیں۔ دوسروں سے استفادہ کرنا کوئی بری بات نہیں۔یہ سب بحثیں "شعر شور انگیز" میں مذکور ہیں۔اگر تم نے وہ کتا ب پڑھی ہوتی تو تمھیں الجھن نہ ہوتی۔کچھ نہیں تو ہر جلد کا اشاریہ دیکھ لیتے کہ اس میں غالب کا ذکر کہاں کہاں ہے اور کس انداز سے ہے۔
شعر فہمی کے بنیادی اصول چار ہیں:
جس زبان کا شعر ہے اس زبان سے بہت اچھی واقفیت ہونا۔پوری واقفیت ہو تو اور بھی اچھا ہے۔
جس شعریات اور جن رسومیات کے تحت وہ شعر کہا گیا ہے اس سے پوری واقفیت ہونا۔
جس طرح کا شعر زیر بحث ہے، اس طرح کے اور بھی شعروں ،اور اگر کسی شاعر کا مطالعہ ہے،تو اس کی طرح کے اور شعرا سے اچھی طرح واقف ہونا۔ یہ شعرا ماضی کے بھی ہوں گے اور حال کے بھی۔
جس شعر یا شاعر کا مطالعہ مقصود ہے اس سے پوری مناسبت اور ذہنی قرب ہونا۔
ان میں سے ایک چیز بھی کم ہوگی تو شعر فہمی کا تقاضا پورا نہ ہوگا۔
میر کو خداے سخن کیوں کہتے ہیں،اس کا جواب" شعر شور انگیز"، جلد اول،کے پہلے باب میں ہے،اور دوسری جگہوں پر بھی مذکور ہے۔اس میں اس سوال کا جواب بھی ہے کہ میر کو شہنشاہ متغزلین کیوں کہا جاتا ہے۔رہے حسرت، تو میں انھیں شہنشاہ متغزلین بالکل نہیں سمجھتا۔ جو انھیں ایسا سمجھتا ہو،اس سے پوچھو۔
"تغزل" کوئی اصطلاح نہیں۔پرانے زمانے میں اس کا وجود نہ تھا۔ محمد حسین آزاد تک کے یہاں یہ نہیں ملتی۔یہ ایک فضول تصور ہے جو اس بات پر مبنی ہے کہ غزل اور انگریزیLyric ایک ہی طرح کی چیز ہیں۔لہٰذا اگر LyricمیںLyricismہو تی ہے تو غزل میں تغزل ہوتا ہے۔ یہ باتیں بالکل مہمل ہیں۔میں انھیں نہیںمانتا۔ جو مانتا ہو اس سے پوچھو کہ انگریزی Lyricکیا ہے اور اردو /فارسی غزل کیا ہے اور Lyricism کیا ہے اور تغزل کیا ہے۔
مجھے یاد نہیں آتا کہ لطف الرحمٰن نے مجھ سے میر کے اس شعر کے معنی پوچھے ہوں اور میں نہ بتا سکاہوں۔ "شعر شور انگیز" جلد سوم کو چھپے ہوئے مدت ہو گئی اور اس شعر پر مجھے لکھے ہوئے اس بھی زیادہ مدت ہو گئی۔ ہو سکتا ہے کبھی بچپن میں انھوں نے مجھ سے پوچھا ہو اور میںبتانے سے قاصر رہا ہوں۔ فی الحال" شعر شور انگیز"کی جلد سوم(پہلا ایڈیشن)، صفحہ293 تا صفحہ296دیکھ لو۔(صحیح مصرع بھی دیکھ لو۔ "شاید نہ کچھ رہے" نہ کہ "شاید ہی کچھ رہے"۔)



غیرحاضر سرور عالم راز

  • Muntazim-o-Mudeer
  • Saaheb-e-adab
  • ******
  • تحریریں: 6348
  • جنس: مرد
    • Kalam-e-Sarwar
Re: سوال و جواب .. شمس الرحمن فاروقی
« Reply #1 بروز: مارچ 30, 2012, 01:55:59 شام »
salaam
yeh mazmoon yahaaN http://esbaatpublications.com/urducamp/2011/08/info_period_question2/ se liyaa gayaa hai..
سوال ۔2
محمد سیف عالم(کھڑگپور،مغربی بنگال)
شمس الرحمن فاروقی صاحب! میں چند سوالات پیش کرنے کی جرأت کر رہا ہوں۔امید ہے جواب دے کر مجھ کج فہم کی فراست میںاـضافہ کریںگے اور وہ نظر بخشیںگے جو ادب کو اور ادیبوںکو سمجھنے میں معاون ہوگی۔
1۔ شعر فہمی کے بنیادی اصول کیا ہیں؟
2۔میر کو ' خدائے سخن ' کیوں کہتے ہیں؟ (اگر دو چار جملوں میں کہنا ہو تو کیا کہناچاہیے؟)
3۔تغزل کیا ہے؟(بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک تغزل کی جو تعریف کی گئی ہے وہ بڑی گڈ مڈ ہے۔)
4۔میراور حسرت کو شہنشاہ متغزلین کیوں کہتے ہیں؟
5۔کلکتہ مسلم انسٹی ٹیوٹ میں" میر تقی میر ۔حیات اور فن " کے حوالے سے دو روزہ سمینار تھا۔اس سمینار میں پروفیسر ابوالکلام قاسمی صاحب بھی مدعو تھے۔انہوں نے آپ کے متعلق کہا کہ شعر شور انگیز واقعی غیر معمولی کام ہے مگر اس کتاب میں آپ نے دو طرح کی زیادتیاںکی ہیں۔اول، آپ نے جن شاعروں کی پہلے تعریف کی تھی،جب میر کی تعریف و توصیف کرنے میں آئے، تو ان تمام شاعروں کو یہ کہہ کر disownکردیاکہ میرکے سامنے یہ تمام شاعر(مثلاً مومن ،غالب، فراق وغیرہ) نہیں ٹھہر تے۔انھوں نے دوسری زیادتی بتائی ہی نہیں۔ان کے اس commentمیں کہاں تک صداقت ہے؟
6۔اسی سمینار میں پروفیسر لطف الرحمن صاحب بھی تھے۔ انہوں نے آپ کے تعلق سے کہا کہ کبھی انھوں نے آپ سے ایک شعر کا مطلب پوچھا تھا مگر آپ بتا نہ سکے۔وہ شعر ہے:
اب کے جنوں میں فاصلہ شاید ہی کچھ رہے
دامن کے چاک اور گریباں کے چاک میں
کیا شعر واقعی مشکل اور ناقابل تشریح ہے؟
جواب
شمس الرحمٰن فاروقی
تم ابوالکلام سے اتنا تو پوچھ لیتے کہ وہ دوسری بات کیا تھی؟فراق کی تعریف میں نے کھل کر کبھی نہیں کی۔اور میر کے مقابلے میں وہ طفل مکتب معلوم ہو تے ہیں تو اس میں میرا کیا قصور؟مومن پر میں نے شاید ہی کچھ لکھا ہو، اور جو بھی لکھا ہے اس میں ان کی اتنی ہی تعریف کی ہے جس کے وہ مستحق ہیں۔غالب کے کئی مضامین اور ان کی کئی شاعرانہ صفات میر پر مبنی ہیں۔یہ بات میں مدتوں سے کہتا رہاہوں۔اس میں غالب کی برائی کہاں سے نکلی؟ اگر یہ کہا جائے کہ غالب نے بہت کچھ بیدل سے مستعار لیا ہے تو اس میں غالب کی کوئی برائی نہیں،لیکن اگر یہ کہا جائے کہ غالب نے میر سے بہت کچھ مستعار لیا ہے تو اس میں غالب کی برائی ہے۔ ایسا کیوں؟کیا اس لیے کہ میر بچارہ ہندی کا شاعر ہے اور بیدل فارسی کے شاعر ہیں۔"شعر شور انگیز" شاید تم نے پڑھی نہیں۔غالب نے جگہ جگہ میر سے استفادہ کیا ہے اور کبھی کبھی وہ میر سے بڑھ گئے ہیں۔ دوسروں سے استفادہ کرنا کوئی بری بات نہیں۔یہ سب بحثیں "شعر شور انگیز" میں مذکور ہیں۔اگر تم نے وہ کتا ب پڑھی ہوتی تو تمھیں الجھن نہ ہوتی۔کچھ نہیں تو ہر جلد کا اشاریہ دیکھ لیتے کہ اس میں غالب کا ذکر کہاں کہاں ہے اور کس انداز سے ہے۔
شعر فہمی کے بنیادی اصول چار ہیں:
جس زبان کا شعر ہے اس زبان سے بہت اچھی واقفیت ہونا۔پوری واقفیت ہو تو اور بھی اچھا ہے۔
جس شعریات اور جن رسومیات کے تحت وہ شعر کہا گیا ہے اس سے پوری واقفیت ہونا۔
جس طرح کا شعر زیر بحث ہے، اس طرح کے اور بھی شعروں ،اور اگر کسی شاعر کا مطالعہ ہے،تو اس کی طرح کے اور شعرا سے اچھی طرح واقف ہونا۔ یہ شعرا ماضی کے بھی ہوں گے اور حال کے بھی۔
جس شعر یا شاعر کا مطالعہ مقصود ہے اس سے پوری مناسبت اور ذہنی قرب ہونا۔
ان میں سے ایک چیز بھی کم ہوگی تو شعر فہمی کا تقاضا پورا نہ ہوگا۔
میر کو خداے سخن کیوں کہتے ہیں،اس کا جواب" شعر شور انگیز"، جلد اول،کے پہلے باب میں ہے،اور دوسری جگہوں پر بھی مذکور ہے۔اس میں اس سوال کا جواب بھی ہے کہ میر کو شہنشاہ متغزلین کیوں کہا جاتا ہے۔رہے حسرت، تو میں انھیں شہنشاہ متغزلین بالکل نہیں سمجھتا۔ جو انھیں ایسا سمجھتا ہو،اس سے پوچھو۔
"تغزل" کوئی اصطلاح نہیں۔پرانے زمانے میں اس کا وجود نہ تھا۔ محمد حسین آزاد تک کے یہاں یہ نہیں ملتی۔یہ ایک فضول تصور ہے جو اس بات پر مبنی ہے کہ غزل اور انگریزیLyric ایک ہی طرح کی چیز ہیں۔لہٰذا اگر LyricمیںLyricismہو تی ہے تو غزل میں تغزل ہوتا ہے۔ یہ باتیں بالکل مہمل ہیں۔میں انھیں نہیںمانتا۔ جو مانتا ہو اس سے پوچھو کہ انگریزی Lyricکیا ہے اور اردو /فارسی غزل کیا ہے اور Lyricism کیا ہے اور تغزل کیا ہے۔
مجھے یاد نہیں آتا کہ لطف الرحمٰن نے مجھ سے میر کے اس شعر کے معنی پوچھے ہوں اور میں نہ بتا سکاہوں۔ "شعر شور انگیز" جلد سوم کو چھپے ہوئے مدت ہو گئی اور اس شعر پر مجھے لکھے ہوئے اس بھی زیادہ مدت ہو گئی۔ ہو سکتا ہے کبھی بچپن میں انھوں نے مجھ سے پوچھا ہو اور میںبتانے سے قاصر رہا ہوں۔ فی الحال" شعر شور انگیز"کی جلد سوم(پہلا ایڈیشن)، صفحہ293 تا صفحہ296دیکھ لو۔(صحیح مصرع بھی دیکھ لو۔ "شاید نہ کچھ رہے" نہ کہ "شاید ہی کچھ رہے"۔)


جناب منظر صاحب: والسلام علیکم
آپ کی اس پیشکش نے بھت لطف دیا۔ اول تو اس سے میرے اس خیال کی تصدیق ہوگئی کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے اہل اردو بھی سوال پوچھنے اور جواب دینے کے آداب سے بے بہرہ ہوتے ہیں۔ یہ شاید ہماری گھٹی میں پڑا ہوا ہے۔ بہت کم لوگ نظر آئے جو تنقید کو شائستگی سے نبھا دیں۔ شمس الرحمن فاروقی صاحب کا اردو ادب میں بڑا نام ہے اور وہ ہیں بھی صاحب علم لیکن ان کے انداز جواب میں لڑکپن کی کھلواڑ کا رنگ ھے۔ اگر یہی جواب عالمانہ انداز میں دئے ہوتے تو ان کا وقار کچھ اور بڑھ جاتا۔ ہمارے یہاں دستور یہ ہے کہ خود پر تنقید ہوتے ہی جارحانہ رویہ اختیار کر لیا جائے اور سائل پر بے جا حملے کئے جائیں۔ یہ افسوس کا مقام ہے۔ گاہے گاہے یہ صورت اردو انجمن میں بھی نظر آتی ہے۔ ہمیں ایسی گفتگو سے سبق حاصل کر کے اپنا کام آگے بڑھانا چاہئے۔ ان سب باتوں کے باوجود اس تحریر سے ہماری معلومات میں کچھ نہ کچھ اضافہ ضرور ہوتا ہے جو لائق شکر ہے۔

سرور عالم راز سرور



غیرحاضر عامر عباس

  • Naazim
  • Saaheb-e-adab
  • *****
  • تحریریں: 2397
  • جنس: مرد
Re: سوال و جواب .. شمس الرحمن فاروقی
« Reply #2 بروز: مارچ 31, 2012, 07:33:46 صبح »
Manzar bhaa`ee, aadaab.
aap kaa mamnoon huN keh itnaa mufeed mazmoon yahaaN pesh kiyaa. Shamsur Rahman Farooqui saaHib yaqeenan ek 'ilmee shaKHsiyyat haiN aur un ke 'ilm se bahot saare log istifaadah kar rahe haiN.

is teHreer meiN Farooqui saaHib ke tarz e bayaan ke Havaaleh se jo ishaarah muHtaram Sarwar saaHib ne farmaayaa hai voh KHud un kee 'ilm_dostee aur adab_parvaree kaa GHammaaz hai. maiN ne Farooqui saaHib kee do ek teHreereiN paRhee haiN jin se yeh meHsoos hotaa hai keh ba'z auqaat un kaa tarz e bayaan (yaa shaayad tareeqa' e javaab) be_takallufee kee Had tak pahuNch jaataa hai, jo qaaree ke liye achhee baat hai. albattah yeh be_takallufee kab be_adabee meiN daaKHil ho jaa`e gee, is kaa KHayaal to rehnaa hee chaahiye hai. is meiN ko`ee shak naheeN hai keh aadamee jintne madaarij e 'ilmee tai kartaa jaataa hai, utnaa hee us kee zimmah_daaree meiN bhee izaafah ho jaataa hai.

baharkaif, aap kee is 'inaayat par ek baar phir shukriyah.

muKHlis
Aamir Abbas

غیرحاضر زاہدہ رئیس راجی

  • Naazim
  • Adab Fehm
  • *****
  • تحریریں: 1406
  • جنس: عورت
Re: سوال و جواب .. شمس الرحمن فاروقی
« Reply #3 بروز: مئی 24, 2012, 09:59:23 شام »
janab e Manzar Aalam SaaHeb

Aadab wa tasleemaat,

mazmnoon yahaN post karne ke liYe mamnoon hooN. meree raa,e bhi moHtaram Sarwar SaaHeb aur Aamir Abbas SaaHeb se muKhtalif naheN hai.
yeh baat mere a'am mushaidah meN hai keh woh eHbaab jo apne maKhSooS ilmi shobooN meN kamaal e qudrat rakte heN jaise jaise taraqqi ke manazil t^ae karte jaate heN unke andar Khud-parasti baRtee chali jaatee hai aur woh apne muKhatib se uske manSab ke Hesaasb se gufutugu karte heN.
Shamsuddeen Farooqi SaaHeb ke shayad gumaan meN bhi yeh baat nah ho keh unke is rang meN diYe gaye ilmi sawalaat ke jawabaat unke apne waqar ko kis qadar mutacir kareNge.

BaharHaal sach tu sach hai

Khair andesh
Zahida Raees Raji
کھو گیا اعتبار دُنیا کا
کھوئے ہر اعتبار کو ترسوں
(زاہدہ رئیس راجی)

My Poetry Page

غیرحاضر Manzar alam

  • Adab Dost
  • ***
  • تحریریں: 615
  • جنس: مرد
Re: سوال و جواب .. شمس الرحمن فاروقی
« Reply #4 بروز: مئی 25, 2012, 09:19:14 صبح »
السلام  علیکم !
میں آپ حضرات کا نہایت ممنون ہوں کہ  آپ لوگوں نے میرا پیش کردہ  مضمون پسند فرمایا ، مضمون پیش کرتے  ہو ۓ میرے ذہن میں با لکل بھی شمس الرحمان صاحب  کا تضحیک آمیز لہجہ  نہ  تھا  یا یوں کہئے کہ مجھے نظر ہی نہ آیا ...
مگر سرور صاحب کا تجزیہ پڑھ کر دو بارہ دیکھا  تو افسوس ہوا کہ اتنے  بڑے بڑے  اور قابل لوگ بھی  اپنے علم کے زعم میں ایسی حرکت کر جاتے ہیں کہ  ان کے علم پر شک ہونے لگتا ہے ...
مجھے سرور صاحب کا یہ  جملہ بہت پسند آیا کہ   "  ہمیں ایسی گفگو سے سبق حاصل کرکے اپنا کام آگے بڑھانا چا ہئے "....
بس ہمیں اسے پر عمل پیرا ہونے کی سخت ضرورت ہے ..
شکریہ
منظر عالم

 

Copyright © اُردو انجمن